Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Dr. Waseem Mufti Profile

Dr. Waseem Mufti

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
حضرت علی رضی اللہ عنہ (۱) | اشراق
Font size +/-

حضرت علی رضی اللہ عنہ (۱)

نام و نسب

عبداﷲ بن عبدالمطلب،عبد مناف بن عبدالمطلب اورزبیر بن عبدالمطلب سگے بھائی تھے۔عبداﷲ رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم کے والد تھے،جب کہ حضرت علی نے عبد مناف بن عبدالمطلب کے گھرجنم لیا۔عبد مناف اپنے بڑے بیٹے طالب کے نام پر رکھی گئی کنیت ابوطالب سے مشہور ہیں۔ حضرت فاطمہ بنت اسد بن ہاشم حضرت علی کی والدہ تھیں، وہ پہلی ہاشمی خاتون تھیں جن کی شادی ایک ہاشمی سے ہوئی۔ اس طرح حضرت علی پہلے ہاشمی الطرفین ہوئے۔ عبدالمطلب (اصل نام: شیبہ) ان کے دادااور ہاشم (اصل نام: عمرو)پردادا تھے۔ہاشم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت علی کے پردادا ہونے کے علاوہ حضرت علی کے نانا بھی تھے۔

حضرت علی بعثت نبوی سے دس سال قبل،۱۵ ؍ستمبر۶۰۱ء میں مکہ کی وادی شعب بنی ہاشم میں پیدا ہوئے۔ یہ روایت کہ حضرت حکیم بن حزام کی طرح ان کی ولادت بھی کعبہ کے اندرہوئی،درست نہیں۔ اگر ان کا مولود کعبہ ہونا مان بھی لیا جائے تو اس سے کوئی فضیلت ثابت نہیں ہوتی،کیونکہ خانۂکعبہ جاے عبادت ہے، اسے ولادت کے لیے چننا رسم جاہلیت تھی۔تب حضرت علی کے والد مکہ میں نہ تھے،ان کی والدہ نے ان کا نام اپنے والد کے نام پر اسد رکھا، لیکن جب ابوطالب واپس آئے توعلی نام پسند کیا۔ ’أسد أنا الذي سمتني أمي حیدرہ‘ (میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدرہ رکھا تھا) میں ضرورت شعری کی بنا پر حیدرہ ہو گیا، بعد میںحیدر بھی بولا جانے لگا۔ابن اثیر کہتے ہیں، یہ تاویل درست نہیں،ان کی والدہ نے ان کا نام حیدرہ ہی رکھا تھا۔ بھاری گردن والے، طاقت ور ہاتھ پاؤں رکھنے والے شیر کو حیدرہ کہا جاتا ہے،المرتضیٰ کے علاوہ حیدرہ بھی حضرت علی کا لقب ہے۔ حضرت علی کی کنیت ابوالحسن اور ابوتراب تھی۔

حضرت علی کے سب سے بڑے بھائی طالب ان سے تیس برس بڑے تھے۔عقیل بیس سال اورحضرت جعفر بن ابوطالب ان سے دس برس بڑے تھے۔ حضرت علی کی دو سگی بہنیں تھیں۔حضرت ام ہانی (فاختہ بنت ابوطالب )نے فتحمکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا،جب کہ جمانہ بنت ابوطالب آبائی دین پر قائم رہیں۔

قبول اسلام میں اولیت

علماے سیرت کا اتفاق ہے کہ سیدہ خدیجہ تمام عورتوں مردوں میں سب سے پہلے ایمان لائیں۔ اس بات میں کہ مردوں میں سب سے پہلے کون مشرف بہ اسلام ہوا، ان کی راے ایک نہیں۔حضرت عبداﷲ بن عباس، حضرت جابر بن عبداﷲ،حضرت سلمان فارسی،حضرت ابوذرغفاری،حضرت مقداد بن اسود، حضرت خباب بن ارت،حضرت ابوسعید خدری اورحضرت زید بن ارقم کی روایت کے مطابق رسالت محمدی پر ایمان لانے والے پہلے مرد (male) علی تھے۔ مشہور روایات کے مطابق اس وقت ان کی عمردس (یانو) سال تھی اور وہ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی پرورش میں تھے۔ حضرت عبداﷲ بن عمر تب ان کی عمر تیرہ، جب کہ حسن بصری پندرہ یا سترہ برس بتاتے ہیں۔موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں:حضرت علی،حضرت زبیر بن عوام،حضرت طلحہ بن عبیداﷲاور حضرت سعد بن ابی وقاص ہم عمر تھے۔ قبول اسلام کے وقت حضرت زبیر کی عمر اٹھارہ اور حضرت سعد کی سترہ برس تھی۔واقدی کا کہنا ہے کہ حضرت علی نے بعثت کے ایک سال بعد اسلام قبول کیا۔

