Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Dr. Waseem Mufti Profile

Dr. Waseem Mufti

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
ہیئت نماز کی حفاظت | اشراق
Font size +/-

ہیئت نماز کی حفاظت

نماز اﷲ تعالیٰ کی عبادت کا عظیم مظہر ہے ۔ اس میں انسان اپنے اعضا و جوارح کے ساتھ اﷲ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ جسمانی انکسار کے ساتھ مسلمان کا دل بھی عاجزی اور خضوع کے ساتھ اﷲ سے مناجات کرتاہے۔ اس لیے وہ ایسے افعال و اعمال سے گریز کرتاہے جو نماز کے ظاہر اوراس کی روح کے خلاف ہوں۔ آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان افعال سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے جو آدابِ نماز کے منافی ہیں ۔ ان میں سے کچھ باتیں تو ایسی ہیں جو خشوع اور توجہ کو منتشر کرتی ہیں۔ جیسے نماز کے اندر اِدھر اُدھر دھیان کرنا یا بالوں ،کپڑوں اور داڑھی سے کھیلنا۔ کچھ باتیں نماز کی ہیئت سے متعلق ہیں۔ جیسے دل کو اﷲ کی طرف متوجہ رکھنا ضروری ہے ، اسی طرح نماز کی ہیئت کو درست رکھنا بھی لازمی ہے۔ یہ ہیئت قیام ، رکوع ، سجدہ اور جلسہ کے بنیادی ارکان پر مشتمل ہے۔
ایک نمازی کا جسم ادائیگیِ نماز کے دوران میں معتدل رہنا چاہیے۔ قیام کے اندر اعتدال کا مطلب ہے کہ دونوں ٹانگوں پر برابر وزن ڈالا جائے۔ یہ نہ ہو کہ ایک ٹانگ ڈھیلی چھوڑ دی جائے یا دائیں بائیں جھولا جائے۔ رکوع کے اندر اعتدال کمر اور سر کو سیدھا رکھنا ہے اور سجدے کا اعتدال پیٹ کو زمین سے اونچا رکھنا اور ٹانگوں اور بازووں کو پیٹ سے جدا رکھنا ہے ،جبکہ ماتھا اور ناک زمین سے لگے ہوں۔ جلسے کا اعتدال بھی ایسے ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ یعنی کوئی ایسی ہیئت اختیار نہ کی جائے جو نماز کے منافی ہو۔ فقہ کی کتابوں میں’’ مکروہاتِ نماز‘‘ کے عنوان کے تحت ایسی تفصیلات مل جاتی ہیں۔
یہاں ہمارے پیشِ نظر اُن احادیث و روایات کا ذکر کرنا ہے جن میں اس ہیئت کے بگڑنے کا بیان ہوا ہے۔ ان میں ایک بات مشترک ہے کہ اس طرح کی شکل اختیار نہ کی جائے جو ایک فرما ں بردار بندے کے طریقۂ عبادت کے ناموافق ہو۔
۱۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے مصعب بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کے ساتھ نماز پڑھی اور رکوع کرتے ہوئے ہاتھ باندھ کر ٹانگوں میں رکھ لیے تو میرے والد نے مجھے منع کیا اور بتایا ، پہلے ہم ایسا کیا کرتے تھے، پھر ہمیں آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے منع کر دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ ہم رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔ (بخاری، کتاب الصلوٰۃ)۔
۲۔حضرت عبداﷲ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نمازکے اندر قعدہ کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ تو اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا کرے اور بائیں پاؤں کو موڑ کر رکھے۔ (سنن ابو داؤد ، کتاب الصلوٰۃ) ۔
۳۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ سات اعضا پر سجدہ کریں، پیشانی، دو ہاتھ، دو گھٹنے اور دو پاؤں۔ یعنی یہ سات اعضا سجدہ کرتے ہوئے زمین پر ٹکے ہوں۔ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کرتے ہوئے پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رخ رکھا۔ (بخاری، کتاب الصلوٰۃ)۔
