Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
فرشتے، تصاویر اور کتا (2/2) | اشراق
Font size +/-

فرشتے، تصاویر اور کتا (2/2)

فرشتے، تصاویر اور کتا (1/2)

—۷—

عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، قَالَ:۱ دَخَلَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْکَآبَۃُ فَقُلْتُ: مَا لَکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ’’إِنَّ جِبْرِیْلَ وَعَدَنِيْ أَنْ یَأْتِیَنِيْ، فَلَمْ یَأْتِنِيْ مُنْذُ ثَلَاثٍ‘‘، فَجَأَرَ کَلْبٌ، قَالَ أُسَامَۃُ: فَوَضَعْتُ یَدِيْ عَلٰی رَأْسِيْ، وَصِحْتُ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ’’مَا لَکَ یَا أُسَامَۃُ؟‘‘ قُلْتُ: جَأَرَ کَلْبٌ، فَأَمَرَہُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِہِ، فَقُتِلَ، فَأَتَاہُ جِبْرِیْلُ فَہَشَّ إِلَیْہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’مَا لَکَ أَبْطَأْتَ، وَقَدْ کُنْتَ إِذَا وَعَدْتَنِيْ لَمْ تُخْلِفْنِيْ؟‘‘، فَقَالَ: ’’إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ، وَلَا تَصَاوِیْرُ‘‘.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پرایک مرتبہ غم کے آثار تھے۔ میں نے دیکھا تو پوچھا: یا رسول اللہ، کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھ سے آنے کا وعدہ کیا تھا، مگر تین دن سے منتظر ہوں،وہ آئے نہیں۔اتنے میں ایک کتے نے آواز نکالی ۔ اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا اور چیخ پڑا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوچھنے لگے: اسامہ، کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا:کسی کتے کی آواز ہے۱۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو اُس کو مارنے کی ہدایت کردی اور وہ ماردیا گیا۲۔اتنے میں جبریل علیہ السلام سامنے آگئے تو آپ خوش ہوکر اُن کی طرف لپکے اور پوچھا: جبریل، آپ جب بھی وعدہ کرتے رہے ہیں، آپ نے کبھی اُس کی خلاف ورزی نہیں کی۔ اِس پرجبریل علیہ السلام نے جواب دیا: آپ کو معلوم ہی ہے کہ ہم اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویریں ہوں۔

________

۱۔اسامہ رضی اللہ عنہ کے اِس رد عمل سے معلوم ہوا کہ دوسرے صحابہ کی طرح جن کی روایتیں پیچھے نقل ہوئی ہیں، وہ بھی پہلے سے واقف تھے کہ اِس طرح کے کتوں کی موجودگی فرشتوں کے آنے میں مانع ہوجاتی ہے۔
۲۔ آپ کی طرف سے کتے کو محض نکال دینے کے بجاے اِس سخت اقدام کی وجہ غالباً یہ ہوئی کہ ایک کتا کئی مرتبہ جبریل امین کے ساتھ آپ کی ملاقات میں مانع ہوگیا تھا ، جیسا کہ آگے جبریل علیہ السلام نے اِس کی تصدیق فرمائی ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۵۲۰۲سے لیا گیا ہے۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ واقعہ کچھ اجمال اور الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوا ہے۔اسامہ رضی اللہ عنہ سے اِس کے متابعات جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: مسند طیالسی، رقم۶۶۱۔ مسند ابن ابی شیبہ، رقم ۱۶۱۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۱۹۹۲۲۔مسند احمد، رقم۲۱۷۷۲، ۲۱۷۷۳۔ مسند بزار، رقم ۲۵۹۰۔ شرح معانی الآثار، طحاوی،رقم۶۹۲۰۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اِس کے شواہد اِن مراجع میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں:صحیح بخاری، رقم ۳۲۲۷، ۵۹۶۰۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۵۳۴۰۔شرح معانی الآثار،طحاوی، رقم۶۹۲۲۔

