Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
فرشتے، تصاویر اور کتا (1/2) | اشراق
Font size +/-

فرشتے، تصاویر اور کتا (1/2)



تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

—۱—

عَنْ أَبِيْ طَلْحَۃَ،۱ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ۲ بَیْتًا فِیْہِ صُوْرَۃٌ،۳وَلَا کَلْبٌ‘‘.۴
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فرشتے کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو۱ اورنہ اُس گھر میں، جہاں کتا ہو۲۔

________

۱۔ یہ اِس لیے کہ زمانۂ رسالت کے عرب میں تصویریں اور مجسمے زیادہ تر پرستش کے لیے یا پھر ایسی چیزوں اور ایسے اشخاص کی بنائی جاتی تھیں جن سے متعلق مشرکانہ جذبات کے پیدا ہوجانے کا اندیشہ ہوتا تھا، مثلاً، انبیا، فرشتے، جنات، اُن کے بسیرا کرنے کے درخت اور اُن کی سواری کے لیے پروں والے گھوڑے وغیرہ۔یہ ، ظاہر ہے کہ عقیدے کی نجاست ہے اور فرشتوں کو اِس کے بارے میں حساس ہی ہونا چاہیے۔اِس کا عام تصویروں اور مجسموں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سورۂ سبا (۳۴) کی آیت۱۳ میں تصریح ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے اپنی عمارتوں میں مورتیں بنوائی تھیں اور خدا کے ایک پیغمبر کے بارے میں یہ کسی طرح متصور نہیں ہوسکتا کہ وہ ایسی کوئی چیز اپنی عمارتوں میں گوارا کرے گا جو فرشتوں کے آنے میں مانع ہوسکتی ہو، لہٰذا آگے کی توضیحات سے واضح ہوجائے گا کہ اِس باب کی تمام روایتیں درحقیقت مادی اور روحانی، دونوں قسم کی نجاستوں ہی سے متعلق فرشتوں کی حساسیت کا بیان ہیں اور اِن سے ہمارے لیے جو تعلیم نکلتی ہے، وہ بھی یہی ہے کہ اُن کی بے تکلف آمد وشد کے لیے ہمیں اپنے گھروں کو ہر قسم کی نجاستوں سے پاک رکھنا چاہیے۔یہ، اگر غور کیجیے تو ٹھیک اُس مقصد کا تقاضا بھی ہے جو خدا نے اپنے دین کا بیان فرمایا ہے، یعنی تزکیہ و تطہیر۔
۲۔یعنی وہ کتا جسے سدھایا نہ گیا ہو، لہٰذاجہاں چاہے، گندگی پھیلاسکتا ہو۔یہ تخصیص اِس لیے ضروری ہے کہ سورۂ مائدہ (۵) کی آیت۴ میں اللہ تعالیٰ نے کتوں کے سدھانے کے علم کو اپنا سکھایا ہوا علم قرار دیا اور فرمایا ہے کہ اُنھیں اگر اللہ کا نام لے کر شکار پر چھوڑا جائے تو اُن کا شکار کو پھاڑ دینا ہی اُس کا تذکیہ ہے، لہٰذا اُسے ذبح کیے بغیر بھی کھایا جاسکتا ہے۔اِس میں دیکھ لیجیے، کوئی ادنیٰ تاثر بھی اِس بات کا نہیں ملتا کہ کتا بجاے خود کوئی پلید جانور ہے یا اُس کے رکھنے اور سدھانے سے انسان اللہ کی کسی رحمت سے محروم ہوسکتا ہے۔چنانچہ یہ بات علی الاطلاق تو کسی طرح قبول نہیں کی جاسکتی کہ جہاں کتا ہو، فرشتے وہاں داخل نہیں ہوتے، لیکن اُس تخصیص کے ساتھ ضرور قبول کی جاسکتی ہے جو ہم نے بیان کی ہے، کیونکہ فرشتوں کے بارے میں یہ خیال کہ اپنی لطافت طبع کے باعث وہ مادی نجاستوں کے بارے میں بھی ایسے ہی حساس ہوں گے ، ہر لحاظ سے قرین قیاس ہے۔
پھر یہی نہیں، اِس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اِسے فرشتوں کے ذاتی حیثیت میں اور اپنی مرضی سے کہیں آنے کے ساتھ ہی خاص سمجھا جائے، اِس لیے کہ وہ اگر خدا کے کسی حکم کی تنفیذ کے لیے کہیں بھیجے جائیں گے تو بالبداہت واضح ہے کہ اِس طرح کی کوئی چیز اُن کے لیے مانع نہیں ہوسکتی۔چنانچہ یہ کسی طرح متصور نہیں ہوسکتا کہ فرشتے اصحاب کہف کے غار میں محض اِس لیے داخل نہیں ہوتے ہوں گے کہ غار کی دہلیز پر اُن کا کتا اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے بیٹھا تھا: ’وَکَلْبُہُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْہِ بِالْوَصِیْدِ‘(الکہف ۱۸:۱۸)۔
یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ فرشتے ذاتی حیثیت میں اور اپنی مرضی سے پیغمبروں کے ہاں تو آتے ہی ہیں، اُن کے علاوہ عام لوگوں کے ہاں بھی اُن کا اِس طریقے سے آنا مستبعد نہیں ہے۔چنانچہ سورۂ بنی اسرائیل (۱۷) کی آیت ۷۸ میں تصریح ہے کہ فجر کی قراء ت وہ لازماً سنتے ہیں۔قرآن کی عام تلاوت کے موقع پر بھی اُن کے آنے کا ذکر بعض روایتوں میں ہوا ہے۔خیر وبرکت کی دوسری مجالس اور مواقع کو اِس پر قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اُن میں بھی اُن کی شرکت ہر وقت متوقع ہوسکتی ہے۔
