Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Dr. Waseem Mufti Profile

Dr. Waseem Mufti

  waseemmufti@javeahmadghamidi.com
Author's Bio
Visit Profile
حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی ﷲ عنہ (2/2) | اشراق
Font size +/-

حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی ﷲ عنہ (2/2)

حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی ﷲ عنہ (1/2)

غزوۂ بنو قینقاع: ۲ھ (۶۲۴ء )جنگ بدر کے بعد قبیلۂ بنو قینقاع کے یہودنے عہدشکنی کی ۔ایک یہودی نے ایک مسلمان عورت سے بد تمیزی کی تو ایک مسلمان نے اسے قتل کر دیا ۔ جنگ کی نوبت آئی تویہودی قلعہ بند ہو گئے۔ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا جو پندرہ دن جاری رہا۔اس غزوہ میں بھی حضرت حمزہ بن عبدالمطلب جیش اسلامی کے علم بردار تھے۔غزوۂ بنوقینقاع کے مال غنیمت میں سے پہلی دفعہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے لیے خمس نکالا گیا۔

حرمت خمر: حضرت علی خود روایت کرتے ہیں کہ (۲ ھ میں) جنگ بدر کے بعد مال غنیمت تقسیم ہواتو میرے حصے میں ایک اونٹنی آئی، پھرایک اونٹنی نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے خمس میں سے مجھے عطا کردی۔ ایک دن میں نے دونوں اونٹنیاں ایک انصاری کے دروازے پر باندھیں، میں ان پر خوشبو دار گھاس اذخر ڈھونا چاہتا تھا تاکہ( اسے سناروں کے ہاتھ) بیچ کر سیدہ فاطمہ کے ساتھ اپنے ولیمے کا خرچ نکالوں۔ بنو قینقاع کا ایک (یہودی) زرگرمیرے ساتھ تھا۔(اس وقت شراب حرام نہ ہوئی تھی)حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اس گھر کے اندر شراب نوشی کر رہے تھے،ایک باندی ان کے ساتھ تھی ۔وہ پکاری: او حمزہ، یہ اونچی کوہانوں والی پلی ہوئی اونٹنیاں(تو دیکھو)۔حضرت حمزہ نے تلوار لے کر اونٹنیوں پر حملہ کردیا،ان کی کوہانیں کاٹ ڈالیں،پہلو چیر دیے اور کلیجے نکال دیے۔ حضرت علی نے یہ ہول ناک منظر دیکھا تو آں حضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس چلے آئے۔حضرت زید بن حارثہ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے اپنی چادر اوڑھی اور حضرت علی اورحضرت زید کے ساتھ حضرت حمزہ کے پاس پہنچے اورسخت ناراضی کا اظہار کیا۔حضرت حمزہ کا نشہ ابھی اترانہ تھا، بولے: تم سب تو میرے آبا کے غلام ہو۔آپ کو معلوم ہوا کہ وہ نشے میں ہیں تو فوراً پلٹ آئے (بخاری، رقم ۲۳۷۵۔ مسلم، رقم ۵۱۷۱۔ ابوداؤد، رقم ۲۹۸۶۔ مسند احمد، رقم ۱۲۰۱)۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس روایت سے پتا چلتا ہے کہ جنگ بدر کے مال غنیمت میں سے خمس نکالا گیا اورابو عبید کی راے درست نہیں کہ خمس کا حکم غزوۂ بدر کے بعد نازل ہوا۔