حضرت علی کے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی کفالت میں آنے کی وجہ یہ تھی کہ کچھ عرصہ قبل مکہ میں سخت قحط پڑا توآپ نے اپنے مال دارچچا حضرت عباس سے فرمایا: ابو طالب کثیر العیال ہیں،اس دشواری کے زمانہ میں ہمیں ان کا بوجھ ہلکا کرنا چاہیے۔ ان کا ایک بیٹا آپ گود لیں اور ایک میں پالتا ہوں۔ابوطالب مان گئے اور کہا:عقیل اور طالب کے علاوہ جو بچہ لینا چاہتے ہو، لے لو۔تب حضرت جعفر حضرت عباس کے پاس اورحضر ت علی آپ کے پاس آ گئے۔بچپن نبی اکرم کی تربیت میں گزارنے کی وجہ سے حضرت علی کسی بت کے آگے جھکے نہ رسوم مشرکانہ سے دامن آلودہ کیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کو سبقت الی الایمان کی نعمت مل گئی۔حضرت جابر کہتے ہیں کہ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو پیر کے دن منصب نبوت عطا ہوااور منگل کے روز حضرت علی نے اسلام قبول کیا۔دوسری روایت مختلف ہے، بعثت کو ایک دن ہی گزرا تھا کہ حضرت علی نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اورسیدہ خدیجہ کو نماز پڑھتے دیکھ لیاتو طفلانہ حیرت سے پوچھا: یامحمد ،آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ اﷲ کا دین ہے جو اس نے اپنے لیے پسند کیا اور اپنے رسولوں کے ذریعے سے بھیجا۔میں تمھیں اﷲ وحدہٗلا شریک لہٗ پر ایمان لانے اور لات وعزیٰ کا انکار کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ حضرت علی نے کہا: میں اپنے والد ابوطالب سے مشورہ کروں گا۔آپ نے فرمایا: علی، اگر تو اسلام نہ لایا تو اس بات کو راز رہنے دینا۔تاہم حضرت علی ایک دن مزید غور کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔بعد میں ابوطالب کو پتا چلا تو کہا:اپنے چچازاد کا ساتھ دو۔ ایک اور روایت کے مطابق حضرت علی حضرت ابوبکر سے پہلے اسلام لائے، لیکن حضرت ابوبکر نے ان سے پہلے اظہار ایمان کیا۔عباد بن عبداﷲ نے حضرت علی سے روایت کیا کہ میں ہی اﷲ کا بندہ، اس کے رسول کا ساتھی اور صدیق اکبر ہوں۔ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ عام مسلمانوں سے سات برس قبل نماز پڑھ لی تھی (ابن ماجہ، رقم۱۲۰ ۔ مستدرک حاکم، رقم ۴۵۸۴)۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ روایت کسی طور پر درست نہیں۔ ذہبی اسے باطل قرار دیتے ہیں۔

حضرت عمرو بن عبسہ،ابراہیم نخعی اورحضرت ابن عباس کی دوسری روایت کے مطابق حضرت ابوبکر نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔حضرت حسان بن ثابت کا یہ شعر اسی کا بیان ہے:

الثاني التالي المحمود مشہدہ       وأول الناس منہم من صدق الرسل

’’دوسرے نمبر پررہنے والے، پیروی کرنے والے،جن کی زندگی اور موت پسندیدہ ہے،رسولوں کی تصدیق کرنے والوں میں اول۔‘‘

زہری، سلیمان بن یسار،عروہ بن زبیر اور سلمہ کی روایات کے مطابق حضرت زید بن حارثہ سب سے پہلے مسلمان ہوئے۔

