Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
اسلام، ایمان، احسان اور قیامت کی علامات | اشراق
Font size +/-

اسلام، ایمان، احسان اور قیامت کی علامات

تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطابِ قَالَ: ۱ بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ، إِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ [حَسَنُ الْوَجْہِ، حَسَنُ الشَّعْرِ]۲ شَدِیْدُ بَیَاضِ الثِّیَابِ، شَدِیْدُ سَوَادِ شَعْرِ الرَّأْسِ،لاَ یُرٰي عَلَیْہِ أَثَرُ السَّفَرِ، [فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُہُمْ إِلٰي بَعْضٍ]۳ وَلاَ یَعْرِفُہُ مِنَّا أَحَدٌ، [وَلَیْسَ مِنْ أَہْلِ الْبَلَدِ]۴ [فَسَلَّمَ عَلَي النَّبِيِّ ثُمَّ قَالَ: أَأَدْنُوْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَدَنَا]۵ فَأَسْنَدَ رُکْبَتَیْہِ إِلٰيرُکْبَتَیْہِ۶ وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلٰي فَخِذَیْہِ [ کَمَا یَجْلِسُ أَحَدُنَا فِی الصَّلٰوۃِ] ۷ ثُمَّ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِيْ عَنِ الْإِسْلاَمِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِِ وَسَلَّمَ: أَلْإِسْلَامُ أَنْ تَشْہَدَ أَنْ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ،۸ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، وَتُقِیْمَ الصَّلٰوۃَ، وَتُؤْتِيَ الزَّکٰوۃَ،۹ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَیْتَ، إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَیْہِ سَبِیْلاً،۱۰ قَالَ: صَدَقْتَ، ۱۱ قَالَ: فَعَجِبْنَا لَہُ یَسْأَلُہُ، وَیُصَدِّقُہُ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِيْ عَنِ الْإِیْمَانِ، قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ، وَمَلاَءِکَتِہِ، وَکُتُبِہِ، وَرُسُلِہِ، وَالْیَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَیْرِہِ وَشَرِّہِ،۲ ۱ قَالَ: صَدَقْتَ،۱۳ قَالَ: فَأَخْبِرْنِيْ عَنِ الْإِحْسَانِ، قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ۱۴اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ، فَإِنَّہُ یَرَاکَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِيْ عَنِ السَّاعَۃِ، قَالَ: مَا الْمَسْءُوْلُ عَنْہَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّاءِلِ،۱۵ قَالَ: فَأَخْبِرْنِيْ عَنْ أَمَارَتِہَا،۱۶ قَالَ: أَنْ تَلِدَ الْأَمَۃُ رَبَّتَہَا،۱۷ وَأَنْ تَرَي الْحُفَاۃَ الْعُرَاۃَ الْعَالَۃَ رِعَاءَ الشَّاءِ۱۸ [رُءُ وْسَ النَّاسِ]۱۹ یَتَطَاوَلُوْنَ فِی الْبُنْیَانِ، [قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، وَمَنْ أَصْحَابُ الشَّاءِ وَالْحُفَاۃُ الْجِیَاعُ الْعَالَۃُ؟ قَالَ: العََرَبُ]۲۰ قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِیًّا، ثُمَّ قَالَ لِيْ: یَا عُمَرُ، أَتَدْرِيْ مَنِ السَّاءِلُ؟ قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّہُ جِبْرِیْلُ، أَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ.۲۱

سیدنا عمر بن خطاب سے روایت ہے ،اُنھوں نے فرمایا :ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ اِس دوران میں ایک شخص نمودار ہوا۔ حسین چہرہ، حسین بال، بالکل سفید کپڑے، بالوں کا رنگ بہت سیاہ، اُس پر سفر کے کوئی آثار نہیں تھے۔ چنانچہ لوگوں نے تعجب سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، لیکن ہم میں سے کوئی اُسے پہچان نہیں رہا تھا۔ صاف واضح تھا کہ وہ اِس دیار کے لوگوں میں سے نہیں ہے۔ بہرحال وہ آیا اور اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، پھر کہا: میں آپ کے قریب آ سکتا ہوں، یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا: ضرور۔ چنانچہ وہ قریب ہوا، پھراپنے زانو آپ کے زانوؤں سے ملائے اور دونوں ہاتھ اپنے زانوؤں پر رکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بالکل اُس طرح بیٹھ گیا، جس طرح ہم نماز میں بیٹھتے ہیں۱۔ پھر عرض کیا:اے محمد، یہ بتائیے کہ اسلام۲ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے جواب میں فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اِس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اوراِس کی گواہی دوکہ محمد اللہ کے رسول ہیں۳، نماز کا اہتمام کرو، زکوٰۃادا کرو، رمضان کے روزے رکھواور سفر کی استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۴۔ اُس نے عرض کیا:آپ نے سچ فرمایا۔ عمر کہتے ہیں کہ اِس پر ہمیں تعجب ہوا کہ خود ہی پوچھتا ہے اور خود ہی تصدیق کرتا ہے۔ اِس کے بعد اُس نے ایمان کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کو مانو اور اُس کے فرشتوں، اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں کو مانو، اور آخرت کے دن کو مانو،۵اور تقدیر کے خیر و شر کو بھی۶۔ اُس نے پھر تصدیق کی اور پوچھا: فرمائیے، احسان کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا: احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طریقے سے کرو، گویا اُسے دیکھ رہے ہو، اِس لیے کہ اگر تم اُس کو نہیں دیکھ رہے تو کیا ہوا، وہ تو تمھیں دیکھ رہا ہے۷۔ اُس نے کہا: اچھا، اب قیامت کے بارے میں بتائیے؟ آپ نے فرمایا: جس سے پوچھا گیا ہے، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ اُس نے عرض کیا: پھر اُس کی کچھ نشانیاں ہی بتا دیجیے؟ آپ نے فرمایا: اُس کی ایک نشانی یہ ہے کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جن دے گی اور دوسری یہ کہ تم ننگے پاؤں، ننگے بدن پھرنے والے بکریوں کے اِن نادار چرواہوں کو دیکھو گے کہ لوگوں کے سردار ہیں اور بڑی بڑی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں ۸۔ اُس نے پوچھا :یارسول اللہ، یہ بکریوں کے چرواہے اور یہ بھوکے، نا دار ننگے پاؤں پھرنے والے کون ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: یہی عرب۹۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ اِس گفتگو کے بعد وہ شخص چلا گیا، لیکن میں کچھ دیر ٹھیرا رہا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر، جانتے ہو، یہ سوال کرنے والا کون تھا؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اُس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تو سنو، یہ جبریل تھے، یہ تمھیں تمھارا دین سکھانے کے لیے تم لوگوں کے پاس آئے تھے۔۱۰

ترجمے کے حواشی

۱۔ یعنی نہایت ادب کے ساتھ، جس طرح بزرگوں کے سامنے بیٹھا جاتا ہے۔
۲ ۔ ’اسلام‘ کا لفظ یہاں اُس دین کے ظاہر کے لیے استعمال ہوا ہے جس کی دعوت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو دی ہے۔ یعنی اُن چیزوں کے لیے جن کا اظہار آپ پر ایمان لانے والا کوئی شخص اپنے عمل سے کرتا ہے اور دوسروں سے ممتاز اپنی ایک الگ حیثیت میں اسلام کا ماننے والا یا مسلمان کہلاتا ہے۔
۳۔ یہ ایمان لانے کے بعد لوگوں کے سامنے اِس حقیقت کا اظہار ہے کہ کسی شخص نے خدا کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کر لیا ہے۔ چنانچہ اب نہ وہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرائے گا اور نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع و اطاعت سے انحراف کی جسارت کرے گا، کیونکہ اُس نے آپ کو خدا کا رسول مان لیاہے۔