جنگ احد:۱۵ (۷:ابن سعد)شوال ۳ ھ (جنوری ۶۲۵ء )میں جنگ احد ہوئی۔جنگ بدرمیں ہلاک ہونے والے قریشی سرداروں کے بیٹوں نے ابوسفیان کی مالی مدد سے مسلمانوں سے بدر کی شکست کا بدلہ لینے کا پروگرام بنایا۔ ۵؍ شوال کو لشکر مکہ سے روانہ ہوا تو حضرت عباس نے خط لکھ کرنبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو اطلاع دے دی۔ آپ کا ارادہ تھا کہ مدینہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے ،اکابر مہاجرین و انصار کا بھی یہی خیال تھا، لیکن حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ،حضرت سعد بن عبادہ،حضرت نعمان بن مالک اور انصار کی ایک جماعت نے اصرار کیا کہ یا رسول ﷲ، ہمارا دشمن یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ ہم اس کا دو بدو مقابلہ کرنے سے گھبرا رہے ہیں۔جب آپ تلوار حمائل کیے ہوئے میدان جنگ چلنے کو تیار ہوگئے تو یہ اصحاب نادم ہوئے اوراپنی راے واپس لینے کا اعلان کیا۔آپ نے فرمایا: کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ زرہ پہن لے اور پھر اتار دے۔ آپ نے حضرت مصعب بن عمیر کوعلم سونپا،حضرت زبیر بن عوام کو رسالہ کا امیر مقرر کیا اور حضرت حمزہ کو جو پیادہ فوج کے ساتھ تھے، آگے بھیج دیا۔ آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے جبل احد کی گھاٹی میں جیش صحابہ کو اس طرح ترتیب دیاکہ پہاڑ آپ کے پیچھے تھا۔ میمنہ پر حضرت علی، میسرہ پر حضرت منذر بن عمرو اور قلب پر حضرت حمزہ متعین تھے۔ جنگ کا بازار گرم ہوا تو حضرت حمزہ ، حضرت علی اور حضرت ابودجانہ دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور خوب قتال کیا۔ حضرت حمزہ ’میں اسد ﷲ اور اسد رسول ہوں‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے دو دو تلواروں سے لڑتے رہے ،جام شہادت نوش کرنے سے پہلے انھوں نے تیس مشرکوں کو ٹھکانے لگایا۔حکیم بن حذام جنگ بدر میں مشرکوں کی جانب سے لڑ رہے تھے اور حوض کے پاس کھڑے تھے ،حضرت حمزہ کی تلوار انھیں چھونے ہی لگی تھی کہ وہ اچانک ان کے سامنے سے گھسٹ کر پرے ہوگئے۔مشرکوں کا علم بردار عثمان بن طلحہ عورتوں کی صف کے آگے رجزپڑھ رہا تھا:

إن علی أہل اللواء حقًا           أن تخضب الصعدۃ أو تندقا

’’پرچم اٹھانے والے کے لیے لازم ہے کہ اس کا نیزہ خون سے بھر جائے یا ٹوٹ جائے ۔‘‘

حضرت حمزہ نے اس کے کاندھے پر تلوارکا ایسا زبردست وار کیا جو اس کے کاندھے اور ہاتھ کو کاٹتا ہوا کمر تک جا پہنچا اور اس کا پھیپھڑا نظر آنے لگا۔پھر یہ نعرہ لگاتے ہوئے پلٹے کہ میں حاجیوں کو پانی پلانے والے (عبدالمطلب) کا بیٹا ہوں۔جضرت حمزہ (دوسری روایت: حضرت علی ) نے مشرکوں کے دوسرے پرچم بردارارطاۃ بن عبد شرحبیل کو بھی جہنم رسید کیا۔پھریہ پرچم یکے بعد دیگرے سات مشرکوں نے اٹھایا، لیکن باری باری ساتوں صحابہ کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچے۔ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب نے مکہ میں عورتوں کا ختنہ کرنے کی ماہر ام انمار کے بیٹے سباع بن عبدالعزیٰ کو تلوار کا وارکر کے دوزخ کی راہ دکھائی۔ یہ ان کا آخری شکار تھا۔اسی اثنا میں جبیر بن مطعم کے غلام وحشی اسودنے انھیں تلوار لہراتے ہوئے، مشرکوں کو ٹھکانالگاتے ہوئے دیکھا اور کہا: ان کی تلوار سے تو کوئی بھی بچ نہیں رہا۔ حضرت حمزہ سباع بن عبدالعزیٰ کو ٹھکانے لگاکر میدان جنگ میںآگے پیچھے حرکت کر رہے تھے کہ یکایک پھسل کر پیٹھ کے بل گرے اور زرہ ان کے پیٹ سے ہٹ گئی۔(دوسری روایت: اپنی گری ہوئی زرہ اٹھانے کے لیے جھکے تھے)۔ وحشی نیزہ پھینکنے کا ماہر تھا، ایک چٹان کی اوٹ میں بیٹھا ہواحضرت حمزہ کی نگرانی کر رہا تھا۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے نیزہ تاک کران کے پیڑو (pelvic floor)میں دے مارا۔ وہ وحشی کی طرف لپکے، لیکن ہمت نہ ہوئی اور اٹھ نہ سکے۔وحشی نے ان کی جان نکلنے کا انتظار کیا، پھر اپنابرچھا نکالا اور لشکر میں گم ہو گیا۔یہ آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے خواب کی تعبیر تھی جو آپ نے جنگ سے پہلے دیکھاتھا کہ آپ کی تلوار ذوالفقار کی دھار میں دندانہ پڑگیا ہے۔ وحشی کے آقا جبیر بن مطعم کا چچا طعیمہ بن عدی جنگ بدر میں حضرت حمزہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ جبیر نے حضرت حمزہ کو شہید کرنے کے بدلے اسے آزاد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ احد میں ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ اور اس کی ساتھی عورتوں نے مسلمان شہداکی لاشوں کا مثلہ کیا۔ انھوں نے شہید صحابہ کے کان ناک کاٹ ڈالے ۔اس نے ان کٹے ناک کانوں کی مالائیں اور پازیبیں بنائیں اور اپنی باندیوں اور خادماؤں میں بانٹ دیں۔اس نے سیدنا حمزہ کے قاتل وحشی کو کٹے اعضا کے ہار اور بالیاں پیش کیں۔ ہندنے حضرت حمزہ کا پیٹ چاک کر کے کلیجہ نکالا اور چبانے کی کوشش کی، لیکن نگل نہ پائی اور تھوک دیا۔پھر وہ ایک بلند ٹیلے پر چڑھ گئی اور بلند آوازمیں یہ اشعار پڑھنے لگی:

نحن جزیناکم بیوم بدر           والحرب بعد الحرب ذات سعر

’’ہم نے تم سے بدر کے دن کا بدلہ لے لیا،پہلی جنگ کے بعد کی جانے والی دوسری جنگ زیادہ بھڑکنے والی ہوتی ہے۔‘‘

ماکان عن عتبۃ لي من صبر           ولا أخي و عمہ و بکري

’’مجھے اپنے باپ عتبہ کی طرف سے قرار تھا نہ اپنے بھائی ولید ،اس کے چچا شیبہ اور اپنے پلوٹھے حنظلہ بن ابو سفیان کی طرف سے صبرتھا۔‘‘

شفیت نفسي و قضیت نذري           شفیت وحشي غلیل صدري

’’میں نے اپنے جی کو ٹھنڈا کیااوراپنی نذر پوری کر لی۔او وحشی، تو نے میرے سینے کی آگ بجھا دی ۔‘‘

حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کو یہ خبر ملی تو فرمایا: ﷲ نے آگ پر حرام کر دیا ہے کہ حمزہ کا گوشت چکھ بھی سکے۔اگرکلیجہ ہند کے پیٹ میں چلا جاتا تو اس پر بھی آگ حرام ہو جاتی۔ ابن سعد کہتے ہیں کہ ہند بنت عتبہ نے حضرت حمزہ کے اعضا سے دو کنگن ، دو بازو بند اور دو پازیبیں بنائیں ، انھیں اورآپ کے کلیجے کو مکہ لے گئی۔ ابوسفیان حضرت حمزہ کے لاشے کے پاس سے گزراتو ان کے چہرے پر نیزے کی انی چبھوئی اور کہا: او نافرمان، اپنے عمل کا مزہ چکھ لے ۔حلیس بن زبان نے دیکھ لیا اور کہا: اے بنوکنانہ، دیکھو ،قریش کا سردار اپنے چچا زاد سے کیا سلوک کر رہا ہے۔ابوسفیان نے کہا: کسی کو مت بتانا، مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔میں نے مثلہ کرنے کا حکم دیا نہ روکا،پسند کیا نہ برا سمجھا،مثلہ کرنا مجھے برالگا ہے،اچھا نہیں لگا (مسند احمد، رقم ۴۴۱۴)۔ احد کے شہدا کی اکثریت کی لاشیں قطع و برید سے سلامت نہ رہی تھیں۔ ایک حضرت حنظلہ بن ابوعامر کی نعش کا مثلہ نہ کیا گیا تھا، کیونکہ ان کا باپ مشرکو ں کی صف میں شامل تھا،اس لیے اسے چھوڑ دیا گیا۔

