Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Administrator Profile

Administrator

  [email protected]
Author's Bio
Humble slave of Allah!!!
Visit Profile
فوج کے نادان دوست | اشراق
Font size +/-

فوج کے نادان دوست


’’اچھے بھلے محب وطن اور میاں نواز شریف کے مخالف آدمی تھے ۔ خدا جانے اب تمھیں کس کی بدعا لگ گئی کہ جو فوج کے خلاف ہو گئے ہو ۔ تم سے زیادہ کون جانتا ہے کہ ان سیاست دانوں نے ملک کو کس طرح لوٹاہے۔‘‘ یہ تھے الفاظ فوج کے زبردست حامی تصور کئے جانے والے میرے ایک قریبی دوست کے جو جمہوریت کے حق میں لکھنے کی وجہ سے مجھے روزانہ ڈانٹتے رہتے ہیں ۔ میرا جواب تھا: ’’میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، اس روز سے جب میں اس فوج کا مخالف ہو جاؤں جو میرے ملک کی سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہو ۔ جو وطن کی ماؤں اور بیٹیوں کی عصمتوں کی نگہبان ہو اور جو کشمیر کے مظلوموں کی امید کی آخری کرن ہو ۔ میں فوج کا نہیں ، فوجی حکومت کا مخالف ہوں اور میاں نواز شریف کا نہیں ، جمہوریت کا حامی ہوں ۔‘‘ میں نے اپنے دوست کو سمجھانے کی کوشش کی۔ میں نے عرض کیا : ’’آپ جیسے لوگ جو فوجی حکومت کے حامی ہیں ، درحقیقت فوج کے مخالف ہیں۔‘‘ میری اس بات سے میرے دوست ششدر رہ گئے اور میری اس منطق کی وجہ جاننا چاہی ۔
’’کسی بچے کا سب سے زیادہ خیر خواہ کون ہو سکتا ہے ؟ ‘‘میں نے سوال کیا ۔’’ ظاہر بات ہے کہ اس کے والدین ‘‘۔ میرے دوست کا جواب تھا ۔’’ سکول جاتے ہوئے معصوم بچے کا اصل کام کیا ہوتا ہے ؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’یہی کہ وہ پڑھے لکھے اور مستقبل کو بہتر بنائے ۔‘‘ میرے دوست نے جواب دیا ۔ ’’لیکن اس عمر میں خود بچے کا دل کیا چاہتا ہے ؟‘‘ میں نے ایک اور سوال داغ دیا ۔ ’’یہی کہ وہ کھیلے کودے اور محنت سے بچے ۔‘‘ میرے دوست نے جواباً کہا ۔’’ جب بچہ کھیل کود میں وقت گزارتا ہے تو اس جیسے اور آوارہ دوست جنھیں وہ اپنا خیر خواہ سمجھتا ہے ، اسے کھیل کود ہی کی طرف مائل کرتے ہیں ،جبکہ اس کے والدین سختی کر کے اسے پڑھائی جیسی محنت کی نصیحت کرتے رہتے ہیں ۔ اس وقت معصوم بچہ والدین کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور دوستوں کو اپنا خیر خواہ ، لیکن پتا ہے وقت گزرنے کے بعد وہ بچہ والدین کی سختی میں پوشیدہ حکمت سے آگاہ ہو جاتا ہے اور وہ دوست جن کی وجہ سے وہ پڑھائی سے محروم رہا ہو ، انھیں برا بھلا کہتا ہے ۔ اب بتائیے وہ والدین جو بچے کی خواہش کے خلاف اسے پڑھائی کی نصیحت کرتے رہتے ہیں ، کیا وہ بچے کے دشمن ہوتے ہیں ؟‘‘ میں نے فوجی حکومت کے حامی دوست سے پوچھا ۔ ’’نہیں ، وہ اس کے خیر خواہ ہوتے ہیں ‘‘ ۔’’حقیقت میں وہ کیا ہوتے ہیں ؟‘‘ میرا سوال تھا۔ ’’اس کے دشمن ۔‘‘ میرے دوست نے جواب دیا ۔ ’’اسی اصول کو ذہن میں رکھ کر بتائیے کہ فوج کے دشمن آپ ہیں یا میں ؟‘‘ میں نے اپنے دوست سے پوچھا تو جواب دینے کے بجائے وہ خاموش ہو گئے اور پھر موقع پاتے ہی میں نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے عرض کیا : ’’پاک فوج کا اصل کام سرحدوں کی حفاظت کرنا اوروطن کے لوگوں کی محبتوں کو سمیٹنا ہے ۔ میں جب جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کر کے فوج سے بیرکوں میں واپس جانے کی درخواست کرتا ہوں تو اس کی بنیاد بھی فوج سے محبت ہی ہے ۔ مجھ جیسے لوگ ان والدین کی مانند ہیں جو بچے کو اس کے اصل کام کی طرف مائل کرنا چاہتے ہیں جبکہ وہ لوگ جو فوج کو اقتدار میں رہنے اور سیاست دانوں کو پھانسی دینے کی طرف راغب کر کے ان کی توجہ ان کے اصل کام سے ہٹانا چاہتے ہیں ، وہ دراصل فوج کے دشمن یا پھر اس کے نادان دوست ہیں ۔ ‘‘
ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ کسی بھی گروہ کے حکومت میں آنے کے بعد عوام کی محبتوں کو سمیٹنا بہت مشکل ہوتا ہے ، بلکہ عموماً اس معاملے میں نفرت ہی ملتی ہے ۔ لوگ جس کو سلیوٹ کرتے ہیں ،اسی کو گالیاں بھی دیتے ہیں ۔ ہم لوگوں کی عادت بن گئی ہے کہ سیڑھی چڑھتے ہوئے اگر پاؤں میں موچ بھی آ جائے تو گالی حکمرانوں کو دیتے ہیں ۔ جنرل پرویز مشرف کی حکومت بری ہے یا بھلی ، لیکن اس بات میں شک کی کوئی گنجایش نہیں کہ فوج کے حکومت میں آنے کے بعد لوگوں کے دلوں میں فوج کے لیے محبت میں اضافہ نہیں ہو رہا بلکہ رفتہ رفتہ منفی جذبات پیدا ہو رہے ہیں ۔ یقین نہ آئے تو دوواقعات ملاحظہ کر لیجیے اور پھر اندازہ لگا لیجیے کہ فوج کے اقتدار میں آ جانے کے بعد لوگوں کے خیالات اور جذبات میں کیا تبدیلی رونما ہو چکی ہے ۔
یہ اگست ۱۹۹۹ کی بات ہے ۔ میں اپنے دوست اعظم خان کے ہمراہ کاغان ، ناران اور آزاد کشمیر کے علاقوں کی سیر کے لیے گیا ہوا تھا ۔ ۱۴ اگست کو ہم عظیم مجاہد سید احمد شہید کے مدفن بالا کوٹ میں تھے ۔ اس روز اسلام آباد میں سرکاری اعزازات کی تقسیم کی تقریب ہو رہی تھی ، جسے ٹی وی پر براہ راست دکھایا جا رہا تھا ۔ ہم ایک ہوٹل میں بیٹھ کر یہ تقریب دیکھ رہے تھے ۔ ہمارے ساتھ بہت سے لوگ بھی موجود تھے ۔ جب شہیدِ کارگل کیپٹن کرنل شیر کے والد کو نشانِ حیدر لینے کے لیے بلایا گیا تو میرے دوست اعظم خان جو کرنل شیر خان کے گاؤں نواں کلی میں پیدا ہوئے ، فخریہ انداز میں کہنے لگے : ’’دیکھو ،ہمارے گاؤں کے شہید کو ایوارڈ مل رہا ہے ۔‘‘ اس پر ہوٹل کا ایک بیرہ جو بالا کوٹ کا رہنے والا تھا ، برہم ہو کر کہنے لگا کہ کرنل شیر کسی ایک گاؤں کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے ۔ وہ ہم سب کا ہے ۔ تم لوگ کیوں اس کو صوابی تک محدود کرنا چاہتے ہو ۔‘‘ بالاکوٹ کے جوان کے جذبات دیکھ کر میرے دوست اعظم خان نے اس کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے فوراً معذرت کرتے ہوئے جواب دیا : ’’ہاں ہاں !کرنل شیر پورے پاکستان کا ہے ‘‘اور پھر وضاحت بھی کی کہ ان کی بات کا ہر گز یہ مطلب نہ تھا ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک سال قبل فوج کے غازیوں اور شہیدوں سے لوگوں کی محبت کا کیا عالم تھا ۔
اب ایک دوسرا واقعہ ملاحظہ کیجیے ۔ یہ جون ۲۰۰۰ کی ایک گرم دوپہر تھی ۔ میں پشاور میں اپنے دوست عطا الرحمان کو ملنے اس کے پرنٹنگ پریس کی طرف جا رہا تھا ۔ اس وقت پشاور صدر سے تاجروں کا ایک جلوس گزر رہا تھا ۔ جب میں عطا الرحمان کے پریس کی طرف جانے لگا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک تنگ گلی میں دو فوجی جوان تپتی دوپہر میں کھڑے ہیں جو ظاہر ہے خریداری کے لیے آئے ہوئے تھے ۔ میں ان کو سلام کر کے عطا الرحمان کیے پریس کی طرف چلا گیا او رپندرہ بیس منٹ گپ شپ کرنے کے بعد واپس جانے لگا ۔ اس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ اتنا وقت گزر جانے کے باوجود دونوں فوجی بدستور وہیں کھڑے تھے ۔ میں نے قریبی دکان داروں سے وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ وہ جلوس کی وجہ سے صدر روڈ کی طرف نکلنے سے گریز کر رہے ہیں ، لیکن ستم بالاے ستم یہ کہ اس پورے وقت میں کسی بھی دکان دار نے انھیں اپنے پاس سائے میں بٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کی ۔
وہ لوگ جو فوج کو حکومت میں رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں ، وہ ان دونوں واقعات کو پیشِ نظر رکھ کر جواب دیں کہ وہ فوج کے دوست ہیں یا دشمن یا نادان دوست؟

____________

 




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List