Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Manzoor ul Hassan Profile

Manzoor ul Hassan

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
(اسلام اور مصوری جاوید احمد غامدی کا نقطۂ نظر (2 | اشراق
Font size +/-

(اسلام اور مصوری جاوید احمد غامدی کا نقطۂ نظر (2

مصوری کی شناعت کا ایک پہلو

دین اسلام کی اساس توحید ہے۔مسلمان ہونا درحقیقت اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ معبود حقیقی وہی ہے، عبادت اسی کے لیے زیبا ہے اور کسی اور کو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہے کہ اس کے سامنے مخلوقات سرنگوں ہوں۔ توحید کا ضد شرک ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی ذات، صفات اور حقوق میں دوسروں کو شریک کیا جائے۔ یہ بدترین معصیت ہے۔قرآن نے اسے ’’ظلم عظیم‘‘ سے تعبیر کیا ہے ۶؂ اور فرمایا ہے کہ یہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے، اللہ کو منظور ہوا تو وہ ہر جرم معاف کر دے گا، مگر شرک کے جرم کو ہر گز معاف نہیں کرے گا۔ ارشاد فرمایا ہے:

اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَمَنْ یُّشْرِکَ بِاللّٰہِ فَقَدِ افْتَرآی اِثْماً عَظِیْمًا. (النساء ۴: ۴۸)
’’ اللہ اس بات کو نہیں بخشے گاکہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے، اس کو جس کے لیے چاہے گا، بخش دے گا۔ اور جو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے، وہ ایک بہت بڑے گناہ کا افترا کرتا ہے۔‘‘

شرک ہی کا ایک مظہر بت پرستی ہے۔ یہ دو اجزا سے مرکب ہے۔ ایک جز وہ ارواح ہیں جنھیں اللہ کی الوہیت میں شریک قرار دے کر نافع و ضار سمجھاجاتا ہے اور دوسرا جزمٹی اور پتھرسے بنے ہوئے وہ بت ہیں جنھیں ان روحوں کے قالب تصور کر کے مسجود بنایا جاتا ہے ۔ تاریخ کے اوراق میں اس کا ذکر جا بجا ہے کہ انسانوں کے بہت سے گروہوں نے اپنی دنائت اور پست ہمتی کے باعث وہم کو معبود بنایا اور پیکر محسوس کو مرجع عبادت قرار دیا۔ سیدنا نوح علیہ السلام، سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جن اقوام کی طرف مبعوث ہوئے انھوں نے بتوں کی پرستش کوایمانیات کی سطح پر اختیار کررکھا تھا۔ ان پیغمبروں نے اللہ کی رہنمائی میں اپنی قوموں کو اس ضلالت سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ چنانچہ بائیبل اور قرآن میں نہایت صراحت کے ساتھ بت پرستی کی شناعت کو بیان کیا گیا ہے۔احادیث میں تماثیل و تصاویر کی مذمت بھی اسی پہلو سے بیان ہوئی ہے۔ عربوں کے ہاں مصوری کی بیش تر اصناف بت پرستی ہی کے لیے مختص تھیں ، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجسموں، شبیہوں اور تصویروں کی صورت میں ان تمام تماثیل کو مٹانے کا حکم دیا جن کی پرستش کی جاتی تھی اور انھیں بنانے والے مصوروں کو ملعون قرار دیا۔
چنانچہ قرآن مجید، بائیبل اور احادیث میں مذکور مصوری کی مذمت اور شناعت سرتاسر شرک کے پہلو سے ہے۔لہٰذا اس بنا پر اس فن اور اس کی مصنوعات کو علی الاطلاق حرام قرار دینا ان ماخذ دین کے منشا کے منافی ہے۔ ذیل میں قرآن، بائیبل اور حدیث کے ان نمائندہ مقامات کو زیر بحث لایا گیا ہے جن میں مشرکانہ مراسم سے وابستہ تماثیل کی شناعت بیان ہوئی ہے۔

_____

 