اِس روایت میں اجمال کا اسلوب ہے، لیکن اِس باب کی آخری روایت میں ام المؤمنین سیدہ میمونہ کے بیان کو دیکھیے تو ہماری اِس بات کی تائید ہوتی ہے کہ فرشتوں کے گھروں میں داخل نہ ہونے کا باعث نجاست کا احتمال ہی ہوسکتا ہے۔اُنھوں نے اُس میں بتایا ہے کہ کتا نکال دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے بیٹھنے کی جگہ پر پانی لے کر چھڑک دیا۔یہ، ظاہر ہے کہ اِسی لیے کیا گیا کہ وہاں اگر کوئی نجاست رہی ہو تو صاف ہوجائے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۱۹۹۵۰سے لیا گیا ہے۔ ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے علاوہ تعبیر کے معمولی فرق کے ساتھ یہ ابو ایوب رضی اللہ عنہ ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور بُریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے اِس کے متابعات جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: جامع معمر بن راشد، رقم ۱۹۴۸۳۔ مسند حمیدی، رقم۴۳۵۔ مسند ابن جعد، رقم۲۴۵۵، ۲۸۸۰۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۱۹۹۵۰، ۱۹۹۵۲، ۲۵۱۹۱۔ مسند احمد، رقم ۱۶۳۴۶، ۱۶۳۵۳، ۱۶۳۶۹۔صحیح بخاری، رقم۳۲۲۵، ۳۳۲۲، ۴۰۰۲، ۵۹۴۹۔صحیح مسلم، رقم۲۱۰۶۔سنن ابن ماجہ، رقم۳۶۴۹۔ سنن ترمذی، رقم۲۸۰۴۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم۴۲۸۲، ۵۳۴۷، ۵۳۴۸۔ السنن الکبریٰ، نسائی،رقم۴۷۷۵، ۹۶۷۹، ۹۶۸۲،۹۶۸۳، ۹۶۸۴، ۹۶۸۵، ۹۶۸۶۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۱۴۱۴، ۱۴۳۰۔مسند رویانی، رقم۹۷۷، ۹۹۴۔ شرح معانی الآثار، طحاوی، رقم ۶۹۱۴، ۶۹۱۵۔مسند شاشی، رقم۱۰۴۵، ۱۰۴۶، ۱۰۴۷، ۱۰۴۸، ۱۰۴۹۔صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۵۵۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۱۳۴۴، ۹۱۶۳۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۴۶۸۶، ۴۶۸۷، ۴۶۸۸، ۴۶۸۹، ۴۶۹۱، ۴۶۹۵، ۴۶۹۶، ۴۶۹۷۔فوائد تمام، رقم۱۴۶۹، ۱۴۷۰۔السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۲۵۸۷۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۱۸۷، ۱۴۵۶۳۔
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے اِس کے شواہد اِن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں:شرح معانی الآثار، طحاوی، رقم۶۹۱۶۔المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۲۷۷۲اورالمعجم الکبیر،طبرانی، رقم۳۸۶۰۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اِس کے شواہد اِن مراجع میں نقل ہوئے ہیں:موطا مالک، رقم۷۷۷۔مسند احمد، رقم ۱۱۸۵۸۔سنن ترمذی، رقم۲۸۰۵۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۱۳۰۳۔ صحیح ابن حبان، رقم۵۸۴۹۔ شعب الایمان، بیہقی، رقم ۵۸۹۶۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِس کا شاہدصحیح مسلم، رقم۲۱۱۲دیکھ لیا جاسکتا ہے۔
بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے اِس مضمون کی روایتیں اِن مصادر میں دیکھ لی جاسکتی ہیں: مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۱۹۹۵۱۔ مسند احمد، رقم۲۲۹۸۷۔ معجم ابن الاعرابی، رقم۲۴۱۱، ۲۴۲۴۔
۲۔بعض طرق، مثلاً مسند حمیدی، رقم۴۳۵میں یہاں’لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ‘ ’’فرشتے داخل نہیں ہوتے ‘‘کے بجاے ’لَا یَدْخُلُ الْمَلَکُ‘’ ’فرشتہ داخل نہیں ہوتا ‘‘کے الفاظ آئے ہیں۔
۳۔کئی طرق، مثلاًصحیح بخاری، رقم۳۲۲۵میں اِس سیاق میں ’وَلاَ صُوْرَۃُ تَمَاثِیْلَ ‘ ’’اور نہ اُس گھر میں، جہاں مورتوں جیسی تصویر ہو‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔بعض طرق، مثلاً صحیح بخاری، رقم ۵۹۴۹ میں ’وَلَا تَصَاوِیْرُ‘ ’’اور نہ اُس گھر میں، جہاں تصویریں ہوں‘‘کے الفاظ نقل ہوئے ہیں، جب کہ بعض طرق، مثلاً المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۴۶۹۷میں ’وَلَا تِمْثَالٌ‘ ’’اور نہ اُس گھر میں، جہاں مورت ہو ‘‘کے الفاظ ہیں۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۶۷۹میں یہاں ’کَلْبٌ أَوْ تِمْثَالٌ‘ ’’جہاں کتا یا مورت ہو‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔
۴۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ کے ایک طریق میں یہ روایت اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے: ’قَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيُّ: أَخْبَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَلَاءِکَۃَ لَا تَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ تَمَاثِیْلُ أَوْ تَصَاوِیْرُ. یَشُکُّ إِسْحَاقُ لاَ یَدْرِيْ، أَیَّتَہُمَا قَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيُّ‘۔ ’’ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی تھی کہ فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مورتیں یا تصویریں ہوں۔‘‘ اسحاق کو شبہ ہے کہ اِس کے لیے تماثیل یا تصاویر میں سے ابو سعید خدری نے کون سا لفظ استعمال کیا تھا۔ ملاحظہ ہو: موطا مالک، رقم۷۷۷۔

