Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
اتمام حجت اور عذاب (۳) | اشراق
Font size +/-

اتمام حجت اور عذاب (۳)



تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

—۱—

عَنْ جُبَیْرِ بْنِ حَیَّۃَ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ النَّاسَ فِيْ أَفْنَاءِ الْأَمْصَارِ یُقَاتِلُوْنَ الْمُشْرِکِیْنَ، فَأَسْلَمَ الْہُرْمُزَانُ فَقَالَ: إِنِّيْ مُسْتَشِیْرُکَ فِيْ مَغَازِيَّ ہَذِہِ، قَالَ: نَعَمْ، مَثَلُہَا وَمَثَلُ مَنْ فِیْہَا مِنَ النَّاسِ مِنْ عَدُوِّ الْمُسْلِمِیْنَ مَثَلُ طَاءِرٍ لَہُ رَأْسٌ وَلَہُ جَنَاحَانِ وَلَہُ رِجْلَانِ، فَإِنْ کُسِرَ أَحَدُ الْجَنَاحَیْنِ نَہَضَتِ الرِّجْلَانِ بِجَنَاحٍ وَالرَّأْسُ، فَإِنْ کُسِرَ الْجَنَاحُ الْآخَرُ نَہَضَتِ الرِّجْلَانِ وَالرَّأْسُ، وَإِنْ شُدِخَ الرَّأْسُ ذَہَبَتِ الرِّجْلَانِ وَالْجَنَاحَانِ وَالرَّأْسُ، فَالرَّأْسُ کِسْرَی وَالْجَنَاحُ قَیْصَرُ وَالْجَنَاحُ الْآخَرُ فَارِسُ، فَمُرِ الْمُسْلِمِیْنَ فَلْیَنْفِرُوْا إِلَی کِسْرَی، وَقَالَ بَکْرٌ۱ وَزِیَادٌ جَمِیْعًا، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ حَیَّۃَ، قَالَ: فَنَدَبَنَا عُمَرُ وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْنَا النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ، [حَتَّی إِذَا کُنَّا بِأَرْضِ الْعَدُوِّ، وَبَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ نَہَرٌ، وَمَا لَنَا کَثِیْرُ خُیُوْلٍ، خَرَجَ عَلَیْنَا عَامِلُ کِسْرَی فِيْ أَرْبَعِیْنَ أَلْفًا، حَتَّی وَقَفُوْا عَلَی النَّہَرِ وَوَقَفْنَا مِنْ حِیَالِہِ الْآخَرِ، وَکُنَّا اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا]،۲ فَقَامَ تَرْجُمَانٌ، فَقَالَ: لِیُکَلِّمْنِيْ رَجُلٌ مِنْکُمْ، فَقَالَ الْمُغِیْرَۃُ:۳ سَلْ عَمَّا شِءْتَ قَالَ: مَا أَنْتُمْ؟ قَالَ: نَحْنُ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ، کُنَّا فِيْ شَقَاءٍ شَدِیْدٍ وَبَلَاءٍ طویلٍ، نَمُصُّ الْجِلْدَ وَالنَّوَی مِنَ الْجُوْعِ، وَنَلْبَسُ الْوَبَرَ وَالشَّعَرَ، وَنَعْبُدُ الشَّجَرَ وَالْحَجَرَ، فَبَیْنَا نَحْنُ کَذَلِکَ إِذْ بَعَثَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرَضِیْنَ تَعَالَی ذِکْرُہُ وَجَلَّتْ عَظَمَتُہُ إِلَیْنَا نَبِیًّا مِنْ أَنْفُسِنَا نَعْرِفُ أَبَاہُ وَأُمَّہُ۴، فَأَمَرَنَا نَبِیُّنَا رَسُوْلُ رَبِّنَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ نُقَاتِلَکُمْ حَتَّی تَعْبُدُوا اللّٰہَ وَحْدَہُ أَوْ تُؤَدُّوا الْجِزْیَۃَ،۵ وَأَخْبَرَنَا نَبِیُّنَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ رِسَالَۃِ رَبِّنَا أَنَّہُ مَنْ قُتِلَ مِنَّا، صَارَ إِلَی الْجَنَّۃِ فِيْ نَعِیْمٍ لَمْ یَرَ مِثْلَہَا قَطُّ، وَمَنْ بَقِيَ مِنَّا، مَلَکَ رِقَابَکُمْ ۶[فَقَالَ: أَتَدْرُوْنَ مَا مَثَلُنَا وَمَثَلُکُمْ؟ قَالَ الْمُغِیْرَۃُ: مَا مَثَلُنَا وَمَثَلُکُمْ؟ قَالَ: مَثَلُ رَجُلٍ لَہُ بُسْتَانٌ ذُو رَیَاحِیْنَ، وَکَانَ لَہُ ثَعْلَبٌ قَدْ آذَاہُ، فَقَالَ لَہُ رَبُّ الْبُسْتَانِ: یَا أَیُّہَا الثَّعْلَبُ، لَوْلَا أَنْ تُنَتِّنَ حَاءِطِيْ مِنْ جِیْفَتِکَ لَہَیَّأْتُ مَا قَدْ قَتَلَکَ، وَأَنَّا لَوْلَا أَنْ تُنَتَّنَ بِلَادُنَا مِنْ جِیْفَتِکُمْ لَکُنَّا قَدْ قَتَلْنَاکُمْ بِالأَمْسِ، قَالَ لَہُ الْمُغِیْرَۃُ: ہَلْ تَدْرِيْ مَا قَالَ الثَّعْلَبُ لِرَبِّ الْبُسْتَانِ؟ قَالَ: مَا قَالَ لَہُ؟ قَالَ: قَالَ لَہُ: یَا رَبَّ الْبُسْتَانِ، أَنْ أَمُوْتَ فِيْ حَاءِطِکَ ذَا بَیْنَ الرَّیَاحِیْنِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَخْرُجَ إِلَی أَرْضٍ قَفْرٍ لَیْسَ بِہَا شَيْءٌ، مَا عُدْنَا فِيْ ذَلِکَ الشَّقَاءِ أَبَدًا حَتَّی نُشَارِکَکُمْ فِیْمَا أَنْتُمْ فِیْہِ أَوْ نَمُوْتَ، قَالَ جُبَیْرٌ: فَأَقَمْنَا عَلَیْہِمْ یَوْمًا لَا نُقَاتِلُہُمْ وَلا یُقَاتِلُنَا الْقَوْمُ]۷، [قَالَ أَبِيْ: لَمْ أَرَ کَالْیَوْمِ قَطُّ، إِنَّ الْعُلُوْجَ یَجِیْءُوْنَ کَأَنَّہُمْ جِبَالُ الْحَدِیْدِ، وَقَدْ تَوَاثَقُوْا أَنْ لَا یَفِرُّوْا مِنَ الْعَرَبِ، وَقَدْ قُرِنَ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ حَتَّی کَانَ سَبْعَۃٌ فِيْ قِرَانٍ، وَأَلْقَوْا حَسَکَ الْحَدِیْدِ خَلْفَہُمْ، وَقَالُوْا: مَنْ فَرَّ مِنَّا عَقَرَہُ حَسَکُ الْحَدِیْدِ، فَقَالَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ حِینَ رَأَی کَثْرَتَہُمْ: لَمْ أَرَ کَالْیَوْمِ فَشَلًا، قَالَ: فَقَامَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ حِیْنَ رَأَی کَثْرَتَہُمْ، فَقَالَ: لَمْ أَرَ کَالْیَوْمِ فَشَلًا، إِنَّ عَدُوَّنَا یُتْرَکُوْنَ أَنْ یَنَامُوْا، فَلَا یُعْجَلُوْا ۸، أَمَا وَاللّٰہِ لَوْ أَنَّ الأَمْرَ إِلَيَّ لَقَدْ أَعْجَلْتُہُمْ بِہِ]۹، فَقَالَ النُّعْمَانُ: رُبَّمَا أَشْہَدَکَ اللّٰہُ مِثْلَہَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یُنَدِّمْکَ وَلَمْ یُخْزِکَ وَلَکِنِّيْ شَہِدْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَثِیْرًا، کَانَ إِذَا لَمْ یُقَاتِلْ فِيْ أَوَّلِ النَّہَارِ انْتَظَرَ، [حَتَّی تَزُوْلَ الشَّمْسُ وَتَہُبَّ الرِّیَاحُ وَیَنْزِلَ النَّصْرَ]۱۰، [أَلَا أَیُّہَا النَّاسُ، فَانْظُرُوا إِلَی رَایَتِيْ ہَذِہِ، فَإِذَا حَرَّکْتُہَا فَاسْتَعِدُّوْا، مَنْ أَرَادَ أَنْ یَطْعَنَ بِرُمْحِہِ فَلْیُیَسِّرْہُ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ یَضْرِبَ بِعَصَاہُ فَلْیُیَسِّرْ عَصَاہُ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ یَطْعَنَ بِخِنْجَرِہِ فَلْیُیَسِّرْہُ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ یَضْرِبَ بِسَیْفِہِ فَلْیُیَسِّرْ سَیْفَہُ، أَلَا أَیُّہَا النَّاسُ، إِنِّيْ مُحَرِّکُہَا الثَّانِیَۃَ فَاسْتَعِدُّوْا، ثُمَّ إِنِّيْ مُحَرِّکُہَا الثَّالِثَۃَ، فَشُدُّوْا عَلَی بَرَکَۃِ اللّٰہِ، فَإِنْ قُتِلْتُ فَالأَمِیْرُ أَخِيْ، وَإِنْ قُتِلَ أَخِيْ فَالأَمِیْرُ حُذَیْفَۃُ، فَإِنْ قُتِلَ حُذَیْفَۃُ فَالأَمِیْرُ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ، وَقَدْ حَدَّثَنِيْ زِیَادٌ أَنَّ أَبَاہُ قَالَ: قَتَلَہُمُ اللّٰہُ، فَنَظَرُوْا إِلَی بَغْلٍ مُوَقَّرٍ عَسَلًا وَسَمْنًا قَدْ کَدَسَتِ الْقَتْلَی عَلَیْہِ فَمَا أُشَبِّہُہُ إِلَّا کَوْمًا مِنْ کَوْمِ السَّمَکِ مُلْقًی بَعْضُہُ عَلَی بَعْضٍ، فَعَرَفْتُ أَنَّہُ إِنَّمَا یَکُوْنُ الْقَتْلُ فِي الأَرْضِ وَلَکِنَّ ہَذَا شَيْءٌ صَنَعَہُ اللّٰہُ، وَظَہَرَ الْمُسْلِمُوْنَ، وَقُتِلَ النُّعْمَانُ وَأَخُوْہُ، وَصَارَ الأَمْرُ إِلَی حُذَیْفَۃَ.]۱۱
جبیر بن حیہ بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سب شہروں میں بھیجا۔ وہ اُن کے میدانوں میں مشرکین۱ سے جنگ کرتے رہے ۲۔ یہ اِنھی جنگوں کا نتیجہ تھا کہ ہرمزان ۳ نے اسلام قبول کر لیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اُس سے کہا: میں اپنی اِن جنگوں کے بارے میں تم سے مشورہ کرنا چاہتا ہوں۔ اُس نے کہا: ضرور کیجیے، اِن شہروں اور اِن کے لوگوں کی مثال جو اِن میں مسلمانوں کے دشمن ہیں، ایک پرندے جیسی ہے جس کا ایک سر اور دو بازو اور دو پاؤں ہیں۔ سو اگر ایک بازو توڑ دیا جائے تو اُس کے دونوں پاؤں اور اُس کا سر ایک بازو کے ساتھ بھی پرواز کے لیے اٹھ سکیں گے، پھر اگر دوسرا بازو بھی توڑ دیا جائے تو دونوں پاؤں اور سراٹھنے کے قابل ہو ں گے، لیکن اگر سر توڑ دیا جائے تو پاؤں بھی بے کار ہو جائیں گے، دونوں بازو بھی اور سر بھی۔ پس سر تو کسریٰ ہے اور ایک بازو قیصر اور دوسرا فارس ہے، اِس لیے آپ مسلمانوں کو حکم دیجیے کہ وہ پہلے کسریٰ پر حملے کے لیے نکلیں۔بکر اور زیاد، دونوں نے جبیر بن حیہ سے روایت کی ہے کہ اُنھوں نے کہا: اِس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں جنگ کے لیے بلایا اور نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کردیا ۔ہم اُن کی قیادت میں نکلے، یہاں تک کہ جب دشمن کے علاقے میں پہنچے اور اُن کے اور ہمارے درمیان ایک نہر حائل رہ گئی اور ہمارے پاس زیادہ گھوڑے بھی نہیں تھے تو کسریٰ کا ایک افسر چالیس ہزار کا لشکر لے کر ہمارے مقابلے کے لیے آیا اور وہ لوگ نہر پر آ کر کھڑے ہو گئے، جب کہ ہم دوسری طرف سامنے کھڑے تھے اور صرف بارہ ہزار تھے۔ پھرایک ترجمان اٹھا اور اُس نے کہا: تم میں سے کوئی شخص مجھ سے بات کر لے۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جو پوچھنا چاہتے ہو، پوچھو۔ اُس نے کہا: تم کون لوگ ہو؟ مغیرہ نے کہا: ہم عرب کے لوگ ہیں، سخت بدبختیوں میں گھرے ہوئے اور ایک زمانے سے مصیبتوں میں مبتلا تھے، بھوک کے مارے چمڑا اور کھجور کی گٹھلیاں تک چوس لیتے تھے، اون اور بالوں کا لباس پہنتے اور درختوں اور پتھروں کی عبادت کرتے تھے۔ ہمارے یہی حالات تھے، جب زمینوں اور آسمانوں کے پروردگار نے، جس کا ذکر بلند اورجس کی عظمت بڑی ہے، ہماری طرف خود ہمارے لوگوں میں سے ایک نبی بھیجا، جس کے ماں باپ کو ہم خوب پہچانتے تھے۔ پھر ہمارے نبی، ہمارے پروردگار کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۴نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تمھارے ساتھ جنگ کریں، یہاں تک کہ تم لوگ تنہا ایک خدا کی عبادت کرنے لگو اور اگر یہ نہیں تو جزیہ دینا قبول کر لو۵۔ اور ہمارے نبی نے ہمیں ہمارے پروردگار کے پیغام سے یہ بات بھی پہنچائی کہ اِن جنگوں میں ہمارا جو آدمی قتل ہو جائے گا، وہ جنت کی ایسی آسایشوں میں پہنچے گا کہ اُس جیسی آسایشیں اُس نے کبھی نہ دیکھی ہوں گی، اور جو ہم میں سے زندہ رہے گا، وہ تمھاری گردنوں کا مالک ہو گا۔۶ اُس نے یہ سنا توکہا: تم جانتے ہو کہ ہماری اور تمھاری مثال کیا ہے؟ مغیرہ نے پوچھا: کیا مثال ہے، ہماری اور تمھاری؟ اُس نے کہا: یہ اُس شخص کی مثال ہے جس کا خوشبودار پودوں کا ایک باغ تھا اور وہاں ایک لومڑی تھی، جس نے اُس کو ستا رکھا تھا۔ باغ کے مالک نے اُس لومڑی سے کہا: اے لومڑی، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تو اپنے مردہ جثے کی بدبو سے میرے باغ کو بھر دے گی تو میں کچھ اہتمام کرتا کہ تجھے قتل کر دیا جائے۔ ہمارا معاملہ بھی یہی ہے۔ اگر ہم کو بھی یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمھارے مردار جسم سے ہمارے شہر بدبو دار ہو جائیں گے تو ہم کل ہی تم لوگوں کو قتل کر چکے ہوتے۔ اِس پر مغیرہ کہنے لگے: جانتے ہو کہ لومڑی نے باغ کے مالک کو کیا جواب دیا تھا؟ اُس نے پوچھا: کیا دیا تھا؟ مغیرہ نے کہا: اُس نے جواب دیا تھا کہ مجھے خوشبودار پودوں کے درمیان تمھارے اِس باغ میں مرنا اِس سے زیادہ پسند ہے کہ میں یہاں سے نکل کر اُس بے آب و گیاہ ملک میں جاؤں، جہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم اُن بدبختیوں میں کبھی لوٹنے کے نہیں ہیں، یہاں تک کہ تم لوگ جس صورت حال میں ہو، تمھارے ساتھ ہم بھی اُس میں شریک ہو جائیں ۷یا (اِسی جدوجہد میں) مر جائیں۔ جبیر کہتے ہیں کہ ہم پورا دن اُن کے سامنے کھڑے رہے، نہ ہم نے اُن سے جنگ کی اور نہ اُن لوگوں نے۔ راوی کا بیان ہے کہ میرے والد نے کہا: میں نے اُس دن جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا۔