Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
ایمان و اسلام کے منافی (۱) | اشراق
Font size +/-

ایمان و اسلام کے منافی (۱)

تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

۱۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ:۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیْسَ بِاللَّعَّانِ، وَلَا الطَّعَّانِ، وَلَا الْفَاحِشِ، وَلَا الْبَذِيْءِ‘‘.
۲۔ عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۲ ’’لَا وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ، لَا وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ، لَا وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ‘‘، قَالُوْا: وَمَنْ ذَاکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ’’جَارٌ لَا یَأْمَنُ جَارُہُ بَوَاءِقَہُ‘‘، قِیلَ: وَمَا بَوَاءِقُہُ؟ قَالَ: ’’شَرُّہُ‘‘.۳
۳۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:۴ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’مَا یُؤْمِنُ مَنْ بَاتَ شَبْعَانَ وَجَارُہُ طَاوٍ إِلٰی جَنْبِہِ‘‘.۵
۴۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۶ ’’وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ۷ [بِاللّٰہِ]۸حَتّٰی یُحِبَّ لِأَخِیْہِ۹ [وَلِجَارِہِ]۱۰ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہِ مِنَ الْخَیْرِ‘‘.۱۱
۵۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:۱۲ ’’لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ۱۳ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ مَالِہِ، وَأَہْلِہِ،۱۴ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ‘‘.
۶۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:۱۵ ’’مَنْ لَمْ یَأْخُذْ مِنْ شَارِبِہِ، فَلَیْسَ مِنَّا‘‘.۱۶
۷۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:۱۷ ’’مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا، وَیَعْرِفْ حَقَّ کَبِیْرِنَا فَلَیْسَ مِنَّا‘‘.۱۸
۸۔ عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۱۹ ’’مَنْ خَبَّبَ خَادِمًا عَلٰی أَہْلِہِ فَلَیْسَ مِنَّا، وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَۃً عَلٰی زَوْجِہَا فَلَیْسَ مِنَّا‘‘.۲۰
۹۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:۲۱ ’’مَنْ حَمَلَ۲۲ عَلَیْنَا السِّلاَحَ۲۳ فَلَیْسَ مِنَّا ۲۴ [وَلَا رَصَدَ بِطَرِیْقٍ]‘‘.۲۵
۱۰۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:۲۶قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’مَنْ لَبِسَ الحَرِیْرَ وشَرِبَ فِي الفِضَّۃِ فَلَیْسَ مِنَّا‘‘.

۱۔عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان نہ دوسروں کو لعن طعن کر نے والا ہوتا ہے، نہ بد خلق اور نہ فحش گوئی کرنے والا۔۱
۲۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں، خدا کی قسم، مومن نہیں ہوسکتا۔۲ نہیں، خدا کی قسم، مومن نہیں ہوسکتا۔نہیں، خدا کی قسم، مومن نہیں ہوسکتا۔ لوگوں نے پوچھا:کون، یا رسول اللہ؟ فرمایا:وہ جس کے ہم سایے اُس کے ’بوائق‘ سے محفوظ نہ ہوں۔پوچھا گیا: یہ ’بوائق‘کیا ہیں؟ فرمایا:اُس کا شر۔
۳۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان نہیں لایا وہ شخص جو پیٹ بھر کر سوئے اور اُس کا ہم سایہ اُس کے پہلو میں بھوکا ہو۔۳