قرآن مجید اور مصوری کی شناعت

قرآن مجید میں ان تصاویر و تماثیل کے بارے میں سخت وعید آئی ہے جو مشرکانہ مقاصد کے تحت بنائی جاتی تھیں۔ اس کے مختلف مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا نوح علیہ السلام، سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جن اقوام میں مبعوث ہوئے، وہ شرک کوایک باقاعدہ مذہب کے طور پر اپنائے ہوئے تھیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان پیغمبروں کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ انھیں اس ضلالت سے نکالیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین اس معاملے میں پچھلی اقوام سے بھی آگے بڑھے ہوئے تھے۔انھوں نے اپنے لیے نہ صرف نئی تماثیل وضع کر لی تھیں، بلکہ قوم نوح کی قدیم ترین تماثیل کو بھی مرجع عبادت بنا لیا تھا۔ انتہا یہ تھی کہ بیت اللہ جیسی روئے زمین کی سب سے مقدس جگہ کو انھوں نے ان مشرکانہ تماثیل سے بھر دیاتھا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن نے شرک کی بیخ کنی کا اعلان کیا اور مختلف پہلووں سے تماثیل کی بے وقعتی اور شناعت کو واضح کیا۔ اس ضمن میں قرآن کے جملہ مقامات سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ تماثیل کی یہ شناعت سرتاسر شرک کے حوالے سے ہے۔ گویا اس کتاب الہٰی نے تماثیل کو نہیں، بلکہ ان کے ساتھ وابستہ ہونے والے مشرکانہ مراسم کو شنیع قرار دیا ہے۔ اس ضمن کے چند نمایاں مقامات حسب ذیل ہیں:

تماثیل کی پرستش کی شناعت

وَلَقَدْ اٰتَیْنَآ اِبْرٰھِیْمَ رُشْدَہٗ مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّابِہٖ عٰلِمِیْنَ. اِذْ قَالَ لِأَبِیْہِ وَقَوْمِہِ مَا ہَذِہِ التَّمَاثِیلُ الَّتِی أَنتُمْ لَہَا عَاکِفُونَ. قَالُوْا وَجَدْنَا آبَاءَ نَا لَہَا عَابِدِیْنَ. قَالَ لَقَدْ کُنْتُمْ أَنتُمْ وَآبَاؤُکُمْ فِی ضَلَالٍ مُّبِینٍ ...قَالَ أَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنفَعُکُمْ شَیْءًا وَلَا یَضُرُّکُمْ . اُفٍّ لَّکُمْ وَلِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ.(الانبیاء ۲۱: ۵۱ ۔ ۶۷)
’’اور اس سے پہلے ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت فرمائی اور ہم اس سے خوب باخبر تھے۔ جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ یہ کیا مورتیں ہیں جن پر تم دھرنا دیے بیٹھے ہو! انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے تو اپنے باپ دادا کو انھی کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے۔ اس نے کہا : تم بھی اور تمھارے باپ دادا بھی ایک کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا رہے ہو... اس نے کہا : کیا خدا کے ما سوا تم ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہوجو تم کو نہ کوئی نفع پہنچا سکیں نہ کوئی ضرر! تف ہے تم پر بھی اور ان چیزوں پر بھی جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو! کیا تم لوگ سمجھتے نہیں!‘‘

یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا اپنی قوم کے ساتھ مکالمہ ہے۔یہاں تماثیل سے مراد وہ مجسمے اور تصویریں ہیں جن کی پرستش آپ کے والد اور آپ کے خاندان اور قوم کے لوگ کرتے تھے۔’ ما ہذہ التماثیل الّتی انتم لہا عٰکفون. قالوا وجدنا اٰٰبآئنا لہا عٰبدین‘ (یہ کیا مورتیں ہیں جن پر تم دھرنا دیے بیٹھے ہو ! انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے تو اپنے باپ دادا کو انھی کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے)کے الفاظ سے واضح ہے کہ آپ کی قوم اور اس کی گزشتہ نسلیں ان تماثیل کو معبود سمجھتی اور ان کی عبادت کرتی تھیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تماثیل کی پرستش کو ایک کھلی ہوئی گمراہی قرار دیا اوران کے قلب و ذہن کو جھنجوڑتے ہوئے فرمایاکہ تم پر افسوس ہے کہ تم ان پتھروں کی عبادت کرتے ہو جو نہ نفع دینے والے ہیں اور نہ نقصان پہنچانے والے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ یہ آیات نہایت صراحت کے ساتھ اس بات کو بیان کر رہی ہیں کہ ’ھذہ التماثیل‘ سے مراد اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے جانے والے بت اور ان کی شبیہیں اور تصویریں ہیں۔ سورۂ مریم میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا وہ خطاب نقل ہوا ہے جو آپ نے اپنے والد سے فرمایا تھا۔ اس سے بھی اسی بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ اللہ کے اس برگزیدہ پیغمبرنے تماثیل کو نہیں، بلکہ ان کی پرستش کو شنیع ٹھہرایا۔ارشاد فرمایا ہے:

اِذْ قَالَ لِأَبِیْہِ یَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَالَا یَسْمَعُ وَلَا یُبْصِرُ وَلَا یُغْنِی عَنکَ شَیْءًا... یَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطَانَ إِنَّ الشَّیْطَانَ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا . (مریم ۱۹: ۴۲۔۴۶)
’’یاد کرو جب اس نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ، آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں، جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں اور نہ کچھ آپ کے کام آنے والی ہیں ۔ ... اے میرے باپ ، شیطان کی بندگی نہ کیجیے، شیطان خداے رحمان کا بڑا نافرمان ہے۔‘‘

مولانا امین احسن اصلاحی ان آیات کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ آخر اپنے ہی ہاتھوں کی گھڑی ہوئی ان پتھر کی مورتوں کو معبود مان کر ان کی پوجا کرنے کا کیا تک ہے ؟ کسی کو معبود بنا لینا کوئی شوق اور تفریح کی چیز نہیں ہے ۔ اس کا تعلق تو انسان کی سب سے بڑی احتیاج سے ہے ۔ انسان خدا کو اس لیے مانتا اور اس کی عبادت کرتا ہے کہ وہ اس کی دعا و فریاد کو سنتا ، اس کے دکھ درد کو دیکھتا اور اس کی ہر شکل میں اس کی دست گیری کرتا ہے۔ آخر یہ آپ کے اپنے ہی ہاتھوں کی گھڑی ہوئی مورتیں جو نہ سنتی ہیں ، نہ دیکھتی ہیں ، نہ آپ کے کچھ کام آ سکتی ہیں ، کس مرض کی دوا ہیں کہ آپ ان کے آگے ڈنڈوت کرتے ہیں ۔ یہ گویا شرک کے بدیہی باطل ہونے کی دلیل ہے کہ اس کے باطن سے قطع نظر اس کا ظاہر ہی شہادت دیتا ہے کہ یہ کھلی ہوئی سفاہت اور عقل و فطرت سے بالکل بے جوڑ چیز ہے ۔ ... شیطان کو سب سے زیادہ کد اور ضد ، جیسا کہ قصۂ آدم و ابلیس سے واضح ہے، توحید کی صراط مستقیم ہی سے ہے ۔ اس نے یہ قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ذریت آدم کو اس صراط مستقیم سے برگشتہ کرنے کے لیے اپنا پورا زور لگا دے گا اور ان کو شرک میں مبتلا کر کے چھوڑے گا ۔ خداے رحمان کے ایسے کھلے ہوئے باغی کی ایسی وفادارانہ اطاعت درحقیقت اس کی عبادت ہے اور بدقسمت ہے وہ انسان جو خدا کو چھوڑ کر شیطان کی عبادت کرے۔‘‘ (تدبر قرآن۴/ ۶۵۸)

اس تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا منفی تبصرہ ان تماثیل کے بارے میں ہے جنھیں ان کی قوم نے معبود بنا رکھا تھا اور اس بنا پر وہ شرک کا بدترین مظہر تھیں۔ چنانچہ آپ کا اظہار برات درحقیقت تماثیل سے نہیں، بلکہ شرک سے ہے ۔ سورۂ انعام میں جہاں یہ مکالمہ نقل ہو ا ہے، وہاں �آپ کا یہ فرمان بھی مذکور ہے کہ:میں ان چیزوں سے بری ہوں جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو۔ اور میں تو مشرکوں میں سے نہیں ہوں:

قَالَ یَا قَوْمِ إِنِّی بَرِیءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ. اِنِّی وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیفًا وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ . (الانعام۶: ۷۸۔۷۹)
’’اس نے (اپنی قوم سے ) کہا کہ میری قوم کے لوگو،میں ان چیزوں سے بری ہوں جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو۔ میں نے تو اپنا رخ بالکل یک سو ہو کر اس کی طرف کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں تو مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘

سورۂ صافات میں بھی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اس واقعے کا حوالہ آیا ہے۔ اس موقع پر بھی تماثیل کی پرستش کرنے کی شناعت بیان کی گئی ہے:

قَالَ أَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ. وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ.(۳۷: ۹۵۔۹۶)
’’اس نے کہا: کیا تم لوگ اپنے ہی ہاتھوں گھڑی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو! اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تم کو بھی اور ان چیزوں کو بھی جن کو تم بناتے ہو۔‘‘