اُن کافروں کے لشکر یوں امڈے چلے آرہے تھے جیسے لوہے کے پہاڑ ہوں ۔وہ آپس میں عہد کر کے آئے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیے گئے تھے، یہاں تک کہ ایک رسی میں سات بندھے ہوئے تھے۔اپنے پیچھے اُنھوں نے لوہے کے کانٹے رکھ دیے تھے اور کہہ دیا تھا کہ ہم میں سے جو فرار ہوا،یہ کانٹے اُسے ذبح کر ڈالیں گے۔چنانچہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے جب اُن لوگوں کی کثرت دیکھی تو فرمایا:میں نے آج تک اِس طرح کی کمزوری نہیں دیکھی۔ اِس طرح توہمارے یہ دشمن چھوڑ دیے جائیں گے کہ آرام سے سوتے رہیں اور اُنھیں کسی سبقت کا اندیشہ نہ ہو ۔بخدا، اگر معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں فوراً اُن پر ٹوٹ پڑتا۔اِس پر نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا :اللہ اِس طرح کی کئی جنگیں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دکھا چکا ہے،پھر آپ کو اُس نے کبھی شرمندہ کیا ، نہ رسوا،لیکن (میرے انتظار کی وجہ یہ ہے کہ)میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی معرکوں میں اِس طرح شرکت کی ہے کہ آپ جب دن کی ابتدا میں جنگ نہیں کرتے تھے تو لازماً انتظار کرتے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، ہوائیں چلنے لگیں اور اللہ کی مدد نازل ہو جائے۸۔ (اِس کے بعد اُنھوں نے لوگوں کو مخاطب کیا اور کہا): لوگو، میرے اِس جھنڈے کو دیکھتے رہو، میں جب اِس کو حرکت دوں تو تیاری کر لینا۔ جو اپنا نیزہ مارنا چاہے، وہ اُسے تیار رکھے، جو اپنی لاٹھی چلانا چاہے، لاٹھی تیار کر لے، جو خنجر چلانے کا ارادہ رکھتا ہو، خنجر تیار رکھے اور جو اپنی تلوار سے مارنا چاہتا ہو، وہ تلوار تیار کر لے۔ سنو لوگو، میں اِس جھنڈے کو دوسری مرتبہ حرکت دوں گا تو تم لوگ حملے کے لیے تیار ہو جاؤ گے۔ پھر میں اِس کو تیسری مرتبہ حرکت دوں گا، (تم اِسے دیکھو) تو اللہ کی طرف سے خوش بختی کے بھروسے پر ٹوٹ پڑو۔ پھر اگر میں قتل ہو جاؤں تو میرا بھائی امیر ہو گا اور وہ بھی قتل ہو جائے تو حذیفہ امیر ہوں گے اور اگر حذیفہ بھی قتل ہو جائیں تو مغیرہ بن شعبہ امیر بنا لیے جائیں۔ زیاد نے مجھے بتایا کہ اُن کے والد کا بیان ہے کہ اِن سب لوگوں کو اللہ نے قتل کر ڈالا۔پھر اُنھوں نے شہد اور گھی سے لدا ہوا ایک خچر دیکھا جس پر مقتولوں کا ڈھیر تھا۔ میں تو اُس کو مچھلیوں کے ایک ڈھیر ہی سے تشبیہ دوں گا جو ایک دوسری پر ڈال دی گئی ہوں۹۔ سو مجھ پر واضح ہو گیا کہ قتل تو زمین ہی پر ہوتے ہیں، لیکن یہ خدا کا کام ہے جو اُس نے کر ڈالا ہے ۔چنانچہ مسلمان غالب آگئے، نعمان بن مقرن اور اُن کے بھائی شہید ہو گئے اور امارت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو منتقل ہو گئی۔