امام ابوحنیفہ نے ان تینوں اقوال میں موافقت اس طرح کی،عورتوں میں (یا عورتوں،مردوں دونوں میں) سب سے پہلے سیدہ خدیجہ ایمان لائیں۔ غلاموں میں حضرت زید بن حارثہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آزاد کردہ اورمنہ بولا بیٹا ہونے کی وجہ سے وہ آں حضورصلی اﷲ علیہ وسلم کے قریب تھے، اس لیے سبقت الی الاسلام کی نعمت ملی۔ بچوں میں حضرت علی سب سے پہلے ایمان لائے،وہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے کنبہ میں شامل تھے، اس لیے اسلام کی طرف لپکنے کا موقع ملا۔ آزاد مردوں میں حضرت ابوبکر سب سے پہلے مسلمان ہوئے۔انھیں رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم نے خود اسلام کی دعوت دی تو وہ بلا ترددفی الفور ایمان لے آئے (بخاری، رقم ۴۶۴۰)۔

آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب کی وفات کے بعد آپ کی پرورش کرنے والے، اعلان نبوت کے بعدمشرکوں کے ظلم و ستم کے خلاف آپ کی نصرت و حمایت کرنے والے چچاابوطالب آخر ی دم تک آبائی مشرکانہ دین پر قائم رہے اور اسی پر جان دی، تاہم آپ کی چچی،حضرت علی کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد کو اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ انھوں نے مدینہ ہجرت کی اور وہیں۴ھ میں وفات پائی،نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے کفن کے طور پر اپنی قمیص انھیں پہنائی۔حضرت فاطمہ بنت اسد نے اپنی بہو حضرت فاطمہ زہرا کے ساتھ بہت شفقت و محبت کا برتاؤ کیا۔حضرت علی نے ان سے کہہ رکھا تھا کہ آپ فاطمہ بنت محمد کی باہر کی ضروریات اور پانی بھرنے کی ذمہ داری لے لیں،وہ گھریلو کام کاج،گندم پیسنے، آٹا گوندھنے،روٹیاں پکانے کا کام کر لے گی (المعجم الکبیر،طبرانی، رقم ۲۰۳۲۶)۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے دوسرے سگے چچا زبیربن عبدالمطلب بعثت سے پہلے ہی وفات پاگئے۔

حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ صحابہ میں سب سے پہلے نمازا دا کرنے و الے حضرت علی تھے(ترمذی، رقم ۳۷۳۴)۔ دوسری روایت اس طرح ہے،مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر اسلام لائے اور سب سے پہلے حضرت علی نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی (کنز العمال، رقم۳۵۶۶۴)۔ آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت علی مکہ کی گھاٹیوں میں نکل جاتے اور ابوطالب اور دوسرے اعزہ سے چھپ کر نماز ادا کرتے۔ ایک روز ابوطالب نے دیکھ لیا تو پوچھا: بھتیجے، یہ تم نے کون سا دین اختیار کر لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اﷲ، فرشتوں، رسولو ں اور ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے۔ اپنے بندوں کو دعوت دینے کے لیے اﷲ نے مجھے مبعوث کیا ہے۔ سب سے زیادہ حق آپ کا ہے کہ میں دعوت ہدایت دوں اور آپ قبول کریں۔ ابو طالب نے جواب دیا: واﷲ!تم میری پشت پر غالب نہ آسکو گے۔میں اپنے اور آبا و اجداد کے دین کو نہیں چھوڑ سکتا، لیکن جب تک میں زندہ ہوں،قریش تمھیں کوئی ناپسندیدہ بات نہ کہہ سکیں گے۔ یہی سوال ابوطالب نے حضرت علی سے بھی کیا، انھوں نے کہا:ابا جان، میں اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا ہوں اور ان کے ساتھ نماز پڑھی ہے۔ ابوطالب نے کہا:محمد ہمیں خیر ہی کی دعوت دیتے ہیں،ان سے چپکے رہو۔ عفیف کندی کہتے ہیں کہ زمانۂجاہلیت کے ایام حج میں ایک بار میں سامان تجارت لے کر مکہ آیا اور عباس بن عبدالمطلب کا مہمان ہوا۔ میں ان کے پاس ہی تھا کہ ایک نوجوان آیا،طلوع ہوتے ہوئے سورج پر نگاہ ڈالی اور کعبہ کے رخ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا۔ پھر ایک عورت اور ایک لڑکا آئے اورنوجو ان کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے۔ اس نے رکوع کیا تو لڑکا اور عورت بھی جھک گئے۔ نوجوان نے سر اٹھا یا توو ہ دونوں بھی کھڑے ہوئے پھر تینوں سجدہ ریز ہوگئے۔میں نے کہا:عباس، یہ کون سا دین ہے؟ انھوں نے جواب دیا، یہ میرے بھتیجے محمد بن عبداﷲ ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ اﷲ نے انھیں رسول بنا کر بھیجا ہے اور (عنقریب)قیصر و کسریٰ کے خزانے ان کے قبضے میں آ جائیں گے۔ یہ عورت ان کی اہلیہ خدیجہ اوریہ لڑکا علی بن ابوطالب ہیں۔اس وقت روے زمین پر یہ تینوں ہی اس دین کے پیروکار ہیں۔عفیف کہتے ہیں: کاش (میں اس وقت ایمان لا کر)چوتھا مسلمان بن جاتا (میزان الاعتدال : ۱۰۱۸)۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں،حضرت زید بن حارثہ اورحضرت علی ہروقت نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے۔آپ صبح سویرے کعبہ جاتے اورچاشت کی نماز ادا فرماتے۔ اس وقت تو قریش کچھ نہ کہتے، لیکن جب آپ کوئی دوسری نمازپڑھتے توحضرت علی اور حضرت زید آپ کی حفاظت کرتے۔

