Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
اتمام حجت اور عذاب (۲) | اشراق
Font size +/-

اتمام حجت اور عذاب (۲)

تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

—۱—

عَنِ ابْنِ عُمَرَ،۱ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’بُعِثْتُ بَیْنَ یَدَيِ السَّاعَۃِ بِالسَّیْفِ حَتّٰی یُعْبَدَ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا یُشْرَکَ بِہِ شَيْءٌ [إنَّ اللّٰہَ]۲ جَعَلَ رِزْقِيْ تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِيْ، وَجَعَلَ الذِّلَّۃَ وَالصَّغَارَ عَلٰی مَنْ خَالَفَ أَمْرِيْ، وَمَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ۳ ‘‘.
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے قیامت سے پہلے۱ تلوار دے کر بھیجا گیا ہے۲،(میں اِس کے ذریعے سے لڑوں گا)، یہاں تک کہ (اِس سرزمین میں۳)تنہا ایک خدا کی عبادت کی جائے، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے میرا رزق میرے نیزے کے سایے میں رکھ دیا ہے۴ اور جو میرے حکم کی خلاف ورزی کرے، اُس کے لیے ذلت اور محکومی کا فیصلہ فرمایا ہے۔ (یاد رکھو)، جو کسی قوم کی طرح ہو کر رہے گا، وہ پھر اُنھی میں شمار ہوگا۔۵

________

۱۔ یعنی آخری پیغمبر کی حیثیت سے،اِس لیے کہ قیامت سے پہلے عالمی سطح پر اتمام حجت کا اہتمام کر دیا جائے۔
۲۔ یہ اِس لیے فرمایا کہ دوسرے رسولوں کی طرح آپ کی قوم پر آسمان سے عذاب نہیں آیا، بلکہ آپ کو اور آپ کے صحابہ کو حکم دیا گیا کہ آپ کے مکذبین کو وہ تلواروں کے ذریعے سے اُن کے جرم کی سزا دیں۔ اِس کی تفصیلات کے لیے دیکھیے: ہماری کتاب ’’میزان‘‘ میں مضامین: ’’قانون دعوت‘‘ اور ’’قانون جہاد‘‘ اور ’’مقامات‘‘ میں ’’رسولوں کا اتمام حجت‘‘۔
۳۔ سرزمین عرب مراد ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے توحید کے مرکز کی حیثیت سے اپنی دعوت کے لیے خاص کر رکھا ہے اور جس کے بارے میں اُس کا قانون یہ ہے کہ ’لا یجتمع فیھا دینان‘ (اُس میں دو دین کبھی جمع نہیں ہوں گے)۔ اِس کی تفصیلات کے لیے دیکھیے: ہماری کتاب ’’مقامات‘‘ میں مضمون:’’خدا کے فیصلے‘‘۔
۴۔ یعنی فے اور غنیمت کے اموال میں رکھ دیا ہے، جو اُن جنگوں کے نتیجے میں حاصل ہوں گے جو اتمام حجت کے بعد منکرین کے استیصال کے لیے آپ کو لڑنی ہوں گی۔
۵۔ یعنی عذاب کے موقع پر اپنے آپ کو منکرین سے الگ نہیں کرے گا، اُس کے ساتھ وہی معاملہ ہو گا جس کا حکم قرآن مجید کی سورۂ توبہ (۹) میں اُن کے لیے دیا گیا ہے۔ یہ اِس لیے فرمایا کہ رسولوں کی تکذیب کے نتیجے میں جو دینونت کسی قوم کے لیے برپا ہوتی ہے، اُس میں تمام فیصلے ظاہر ہی کے لحاظ سے کیے جاتے ہیں اور ہر صاحب ایمان کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اپنے ایمان کا اعلان کرے اور ہجرت کرکے اپنی قوم سے الگ ہو جائے۔
اِس کی تفصیلات بھی ’’قانون دعوت‘‘ کے زیر عنوان ہماری کتاب ’’میزان‘‘ میں دیکھ لی جا سکتی ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن اصلاًمصنف ابن ابی شیبہ ،رقم۱۸۸۳۳سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:
مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۱۸۸۳۳، ۳۲۳۱۹۔ مسند احمد، رقم ۴۹۶۹، ۴۹۷۰، ۵۵۱۵۔ مسند عبد بن حمید، رقم ۸۵۶۔مشکل الآثار،طحاوی،رقم ۲۰۱۔مسند شامیین، طبرانی، رقم۲۱۲۔
یہی مضمون حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مسند بزار،رقم ۲۵۹۹میں بھی نقل ہوا ہے۔
۲۔یہ اضافہ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۲۳۱۹سے لیا گیا ہے۔
۳۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی اِس روایت کے بعض متون میں تنہا یہی جملہ: ’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ‘ نقل ہوا ہے، اِس کے پیچھے پس منظر کی ساری بات حذف ہو گئی ہے۔ملاحظہ ہو:سنن ابی داود،رقم ۳۵۱۴۔