۴۔ انسان کی زندگی میں اسلام کا ظہور اِنھی پانچ چیزوں سے ہوتا ہے۔ چنانچہ بعض روایتوں میں اِنھیں اسلام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔قرآن مجید میں بھی جگہ جگہ اِسی حیثیت سے اِن کی تاکید کی گئی ہے۔ اِن کے بارے میں کسی بحث و نزاع کی گنجایش بھی نہیں ہے، اِس لیے کہ یہ مسلمانوں کے اجماع اور تواتر عملی سے منتقل ہوئی ہیں اور ہر لحاظ سے ثابت ہیں، لہٰذا کسی مسلمان کو اِن سے انحراف کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔
۵۔ اسلام کے ایمانیات یہی ہیں اور اِسی وضاحت کے ساتھ قرآن میں بھی بیان ہوئے ہیں۔ اِن میں کوئی کمی بیشی یا تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ جن لوگوں نے اِن کے ساتھ بعض دوسری چیزوں کو عقائد کی فہرست میں شامل کیا ہے، اُنھوں نے اللہ و رسول کے مقابل میں اپنی بات کہنے کی جسارت کی اور دین میں تفرقے کی بنیاد رکھی ہے جس سے ہر مسلمان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہیے۔
۶۔ یعنی اِس بات کو کہ جو بھلائی یا برائی بھی انسان کو پہنچتی ہے، اللہ کے اذن سے پہنچتی ہے۔یہ ایمان باللہ ہی کی فرع ہے۔ اِسے خاص طور پر اِس لیے نمایاں کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمارے تعلق کے تمام باطنی مظاہر، مثلاً ذکر،شکر، تقویٰ، اخلاص، توکل، تفویض اور تسلیم و رضا اِسی سے پیدا ہوتے ہیں۔ انسان کی شخصیت میں اللہ پر اُس کے ایمان کا حقیقی ظہور اِسی حقیقت پر ایمان سے ہوتا ہے۔ یہ ایمان نہ ہو تو جن چیزوں کا ذکر ہوا، اُن میں سے کوئی چیز بھی ظہور میں نہیں آسکتی، دراں حالیکہ یہی چیزیں ایمان کا جمال و کمال ہیں۔
۷۔ احسان کے لغوی معنی کسی کام کو اُس کے بہترین طریقے پر کرنے کے ہیں۔ یہ اُس رویے کا بیان ہے جو دین پر عمل کرنے والوں کو اپنے عمل میں اختیار کرنا چاہیے۔ سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱۱۲ ’مَنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ‘ ’’اپنی ہستی جن لوگوں نے اللہ کے سپرد کر دی اور وہ خوبی کے ساتھ عمل کرنے والے ہیں‘‘ اور اِس مضمون کی دوسری آیات میں متعدد مقامات پر قرآن نے اِس کی تاکید فرمائی ہے۔
یہاں یہ واضح رہے کہ یہ دین پر عمل کا کوئی درجہ نہیں ہے، بلکہ عمل کے لیے اصلی مطلوب رویہ ہے۔ یہ رویہ کسی شخص میں اُس وقت پیدا ہوتا ہے، جب وہ خدا کو سمیع و بصیر اور اپنے شب و روز پر ہر لحظہ نگران سمجھ کر اُس کے احکام پر عمل کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات نہایت سادہ، مگر بلیغ اسلوب میں بیان فرما دی ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ اِسی بنا پر خدا کے حاضر و ناظر ہونے کی یاددہانی کی گئی ہے۔ اِس رویے کی تربیت مقصود ہو تو فہم و تدبر کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرنی چاہیے۔ یہی خدا کا بتایا ہوا سلوک ہے۔ اِس کے لیے کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
۸۔ یہ دوسری علامت تو بالکل واضح ہے۔ پچھلی صدی میں اِس کا ظہور سرزمین عرب میں ہر شخص بہ چشم سر دیکھ سکتا ہے۔ پہلی علامت کا مصداق متعین کرنے میں، البتہ لوگوں کو دقت ہوئی ہے۔ ہمارے نزدیک اُس کا مفہوم بھی واضح ہے۔ اُس سے مراد ایک ادارے کی حیثیت سے عالمی سطح پر غلامی کا خاتمہ ہے۔ اِس مدعا کو ادا کرنے کے لیے یہ کس قدر خوب صورت تعبیر ہے، اِس کا اندازہ ہر صاحب ذوق کر سکتا ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ یہ واقعہ بھی ٹھیک اُسی زمانے میں ہوا ہے، جب سرزمین عرب کے چرواہے اپنی دنیا تبدیل کر رہے تھے۔ اِس لحاظ سے یہ پیشین گوئی قرب قیامت کا زمانہ بالکل متعین کر دیتی ہے۔
۹۔ بعض روایتوں میں اِس جگہ ’الْعُرَیْب‘ بھی ہے جو ’الْعَرَبْ‘کی تصغیرہے،یعنی یہی بے نوا عرب۔
