Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
ایمان کا ایک تقاضا | اشراق
Font size +/-

ایمان کا ایک تقاضا

تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

—۱—

عَنْ قَیْسٍ، قَالَ: قَامَ أَبُوْ بَکْرٍ،۱ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ، إِنَّکُمْ تَقْرَءُ وْنَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَیْتُمْ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ،۲ [قَالَ: إِنَّ النَّاسَ یَضَعُوْنَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ عَلٰی غَیْرِ مَوْضِعِہَا] ۳، وَإِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَقُوْلُ: ’’إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوا الظَّالِمَ فَلَمْ یَأْخُذُوْا عَلٰی یَدَیْہِ، [وَالْمُنْکَرَ فَلَمْ یُغَیِّرُوْہُ] ۴ أَوْشَکَ أَنْ یَعُمَّہُمُ اللّٰہُ بِعِقَابِہِ‘‘.
قیس سے روایت ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ خطبے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: لوگو، تم اِس آیت کی تلاوت کرتے ہوکہ ’’ایمان والو، تم اپنی فکر کرو، تم راہ ہدایت پر ہو تو جنھوں نے گم راہی اختیار کر لی ہے، وہ تمھارا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ تم سب کو اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمھیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو‘‘۔ فرمایا: لوگ اِس آیت کو غلط جگہ پر رکھ کر اِس کا مدعا بیان کرتے ہیں۔۱ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگ ظالموں کو دیکھیں اور اُن کا ہاتھ نہ پکڑیں اور منکرات کو دیکھیں اور اُن کے ازالے کی کوشش نہ کریں۲ تو اندیشہ ہے کہ اللہ سب کو سزا کے لیے پکڑ لے گا۔۳

________

۱۔ مطلب یہ ہے کہ آیت کا محل تو مسلمانوں کے لیے اِس تسلی کا ہے کہ حق پہنچانے اور حق نصیحت ادا کر دینے سے زیادہ اُن کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، اُن کے مخاطبین نہیں مانتے تو اِس پر وہ مسؤل نہیں ٹھیرائے جائیں گے، مگر لوگ اِسے دعوت و تبلیغ، تعلیم و تلقین اور نہی عن المنکر ہی سے سبک دوشی کے معنی میں لے رہے ہیں، جو کسی طرح صحیح نہیں ہے۔
۲۔ یعنی اپنے دائرۂ اختیار اور اپنی استطاعت کے لحاظ سے روکنے اور اُس کی جگہ خیر و صلاح پیدا کر دینے کی کوشش نہ کریں۔
۳۔ یعنی اُن کو بھی جو ظلم و عدوان اور منکرات کے مرتکب ہو رہے تھے، اور اُن کو بھی جو اُنھیں روکنے کے بجاے اُن سے بے پروا ہو کر بیٹھے رہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد،رقم ۳۰ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے۔
مسند احمد، رقم ۲۹۔سنن ترمذی، رقم ۲۰۹۴، ۳۰۰۲۔ سنن ابی داؤد، رقم ۳۷۷۷۔ صحیح ابن حبان، رقم ۳۰۸۔ مسند حمیدی، رقم۳۔ مسند بزار، رقم ۵۳، ۵۴، ۱۱۵۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۱۲۱، ۱۲۴۔ مسند عبد بن حمید، رقم۱۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۹۹۱، ۹۹۴۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۸۵۷۷۔
۲۔ المائدہ ۵: ۱۰۵۔
۳۔صحیح ابن حبان، رقم ۳۰۸۔
۴۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۱۲۴۔

