Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Shahid Raza Profile

Shahid Raza

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
حج فرض یا حج نذر | اشراق
Font size +/-

حج فرض یا حج نذر



ترجمہ وتدوین: شاہد رضا


۱۔ رُوِيَ أَنَّ رَجُلاً نَذَرَ أَنْ یَّحُجَّ وَلَمْ یَکُنْ حَجَّ حَجَّۃَ الْإِسْلاَمِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’حُجَّ حَجَّۃَ الْإِسْلاَمِ، ثُمَّ حُجَّ لِنَذْرِکَ بَعْدُ‘‘. (بیہقی، رقم ۸۴۶۵)
۲۔ وَرُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلاً یَقُوْلُ: لَبَّیْکَ عَنْ شُبْرُمَۃَ، قَالَ: ’’مَنْ شُبْرُمَۃُ‘‘؟ قَالَ: أَخٌ لِيْ أَوْ قَرِیْبٌ لِيْ، قَالَ: ’’حَجَجْتَ عَنْ نَفْسِکَ‘‘؟ قَالَ: لاَ، قَالَ: ’’حُجَّ عَنْ نَفْسِکَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَۃَ‘‘.(ابوداؤد، رقم ۱۸۱۱)

۱۔ روایت کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے حج ادا کرنے کی نذر مانی، جبکہ اس نے فرض حج ادا نہیں کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: پہلے فرض حج ادا کرو، پھر اپنی نذر کے لیے حج ادا کرو۱۔
۲۔ اور روایت کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ سلم نے (حج کے دوران) ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا: شبرمہ کی جانب سے لبیک، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے (اس سے) پوچھا: یہ شبرمہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا: میرا بھائی یا (کہا کہ) میرا قریبی رشتہ دار۲، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے (اس سے) پھر پوچھا: کیا تم نے اپنی جانب سے حج ادا کر لیا ہے؟ اس نے عرض کیا: جی نہیں (یا رسول اللہ)، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: پہلے اپنی جانب سے حج ادا کرو، پھر شبرمہ کی جانب سے حج ادا کرو۔

حواشی کی توضیح

۱۔ تمام احکام عبادت، خواہ وہ پنج وقتہ نماز ہو، روزے ہوں، صدقہ ہو یا حج کی ادائیگی، انھیں باقی تمام اقسام کی عبادات، خواہ وہ نفلی ہوں یا نذر کی، سب پر ترجیح حاصل ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درج بالا روایت میں واضح فرما دیا ہے۔
۲۔ یہ بات بدیہی طور پر واضح ہے کہ کسی بھی نوعیت کی فرض عبادت کا حکم ایک شخص سے دوسرے شخص پر عائد نہیں ہو سکتا۔ روایت سے واضح ہے کہ وہ شخص اپنے بھائی کی نذر پوری کرنے کے لیے حج ادا کر رہا تھا، جبکہ اس کا بھائی اپنی نذر پوری کرنے سے پہلے ہی وفات پا چکا تھا یا وہ ایسا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔ امام بیہقی کی بیان کردہ ایک روایت اس نکتے کی بہ خوبی وضاحت کرتی ہے۔ بیہقی، رقم۹۶۳۵ کے مطابق، وہ شخص اپنے بھائی کی نذر پوری کرنے کے لیے حج ادا کر رہا تھا جو اس نے مانی ہوئی تھی اور اس کے بھائی نے اس شخص کو اپنی جانب سے پوری کرنے کے لیے وصیت کی تھی۔ روایت درج ذیل ہے:

أن عبد اللّٰہ بن عباس مر بہ رجل یہل یقول: لبیک بحجۃ عن شبرمۃ، فقال: ومن شبرمۃ؟ قال: أوصی أن یحج عنہ، فقال: أحججت أنت؟ قال: لا، قال: فابدأ أنت فاحجج عن نفسک، ثم أحجج عن شبرمۃ.
’’حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہما) ایک شخص کے پاس سے گزرے جوحج ادا کر رہا تھا، وہ کہہ رہا تھا: شبرمہ کے حج کے لیے لبیک، حضرت ابن عباس نے اس سے پوچھا: یہ شبرمہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا: شبرمہ نے مجھے اپنی جانب سے حج ادا کرنے کی وصیت کی تھی، حضرت ابن عباس نے پوچھا: کیا تم نے اپنا حج ادا کر لیا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: پہلے اپنی جانب سے حج ادا کرو، پھر شبرمہ کی جانب سے ادا کرو۔‘‘

متون

پہلی روایت: السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۸۴۶۵ میں روایت کی گئی ہے۔
دوسری روایت: بعض اختلافات کے ساتھ دوسری روایت ابوداؤد، رقم۱۸۱۱؛ ابن ماجہ، رقم۲۹۰۳؛ بیہقی، رقم ۸۴۵۸۔ ۸۴۶۷، ۹۶۳۵؛ ابن خزیمہ، رقم۳۰۳۹؛ ابویعلیٰ، رقم۲۲۴۰، ۴۶۱۱؛ دارقطنی، رقم۱۴۵۔۱۴۷ اور ابن ابی شیبہ، رقم۱۳۳۷۰ میں روایت کی گئی ہے۔
بیہقی، ۸۴۶۱ میں ’... سمع رجلاً یقول: لبیک عن شبرمۃ‘ (...ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا: شبرمہ کی جانب سے لبیک) کے الفاظ کے بجاے ’راٰی رجل یلبي عن رجل‘ (دیکھا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی جانب سے لبیک کہہ رہا ہے) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً ابن ماجہ، رقم۲۹۰۳ میں ’أحججت أنت؟‘ (کیا تم نے اپنا حج ادا کر لیا ہے؟) کے الفاظ کے بجاے ان کے مترادف الفاظ ’ہل حججت أنت؟‘ (کیا تم نے اپنا حج ادا کر لیا ہے؟) روایت کیے گئے ہیں؛ ابن خزیمہ، رقم۳۰۳۹ میں ان کے مترادف الفاظ ’ہل حججت؟‘(کیا تم نے حج ادا کر لیا ہے؟) روایت کیے گئے ہیں؛ بیہقی، رقم۸۴۵۸ میں یہ الفاظ ’أحججت قط؟‘ (کیا تم نے کبھی حج ادا کیا ہے؟) روایت کیے گئے ہیں؛ بیہقی، رقم ۸۴۵۹ میں ان کے مترادف الفاظ ’حججت قط؟‘(کیا تم نے کبھی حج ادا کیا ہے؟) روایت کیے گئے ہیں؛ بیہقی، رقم۸۴۶۱ میں یہ الفاظ ’لبیت عن نفسک؟‘ (کیا تم نے اپنی جانب سے لبیک کہا ہے؟) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً ابن ماجہ، رقم۲۹۰۳ میں ’فابدأ أنت فاحجج عن نفسک‘ (پہلے اپنی جانب سے حج ادا کرو) کے الفاظ کے بجاے ’فاجعل ہذہ عن نفسک‘ (پھر یہ حج اپنی جانب سے ادا کرو) کے الفاظ ر وایت کیے گئے ہیں؛ ابن خزیمہ، رقم۳۰۳۹ میں ان کے مترادف الفاظ ’فاحعل ہذہ عنک‘(پھر یہ حج اپنی جانب سے ادا کرو) روایت کیے گئے ہیں؛ بیہقی، رقم۸۴۵۸ میں یہ الفاظ ’حج عن نفسک‘(اپنی جانب سے حج ادا کرو) روایت کیے گئے ہیں؛ ابویعلیٰ، رقم۲۴۴۰ میں ان الفاظ کے مترادف الفاظ’فاحجج عن نفسک‘(پھر اپنی جانب سے حج ادا کرو) روایت کیے گئے ہیں؛ بیہقی، رقم۸۴۶۳ میں یہ الفاظ ’فہذہ عنک‘(پھر یہ تمھاری طرف سے ہے) روایت کیے گئے ہیں؛ بیہقی، رقم۸۴۶۱ میں یہ الفاظ ’فلب عن نفسک‘(پھر اپنی طرف سے لبیک کہو) روایت کیے گئے ہیں؛ بیہقی، رقم۸۴۶۲ میں ان الفاظ کے متبادل الفاظ ’عن نفسک فلب‘(پھر اپنی طرف سے لبیک کہو) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً ابویعلیٰ، رقم۴۶۱۱ میں ’ثم حج عن شبرمۃ‘(پھر شبرمہ کی جانب سے حج ادا کرو) کے الفاظ کے بجاے ان کے ہم معنی الفاظ ’ثم احجج عن شبرمۃ‘(پھر شبرمہ کی جانب سے حج ادا کرو) روایت کیے گئے ہیں؛ بیہقی، رقم۸۴۶۱ میں یہ الفاظ ’ثم لب عن فلان‘(پھر فلاں شخص کی طرف سے لبیک کہو) روایت کیے گئے ہیں؛ بیہقی، رقم۸۴۶۳ میں یہ الفاظ ’وحج عن شبرمۃ‘(اور شبرمہ کی جانب سے حج ادا کرو) روایت کیے گئے ہیں۔
بیہقی، رقم۸۴۶۰ میں یہ واقعہ درج ذیل پیرائے میں روایت کیا گیا ہے:

روي أنہ سمع النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم رجلاً یقول: لبیک عن فلان. فقال لہ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’إن کنت حججت فلب عنہ وإلا فاحجج عن نفسک، ثم احجج عنہ‘‘.
’’روایت کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج کے دوران) ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا: فلاں کی جانب سے لبیک، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا: اگر تم نے اپناحج ادا کر لیا ہے تو اس کی جانب سے لبیک کہو، ورنہ پہلے اپنا حج ادا کرو، پھر اس کی جانب سے حج ادا کرو۔‘‘

بعض روایات، مثلاً بیہقی، رقم ۸۴۶۶ میں یہ روایت مختلف الفاظ میں بیان کی گئی ہے:

روي أنہ سمع النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم رجلاً یلبي عن نبیشۃ، فقال: ’’أیہا الملبي عن نبیشۃ، ہذہ عن نبیشۃ واحجج عن نفسک‘‘.
’’روایت کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نبیشہ کی جانب سے لبیک کہتے ہوئے سنا تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: اے نبیشہ کی جانب سے لبیک کہنے والے، یہ حج نبیشہ کی جانب سے ہے، اپنی جانب سے بھی حج ادا کرو۔‘‘

یہ روایت دارقطنی، رقم۱۴۵۔۱۴۷ میں بھی بیان کی گئی ہے۔ تاہم یہ سب روایات بہ شمول اوپر مذکورہ بیہقی، رقم ۸۴۶۶ الحسن بن عمارہ کے ذریعے سے روایت کی گئی ہیں۔ ان روایات کو درج کرنے کے بعد امام دارقطنی نے درج ذیل الفاظ کا اضافہ کیا ہے:

تفرد بہ الحسن بن عمارۃ وہو متروک الحدیث، والمحفوظ عن بن عباس حدیث شبرمۃ.
’’یہ روایت صرف الحسن بن عمارہ کی سند سے روایت کی گئی ہے جو کہ متروک الحدیث ہے۔ اس سے متعلق جو محفوظ شبرمہ کی حدیث ہے، وہ حضرت ابن عباس کے واسطے سے ہے۔‘‘

چونکہ اس روایت کے متعلق امام دارقطنی کی راے منفی ہے، اس لیے احتیاط کے پیش نظر اس روایت کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا درست نہیں ہے۔

____________



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List