مولانا امین احسن اصلاحی ان آیات کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’انھوں نے فرمایا کہ شامت زدو ! تم اپنے ہی ہاتھوں کی گھڑی ہوئی، لکڑی اور پتھر کی مورتوں کی پوجا کرتے ہو! اللہ کی پوجا تو اس لیے کی جاتی ہے کہ اس نے ہم کو پیدا کیا ہے ، لیکن تمھاری عقل اس طرح ماری گئی ہے کہ تم جن کو خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو ، انھی کی پوجا کرتے ہو۔ گویااپنے خالقوں کے خالق تم خود ہو۔ یاد رکھو کہ اللہ ہی ہے جس نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور ان لکڑیوں اور پتھروں کو بھی پیدا کیا ہے جن سے تم اپنے معبودوں کو تراشتے ہو اور ان جنات و ملائکہ کو بھی پیدا کیا ہے جن کے تم پیکر تراشتے ہو۔‘‘ (تدبر قرآن۶/ ۴۸۲)

لات، منات اور عزیٰ کی تماثیل کے بارے میں مشرکانہ عقائد

أَفَرَأَیْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزّٰی. وَمَنَاۃَ الثَّالِثَۃَ الْأُخْرَی. أَلَکُمُ الذَّکَرُ وَلَہُ الْأُنثٰی. تِلْکَ إِذًا قِسْمَۃٌ ضِیزٰی. إِنْ ہِیَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّیْتُمُوہَا أَنتُمْ وَآبَاؤُکُمْ مَّا أَنزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنْ یَتَّبِعُوْنَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی الْأَنْفُسُ وَلَقَدْ جَاءَ ہُمْ مِّنْ رَّبِّہِمُ الْہُدٰی... اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلآءِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْاُنْثٰی. وَمَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْءًا. فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰی عَنْ ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا.(النجم۵۳: ۱۹۔۲۳، ۲۷۔۲۹)
’’بھلا، کبھی غور کیا ہے لات اور عزیٰ اور منات پر جو تیسری اور درجہ کے اعتبار سے دوسری ہے! تم اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہو اور اس کے لیے بیٹیاں! یہ تو بڑی ہی بھونڈی تقسیم ہے! یہ محض نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں، اللہ نے ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یہ لوگ محض گمان اور نفس کی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے نہایت واضح ہدایت آچکی ہے...جولوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انھی نے فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پررکھ چھوڑے ہیں۔ حالانکہ اس باب میں ان کو کوئی علم نہیں۔ وہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں اورگمان کسی درجے میں بھی حق کا بدل نہیں۔ تو تم ان لوگوں سے اعراض کرو جنھوں نے ہماری یاد دہانی سے اعراض کیا اور جن کا مطلوب دنیا کی زندگی ہی ہے۔‘‘

لات، منات اور عزیٰ قریش کی مقبول ترین تماثیل تھیں۔ یہ عرب میں مختلف مقامات پر نصب تھیں۔ اہل عرب ان کی پوجا کرتے ، ان کے سامنے نذر ونیاز پیش کرتے اور ان کے تقرب کے لیے انھی کی ساخت پر مجسمے تراش کر اورانھی کی شبیہ پر تصویریں بنا کر اپنے گھروں میں رکھتے تھے۔ مشرکین عرب کے نزدیک یہ درحقیقت فرشتوں کے بت تھے۔ فرشتے ان کے خیال میں اللہ کی بیٹیاں تھے۔ان کے بارے میں وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اگر وہ ان کی عبادت کریں گے تو یہ آخرت میں اللہ کے حضورمیں ان کی سفارش کریں گی۔قرآن مجید نے ان کی ان خرافات کو ہر لحاظ سے ناجائز قرار دیا اور واضح کیا کہ ان تماثیل کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اوریہ لات، منات، عزیٰ اور دوسرے بت تو محض نام ہیں جو ان کے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں۔ ان کی پرستش کرنے والے درحقیقت اپنے مشرکانہ مذہب کی اساس بے بنیاد گمانوں پر قائم کیے ہوئے ہیں جن کی حق کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی ان تماثیل کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’یہ تینوں فرشتوں کے بت تھے۔ فرشتوں کی نسبت مشرکین عرب کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی چہیتی بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ہر بات مانتا ہے اس وجہ سے وہ اپنے پجاریوں کو اس دنیا میں بھی رزق و اولاد دلواتی ہیں اور اگر آخرت ہوئی تو وہاں بھی یہ ان کو بخشوا لیں گی۔ خاص طور پر ان تینوں دیویوں کا ان کے ہاں بڑا مرتبہ تھا۔ ان کی سفارش بے خطا سمجھی جاتی تھی۔ ان کی نسبت ان کا عقیدہ تھا کہ ’ تلک الغرانیق العلیٰ وان شفاعتہن لاترتجیٰ ‘ ’’یہ بڑے مرتبے کی دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی قبولیت کی پوری امید ہے۔‘‘
اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے کہ قبائل عرب میں سے کون ان میں سے کس کو پوجتا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ کسی خاص قبیلہ کو ان میں سے کسی ایک کے ساتھ کچھ زیادہ خصوصیت رہی ہو ، لیکن ان کی عظمت تمام مشرکین کے نزدیک یکساں مسلم تھی۔ قریش نے سارے عرب پر اپنی سیاسی ومذہبی پیشوائی کی دھاک جمائے رکھنے کے لیے تمام دیویوں دیوتاؤں کی مورتیاں خانۂ کعبہ میں بھی جمع کر چھوڑی تھیں۔ ان تینوں دیویوں کے پجاریوں کی تعداد چونکہ سارے عرب میں سب سے زیادہ تھی ، اس وجہ سے قریش بھی ان کی سب سے زیادہ تعظیم کرتے تھے۔
قرآن کے بیان سے یہ بات بھی واضح ہے کہ یہ تینوں دیویاں اس اعتبار سے اگرچہ ایک ہی زمرہ سے تعلق رکھنے والی تھیں کہ یہ سب عالی مرتبہ خیال کی جاتی تھیں ، تاہم ان میں باہم فرق مراتب بھی تھا۔ لات اور عزیٰ کا مرتبہ سب سے اونچا تھا۔ منات اگرچہ زمرہ میں انھی کے اندر شمار ہوتی تھی ، لیکن مرتبے کے لحاظ سے یہ ان سے فروتر تھی۔‘‘(تدبر قرآن۸/ ۶۱)