حضرت علی بتاتے ہیں:میں مکہ کے نواح میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا۔راستے میں آنے والاہر درخت اور پہاڑ آپ کو سلام کرتا (ترمذی، رقم۳۷۰۵۔ دلائل النبوۃ ۲/ ۱۵۴)۔

حضرت ابوذرغفاری کا قبول اسلام

بنوغفار بنو کنانہ کا ذیلی قبیلہ تھا جو مدینہ کے جنوب مغرب میں واقع وادی بدر کے قریب آباد تھا۔راہ زنی کرنے والے اس قبیلے کے ایک نیک فطرت انسان ابوذرکو حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت کا علم ہوا تو مکہ کے لیے رخت سفر باندھ لیا۔ انھوں نے آپ کو دیکھا نہ تھا اور کسی سے پوچھنا بھی نہیں چاہتے تھے، اس لیے حرم میں آ کر بیٹھ گئے اور یہیں رات ہو گئی۔ اتفاق سے حضرت علی نے انھیں دیکھ لیا اور مسافر سمجھ کر گھرچلنے کی دعوت دی،راستے میں ان کی آپس میں کوئی بات چیت نہ ہوئی۔شب بسری کے بعد ابوذر پھر خانۂکعبہ میں آکربیٹھ گئے۔دوسرا دن بھی اسی طرح گزرا۔تیسرے روز حضرت علی نے انھیں پھر وہیں بیٹھے دیکھا تو پوچھا: کیا مسافر کوابھی تک اپنی منزل کا علم نہیں ہو سکا؟ ابوذر نے کہا: اگر آپ میری رہنمائی کرنے کا وعدہ کریں تو بتادیتا ہوں۔ مجھے خبر ملی ہے کہ یہاں ایک شخص نبی ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ حضرت علی نے کہا: آپ راہ یاب ہو گئے ہیں، میں انھی کے پاس جارہا ہوں۔اس طرح حضرت ابوذر دربار رسالت میں پہنچے اورسبقت الی الاسلام کا شرف حاصل کیا۔نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر کو قبول اسلام چھپا کر وطن لوٹنے اور اہل وطن کو باخبر کرنے کی تلقین فرمائی، لیکن انھوں نے حرم میں جا کر بلندآواز سے کلمۂشہادت پڑھ دیا۔ اس پر مشرکوں نے ان کو خوب مارا پیٹا،حضرت عباس نے یہ کہہ کر ان کی جان چھڑائی کہ یہ بنوغفار سے تعلق رکھتے ہیں اور تمھارے قافلے انھی کی سرزمین سے گزر کر شام جاتے ہیں (بخاری، رقم۳۸۶۱۔ مسلم، رقم ۲۴۷۴)۔ حضرت ابوذر غفاری کے قبول اسلا م کا واقعہ مسند احمد میں مختلف طرح بیان کیا گیا ہے۔اس میں حضرت علی کا ذکر نہیں آیا(رقم ۲۱۵۲۵)۔