۴۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، تم میں سے کوئی اللہ کا سچا ماننے والا نہیں ہوسکتا ، جب تک اپنے بھائی اور اپنے پڑوسی کے لیے وہی بھلائی نہ چاہے، جو اپنے لیے چاہتا ہے۴۔
۵۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی سچا مومن نہیں ہوسکتا ، جب تک میں اُسے اُس کے مال، اہل وعیال اور دوسرے سب لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہوجاؤں۵۔
۶۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے اپنی مونچھیں نہیں ترشوائیں، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔۶
۷۔عبد اللہ بن عمرورضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہیں کی اور بڑوں کا حق نہیں پہچانا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
۸۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے کسی خادم کو اُس کے گھر والوں سے بگاڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس نے کسی عورت کو اُس کے شوہر سے بگاڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔۷
۹۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اُٹھائے،۸وہ ہم میں سے نہیں ہے اور وہ بھی جو رہزنی کے لیے گھات لگا کر بیٹھے۔
۱۰۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے ریشم پہنا اور چاندی کے برتنوں میں پانی پیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔۹

ترجمے کے حواشی

۱۔ اسلام کا مقصد ہی تطہیر اخلاق ہے۔ اُس میں داخل ہونے کے بعد بھی کوئی شخص اگر دوسروں کو لعن طعن کرتا ہے یا بدخلق اور فحش گو ہے تو اِس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ در حقیقت اسلام میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اُس کے لیے اسلام محض ایک نام ہے جو اُس نے اپنے لیے اختیار کر لیا ہے۔
۲۔یعنی مومن ہوکر وہ رویہ اختیار نہیں کرسکتا جو آگے بیان ہوا ہے، اِس لیے کہ ایمان واسلام کی حقیقت ہی تواضع اور فروتنی ہے۔اِس کے ساتھ کسی شخص سے یہ توقع نہیں ہوسکتی کہ وہ دوسروں کے لیے باعث آزار ہوگا۔
۳۔مطلب یہ ہے کہ اگرچہ مسلمان ہوگیا ہے، لیکن حقیقت میں ایمان نہیں لایا، اِس لیے کہ ایمان کے بعد دوسروں کی بھوک، پیاس اور تکلیف اور مصیبت کا جو احساس ایک بندۂ مومن کو ہونا چاہیے، یہ اُس کے منافی ہے۔
۴۔ یہ جامع ترین تعبیر ہے جس نے تمام اخلاقیات کا احاطہ کر لیا ہے۔
۵۔ یہ چیز اُس وقت واضح ہوتی ہے، جب ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم یا آپ کی ہدایت ہو اور دوسری طرف مال ومنال، اہل وعیال یا دوسرے متعلقین کی محبت کا کوئی مطالبہ سامنے آجائے۔ آدمی اگر اُس وقت آپ کے حکم اور آپ کی ہدایت کو مقدم نہ رکھے تو اِس کے صاف معنی یہ ہوں گے کہ اُس کو آپ سے زیادہ یہ چیزیں محبوب ہیں ۔ ایمان واسلام کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ یہ چیزیں محبوب نہ ہوں ، بلکہ صرف یہ ہے کہ خدا کے رسول کے حکم اورآپ کی ہدایت سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔
۶۔ یعنی اِس کا اہل نہیں ہے کہ اُسے مسلمان کہا جائے۔ یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ آدمی اپنی مونچھیں ایک خاص حد سے زیادہ بڑھالے تو اُس کی وضع متکبرین کی سی ہوجاتی ہے، جن سے ادنیٰ مشابہت بھی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔ چنانچہ ایمان واسلام کا یہ تقاضاقرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر بیان ہوا ہے کہ بندۂ مومن کو اپنے ظاہر وباطن، دونوں کے اعتبار سے متواضع ہونا چاہیے۔ اللہ کے پیغمبروں نے اِسی بنا پر اپنے ماننے والوں میں یہ چیز ایک سنت کے طور پر جاری کردی ہے کہ وہ اپنی مونچھیں ہمیشہ پست رکھیں گے۔
