Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
اخلاقیات (۳) | اشراق
Font size +/-

اخلاقیات (۳)

تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

—۱—

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ،۱ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’لَا یَمْنَعْ جَارٌ جَارَہُ أَنْ یَّغْرِزَ خَشَبَہُ فِيْ جِدَارِہِ ‘‘، ثُمَّ یَقُوْلُ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: مَا لِيْ أَرَاکُمْ عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ، وَاللّٰہِ لَأَرْمِیَنَّ بِہَا بَیْنَ أَکْتَافِکُمْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی گاڑنے سے نہ روکے۔۱ ابوہریرہ یہ روایت سناتے، پھر کہتے تھے: کیا وجہ ہے، میں دیکھتا ہوں کہ تم اِس سے منہ پھیرے ہوئے ہو؟۲ خدا کی قسم، میں وہی کھونٹی۳ تمھارے کندھوں کے درمیان گاڑ دوں گا۔ ۴

________

۱۔ پڑوسی کے معاملے میں جو رویہ ہر بندۂ مومن کو اختیار کرنا چاہیے، یہ اُسی کے ایک پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ساتھ ساتھ رہتے ہوئے کئی ضرورتیں ایک دوسرے سے متعلق ہو جاتی ہیں، اُنھی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دیوار مشترک ہوتی ہے اور کسی کو اُس میں کھونٹی گاڑنے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اِس سے روکنا نہیں چاہیے، بلکہ اِس طرح کی تمام ضرورتوں کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے، اِس لیے کہ اعلیٰ اخلاقی اقدار کے مطابق زندگی بسر کرنے کا یہی تقاضا ہے۔
۲۔ مطلب یہ ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سناتا ہوں تو تمھیں باور نہیں آتا کہ آپ نے یہ فرمایا ہو گا، لہٰذا اُس پر عمل کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
۳۔ یعنی جس کے بارے میں ہدایت فرمائی گئی تھی کہ اُس کو گاڑنے سے نہ روکا جائے۔
۴۔ یہ زجر و توبیخ کا جملہ ہے۔ مدعا یہ ہے کہ اِس کے بعد تم اِسی کے مستحق ہو کہ وہ کھونٹی تمھارے کندھوں کے درمیان گاڑ دی جائے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح بخاری، رقم ۲۲۹۵ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل کتب میں نقل ہوئی ہے:
موطا، امام مالک، رقم ۱۴۰۷۔ مسند شافعی، رقم ۱۰۱۶۔ مسند الحمیدی، رقم ۱۰۳۰، ۱۰۳۰۱۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۲۴۳۳، ۲۳۴۳۲، ۳۵۶۱۸۔ مسند احمد، رقم ۶۹۷۸، ۷۱۰۲، ۷۵۱۳، ۸۹۸۹، ۹۵۵۶، ۹۷۵۰۔ صحیح مسلم، رقم ۳۰۲۷۔ سنن ترمذی، رقم ۱۲۶۹۔ سنن ابو داؤد، رقم ۳۱۵۲۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۲۳۲۸۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۶۲۱۴، ۶۲۷۴۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۴۴۱۷، ۴۴۱۸، ۴۴۱۹، ۴۴۲۰۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۲۰۲۱، ۲۰۲۲، ۲۰۲۳، ۲۰۲۴، ۲۰۲۵، ۲۰۲۶۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۲۰۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۲۳۸۷، ۲۶۹۱، ۲۸۲۷، ۸۱۸۷۔ مسند الشامیین، طبرانی، رقم ۳۶۳۔ سنن دار قطنی، رقم ۳۹۸۷۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۰۵۱۹، ۱۰۵۲۱، ۱۰۹۸۲، ۱۰۹۸۳۔ معرفۃ السنن و الآثار، رقم ۳۲۰۸، ۳۲۸۹، ۳۲۹۰۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۹۵۸، ۱۰۵۱۶، ۱۰۵۱۷، ۱۰۵۱۸۔

—۲—

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، ۱ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللّٰہُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا۲، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلّٰہِ إِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ ‘‘.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ دینے سے کوئی مال کبھی کم نہیں ہوتا، ۱جو بندہ معاف کر دے، اللہ اُس کی عزت ہی بڑھاتا ہے، اور جو اللہ کی خاطر عاجزی اختیار کرے، اُس کا صلہ یہی ہے کہ اللہ اُس کا درجہ بلند کر دے۔

________

۱۔ اللہ کی راہ میں انفاق پر ابھارنے کے لیے یہ تسلی اور بشارت کا جملہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اِس سے جو کمی ہو گی، اللہ یہاں بھی کسی نہ کسی طریقے سے اُس کو پورا کر دیں گے اور آخرت میں بھی کئی گنا اضافے کے ساتھ اُس کا صلہ دیں گے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن صحیح مسلم ،رقم ۴۶۹۵ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:
سنن ترمذی، رقم ۱۹۴۸۔ سنن دارمی، رقم ۱۶۳۲۔ مسند احمد، رقم ۷۰۳۲، ۸۸۰۳۔ صحیح ابن خزیمہ، رقم ۲۲۷۶۔ صحیح ابن حبان، رقم ۳۳۳۰۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۷۲۲۰، ۱۹۴۲۶۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۶۴۲۲۔ مسند ابن زیدان، رقم ۴۹۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۵۰۹۲۔
۲۔ مسند احمد،رقم ۷۰۳۲ میں یہ بات اِس اسلوب میں نقل ہوئی ہے: ’وَلَا عَفَا رَجُلٌ عَنْ مَظْلَمَۃٍ، إِلَّا زَادَہُ اللّٰہُ عِزًّا‘’’ اور جو آدمی کسی بے انصافی سے درگذر کرلے، اللہ اُس کی عزت ہی میں اضافہ فرماتا ہے‘‘۔