آں حضور کی اپنے کنبے کو دعوت

۳ ؍ نبوی میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ کی طرف سے حکم ہوا،’وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ‘،’’اپنے قریبی رشتہ داروں کوخبردار کرو‘‘ (الشعراء ۲۶: ۲۱۴)۔اس بارے میں تین طرح کی روایتیں پائی جاتی ہیں۔

صحاح کی روایات میں بس اتنا ذکر ملتا ہے کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر چڑھ کراپنے اقارب بنوکعب،بنومرہ، بنو عبد شمس اور بنو عبد مناف کومخاطب کر کے آنے والے عذاب شدید سے خبردار کیا۔ یہاں دعوت بہ عام کا بیان ہے، نہ حضرت علی کے نام کی صراحت ہے (بخاری، رقم ۴۷۷۰۔ مسلم، رقم۴۲۱۔ نسائی، رقم ۳۶۴۷)۔

دوسری نوع کی روایات غیر صحاح میں ہیں۔مسند احمدکی یہ روایت ۸۸۳ضعیف السندہے۔نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے اقربا کودعوت دی تو تیس افراد اکٹھے ہوگئے۔خور ونوش کے بعدآپ نے ان سے پوچھا: میری طرف سے دی جانے والی دعوت دین اور جزا و سزا کے وعدوں میں میرا ساتھ دینے کی کون ضمانت دیتا ہے؟وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا اور میرے کنبے میں میرا نائب ہوگا۔ارشاد سننے والے ایک صحابی نے کہا: حضور، آپ تو سمندرتھے،بھلا یہ ذمہ داری کون اٹھا سکتا تھا؟آپ نے تمام اہل خانہ کے سامنے یہ سوال دہرایا۔کوئی نہ بولا تو حضرت علی نے کہا: میں یہ ذمہ داری سنبھالوں گا۔

بیہقی کی دلائل النبوۃ ۲/۱۷۹میں ہے: حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ فرمان الہٰی نازل ہونے کے بعد مجھے دعوت کی تیاری کا حکم دیتے ہوئے ارشادفرمایا:بکری کا گوشت رکھنا اور دودھ کامٹکابھرلینا۔تمام بنوعبدالمطلب کو جمع کر لینا تاکہ میں ان تک اپنی بات پہنچا سکوں۔ آپ کے چچا ابوطالب، حضرت حمزہ،حضرت عباس اور ابولہب سمیت چالیس کے قریب آدمی اکٹھے ہوئے، سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد آپ بات شرو ع کرنے لگے تھے کہ ابولہب مہمانوں کو لے کر اٹھ کھڑا ہوااور کہا: تمھارے میزبان نے تم پر جادو کر دیا ہے۔آپ نے فرمایا: علی ، کل پھر یہی اہتمام ہو، اس شخص نے مجھے بات نہیں کرنے دی۔ اگلے دن خورونوش کے بعد آپ نے فرمایا:اے بنو کعب بن لؤی، اپنے آپ کو جہنم سے بچالو؛ اے بنو ہاشم،اپنے آپ کو دوزخ سے بچالو؛ا ے بنو عبدالمطلب،اپنے آپ کو آگ سے بچالو۔ میں تمھارے پاس دنیا و آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں۔ اﷲ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمھیں دین حق کی طرف بلاؤں۔تم میں سے کون اس کام میں میرا مددگار بنے گا؟حضرت علی کہتے ہیں:سب خاموش رہے تو میں نے آپ کے ساتھ تعاون کرنے کا اعلان کیا، حالاں کہ میں ان سب سے چھوٹا تھا۔ابن کثیر نے البدایۃ والنہایۃ ۳/ ۲۴۲میں یہی روایت بیہقی کے حوالہ سے نقل کی ہے۔ مسند احمدکی روایت ۱۳۷۱میں اس دعوت کاذکر،ملتے جلتے الفاظ میں ہے۔محدثین نے اسے بھی ضعیف قرار دیا ہے۔

