Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Dr. Waseem Mufti Profile

Dr. Waseem Mufti

  waseemmufti@javeahmadghamidi.com
Author's Bio
Visit Profile
حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی ﷲ عنہ (1/2) | اشراق
Font size +/-

حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی ﷲ عنہ (1/2)

حسب و نسب: ابوطالب اور زبیر بن عبدالمطلب آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے سگے چچا، جب کہ حضرت حمزہ آپ کے سوتیلے چچا تھے۔ بنومخزوم سے تعلق رکھنے والی فاطمہ بنت عمرو آپ کی دادی تھیں۔ حضرت حمزہ کی والدہ کا نام ہالہ بنت اہیب (یا وہیب) تھا ۔دونوں خواتین آپ کے دادا عبدالمطلب کے نکاح میں آنے والی سات بیبیوں میں شامل تھیں۔مقوم(یا عبدالکعبہ) اور حجل(اصل نام: مغیرۃ) حضرت حمزہ کے سگے بھائی، جب کہ حضرت صفیہ بن عبدالمطلب ان کی سگی بہن تھیں۔ہالہ بنت اہیب نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کی والدہ آمنہ بنت وہب کی چچا زاد بہن تھیں،عبد مناف دونوں کے دادا تھے۔ حضرت قریش سے تعلق رکھنے کی وجہ سے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب قریشی اوراپنے دادا ہاشم بن عبد مناف کی نسبت سے ہاشمی کہلاتے ہیں۔ حضرت حمزہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے چار(یا دو: ابن عبدالبر) برس بڑے تھے۔نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی ولادت کے بعد سب سے پہلے ابو لہب کی باندی ثویبہ نے اپنے بیٹے مسروح کے ساتھ آپ کو دودھ پلایا،قبل ازیں وہ حضرت حمزہ کی رضاعت کر چکی تھی اور آپ کے بعد حضرت ابوسلمہ بن عبدالاسد مخزومی کی دودھ پلائی بھی اس کے ذمہ آئی ۔اس طرح آں حضور صلی ﷲعلیہ وسلم، حضرت حمزہ بن عبدالمطلب، حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد اور مسروح رضاعی بھائی ہوئے۔ ابوعمارہ اور ابویعلیٰ حضرت حمزہ کی کنیتیں تھیں۔حضرت حمزہ کا قد میانہ تھا۔

عبدالمطلب کی نذر: چاہ زمزم کی دوبارہ کھدائی کے وقت آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب نے نذر مانی تھی کہ اگر ان کے دس بیٹے ہوئے اور وہ بالغ ہو کر ان کی حفاظت کرنے کے قابل ہو گئے تو ان میں سے ایک کو کعبہ کے پاس قربان کر دیں گے۔چنانچہ جب حارث،زبیر،حجل ،ضرار، مقرم،ابولہب،عباس،حمزہ، ابوطالب اور عبدﷲ جوان ہوئے تو انھوں نے ان کو اپنی نذر کے بارے میں بتایا۔ان کی آمادگی کے بعد قربانی کے لیے پیش کیے جانے والے بیٹے کا فیصلہ کرنے کے لیے انھوں نے ہبل بت کے سامنے رکھے ہوئے قرعہ اندازی کے سات پیالوں سے مدد لی۔سب سے چھوٹے اور محبوب تر ین بیٹے ،نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے والد عبدﷲ کا نام نکلا تو قریش کے اصرار پرایک کاہنہ سجاح کی مدد لی گئی۔اس کی تجویز پر بیٹے کے بجاے سو اونٹوں کا فدیہ دیا گیا۔ دوسری روایت کے مطابق عبدالمطلب کے بارہ یا تیرہ بیٹے ہوئے۔

عبدالمطلب کی بنوزہرہ سے رشتہ داری: عبدالمطلب ایک دفعہ یمن کے سفر پر گئے تو راستے میں ایک یہودی عالم نے ان کے ہاتھ(نتھنے: ابن جوزی) دیکھ کر بتایا کہ آپ کے ہاتھوں میں نبوت و حکومت کے آثار ہیں، لیکن ان کا تعلق قبیلۂ بنو زہرہ سے ہے۔آپ مکہ جا کر کسی زہریہ سے شادی کر لیں، چنانچہ انھوں نے بنوزہرہ کی ہالہ بنت وہب سے نکاح کر لیا ۔ان سے حضرت صفیہ اور حضرت حمزہ پیدا ہوئے۔ عبدالمطلب کے چھوٹے بیٹے عبدﷲ کی شادی بنوزہرہ ہی کی آمنہ بنت وہب سے ہوئی۔ان سے حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔حضرت مسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ ہالہ کی عبدالمطلب سے اور آمنہ کی ان کے بیٹے عبدﷲ سے شادی ایک ہی روز ہوئی (مستدرک حاکم، رقم ۴۸۷۷)۔