—۲—

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:۱ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ دَخَلَ الْبَیْتَ، وَجَدَ فِیْہِ صُوْرَۃَ إِبْرَاہِیْمَ، وَصُوْرَۃَ مَرْیَمَ عَلَیْہِمَا السَّلَامُ، فَقَالَ: ’’أَمَّا ہُمْ فَقَدْ سَمِعُوْا أَنَّ الْمَلَائِکَۃَ لَا تَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ صُوْرَۃٌ، ہٰذَا إِبْرَاہِیْمُ مُصَوَّرًا، فَمَا بَالُہُ یَسْتَقْسِمُ؟‘‘.
ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ اُس میں سیدنا ابراہیم اور سیدہ مریم کی تصویریں ہیں۔ اُنھیں دیکھ کر آپ نے فرمایا: یہ لوگ سن چکے تھے کہ فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو۱، اِس کے باوجود یہ ابراہیم ہیں، جن کی تصویر بنائی گئی ہے اور اُن کا بھی کیا حال ہے کہ ہاتھ میں جوے کے تیر پکڑے ہوئے ہیں!۲

________

۱۔ یعنی اپنے آبا سے سن چکے تھے۔یہ اِس لیے فرمایا کہ قریش مکہ ابراہیم واسمٰعیل علیہما السلام کی اولاد تھے اور فرشتوں کے بارے میں یہ بات اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے تو آپ سے پہلے کے انبیا نے بھی یقیناًفرمائی ہوگی۔یہاں اِس کا حوالہ محض اُن کے عمل کی شناعت کو بیان کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔گویا مدعا یہ ہے کہ اِس طرح کی تصویروں سے فرشتوں کی کراہت کو جانتے تھے، لیکن اِس کے باوجود اُن کے لیے اذیت کا یہ سامان فراہم کرنے سے باز نہیں آئے۔اِس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ اُن کے اِس عمل کی وجہ سے فرشتے خدا کی اِس اولین عبادت گاہ میں داخل نہیں ہوتے ہوں گے۔
۲۔ مطلب یہ ہے کہ سفاہت کی انتہا ہے کہ ایک پیغمبر کی تصویر بنا کر بیت اللہ میں رکھ دی اور وہ بھی اِس طرح کہ ہاتھ میں جوے کے تیر ہیں۔ اِس سے ضمنًا یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ زمانۂ رسالت کے عرب میں تصویریں بالعموم اُنھی شخصیات کی بنائی جاتی تھیں، جن کے ساتھ تعظیم وتقدیس کے جذبات کسی نہ کسی درجے میں وابستہ ہوسکتے تھے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۲۵۰۸سے لیا گیا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اِس کے متابعات جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں:صحیح بخاری، رقم ۳۳۵۱۔السنن الکبریٰ،نسائی، رقم۹۶۸۷۔مسند ابی یعلیٰ،رقم ۲۴۲۹۔صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۵۸۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۹۷۲۴۔