۷۔ اِس لیے کہ گھر اور خاندان ہی تمدن کی بنیاد ہے۔ جو شخص اِس کی بربادی کے درپے ہوتا ہے، وہ درحقیقت اِس دنیا کے لیے خدا کی اسکیم کے خلاف بغاوت کا ارتکاب کرتا ہے جو کسی مسلمان سے متصور نہیں ہوسکتی۔
۸۔یہ نظم اجتماعی کے خلاف خروج اور بغاوت کی تعبیر ہے۔قرآن میں اِس کے لیے فساد فی الارض کی تعبیر اختیار کی گئی ہے، جو ایک بد ترین جرم ہے اور جس کی توقع کسی مسلمان سے نہیں کی جاسکتی۔ چنانچہ یہ معلوم ہے کہ اسلام میں کسی اچھے سے اچھے مقصد کے لیے بھی اِس کی اجازت نہیں دی گئی ۔
۹۔یہ،ظاہر ہے کہ دولت کی نمایش کے لیے کیا جاتا تھا۔ اللہ کے پیغمبر نے اِس کو بھی متکبرین کا طریقہ اور بنا بریں ایمان واسلام کے منافی قرار دیا۔

 

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۳۹۴۸سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ الفاظ وتراکیب کے معمولی فرق کے ساتھ یہ جن مراجع میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں:مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۰۳۳۸۔ مسند احمد، رقم ۳۸۳۹۔ سنن ترمذی، رقم ۱۹۷۷۔ مسند بزار، رقم ۱۵۲۳، ۱۹۱۴، ۱۹۱۵، ۳۲۰۷۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۵۳۶۹، ۵۳۷۹۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۱۸۱۴۔المعجم ا لکبیر، طبرانی، رقم ۱۰۴۸۳۔ مستدرک حاکم ، رقم۲۹،۳۰۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۳۳۷۴، ۲۱۱۴۰۔ معرفۃ السنن والآثار،بیہقی، رقم۲۰۲۱۸۔
۲۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۸۴۳۲سے لیا گیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ مضمون ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ الفاظ واسلوب کے معمولی تفاوت کے ساتھ یہ روایت جن مراجع میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں:مسند طیالسی، رقم ۱۴۳۷۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۴۲۲۔ مسند احمد، رقم ۷۸۶۵، ۷۸۷۸، ۱۶۳۷۲، ۲۷۱۶۲۔ صحیح بخاری، رقم۶۰۱۶۔ مسند بزار،رقم۸۵۱۳، ۸۵۱۵۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۴۸۷۔ مستدرک حاکم ، رقم۷۲۹۹، ۷۳۰۰۔
۳۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۵۴۲۲ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ بات ان الفاظ میں روایت ہوئی ہے: ’مَا ہُوَ بِمُؤْمِنٍ مَنْ لَمْ یَأْمَنْ جَارُہُ بَوَائِقَہُ‘ ’’وہ شخص مومن نہیں ہے جس کا ہم سایہ اُس کے شر سے محفوظ نہیں‘‘۔ مستدرک حاکم ، رقم ۷۳۰۰میں اُنھی سے یہ تعبیر بھی نقل ہوئی ہے: ’لَیْسَ بِمُؤْمِنٍ مَنْ لَا یَأْمَنُ جَارُہُ غَوَائِلَہُ‘۔ معنی کے لحاظ سے’ بَوَائِق‘ اور ’غَوَائِل‘، دونوں مترادف ہیں۔
۴۔ اِس روایت کا متن مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۰۳۵۹سے لیا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔ اس کے مراجع یہ ہیں:مسند بزار، رقم ۷۴۲۹۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۲۷۴۱۔ مستدرک حاکم، رقم۷۳۰۷۔ فوائد تمام، رقم ۱۲۶۲۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۹۶۶۸۔