جنگ فجار: عام الفیل کے بیس سال بعد۵۸۸ ء میں چوتھی اورآخری جنگ فجار ہوئی ۔ زبیر بن عبدالمطلب نے بنو ہاشم کی نمایندگی کی۔ ابو طالب بن عبدالمطلب، حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ،حضرت عباس بن عبدالمطلب اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم بنوہاشم کے دستے میں شامل تھے۔آپ اپنے چچاؤں اور اہل قبیلہ کو تیر پکڑاتے جاتے تھے۔عکاظ کے مقام پر لڑی جانے والی اس جنگ میں قریش اور اس کے اتحادی کنانی قبائل کو بنوقیس پرفتح حاصل ہوئی۔ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے چچاؤں کے ساتھ جنگ فجار میں حصہ لیا اوراس میں تیر اندازی کی ۔اس شرکت پر مجھے کوئی پشیمانی نہیں۔

حضرت خدیجہ کا پیام: نوجوان محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کی مکہ میں نیک نامی اور امانت کے چرچے ہوئے تو حضرت خدیجہ نے نفیسہ بنت منیہ کو پیغام بر بنا کر آپ کی طرف بھیجا ۔ اس وقت حضرت خدیجہ کے چچا عمرو بن اسد زندہ تھے، صحیح روایت کے مطابق تب ان کے والد خویلدبن اسد وفات پا چکے تھے۔ یہ مقدس رشتہ طے ہوا تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اپنے چچاؤں ابوطالب،حضرت حمزہ اور خاندان کے دوسرے بزرگوں کے ساتھ سیدہ خدیجہ کے مکان پر آئے۔ آپ کے سرپرست اور چچا ابو طالب نے وہ مختصر خطبہ پڑھا جو ادب عربی کا حصہ بن گیا ہے۔ پانچ سو درہم (یا بیس اونٹ)مہر کے عوض یہ نکاح انجام پایا۔ یہ بعثت سے پندرہ سال پہلے ۲۵ عام الفیل کا سن تھا، آپ کی عمر مبارک پچیس برس اور ام المومنین خدیجہ کی چالیس سال تھی۔

اقربا کو دعوت: جب رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم کو ﷲ کی طرف سے حکم ہوا: ’وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ‘، ’’اپنے قریبی رشتہ داروں کوخبردار کرو‘‘(الشعراء۲۶: ۲۱۴) توحضرت علی کو دعوت کی تیاری کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: تمام بنوعبدالمطلب کو جمع کر لینا تاکہ میں ان تک اپنی بات پہنچا سکوں ۔ آپ کے چچا ابو طالب ، حضرت حمزہ، حضرت عباس اور ابولہب سمیت چالیس کے قریب آدمی اکٹھے ہوئے، سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا ۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد آپ بات شرو ع کرنے لگے تھے کہ ابولہب مہمانوں کو لے کر اٹھ کھڑا ہوا۔آپ نے فرمایا: علی، کل پھر یہی اہتمام ہو، اس شخص نے مجھے بات نہیں کرنے دی۔ اگلے دن خورونوش کے بعد آپ نے فرمایا: اے بنو کعب بن لؤی، اپنے آپ کو جہنم سے بچالو؛ اے بنو ہاشم، اپنے آپ کو دوزخ سے بچالو؛ ا ے بنو عبدالمطلب، اپنے آپ کو آگ سے بچالو۔ میں تمھارے پاس دنیا و آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں۔ ﷲ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمھیں دین حق کی طرف بلاؤں۔تم میں سے کون اس کام میں میرا مددگار بنے گا؟حضرت علی کہتے ہیں کہ سب خاموش رہے تو میں نے آپ کے ساتھ تعاون کرنے کا اعلان کیا، حالاں کہ میں ان سب سے چھوٹاتھا ۔

ابولہب کی ایذا رسانی: رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کا چچا ابولہب آپ کا پڑوسی تھا۔وہ اپنے گھر کا پاخانہ اور گندگی آپ کے دروازے پر پھینک دیتا تھا۔ آپ صرف اتنا فرماتے: اے بنو عبدالمطلب، تم کیسے ہم سایے ہو؟ایک روز حضرت حمزہ نے اسے ایسا کرتے دیکھ لیا تو پاخانہ اٹھا کر ابولہب کے سر پر ڈال دیا۔وہ سر جھاڑتا جاتا اور کہتا جاتا: صابی، احمق۔ ابولہب پھر خودیہ حرکت کرنے سے باز آ گیا، تاہم اس طرح کے لوگوں کے ساتھ مل کر سازشیں کرتا رہا۔