—۳—

عَنْ عَلِيٍّ،۱ أَنَّہُ صَنَعَ طَعَامًا، فَدَعَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ [فَدَخَلَ۲] فَرَأَی فِي الْبَیْتِ سِتْرًا فِیْہِ تَصَاوِیْرُ، فَرَجَعَ، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، مَا رَجَعَکَ بِأَبِيْ أَنْتَ وَأُمِّيْ؟ قَالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’إِنَّ فِي الْبَیْتِ سِتْرًا فِیْہِ تَصَاوِیْرُ، وَإِنَّ الْمَلَاءِکَۃَ لَا تَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ تَصَاوِیْرُ‘‘.
علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اُنھوں نے کھانا بنایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی ۔ چنانچہ آپ تشریف لائے، گھر میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ اُس میں ایک پردہ ہے جس پر تصویریں بنی ہوئی ہیں تو وہیں سے لوٹ گئے۔ اُن کا بیان ہے کہ میں نے پوچھا : یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کس وجہ سے لوٹ گئے؟ آپ نے فرمایا: تمھارے گھر میں ایک پردہ ہے جس پر تصویریں بنی ہوئی ہیں اورتمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جہاں اِس طرح کی تصویریں ہوں۱۔

________

۱۔ مطلب یہ ہے کہ اِن تصویروں کی پرستش کا کوئی امکان اگرچہ اب باقی نہیں رہا اور اِس بنا پر اِنھیں گوارا کیا جاسکتا تھا، لیکن خدا کے فرشتے جب اِن مظاہر شرک کے بارے میں اِس قدر حساس ہیں تو ہمیں بھی حساس ہی ہونا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدہ کے گھر میں داخل ہوئے تو اُن سے یہ بات اُس وقت بھی کہی جاسکتی تھی، لیکن آپ نے نہیں کہی اور لوٹ گئے ۔ یہ رویہ بالعموم اُس وقت اختیار کیا جاتا ہے ، جب اپنے متعلقین کو پوری شدت کے ساتھ کسی غلطی پر متنبہ کرنا مقصود ہو ۔ آپ کے لوٹ جانے کی وجہ غالباً یہی تھی ۔ اِس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اِس طرح کے ہر موقع پر آدمی کو لوٹ ہی جانا چاہیے۔ہمارا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس شدت کے ساتھ یہ تنبیہ اُس واقعے کے بعد کی ہے جو آگے روایت ۵میں بیان ہوا ہے۔اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس طرح کی تصویروں کے بارے میں خود آپ بھی جبریل امین کے توجہ دلانے کے بعد ہی پوری طرح متنبہ ہوئے ، ورنہ اِس سے پہلے آپ غالباً یہی سمجھتے رہے تھے کہ کپڑوں پر اور محض تزئین کے لیے بنائی گئی تصویریں اگر مشرکانہ بھی ہوں تو محل کی اِس تبدیلی کے بعد اُن کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس واقعے کا متن اصلاً مسند ابی یعلیٰ، رقم۴۳۶سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی تنہا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ اِس کے باقی طرق اِن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں:سنن ابن ماجہ، رقم۳۳۵۹۔ مسند بزار، رقم۵۲۳۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۵۱۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۶۸۸۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۵۲۱، ۵۵۶۔
۲۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۵۱۔