—۲—

حَدَّثَنِيْ أَبُوْ أُمَیَّۃَ الشَّعْبَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِيَّ۱، فَقُلْتُ: یَا أَبَا ثَعْلَبَۃَ، کَیْفَ تَقُوْلُ فِيْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَیْتُمْ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ؟ قَالَ: أَمَا وَاللّٰہِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْہَا خَبِیْرًا، سَأَلْتُ عَنْہَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ’’بَلِ اءْتَمِرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنَاہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ حَتّٰی إِذَا رَأَیْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَہَوًی مُتَّبَعًا وَدُنْیَا مُؤْثَرَۃً وَإِعْجَابَ کُلِّ ذِيْ رَأْیٍ بِرَأْیِہِ، فَعَلَیْکَ یَعْنِيْ بِنَفْسِکَ وَدَعْ عَنْکَ الْعَوَامَّ، فَإِنَّ مِنْ وَرَاءِکُمْ أَیَّامَ الصَّبْرِ، الصَّبْرُ فِیْہِ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَی الْجَمْرِ، لِلْعَامِلِ فِیْہِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِیْنَ رَجُلًا یَعْمَلُوْنَ مِثْلَ عَمَلِکُمْ‘‘.
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اوراُن سے پوچھا کہ اِس آیت کے بارے میں آپ کی کیا راے ہے : ’’ایمان والو، تم اپنی فکر کرو، تم راہ ہدایت پر ہو تو جنھوں نے گم راہی اختیار کر لی ہے، وہ تمھارا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ تم سب کو اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمھیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو‘‘؟ اُنھوں نے کہا: خدا کی قسم، تم نے اِس کے بارے میں ایک جاننے والے ہی سے پوچھا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کے متعلق سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اچھی باتوں کی تلقین کرو، اور بری باتوں سے روکو اور اپنی یہ ذمہ داری پوری کرتے رہو، یہاں تک کہ جب دیکھ لو کہ لوگوں نے اپنی لگام حرص کے ہاتھ میں دے دی ہے اور خواہشات کی پیروی کی جا رہی ہے اور دنیا ترجیح پا چکی ہے اور ہر راے رکھنے والا اپنی ہی راے پر نازاں ہے تو اُس وقت، البتہ اپنی ذات کی فکر کرو اور عوام سے دور رہو، ۱ اِس لیے کہ تمھارے آگے پھر صبر کے دن ہیں ، ۲ جن میں صبر ایسا ہی مشکل ہو گا، جیسے ہاتھ میں انگارا پکڑ لیا جائے۔ اُن میں عمل کرنے والے کے لیے وہی اجر ہے جو تمھارے پچاس عمل کرنے والوں کو ۳ملے گا۔

________

۱۔ یعنی آیت کا مدعا وہ نہیں ہے جو تم سمجھ رہے ہو کہ لوگوں کے خیر و شر سے بے نیاز ہو کر بس اپنی ہی فکر کرنی چاہیے، ہرگز نہیں۔ اُنھیں ہر حال میں نیکی کی طرف بلانا اور برائی سے روکنا چاہیے۔ یہ ذمہ داری اُسی وقت ختم ہوتی ہے، جب بگاڑ اِس حد تک بڑھ جائے کہ کسی سے کچھ کہنے سننے کی گنجایش ہی باقی نہ رہے۔ اُس وقت، البتہ لوگوں کو اُن کے حال پر چھوڑ کر اپنی فکر کرنی چاہیے، ورنہ اندیشہ ہے کہ فساد پیدا ہو گا یا آدمی بتدریج خود بھی اُنھی کا رنگ ڈھنگ اختیار کر لے گا۔
۲۔ یعنی اِس امتحان کے دن ہیں کہ آدمی نیکی اور خیر پر ثابت قدم بھی رہے اور اپنے گرد و پیش میں بگاڑ کو دیکھ کر کوئی ایسا اقدام بھی نہ کرے جو معاشرے میں فساد پیدا کر دینے کا باعث ہو سکتا ہو۔
۳۔ یعنی زمانۂ رسالت کے مسلمانوں میں سے پچاس عمل کرنے والوں کو۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح ابن حبان، رقم ۳۷۸۰ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:
سنن ترمذی، رقم ۳۰۰۳۔ سنن ابو داؤد، رقم ۳۷۸۰۔ سنن ابن ماجہ، رقم۴۰۱۲۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۹۹۵۔ مستدرک حاکم، رقم ۷۹۸۶۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۸۵۷۹۔ المعجم الکبیر،طبرانی رقم ۱۸۰۶۶۔