قبول اسلام: حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ۶ ؍ نبوی (۵؍ نبوی:ابن جوزی، ۲؍ نبوی:ابن عبدالبر،ابن اثیر )میں ایمان لائے۔ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کوہ صفا پر تھے کہ ابوجہل کاوہاں سے گزر ہوا۔اس نے آپ کو برا بھلا کہا ، گالی گلوچ کی اور دین اسلام کا استہزا کیا۔جواب میں آپ خاموش رہے ۔عبدﷲ بن جدعان کی باندی اپنے گھر بیٹھی سن رہی تھی۔ابوجہل صفا سے کعبہ کے پاس قریش کی منعقدہ بیٹھک میں آ بیٹھا۔کچھ دیر ہی گزری تھی کہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب شکار سے واپسی پر گلے میں کمان لٹکائے آ گئے۔ ان کا طریقہ تھا ، شکارکرنے کے بعد بیت ﷲ کا طواف کرتے ،قریش کی مجلس میں بیٹھتے، حاضرین سے سلام دعا اور گپ شپ کرتے۔ اس کے بعد ہی وہ گھر لوٹتے۔گھر کے راستے میں انھیں عبدﷲ بن جدعان کی باندی ملی او ر کہا: اے ابو عمارہ، کاش! آپ دیکھ لیتے،آپ کے بھتیجے محمد نے ابو الحکم بن ہشام کا کیسا سلوک برداشت کیا۔ اس نے انھیں سب وشتم کیا اور ایذا پہنچائی، لیکن وہ چپ رہے۔ حضرت حمزہ کو سخت غصہ آیا ، غیظ و غصب سے پر دوڑتے دوڑتے ا بوجہل کے پاس پہنچ گئے اور کمان اس کے سر پر دے ماری۔ اس کا سر پھاڑ کر بولے: میں نے بھی محمد کادین اختیار کر لیا ہے اور انھی باتوں کا قائل ہو گیا ہوں جو وہ کہتے ہیں۔مجھے روک سکتا ہے تو روک لے۔ابوجہل کے قبیلے بنومخزوم کے لوگ اس کی حمایت میں کھڑے ہوئے تو اس نے خود انھیں روک دیا اور کہا: ابوعمارہ کا غصہ بجا ہے ، میں نے اس کے بھتیجے کو بہت برا کہا ہے۔قبول اسلام کے بعد حضرت حمزہ گھر گئے تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ تم قریش کے سردار ہو کر اس دین کو مان آئے ہو جس کے ہدایت ہونے پر تمھارا پورا یقین نہیں۔رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے انھیں سمجھایا اورتسلی دی تو وہ مطمئن اور پر یقین ہو گئے۔ حضرت حمزہ کے مسلمان ہونے کے بعد مکہ کے اہل ایمان کو بڑی تقویت ملی۔ مختلف قبائل اسلام کی طرف مائل ہونے لگے (مستدرک حاکم، رقم ۴۸۷۸)۔ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی یہ دعا بھی قبول ہوئی کہ اے ﷲ، میرے محبوب چچاؤں حمزہ اور عباس کے ذریعے سے مجھے طاقت دے۔ان دونوں کے علاوہ آپ کا کوئی چچا اسلام نہ لایا۔