—۸—

أَخْبَرَتْ مَیْمُوْنَۃُ۱ [زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۲]، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ یَوْمًا وَاجِمًا،۳ فَقَالَتْ مَیْمُوْنَۃُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، لَقَدِ اسْتَنْکَرْتُ ہَیْءَتَکَ مُنْذُ الْیَوْمِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’إِنَّ جِبْرِیْلَ کَانَ وَعَدَنِيْ أَنْ یَلْقَانِي اللَّیْلَۃَ فَلَمْ یَلْقَنِيْ، أَمَ وَاللّٰہِ مَا أَخْلَفَنِيْ [قَطُّ۴]‘‘، قَالَتْ: فَظَلَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَہُ ذٰلِکَ عَلٰی ذٰلِکَ، ثُمَّ وَقَعَ فِيْ نَفْسِہِ جِرْوُ کَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا،۵ فَأَمَرَ بِہِ فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِہِ مَاءً فَنَضَحَ مَکَانَہُ،۶ فَلَمَّا أَمْسَی لَقِیَہُ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَقَالَ لَہُ: ’’قَدْ کُنْتَ وَعَدْتَنِيْ أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَۃَ، [وَمَا أَخْلَفْتَنِيْ قَطُّ۷] [فَلَمْ أَرَکَ؟۸]‘‘، قَالَ: ’’أَجَلْ، وَلَکِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ وَلَا صُوْرَۃٌ‘‘۹، فَأَصْبَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَءِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ، حَتّٰی إِنَّہُ یَأْمُرُ بِقَتْلِ کَلْبِ الْحَاءِطِ الصَّغِیْرِ، وَیَتْرُکُ کَلْبَ الْحَاءِطِ الْکَبِیْرِ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے تو کچھ غم زدہ اور اداس سے تھے ۔ میمونہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ، میں آج صبح سے آپ کی صورت اتری ہوئی دیکھ رہی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل امین نے آج رات مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا، مگر وہ آئے نہیں۔ خدا کی قسم، اُنھوں نے کبھی وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی۔اُن کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ پورا دن اِسی طرح رہے۔پھر آپ کو خیال ہوا کہ کتے کا ایک پلا ہمارے خیمے کے نیچے تھا۔ چنانچہ آپ نے ہدایت کی اور اُس کو نکال دیا گیا۱۔اِس کے بعد آپ نے ہاتھ میں پانی لیا اور اُس کو اُس جگہ چھڑک دیا۔پھر جب شام ہوئی تو جبریل علیہ السلام آپ سے ملاقات کے لیے آگئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آپ نے مجھ سے پچھلی رات ملاقات کا وعدہ کیا تھا اور آپ نے میرے ساتھ کبھی وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی، مگراِس مرتبہ کیا ہوا کہ وعدے کے وقت پر آپ دکھائی نہیں دیے؟اُنھوں نے فرمایا:آپ صحیح کہتے ہیں ،لیکن آپ کو معلوم ہی ہے کہ ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا کوئی مورت ہو۲۔چنانچہ اُس روز صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سارے کتے ماردیے جائیں۳، یہاں تک کہ چھوٹے باغوں میں رکھوالی کے کتوں کو بھی آپ مارنے کے لیے کہہ رہے تھے اور صرف بڑے باغوں کے کتے چھوڑ رہے تھے۴۔