۵۔مستدرک حاکم، رقم۷۳۰۷میں اِس روایت کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: ’لَیْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِيْ یَبِیْتُ وَجَارُہُ إِلٰی جَنْبِہِ جَائِعٌ‘ ’’ وہ شخص مومن نہیں ہے جو (اطمینان سے) سویا رہے، اور اُس کا ہم سایہ اُس کے پہلو میں بھوکا ہو‘‘۔ فوائد تمام، رقم۱۲۶۲میں اس روایت کے جو الفاظ منقول ہیں، وہ یہ ہیں:’لَیْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِيْ یَشْبَعُ، وَجَارُہُ جَائِعٌ إِلٰی جَنْبِہِ‘ ’’وہ شخص مومن نہیں ہے جو خود سیر ہو کر کھاتا ہے،جبکہ اُس کا ہم سایہ اُس کے پہلو میں بھوکا ہے‘‘۔ مسند بزار، رقم۷۴۲۹میں انس بن مالک سے یہ روایت اِس طرح نقل ہوئی ہے: ’لَیْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِيْ یَبِیْتُ شَبْعَانَ وَجَارُہُ طَاوٍ‘ ’’ وہ شخص مومن نہیں ہے جو خودسیرہوکرسوجائے، دراں حالیکہ اُس کا ہم سایہ بھوکا ہو‘‘۔ مستدرک حاکم، رقم۷۳۰۸ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’لَا یَشْبَعُ الرَّجُلُ دُوْنَ جَارِہِ‘ ’’ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آدمی خود پیٹ بھر کر کھائے اور اپنے ہم سایے کا خیال نہ رکھے‘‘۔
۶۔ اِس روایت کا متن اصلاً سنن نسائی، رقم۵۰۱۷سے لیا گیا ہے۔ اس کے راوی انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ جن مصادر میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں: مسند طیالسی، رقم۲۱۱۶۔مسند احمد، رقم۱۲۸۰۱، ۱۳۱۴۶، ۱۳۶۲۹، ۱۳۸۷۴، ۱۳۸۷۵، ۱۴۰۸۲۔ سنن دارمی، رقم۲۷۸۲۔صحیح بخاری، رقم۱۳۔صحیح مسلم، رقم۴۵۔سنن ابن ماجہ، رقم ۶۶۔ سنن ترمذی، رقم ۲۵۱۵۔سنن نسائی، رقم ۵۰۱۶، ۵۰۱۷، ۵۰۳۹۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۲۸۸۷، ۲۹۵۰، ۲۹۶۷، ۳۰۸۱، ۳۱۵۱، ۳۱۸۲، ۳۱۸۳، ۳۲۵۷۔مسند رویانی، رقم ۱۳۴۸۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۹۱۔۹۳۔ صحیح ابن حبان، رقم۲۳۴، ۲۳۵۔
۷۔بعض روایات، مثلاً مسند احمد، رقم۱۳۱۴۶میں یہاں ’أَحَدُکُمْ‘ ’’تم میں سے کوئی ‘‘کے بجاے ’عَبْدٌ‘ ’’کوئی بندہ‘‘ کا لفظ ہے۔
۸۔صحیح ابن حبان، رقم ۲۳۴۔
۹۔بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم ۱۳۸۷۵ میں یہاں ’لِأَخِیْہِ‘ ’’اپنے بھائی کے لیے‘‘ کے بجاے ’لِلنَّاسِ‘ ’’لوگوں کے لیے‘‘کے الفاظ منقول ہیں۔
۱۰۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۳۱۸۲۔
۱۱۔ بعض روایات، مثلاً صحیح ابن حبان، رقم۲۳۵میں آپ کا یہ ارشاد اِن الفاظ میں بھی نقل ہوا ہے:’لَا یَبْلُغُ عَبْدٌ حَقِیْقَۃَ الْإِیْمَانِ حَتّٰی یُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہِ مِنَ الْخَیْرِ‘ ’’کوئی بندہ ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا،جب تک کہ وہ لوگوں کے لیے ہر اُس بھلائی کو پسندنہ کرنے لگے ،جس کو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے‘‘۔
۱۲۔سنن نسائی، رقم۵۰۱۴۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔ اِس کے مراجع یہ ہیں:مسند احمد، رقم۱۲۸۱۴۔سنن دارمی، رقم۲۷۸۳۔صحیح بخاری، رقم۱۴، ۱۵۔صحیح مسلم، رقم ۴۴۔سنن ابن ماجہ، رقم۶۷۔سنن نسائی، رقم۵۰۱۳۔۵۰۱۵۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۳۰۴۹، ۳۲۵۸، ۳۸۹۵۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۹۰۔ صحیح ابن حبان، رقم۱۷۹، ۲۳۵۔
۱۳۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول بعض روایتوں، مثلاً سنن نسائی، رقم۵۰۱۵کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداے کلام میں یہاں اِن الفاظ میں قسم بھی کھائی تھی: ’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ‘ ’’اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے‘‘۔ بعض روایات، مثلاً صحیح مسلم، رقم۴۴میں یہاں ’أَحَدُکُمْ‘ ’’تم میں سے کوئی‘‘ کے بجاے ’عَبْدٌ‘ ’’کوئی بندہ‘‘ کا لفظ نقل ہوا ہے۔