۶ ؍نبوی میں حضرت عمر اپنی مسلمان ہونے والی بہن حضرت فاطمہ بنت خطاب اورمسلم بہنوئی حضرت سعید بن زید کی سر پھٹول کرنے کے بعد شرمندہ ہوئے۔ان کو مائل بہ ایمان دیکھ کر حضرت خباب بن ارت دار ارقم لے آئے جہاں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم ،حضرت ابوبکر ،حضرت حمزہ اور دیگر مخلص اہل ایمان جمع تھے۔حضرت عمر نے دروازہ کھٹکھٹایا، ایک صحابی نے آپ کو بتایاکہ عمر گلے میں تلوار لٹکائے کھڑے ہیں۔حضرت حمزہ بولے: ان کو آنے دیں،اگر بھلا چاہیں گے تو ہم جی جان سے تعاون کریں گے اور اگر ارادہ برا ہوا تو انھی کی تلوار سے ان کا کام تمام کر دیں گے۔ آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم حضرت عمر کی طرف بڑھے اوران کی چادر زور سے کھینچ کر بولے :ابن خطاب، کیسے آئے ہو؟ حضرت عمر نے ایمان لانے کا اعلان کیا تو آپ نے زور سے’ ﷲ اکبر‘ کا نعرہ بلند کیا۔ حضرت عمر حضرت حمزہ کے مسلمان ہونے کے تین دن بعد ایمان لائے۔ انھوں نے ایمان قبول کرتے ہی کہا: یا رسول ﷲ،کیا ہم حق پر نہیں؟ تو پھر ہم کیوں چھپ چھپ کر جییں؟ اس کے بعد مسلمان دوصفیں بنا کر حرم میں پہنچے: ایک میں حضرت عمر اور دوسری میں حضرت حمزہ تھے۔ رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم نے بیت ﷲ کا علانیہ طواف کیا اور ظہر کی نماز ادافرمائی۔

حضرت حمزہ کے ایمان لانے کے بعد ہی حضرت عبدﷲ بن مسعودنے مقام ابراہیم پر ، جہاں قریش کی بیٹھک جمی ہوئی تھی، بلند آواز میں سورۂ رحمن تلاوت کرنے کی ہمت کی۔یہ الگ بات ہے کہ قریش نے مار پیٹ کر ان کا منہ سجا دیا۔

شعب ابو طالب: متعدد مسلمانوں کے حبشہ ہجرت کر جانے اور حضرت حمزہ کے ایمان لانے کے بعدمشرکین کو اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت روکنے کا اس کے علاوہ کوئی طریقہ نہ سوجھا کہ مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ کیا جائے۔ چنانچہ تمام رؤساے قریش نے اہل ایمان کے سماجی مقاطعہ کا معاہدہ تحریر کیا اور اس پر دستخط ثبت کر کے کعبہ میں لٹکا دیا۔مسلمان تین سال شعب ابو طالب میں محصور رہے،قریش نے ان کی غلہ و حاجات ضروریہ کی رسدروک رکھی تھی۔ ایک بار حضرت خدیجہ کے بھتیجے حکیم بن حزام اپنی پھوپھی کے لیے گندم لے کرجارہے تھے کہ ابوجہل نے دیکھ لیا۔اس نے انھیں روکنا چاہا تو ابوالبختری بن ہشام نے ٹوکا۔اس پر ان دونوں میں لڑائی مار کٹائی ہو گئی۔حضرت حمزہ بن عبدالمطلب پاس کھڑے دیکھ رہے تھے۔

رؤیت جبریل: حضرت حمزہ نے نبی صلی ﷲعلیہ وسلم سے کہا: مجھے حضرت جبرئیل علیہ السلام اپنی اصل شکل میں دکھا دیں۔آپ نے فرمایا: آپ ان کو دیکھ نہ سکیں گے۔انھوں نے اصرار کیا تو آپ نے دکھایا کہ حضرت جبرئیل کعبہ کی اس لکڑی پر اترے جس پر طواف کرنے والے اپنے کپڑے لٹکا دیتے ہیں۔ان کے پاؤں سبز زمرد کی طرح تھے۔ حضرت حمزہ انھیں دیکھتے ہی بے ہوش ہو گئے۔

ہجرت مدینہ: ساکنان مکہ کو ہجرت کا اذن ہواتوحضرت حمزہ بھی شہر نبی پہنچ گئے ۔ابن اسحق کی روایت کے مطابق حضرت حمزہ ،حضرت زید بن حارثہ، حضرت حمزہ کے حلیف حضرت ابومرثدکناز بن حصین،ان کے بیٹے مرثد، حضرت انسہ اور حضرت ابوکبشہ قبا میں بنوعمرو بن عوف کے حضرت کلثوم بن ہدم کے ہاں ٹھیرے۔ ایک اور روایت کے مطابق یہ سب حضرات حضرت سعد بن خیثمہ کے مہمان ہوئے۔ تیسری روایت بتاتی ہے کہ حضرت حمزہ نے بنونجار کے حضرت اسعد بن زرارہ کے ہاں قیام کیا۔ مسجد نبوی تعمیر ہوئی تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ،حضرت جعفر اور حضرت علی کے گھر اپنے گھر کے ساتھ تعمیر کرائے، حالاں کہ حضرت جعفر ابھی حبشہ سے نہ لوٹے تھے۔ ان اصحاب کے گھروں کے دروازے مسجد میں کھلتے تھے جو بعد میں آپ نے ﷲ کے حکم سے بند کرا دیے۔ آپ نے فرمایا: ’’اس مسجد میں کوئی دریچہ کھلا نہ رہنے پائے، سواے دریچۂ ابو بکر کے‘‘ (بخاری، رقم ۴۶۷۔ مسلم، رقم ۶۲۴۵)۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے گھر کا بڑا دروازہ ہی مسجد کے اندر تھا، اسے بند کرنا ممکن نہ تھا۔