حضرت حمزہ کی شہادت ۷(یا ۱۵ )شوال ۳ھ کوہوئی،ان کی عمرانسٹھ برس ہوئی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم حضرت حمزہ کی میت ڈھونڈنے نکلے اورفرمایا: میں نے ان درختوں کے پاس انھیں ’میں ﷲ کا شیر ہوں اور ﷲ کے رسول کا شیر ہوں‘کے نعرے لگاتے دیکھا تھا ۔ آپ نے وادی احد کے بیچ ان کی ادھڑی ہوئی لاش اس حال میں دیکھی کہ کلیجہ نکلا ہوا، ناک کان کٹے ہوئے تھے تو بہت دل گیر ہوئے اور روتے ہوئے فرمایا: اگر مجھے اپنی پھوپھی اور حمزہ کی سگی بہن صفیہ بن عبدالمطلب کے غم کا خیال نہ ہوتا اوریہ خدشہ نہ ہوتا کہ میرے بعداسے سنت سمجھ لیا جائے گا ،میں ان کی میت کو یہیں چھوڑ دیتا۔ درندے اور شکاری پرندے اسے اپنی خوراک بنا لیتے اوروہ ان کے پیٹوں سے اٹھائے جاتے (ابوداؤد، رقم ۳۱۳۶۔ مستدرک حاکم، رقم ۱۳۵۱)۔ اگر ﷲ مجھے کسی جنگ میں قریش پرغلبہ دیتا تو میں ان کے تیس (دوسری روایت :ستر)مردوں کا مثلہ کرتا۔حمزہ، آپ کی شہادت سے بڑھ کر مجھ پر کوئی مصیبت آئے گی اورنہ آج سے زیادہ غیظ و غضب دلانے والا موقع ملے گا ۔ آپ کے غم کو دیکھتے ہوئے (احد کے میدان میں،اسی وقت : بیہقی،فتح مکہ کے موقع پر: ترمذی، رقم ۳۱۲۹)ﷲ کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں: ’وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖ وَلَءِنْ صَبَرْتُمْ لَھُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ. وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ اِلَّا بِاللّٰہِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ وَلَاتَکُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ‘ ’’اگر تم نے بدلہ لیا تواتنا ہی لینا جتنی زیادتی تمھارے ساتھ کی گئی ہے۔ اور اگر تم صبرکر لو تو یہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت بہتر ہے۔ اور تمھیں صبر حاصل نہیں ہو سکتا، مگر ﷲ ہی کے تعلق سے۔ اور تم ان چالوں سے دل تنگ نہ کرو جو کافر چل رہے ہیں‘‘ (النحل۱۶: ۱۲۶۔۱۲۷)۔ حضرت جبریل آئے اورفرمایا: سات آسمانوں میں ’حمزۃ أسد ﷲ و أسد رسولہ‘ لکھ دیا گیا ہے (مستدرک حاکم، رقم ۴۸۸۱)۔ آپ نے حضرت حمزہ کو سید الشہدا کا لقب عطا کیا اور دعا فرمائی: چچا، ﷲ آپ پر رحم کرے ،آپ حد سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے اور سبقت کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے۔ حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب آئیں تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان کے بیٹے حضرت زبیر بن عوام سے فرمایا: انھیں واپس لے جاؤ، یہ اپنے بھائی حمزہ کی میت سے کیا جانے والا سلوک نہ دیکھنے پائیں۔ حضرت صفیہ نے کہا: مجھے معلوم ہے، میرے بھائی کا مثلہ کیا گیا ہے۔ میں دیکھ کر صبر کروں گی اور برداشت سے کام لوں گی۔تب آپ نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھا ، دعا فرمائی اور میت کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔ وہ روئیں ، انا للہ وا نا الیہ راجعون کہا اور لوٹ گئیں۔ شہداے احد کی تدفین کا مرحلہ آیا تونبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان شہدا کا شاہد ہوں ۔انھیں خون میں لتھڑے ہوئے ہی دفن کر دو۔ ﷲ کی راہ میں گھائل ہونے والا کوئی زخمی ایسا نہ ہو گا جو روز قیامت بہتے ہوئے خون کے ساتھ نہ اٹھایا جائے۔ رنگ تو خون کا ہو گا، لیکن خوشبو مشک کی آئے گی۔سب سے زیادہ قرآن پڑھے ہوؤں کو آگے رکھو۔ آپ نے دودو پاک نفسوں کوغسل دیے بغیر ایک قبر میں اتارا۔سب سے پہلے آپ نے سات تکبیریں کہہ کر حضرت حمزہ کا جنازہ پڑھا، پھر باقی شہدا کی نماز جنازہ ادا کرنا شروع کی ۔ہر بار آپ حضرت حمزہ کی میت ساتھ رکھتے اور نماز جنازہ ادا فرماتے (مستدرک حاکم، رقم ۲۵۵۷)۔ اس طرح حضرت حمزہ کا جنازہ ستر بار پڑھا گیا۔ دوسری روایت ہے کہ آپ نو صحابہ کی میتیں اکٹھی رکھتے ، دسویں حضرت حمزہ ہوتے توان سب کی ایک نماز جنازہ ادا کرتے۔ حضرت انس بن مالک کی روایت کے مطابق نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے شہداے احد کا جنازہ نہیں پڑھا (ابوداؤد، رقم ۳۱۳۵۔ ترمذی، رقم ۱۰۳۶۔ مسند احمد، رقم ۱۲۲۴۰۔ مستدرک حاکم، رقم ۱۳۵۲)۔ ایک روایت کے مطابق صرف حضرت حمزہ کی نماز جنازہ ادا کی گئی، دوسرے شہدا کا جنازہ نہ پڑھا گیا (ابوداؤد، رقم ۳۱۳۷)۔ شوافع اسی مسلک کے قائل ہیں کہ شہید کا غسل ہوتا ہے نہ جنازہ۔ امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ ان روایات کو جن میں شہداے احد کا جنازہ ادا کرنے کا ذکر ہے ،ترجیح دی جائے گی، چاہے ضعیف ہوں، اس لیے کہ اثبات نفی پر مقدم ہوتاہے۔ سیدالشہدا حضرت حمزہ اور ان کے بھانجے حضرت عبدﷲ بن جحش ایک قبر میں دفن کیے گئے۔ان کی میت کا بھی حضرت حمزہ کی طرح مثلہ کیاگیا تھا،تاہم ان کا جگر محفوظ رہا تھا۔ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت علی اور حضرت زبیر قبر میں اترے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کنارے پر بیٹھ گئے۔ایک چادر کو حضرت حمزہ کا کفن بنایا گیا جو اتنی چھوٹی تھی کہ اگر سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر پاؤں پرڈالتے تو سر کھل جاتا (ترمذی، رقم ۹۹۷،۱۰۱۶۔ مسند احمد، رقم ۲۱۰۷۲)۔ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا چہرہ ڈھانک دو اور پاؤں پر حرمل (یا اذخر) گھاس ڈال دو(مستدرک حاکم، رقم ۲۵۵۸)۔ آپ نے فرمایا: میں نے دیکھاہے کہ فرشتے ان کو غسل دے رہے ہیں (مستدرک حاکم، رقم ۴۸۸۵)۔ حاضرین صحابہ اس بات پر رو دیے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے چچا کے کفن کے لیے ایک کپڑا نہ مل سکا۔اسی اثنا میں حضرت صفیہ اپنے بھائی کی تکفین کے لیے دو چادریں لے آئیں، ان میں سے ایک حضرت حمزہ کو اور دوسری ایک انصاری کو دے دی گئی جن کی تکفین کے لیے کوئی کپڑا نہ تھا (مسند احمد، رقم ۱۴۱۸)۔کچھ اصحاب اپنے پیاروں کی میتیں مدینہ لے گئے تھے، لیکن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے انھیں واپس لانے کا حکم دیا۔ آپ نے فرمایا: شہدا کو ان کے مقام شہادت پرلے آؤ۔