—۲—

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ،۱ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتّٰی یَشْہَدُوْا أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، وَیُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ، وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ، فَإِذَا فَعَلُوْا، عَصَمُوْا مِنِّيْ، دِمَاءَ ہُمْ، وَأَمْوَالَہُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا، وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ‘‘.
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اِن لوگوں سے۱ جنگ کروں، یہاں تک کہ یہ اِس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اِس بات کی شہادت دیں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۲۔ پھرجب یہ کر لیں تو اِن کی جانیں اور اِن کے مال مجھ سے محفوظ ہو جائیں گے، الاّ یہ کہ اُن سے متعلق کسی حق کے تحت یہ لوگ اِس حفاظت سے محروم کر دیے جائیں۳۔ رہا اِن کا حساب تو وہ اللہ کے ذمے ہے۔

________

۱۔ اصل میں ’اقاتل الناس‘ کے الفاظ ہیں۔اِس روایت کو قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے تو صاف واضح ہو جاتا ہے کہ اِس میں ’الناس‘ پر الف لام عہد کا ہے، لہٰذا مشرکین عرب مراد ہیں، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور جن کی طرف آپ خدا کی عدالت بن کر آئے تھے۔
۲۔ یہ اُس حکم کا حوالہ ہے جو سورۂ توبہ (۹) کی آیات ۵ اور ۱۱ میں بیان ہوا ہے۔ مشرکین عرب کے لیے یہ خدا کے اُس عذاب سے بچنے کی شرائط تھیں جو سنت الٰہی کے مطابق رسولوں کے مکذبین پر اِسی دنیا میں آتا ہے۔
۳۔ یعنی مثال کے طور پر، وہ کسی کو قتل کر دیں اور اُس کی سزا کے طور پر اُن سے قصاص یا دیت لی جائے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن صحیح بخاری،رقم ۲۴ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت اِن مصادر میں نقل ہوئی ہے:صحیح مسلم،رقم۳۶۔صحیح ابن حبان،رقم۱۷۷،۲۲۲۔المسندالمستخرج،ابی نعیم، رقم۱۰۴۔سنن الدارقطنی،رقم ۷۷۵۔السنن الصغریٰ،بیہقی ،رقم۲۹۰۔السنن الکبریٰ،بیہقی،رقم۴۷۲۶،۶۰۰۳،۱۵۳۸۴۔