۱۴۔بعض روایات، مثلاً صحیح مسلم، رقم۴۴ میں یہاں ’أَہْلِہِ‘ ’’اپنے گھر والوں سے ‘‘مقدم بیان ہوا ہے اور ’مَالِہِ‘ ’’اپنے مال سے‘‘موخر ہے۔بعض روایتوں، مثلاً صحیح بخاری، رقم۱۴میں’مِنْ مَالِہِ، وَأَہْلِہِ‘ ’’اپنے مال اور اپنے گھر والوں سے ‘‘کے بجاے ’مِنْ وَالِدِہِ وَوَلَدِہِ‘ ’’اپنے باپ اور اپنے بیٹوں سے‘‘ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ جبکہ بعض دوسری روایات، مثلاً صحیح مسلم، رقم ۴۴ میں ’وَلَدِہِ‘ کی ترکیب ’وَالِدِہِ‘ سے مقدم بیان ہوئی ہے۔
۱۵۔اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۱۹۲۷۳سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہیں۔ تعبیر کے معمولی فرق کے ساتھ یہ جن مصادر میں وارد ہوئی ہے، وہ یہ ہیں:مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۵۴۹۳۔ مسند احمد، رقم ۱۹۲۶۳۔ سنن ترمذی، رقم۲۷۶۱۔ مسند بزار، رقم ۴۳۳۲۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۱۳، ۵۰۴۷۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۱۴، ۹۲۴۸۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۴۷۷۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۵۰۳۳، ۵۰۳۵۔
۱۶۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۴۹۳میں آپ کا یہ ارشاد اِن الفاظ میں روایت ہوا ہے:’لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَأْخُذْ مِنْ شَارِبِہِ‘ ’’وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جس نے اپنی مونچھیں نہیں ترشوائیں‘‘،جبکہ بعض روایات، مثلاً السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۰۴۷ میں یہاں ’مِنْ‘ کے حرف کے بغیر ’مَنْ لَمْ یَأْخُذْ شَارِبَہُ‘ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔
۱۷۔اِس روایت کا متن سنن ابی داؤد، رقم۴۹۴۳سے لیا گیا ہے۔عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ روایت اسلوب کے معمولی فرق کے ساتھ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابو اُمامہ باہلی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔ اِس مضمون کی روایتوں کے مراجع یہ ہیں:مسند حمیدی، رقم ۵۹۷۔مسند احمد، رقم۶۷۳۳، ۶۹۳۵۔ الادب المفرد، بخاری، رقم ۳۵۳۔۳۵۶، ۳۵۸، ۳۶۳۔ سنن ترمذی، رقم۱۹۲۰۔ مستدرک حاکم، رقم ۲۰۹، ۷۳۵۳۔ معرفۃ السنن والآثار، بیہقی، رقم۲۰۸۳۵، ۲۰۸۳۶۔
۱۸۔بعض روایات، مثلاً مستدرک حاکم، رقم۲۰۹میں روایت کے آخر میں ’فَلَیْسَ مِنَّا‘ کے بجاے آغاز میں ’لَیْسَ مِنَّا‘ الفاظ بیان ہوئے ہیں۔بعض روایتوں ، مثلاً مسند احمد، رقم۶۹۳۵میں ’مَنْ لَمْ یَعْرِفْ حَقَّ کَبِیْرِنَا‘ مقدم بیان ہوا اور’وَیَرْحَمْ صَغِیْرَنَا‘کے الفاظ موخر روایت ہوئے ہیں۔سنن ترمذی، رقم ۱۹۲۰میں یہاں ’وَیَعْرِفْ حَقَّ کَبِیْرِنَا‘کے بجاے’وَیَعْرِفْ شَرَفَ کَبِیْرِنَا‘ ’’ہمارے بڑوں کے شرف کو نہیں جانا‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ الادب المفرد، بخاری، رقم۳۵۶میں ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے یہاں’وَیُجِلَّ کَبِیْرَنَا‘ ’’ہمارے بڑوں کی عزت نہیں کی ‘‘کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ جبکہ الادب المفرد، بخاری، رقم۳۵۶میں عبد اللہ بن عمرو سے یہاں ’وَیُوَقِّرْ کَبِیْرَنَا‘ ’’ہمارے بڑوں کی توقیر نہیں کی ‘‘کے الفاظ منقول ہیں۔
