Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Dr. Waseem Mufti Profile

Dr. Waseem Mufti

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
حضرت حاطب بن عمرو رضی اللہ عنہ | اشراق
Font size +/-

حضرت حاطب بن عمرو رضی اللہ عنہ



حضرت حاطب (شاذروایت:ابو حاطب ) بن عمرو کے داداکا نام عبدشمس بن عبدود تھا۔ عامر بن لؤی ان کے ساتویں اور غالب بن فہر نویں جد تھے۔ عامر بن لؤی کے نام پر ان کا قبیلہ بنو عامربن لؤی کہلاتا ہے۔ لؤی بن غالب پر ان کاسلسلۂ نسب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شجرہ سے ملتا ہے۔ عامر کے بھائی کعب آپ کے آٹھویں اور لؤی نویں جد تھے۔
حضرت حاطب بن عمرو اور ان کے بھائی حضرت سلیط بن عمرو ’السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ‘* میں شامل تھے۔ابن اسحاق کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق دین اسلام کی طرف سبقت کرنے والوں میں حضرت سلیط کا نمبر پچیسواں اور حضرت حاطب کا چھیالیسواں بنتا ہے۔۵ ؍نبوی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوہ صفا کے مشرق میں ایک تنگ گلی میں واقع دار ارقم میں تشریف لے جانے سے پہلے دونوں بھائی ایمان لا چکے تھے۔
حضرت حاطب بن عمرو کو حبشہ و مدینہ، دونوں ہجرتوں کا شرف حاصل ہوا۔کمزور مسلمانوں اور اسلام قبول کرنے والے غلاموں پر قریش کی ایذا رسانیاں حد سے بڑھ گئیں تو رجب ۵؍ نبوی(۶۱۵ء)میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حبشہ (Abyssinia, Ethiopia) کی طرف ہجرت کرنے کا مشورہ دیا۔ آپ نے فرمایا: وہاں ایسا بادشاہ (King of Axum) حکمران ہے جس کی سلطنت میں ظلم نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ سب سے پہلے حضرت عثمان بن مظعون کی قیادت میں چودہ اصحاب رسول حبشہ روانہ ہوئے جن کے نام یہ ہیں:حضرت عثمان بن عفان ،ان کی اہلیہ حضرت رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ،ان کی زوجہ حضرت سہلہ بنت سہیل،حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبدالرحمن بن عوف،حضرت مصعب بن عمیر، حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد ،ان کی اہلیہ حضرت ام سلمہ بنت ابوامیہ، حضرت عامر بن ربیعہ،ان کی بیوی حضرت لیلیٰ بنت ابو حثمہ،حضرت ابوسبرہ بن ابورہم اور حضرت سہیل بن بیضا ۔ابن سعد نے مہاجرین حبشہ کے قافلۂ اولیں کی فہرست میں حضرت حاطب بن عمرو ،حضرت عبداﷲ بن مسعود اور ابن جوزی نے حضرت عبداﷲ بن بیضا کااضافہ کیا ہے ،اس طرح ان عازمین ہجرت کی تعداد سترہ ہو جاتی ہے۔زہری کا کہنا ہے کہ حضرت حاطب نے سب سے پہلے حبشہ کی سرزمین پر قدم رکھا تاہم ابن ہشام حضرت حاطب بن عمرو کوسڑسٹھ اہل ایمان کے اس دوسرے گروپ میں شمار کرتے ہیں جو چند ماہ کے بعد حضرت جعفر بن ابوطالب کی قیادت میں دو کشتیوں پر سوارہو کرسوے حبشہ روانہ ہوا۔ دونوں گروپوں کے مہاجرین کی مجموعی تعداد تراسی (ابن جوزی: ایک سو نو) بنتی ہے۔ حضرت حاطب کے بھائی حضرت سلیط بن عمرو،حضرت سکران بن عمرو،ان کی اہلیہ حضرت سودہ بنت زمعہ ،حضرت حاطب کے قبیلہ بنوعامربن لوئی کے حضرت مالک بن زمعہ، ان کی اہلیہ حضرت عمرہ بنت سعدی ،حضرت عبداﷲ بن مخرمہ،حضرت عبداﷲ بن سہیل اور بنوعامربن لوئی کے حلیف حضرت سعد بن خولہ ہجرت میں ان کے ساتھ تھے ۔ حضرت حاطب بن عمرو ان اصحاب میں شامل نہ تھے جوشوال ۵؍ نبوی میں قریش کے ایمان لانے کی افواہ سن کر مکہ لوٹ آئے۔ابن ہشام نے مکہ میں داخل ہونے والے تینتیس اصحاب کی فہرست میں ان کا نام بیان نہیں کیا، تاہم بلاذری اور ابن عبد البر کہتے ہیں کہ حضرت حاطب مکہ واپس آئے اور بار دگر حبشہ کو ہجرت کی۔