________

۱۔ یہ ایک اور واقعہ ہے۔تاہم ابھی اِس بات کی تصدیق باقی تھی کہ اِس مرتبہ بھی کیا یہی کتا جبریل علیہ السلام کے آنے میں مانع ہوا ہے؟
۲۔اِس سے تصدیق ہوگئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اندیشہ صحیح تھا، جس کی بنا پر آپ کا خیال خیمے کے نیچے چھپے ہوئے کتے کی طرف گیا ۔
۳۔ جبریل امین کی ملاقات میں اِس طرح بار بار کتوں کو مانع دیکھ کر اُن کے مارنے کا یہ حکم جس کیفیت میں دیا گیا ہے ، وہ کسی حد تک اُس سے ملتی جلتی معلوم ہوتی ہے جو سیدنا سلیمان علیہ السلام پر گھوڑوں کے معاملے میں طاری ہوگئی تھی، جب آپ کی نماز اُن کی پریڈ دیکھنے میں قضا ہوگئی، ورنہ اللہ کے پیغمبر جانوروں کے لیے بھی سراپا شفقت ہوتے ہیں۔سیدنا سلیمان کا یہ واقعہ قرآن کی سورۂ ص (۳۸)میں اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمایا ہے۔اللہ اور اُس کے فرشتوں سے متعلق جذباتِ محبت کی شدت میں اِس طرح کی کیفیات بعض اوقات انبیا علیہم السلام پر بھی طاری ہوجاتی ہیں، اِن سے کتوں کو علی العموم ماردینے یا اُن سے نفرت رکھنے کا کوئی حکم اخذ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔روایت کی نسبت اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف صحیح ہے تو یہ شدید رنج اور اُس کے نتیجے میں غلبۂ حال کی ایک صورت ہے جسے دین وشریعت کے کسی حکم یا دین سے متعلق آپ کے کسی اُسوہ کا ماخذ نہیں بنایا جاسکتا ۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس طرح کی ایک کیفیت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر بھی حضور کی وفات کا سن کر طاری ہوگئی تھی، لیکن سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے فوراً معاملے کو سنبھال لینے کی وجہ سے آگے کسی اقدام کی نوبت نہیں آئی۔
۴۔یعنی اِس کیفیت میں بھی ملحوظ تھا کہ آپ کا یہ اقدام لوگوں کے لیے کسی بڑے نقصان کا باعث نہ بن جائے، اِس لیے کہ چھوٹے باغ تو نگاہ کے سامنے ہوتے، لیکن دور دور تک پھیلے ہوئے بڑے باغوں کی حفاظت اُس زمانے میں رکھوالی کے تربیت یافتہ کتے ہی کرسکتے تھے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس واقعے کا متن اصلاًصحیح مسلم، رقم۲۱۰۵سے لیا گیا ہے۔ اِس کی راوی تنہا میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں۔تعبیر اور اجمال وتفصیل کے کچھ فرق کے ساتھ اِس کے باقی طرق جن مصادر میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: مسند احمد، رقم ۲۶۸۰۰۔سنن ابی داود، رقم۴۱۵۷۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۴۷۶۹، ۴۷۷۶۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۴۲۷۶، ۴۲۸۳۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۷۰۹۳، ۷۱۱۲۔صحیح ابن خزیمہ، رقم۲۹۹۔ صحیح ابن حبان، رقم۵۶۴۹، ۵۸۵۶۔المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۳۴۸۷، ۹۱۷۱۔ المعجم الصغیر، طبرانی، رقم۳۹۴۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۳۲، ۱۰۴۶، ۱۰۴۸۔ السنن الکبریٰ،بیہقی،رقم۱۱۵۰، ۱۱۵۱، ۱۱۵۲، ۴۲۴۵۔
۲۔ سنن ابی داود، رقم۴۱۵۷۔
۳۔بعض طرق، مثلاً مسند احمد، رقم۲۶۸۰۰میں یہاں’وَاجِمًا‘ کے بجا ے ’خَاثِرًا‘ کا لفظ آیا ہے۔معنی کے اعتبار سے دونوں مترادف ہیں۔
۴۔ المعجم الصغیر،طبرانی، رقم۳۹۴۔
۵۔بعض طرق، مثلاً السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۴۷۷۶میں یہاں ’تَحْتَ نَضَدٍ لَنَا‘ ’’ہمارے ایک تخت کے نیچے ‘‘کے الفاظ آئے ہیں، جب کہ بعض طرق، مثلاً سنن ابی داود، رقم۴۱۵۷میں یہاں’ تَحْتَ بِسَاطٍ لَنَا‘ ’’ہمارے ایک بچھونے کے نیچے ‘‘کے الفاظ آئے ہیں۔
۶۔ یہ بات روایت کے مختلف طرق میں متنوع تعبیرات کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔مسند احمد، رقم۲۶۸۰۰میں ہے: ’ثُمَّ أَخَذَ مَاءً، فَرَشَّ مَکَانَہُ‘۔ بعض طرق، مثلاً مسند ابی یعلیٰ، ر قم ۷۰۹۳میں یہاں یہ الفاظ آئے ہیں: ’فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ الْمَکَانِ فَغُسِلَ بِالْمَاءِ‘، جب کہ مسند ابی یعلیٰ ہی کے رقم۷۱۱۲میں یہ تعبیر نقل ہوئی ہے: ’وَأَمَرَ بِمَاءٍ فَنَضَحَ مَکَانَہُ بِیَدِہِ‘۔
۷۔ المعجم الصغیر،طبرانی، رقم۳۹۴۔
۸۔ مسند احمد، رقم۲۶۸۰۰۔
۹۔ بعض طرق، مثلاً المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۳۴۸۷میں جبریل علیہ السلام کا یہ جملہ، استفہامیہ اسلوب میں اِس طرح نقل ہوا ہے: ’أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ وَلَا صُوْرَۃٌ؟‘ ’’کیا آپ نہیں جانتے کہ ہم اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کتا ہو اور نہ اُس میں، جہاں تصویر ہو؟‘‘۔