—۴—

إِنَّ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الجُہَنِيَّ حَدَّثَ۱ بُسْرَ بْنَ سَعِیْدٍ وَعُبَیْدَ اللّٰہِ الخَوْلاَنِيُّ الَّذِيْ کَانَ فِيْ حِجْرِ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’لاَ تَدْخُلُ المَلاَءِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ صُوْرَۃٌ‘‘. قَالَ بُسْرٌ: فَمَرِضَ زَیْدُ بْنُ خَالِدٍ فَعُدْنَاہُ، فَإِذَا نَحْنُ فِيْ بَیْتِہِ بِسِتْرٍ فِیْہِ تَصَاوِیْرُ،۲ فَقُلْتُ لِعُبَیْدِ اللّٰہِ الخَوْلاَنِيِّ: أَلَمْ یُحَدِّثْنَا فِي التَّصَاوِیْرِ؟ [وَیَدَعُ الثَّوْبَ؟]۳ فَقَالَ: إِنَّہُ قَالَ: ’’إِلَّا رَقْمٌ۴ فِيْ ثَوْبٍ‘‘، أَلاَ سَمِعْتَہُ؟ قُلْتُ: لاَ، قَالَ: بَلٰی قَدْ ذَکَرَہُ.
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بسر بن سعید اور عبید اللہ خولانی کو بتایا، جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ سیدہ میمونہ نے پالا تھا کہ اُن سے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویر ہو۔بسر کہتے ہیں کہ پھر زید بن خالد کسی موقع پر بیمار ہوئے تو ہم اُن کی عیادت کے لیے گئے ۔ ہم کیا دیکھتے ہیں کہ اُن کے گھر میں ایک پردہ ہے جس میں تصویریں بنی ہوئی ہیں۔ میں نے یہ دیکھا تو عبید اللہ خولانی سے کہا:کیا تصویروں کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اِنھی نے ہم سے بیان نہیں کیا تھا،اور خود یہ کپڑا اپنے گھر میں رکھے ہوئے ہیں؟ اِس پر عبید اللہ نے کہا: اِنھوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ سواے اُس کے جو کپڑوں میں منقوش ہو۱۔کیا آپ نے اِن سے یہ نہیں سنا تھا؟ میں نے کہا:نہیں۔ عبید اللہ نے کہا: کیوں نہیں، اُنھوں نے اِس کا ذکر بھی کیا تھا۔

________

۱۔ اگلی روایت سے واضح ہوجائے گا کہ یہ استثنا محض کپڑے پر بنی ہوئی تصویر کا نہیں ،بلکہ بچھونوں اور تکیوں کے کپڑے پر بنی تصویر کا ہے جس پر لوگ بیٹھتے یا لیٹتے ہیں ، اِس لیے کہ اُس کے بارے میں تقدیس وتعظیم کے جذبات یا کسی مشرکانہ عقیدے کے پیدا ہوجانے کا اندیشہ نہیں ہوسکتا۔نیچے متن کے حواشی میں دیکھ لیا جاسکتا ہے کہ اِس روایت کے ایک دوسرے طریق میں بھی پردے کے بجاے تکیوں ہی کا ذکر ہوا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس واقعے کا متن صحیح بخاری، رقم۳۲۲۶ سے لیا گیا ہے۔ زید بن خالدرضی اللہ عنہ سے اسلوب کے معمولی فرق کے ساتھ اِس واقعے کے بقیہ طرق جن مصادر میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: مسند احمد، رقم۱۶۳۴۵۔صحیح بخاری، رقم۵۹۵۸۔صحیح مسلم، رقم۲۱۰۶۔سنن ابی داود، رقم۴۱۵۵۔ السنن الصغریٰ، النسائی، رقم۵۳۵۰۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۶۷۸۔ شرح معانی الآثار، طحاوی، رقم۶۹۳۲۔ مسند شاشی، رقم۱۰۶۷، ۱۰۶۸۔صحیح ابن حبان، رقم۵۸۵۰۔ السنن الکبریٰ،بیہقی، رقم۱۴۵۸۳، ۱۴۵۸۴۔
روایت کا یہی مضمون بعض مراجع، مثلاً مسند بزار، رقم۳۷۸۰، السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۶۷۶اور۹۶۷۷میں زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے براہ راست بھی نقل ہوا ہے۔ایک طریق میں اُن سے یہ روایت اِس طرح نقل ہوئی ہے: ’عَنْ عَبِیْدَۃَ بْنِ سُفْیَانَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُوْ سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَلٰی زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِيِّ نَعُوْدُہُ فَوَجَدْنَا عِنْدَہُ نُمْرُقَتَیْنِ فِیْہِمَا تَصَاوِیْرُ، فَقَالَ أَبُوْ سَلَمَۃَ: أَلَیْسَ حَدَّثْتَنَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ صُوْرَۃٌ‘‘؟ قَالَ زَیْدٌ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ’’إِلَّا رَقْمًا فِيْ ثَوْبٍ‘‘، ’’عبیدہ بن سفیان کہتے ہیں:میں اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن زید بن خالدجُہنی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے تو دیکھا کہ اُن کے ہاں دو تکیے تھے، جن پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ ابو سلمہ نے دیکھا تو کہا: کیا آپ نے ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہیں بیان کیا تھا کہ فرشتے کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو؟ زید نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ سواے اُس کے جو کپڑوں میں منقوش ہو۔‘‘ ملاحظہ ہو:السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۶۷۶۔
۲۔بعض طرق، مثلاً مسند احمد، رقم۱۶۳۴۵میں یہاں ’فَإِذَا عَلٰی بَابِہِ سِتْرٌ فِیْہِ صُوْرَۃٌ‘ ’’تو ہم کیا دیکھتے ہیں کہ اُن کے گھر کے دروازے پر ایک پردہ ہے جس پر تصویر بنی ہوئی ہے‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔
۳۔ صحیح ابن حبان، رقم۵۸۵۰۔
۴۔ اِس روایت کے اکثر طرق میں لفظ ’رَقْمًا‘ حالت رفع کے بجاے منصوب نقل ہوا ہے۔