۱۰۔ اللہ تعالیٰ کا جو دین قرآن و سنت کی صورت میں دیا گیاہے، اُس کی شرح و وضاحت ہمارے لیے دین کے علما کرتے ہیں۔ یہی خدمت دین کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے عالم، بلکہ علما کے امام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے لیے انجام دی تھی۔ اِس کے لیے سوال و جواب کا طریقہ سب سے زیادہ موثر ہوتا ہے۔ اِس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ دین سے متعلق بعض بنیادی حقائق کی تفہیم کے لیے آپ نے یہی طریقہ اختیار فرمایا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے ایما سے جبریل امین انسانی صورت میں آپ کے پاس آئے اور وہ سوالات کیے جو اوپر مذکور ہیں۔ یہ آخر میں آپ نے خود وضاحت فرما دی ہے کہ وہ اِسی مقصد سے آئے تھے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن اصلاً صحیح مسلم رقم ۱۲سے لیا گیا ہے اور اِسے درج ذیل صحابہ نے روایت کیا ہے:
عمربن خطاب رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، ابو ذر رضی اللہ عنہ، ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ، انس بن مالک رضی اللہ عنہ،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ۔
۲۔ مسنداحمد ،رقم ۱۸۲ ۔ بعض روایات، مثلاً سنن نسائی،رقم۴۹۳۱ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہی بات اِس طرح نقل ہوئی ہے:ایک شخص آیاجس کا چہرہ سب لوگوں سے زیادہ خوب صورت اور جس کے بدن کی خوشبو سب سے بہتر تھی۔اُس کا لباس اِس قدر صاف تھا،گویا میل نے چھوا تک نہ ہو۔
۳۔مسند احمد،رقم۱۸۲۔
۴۔ صحیح ابن خزیمہ ، رقم ۱۔
۵۔السنن الکبر یٰ،نسائی ،رقم۵۶۸۰۔
۶۔بعض روایتوں ،مثلاً مسنداحمد،رقم۳۶۵ میں یہ بات اِن الفاظ میں بیان ہوئی ہے :وہ قریب ہوا،یہاں تک کے اُس کے دونوں گھٹنے آپ کے گھٹنوں کو چھو نے لگے۔
۷۔السنن الصغریٰ ،بیہقی رقم۷ ۔ بعض روایتوں، مثلاً نسائی کی السنن الصغریٰ ،رقم۴۹۳۱ میں اِس کے بعد یہ الفاظ ہیں: ’ثُمََّ وَضَعَ یَدَہُ عَلٰی رُکْبَتَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِِ وَسَلَّمَ‘ ’’پھر اُس نے اپنے ہاتھ رسول اللہ کے گھٹنوں پر رکھ دیے‘‘۔ ہم نے اِسے قبول نہیں کیا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی ۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ دوسری روایتوں میں ’فخذیہ‘ کی ضمیر کا مرجع بعض راویوں نے غلطی سے آپ کو سمجھا اور اپنے فہم کے مطابق اُسے کھول دیاہے ۔ہمارے نزدیک صحیح بات وہی ہے جو اوپر ہم نے متن میں اختیار کی ہے کہ آنے والے نے دو زانو بیٹھ کر اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ لیے، جس طرح نماز میں رکھ کر بیٹھتے ہیں ۔چناچہ مروزی کی تعظیم قدر الصلاۃ،رقم ۳۸۲ میں صحابہ کا یہ تاثر بھی نقل ہوا ہے کہ ہم نے اُس شخص سے زیادہ آپ کی تعظیم کرنے والا نہیں دیکھا۔گویا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوری طرح واقف تھا۔
۸۔بعض روایات، مثلاًصحیح بخاری، رقم۴۹ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِس جگہ’أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ وَلاَ تُشْرِکَ بِہِ شَیْئًا‘ ’’اللہ کی عبادت کرواور کسی کواس کا شریک نہ ٹھیراؤ‘‘ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ رویانی کی مسند، رقم ۱۴۳ میں یہاں ’أَنْ تُقِیْمَ وَجْہَکَ لِلّٰہ‘ ’’اسلام یہ ہے کہ تم اپنا رخ سیدھا اللہ کی طرف کرلو‘‘ کے الفاظ ہیں۔ بعض روایتوں، مثلاً صحیح بخاری، رقم ۴۴۲۹ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ منقول ہیں: ’أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَمَلاَئِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ‘ ’’اور ایمان لاؤ اللہ پر، اُس کے فرشتوں پر، اُس کی کتابوں پر اور اُس کے پیغمبروں پر‘‘۔بعض روایات، مثلاً صحیح مسلم،رقم ۳ ۱ میں اُنھی سے لفظ’کُتُبِہِ‘ مفرد بھی نقل ہوا ہے۔