المصادر والمراجع

ابن أبي شیبۃ أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد العبسي. (۱۹۹۷م). المسند. ط۱. تحقیق: عادل بن یوسف العزازي وأحمد بن فرید المزیدي. الریاض: دار الوطن.
ابن أبي شیبۃ أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد العبسي. (۱۴۰۹ھ). المصنف في الأحادیث والآثار. ط۱. تحقیق: کمال یوسف الحوت. الریاض: مکتبۃ الرشد.
ابن الجعد علي بن الجعد بن عبید الجَوْہَري البغدادي. (۱۴۱۰ھ/ ۱۹۹۰م). المسند. ط۱. تحقیق: عامر أحمد حیدر. بیروت: مؤسسۃ نادر.
ابن جُمَیْع أبو الحسین محمد بن أحمد الغساني الصیداوي. (۱۴۰۵ھ). معجم الشیوخ. ط۱. تحقیق: د. عمر عبد السلام تدمري. طرابلس: دار الإیمان.
ابن حبان أبو حاتم محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/ ۱۹۹۳م). الصحیح. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حبان أبو حاتم محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ). المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/ ۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۱۴۰۴ھ / ۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۱۳۷۹ھ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. د.ط. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۱۴۱۹ھ). المطالب العالیۃ بزوائد المسانید الثمانیۃ. ط۱. تحقیق: (۱۷) رسالۃ علمیۃ قدمت لجامعۃ الإمام محمد بن سعود. تنسیق: د. سعد بن ناصر بن عبد العزیز الشثری. السعودیۃ: دار العاصمۃ.
ابن خزیمۃ أبو بکر محمد بن إسحاق النیسابوري. (د.ت). الصحیح. د.ط. تحقیق: د. محمد مصطفی الأعظمي. بیروت: المکتب الإسلامي.
ابن راہویہ إسحاق بن إبراہیم الحنظلي المروزي. (۱۴۱۲ھ/ ۱۹۹۱م). المسند. ط۱. تحقیق: د. عبد الغفور بن عبد الحق البلوشي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ الإیمان.
ابن ماجہ أبو عبد اللّٰہ محمد القزویني. (د.ت). السنن. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.
ابن المَلَک محمد بن عز الدین الرومي الکرماني الحنفي. (۱۴۳۳ھ / ۲۰۱۲م). شرح مصابیح السنۃ للإمام البغوي. ط۱. تحقیق ودراسۃ: لجنۃ مختصۃ من المحققین بإشراف: نور الدین طالب. د.ن: إدارۃ الثقافۃ الإسلامیۃ.
أبو داود سلیمان بن الأشعث السِّجِسْتاني. (د.ت). السنن. د.ط. تحقیق: محمد محیي الدین عبد الحمید. بیروت: المکتبۃ العصریۃ.
أبو عوانۃ یعقوب بن إسحاق الإسفراییني النیسابوري. (۱۴۱۹ھ / ۱۹۹۸م). المستخرج. ط۱. تحقیق: أیمن بن عارف الدمشقي. بیروت: دار المعرفۃ.
أبو نعیم أحمد بن عبد اللّٰہ الأصبہاني. (۱۴۱۹ھ / ۱۹۹۸م). معرفۃ الصحابۃ. ط۱. تحقیق: عادل بن یوسف العزازي. الریاض: دار الوطن للنشر.
أبو یعلی أحمد بن علي التمیمي الموصلي. (۱۴۰۴ھ / ۱۹۸۴م). المسند. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.
أبو یوسف یعقوب بن إبراہیم الأنصاري. د.ت. الآثار. د.ط. تحقیق: أبو الوفا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
أحمد بن محمد بن حنبل أبو عبد اللّٰہ الشیباني. (۱۴۲۱ھ /۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
إسماعیل بن جعفر بن أبي کثیر أبو إسحاق الأنصاري المدني. (۱۴۱۸ھ /۱۹۹۸م). حدیث علي بن حجر السعدي عن إسماعیل بن جعفر المدني. ط۱. دراسۃ وتحقیق: عمر بن رفود بن رفید السّفیاني. الریاض: مکتبۃ الرشد للنشر.
البخاري محمد بن إسماعیل أبو عبد اللّٰہ الجعفي. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.