مواخات: رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف آوری کے بعد حضرت انس بن مالک کے گھر میں پینتالیس (یا پچاس) مہاجرین اور اتنی ہی تعداد انصار کی جمع کی اور ان میں باہمی مواخات قائم فرمائی۔ سب سے پہلے آپ نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر انھیں اپنا اسلامی بھائی بنایا۔آپ نے ایک مہاجر کو ایک انصاری کا بھائی قرار دینے کے ساتھ کچھ مہاجرین میں باہمی مواخات بھی قرار فرمائی۔آپ نے اپنے آزادکردہ حضرت زید بن حارثہ کو حضرت حمزہ کا مومن بھائی قرار دیا۔ اسی بنا پرحضرت حمزہ نے جنگ احد میں اپنی شہادت کی صورت میں حضرت زید کے حق میں وصیت کی۔ابن کثیر کہتے ہیں کہ حضرت حمزہ شروع سے حضرت زید کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے۔

سریۂ حمزہ بن عبد المطلب: رمضان ۱ھ (۶۲۳ء ) ہجرت مدینہ کے سات(دوسری روایت:بارہ) ماہ بعد رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ کو سفید علم عطا کر کے ساحل سمندر(سیف البحر) کی طرف عیص کے مقام پر بھیجا جو قریش کی شام سے تجارت کے راستے پر واقع تھا۔ تیس مہاجر صحابہ ان کے ساتھ تھے۔ ان میں ایک بھی انصاری نہ تھا۔ ساحل پر ان کا سامنا ابوجہل کے قافلے سے ہوا جو مکہ کے تین سو گھڑ سواروں کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔مجدی بن عمرو دونوں فریقوں کا حلیف تھا، اس نے ان میں بیچ بچاؤ کرا دیا اور جنگ کی نوبت نہ آئی۔ زہری ،موسیٰ بن عقبہ اور واقدی کا کہنا ہے کہ یہ تاریخ اسلامی کاپہلا سریہ تھا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے جو پرچم حضرت حمزہ کے سپرد فرمایا، وہ آپ کا عطا کردہ پہلا جنگی پرچم تھا۔اسے حضرت ابومرثد نے تھامے رکھا ۔ ابن اسحق کہتے ہیں کہ شوال ۱ھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ساٹھ (یا اسی) مہاجرین کا ایک دستہ ترتیب دیااور حضرت عبیدہ بن حارث کی قیادت میں اسے بطن رابغ جانے کا حکم دیا۔ حضرت عبیدہ کو آپ نے جو پرچم عنایت کیا ،وہ پہلااسلامی پرچم تھا۔ زہری کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے پہلے حضرت حمزہ کو سیف البحر(ساحل)کی طرف بھیجا ،پھر غزوۂ ابوامیں تشریف لے گئے، وہاں سے آپ لوٹے تو حضرت عبیدہ بن حارث کو روانہ فرمایا۔ابن ہشام کہتے ہیں کہ حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ کے سریے ایک ساتھ روانہ کیے گئے تھے، اس لیے اس باب میں اہل تاریخ میں اختلاف رونما ہو گیا۔ہم نے اہل علم سے جو سماع کیا، اس کے مطابق حضرت عبیدہ بن حارث پہلے پرچم بردار تھے۔ حضرت حمزہ کی طرف منسوب کچھ اشعار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انھیں پہلا علم اسلامی بلند کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اگر یہ اشعار واقعی حضرت حمزہ کے ہیں تو ان کا دعویٰ سچ ہی ہو گا، لیکن افسوس کہ عربی شاعری کے اکثر علما ان کی طرف اشعار کی نسبت درست نہیں مانتے:

فما برحوا حتی انتدبت لغارۃ          لہم حیث حلوا أبتغي راحۃ الفضل

’’مشرکین اپنے کفر پر قائم رہے، یہاں تک کہ میں ان کے پڑاؤ کرنے کی جگہ چھاپا مارنے لپکا،مجھے فضیلت و سبقت کی تمنا تھی ۔‘‘