—۳—

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ،۱ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُوْ بَکْرٍ بَعْدَہُ، وَکَفَرَ مَنْ کَفَرَ مِنَ الْعَرَبِِ۲، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِيْ بَکْرٍ: کَیْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ،۳ حَتّٰی یَقُوْلُوْا، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،۴ فَمَنْ قَالَ: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّيْ مَالَہُ وَنَفْسَہُ، إِلَّا بِحَقِّہِ وَحِسَابُہُ عَلَی اللّٰہِ‘‘؟۵ فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: وَاللّٰہِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ، فَإِنَّ الزَّکَاۃَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللّٰہِ لَوْ مَنَعُوْنِيْ عِقَالًا۶ کَانُوْا یُؤَدُّوْنَہُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُہُمْ عَلٰی مَنْعِہِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: فَوَاللّٰہِ، مَا ہُوَ إِلَّا أَنْ رَأَیْتُ اللّٰہَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِيْ بَکْرٍ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّہُ الْحَقُّ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے اور آپ کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے جانشین بنائے گئے اور عربوں میں سے جنھوں نے انکار کرنا تھا، اُنھوں نے انکار کر دیا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر سے کہا:آپ اِن لوگوں سے کس طرح لڑیں گے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان کر چکے ہیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اِن لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ یہ لا الٰہ الا اللہ کہہ دیں،پھر جس نے لا الٰہ الا اللہ کہہ دیا، اُس نے اپنا مال اور اپنی جان مجھ سے محفوظ کر لی، الاّ یہ کہ اُن سے متعلق کوئی حق اُس پر قائم ہو جائے، اور اُس کا حساب اللہ کے ذمے ہے۱؟ سیدنا ابوبکر نے یہ سنا تو فرمایا: خدا کی قسم، میں اُن لوگوں سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرتے ہیں،اِس لیے کہ زکوٰۃ مال کا حق۲ ہے۔ خدا کی قسم، جانور کو باندھنے کی ایک رسی بھی اُنھوں نے مجھ سے روکی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں اِس روکنے پر اُن سے لڑوں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بخدا، بات یہ تھی کہ ابوبکر کو اللہ نے اِس جنگ کے لیے شرح صدر عطا کر دیا تھا، سو میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔

________

۱۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کسی موقع پر بالا جمال بیان فرمائی اور اِس میں نماز اور زکوٰۃ کا ذکر نہیں کیا۔ سیدنا عمر کو اِسی سے خیال ہوا کہ عذاب سے بچنے کے لیے غالباً ایمان ہی تنہا شرط تھی اور اُنھوں نے اپنا یہ اعتراض صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کر دیا۔
۲۔ یعنی وہ حق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کیا گیا ہے اور اہل عرب تو ایک طرف کوئی دوسرا مسلمان بھی اِسے حکومت کو ادا کرنے سے انکار نہیں کر سکتا۔