۴۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سجدہ کرنے میں اعتدال سے کام لو ۔ تم میں سے کوئی بازو لمبے نہ بچھا لے جیسے کتا بازو بچھاتا ہے۔ آپ کے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اگر بازووں کو زمین پر بچھا لیا جائے تو بیٹھے ہوئے کتے سے مماثلت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ ایک نمازی کے لیے موزوں نہیں۔ (بخاری ،کتاب الصلوٰۃ)۔
ابو حمیدساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کرتے ہوئے بازووں کو نہ پھیلا کر بچھا یا اور نہ اکٹھاکر کے پہلووں سے چپکا لیا۔ (بخاری،کتاب الصلوٰۃ)۔ سنن ابو داؤد اور سنن ترمذی میں ہے کہ کچھ صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح سجدہ کرنے میں دشواری کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھٹنوں کی مدد لے لیا کرو ۔ (کتاب الصلوٰۃ )۔
۵۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتیں کرنے کی تلقین فرمائی اور تین باتیں کرنے سے روکا۔ آپ نے نصیحت فرمائی کہ میں ہر روز چاشت کے دو نفل پڑھوں ، سونے سے قبل وتر پڑھ لیا کروں اور ہر ماہ تین نفلی روزے رکھوں۔ آپ نے منع فرمایا کہ اس طرح ٹھونگا مار کر سجدہ کروں جیسے مرغ ٹھونگا مار کر زمین سے دانا چگتا ہے، اس طرح نماز میں بیٹھوں جس طرح کتا ٹانگیں کھڑی کر کے سرینوں پر بیٹھ جاتا ہے اور بازووں کو زمین پر ایسے بچھا لوں جیسے لومڑ بچھاتا ہے۔ (مسند احمد ، مسند ابو ہریرہ) ۔
پہلی حدیث میں سجدے میں زمین پر بازوبچھانے کو کتے کے بیٹھنے سے مشابہ قرار دیا ، جبکہ اس حدیث میں اسی عمل کے لیے(لومڑ کی مثال) ’إفتراش الثعلب‘ (لومڑ کا بیٹھنا) بیان فرمائی۔ سنن نسائی میں ’افتراش السبع‘ (درندے کا بیٹھنا) کے الفاظ ہیں۔ (باب التطبیق)۔ البتہ جلسے میں ٹانگیں کھڑی کر کے سرینوں پر بیٹھنے کو ’إقعاء الکلب‘ (کتے کے بیٹھنے) سے تشبیہ دی ۔ مسند احمد میں ’اقعاء القرد‘ (بند رکا بیٹھنا) فرمایا گیا ۔ (مسند ابو ہریرہ)۔ صحیح مسلم اور سنن ابوداؤد میں اس وضع کو ’عُقبۃ الشیطان‘ (شیطان کی نشانی، شیطان کا سرینوں کو ایڑیوں پر رکھ کر بیٹھنا ) قرار دیا گیا ہے۔
۶۔ مسند احمد ، مسند ابو ہریرہ والی حدیث میں جلدی جلدی سجدہ کرنے کو ’نقرۃ الدیک‘ (مرغ کے ٹھونگے) کے مانند قرار دیا۔ صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ یہ منافق کی نشانی ہے کہ وہ سورج کے ڈوبنے کا انتظار کرتا ہے جب بالکل ڈوبنے پر آتا ہے تو جلدی جلدی کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگے مارکر فارغ ہو جاتا ہے اور اﷲ کو کم ہی یاد کرتا ہے ۔ (کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ)۔ سنن ابو داؤد اور سنن نسائی میں اسے ’نقرۃ الغراب‘ (کوے کا ٹھونگا) قرار دیا گیا ہے ۔
۷۔ حضرت وائل بن حجر بیان کرتے ہیں : میں نے رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا ، جب وہ سجدہ کرتے تو گھٹنوں کو ہاتھوں سے پہلے زمین پر رکھتے اور جب سجدے سے اٹھتے تو ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔ یہ حدیث بخاری و مسلم کے علاوہ سب صحاح میں مذکورہے ۔ جمہور فقہا نے اسی پر عمل کو بہتر سمجھا ہے، البتہ اوزاعی مالک اور ابنِ حزم نے ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے زمین پر رکھنے کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل حضرت ابو ہریرہ کی یہ روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سجدہ کرو تو ایسے نہ بیٹھو جیسے اونٹ بیٹھتا ہے ،بلکہ تم ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے زمین پر رکھو ۔ (مسند احمد ، سنن ابو داؤد ، سنن نسائی)۔ اس کی وضاحت یوں ہے کہ اونٹ پہلے اپنے گھٹنے زمین پر ٹکاتا ہے تب اگلے قدم زمین پر رکھتا ہے ۔ آپ نے اس کی مشابہت سے بچنے کا حکم فرمایا ۔