—۵—

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’أَتَانِيْ جِبْرِیْلُ، فَقَالَ [لِيْ]:۲‘‘ [وعَنْہُ فِيْ بَعْضِ الروایات: أَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفَ صَوْتَہُ، فَقَالَ: ’’ادْخُلْ‘‘، فَقَالَ]:۳ إِنِّيْ کُنْتُ أَتَیْتُکَ اللَّیْلَۃَ، فَلَمْ یَمْنَعْنِيْ أَنْ أَدْخُلَ عَلَیْکَ الْبَیْتَ الَّذِيْ أَنْتَ فِیْہِ، إِلَّا أَنَّہُ کَانَ فِي الْبَیْتِ تِمْثَالُ رَجُلٍ،۴ وَکَانَ فِي الْبَیْتِ قِرَامُ سِتْرٍ [فِي الْحَاءِطِ]۵ فِیْہِ تَمَاثِیْلُ، [وَکَانَ فِي الْبَیْتِ کَلْبٌ]،۶ فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِيْ فِيْ بَابِ الْبَیْتِ یُقْطَعْ، فَیُصَیَّرَ کَہَیْءَۃِ الشَّجَرَۃِ، وَمُرْ بِالسِّتْرِ یُقْطَعْ، فَیُجْعَلَ مِنْہُ وِسَادَتَانِ مُنْتَبِذَتَیْنِ تُوطَآَنِ، [فَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ تَمَاثِیْلُ]،۷وَمُرْ بِالْکَلْبِ یُخْرَجُ. فَفَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا الْکَلْبُ جَرْوٌ کَانَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ تَحْتَ نَضَدٍ لَہُمْ، [فَأُمِرَ بِہِ فَأُخْرِجَ]۸.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور اُنھوں نے مجھ سے کہا اُنھی سے بعض دوسرے طریقوں میں روایت کی ابتدا اِس طرح ہوئی ہے کہ جبریل امین نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے آئے اور آکر آپ کو سلام کیا۔آپ نے اُن کی آواز پہچان لی اور فرمایا: اندر تشریف لائیے۔جبریل علیہ السلام نے کہا: میں پچھلی رات آپ سے ملنے کے لیے آیا تھا، لیکن اُس وقت جس گھر میں آپ تھے ، اُس میں ایک شخص کی مورت تھی ، لہٰذا یہی چیز آپ سے ملنے میں مانع ہوگئی۔ پھر مزید یہ کہ اُس گھرکی دیوار پر ایک سرخ پردہ بھی تھا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں اور ایک کتا بھی تھا۔سو اُس مورت کا تو سر کاٹ دینے کی ہدایت کیجیے جو گھر کے دروازے میں رکھی ہے، پھروہ درخت کی صورت ہوجائے گی۱ اور پردے کو کاٹ دینے کی ہدایت فرمائیے کہ اُس سے دو تکیے بنا کر ڈال دیے جائیں جو روندے جاتے رہیں، اِس لیے کہ ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں مورتیں ہوں، اور کتے کے بارے میں بھی ہدایت کیجیے کہ اُسے نکال دیا جائے۲۔چنانچہ جس طرح کہا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسی طرح کردیا۔ اور جب کتے کو دیکھا تو وہ حسن یا حسین کا پلا تھاجو اُن کے تخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا ۔ سوحکم ہوا اور اُسے نکال دیا گیا۔