متن کے حواشی

۱۔السنن الصغریٰ، نسائی ،رقم۳۰۵۹میں ’وَکَفَرَ مَنْ کَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ‘ کے بجاے ’ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ‘ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں،یعنی عربوں نے ارتداد اختیار کر لیا ۔
۲۔اِس روایت کا متن صحیح بخاری،رقم ۶۷۶۸ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:
مسند شافعی،رقم۷۶۰، ۹۳۴۔الاموال،قاسم بن سلام، رقم۳۸۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۸۳۷۳، ۳۲۴۰۸، ۳۶۳۵۶ ۔مسند احمد، رقم ۱۱۴، ۳۲۶۔صحیح بخاری،رقم ۱۳۱۷، ۶۴۴۱، ۶۷۶۸۔صحیح مسلم،رقم ۳۲۔سنن ترمذی،رقم ۲۵۴۹۔سنن ابی داؤد، رقم ۱۳۳۴۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم۳۰۵۸، ۳۰۵۹، ۳۹۳۱، ۳۹۳۲، ۳۹۳۵، ۳۹۳۷۔ السنن الکبریٰ،نسائی،رقم ۲۲۰۸، ۳۳۲۹، ۳۳۳۲، ۳۳۳۴،۴۱۸۳۔صحیح ابن حبان،رقم ۲۲۰۔مستدرک حاکم، رقم ۹۷۔ السنن الکبریٰ،بیہقی،رقم۶۸۱۴، ۱۵۳۸۰، ۱۷۱۳۳۔السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۶۰۴۔
عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ،ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ،جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ،انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ،عبداللہ بن عمر العدوی رضی اللہ عنہ،اویس بن ابی اوس رضی اللہ عنہ، طارق بن الأشیم رضی اللہ عنہ، نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ، جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ،عائشہ رضی اللہ عنہا،عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔
اِن صحابہ سے اِس کے مصادر یہ ہیں:
صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم۵۱۔ حدیث اسماعیل بن جعفر، رقم۱۷۴۔ مسند شافعی، رقم ۷۵۹، ۸۸۸، ۹۳۲، ۹۳۴۔ الاموال، ابو قاسم، رقم ۳۷۔ مصنف عبد الرزاق، رقم۹۷۸۵، ۱۸۶۱۵۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۸۳۶۳، ۲۸۳۶۵، ۲۸۳۶۶،۲۸۳۶۷،۲۸۳۶۸، ۳۲۴۰۰،۳۲۴۰۱،۳۲۴۰۲،۳۲۴۰۹۔مسند اسحاق بن راہویہ، رقم ۲۲۵، ۲۲۶۔ مسند احمد، رقم ۶۴، ۱۱۴، ۷۹۶۴، ۸۳۴۰، ۸۷۸۶، ۹۲۷۰، ۹۴۴۷، ۹۹۴۶، ۱۰۰۴۵، ۱۰۲۹۸، ۱۰۶۱۷، ۱۲۸۰۷، ۱۳۸۵۸، ۱۳۹۲۴،۱۴۳۵۴، ۱۴۹۴۲،۲۸۳۶۶۔صحیح بخاری، رقم۲۴، ۳۸۲، ۲۷۴۱۔التاریخ الکبیر، بخاری، رقم ۸۳۔ سنن دارمی، رقم۲۳۷۰۔ سنن ترمذی، رقم۲۵۴۹، ۲۵۵۰، ۳۲۸۶۔ صحیح مسلم، رقم۳۲، ۳۳، ۳۴، ۳۵، ۳۶۔سنن ابن ماجہ،رقم۷۰، ۷۱، ۳۲۸۶، ۳۹۲۵۔سنن ابی داؤد، رقم۱۳۳۴، ۲۲۷۳، ۲۲۷۴۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۳۳۴۰، ۳۹۲۸، ۳۹۲۹، ۳۹۴۲، ۳۹۴۳، ۴۹۴۳۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۳۳۲۵، ۳۳۳۶، ۳۳۳۹، ۱۱۱۵۲۔ مسند بزار، رقم ۲۴۲۹، ۲۷۹۱۔مسند رویانی، رقم۱۴۶۱۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۲۲۵۳۔صحیح ابن خزیمہ، رقم۲۰۹۹۔مشکل الآثار، طحاوی،رقم ۵۱۶۲، ۵۱۶۳۔ صحیح ابن حبان، رقم۱۷۶، ۱۷۷، ۲۲۲، ۲۲۳۔مسند شامیین ،طبرانی، رقم ۲۸۵۸،۳۰۵۳، ۳۲۷۳۔المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۲۸۶۱، ۴۴۱۸، ۸۷۳۳۔المعجم الصغیر، طبرانی، رقم ۶۱۸۱۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۷۲۴، ۸۱۱۱۔سنن الدارقطنی، رقم۷۷۳، ۷۷۵، ۱۶۵۹، ۱۶۶۰، ۱۶۶۱۔ المسندالمستخرج، ابو نعیم، رقم۹۸، ۹۹، ۱۰۱، ۱۰۲، ۱۰۳، ۱۰۴۔ مستدرک حاکم، رقم۳۸۵۶۔السنن الکبریٰ،بیہقی، رقم۱۵۹۷، ۴۷۲۵، ۴۷۲۶، ۶۰۰۳، ۶۷۶۳، ۶۸۱۴، ۱۴۵۶۶، ۱۵۳۸۴، ۱۵۴۷۱، ۱۵۵۰۱، ۱۶۵۰۳، ۱۷۱۳۰۔
۳۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی بعض روایات،مثلاً السنن الصغریٰ،نسائی،رقم ۳۹۲۸میں’الناس‘کے بجاے’المشرکین ‘کا لفظ نقل ہوا ہے۔روایت کے الفاظ یہ ہیں: ’عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ الْمُشْرِکِیْنَ‘۔
۴۔صحیح مسلم، رقم ۳۴ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِس جگہ یہ اضافہ نقل ہوا ہے: ’وَیُؤْمِنُوْا بِيْ وَبِمَا جِئۡتُ بِہ‘ ’’مجھ پراور جو کچھ میں لایا ہوں، اُس پر ایمان لے آئیں‘‘۔
۵۔جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں اِس جگہ یہ اضافہ نقل ہوا ہے: ’ثُمَّ قَرَأَ: اِنَّمَا اَنْتَ مُذَکِّرٌ، لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُسَیْطِرٍ‘ ’’پھر رسول اللہ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں:تو تم یاددہانی کر دو،(اے پیغمبر)، تم یاددہانی کرنے والے ہی ہو،تم اِن پر کوئی داروغہ نہیں ہو‘‘۔ ملاحظہ ہو:صحیح مسلم، رقم۳۵۔
۶۔بعض روایات ،مثلاً السنن الصغریٰ،نسائی، رقم ۳۰۵۸میں ’عِقَالًا‘ کے بجاے ’عَنَاقًا‘کا لفظ نقل ہوا ہے۔ یہ بکری کے اُس بچے کو کہتے ہیں جس کی عمر سال سے کم ہو۔