۸۔ زیاد بن صبیح بتاتے ہیں ، میں نے حضرت عبداﷲ بن عمر کے ساتھ نماز پڑھی اور ہاتھوں کو پہلووں پر رکھ لیا۔ جب فارغ ہوئے تو انھوں نے فرمایا اسے ’الصَلب‘ کہتے ہیں اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے ۔( سنن ابو داؤد ، کتاب الصلوٰۃ۔ سنن نسائی، کتاب الافتتاح)۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ وضع سولی پر لٹکائے ہوئے شخص سے مماثلت رکھتی ہے۔ جب اس کے بازووں کو سولی کے اطراف سے باندھ دیا جاتا ہے ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ یہود ایسا کیا کرتے تھے۔
۹۔ باجماعت نماز ، نماز کی بہترین ہیئت ہے ۔ کیونکہ اس میں اجتماعی ڈسپلن اور نظم و ضبط کا بہترین مظاہرہ ہوتا ہے ۔سب سے پہلی بات صف کا اہتمام رکھنا ہے ۔پھرامام کی پیروی کا خیال رکھنا ہے ۔ احادیث میں ان باتوں کی بڑی تاکید آئی ہے ۔ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم فرشتوں کی طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جیسا کہ وہ اپنے رب کے حضور کرتے ہیں۔ وہ اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صفوں میں جڑ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ (کتاب الصلوٰۃ)۔ حضرت ابومسعود انصاری بیان کرتے ہیں کہ حضور نماز کے وقت ہمارے کندھوں کو چھوتے اور فرماتے سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور آگے پیچھے نہ ہو مبادا تمھارے دل بھی ایک دوسرے کے مخالف ہو جائیں ۔ تم میں سے زیادہ سمجھ دار میرے قریب کھڑے ہوں‘ پھر ان سے کم تر، پھر ان سے کم تر۔ (مسلم، کتاب الصلوٰۃ)۔ حضرت جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ بیمار ہوئے ہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی، جب کہ آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابو بکر مکبرّتھے۔ جب آپ نے ہمیں کھڑے دیکھا تو بیٹھنے کا اشارہ فرمایا ۔نماز سے فارغ ہو کر آپ نے فرمایا: تم ایرانیوں اور رومیوں والا کا م کررہے تھے ۔ وہ اپنے مسند نشین بادشاہوں کے حضور کھڑے رہتے ہیں۔ ایسا نہ کرنا !اپنے ائمہ کی پیروی کرنا ۔ امام کھڑا ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو جاؤ ۔ اگر وہ بیٹھا ہو تو تم بھی بیٹھ جاؤ۔ (مسلم، کتاب الصلوٰۃ )۔ حضرت ابو الدردا ء سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بستی یا دیہات میں تین آدمی ہوں اور ان کی جانب سے جماعت کا اہتمام نہ ہو تو ان پر شیطان غلبہ پا لیتا ہے، لہٰذا جماعت کو اختیار کرو۔ بلاشبہ بھیڑیااکیلی بکری کو کھا جاتا ہے۔ (سنن ابوداؤد، کتاب الصلوٰۃ)۔ جمعہ کی نماز باجماعت نماز کی وسیع تر ہیئت ہے۔ اس کے احکام اور اس کی فضیلتیں اپنی جگہ الگ تفصیل کا تقاضا کرتی ہیں۔
نماز کی رو ح بندے کا اپنے رب سے عاجزی و انکسار ی کے ساتھ ہم کلام ہونا ہے ۔ یہ مقصد حاصل ہو جائے تو نمازکی تکمیل ہو جاتی ہے ، لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط کے مطابق نماز کی تشکیل نہ کر لی جائے ۔ یہ تشکیل اور ہیئت نماز کے عبادتِ معلومہ ہونے کا پتا دیتی ہے اور نماز کی پہچان اسی وضع قطع سے ہوتی ہے۔ اس قالب کو اختیار کیے بغیر نماز کا باطن حاصل نہیں ہو سکتا ۔ ہمیں اس شکل و ہیئت کو اختیار کرتے ہو ئے نماز کی روح اپنے سینوں میں پیدا کرنی ہے۔

____________

 




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List