۹۔بعض روایات، مثلاً صحیح مسلم، رقم ۱۳ میں اِس جگہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ’الصَّلٰوۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ، وَالزَّکٰوۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ‘ ’’فرض نماز اور لازمی زکوٰۃ‘‘کے الفاظ منقول ہیں۔اِسی طرح بعض روایتوں، مثلاً صحیح ابن خزیمہ ، رقم۱ میں یہاں ’تَعْتَمِرَ، وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ، وَأَنْ تُتِمَّ الْوُضُوْءَ‘ ’’تم عمرہ کرو ، غسل جنابت کرو اور پورا وضو کر و‘‘ کا اضافہ ہے ۔یہ اضافے ہم نے قبول نہیں کیے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سوالات یہاں کیے گئے ہیں، وہ ایمان و اسلام کے مبادی سے متعلق ہیں اور آپ نے اُن کے جوابات بھی اِسی مناسبت سے دیے ہیں۔ اِن میں اس طرح کی تفریعات بیان نہیں ہوسکتیں۔ چنانچہ موقع کلام اِس سے اِبا کرتا ہے کہ جبریل امین نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں کہ اسلام کیا ہے،اور آپ اُس کے جواب میں غسل جنابت اور اتمام وضو جیسی چیزوں کا ذکر کریں ۔
۱۰۔اسلام کے یہی مبادی بعض دیگر روایات میں بھی صراحت سے نقل ہوئے ہیں۔ مثلاً ،سنن ترمذی ،رقم۲۶۰۹ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’بُنِیَ الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، وَإِقَامِ الصَّلٰوۃِ، وَإِیتَاءِ الزَّکٰوۃِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ، وَحَجِّ البَیْتِ‘ ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اِس بات کی گواہی پر کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،وہ یکتا ہے،اُس کا کوئی شریک نہیں،اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں،اور اِس پر کہ نماز کا اہتمام کیا جائے،زکٰوۃ ادا کی جائے، ماہِ رمضان کے روزے رکھے جائیں اور بیت اللہ کا حج کیا جائے‘‘۔
۱۱۔بعض روایتوں، مثلاًمسند احمد، رقم ۲۸۰۸میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہاں اِن الفاظ کا اضافہ ہے : ’قَالَ: فإذا فَعَلتُ ذالک فقد أسْلَمْتُ؟ قَالَ: إذا فَعَلْتَ ذالک فقد أَسْلَمْتَ‘ ’’اُس نے پوچھا: پھر اگر میں یہ کروں تو کیا میں اسلام پر ہوں گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اگر تم یہ کرو گے تو یقیناً اسلام پر ہو گے‘‘۔
۱۲۔بعض روایات، مثلاً مسند احمد، رقم ۱۶۸۳۵ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِس کے بعد یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: ’وَالْمَوْتِ، وَالْحَیَاۃِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْجَنَّۃِ، وَالنَّارِ، وَالْحِسَابِ‘ ’’اور موت اور اُس کے بعد کی زندگی پر ایمان رکھواور جنت، جہنم اور یوم حساب پر بھی‘‘۔ بعض روایات، مثلاً صحیح بخاری، رقم۴۴۲۹ میں اُنھی سے ’ولِقَائِہِ‘ ’’اور اُس سے ملاقات پر‘‘ کا اضافہ ہے۔ سنن نسائی، رقم ۵۶۸۰ میں یہ الفاظ بھی ہیں: ’وَلِقَدَرِ خَیْرِہِ وَ شَرِہِ، حُلْوِہِ وَ مُرِّہِ‘ ’’اور تقدیر کے خیر و شر اور اُس کے تلخ و شیریں پر‘‘۔ بعض روایات، مثلاً سنن ترمذی رقم، ۲۰۷۱ میں علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص اُس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا، جب تک چار چیزوں پر ایمان نہ لے آئے: وہ اِس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے ، اور وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے اور تقدیر پربھی ایمان رکھے۔
۱۳۔بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم ۲۸۰۸ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اِس جگہ یہ اضافہ منقول ہے: ’قَالَ: فإذا فَعَلتُ ذالک فقد آمَنْتُ؟ قَالَ: إذا فَعَلْتَ ذالک فقد آمَنْتَ‘ ’’اگر میں یہ کروں گا تو کیا میں مومن ہوں گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، تم یہ کرو گے تو یقیناًایمان پر ہو گے‘‘۔