حضرت حاطب بن عمرو بن عبد شمس نے جنگ بدر میں حصہ نہیں لیا، کیونکہ وہ اس وقت حبشہ میں تھے، تاہم ان کے ہم نام حضرت حاطب بن عمرو بن عبید غزوۂ فرقان میں شریک تھے۔
(۶۲۶ء میں)ہجرت مدینہ کو سات برس بیت گئے تو حبشہ میں موجودمہاجرین نے یہ کہہ کر مدینہ جانے کی خواہش ظاہر کی کہ ہمارے نبی غالب آگئے ہیں اور دشمن مارے جا چکے ہیں۔تب نجاشی نے زاد راہ دے کر ان کو رخصت کیا (المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۴۷۸)۔ مہاجرین عمرو بن امیہ ضمری کے ساتھ دو کشتیوں میں سوار ہو کر حجاز کے ساحل پر پہنچے۔ انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی غرض سے حبشہ بھیجا تھا۔ساحل سمندر سے وہ اونٹوں پر سوار ہو کر آئے، مدینہ لوٹنے والوں کے نام یہ ہیں:حضرت جعفر بن ابو طالب،ان کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیس ،ان کے بیٹے حضرت عبداﷲ بن جعفر ،حضرت خالد بن سعید بن عاص،ان کی اہلیہ حضرت امینہ ( یا ہمینہ ) بنت خلف ، ان کے بیٹے حضرت سعید بن خالد اور بیٹی حضرت امہ بنت خالد ،حضرت خالد کے بھائی حضرت عمرو بن سعید بن عاص،حضرت معیقیب بن ابو فاطمہ،حضرت ابو موسیٰ اشعری ،حضرت اسود بن نوفل،حضرت جہم بن قیس، ان کے بیٹے حضرت عمرو بن جہم،حضرت خزیمہ بن جہم،حضرت عامر بن ابو وقاص،حضرت عتبہ بن مسعود، حضرت حارث بن خالد،حضرت عثمان بن ربیعہ، حضرت محمیہ بن جز،حضرت معمر بن عبداﷲ،حضرت حاطب بن عمرو،حضرت مالک بن ربیعہ ، ان کی زوجہ حضرت عمرہ بنت سعدی اور حضرت حارث بن عبد قیس۔ سر زمین حبشہ میں وفات پاجانے والے اہل ایمان کی بیوگان بھی مدینہ واپس آئیں۔
موسیٰ بن عقبہ، ابومعشراورطبری کی روایت کے مطابق حضرت سکران بن عمرو نے حبشہ میں وفات پائی، تاہم ابن اسحاق ،واقدی ، ابن سعد اور بلاذری کہتے ہیں کہ وہ اپنی زوجہ حضر ت سودہ بنت زمعہ کے ساتھ حبشہ سے مکہ واپس آئے اور یہیں انتقال کیا۔سیدہ سودہ کی عدت ختم ہوئی تو رسول اللہ صلی اﷲعلیہ وسلم نے انھیں پیام نکاح بھیجا۔ سیدہ خدیجہ کی وفات کے بعد یہ آپ کا پہلاعقد تھا۔انھوں نے جواب دیا: میرا معاملہ آپ کی صواب دید پر منحصر ہے۔ آپ نے فرمایا: اپنی شادی کے لیے اپنی قوم کے کسی شخص کو کہو۔ چنانچہ انھوں نے یہ ذمہ داری اپنے دیور حضرت حاطب بن عمرو کو سونپی۔ابن ہشام نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اولاً حضرت سلیط بن عمرو کا نام لیا پھر مرجوح روایت کے طور پر حضرت حاطب کا ذکر کر کے بتایا کہ ابن اسحاق نے اس روایت کو رد کیا اور کہا ہے کہ حضرت سلیط اور حضرت حاطب دونوں بھائی اس وقت سرزمین حبشہ میں تھے ۔ بلاذری سیدہ سودہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقد کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے والئ نکاح حضرت حاطب بن عمروتھے پھر شاذ روایت کے طور پر وہ زمعہ بن قیس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ طبری اور مسند احمد میں سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون کی اہلیہ حضرت خولہ بنت حکیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لے کرحضرت سودہ کے گھر گئیں اور ان کے والد زمعہ بن قیس نے یہ رشتہ طے کیا (مسند احمد، رقم ۲۵۷۶۹)۔