________

۱۔ یعنی درخت کے تنے جیسی نظر آئے گی ، لہٰذا تعظیم وتقدیس کا جو تصور کسی پورے انسان یا جانور یا کسی درخت کے بارے میں پیدا ہوسکتا ہے ، اُس کا امکان ختم ہوجائے گا۔
۲۔آگے کی بعض روایتوں میں کتے کو ماردینے کا ذکر ہے ۔اِس سے واضح ہے کہ ہم نے اُس کی جو توجیہ وہاں کی ہے ، وہی قرین قیاس ہے، اِس لیے کہ ماردینااگراِس معاملے میں کوئی مطلوب عمل ہوتا تو جبریل یہاں اُس کے محض نکال دینے کی ہدایت پر اکتفا نہ کرتے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس واقعے کا متن اصلاً مسند احمد، رقم۸۰۴۵ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی تنہا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔تعبیر اوراجمال وتفصیل کے کچھ اختلاف کے ساتھ اِس کے متابعات اِن مراجع میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں: جامع معمر بن راشد، رقم۱۹۴۸۸۔مسند احمد، رقم۸۰۷۹، ۹۰۶۳، ۱۰۱۹۳۔سنن ابی داود، رقم۴۱۵۸۔سنن ترمذی، رقم ۲۸۰۶۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۶۵۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۷۰۸۔شرح معانی الآثار، طحاوی، رقم ۶۹۴۵، ۶۹۴۶۔ صحیح ابن حبان، رقم۵۸۵۳، ۵۸۵۴۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۲۵۸۹۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۴۵۷۶، ۱۴۵۷۷، ۱۴۵۷۸۔ معرفۃ السنن والآثار، بیہقی، رقم۱۴۴۲۸۔
بعض طرق، مثلاً السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۷۰۸میں یہ واقعہ اِس تعبیر کے ساتھ روایت ہوا ہے: ’عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: اسْتَأْذَنَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:’’کَیْفَ أَدْخُلُ وَفِيْ بَیْتِکَ سِتْرٌ فِیْہِ تَمَاثِیْلُ خَیْلًا وَرِجَالًا؟ فَإِمَّا أَنْ تُقْطَعَ رُءُ وْسُہَا أَوْ تَجْعَلَ بِسَاطًا یُوْطَأُ، فَإِنَّا مَعْشَرَ الْمَلَائِکَۃِ لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ تَصَاوِیْرُ‘‘، ’’ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل امین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے اجازت طلب کی اور فرمایا:آپ کے گھر میں ایک پردہ ہے جس پر گھوڑوں اور انسانوں کی تصاویر بنی ہیں، چنانچہ میں اِس طرح آپ کے ہاں کیسے داخل ہوں؟ یا تو اُن کے سر کاٹ دیے جائیں اور یا آپ اُس پردے سے کوئی بچھونا بنالیجیے جسے روندا جائے۔ہم فرشتوں کی جماعت ہیں، اُس گھر میں ہم داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویریں ہوں‘‘۔
۲۔سنن ابی داود، رقم۴۱۵۸۔
۳۔ مسند احمد، رقم ۸۰۷۹۔
۴۔ بعض روایتوں، مثلاً سنن ترمذی، رقم ۲۸۰۶میں یہاں یہ الفاظ آئے ہیں: ’إِلَّا أَنَّہُ کَانَ فِيْ بَابِ البَیْتِ تِمْثَالُ الرِّجَالِ‘ ’’مگر یہ کہ گھر کے دروازے پر انسانوں کی مورتیں بنی تھیں‘‘۔
۵۔ جامع معمر بن راشد، رقم۱۹۴۸۸۔
۶۔سنن ابی داود، رقم۴۱۵۸۔
۷۔ مسند احمد، رقم ۸۰۷۹۔صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۵۳میں یہاں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:’فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ تَمَاثِیْلُ، فَإِنْ کُنْتَ لَابُدَّ جَاعِلًا فِيْ بَیْتِکَ، فَاقْطَعْ رُءُ وْسَہَا أَوِ اقْطَعْہَا وَسَائِدَ، وَاجْعَلْہَا بُسُطًا‘ ’’اِس پر جبریل علیہ السلام نے فرمایا:ہم اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوں، اگر آپ کو اپنے گھر میں اِن تصویروں کورکھنا ہی ہے تو اِن کے سر کاٹ دیجیے یا اِس طرح کے پردوں کو کاٹ کر تکیے یا بچھونے بنا لیجیے‘‘۔
۸۔سنن ابی داود، رقم۴۱۵۸۔

—۶—

عَنْ عَاءِشَۃَ، أَنَّہَا قَالَتْ:۱ وَاعَدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فِيْ سَاعَۃٍ یَأْتِیْہِ فِیْہَا، فَجَاءَ تْ تِلْکَ السَّاعَۃُ۲وَلَمْ یَأْتِہِ، وَفِيْ یَدِہِ عَصًا، فَأَلْقَاہَا مِنْ یَدِہِ، وَقَالَ: ’’مَا یُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہُ وَلَا رُسُلُہُ‘‘، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَإِذَا جِرْوُ کَلْبٍ تَحْتَ سَرِیْرِہِ،۳ فَقَالَ: ’’یَا عَاءِشَۃُ، مَتٰی دَخَلَ ہٰذَا الْکَلْبُ ہَاہُنَا؟‘‘ فَقَالَتْ: وَاللّٰہِ، مَا دَرَیْتُ، فَأَمَرَ بِہِ فَأُخْرِجَ، فَجَاءَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ،۴ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’وَاعَدْتَنِيْ فَجَلَسْتُ لَکَ فَلَمْ تَأْتِ‘‘،۵ [’’مَا مَنَعَکَ أَنْ تَدْخُلَ‘‘؟۶] فَقَالَ: مَنَعَنِي الْکَلْبُ الَّذِيْ کَانَ فِيْ بَیْتِکَ، إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ وَلَا صُوْرَۃٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جبریل امین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی خاص وقت پر آنے کا وعدہ کیا۔پھر وہ وقت آگیا، مگر جبریل علیہ السلام نہیں آئے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک عصا تھا، آپ نے پریشانی میں اُس کو پھینک دیا اور فرمایا: اللہ اور اُس کے فرستادے کبھی وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے ۔پھر آپ نے رخ پھیرا تو دیکھا کہ آپ کے پلنگ کے نیچے ایک پلا ہے۔ آپ نے پوچھا: عائشہ، یہ کتا یہاں کب گھس آیا؟ اُنھوں نے کہا: بخدا، میں نہیں جانتی۔ چنانچہ آپ نے حکم دیا اور اُسے نکال دیا گیا۱۔اِس کے بعد جبریل علیہ السلام آگئے تو آپ نے اُن سے پوچھا: آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور میں آپ کے انتظار میں بیٹھا رہا ، لیکن آپ آئے نہیں؟ آپ کو کس چیز نے آنے سے روکے رکھا؟ اُنھوں نے فرمایا: اُس کتے نے جو آپ کے گھر میں تھا،آپ کو معلوم ہی ہے۲ کہ ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا مورت ہو۳۔