نوع سوم کی روایات روافض ا ور حدیث وضع کرنے والوں نے گھڑیں۔ان میں حضرت علی کے وزیر، وصی اور خلیفہ ہونے کا ذکر ہے اور یہ بھی بیان ہواہے کہ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی کی سمع و طاعت کرنے کی نصیحت کی تو آپ کے چچاؤں اور رشتہ داروں نے مذاق اڑایا اور ابوطالب سے کہا کہ لو اپنے بیٹے کی سمع و طاعت کرو۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب حضرت علی سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے چچازاد حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے وارث کیسے بن گئے توانھوں نے اسی واقعے کا حوالہ دیا (طبری ۱/ ۵۴۳۔ ضعیف تاریخ الطبری،محمد بن طاہر برزنجی ۷/ ۲۰ -۲۲) ۔

دعوت عشیرہ کا واقعہ ۳ ؍نبوی میں پیش آیا۔تب حضرت حمزہ مشرف بہ اسلام ہوچکے تھے۔ان کی موجودگی میں نوخیز حضرت علی کی وراثت کا اعلان کرنا حقیقت نہیں ہو سکتاپھر یہ کہ وصیت مسائل میراث میں ہوتی ہے، اسلام کے دور ابتدا میں نیابت دینیہ کے اعلان کرنے کا کوئی موقع نہ تھا۔

ابو طالب کی وفات

ابوطالب کی وفات ہوئی تو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی کو حکم دیا:جاؤ اور انھیں دفنادو۔حضرت علی نے کہا:انھوں نے تو حالت شرک میں وفات پائی ہے۔ آپ نے فرمایا: جاؤ،ان کی تدفین کرنے کے بعد میرے پاس آنا۔ حضرت علی جب فارغ ہو کر لوٹے تو آپ نے انھیں غسل کرنے کو کہا اور ان کے لیے ایسی دعا فرمائی کہ وہ کہتے ہیں،روے زمین میں ان کے لیے اس سے بہتر کوئی شے نہیں ہو سکتی (ابوداؤد، رقم ۳۲۱۴۔ نسائی، رقم ۲۰۰۸۔ مسند احمد، رقم ۷۵۹۔ مسند ابویعلیٰ، رقم۴۲۳۔ مصنف عبدالرزاق، رقم۹۹۳۶)۔ دوسری روایت میں ہے کہ سرخ یا سیاہ اونٹ ملنے پر بھی اتنی خوشی نہ ہوتی (مسند احمد، رقم ۸۰۷)۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے ابوطالب کو غسل دے کر،کفن پہنا کر دفنانے کا حکم دیا اور کچھ روز ان کے لیے استغفار کرتے رہے، حتٰی کہ اﷲ کی طرف سے منع کر دیا گیا۔

ہجرت سے پہلے بت گرانا

وہ روایت درست نہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ قیام مکہ کے دوران میں ایک رات نبی صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت علی بیت اﷲ گئے۔ حضرت علی آپ کے مبارک کاندھوں پر قدم رکھ کرکعبہ کی چھت پرچڑھے اور آپ کے حکم سے لوہے کی میخوں سے نصب تانبے کے سب سے بڑے بت کو اکھاڑ کر زمین پر گرا دیا۔ بت پاش پاش ہوا تو آپ دونوں دوڑ کرقریبی گھروں میں چھپ گئے۔وہ بت دوبارہ نصب نہ ہوا (مسنداحمد، رقم ۶۴۴۔ مستدرک حاکم، رقم ۳۳۸۷۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۸۰۶۲۔ مسند ابو یعلیٰ، رقم ۲۹۲)۔ یہ واقعہ حقیقت نہیں ہو سکتا، کیونکہ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ ہجرت سے پہلے آپ نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا۔ذہبی کہتے ہیں کہ روایت کی سند تو بھلی لگتی ہے، لیکن متن منکر، یعنی لائق انکارہے۔