۱۴۔بعض روایات، مثلاً مسند احمد، رقم ۱۸۲ میں یہاں ’تَعْبُدَ اللّٰہَ‘ ’’تم اللہ کی عبادت کرو‘‘ کے بجاے ’تَعْمَلَ لِلّٰہِ‘ ’’تم اللہ کے لیے عمل کرو‘‘کے الفاظ ہیں۔ بعض روایتوں، مثلاً صحیح مسلم، رقم۱۴ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہاں ’أَنْ تَخْشَی اللّٰہَ‘ ’’تم اللہ سے ڈرو‘‘ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔اِسی طرح بعض روایات، مثلاً مسنداحمد ، رقم ۵۶۹۸ میں اِس کے بعد یہ اضافہ ہے: ’فإذا فَعَلتُ ذالک فأنا محسن؟ قَالَ: نعم‘ ’’اگر میں یہ کروں تو کیا میں خوبی کے ساتھ عمل کرنے والا ہو جاؤں گا؟ اُنھوں نے فرمایا: ہاں‘‘۔
۱۵۔بعض روایات ، مثلاً صحیح مسلم ،رقم ۱۴ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِس کے بعد یہ الفاظ بھی نقل ہوئے ہیں: ’فِیْ خَمْسٍ مِنَ الْغَیْبِ، لَا یَعْلَمُہُنَّ إِلاَّ اللّٰہُ، ثُمَّ قَرَأَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ: ’’اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌم بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ‘ ’’ یہ اُن پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ کے سواکسی کو نہیں ہے، پھر آپ نے اِس آیت کی تلاوت فرمائی: قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ (دیکھتے نہیں ہو کہ) وہی بارش برساتاہے اور جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہوتاہے۔کو ئی نہیں جانتاکہ وہ کل کیا کمائی کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں مرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی علیم وخبیر ہے‘‘۔ ہم نے اِسے قبول نہیں کیا،اِس کی وجہ یہ ہے کہ روایت کے تمام طریقوں کا استقصا کیا جائے تو یہی بات قرین صواب معلوم ہوتی ہے کہ یہ بعد کے راویوں کا ادراج ہے۔
۱۶۔ سنن ابوداؤد، رقم ۴۰۷۷ میں اِس جگہ ’أمَارَاتِہا‘ ’’اس کی نشانیاں‘‘ آیا ہے۔ مسنداحمد، رقم۲۸۰۸ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہاں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: ’ولکنْ إن شئتَ حدثتُک بمعالمَ لَہَا دُونَ ذٰلک، قالَ: أجل یاَ رسولَ اللّٰہ‘ ’’لیکن اگر تم چاہتے ہو تو میں اُس کی نشانیاں تمھیں بتا دیتا ہوں جو اُس سے پہلے نمودار ہوں گی۔ اُس نے کہا: ضرور یارسول اللہ‘‘۔ سنن نسائی، رقم۴۹۹۱ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِس جگہ یہ الفاظ منقول ہیں: ’قال: یا محمد، أَخْبِرْنِی، مَتَی السَّاعَۃُ؟ قال: فَنَکَسَ، فلم یُجِبْہُ شیئًا، ثُمَّ أَعَادَ فلم یُجِبْہُ شیئًا، ثُمَّ أَعَادَ فلم یُجِبْہُ شیئًا، وَرَفَعَ رَأْسَہُ فقال‘ ’’اُس نے پوچھا: اے محمد، مجھے بتائیے کہ قیامت کب آئے گی؟ راوی کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر جھکا لیا اور کوئی جواب نہیں دیا۔ اُس نے سوال دہرایا تو آپ پھر خاموش رہے۔ اُس نے پھر پوچھا تو اِس بار بھی آپ خاموش رہے۔ اِس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا ‘‘ ۔
۱۷۔بعض روایتوں، مثلاً صحیح بخاری، رقم۴۹ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِس جگہ یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: ’إذَا وَلَدَتِ الأَمَۃُ رَبَّہَا‘ ’’جب لونڈی اپنے مالک کو جن دے گی ‘‘ ۔ صحیح مسلم، رقم ۱۳ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہاں ’ربَّہا‘ کے بجاے ’بَعْلَہا‘ کا لفظ منقول ہے۔ بعض طرق، مثلاً صحیح بخاری ،رقم ۴۴۲۹ میں اُنھی سے ’’رَبَّتھا‘‘ کا لفظ بھی روایت ہواہے۔