—۴—

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،۱ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یشْھَدُوْا أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ، وَأَنْ یَسْتَقْبِلُوْا قِبْلَتَنَا، وَیأْکُلُوْا ذَبِیْحَتَنَا، وَأَنْ یُصَلُّوْا صَلَاتَنَا، فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ، حُرِّمَتْ عَلَیْنَا دِمَاؤُھُمْ وَأَمْوَالُھمْ، إِلَّا بِحَقِّھَا، لَھُمْ مَا لِلْمُسْلِمِیْنَ، وَعَلَیْھِمْ مَا عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ‘‘.۲
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اِن لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ اِس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اِس بات کی گواہی دیں کہ محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں،اور وہ ہمارے قبلے کا رخ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں۱ اور ہمارے طریقے پر نماز پڑھیں۔ پھر جب وہ یہ شرطیں پوری کر دیں تو اُن کے خون اور اُن کے اموال ہم پر حرام ہوں گے ، الاّ یہ کہ اُن سے متعلق کسی حق کے تحت یہ حرمت اٹھالی جائے۔ اُن کے وہی حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور اُن پر وہی ذمہ داری ڈالی جائے گی جو مسلمانوں پر ڈالی جاتی ہے۲۔

________

۱۔ نماز اور زکوٰۃ پر یہ کسی حکم کا اضافہ نہیں ہے، بلکہ اِس بات کی تعبیر ہے کہ وہ پورے شرح صدر کے ساتھ اسلام کو قبول کریں اور مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو کر بغیر کسی تردد کے اُن کا ذبیحہ اُنھی کی طرح کھائیں۔
۲۔ یعنی زکوٰۃ ادا کرنے کی ذمہ داری، جو مسلمانوں کی حکومت میں ہر مسلمان پر عائد ہوتی ہے اور اِسی بنا پر اُن شرائط میں بھی شامل کی گئی ہے جو قرآن نے عذاب سے بچنے کے لیے مشرکین عرب کے سامنے پیش کی تھیں۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن سنن ترمذی،رقم۲۵۵۰ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت اِن کتابوں میں نقل ہوئی ہے:مسند احمد،رقم ۱۲۹۳۵،۱۲۶۴۳۔صحیح بخاری،رقم۳۸۲۔سنن ابی داود، رقم ۲۲۷۴۔ مسندبزار، رقم ۲۱۷۱۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۳۳۲۵، ۳۹۲۸، ۳۳۲۶، ۴۹۴۳۔ سنن الدارقطنی، رقم۷۷۴۔السنن الصغریٰ، رقم ۱۶۳، ۲۰۰۳، ۴۷۲۷۔
۲۔السنن الکبریٰ،بیہقی،رقم۲۰۰۳ میں ’لَھُمْ مَا لِلْمُسْلِمِیْنَ، وَعَلَیْھِمْ مَا عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ‘کے بجاے ’وَحِسابُھُمْ عَلَی اللّٰہ‘ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں، یعنی اور اُن کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ. ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.
ابن ماجۃ، ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.
ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ. ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ. أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح. ط۳. تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.
بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی.ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.
السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط ۱. تحقیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
محمد القضاعي الکلبي المزي. (۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List