ان دیویوں کے ساتھ عربوں کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحی نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ جزا و سزا سے بچنے کا آسان راستہ ہے جو انھوں نے اپنے تئیں دریافت کر رکھا تھا۔ لکھتے ہیں:
’’ان دیویوں کے حق میں ظاہر ہے کہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود نہیں تھی، لیکن جزا اور سزا کی ہر خلش سے مامون کر دینے کے لیے شیطان نے ان مشرکین کو یہ فریب دیا کہ فرشتے خدا کی چہیتی بیٹیاں ہیں۔ خاص طور پر اس کی فلاں اور فلاں بیٹیاں اس کو بہت محبوب ہیں۔ وہ ان کی ہر بات سنتا اور مانتا ہے۔ اس کے حضور میں ان کی ہر سفارش تیر بہدف ہے ، اس وجہ سے جو ان کی جے پکاریں گے اور ان کے تھانوں پر قربانی پیش کر دیا کریں گے، ان کو وہ خدا سے سفارش کر کے، اس دنیا میں بھی رزق و اولاد سے بہرہ مند کرائیں گی اور اگر آخرت کا کوئی مرحلہ پیش آیا تو وہاں بھی ان کو بڑے درجے دلوائیں گی۔ دیکھیے دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کی کیسی آسان راہ نکل آئی اور آخرت کے حساب وکتاب اور جزا و سزا کا ہر خطرہ کیسی آسانی سے دور ہو گیا ۔‘‘ (تدبر قرآن ۸/۶۳)
تماثیل کے بارے میں مشرکانہ عقائد کی حقیقت

فَتَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ . اَیُشْرِکُوْنَ مَالاَ یَخْلُقُ شَیْءًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ. وَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَھُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ. وَإِنْ تَدْعُوْہُمْ إِلَی الْہُدٰی لاَ یَتَّبِعُوْکُمْ سَوَآءٌ عَلَیْکُمْ أَدَعَوْتُمُوْہُمْ أَمْ أَنتُمْ صَامِتُونَ. إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ أَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْہُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ. اَلَھُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِھَآ اَمْ لَھُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِھَآ اَمْ لَھُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِھَآ اَمْ لَھُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآءَکُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ. اِنَّ وَلِیِّ اللّٰہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ.وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَکُمْ وَلَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ. وَاِنْ تَدْعُوْھُمْ اِلَی الْھُدٰی لَا یَسْمَعُوْا وَتَرٰھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ.(اعراف ۷ : ۱۹۰ ۔ ۱۹۸)
’’اللہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ کیا وہ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتیں ، بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور وہ نہ ان کی کسی قسم کی مدد کر سکتی ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کر سکتی ہیں۔ اور اگر تم ان کو رہنمائی کے لیے پکارو وہ تمھارے ساتھ نہ لگیں گی، یکساں ہے خواہ تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو۔ جن کو تم اللہ کے ما سوا پکارتے ہو یہ تو تمھارے ہی جیسے بندے ہیں۔ پس ان کو پکار دیکھو، وہ تمھیں جواب دیں اگر تم سچے ہو۔ کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں، کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں، کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں، کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں؟ کہہ دو، تم اپنے شریکوں کو بلاؤ، میرے خلاف چالیں چل دیکھو اور مجھے مہلت نہ دو۔ میرا کار ساز اللہ ہے جس نے کتاب اتاری ہے اور وہ نیکوکاروں کی کارسازی فرماتا ہے اور جن کو تم اللہ کے ماسوا پکارتے ہو ، نہ وہ تمھاری ہی مدد کر سکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کر سکتے ہیں اور اگر تم ان کو رہنمائی کے لیے پکارو ، وہ تمھا ری بات نہ سنیں گے اور تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ تمھاری طرف تاک رہے ہیں ، لیکن انھیں سوجھتا کچھ بھی نہیں۔‘‘

ان آیات سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

اولاً، اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے پاک اور برتر ہے جنھیں مشرکین اس کی ذات، صفات اور حقوق میں شریک کر کے بیان کرتے ہیں۔جو لوگ اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیںیا اس کے ہاں اولاد کا تصور رکھتے ہیں ، وہ اصل میں اس کی صفات الوہیت ، شان یکتائی، قدرت، بے نیازی اور اس کے بے پایاں علم کی نفی کا اظہار کرتے اور اس طرح اس کی ذات و صفات کی اہانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ۷؂ مولاناامین احسن اصلاحی لکھتے ہیں :
’’خدا کی صفات کے ساتھ ایسی صفات کا جوڑ ملاناجو اس کی بنیادی صفات کو باطل کر دیں، بالکل خلاف عقل ہے۔ شرک، جس نوعیت کا بھی ہو، تمام صفات کمال کی نفی کر دیتا ہے، اس وجہ سے خدا ایسی تمام نسبتوں اور شرکتوں سے منزہ اور ارفع ہے۔‘‘ (تدبر قرآن۳/ ۴۰۸)

ثانیاً، یہ ایسی چیزوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو خالق نہیں، بلکہ انھی کی طرح مخلوق ہیں۔یعنی یہ کس قدر بے بنیاد بات ہے کہ خدا کی خدائی میں ان چیزوں کو شریک مانا جائے جو کچھ بھی تخلیق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، بلکہ اللہ کی دیگر مخلوقات ہی کی طرح اس کی مخلوق ہیں۔خدا کو جب مدد کے لیے پکارا جائے تو وہ پکارنے والے کی مدد کرتا ہے، مگر یہ کسی کی مدد تو کیا کریں گی ، خود اپنی مدد کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتیں۔ چنانچہ ان کو پکارنا اور نہ پکارنا بالکل یکساں ہے۔یہ فقط مٹی اور پتھر ہیں اور ان صلاحیتوں سے بھی محروم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے گڑگڑانے والوں کو دے رکھی ہیں۔ نہ ان کے پاؤں ہیں کہ چل پھر سکیں، نہ ہاتھ ہیں کہ کسی کو اپنی مرضی کے خلاف عمل کرنے سے روک سکیں، نہ ان کی آنکھیں ہیں کہ نذر و نیاز کو دیکھ سکیں اور نہ کان ہیں کہ آہ و پکار کو سن سکیں۔ سورۂ حج میں اسی بات کو دوسرے انداز میں بیان فرمایا ہے:

یَا أَیُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہُ إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَخْلُقُوْا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہُ وَإِنْ یَسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَیْءًا لَّا یَسْتَنقِذُوْہُ مِنْہُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ. مَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ إِنَّ اللّٰہَ لَقَوِيٌّ عَزِیْزٌ .(الحج۲۲: ۷۳۔۷۴)
’’ لوگو ! ایک تمثیل بیان کی جاتی ہے تو اس کو توجہ سے سنو! جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، وہ ایک مکھی بھی پیدا کر سکنے پر قادر نہیں ہیں اگرچہ وہ اس کے لیے سب مل کر کوشش کریں۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو وہ اس سے اس کو بچا بھی نہیں پائیں گے۔ طالب اور مطلوب، دونوں ہی ناتوان! انھوں نے اللہ کی، جیسا کہ اس کا حق ہے ، قدر نہیں پہچانی! بے شک، اللہ قوی اورغالب ہے۔‘‘

