Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Manzoor ul Hassan Profile

Manzoor ul Hassan

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
علم کا سفر | اشراق
Font size +/-

علم کا سفر



[امریکا میں ریکارڈ کیے گئے ’’جیو نیوز‘‘ کے پروگرام ’’بول کہ لب
آزاد ہیں تیرے‘‘ میں جناب جاوید احمد غامدی کی گفتگو سے ماخوذ]

۱۔ علم ایک سفر ہے ، منزل نہیں ہے۔ یہ حقیقتوں کو جاننے کا سفر ہے۔ اس میں آپ حقائق کو دریافت کرتے چلے جاتے ہیں۔ جب آپ حقائق دریافت کرتے ہیں تو بہت سی ایسی چیزیں جنھیںآپ حقیقت سمجھتے ہیں ، ماضی کا افسانہ بنتی چلی جاتی ہیں ۔ اس لیے ہمیں علم کو سفر بنانا چاہیے، منزل نہیں سمجھنا چاہیے۔ علم کو اگر ہم منزل سمجھ لیں گے تو ہم اسے کبھی حاصل نہیں کر پائیں گے۔
۲۔ علم سچائی کے ساتھ محبت کا نام ہے۔ ایک طالب علم اگر مذہب کو، سائنس کو، تاریخ کو، ادب کو اس لیے پڑھتا ہے کہ وہ سچائی کو پا لے تو اس کا سفر درست سمت میں ہے، لیکن اگر وہ ان کامطالعہ جذبات کو تسکین پہنچانے کے لیے، خواہشات کو پورا کرنے کے لیے، تعصبات کو سہارا دینے کے لیے یا اپنی مانی ہوئی باتوں کے دلائل تلاش کرنے کے لیے کرتا ہے تو وہ علم کے سفر پر گام زن نہیں ہو سکتا۔ علم کی راہ کا مسافرسچائی کو ہر حال میں دریافت کرنا چاہتا ہے، خواہ وہ سچائی اس کی اپنی ذات ہی کی نفی کر دے۔
۳۔ ہم سب کو علم کا سچا طالب بننا چاہیے۔ سچا طالب علم ہر طرح کے تعصبات سے بالاتر ہو کر حقائق کا مطالعہ کرتا ہے ۔ وہ علم کی دنیا میں داخل ہی وہاں سے ہوتا ہے، جہاں تعصبات کا کوئی گزر نہ ہو۔ اس کے سامنے ہمیشہ یہ منزل رہتی ہے کہ وہ ممکن حد تک صحیح بات تک پہنچ سکے۔
۴۔ لہٰذا اگر مجھے سچا طالب علم بننا ہے تو مجھے ہر حال میں صحیح بات تک پہنچنے کو اپنی منزل بنانا چاہیے ۔ چاہے وہ بات میرے مسلمہ تصوارت کو ختم کر دے، چاہے وہ میرا ماضی مجھ سے چھین لے، چاہے وہ میرا حال بدل کر رکھ دے، چاہے وہ میرے مستقبل کی کوئی نئی تصویر بنا دے، مجھے بہر حال اسی کو جاننا ہے ،اسی کی خواہش کرنی ہے، اسی کی جستجو کرنی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ اپنے تعصبات اوراپنے ماحول سے اوپر اٹھنا آسان کام نہیں ہوتا۔ میں اب بھی اگر ایک نظر پیچھے ڈال کر دیکھوں تو بارہا ایسا ہوا ہے کہ میرا کوئی تعصب، میرا کوئی ماضی، میرا کوئی جذبہ، صحیح بات تک پہنچنے میں رکاوٹ بن گیا ہے۔ جو طالب علم ان رکاوٹوں کو دور کرنا شروع کر دے گا تو اس کے علم کے سفر کا آغاز ہو جائے گا۔
۵۔ ہماری پوری زندگی کو اصل میں اکیڈیمک (academic) طریقے سے گزرنا چاہیے۔ اکیڈیمک (academic) طریقہ میں اس کو کہتا ہوں کہ جب آپ کے سامنے کوئی مسئلہ آئے، کوئی سوال آئے ، خواہ وہ ذاتی مسئلہ ہو، خاندانی مسئلہ ہو، قومی مسئلہ ہو یا کوئی علمی یا عملی سوال ہو تو آپ کو اس کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ اُس کے اندر اُتر کر دیکھنا چاہیے کہ یہ بات کہاں سے پیدا ہوئی ہے، اس کی بنیادیں کہاں پائی جاتی ہیں۔ آپ اکثر وبیش تردیکھیں گے کہ لوگ جس جگہ سے بات اُٹھ رہی ہوتی ہے، اُس سے کئی میل آگے کھڑے ہو کر اُس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
۶۔ علم کا راستہ صرف تنقید ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ ایک فلسفی نے بڑی اعلیٰ بات کہی ہے کہ اگر آپ میز پر بیٹھ کر یہ چاہیں کہ آپ دنیا کا بہترین ہسپتال بنا لیں تو آپ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس کے لیے آپ کوایک دوسرا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ آپ دنیا کے تمام ہسپتالوں کا ناقدانہ جائزہ لیں اور دیکھیں کہ اُن میں کیا خامیاں ہیں۔ پھر اپنے ہسپتال میں ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح آپ کا ہسپتال دوسرے ہسپتالوں کی نسبت بہتر ہو جائے گا۔ پھر دوسرے لوگ آپ کے ہسپتال کا تنقیدی جائزہ لیں گے اور وہ اُس سے بہتر ہسپتال بنانے کی کوشش کریں گے۔ علوم کا سفر بھی اصل میں اسی طرح آگے بڑھتا ہے۔