—۳—

عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَۃِ یَوْمَ الْعِیْدِ، قَبْلَ الصَّلَاۃِ، مَرْوَانُ، فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلٌ، فَقَالَ: الصَّلَاۃُ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ، فَقَالَ: قَدْ تُرِکَ مَا ہُنَالِکَ، فَقَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ:۱ أَمَّا ہٰذَا فَقَدْ قَضَی مَا عَلَیْہِ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ’’مَنْ رَأَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہِ، فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعٍْ۲ فَبِلِسَانِہِ، فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہِ، وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الْإِیْمَانِ‘‘.
طارق بن شہاب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:سب سے پہلے جس شخص نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا، وہ مروان تھا ۔اُس وقت ایک شخص کھڑا ہوا اور اُس نے کہا: خطبہ سے پہلے نماز پڑھی جائے گی، اِس پر مروان نے جواب دیا: اب وہ طریقہ ترک کردیا گیا ہے جو اِس موقع کے لیے مقرر تھا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو کہا: اِس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔۱ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص برائی دیکھے۲ تو اُسے چاہیے کہ ہاتھ سے اُس کا ازالہ کرے۔ پھر اگر اِس کی ہمت نہ ہوتو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے اُسے ناگوار سمجھے اور یہ ایمان کا ادنیٰ ترین درجہ ہے۔

________

۱۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے دائرۂ اختیارسے باہر یہ اِسی کا مکلف تھا کہ حق بات کہہ دے، اِس سے زیادہ اِس کی کوئی ذمہ داری نہیں تھی۔ چنانچہ جو ممکن تھا اور جس کے لیے کوئی شخص اللہ کے ہاں جواب دہ ہو سکتا تھا، وہ کام اِس شخص نے کر دیا ہے۔
۲۔ یعنی اپنے دائرۂ اختیار میں کوئی برائی دیکھے۔ آگے درجات کا بیان دلالت کر رہا ہے کہ روایت کا حکم اُسی دائرے سے متعلق ہے جس میں کوئی شخص برائی کو ہاتھ سے روک دینے کا مکلف ٹھیرایا جا سکتا ہے، ورنہ یہ کہنے کے کوئی معنی نہیں ہیں کہ وہ اگر ایسا نہ کر سکا تو ایمان کے دوسرے، تیسرے یا ادنیٰ ترین درجے میں چلا جائے گا۔ یہ بات اُسی صورت میں کہی جا سکتی ہے، جب کہ وہ حکم کا مکلف ہو اور محض ہمت اور حوصلے کی کمی اُس پر عمل نہ کرنے کا باعث بن جائے۔ روایت میں ’فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ‘ کا ترجمہ ہم نے اِسی بنا پر ’ہمت نہ ہو‘ کے الفاظ میں کیا اور اِس طرح واضح کر دیا ہے کہ استطاعت سے مراد یہاں وہ استطاعت نہیں ہے جس سے آدمی کسی کام کا مکلف ہوتا ہے۔ یہ ٹھیک اُسی اصول کا اطلاق ہے جس کی صراحت اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت کے بارے میں خود فرمائی ہے کہ ’لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا‘ (اللہ تعالیٰ کسی پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا)۔ چنانچہ یہی اصول ہے، جس کی بنا پر کسی پیغمبر کو بھی اِس کی اجازت نہیں دی گئی کہ برائی کو دیکھ کر وہ تذکیر و نصیحت سے آگے کسی کے خلاف کوئی اقدام کرے۔ ارشاد فرمایا ہے:

اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ، لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍ.(الغاشیہ ۸۸: ۲۱۔۲۲)
’’(اے پیغمبر)، تم یاددہانی کرنے والے ہی ہو، تم اِن پر کوئی داروغہ نہیں ہو۔‘‘