سورۂ اعراف کی مذکورہ آیات میں قرآن مجید نے ایک طرف ان مخلوقات کی خدا کے مقابلے میں حیثیت کو واضح کیا ہے جن کو اللہ کا شریک سمجھا جاتا تھا اور دوسری طرف ان پتھروں اور مورتوں کی بے چارگی نمایاں کی ہے جنھیں ان مخلوقات کے قالب قرار دے کر پوجا جاتا تھا۔ اس طرح قرآن نے بت پرستی کے ان دونوں اجزا کی اصلیت کو پوری طرح واضح کر دیا ہے۔

_____

 

بائیبل اور مصوری کی شناعت

بائیبل میں مصوری کی شناعت کا ذکر اس کے مشرکانہ پہلو ہی سے ہوا ہے۔ اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کنعان اور بابل کے باشندے پتھروں کو تراش کر یا کسی دھات مثلاً سونے کو ڈھال کر مورتیاں بناتے اور ان کی پرستش کرتے تھے۔ وہ ان پر بھروسا کرتے اور ان کے آگے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ اس کتاب مقدس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے نہایت سختی کے ساتھ ایسی مورتیں بنانے سے منع فرمایا اور ان کے بنانے والوں اور ان کو پوجنے والوں، دونوں کے لیے بربادی کا اعلان کیا ۔

مشرکانہ مورتیں اور بت بنانے والوں کے لیے بربادی کا اعلان

یرمیاہ میں اہل بابل کو جنھوں نے بنی اسرائیل کو اسیر بنا رکھا تھا،تنبیہ کرتے ہوئے اس ملک کو ’’تراشی ہوئی مورتوں کی مملکت‘‘ کہا گیا ہے اور ان مورتوں کو باطل قرار دے کر ان کی بربادی کا اعلان کیا گیا ہے:

’’رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ بنی اسرائیل اور بنی یہوداہ دونوں مظلوم ہیں اور ان کو اسیر کرنے والے ان کو قید میں رکھتے ہیں۔ اور چھوڑنے سے انکار کرتے ہیں ۔ ان کا چھڑانے والا زور آور ہے رب الافواج اس کا نام ہے۔ وہ ان کی پوری حمایت کرے گاتاکہ زمین کو راحت بخشے اور بابل کے باشندوں کو پریشان کرے... اس کی نہروں پر خشک سالی ہے وہ سوکھ جائیں گی کیونکہ وہ تاشی ہوئی مورتوں کی مملکت ہے اور وہ بتوں پر شیفتہ ہیں... ہر آدمی حیوان خصلت اور بے علم ہو گیا ہے۔ سنار اپنی کھودی ہوئی مورت سے رسوا ہے ، کیونکہ اس کی ڈھالی ہوئی مورت باطل ہے۔ ان میں دم نہیں۔ وہ باطل فعلِ فریب ہیں۔ سزا کے وقت برباد ہو جائیں گی۔‘‘ (یرمیاہ۵۰: ۳۳۔۳۴،۳۹، یرمیاہ ۵۱: ۱۸۔۱۹)

مورتوں پر بھروسا کرنے والوں کے لیے شرمندگی

یسیعاہ میں بیان ہوا ہے کہ جو لوگ ان مورتوں اور بتوں پر ایمان رکھتے اور انھیں اپنے معبود کا درجہ دیتے ہیں، انھیں بالآخر سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا:

’’جو کھودی ہوئی مورتوں پر بھروسا کرتے اور ڈھالے ہوئے بتوں سے کہتے ہیں تم ہمارے معبود ہو وہ پیچھے ہٹیں گے اور بہت شرمندہ ہوں گے۔‘‘ (یسیعاہ۴۲: ۱۷)

عبادت کی غرض سے مورت بنانے کی ممانعت

احبار اور بعض دوسرے مقامات پر بنی اسرئیل کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان کی سلطنت میں بت پرستی پر سخت پابندی ہونی چاہیے اور عبادت کی غرض سے کوئی مورت اور شبیہ نہ بنائی جائے:

’’تم اپنے لیے بت نہ بنانااور نہ کوئی تراشی ہوئی مورت یا لاٹ اپنے لیے کھڑی کرنااور نہ اپنے ملک میں کوئی شبیہ دار پتھر رکھناکہ اسے سجدہ کرواس لیے کہ میں خداوند تمھارا خداہوں۔‘‘(ا حبار ۲۶: ۱۔ ۲)