مدینہ واپسی پر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم انصار کے قبائل بنو عبدا الاشہل اورظفر کے گھروں کے سامنے سے گزرے تو آہ وبکا اور بین کی آوازیں سنیں۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے اور فرمایا: حمزہ پر رونے والی کوئی نہیں (مسند احمد، رقم ۵۶۶۶)۔ حضرت سعد بن معاذ اور حضرت اسید بن حضیر بنوعبدالاشہل کے گھر گئے اور عورتوں سے کہا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے گھر جا کر آپ کے چچا کے لیے بھی روؤ اور ان کا افسوس کرو۔حضرت کعب بن مالک نے کہا:

صفیۃ قومي ولا تعجزي           و بکی النساء علی حمزۃ

’’اے صفیہ، اٹھ جائیں ، کمزوری نہ دکھائیں اور عورتوں کو حمزہ پر رلادیں۔‘‘

رات کے وقت آپ نیند سے بیدار ہوئے تو ( حضرت حمزہ کے لیے) عورتوں کے رونے دھونے کی آواز سنی۔ آپ گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: ﷲ تم پر رحم کرے، تم رات بھر روتی رہی ہو، میں یہ نہ چاہتا تھا۔ تم نے اپنی طرف سے ہمدردی اور افسوس ظاہر کر دیا ہے۔ جاؤ اور آیندہ کسی جانے والے پر مت رونا (ابن ماجہ، رقم ۱۵۹۱۔مسند احمد، رقم ۵۵۶۳۔ مستدرک حاکم، رقم ۴۸۸۳)۔ اگلے روز آپ منبر پر بیٹھے اور نوحہ خوانی سے سختی سے منع کر دیا۔ اس کے باوجودانصار میں مدت تک یہ طریقہ رہا کہ اپنی میت پر رونے سے حضرت حمزہ کا گریہ کرتے (مسند احمد، رقم ۴۹۸۴)۔ حضرت عبدﷲ بن عباس کی روا یت ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جنگ احد میں تمھارے بھائی شہید ہوئے تو ﷲ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز پرندوں میں منتقل کر دیا۔وہ جنت کی نہروں پر جا کر پھل میوے کھاتے ہیں اور عرش الٰہی کے سائے میں لٹکی ہوئی سونے کی قندیلوں میں رہتے ہیں۔ انھوں نے کھانے، پینے اورقیام کی لذتیں پائیں تو کہا: کون ہمارے بھائیوں کو بتائے گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور کھا پی رہے ہیں تاکہ وہ جہاد سے جی نہ چرائیں اور جنگ میں بزدلی نہ دکھائیں۔ ﷲ نے فرمایا: میں خود بتاؤں گا۔ چنانچہ یہ ارشاد نازل ہوا: ’وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ‘ (اٰل عمران ۳: ۱۶۹)، اور تم ان لوگوں کو جو ﷲکی راہ میں مارے گئے،مردہ ہر گز نہ سمجھنا ۔وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں، کھاپی رہے ہیں (ابو داؤد، رقم ۲۵۲۰۔ مستدرک حاکم، رقم ۳۴۵۷)۔ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم ہر سال وادی احد جاتے اور گھاٹی کے کنارے پر کھڑے ہو کر دعا فرماتے: اے شہدا، تمھارے صبر کرنے کی وجہ سے تم پر سلام۔ خوب ہو تمھارا آخرت کا گھر۔ حضرت ابوبکر ،حضرت عمر اور حضرت عثمان نے بھی اسی سنت پر برابرعمل کیا۔ سیدہ فاطمہ ہر جمعہ کے دن حضرت حمزہ کی قبر پرجاکر جھاڑ پونچھ کرتیں اوران کے لیے دعا کرتیں(مستدرک حاکم، رقم ۱۳۹۶)۔