________

۱۔یہاں یہ لفظ اُس اصطلاحی مفہوم میں نہیں ہے، جس میں یہ قرآن میں استعمال ہوا ہے، بلکہ اُن سب لوگوں کے لیے ایک عام لفظ کے طور پر استعمال کر لیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراتے تھے۔ چنانچہ مشرکین اور اہل کتاب ، دونوں کو شامل ہے۔
۲۔ یعنی اُن سب لوگوں سے ، جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتمام حجت کیا اور اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کے لیے موت یا محکومی کی سزا کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ اِس کی تفصیلات کے لیے دیکھیے، ہماری کتاب ’’البیان‘‘ میں سورۂ توبہ (۹) کا ترجمہ اور اُس کے حواشی، جہاں اِس اعلان کی وضاحت کی گئی ہے۔
۳۔قادسیہ کے معرکے میں ایرانی لشکر کا ایک سردار اور شوستر کا حاکم۔اِس معرکے میں مسلمانوں کے لشکر کی سربراہی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس تھی۔
۴۔ یعنی صرف نبی نہیں، بلکہ رسول بھی۔ یہ وضاحت اِس لیے ضروری تھی کہ آگے جو حکم بیان ہوا ہے، وہ خدا کا کوئی رسول ہی دے سکتا ہے۔
۵۔ اِس سے واضح ہوا کہ جزیرہ نماے عرب سے باہر کی قوموں کے خلاف جو اقدام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد کیا گیا، وہ محض صحابہ کا اجتہاد نہ تھا، جیسا کہ ہم نے بھی دوسری جگہ لکھا ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح اُن کو دعوت خود دی، اُسی طرح اُن کے خلاف اقدام کا حکم بھی خود ہی دیا۔ ہم نے اپنی کتابوں میں جگہ جگہ وضاحت کی ہے کہ یہ حکم سنت الٰہی کے مطابق اور اُنھی قوموں کے خلاف دیا گیا تھا، جن پر آپ نے خدا کی حجت ہر لحاظ سے پوری کر دی تھی۔ تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو : ہماری کتاب ’’مقامات‘‘ میں مضمون : ’’رسولوں کا اتمام حجت‘‘۔
۶۔ یعنی تم پر حکومت کرے گا اور تم اُس کے ماتحت بن کر رہو گے۔ یہ ٹھیک اُس نتیجے کا بیان ہے جو اُس حکم پر عمل سے نکلنے والا تھا جو پیچھے بیان ہوا ہے۔اِس لیے کہ یہی سنت الٰہی ہے۔سورۂ مجادلہ (۵۸) کی آیت ۲۱ میں اِسی کو بیان کیا گیا ہے: ’کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ، إِنََّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ‘ (اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے۔حقیقت یہ کہ اللہ بڑا زور والا اور بڑا زبردست ہے)۔
۷۔مطلب یہ ہے کہ عرب کے صحرا سے نکل کر اُس تمدن کا حصہ بن جائیں جو تمھاری اِس سرزمین پر قائم ہے۔
۸۔ یہ اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بیان کیا ہے کہ یا صبح کے ٹھنڈے وقت میں جنگ کی ابتدا کرتے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر دن کے ڈھلنے اور سہ پہر کی ہواؤں کے چلنے کا انتظار کرتے کہ صحرا کی گرمی میں یہ ہوائیں اللہ کی طرف سے لڑنے والوں کی مددگار ہو جائیں۔ مدعا یہ ہے کہ میں اگر دن کے ڈھلنے کا انتظار کر رہا ہوں تو لڑنے کے لیے مناسب وقت اور خدا کی نصرت کے ظہورہی کے لیے کر رہا ہوں،جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔
۹۔ یعنی بالکل اُسی طرح قتل کر ڈالا، جس طرح بدر کے موقع پر کیا تھا۔ اِس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد یہ اللہ کا عذاب تھا جو اِن قوموں پر اُسی طرح نازل کیا گیا، جس طرح عرب کے مشرکین اور اہل کتاب پر نازل کیا گیا تھا۔ چنانچہ سورۂ انفال (۸) کی آیت ۱۷ میں بدر کے مقتولین سے متعلق اِسی اسلوب میں فرمایا ہے: ’فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ‘ (سو حقیقت یہ ہے کہ اِس جنگ میں تم نے اِن کو قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے اِن کو قتل کیا ہے)۔ آگے اِسی کی وضاحت ہے کہ مقتولین جس طرح ڈھیروں کی صورت میں پڑے ہوئے تھے، اُن کو دیکھ کر ہر شخص اندازہ کر سکتا تھا کہ یہ کام انسانوں کے بس کا نہیں ہے، یہ خدا ہی کر سکتا تھا۔

متن کے حواشی

۱۔ یہاں بکر سے مراد بکر بن عبد اللہ المزنی ہیں۔ملاحظہ ہو:الاسماء والصفات،بیہقی،رقم۴۲۸۔
۲۔ السنن الکبریٰ،بیہقی، رقم ۱۷۱۶۱۔
۳۔اِس روایت کا متن صحیح بخاری، رقم۲۹۴۱ سے لیا گیا ہے،اِس کے راوی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت اِن کتابوں میں نقل ہوئی ہے: مسند ابن ابی شیبہ،رقم۸۳۷۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۲۳۸۱، ۳۳۰۹۵۔ مسند احمد، رقم ۲۳۱۱۰۔ سنن ترمذی، رقم ۱۵۳۵، ۱۵۳۶۔ السنن الکبریٰ،نسائی،رقم۸۳۱۶۔تاریخ طبری، رقم ۱۲۷۸۔ صحیح ابن حبان،رقم۴۸۵۹،۴۸۶۰۔مستدرک حاکم،رقم۲۴۷۵۔السنن الکبریٰ،بیہقی رقم۱۷۱۶۱۔
۴۔مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۰۹۵ ۳۳ میں اِس جگہ یہ اضافہ نقل ہوا ہے: ’وَأَنَّ اللّٰہَ ابْتَعَثَ مِنَّا نَبِیًّا فِيْ شَرَفٍ مِنَّا، أَوْسَطَنَا حَسَبًا وَأَصْدَقَنَا حَدِیْثًا‘ ’’اور یہ کہ اللہ نے ہمارے اندر سے ایک نبی ہمارے اشراف میں مبعوث کیا ہے جو حسب و نسب میں بہتر اور اپنی بات میں سب سے زیادہ سچا ہے‘‘۔
۵۔تاریخ طبری،رقم۱۲۷۸ میں اِس جگہ یہ اضافہ نقل ہوا ہے: ’فَوَ اللّٰہِ مَا زِلْنَا نَتَعَرَّفُ مِنْ رَبِّنَا مُنْذُ جَاءَ نَا رَسُوْلُہُ الْفَتْحَ وَالنَّصْرَ، حَتَّی أَتَیْنَاکُمْ‘ ’’سو خدا کی قسم،جب سے خدا کے رسول ہمارے پاس آئے ہیں،ہم تو اپنے پروردگار کی طرف سے فتح و نصرت ہی دیکھتے رہے ہیں،یہاں تک کہ اب تمھارے پاس آ پہنچے ہیں‘‘۔
۶۔صحیح ابن حبان،رقم ۴۸۵۹ میں اِس جگہ یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: ’حَتَّی بَعَثَ اللّٰہُ إِلَیْنَا رَسُوْلًا، فَوَعَدَنَا النَّصْرَ فِي الدُّنْیَا وَالْجَنَّۃَ فِي الْآخِرَۃِ‘ ’’یہاں تک کہ اللہ نے ہماری طرف ایک رسول بھیجا،جس نے ہم سے اِس دنیا میں مدد اور آخرت میں جنت کا وعدہ کیا‘‘۔