۱۸۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی بعض طرق، مثلاً صحیح مسلم ،رقم۱۳ میں اِس جگہ ’اِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ البَھْمِ فِي الْبُنْیَانِ‘ ’’جب یہ چرواہے آپس میں مقابلہ کریں گے ‘‘کے الفاظ بیان ہوئے ہیں۔ صحیح مسلم، رقم۱۴میں اُنھی سے یہاں: ’الصُّمَّ الْبُکْمَ‘ ’’گونگے بہرے‘‘ کا اضافہ نقل ہوا ہے ۔ بعض روایات، مثلاً مسنداحمد، رقم۲۸۰۸ میں اِس جگہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: ’الُحُفَاۃُ الْجِیَاعُ‘ ’’ننگے پاؤں اور بھوکے‘‘۔ صحیح بخاری، رقم۴۹ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ’رُعَاۃُ الإِبِلِ‘ ’’اونٹوں کے چرواہے‘‘کے الفاظ منقول ہیں۔
۱۹۔ صحیح مسلم ،رقم۱۳۔بعض روایتوں،مثلاً صحیح مسلم، رقم ۱۴ میں یہا ں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ’مُلُوْکَ الأَرْضِ‘ ’’دنیا کے بادشاہ ‘‘کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔
۲۰۔ مسند احمد، رقم ۲۸۰۸۔
۲۱۔ بعض روایات، مثلاً صحیح بخاری، قم۴۴۲۹ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بات اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے: ’ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: رُدُّوْا عَلَیَّ فَأَخَذُوْا لِیَرُدُّوْا، فَلَمْ یَرَوْا شَیْئًا، فَقَالَ: ہَذَا جِبْرِیلُ جَاءَ لِیُعَلِّمَ النَّاسَ دِینَہُمْ‘ ’’پھر وہ شخص چلا گیا تو آپ نے فرمایا: اُسے میرے پاس لے آؤ۔ لوگ اُسے تلاش کرنے نکلے، مگر وہ اُنھیں نہیں مل سکا۔ اِس پر آپ نے فرمایا: یہ جبریل امین تھے جو لوگوں کو اُن کے دین کی تعلیم دینے آئے تھے‘‘۔ مسند احمد ،رقم۳۶۵ میں اِس کے بعد یہ الفاظ ہیں: اِس موقع کے سوا یہ جس موقع پربھی آئے ہیں،میں نے انھیں پہچان لیا ہے۔ بعض روایات، مثلاً مسند اسحاق بن راہویہ،رقم ۱۳۵میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِس جگہ یہ الفاظ منقول ہیں: ’وَالَّذِیْ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ، مَا أَنَا بِأَعْلَمَ بِہِ مِنْ رَجُلٍ مِنْکُمْ وَإِنَّہُ لَجِبْرِیْلُ جَاءَ کُمْ لِیُعَلِّمَکُمْ فِیْ صُوْرَۃِ دَحْیَۃَ الْکَلْبِیِّ‘ ’’اُس ذات کی قسم جس نے محمد کوہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے،میں بھی اُتنا ہی جانتا ہوں جتنا تم میں سے کوئی شخص جان سکتا ہے۔ یہ دراصل جبریل امین تھے جو دحیہ کلبی کی صورت میں تمھاری تعلیم کے لیے آئے تھے ‘‘۔ یہ اضافہ بھی ہم نے قبول نہیں کیا،اِس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا عمر کی روایت میں ’لاَ یَعْرِفُہُ مِنَّا أَحَدٌ‘ ’’ہم میں سے کوئی اُسے نہیں جانتا تھا‘‘ کے الفاظ اِس سے اِبا کرتے ہیں۔ بالبداہت واضح ہے کہ یہ دونوں باتیں ایک ہی جگہ اکٹھی نہیں ہو سکتیں ۔
عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:
صحیح مسلم ،رقم ۲۱ ۔ سنن ابی داؤد،رقم ۷۷۰۴۔ سنن ابن ماجہ،رقم۲۶۔ مسند احمد ،رقم ۱۸۲۔ صحیح ابن خزیمہ،رقم۱۔ صحیح ابن حبان،رقم ۱۷۰۔ سنن الدارقطنی،رقم۲۳۷۷۔ السنن الصغریٰ، بیہقی،رقم ۷۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِسے جن کتابوں میں نقل کیا گیا ہے،وہ یہ ہیں:
صحیح بخاری، رقم ۴۹۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۴۹۳۱۔ سنن ابن ماجہ، رقم۶۳۔ مسنداحمد،رقم۸۹۱۲۔ صحیح ابن خزیمہ، رقم۲۰۹۶۔ السنن الکبریٰ، بیہقی،رقم۱۵۷۱۔ مسند اسحاق بن راہویہ ،رقم۳۵ ۱۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ صرف مسند البزار ،رقم ۱۲۴۵۴ میں اور ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے یہ مسند احمد، رقم ۱۶۸۳۴، ۱۷۱۶۵ میں منقول ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اِس کو مسند احمد ،رقم ۲۸۰۸، مسند البزار ،رقم ۶۸۱ اور ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ سے السنن الصغریٰ، نسائی، رقم۴۹۳۱ اور مسند اسحاق بن راہویہ، رقم۱۳۵ میں نقل کیا گیا ہے۔

المصادر والمراجع

البخاری، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/۱۹۸۷م). الجامع الصحیح.ط۳. تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.