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح مسلم،رقم ۷۳ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج مصادر میں نقل ہوئی ہے:
مسند احمد، رقم ۱۱۲۸۰، ۱۱۶۵۹۔ مسند عبد بن حمید، رقم ۹۱۴۔ سنن ترمذی، رقم۲۰۹۸۔ سنن ابو داؤد، رقم ۹۶۵، ۳۷۷۹۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۱۲۶۵، ۴۰۱۱۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۴۹۴۸، ۴۹۴۹۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۹۹۶، ۱۱۹۰۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۸۰۔ صحیح ابن حبان، رقم ۳۱۰، ۳۱۱۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم، ۵۷۲۳، ۱۳۴۶۸۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۵۷۲۳، ۱۳۴۶۸، ۱۸۵۶۹۔
۲۔مصنف عبد الرزاق، رقم ۵۴۹۲ میں اِس جگہ ’فَلْیَفْعَلْ‘ ’’اُسے چاہیے کہ روکے‘‘ کا اضافہ نقل ہوا ہے۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۴۹۴۹ میں منکر کو روکنے کی اِن تینوں حالتوں کے بعد ’فَقَدْ بَرِئَ‘ نقل ہوا ہے، یعنی (اگر اُس نے ایسا کیا)تو وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہو گیا۔

—۴—

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ،۱ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ فِيْ أُمَّۃٍ قَبْلِيْ، إِلَّا کَانَ لَہُ مِنْ أُمَّتِہِ حَوَارِیُّوْنَ، وَأَصْحَابٌ یَأْخُذُوْنَ بِسُنَّتِہِ وَیَقْتَدُوْنَ بِأَمْرِہِ، ثُمَّ إِنَّہَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِہِمْ خُلُوْفٌ، یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ، وَیَفْعَلُوْنَ مَا لَا یُؤْمَرُوْنَ، فَمَنْ جَاہَدَہُمْ بِیَدِہِ فَہُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاہَدَہُمْ بِلِسَانِہِ فَہُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاہَدَہُمْ بِقَلْبِہِ فَہُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَیْسَ وَرَاءَ ذٰلِکَ مِنَ الْإِیْمَانِ، حَبَّۃُ خَرْدَلٍ‘‘.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا کہ جس کی امت میں اُس کے ایسے شاگرد اور ساتھی نہ ہوں جو اُس کے طریقے پر چلتے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے ہوں۔ پھر اِن لوگوں کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زبان سے کہیں گے اور کریں گے نہیں، بلکہ وہ کچھ کریں گے، جس کا حکم اُنھیں نہیں دیا گیا۔ پھر جو ہاتھ سے اُن کا مقابلہ کرے، وہ مومن ہے۔ اور جو زبان سے کرے ،وہ بھی مومن ہے۔ اور جو دل میں برا جانے، وہ بھی مومن ہے۔ اِس کے بعد، البتہ رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہیں ہے۔ ۱

________

۱۔ یہ وہی مضمون ہے جس کی وضاحت ہم نے اوپر تفصیل کے ساتھ کر دی ہے۔ سن رشد کو پہنچنے کے بعد اللہ کا قانون یہی ہے کہ آدمی کسی عورت کا شوہر اور اِس کے نتیجے میں بچوں کا باپ بنے۔ بنی آدم کی یہ دونوں حیثیتیں دین و فطرت کی رو سے اُن کا ایک دائرۂ اختیار پیدا کرتی ہیں۔ ایمان کا یہ تقاضا کہ برائی کو ہاتھ سے روک دیا جائے، اِسی دائرے سے متعلق ہے۔ اِس دائرے سے باہر اگر اِس طرح کا کوئی اقدام کیا جائے گا تو یہ جہاد نہیں، بلکہ بدترین فساد ہو گا، جس کے لیے دین میں ہرگز کوئی گنجایش ثابت نہیں کی جا سکتی۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح مسلم، رقم ۷۴ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، اُن سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے۔
مسند احمد، رقم ۴۲۲۸، ۴۲۵۵۔ صحیح ابن حبان، رقم ۶۳۲۷۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۸۱، ۸۲۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۸۵۶۸۔ المعجم الاوسط، طبرانی ،رقم ۹۳۴۰۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۹۶۶۹۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ. ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.
ابن ماجۃ، ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.
ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ. ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ. أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح. ط۳. تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.
بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.
السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط ۱. تحقیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
محمد القضاعي الکلبي المزي. (۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
النسائي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النسائي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List