بأمر رسول ﷲ ، أول خافق          علیہ لواء لم یکن لاح من قبلي

’’یہ رسول ﷲ کے حکم سے ہوا،اس سریہ پر پہلا پرچم پھڑپھڑا رہا تھا جو مجھ سے پہلے نمودار نہ ہوا تھا ۔‘‘

لواء لدیہ النصر من ذي کرامۃ          إلہ عزیز فعلہ أفضل الفعل
’’یہ پرچم ایسا تھا کہ ﷲ عزیز و مقتدر کی مدد ساتھ تھی جوایسا زبردست الٰہ ہے جس کا کرنا سب سے خوب کرنا ہے۔‘‘

ابن حجر نے دونوں روایتوں میں یوں تطبیق کی کہ پرچم کے لیے عربی میں دو لفظ ’رایہ‘ اور ’لواء‘ آتے ہیں ۔ عبیدہ کے لیے ’رایہ‘ اور حمزہ کے لیے ’لواء‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ممکن ہے ، دونوں کی اولیت اس خاص نام کے حوالے سے درست ہو۔بیہقی کا خیال ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت عبدﷲ بن جحش کو سرایا کے سلسلے کا پہلا امیر مقرر فرمایا۔

غزوۂ ودان یا غزوۂ ابوا: ۱۲ ؍ربیع الاول ۲ھ (جون ۶۲۳ء )ہجرت کے بارھویں ماہ آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم قریش کے قافلے کا تعاقب کرنے کے لیے فرع کے گاؤں ودان روانہ ہوئے،ابوا یہاں سے چھ میل دورواقع ہے۔ آپ کا سفید علم حضرت حمزہ بن عبدالمطلب نے بلند کررکھا تھا۔قریش سے مقابلہ تونہ ہوا، تاہم بنوضمرہ کے سردار مخشی بن عمروسے معاہدۂ صلح طے ہوگیا۔ابن سعد کہتے ہیں: غزوۂ ودان ہی غزوۂ ابوا ہے۔

غزوۂ ذو العشیرہ: جمادی الاولیٰ ۲ھ (اکتوبر۶۲۳ء ) رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم شام کو جانے والے قریش کے قافلے کو روکنے کے لیے مدینہ سے سو میل دور مکہ کی جانب ینبع کے قریب واقع مقام عشیرہ(یا ذو العشیرہ) تک پہنچے۔ ڈیڑھ سو یا دو سو مہاجرین آپ کے ساتھ تھے۔ آپ کا پرچم حضرت حمزہ نے اٹھا رکھا تھا۔اس مہم میں کسی جنگ کی نوبت نہ آئی، البتہ بنومدلج اور بنوضمرہ کے حلیف قبائل سے صلح ہو گئی ۔

غزوۂ بدر سے پہلے ہونے والے سرایا میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے انصار کو اس لیے شامل نہیں فرمایا، کہ انھوں نے آپ سے عہد کیا تھا کہ ہم اپنے گھر میں آپ کی حفاظت کریں گے۔

جنگ بدر: ۱۷؍ رمضان ۲ھ (۱۳؍ مارچ۶۲۴ء) کو بدر کے میدان میں کفر و اسلام کا فیصلہ کن معرکہ ہوا۔ ۳؍ رمضان کو تین سوسے زائد مسلمان مدینہ سے چلے تو ان کے پاس محض ستر اونٹ تھے جن پر وہ باری باری سوار ہوتے۔ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم،حضرت علی اورحضرت ابو لبابہ باری باری ایک اونٹ پر سوار ہوتے رہے، روحا کے مقام پر پہنچ کر آپ نے حضرت ابولبابہ کو مدینہ کا عامل مقرر کرکے واپس بھیج دیا تو حضرت مرثد غنوی آپ کے شریک سفر بن گئے۔ حضرت حمزہ ، حضرت زید بن حارثہ ،حضرت ابوکبشہ اور حضرت انسہ نے ایک اونٹ پر باری لی۔ میدان جنگ میں حضرت علی نے مہاجرین کا پرچم اٹھایا، جب کہ حضرت سعد بن عبادہ نے انصار کا پرچم تھاما۔ آں حضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی سے کہا: مشرکوں کی فوج کے قریب کھڑے حمزہ سے پوچھو ، کون ہے جو سرخ اونٹ پر پھر رہا ہے؟ انھوں نے بتایا کہ یہ عتبہ بن ربیعہ ہے جو اپنی فوج کو جنگ سے باز رہنے کی اپیل کر رہا ہے(مسند احمد، رقم ۹۴۸)۔