________

۱۔پچھلی روایت میں جو واقعہ بیان ہوا ہے،اُس میں جبریل علیہ السلام نے کتے کو نکال دینے کی ہدایت کی تھی۔ اُسی سے آپ کو خیال ہوا کہ اِس موقع پر بھی غالباًیہی کتااُن کے آنے میں مانع ہوگیا ہے، لہٰذا آپ نے یہ حکم دیا۔
۲۔’أَمَا عَلِمْتَ‘یا اِس کے ہم معنی الفاظ، ہمارے نزدیک یہاں مقدر ہیں، اِس لیے کہ اِس طرح کی بات دوسری مرتبہ کہی جائے گی تو اِسی مفہوم میں ہوگی۔ آگے سیدہ میمونہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔اُس کے بعض طریقوں میں دیکھیے تو یہ الفاظ صراحتاً مذکور ہیں۔اِس کا حوالہ روایت کے تحت متن کے حواشی میں دیکھ لیا جاسکتا ہے۔ہم نے اِسی بنا پر ترجمے میں اِنھیں کھول دیا ہے۔
۳۔ یہ جبریل علیہ السلام نے اُس اندیشے کی تصدیق کردی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلنگ کے نیچے کتا دیکھ کر ہوا تھا۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس واقعے کا متن اصلاًصحیح مسلم، رقم۲۱۰۴سے لیا گیا ہے۔اِس کی راوی تنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ اِس کے باقی طرق تعبیر کے کچھ فرق کے ساتھ اِن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں: احادیث اسماعیل بن جعفر، رقم۱۹۴۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۵۱۹۳۔ مسند اسحاق، رقم ۱۰۸۱۔ مسند احمد، رقم۲۵۱۰۰۔صحیح مسلم، رقم۲۱۰۴۔سنن ابن ماجہ، رقم۳۶۵۱۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۴۵۰۸۔شرح مشکل الآثار، طحاوی،رقم۸۸۵، ۴۶۶۹۔
۲۔ احادیث اسماعیل بن جعفر، رقم۱۹۴میں یہاں ’فَجَاءَ تْ تِلْکَ السَّاعَۃُ‘’’پھر وہ وقت آگیا ‘‘کے بجاے ’فَذَہَبَتْ تِلْکَ السَّاعَۃُ ‘’’پھر وہ وقت گزرگیا ‘‘کے الفاظ آئے ہیں۔
۳۔بعض طرق، مثلاً مسند اسحاق، رقم۱۰۸۱میں یہاں ’تَحْتَ سَرِیْرِ عَائِشَۃَ‘’’عائشہ کے پلنگ کے نیچے ‘‘کے الفاظ آئے ہیں۔
۴۔ بعض طرق، مثلاً مسند اسحاق، رقم۱۰۸۱میں اِس کی تفصیل اِس طرح بیان ہوئی ہے: ’فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَقِیَہُ قَائِمًا بِالْبَابِ‘ ’’ پھر آپ باہر نکلے تو دروازے پر اُن سے ملاقات ہوئی، وہ وہیں کھڑے تھے‘‘۔
۵۔ مسند احمد، رقم۲۵۱۰۰میں یہاں اِن کے بجاے یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں:’إِنِّي انْتَظَرْتُکَ لِمِیْعَادِکَ‘ ’’آپ کے دیے گئے وقت پر میں آپ کی آمد کامنتظر رہا‘‘۔
۶۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۵۱۹۳۔

____________

فرشتے، تصاویر اور کتا (2/2)




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List