۷۔ علم آپ سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ جب آپ اپنی جگہ سے بات کرتے ہیں تو دوسرے کو بھی اس کا حق دیں کہ وہ جہاں کھڑا ہے، وہاں سے بات کر سکے۔ اگر ایک شخص اُس سفر سے، اُس تجربے سے گزرا ہی نہیں جس سے آپ گزرے ہیں تو وہ کیسے آپ سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے؟ ہر فرد جس جگہ پہ کھڑا ہوتا ہے، اُس سے مختلف رویہ نہیں اختیار کر سکتا۔جب آپ اس بات کو جان لیتے ہیں تو پھر آپ کو دوسرے کی بات پر غصہ نہیں آتا۔
۸۔ ہمارے ہاں جو سب سے بڑی کمی آ گئی ہے ،وہ یہ ہے کہ ہم علم و عمل سے متعلق ہر رائج بات کوعقیدے اور ایمان کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ یہ صرف مذہب کا معاملہ نہیں ہے، ہم سائنس میں بھی یہی کرتے ہیں، فن میں بھی یہی کرتے ہیں، تاریخ میں بھی یہی کرتے ہیں۔ ہمارے استاد نے اگر چھٹی ساتویں میں کوئی چیز پڑھا دی ہے تو ہم قسم کھا لیتے ہیں کہ ہم اس کو کبھی چیلنج نہیں کریں گے۔
۹۔ چیلنج اصل میں سوال سے پیدا ہوتا ہے۔ سوال کو اگر آپ برا سمجھتے ہیں اور کانوں کو ہاتھ لگا کر بھاگ جاتے ہیں تو پھر آپ پر علم کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ اپنے افکار کے بارے میں ، اپنے عقائد کے بارے میں، اپنے تصورات کے بارے میں، اپنے نظریات کے بارے میں اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں، اپنے ماحول سے سوال کرتے ہیں تواس سے آپ پر علم کا دروازہ کھلتا ہے۔ آپ علم و تحقیق کے سفر پر گام زن ہوتے ہیں۔ پھر وہ فکر، وہ نظریہ، وہ تصور، وہ عقیدہ یا قصۂ ماضی بن جاتا ہے یا ایک علمی حقیقت کے طور پر آپ کے دل و دماغ کا حصہ بن جاتا ہے۔
۱۰۔ ہم جن مفکرین سے ، جن علما سے متاثر ہوتے ہیں، اُن کی باتیں الہامی باتوں کی طرح کبھی صفحۂ دل پر لکھ لی جاتی ہیں، کبھی صفحۂ دماغ پر نقش کر لی جاتی ہیں۔ ان نقوش کو ہم بار بار دیکھتے رہتے ہیں، مگر ایسا نہیں ہوتا کہ وہ ہمارے اندر اتر جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس دریافت کو بعینہٖ لے لیتے ہیں، اسے اپنی دریافت نہیں بناتے، یعنی یہ نہیں جانتے کہ وہ دریافت ہوئی کیسے ہے؟ ہمارے معلم بھی عام طور پر نتیجۂ فکر سے آگاہ کرتے ہیں، جب کہ بتانا یہ چاہیے کہ اس نتیجۂ فکر تک پہنچنے کے لیے انھوں نے کیا طریقے اختیار کیے اور کن مراحل سے گزرے ہیں۔ اصل چیز نتیجۂ فکر نہیں، بلکہ اس تک پہنچنے کا منہاج ہے، طریقہ ہے، پراسس ہے، اپروچ ہے۔
۱۱۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم علم کو مجرد طور پر نہیں، بلکہ شخصیات کے تعلق سے سیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ کوئی شخصیت ہمیں متاثر کرتی ہے ۔ ہم اس سے انسپائر (inspire) ہوتے ہیں، پھر اس سے وابستگی اختیار کرتے ہیں۔ یہ وابستگی بسااوقات جنون کی شکل اختیار کر لیتی ، بسا اوقات آپ اسے عقیدت کا نام دیتے ہیں اور پھر اس کی ہر بات کے آگے سرتسلیم خم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہ طرز عمل ہمارے ہاں عام ہے۔ یہ علم کی راہ کی بڑی رکاوٹ ہے۔ علم کے سفر میں اس سے نجات ضروری ہے۔
۱۲۔ اس سے نجات کا طریقہ یہ ہے کہ ہم جن شخصیات سے سیکھنے اور سمجھنے کا تعلق قائم کریں ، انھیں عام انسان سمجھیں۔ یعنی ان کی صلاحیتوں سے مستفید ہوں، ان کی خوبیوں کا اعتراف کریں اوراس کے ساتھ ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر بھی نظر رکھیں ۔ ان میں سے کوئی پیغمبر نہیں ہے، لہٰذا انھیں عقیدت کا مقام دینے کے بجاے احترام کی جگہ دیں۔یعنی ان کی بات کو توجہ سے سنیں، اس پر غور کریں، اس کا دیگر اہل علم کی باتوں سے تقابل کریں، پھر اگر ان کی بات صحیح لگے تو اسے قبول کریں، وگرنہ بصد احترام قبول کرنے سے انکار کر دیں۔ ایک سچے طالب علم کو یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ میں لوگوں کو سمجھانے کے لیے عام طور پر کہا کرتا ہوں کہ عبادت اللہ کی کریں، عقیدت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رکھیں اور باقی سب کا احترام کریں۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List