سب سے پہلے اسود بن عبدالاسد مخزومی نکلااور بولا: میں نے ﷲسے عہد کیا ہے کہ مسلمانوں کے حوض سے پانی پیوں گا یا اسے ڈھا ؤں گا یا اس کے پاس مر جاؤں گا۔حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اس کا مقابلہ کرنے آئے اورتلوار کا وار کر کے اس کی آدھی پنڈلی کاٹ پھینکی۔وہ کمر کے بل گرا اور اپنی قسم پوری کرنے کے لیے حوض میں جا گرا۔حضرت حمزہ نے اس کا پیچھا کیا اورایک اور وار کر کے حوض کے اندر اس کا خاتمہ کر دیا۔

ابوجہل نے صلح کی بات کرنے پرطعن وتشنیع کی توعتبہ،اس کا بھائی شیبہ بن ربیعہ اور اس کا بیٹا ولید بن عتبہ آگے بڑھے اوردعوت مبارزت(duel)دی۔ انصار میں سے حضرت عوف بن عفرا،حضرت معوذ بن عفرا اورحضرت عبدﷲ بن رواحہ ان کا سامنا کرنے آئے تو پوچھا: تم کون ہو؟ بتایا: گروہ انصار۔عتبہ بولا: ہمارا تم سے کوئی مطلب نہیں۔پھر ایک مشرک نے آو از دی: اے محمد، ہماری قوم کے ،ہم سے برابر کی چوٹ رکھنے والوں کو بھیجو۔ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے بھی پسند نہ کیا کہ قریش کی پہلی ٹکر انصار سے ہو۔ آپ پکارے: اے بنی ہاشم، اٹھ کر مقابلہ کرو، اٹھو،حمزہ ! اٹھو،عبیدہ بن حارث، اٹھو، علی! تینوں نکل کر آئے تو عتبہ نے ان کے نام پوچھے، کیونکہ جنگی لباس پہننے کی وجہ سے وہ پہچانے نہ جاتے تھے۔ حضرت حمزہ نے کہا: میں شیر خدا اور شیر رسول حمزہ بن عبدالمطلب ہوں۔ حضرت علی نے کہا: میں بندۂ خدا اور برادر رسول علی بن ابو طالب ہوں۔حضرت عبیدہ نے کہا: میں حلیف رسول عبیدہ بن حارث ہوں۔ عتبہ بولا: اب برابر کے، صاحب شرف لوگوں سے جوڑ پڑا ہے۔ اولاً اس نے اپنے بیٹے ولید کو بھیجا،حضرت علی اس کے مقابلے پرآئے ۔دونوں نے ایک دوسرے پرتلوار سے وار کیا۔ ولید کا وار خالی گیا، جب کہ حضرت علی نے ایک ہی ضرب میں اس کا کام تمام کر دیا۔ پھر عتبہ خود آگے بڑھا اورحضرت حمزہ اس کا سامنا کرنے نکلے۔ ان دونوں میں بھی دو ضربوں کا تبادلہ ہوااور عتبہ جہنم رسید ہوا۔اب شیبہ کی باری تھی،حضرت عبیدہ بن حارث سے اس کا دوبدو مقابلہ ہوا، دونوں نے ایک دوسرے پر کاری ضربیں لگائیں۔ حضرت عبیدہ کی پنڈلی پر تلوار لگی اور ان کا پاؤں کٹ گیا۔جنگی روایت کے مطابق حضرت حمزہ اورحضرت علی فاتح ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھی کی مدد کر سکتے تھے۔دونوں پلٹ کر شیبہ پر پل پڑے ،اسے جہنم رسید کیا اور زخمی حضرت عبیدہ کو اس حال میں اٹھا کر لے آئے کہ ان کی ٹانگ کی نلی سے گودا بہ رہا تھا۔ان کی شہادت اسی زخم سے ہوئی۔