حضرت حمزہ کی ازواج اور ان کی اولاد: ملّہ بن مالک انصار اوس (یا بنو سلیم)سے تعلق رکھتے تھے۔ان کی بیٹی جن کا نام ہمیں معلوم نہیں ہو سکا، حضرت حمزہ کے نکاح میں آئیں اورحضرت یعلیٰ، حضرت بکر اورحضرت عامر پیدا ہوئے۔ بنوثعلبہ (بنونجار:بلاذری)کی حضرت خولہ بنت قیس انصاریہ سے حضرت عمارہ بن حمزہ کی ولادت ہوئی،انھی سے حضرت حمزہ کنیت کرتے تھے۔حضرت اسماء بنت عمیس کی بہن حضرت سلمیٰ بنت عمیس خثعمیہ کی حضرت حمزہ سے شادی مکہ میں ہو چکی تھی۔ ان سے حضرت امامہ بنت حمزہ کی پیدایش ہوئی۔ یہ وہی امامہ ہیں کہ حضرت حمزہ کی شہادت کے بعد ان کی تولیت کے لیے حضرت علی ، حضرت جعفر اور حضرت زید بن حارثہ میں نزاع ہوااور نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے انھیں ان کی خالہ حضرت اسماء بنت عمیس کے سپرد فرمادیا جو حضرت جعفر بن ابوطالب کی زوجیت میں تھیں۔ حضرت یعلیٰ بن حمزہ کی اولاد عمارہ، فضل ،زبیر، عقیل اور محمد ہوئے ،تمام فوت ہو گئے اور ان کی نسل آگے نہ چل سکی۔

مرثد بن ابو مرثد غنوی حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کے حلیف تھے۔

حضرت علی نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنے چچا حمزہ کی بیٹی سے شادی کیوں نہیں کر لیتے ،وہ خوب رو ہے۔آپ نے فرمایا: تمھیں معلوم نہیں ، حمزہ میرے رضاعی بھائی بھی ہیں ۔نسب کی بنا پر محرم قرار پانے والے سارے رشتے دودھ پلائی کی وجہ سے بھی حرام ٹھیرتے ہیں۔ مسلم کی روایت ۳۵۷۵کے مطابق یہی سوال ام المومنین ام سلمہ نے بھی کیا۔

قبر کشائی: حضرت جابر بن عبدﷲ روایت کرتے ہیں،حضرت معاویہ نے اپنے عہد حکومت میں احد میں نہر نکالنے کافیصلہ کیا ۔انھیں بتایا گیا کہ اسے شہدا کی قبروں کے اوپر ہی جاری کیا جا سکتاہے تو انھوں نے قبریں کھودنے کی اجازت دے دی۔صحابہ کی میتیں دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے نکالی گئیں تو دیکھنے والے لوگوں کوایسے لگاجیسے وہ سورہے ہیں۔حضر ت حمزہ کے پاؤں کو کدال لگی تو اس میں سے خون بہ نکلا۔

حضرت حمزہ کی اہلیہ حضرت خولہ بنت قیس بن قہد بتاتی ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم حضرت حمزہ سے ملنے آئے۔ دنیا کی باتیں کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: دنیا شاداب اور شیریں ہے۔ جس نے اسے حق کے ساتھ حاصل کیا، اسے برکت دی جاتی ہے۔ ﷲ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ مارنے والے بہت سے ایسے ہوں گے جنھیں روز قیامت جب وہ ﷲ کا سامنا کریں گے، دوزخ نصیب ہو گی (مسند احمد، رقم ۲۷۰۵۴)۔ حضرت حمزہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ہمیں تلقین فرمائی کہ اس دعاکو لازم کر لو: ’اللّٰہم إني أسئلک باسمک الأعظم و رضوانک الأکبر‘، اے ﷲ، میں تیرے بڑے نام اور تیری رضوان عظیم کے واسطے سے سوال کرتا ہوں (المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۲۹۵۹)۔ ایک دفعہ حضرت حمزہ اور حضرت علی نے اکٹھے غسل کیا۔ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے کیسے غسل کیا؟انھوں نے بتایا: ہم نے کپڑا ڈال کر ایک دوسرے کا ستر کر لیا تھا۔آپ نے فرمایا : اگر تم ایسا نہ کرتے تو میں تم دونوں کے ستر کا خیال کرتا (مستدرک حاکم، رقم ۴۸۷۹)۔ ایک آدمی کے ہاں بیٹا پیداہوا تواس نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے نام رکھنے کی درخواست کی۔آپ نے فرمایا: حمزہ نام رکھو جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے (مستدرک حاکم، رقم ۴۸۸۸)۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھ سے پہلے ہر نبی کو سات معزز رفقا دیے گئے تھے، جب کہ مجھے چودہ رفقا(یا نقبا، سات قریش سے اور سات باقی مہاجرین میں سے) کی معیت حاصل ہے۔ حضرت علی سے پوچھا گیا: وہ کون ہیں؟ فرمایا: میں (علی )، میرے دونوں بیٹے (حسن و حسین)، جعفر، حمزہ، ابوبکر، عمر، مصعب بن عمیر، بلال ،سلمان ، مقداد ،ابوذر ،عمار ،اور عبدﷲ بن مسعود‘‘ (ترمذی، رقم ۳۷۸۵)۔ مسند احمدکی روایت ۱۲۶۳ میں مصعب کے بجاے حذیفہ کا ذکر ہے۔ حضرت حمزہ نے عرض کیا: یا رسول ﷲ، مجھے کوئی ذمہ داری دے دیں جس پر میں اپنی زندگی گزار لوں۔ آپ نے فرمایا: حمزہ،آپ اپنے نفس کو زندہ رکھ کر خوش ہوں گے یا اسے مارنا آپ کو محبوب ہو گا؟ جیتا نفس ہی ہونا چاہیے، جواب ملا۔ فرمایا: اپنی ہستی سے چپکے رہو (مسند احمد، رقم ۶۶۳۹)۔