حج کے دنوں میں قبائل عرب کو دعوت دینا

نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ کی طرف سے حکم ہوا کہ وہ اپنی دعوت عرب کے دیگر قبائل کو پیش کریں۔ چنانچہ آپ حج کے دنوں میں منیٰ کو نکل جاتے، حضرت ابوبکر اور حضرت علی آپ کے ساتھ ہوتے۔حضرت علی فرماتے ہیں، اس کار خیر میں ہمیشہ ابوبکر آگے آگے ہوتے۔

مدینہ کی طرف ہجرت

ایک طویل عرصہ اہل مکہ کی ایذائیں سہنے کے بعد مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ہوا۔ سب سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر اورحضرت ابن ام مکتوم مدینہ پہنچے پھرحضرت عمار بن یاسر،حضرت سعد بن ابی وقاص،حضرت عبداﷲ بن مسعود اورحضرت بلال نے ہجرت کی (بخاری، رقم۳۹۲۵)۔ ان کے بعد حضرت ابوسلمہ، حضرت عامر بن ربیعہ،حضرت عثمان بن مظعون،حضرت ابوحذیفہ اورحضرت عبداﷲ بن جحش نے طیبہ کا رخ کیا۔ حضرت عمر بیس افراد کے قافلہ کے ساتھ مدینہ آئے۔آخرکارحضر ت ابوبکر،حضرت علی اور وہ صحابہ مکہ میں رہ گئے جنھیں قریش نے محبوس کر رکھا تھا۔

حضرت ابوبکر نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سے ہجرت کی اجازت مانگتے تو آپ جواب دیتے،جلدی نہ کرو، ہو سکتا ہے کہ اﷲ تمھارا کوئی ساتھی بنا دے ،یعنی آپ خودحضرت ابوبکر کے ساتھ مل کر مکہ سے روانہ ہوں۔ آپ کو ہجرت کااذن تب ملا جب قریش نے آپ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔دار الندوہ(دار قصی بن کلاب) میں قریش کے سرداروں کا اجتماع ہوا، عتبہ، شیبہ،ابوسفیان،طعیمہ بن عدی،جبیب بن مطعم،حارث بن عامر، نضر بن حارث، ابوبختری،ربیعہ بن اسود،حکیم بن حزام، ابوجہل،نبیہ،منبہ اور امیہ بن خلف شریک ہوئے۔ ابلیس ایک بوڑھے نجدی سردار کی ہیئت میں شامل تھا۔ابلیس کی رہنمائی اورابوجہل کے مشورے سے طے ہوا کہ قریش کا ہر ذیلی قبیلہ اپنا ایک نوجوان دے گا اور یہ سب مل کر آپ کو(معاذ اﷲ)قتل کردیں گے۔اس طرح کسی قبیلے پر انفرادی ذمہ داری نہ آئے گی اور بنو عبد مناف کے لیے سب قبائل سے بدلہ لینا ممکن نہ ہو گا۔ اﷲ کے حکم سے جبریل علیہ السلام آئے اوررسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کہا:آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں۔ چنانچہ آپ نے حضرت علی کو حکم دیا کہ میری سبز(حضر موت کی بنی ہوئی) حضرمی چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سو جاؤ، تمھیں ان کی طرف سے کوئی ایذا نہ پہنچنے پائے گی۔ یہ ارشاد بھی فرمایا: ہمارے جانے کے بعد مکہ میں رہنا اور لوگوں کی پڑی ہوئی امانتیں لوٹا کر ہی مدینہ آنا۔امر ہجرت تب تک مخفی تھا،حضرت علی اور حضرت ابوبکر کے کنبے کے علاوہ کسی کوخبر نہ تھی۔رات ہوئی تو قریش گھر کے باہرجمع ہو کر آپ کے سونے کا انتظار کرنے لگے۔ آپ گھر سے نکلے،سورۂ یٰسین کی ابتدائی آیات پڑھتے ہوئے مٹھی بھرخاک مشرکوں کے سروں پر پھینکی اور مدینہ کے سفر پر روانہ ہو گئے۔صحیح روایات کے مطابق آپ اور حضرت ابوبکر اکٹھے عازم ہجرت ہوئے، تاہم یہ شاذروایت بھی موجود ہے کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے روانہ ہونے کے بعد حضرت ابوبکر آئے اور حضرت علی نے انھیں غار ثور کی طرف بھیجا۔ دشمنوں کوآپ کے مکہ سے نکلنے کی خبر ہی نہ ہوئی،کسی راہ گیر نے پوچھا: کس کا انتظار کر رہے ہو؟ جواب دیا: محمد کا۔ اس نے کہا: وہ تو جا چکے ہیں۔انھوں نے حضرت علی کو آپ کی چادر اوڑھے بستر پر دیکھا توسمجھے کہ آپ سوئے ہوئے ہیں اور اس شخص نے جھوٹ بولا ہے۔رات بیت گئی،صبح ہوئی،تب حضرت علی سے پوچھا: انھوں نے کہا: تم نے ان کو جانے کوکہاتھا، اس لیے وہ چلے گئے ہیں۔مشرکین نے ا ن کو مارا پیٹا اورکچھ دیر قید میں رکھ کر چھوڑ دیا۔