بلاذری کہتے ہیں کہ حضرت حاطب جنگ بدر میں بھی شریک ہوئے گویا انھوں نے حبشہ سے مکہ لوٹ کر یہاں سے مدینہ کو ہجرت کی اورپھر غزوۂ بدر میں شریک ہوئے۔ابن حجر ان کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مورخین کا اتفاق ہے کہ حضرت حاطب نے جنگ بدر میں شرکت کی۔ ابن ہشام نے ’’السیرۃ النبویۃ‘‘ میں غزوۂ بدرکے ۳۱۴ (واقدی: ۳۱۳، موسیٰ بن عقبہ: ۳۱۶) شرکا کی مکمل فہرست لکھی اور حضرت حاطب بن عمرو بن عبد شمس کا نام نہ دیا، البتہ ان کے ہم نام حضرت حاطب بن عمرو بن عبیدکا ذکر ضرور کیا۔ابن جوزی نے ’’المنتظم فی تواریخ الملوک و الامم‘‘ میں حضرت حاطب بن عمرو کا نام لکھا اور یہ نہ بتایا کہ یہ حضرت حاطب بن عمرو بن عبد شمس ہیں یا حضرت حاطب بن عمرو بن عبید۔ ’’البدایۃوالنہایۃ‘‘ میں ابن کثیر نے حضرت حاطب بن عمرو بن عبید کا نام درج کرنے کے بعد واقدی کے حوالے سے حضرت حاطب بن عمرو بن عبد شمس کا اضافہ کیا ۔
بلاذری یہ قول نقل کرنے کے بعد کہ حضرت حاطب بن عمرو سرزمین حبشہ میں سب سے پہلے وارد ہوئے اور سب سے آخر میں حضرت جعفر بن ابوطالب کے ساتھ وہاں سے واپس آئے،تبصرہ کرتے ہیں کہ یہ بات مورخین کے ہاں بڑی الجھی ہوئی اورگڈ مڈ ہے۔الجھاؤ کا اصل سبب اکثر اہل سیرکے متفق ہونے کے باوجود کہ حضرت حاطب ۷ھ میں حضرت عمرو بن امیہ ضمری اورحضرت جعفرطیار کے ساتھ حبشہ سے مدینہ ہجرت کرنے والے قافلے میں شامل تھے، یہ کہنا ہے کہ وہ ہجرت مدینہ سے قبل مکہ لوٹ آئے تھے اور انھوں نے جنگ بدر میں حصہ لیا ۔
حضرت حاطب کے ایک بھائی سہیل بن عمرو اسلام دشمنی میں پیش پیش تھے،اسلام کی مخالفت میں اپنی خطابت کے جوہر دکھاتے تھے۔ غزوۂ بدر میں وہ مشرکوں کی طرف سے لڑتے ہوئے حضرت مالک بن دخشم کے ہاتھوں قید ہوئے ۔سہیل بن عمروہی تھے جنھوں نے معاہدۂ صلح حدیبیہ تحریر کرنے میں مشرکین مکہ کی نمایندگی کی ۔انھوں ہی نے ’بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم‘ کی جگہ ’باسمک اللّٰہم‘ اور ’محمد رسول ﷲ‘ کے بجاے ’محمد بن عبد اللّٰہ‘ لکھنے پر اصرار کیا تھا۔ فتح مکہ کے بعدوہ ایمان لے آئے ۔
مدینہ کی طرف تیسری ہجرت کرنے کے بعد حضرت حاطب بن عمرو کی زندگی کیسے گزری؟ اور ان کی وفات کب ہوئی؟ یہ سب معلومات تاریخ کے پردوں میں مستور ہو چکی ہیں۔
مطالعۂ مزید: السیرۃ النبویۃ (ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، جمل من انساب الاشراف (بلاذری)، تاریخ الامم والملوک(طبری)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، المنتظم فی تواریخ الملوک والامم (ابن جوزی)، اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ(ابن اثیر)،تاریخ الاسلام (ذہبی)، البدایۃ و النہایۃ (ابن کثیر)، الاصابہ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)۔
_____
* التوبہ ۹: ۱۰۰۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List