البزار أبو بکر أحمد بن عمرو العتکي. (۲۰۰۹م). المسند. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبري عبد الخالق الشافعي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
البیہقي أبو بکر أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۰ھ / ۱۹۸۹م). السنن الصغری. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. کراتشی: جامعۃ الدراسات الإسلامیۃ.
البیہقي أبو بکر أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۲۴ھ /۲۰۰۳م). السنن الکبری. ط۳. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
البیہقي أبو بکر أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۲۳ھ / ۲۰۰۳م). شعب الإیمان. ط۱. تحقیق: الدکتور عبد العلي عبد الحمید حامد. الریاض: مکتبۃ الرشد للنشر والتوزیع.
البیہقي أبو بکر أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۲ھ / ۱۹۹۱م). معرفۃ السنن والآثار. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. القاہرۃ: دار الوفاء.
الترمذي أبو عیسی محمد بن عیسی. (۱۳۹۵ھ /۱۹۷۵م). السنن. ط۲. تحقیق وتعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض. مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفی البابي الحلبي.
تمام بن محمد أبو القاسم الرازي البجلي. (۱۴۱۲ھ). الفوائد. ط۱. تحقیق: حمدی عبد المجید السلفي. الریاض: مکتبۃ الرشد.
الحاکم أبو عبد اللّٰہ محمد بن عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۱۱ھ/ ۱۹۹۰م). المستدرک علی الصحیحین. ط۱. تحقیق: مصطفی عبد القادر عطاء. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
الحمیدي أبو بکر عبد اللّٰہ بن الزبیر القرشي الأسدي. (۱۹۹۶م). المسند. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن سلیم أسد الداراني. دمشق: دار السقا.
الخطابي أبو سلیمان حمد بن محمد الخطاب البستي. (۱۳۵۱ھ /۱۹۳۲م). معالم السنن. ط۱. حلب: المطبعۃ العلمیۃ.
الدارمي، أبو محمد عبد اللّٰہ بن عبد الرحمن، التمیمي. (۱۴۱۲ھ /۲۰۰۰م). سنن الدارمي. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد الداراني. الریاض: دار المغني للنشر والتوزیع.
الذہبي شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ /۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.
الذہبي شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۱۳ھ /۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ ۔ مؤسسۃ علوم القرآن.
الرُّویاني أبو بکر محمد بن ہارون. (۱۴۱۶ھ) المسند. ط۱. تحقیق: أیمن علی أبو یمانی. القاہرۃ: مؤسسۃ قرطبۃ.
السیوطي جلال الدین عبد الرحمن بن أبي بکر. (۱۴۱۶ھ/۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط۱. تحقیق وتعلیق: أبو اسحق الحویني الأثري. الخبر: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الشاشي أبو سعید الہیثم بن کلیب البِنْکَثي. (۱۴۱۰ھ). المسند. ط۱. تحقیق: د. محفوظ الرحمن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
الطبراني أبو القاسم سلیمان بن أحمد الشامي. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۴م). مسند الشامیین. ط۱. تحقیق: حمدي بن عبدالمجید السلفي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
الطبراني أبو القاسم سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.
الطبراني أبو القاسم سلیمان بن أحمد الشامي. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). المعجم الصغیر. ط۱. تحقیق: محمد شکور محمود الحاج أمریر. بیروت: المکتب الإسلامي.
الطبراني أبو القاسم سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.