قرآن مجید میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے: ’وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ وَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ‘، ”یادکریں وہ وقت جب کافرآپ کے خلاف سازشیں کر رہے تھے کہ آپ کو قید کر لیں یا قتل کر ڈالیں یا آپ کو سرزمین مکہ سے باہر نکال دیں۔وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اﷲ اپنی تدبیرکررہا تھا۔اور اﷲ ہی بہترین تدبیر کرنے والا ہے“ (الاانفال ۸: ۳۰)۔

حضرت علی نے مکہ میں تین دن قیام کیا اوررسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تمام امانتیں واپس کر کے وہاں سے نکل آئے، رات کے وقت سفر کرتے اور دن کو چھپ جاتے۔ربیع الاول ۱۳؍ نبوی میں عوالی مدینہ (قبا) پہنچے تو حضرت کلثوم بن ہدم کے ہاں قیام کیا، نبی صلی اﷲ علیہ وسلم بھی یہیں سکونت رکھتے تھے۔مسلسل سفر کی وجہ سے حضرت علی کے پاؤں سوج چکے تھے۔ آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہیں توخودان کے پاس تشریف لائے، گلے لگایااور اپنا لعاب دہن ان کے پاؤں پر لگا کر ملا۔حضرت علی کی تکلیف ایسی زائل ہوئی کہ پھر کبھی نہ ہوئی۔یہ کہنا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صاحب زاد یوں حضرت فاطمہ، حضرت ام کلثوم اور ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ نے حضرت علی کے ساتھ سفر ہجرت کیا،درست نہیں۔

قبا میں اپنے چندروزہ قیام کے دوران میں حضرت علی نے دیکھا کہ ایک عورت اکیلی رہ رہی ہے۔اس کا خاوند نہیں، لیکن ایک شخص روزانہ آتا ہے اور اسے کچھ دے کر چلا جاتا ہے۔ انھوں نے حیرت سے پوچھا تو اس نے بتایا،یہ سہل بن حنیف ہیں۔اپنی قوم کے بت پاش پاش کر کے میرے پاس لے آتے ہیں تاکہ میں انھیں ایندھن کے طور پر استعمال کروں۔حضرت علی عراق میں حضرت سہل کی وفات کے بعد بھی اس بات کا تذکرہ کرتے رہے۔

مطالعۂ مزید: السیرۃ النبویۃ(ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)،الجامع المسند الصحیح (بخاری، شرکۃ دار الارقم)، تاریخ الامم والملوک(طبری)،المنتظم فی تواریخ الملوک والامم (ابن جوزی)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)،الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)،اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ(ابن اثیر)، تاریخ الاسلام (ذہبی)، البدایۃ والنہایۃ (ابن کثیر)،الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ(ابن حجر)، سیرت النبی (شبلی نعمانی)، تاریخ اسلام (اکبر شاہ خاں نجیب آبادی)، رسول رحمت (ابوالکلام آزاد)، قصص النبیین(ابو الحسن علی ندوی)،سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ(البانی)،اسمی المطالب فی سیرۃ علی بن ابی طالب (علی محمد صلابی)، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (مقالہ:مرتضیٰ حسین فاضل)،سیرت علی المرتضیٰ (محمد نافع)۔

[باقی]

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List