ابن اسحٰق، طبری، ابن اثیر اور ابن کثیر نے بیان کیا ہے کہ حضرت حمزہ کا روبرو مقابلہ شیبہ سے ہوا اورانھوں ہی نے شیبہ کو جہنم رسید کیا۔اس طرح عتبہ اور حضرت عبیدہ میں دوبدو جنگ ہوئی جس میں دونوں زخمی ہوئے ۔پھرحضرت علی اورحضرت حمزہ نے مل کر عتبہ کو انجام تک پہنچایا ۔ ابن سعد کی روایت اس کے برعکس ہے،ان کا کہنا ہے کہ روبرو مقابلے کے بعد حضرت حمزہ نے عتبہ کو قتل کیا، جب کہ شیبہ نے حضرت عبیدہ کا سامنا کیا۔خلاف اکثریت ہونے کے باوجود اس روایت کو ترجیح دینا پڑتی ہے، کیونکہ یہ حقائق سے زیادہ موافقت رکھتی ہے۔ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ نے حضرت حمزہ سے بدلہ لینے کی قسم اس لیے کھائی تھی، کہ اس کا باپ انھی کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ چنانچہ اگلے برس جنگ احد ہوئی اورحضرت حمزہ حبشی غلام وحشی کا نیزہ لگنے کے بعد شہید ہوئے تواسی انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے ہندنے ان کا پیٹ چاک کر کے کلیجہ چبایااور پھر اگل دیا۔سنن ابوداؤد میں ایک تیسری ترتیب مذکور ہوئی ہے۔حضرت علی خود روایت کرتے ہیں کہ ’’حمزہ عتبہ کی طرف بڑھے اور میں (علی )نے شیبہ کا سامنا کیا۔عبیدہ اور ولید میں دو ضربوں کا تبادلہ ہوا ،دونوں نے ایک دوسرے کو شدید زخمی کر کے گرا دیا ۔پھر حمزہ نے اور میں نے ولید کو قتل کیا اور عبیدہ کو اٹھا لائے‘‘(رقم ۲۶۶۵)۔

جنگ بدر کے دن حضرت حمزہ نے حضرت علی اور حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ مل کر ابوسفیان کے ایک بیٹے حنظلہ کو قتل کیا اور دوسرے بیٹے عمرو کو قید کر لیا۔ انھوں نے طعیمہ بن عدی اوررسو ل ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو ایذائیں دینے والے ابوقیس بن فاکہ کو جہنم واصل کیا۔نبیہ بن حجاج کو حضرت حمزہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص نے مل کر قتل کیا۔ ابن ہشام کی روایت کے مطابق ابو قیس بن ولید بھی حضرت حمزہ کے ہاتھوں انجام کو پہنچا۔عتیب بن زمعہ حضرت حمزہ اور حضرت علی کی مشترکہ کاوش سے قتل ہوا۔عائذبن سائب بدر کے دن قید ہوا، پھر فدیہ دے کر چھوٹا، تاہم مکہ لوٹتے ہوئے دوران جنگ میں حضرت حمزہ کے لگائے ہوئے زخم سے ہلاک ہوا۔

غزوۂ بدر کے روز حضرت عبدالرحمن بن عوف کی اپنے پرانے مشرک دوست امیہ بن خلف سے ملاقات ہوئی تو اس نے پوچھا: وہ شخص کون ہے جس نے اپنے سینے پر شترمرغ کے پر لگا رکھے ہیں؟ انھوں نے بتایا: یہ حمزہ بن عبدالمطلب ہیں۔امیہ بولا: یہی تو ہے جس نے(آج)ہمیں بڑا نقصان پہنچایاہے۔ قریش کہتے تھے کہ آج ہمیں صفیہ بنت عبدالمطلب کے بھائی حمزہ،بیٹے زبیر بن عوام اور بھتیجے علی بن ابوطالب نے بہت نقصان پہنچایا۔

غزوۂ بدر میں قریش کے ستر افراد نے جہنم کی راہ دیکھی اور ستر ہی مسلمانوں کی قید میں آئے۔رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے صحابہ سے قیدیوں کے بارے مشورہ کیا۔حضرت ابوبکر نے مشورہ دیا کہ یہ ہمارے ہی چچیرے اور بھائی بند ہیں،ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیں۔ہمیں مال مل جائے گا اور عین ممکن ہے ، ﷲ انھیں ہدایت دے دے۔ حضرت عمر نے کہا: میری راے مختلف ہے۔میں کہتا ہوں کہ فلاں شخص میرے سپرد کر دیا جائے اور میں اس کی گردن اڑا دوں، عباس کو حمزہ کے حوالے اور عقیل علی کو سونپ دیا جائے ۔یہ ان کا سر قلم کردیں تاکہ ﷲ کو علم ہو کہ ہم قائدین کفار سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے۔نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر کی راے پر عمل کیا،تاہم ﷲ کی طرف سے ناراضی کی آیات نازل ہوئیں: ’تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ‘، ’’تم دنیا کے سروسامان کی خواہش کر رہے ہو او رﷲ آخرت چاہتا ہے‘‘ (الانفال ۸: ۶۷)۔ پھر فدیہ قبول کرنے کی اجازت دے دی گئی (مسنداحمد، رقم ۲۰۸)۔

حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی ﷲ عنہ (2/2)

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List