۱۹۔اِس روایت کا متن مسند اسحاق، رقم۱۳۴سے لیا گیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ مضمون سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور بریدہ بن صہیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوا ہے۔ اِس روایت کے مراجع یہ ہیں:مسند احمد، رقم ۹۱۵۷۔سنن ابی داؤد، رقم۲۱۷۵، ۵۱۷۰۔ مسند بزار، رقم۷۸۲۷، ۹۵۶۴، ۹۵۶۵۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۱۷۰۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۲۴۱۳۔صحیح ابن حبان، رقم۵۶۸، ۵۵۶۰، ۴۳۶۳۔ مستدرک حاکم، رقم ۲۷۹۵۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۵۸۱۳۔
۲۰۔سنن ابی داؤد، رقم۲۱۷۵ میں ہے: ’لَیْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ امْرَأَۃً عَلٰی زَوْجِہَا، أَوْ عَبْدًا عَلٰی سَیِّدِہِ‘ ’’وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جس نے کسی خاتون کو اُس کے شوہر کے خلاف یا کسی غلام کو اُس کے آقا کے خلاف بھڑکایا‘‘۔ مسند بزار، رقم ۷۸۲۷میں یہاں ’عَبْدًا‘ کے بجاے ’مَمْلُوْکًا‘کا لفظ منقول ہے۔معنی کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔سنن ابی داؤد، رقم۵۱۷۰میں یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں: ’مَنْ خَبَّبَ زَوْجَۃَ امْرِءٍ، أَوْ مَمْلُوْکَہُ فَلَیْسَ مِنَّا‘ ’’جس شخص نے کسی کی بیوی کو یا اُس کے مملوک کو اُس کے خلاف بھڑکایا، وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۱۷۰میں ہے: ’مَنْ خَبَّبَ عَبْدًا عَلٰی أَہْلِہِ فَلَیْسَ مِنَّا، وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَۃً عَلٰی زَوْجِہَا فَلَیْسَ مِنَّا‘ ’’جس نے کسی غلام کو اُس کے گھر والوں کے خلاف بھڑکایا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس نے کسی خاتون کو اُس کے شوہر کے خلاف بھڑکا یا،وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔ جبکہ صحیح ابن حبان، رقم ۵۶۸ میں یہاں ’خَبَّبَ‘ کے بجاے ’خَبَّثَ‘ کا لفظ روایت ہوا ہے۔ معنی کے لحاظ سے یہاںیہ دونوں مترادف ہیں۔
۲۱۔ اِس روایت کا متن اصلاً موطا مالک، رقم۸۶۶سے لیا گیا ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ روایت کا یہ مضمون تعبیر واسلوب کے معمولی فرق کے ساتھ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سلمہ ابن اکوع اسلمی رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوا ہے۔ اِس کے مراجع یہ ہیں:مسند طیالسی، رقم ۱۹۳۷۔ مصنف عبد الرزاق، رقم۱۸۶۸۰۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۸۹۲۷، ۲۸۹۳۰، ۲۸۹۳۱۔ مسند احمد، رقم ۴۴۶۷، ۴۶۴۹،۵۱۴۹، ۶۲۷۷، ۶۳۸۱، ۶۷۲۴، ۶۷۴۲، ۸۳۵۹، ۹۳۹۶، ۱۶۵۰۰۔ سنن دارمی، رقم۲۵۶۲، ۲۷۱۵۔ صحیح بخاری، رقم ۶۸۷۴، ۷۰۷۰، ۷۰۷۱۔صحیح مسلم، رقم ۹۸، ۹۹، ۱۰۰،۱۰۱۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۲۵۷۵،۲۵۷۶،۲۵۷۷۔ سنن ترمذی، رقم ۱۴۵۹۔مسند بزار، رقم ۳۱۷۴، ۵۴۹۳، ۸۳۵۵۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۳۵۴۹، ۴۱۰۰۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۵۸۲۷، ۷۲۹۲۔ مسند رویانی، رقم ۴۷۷۔مستخرج ابی عوانہ، رقم ۱۵۸، ۱۵۹، ۱۶۰۔ صحیح ابن حبان، رقم ۴۵۸۸۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۶۲۴۱۔مستخرج ابی نعیم، رقم ۲۸۰، ۲۸۲، ۲۸۳، ۲۸۵۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۵۸۵۵۔