أبو سلیمان حمد بن محمد الخطابی. (۱۴۰۹ہ/۱۹۸۸م). أعلام الحدیث. (شرح صحیح البخاری). ط ۱. تحقیق: محمد بن سعد بن عبد الرحمٰن آل سعود. مرکز النخب العلمیۃ.
ابن بطال أبو الحسن. (۱۴۲۳ہ/ ۲۰۰۳م ). شرح صحیح البخاری. ط ۲. تحقیق: أبو تمیم یاسر بن إبراہیم. الریاض: مکتبۃ الرشد السعودیۃ.
الترمذی، محمد بن عیسی الترمذی. (د.ت). جامع الترمذی. ط۱. تحقیق: أحمد محمد شاکر وآخرون. بیروت: دار إحیاء التراث العربی.
النسائی، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). سنن النسائی الصغرٰی. ط ۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
ابن ماجہ، ابن ماجۃ القزوینی. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی. بیروت: دار الفکر.
أحمد بن محمد بن حنبل الشیبانی.(د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط ۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربی.
ابن خزیمہ، محمد بن إسحاق بن خزیمۃ. (۱۳۹۰ہ/۱۹۷۰م). صحیح ابن خزیمۃ. ط۱. تحقیق: محمد مصطفٰی الأعظمی. بیروت: المکتب الإسلامی.
ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
النسائی. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی للنسائی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداری، سید کسروی حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
البیہقی، أحمد بن الحسین البیہقی. (۱۴۱۴ہ /۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی للبیہقی. ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.
إسحاق بن راہویہ. (۱۹۹۵م). مسند اسحاق بن راہویہ. ط۱. تحقیق: عبد الغفور عبد الحق حسین بر البلوشی. المدینۃ المنورۃ : دار النشر مکتبۃ الإیمان.
ابن ابی شیبۃ. (۱۴۲۵ہ/ ۲۰۰۴م). مصنف. ط۱. تحقیق: حمد بن عبد اللّٰہ الجمعۃ، محمد بن إبراہیم اللحیدان. الریاض: المملکۃ العربیۃ السعودیۃ.
أبو زکریا محیی الدین النووی. (۱۳۹۲ہ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج.ط ۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربی.
أبو عبد اللّٰہ، جمال الدین. (۱۴۰۵ھہ). شواہد التَّوضیح وَالتَّصحیح لمشکلات الجامع الصَّحیح. ط ۱. تحقیق: الدکتور طٰہٰ مُحسِن. مکتبۃ ابن تیمیۃ.
علی بن حجر أبو الفضل العسقلانی. (۱۳۷۹ہ). فتح الباری شرح صحیح البخاری. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی. بیروت: دار المعرفۃ.
بدر الدین العینی.(د.ت). عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربی.
داؤد بن الجارود الطیالسی. (۱۴۱۹ہ /۱۹۹۹م). مسند أبی داؤد الطیالسی. ط۱. الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکی. مصر: دار ہجر.
جلال الدین السیوطی. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط ۱. تحقیق: أبو اسحٰق الحوینی الأثری. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
عبد اللّٰہ بن حمد العباد البدر. (۱۴۲۴ہ / ۲۰۰۳م). شرح حدیث جبریل فی تعلیم الدین. ط۱. الریاض: مطبعۃ سفیر.
مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی. بیروت: دار إحیاء التراث العربی.
محمد القضاعی الکلبی المزی. (۱۴۰۰ہ /۱۹۸۰م). تہذیب الکمال فی أسماء الرجال. ط ۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List