حضرت حمزہ مدینہ آئے تو بنو نجارکی حضرت خولہ بنت قیس سے شادی کی۔ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اپنی چچی حضرت خولہ کے گھر جاتے تو وہ آپ سے سوالات کرتیں۔ ایک دن آپ ان کے ہاں گئے تو حضرت حمزہ گھر میں نہ تھے۔ حضرت خولہ نے کہا: وہ بنو نجار کی کسی تنگ گلی میں آپ ہی کی طرف جا رہے ہوں گے۔ انھوں نے آپ کو کھجور، ستو اور گھی سے بنا ہوا حلوہ پیش کیا اور کہا: میں نے سنا ہے کہ روز قیامت آپ کو اس طرح کاایسا حوض ملے گا۔ آپ نے فرمایا: ہاں، حوض کوثر کا دامن یاقوت، مونگوں، زمرد اور موتیوں سے لبریز ہو گا۔ اس کی پیمایش ایلہ سے مکہ اور مکہ سے صنعا تک ہو گی۔ مجھے بہت خواہش ہے کہ آپ کی قوم اس سے سیراب ہو (مسند احمد، رقم ۲۷۳۱۶)۔

داستان امیر حمزہ: ایران کے صوبہ سیستان کے باغی لیڈرحمزہ بن عبدﷲ (۱۹۷ھ ،۷۹۶ء) کی زندگی پر لکھی گئی نایاب کتاب ’قصہ مغازی حمزہ‘کو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب کی زندگی سے خلط ملط کر دیا گیا ہے۔’ حمزہ نامہ‘،’داستان امیر حمزہ‘،’Adventures of Amir Hamza‘ میں بہادروں اور شیطانوں سے وہ لڑائیاں ملتی ہیں اوران رومانوی قصوں کا تذکرہ ہے جو ایک صحابی رسول کے لائق نہیں۔ اس داستان کا ہیروایران ،ہندوستان اور برما کے ان علاقوں کا سفر کرتا ہے جو حضرت حمزہ نے دیکھے بھی نہ تھے۔یہ مغل بادشاہ اکبر کی بدعات میں سے ایک ہے ۔اس نے قصے کہانیاں سننے کے لیے اس fiction کو خوب فروغ دیا۔

مطالعۂ مزید: السیرۃ النبویہ(ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)،جمل من انساب الاشراف (بلاذری)، تاریخ الامم والملوک(طبری)،دلائل النبوۃ (بیہقی)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، المنتظم فی تواریخ الملوک والامم (ابن جوزی)، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ(ابن اثیر)، البدیۃ والنہایۃ (ابن کثیر)، تاریخ الاسلام (ذہبی)، سیر اعلام النبلا (ذہبی)، الاصابہ فی تمییز الصحابہ (ابن حجر)، محمد رسول ﷲ (محمد رضا)، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (مضمون نگار:G M Meredith Owens)۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List