۲۲۔بعض روایات، مثلاً مصنف ابن ا بی شیبہ، رقم۲۸۹۳۱میں یہاں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ’حَمَلَ‘ کے بجاے ’رَفَعَ‘ کا لفظ روایت ہوا ہے۔معنی کے لحاظ سے اِن دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم ۱۶۵۰۰ میں سلمہ ابن اکوع رضی اللہ عنہ سے’سَلَّ‘ کا لفظ نقل ہوا ہے، جس کے معنی کسی کے سامنے ہتھیار نکالنے کے ہیں۔سنن ابن ماجہ، رقم ۲۵۷۷ میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ’شَہَرَ‘ کا لفظ منقول ہے اور لغت کے اعتبار سے یہ بھی ’سَلَّ‘ کا مترادف ہے۔
۲۳۔بعض روایات، مثلاً مسند احمد، رقم۱۶۵۰۰میں یہاں ’السِّلَاحَ‘ ’’ہتھیار‘‘ کے بجاے ’’السَّیْفَ‘ ’’تلوار‘‘کا لفظ منقول ہے۔
۲۴۔ مسند احمد، رقم ۸۳۵۹میں یہاں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ’فَلَیْسَ مِنَّا‘ کے بجاے ’فَلَیْسَ مِنِّی‘ ’’مجھ سے اُس کا کوئی تعلق نہیں ہے ‘‘کے الفاظ آئے ہیں۔ روایت میں جس اقدام کا ذکر ہے، وہ اگر دھوکے سے کیا جائے تو اُس کی شناعت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ مسند شہاب، رقم۳۵۵میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات اِس طرح بھی بیان فرمائی ہے کہ: ’مَنْ رَمَانَا بِاللَّیْلِ فَلَیْسَ مِنَّا‘ ’’جو ہم پر شب خون مارے، وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔یہ روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔اِس کے مراجع یہ ہیں: مسند احمد،رقم۸۲۷۰۔ الادب المفرد،بخاری، رقم ۱۲۷۹۔المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۹۳۴۰۔
۲۵۔ یہ اضافہ مسند احمد، رقم۶۷۲۴سے لیا گیا ہے، جس کے راوی عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہیں۔
۲۶۔اِس روایت کا متن المعجم الصغیر، طبرانی، رقم۶۹۸سے لیا گیا ہے۔ اِ س کے راوی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت طبرانی ہی کی المعجم الاوسط، رقم ۴۸۳۷،۸۰۲۲میں بھی نقل ہوئی ہے۔

 

المصادر والمراجع

ابن أبي شیبۃ، أبو بکر، عبد اللّٰہ بن محمد العبسي.(۱۴۰۹ھ).المصنف فی الأحادیث والآثار. ط۱. تحقیق: کمال یوسف الحوت. الریاض: مکتبۃ الرشد.
ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي.(۱۳۹۳ھ/۱۹۷۳م). الثقات. ط۱. حیدر آباد الدکن: دائرۃ المعارف العثمانیۃ.
ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ).المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۱۵ھ). الإصابۃ في تمییز الصحابۃ. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض. بیروت: دار الکتب العلمیۃ. ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.
ابن راہویہ، إسحاق بن إبراہیم بن مخلد بن إبراہیم الحنظلي المروزي. (۱۴۱۲ھ/ ۱۹۹۱م) مسند إسحاق بن راہویہ. ط۱. تحقیق: د. عبد الغفور بن عبد الحق البلوشي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ الإیمان.
ابن عبد البر، أبو عمر،یوسف بن عبد اللّٰہ القرطبي. (۱۴۱۲ھ ؍ ۱۹۹۲م). الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب. ط۱. تحقیق: علي محمد البجاوي. بیروت: دار الجیل.
ابن عدي، عبد اللّٰہ، أبو أحمد الجرجاني. (۱۴۱۸ھ؍۱۹۹۷م).الکامل في ضعفاء الرجال. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود، وعلي محمد معوض. بیروت۔ لبنان: الکتب العلمیۃ.
ابن ماجہ، أبو عبد اللّٰہ، محمد القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجہ. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.
أبو داؤد، سلیمان بن الأشعث، السِّجِسْتاني. (د.ت). سنن أبي داود. د.ط.تحقیق: محمد محیي الدین عبد الحمید. بیروت: المکتبۃ العصریۃ.