بت پرستی سے ممانعت خدا کی غیرت کا تقاضا

تورات کے بعض مقامات پر جہاں مورتیں بنانے اور خداکے ماسوا کسی کو معبود بنانے کا ذکر ہوا ہے، وہاں ان مشرکانہ افعال پر تنبیہ کرتے ہوئے خدا کی صفت غیرت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ شرک اختیار کرنادرحقیقت توحیدکی عمارت کو منہدم کرنے کی سازش اور اللہ کی غیرت کو للکارنے کے مترادف ہے:

’’تانہ ہوکہ تم بگڑ کر کسی شکل یا صورت کی کھودی ہوئی مورت اپنے لیے بنا لوجس کی شبیہ کسی مرد یا عورت یا زمین کے کسی حیوان یا ہوا میں اڑنے والے پرندے یا زمین کے رینگنے والے جان دار یا مچھلی سے جو زمین کے نیچے پانی میں رہتی ہے ملتی ہو۔ یا جب تو آسمان کی طرف نظر کرے اور تمام اجرام فلکی یعنی سورج اور چاند اور تاروں کو دیکھے توگمراہ ہو کر انھی کو سجدہ اور انھی کی عبادت کرنے لگے جن کو خداوند تیرے خدا نے رویِ زمین کی سب قوموں کے لیے رکھا ہے ... سو تم احتیاط رکھو تانہ ہو کہ تم خداوند اپنے خدا کے اس عہد کو جو اس نے تم سے باندھا ہے بھول جاؤ اور اپنے لیے کسی چیز کی شبیہ کی کھودی ہوئی مورت بنا لو جس سے خداوند تیرے خدا نے تجھ کو منع کیا ہے، کیونکہ وہ خداوند تیرا خدا بھسم کرنے والی آگ ہے۔ وہ غیور خدا ہے۔‘‘( استثنا ۴: ۱۶ ۔۲۰،۲۴۔ ۲۵)

’’میرے حضور تو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔
تو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پریا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔تو ان کے آگے سجدہ نہ کرنااور نہ ان کی عبادت کرنا کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں۔‘‘ (خروج۲۰: ۳ ۔۶)

مصور پر لعنت

تورات میں ایسے آدمی پر لعنت کی گئی ہے جو مورت بنا کر اسے پرستش کی غرض سے کسی مقام پر نصب کرے۔ استثنا میں ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے لاویوں کو یہ حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کے سب لوگوں سے کہیں:

’’لعنت اس آدمی پر جوکاری گری کی صنعت کی طرح کھودی ہوئی یا ڈھالی ہوئی مورت بنا کر جو خداوند کے نزدیک مکروہ ہے اس کو کسی پوشیدہ جگہ میں نصب کرے ۔‘‘ (استثنا۲۷: ۱۵)

بتوں کی بے وقعتی

زبور میں بتوں کی بے ثباتی اور بے وقعتی کو نہایت دل نواز انداز میں بیان کیا گیا ہے:

’’قومیں کیوں کہیں
اب ان کا خدا کہاں ہے؟
ہمارا خدا تو آسمان پر ہے۔
اس نے جو کچھ چاہا وہی کیا۔
ان کے بت چاندی اور سونا ہیں
یعنی آدمی کی دستکاری۔
ان کے منہ ہیں پر وہ بولتے نہیں ۔
آنکھیں ہیں پر وہ دیکھتے نہیں۔
ان کے کان ہیں پر وہ سنتے نہیں۔
ناک ہیں پر وہ سونگھتے نہیں۔
ان کے ہاتھ ہیں پر وہ چھوتے نہیں۔
پاؤں ہیں پر وہ چلتے نہیں
اور ان کے گلے سے آواز نہیں نکلتی۔
ان کے بنانے والے ان ہی کی مانند ہو جائیں گے۔
بلکہ وہ سب جو ان پر بھروسا رکھتے ہیں۔
اے اسرائیل! خداوند پر توکل کر۔
وہی ان کی کمک اور ان کی سپر ہے۔
اے ہارون کے گھرانے! خداوند پر توکل کرو۔
وہی ان کی کمک اور ان کی سپر ہے۔
اے خداوند سے ڈرنے والو! خداوند پر توکل کرو۔
وہی ان کی کمک اور ان کی سپر ہے۔ ‘‘(زبور ۱۱۵: ۳۔۸)

[باقی]

__________

۶؂ لقمان ۳۱: ۱۳۔
۷؂ ماخوذ از تدبر قرآن۳/ ۳۹۹۔




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List