الطحاوي أبو جعفر أحمد بن محمد الأزدي المصري. (۱۴۱۵ھ/۱۹۹۴م). شرح مشکل الآثار. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
الطحاوي أبو جعفر أحمد بن محمد الأزدي المصري. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۴م). شرح معاني الآثار. ط۱. تحقیق: محمد زہري النجار ومحمد سید جاد الحق. د.م: عالم الکتب.
الطیالسي أبو داود سلیمان بن داود البصري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۹م). المسند. ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکي. مصر: دار ہجر.
الطیبي شرف الدین الحسین بن عبد اللّٰہ. (۱۴۱۷ھ/۱۹۹۷م). الکاشف عن حقائق السنن المعروف ب شرح الطیبي علی مشکاۃ المصابیح. ط۱. تحقیق: د. عبد الحمید ہنداوي. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ نزار مصطفی الباز.
العیني بدر الدین أبو محمد محمود بن أحمد الغیتابي الحنفي. (۱۴۲۰ھ/۱۹۹۹م). شرح سنن أبي داود. ط۱. تحقیق: أبو المنذر خالد بن إبراہیم المصري. الریاض: مکتبۃ الرشد.
العیني بدر الدین أبو محمد محمود بن أحمد الغیتابي الحنفي. (د.ت). عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. د.ط. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
القاضي عیاض بن موسی أبو الفضل الیحصبي. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸م). إکمال المعلم بفوائد مسلم. ط۱. تحقیق: الدکتور یحیی إسماعیل. مصر: دار الوفاء للطباعۃ والنشر والتوزیع.
الکشمیري محمد أنور شاہ بن معظم شاہ الہندي ثم الدیوبندي. (۱۴۲۶ھ/ ۲۰۰۵م). فیض الباري علی صحیح البخاري. ط۱. تحقیق: محمد بدر عالم المیرتہي. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
مالک بن أنس بن مالک بن عامر الأصبحي المدني. (۱۴۲۵ھ/۲۰۰۴م). الموطا. ط۱. تحقیق: محمد مصطفی الأعظمي. أبو ظبي. مؤسسۃ زاید بن سلطان آل نہیان للأعمال الخیریۃ والإنسانیۃ.
مسلم بن الحجاج النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
المُظہري الحسین بن محمود مظہر الدین الکوفي الشیرازي الحنفي. (۱۴۳۳ھ/۲۰۱۲م). المفاتیح في شرح المصابیح. ط۱. تحقیق ودراسۃ: لجنۃ مختصۃ من المحققین بإشراف: نور الدین طالب. وزارۃ الأوقاف الکویتیۃ: دار النوادر، وہو من إصدارات إدارۃ الثقافۃ الإسلامیۃ.
معمر بن أبي عمرو راشد الأزدي البصري. (۱۴۰۳ھ). الجامع. ط۲. تحقیق: حبیب الرحمن الأعظمي. بیروت: توزیع المکتب الإسلامي.
الملا القاري علي بن سلطان محمد أبو الحسن الہروي. (۱۴۲۲ھ/۲۰۰۲م). مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح. ط۱. بیروت: دار الفکر.
المناوي زین الدین محمد عبد الرؤوف بن تاج العارفین القاہري. (۱۴۰۸ھ/۱۹۸۸م). التیسیر بشرح الجامع الصغیر. ط۳. الریاض: مکتبۃ الإمام الشافعی.
المناوي زین الدین محمد عبد الرؤوف بن تاج العارفین القاہري. (۱۳۵۶ھ) فیض القدیر شرح الجامع الصغیر. ط۱. مصر: المکتبۃ التجاریۃ الکبری.
النساءي أبو عبد الرحمن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). السنن الصغری. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النساءي أبو عبد الرحمن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). السنن الکبری. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
النووي أبو زکریا محیي الدین یحیی بن شرف. (۱۴۲۸ھ/۲۰۰۷م). الإیجاز في شرح سنن أبي داود. ط۱. تقدیم وتعلیق وتخریج: أبو عبیدۃ مشہور بن حسن آل سلمان. عمان ۔ الأردن: الدار الأثریۃ.
النووي یحیی بن شرف أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List