أبو عوانۃ، الإسفراییني، یعقوب بن إسحاق النیسابوري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸م). مستخرج أبي عوانۃ. ط۱. تحقیق: أیمن بن عارف الدمشقي. بیروت: دار المعرفۃ.
أبو نعیم، أحمد بن عبد اللّٰہ، الأصبہاني. (۱۴۱۷ھ/۱۹۹۶م). المسند المستخرج علی صحیح مسلم. ط۱. تحقیق: محمد حسن محمد حسن إسماعیل الشافعي. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
أبو یعلٰی، أحمد بن علي، التمیمي، الموصلي. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). مسند أبي یعلٰی. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.
أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد اللّٰہ، الشیباني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي.(۱۴۰۹ھ/ ۱۹۸۹م). الأدب المفرد. ط۳. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار البشائر الإسلامیۃ.
البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.
البزار، أبو بکر أحمد بن عمرو العتکي. (۲۰۰۹م). مسند البزار. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبري عبد الخالق الشافعي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۰ھ؍۱۹۸۹م). السنن الصغرٰی. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي.کراتشي: جامعۃ الدراسات الإسلامیۃ.
البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني.(۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳م). السنن الکبرٰی. ط۳. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۲ھ؍۱۹۹۱م). معرفۃ السنن والآثار. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. القاہرۃ: دار الوفاء.
الترمذي، أبو عیسٰی، محمد بن عیسٰی. (۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵م). سنن الترمذي. ط۲. تحقیق و تعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض.مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفٰی البابي الحلبي.
تمام بن محمد، الرازي، البجلي، أبو القاسم. (۱۴۱۲ھ). الفوائد. ط۱. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. الریاض: مکتبۃ الرشد.
الحاکم ، أبو عبد اللّٰہ، محمد بن عبد اللّٰہ النیسابوري.(۱۴۱۱ھ/۱۹۹۰م). المستدرک علی الصحیحین. ط۱. تحقیق: مصطفٰی عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
الحمیدي، أبو بکر، عبد اللّٰہ بن الزبیر بن عیسٰی القرشي الأسدي.(۱۹۹۶م). مسند الحمیدي. ط۱. تحقیق وتخریج:حسن سلیم أسد الدَّارَانيّ. دمشق: دار السقا.
الدارمي، أبو محمد، عبد اللّٰہ بن عبد الرحمٰن، التمیمي. (۱۴۱۲ھ/۲۰۰۰م). سنن الدارمي. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد الدَّارَاني. الریاض: دار المغنی للنشر والتوزیع.
الذہبي، شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.
الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد.(۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.
الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۱۳ھ؍۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ ۔ مؤسسۃ علوم القرآن.
الرُّویاني، أبو بکر محمد بن ہارون. (۱۴۱۶ھ). المسند. ط۱. تحقیق: أیمن علي أبو یماني. القاہرۃ: مؤسسۃ قرطبۃ.
السیوطي، جلال الدین، عبد الرحمٰن بن أبي بکر. (۱۴۱۶ھ/۱۹۹۶م). الدیباج علي صحیح مسلم بن الحجاج. ط۱. تحقیق وتعلیق: أبو اسحٰق الحویني الأثري.الخبر: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.
الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). المعجم الصغیر. ط۱. تحقیق: محمد شکور محمود الحاج أمریر. بیروت: المکتب الإسلامي.
الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.
الطیالسي، أبو داؤد سلیمان بن داؤد البصري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۹م). مسند أبي داؤد الطیالسي. ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکي. مصر: دار ہجر.
عبد الرزاق بن ہمام، أبو بکر، الحمیري، الصنعاني. (۱۴۰۳ھ). المصنف. ط۲. تحقیق: حبیب الرحمٰن الأعظمي. الہند: المجلس العلمي.
القضاعي، أبو عبد اللّٰہ محمد بن سلامۃ بن جعفر.(۱۴۰۷ھ/ ۱۹۸۶م). مسند الشہاب. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مالک بن أنس بن مالک، الأصبحي، المدني. (د.ت). موطأ مالک بروایۃ محمد بن الحسن الشیباني.ط۲. تعلیق وتحقیق: عبد الوہاب عبد اللطیف. د.م: المکتبۃ العلمیۃ.
مسلم بن الحجاج، النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
النووي، یحیٰی بن شرف، أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List