۷۔السنن الکبریٰ ،بیہقی رقم ۱۷۱۶۱۔
۸۔اصل روایت میں اِس جگہ ’إِنَّ عَدُوَّنَا یُتْرَکُوْنَ أَنْ یَتَتَامُّوْا فَلَا یَعْجَلُوْا‘ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ موقع کلام کی رعایت سے دیکھا جائے تو الآحاد و المثانی،ابن ابی عاصم،رقم۹۸۴ کے الفاظ زیادہ موزوں معلوم ہوتے ہیں۔ہم نے اُنھی کا انتخاب کیا ہے۔
۹۔صحیح ابن حبان،قم۴۸۵۹۔
۱۰۔سنن ترمذی،رقم ۱۵۳۵۔بعض روایات میں اِس جگہ ’حَتَّی تَحْضُرَ الصَّلَوَاتُ وَتَہُبَّ الأَرْوَاحُ وَیَطِیْبَ الْقِتَالُ‘ نقل ہوا ہے،یعنی یہاں تک کہ نمازوں کا وقت آجائے ، ہوائیں چلنے لگیں اورقتال میں آسانی ہو جائے۔ ملاحظہ ہو: صحیح ابن حبان،رقم۴۸۵۹۔سنن ترمذی،رقم ۱۵۳۵ میں اِس جگہ ’تَہِیْجُ رِیَاحُ النَّصْرِ‘ کا اضافہ نقل ہوا ہے، یعنی نصرت کی ہوائیں چلنے لگیں۔
۱۱۔السنن الکبریٰ ،بیہقی رقم ۱۷۱۶۱۔نعمان رضی اللہ عنہ کی ہدایت پر اہل لشکر کا ردعمل تاریخ طبری ،رقم ۱۲۷۸ میں اِس طرح منقول ہے: ’فَکَبَّرَ وَکَبَّرَ الْمُسْلِمُوْنَ، وَقَالُوْا: فَتْحًا، یُعِزُّ اللّٰہُ بِہِ الْإِسْلَامَ وَأَہْلَہُ‘ ’’پھر اُنھوں نے تکبیر کہی تو سب مسلمانوں نے تکبیر کہی اور کہنے لگے: کامیابی! اللہ اِس معرکے سے اسلام اور مسلمانوں کو عزت دے گا‘‘۔ صحیح ابن حبان،رقم ۴۸۵۹ میں اِس جگہ نعمان رضی اللہ عنہ کی یہ دعا نقل ہوئی ہے: ’اللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ أَنْ تَقَرَّ عَیْنِي الْیَوْمَ بِفَتْحٍ یَکُوْنُ فِیْہِ عِزُّ الْإِسْلَامِ وَأَہْلِہِ، وَذُلُّ الْکُفْرِ وَأَہْلِہِ‘ ’’پرودگار، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو آج ایسی فتح کو میری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے جس سے اسلام اور مسلمانوں کو عزت ملے اور جو کفر اور اہل کفر کے لیے باعث ذلت ہو‘‘۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ.ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.
ابن ماجۃ، ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.
ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ.ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ. أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح. ط۳. تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.
بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی.ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.
السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج.ط ۱. تحقیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
محمد القضاعي الکلبي المزي. (۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
النسائي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النسائي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List