—۳—

عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ،۱ أَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’إِنَّ اللّٰہَ أَوْحٰی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوْا حَتّٰی لَا یَبْغِيَ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ وَلَا یَفْخَرَ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ‘‘.
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو، یہاں تک کہ نہ تم میں سے کوئی کسی پر زیادتی کرے اور نہ کسی پر اپنی بڑائی کی دھونس جمانے کی کوشش کرے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس رویت کا متن سنن ابی داؤد، رقم ۴۲۵۲ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت اِن کتابوں میں نقل ہوئی ہے:الادب المفرد، رقم ۴۲۳۔ مسند بزار، رقم ۲۹۷۷۔ المعجم الکبیر،طبرانی، رقم ۱۴۴۲۳۔ شعب الایمان، بیہقی، رقم ۶۱۶۱۔
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔ ملاحظہ ہو: سنن ابن ماجہ، رقم ۴۲۱۴اور الادب المفرد، بخاری، رقم ۴۲۶۔

—۴—

أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ،۱ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ’’الْفَخْرُ وَالْخُیَلَاءُ فِي الْفَدَّادِیْنَ أَہْلِ الْوَبَرِ۲، وَالسَّکِیْنَۃُ فِيْ أَہْلِ الْغَنَمِ‘‘.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ غرور و تکبر خیمے والوں میں ہے جو چِلّا کر بولتے ہیں اور وقار و اطمینان بھیڑ بکری والوں میں ہے۔۱

________

۱۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لوگوں کا رہن سہن، ماحول اور پیشے اُن کے اخلاق اور رویوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، اِس لیے محتاط رہنا چاہیے کہ آدمی اِن چیزوں کے برے اثرات سے اپنے آپ کو، جس حد تک ممکن ہو، بچا کر رکھے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح مسلم، رقم ۸۰ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت مسند احمد، رقم ۸۰۴۱ اور مستدرک حاکم، رقم ۱۵۷ میں نقل ہوئی ہے۔
۲۔ مسند احمد، رقم ۸۰۴۲ میں ’الْفَدَّادِیْنَ أَہْلِ الْوَبَرِ‘ کے بجاے ’الْخُیَلَاءُ وَالْفَخْرُ فِيْ أَہْلِ الْخَیْلِ وَالْإِبِلِ‘ کے الفاظ ہیں، یعنی تکبر اور فخر توگھوڑوں اور اونٹوں والے لوگوں میں ہوتا ہے۔

—۵—

عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِيْ ہُرَیْرَۃَ،۱ قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’الْعِزُّ۲ إِزَارُہُ، وَالْکِبْرِیَاءُ رِدَاؤُہُ، [یَقُوْلُ اللّٰہُ۳] فَمَنْ یُنَازِعُنِيْ عَذَّبْتُہُ‘‘.۴
ابوسعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عزت پروردگار کی ازار اور بزرگی اُس کی ردا ہے ۔ ۱ اللہ فرماتا ہے: جو شخص اِن چیزوں کو مجھ سے لینے کے لیے جھگڑے گا، میں اُس کو عذاب دوں گا۔

________

۱۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سب چیزیں خدا ہی کے شایان شان ہیں، وہی اِن کو اوڑھنے اور پہننے کا حق رکھتا ہے۔ بندوں کی شان عجز و انکسار ہے اور اُن کو ہمیشہ اِسے ہی اپنی ازار اور ردا بنانا چاہیے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کامتن صحیح مسلم، رقم ۴۷۵۸ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی ابو سعید خدری اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما ہیں۔ اِن صحابہ سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:
مسند ابو داؤد طیالسی، رقم ۲۴۹۹۔ مسند الحمیدی، رقم ۱۰۹۹۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۹۹۶۔ مسند اسحاق، رقم ۲۳۸۔ مسند احمد، رقم ۷۲۸۰، ۸۶۹۵، ۹۱۵۴، ۹۳۰۳، ۹۴۹۰۔ الادب المفرد، رقم ۵۴۹۔ سنن ابوداؤد، رقم ۳۵۶۹۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۴۱۷۲۔ صحیح ابن حبان، رقم ۳۳۲، ۵۷۸۸۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۴۸۳۵، ۹۴۸۶۔ مستدرک حاکم، رقم ۱۸۹۔ مسند شہاب، رقم ۱۳۴۹، ۱۳۵۰، ۱۳۵۱۔ معرفۃ السنن و الآثار، رقم ۵۲۸۴۔ شعب الایمان، بیہقی، رقم ۷۶۷۴۔
۲۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۴۱۷۲۔
۳۔ سنن ابی داؤد، رقم ۳۵۶۹ میں ’الْعِزّ‘ کے بجاے ’وَالْعَظَمَۃُ‘ نقل ہوا ہے، دونوں سے ایک ہی مدعا کا اظہار مقصود ہے۔
۴۔ سنن ابی داؤد میں یہ بات اِس اسلوب میں نقل ہوئی ہے: ’فَمَنْ نَازَعَنِيْ وَاحِدًا مِنْہُمَا، قَذَفْتُہُ فِي النَّارِ‘ ’’جو اِن میں سے کسی چیز کو بھی، مجھ سے چھیننا چاہے گا، میں اُسے جہنم میں ڈال دوں گا‘‘۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ. ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.
ابن ماجۃ، ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.
ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ. ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ. أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح. ط۳. تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.
بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.
السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط ۱. تحقیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
محمد القضاعي الکلبي المزي. (۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
النسائي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النسائي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List