Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
ایمان کی حلاوت | اشراق
Font size +/-

ایمان کی حلاوت

تحقیق و تخریج: محمدعامر گزدر

۱۔ عَنْ عَلِیٍّ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’لَا یَجِدُ عَبْدٌ طَعْمَ الْإِیْمَانِ حَتّٰی یُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ کُلِّہُ‘.۱
۲۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۲ ’مَنْ سَرَّہُ۳ أَنْ یَّجِدَ طَعْمَ الْإِیْمَانِ۴ فَلْیُحِبَّ الْعَبْدَ۵ لَا یُحِبُّہُ إِلَّا لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ‘.
۳۔عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۶ ’ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِیہِ وَجَدَ بِہِنَّ حَلَاوَۃَ الْإِیْمَانِ۷ [وَطَعْمَہُ]:۸ أَنْ یَّکُوْنَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا سِوَاہُمَا،۹ وَأَنْ یُّحِبَّ الْمَرْءَ ۱۰ لَا یُحِبُّہُ إِلَّا لِلّٰہِ،۱۱ وَأَنْ یَّکْرَہَ أَنْ یَّعُوْدَ فِی الْکُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَہُ اللّٰہُ مِنْہُ، کَمَا یَکْرَہُ أَنْ یُّوْقَدَ لَہُ نَارٌ فَیُقْذَفَ فِیہَا‘.۱۲
۴۔عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:۱۳ ’ذَاقَ طَعْمَ الْإِیْمَانِ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلاَمِ دِیْنًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلاً‘.۱۴

۱۔علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ ایمان کی لذت اُسی وقت پاتا ہے، جب وہ خدا کے سب فیصلوں پر پورا ایمان رکھے۔۱
۲۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جسے یہ محبوب ہو کہ ایمان کا ذائقہ چکھے، اُسے چاہیے کہ بندوں سے محبت کرے تو صرف خدا کے لیے محبت کرے۔۲
۳۔انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس میں تین باتیں ہوں، اُس نے ایمان کی حلاوت پالی اور اُس کا ذائقہ چکھ لیا:ایک یہ کہ اللہ اور اُس کا رسول اُسے اُن کے سوا ہر شخص سے بڑھ کر محبوب ہوں، دوسرے یہ کہ وہ لوگوں سے محبت کرے تو صرف خدا کے لیے محبت کرے، تیسرے یہ کہ جب اللہ نے اُس کو کفر سے نکال لیا تو اُس کی طرف لوٹنااُسے ایسا ناگوار ہو،جس طرح یہ ناگوار ہے کہ اُس کے لیے آگ بھڑکائی جائے اور اُس کو اُس میں ڈال دیا جائے۔
۴۔عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اُنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:جو اِس بات پر راضی ہوگیا کہ اُس کا رب اللہ، اُس کا دین اسلام اور محمد اللہ کے رسول ہیں،۳ اُس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا۔

ترجمے کے حواشی

۱۔ یعنی اُن کو خدا کی طرف سے سمجھے، اُن میں اپنے لیے ہمیشہ خیر کی امید رکھے، اُن کی ہر سختی میں خدا ہی سے رجوع کرے اور اپنے آپ کو اُسی کے حوالے کردے۔
۲۔ یعنی دوستی اور محبت کے دنیوی داعیات کے لیے نہیں، بلکہ صرف خدا کے لیے۔ یہ، ظاہر ہے کہ اُسی وقت ہوسکتا ہے ، جب خدا پر سچاایمان ہو اور اُس کی محبت ہر محبت سے بڑھ گئی ہو۔
۳۔ یعنی طوعاً وکرہاً مان نہیں لیا، بلکہ دل ودماغ کے پورے اطمینان کے ساتھ اِن حقائق کو تسلیم کیا اور سچے جذبات کے ساتھ اِن سے وابستہ ہو گیا۔

متن کے حواشی

۱۔ مسند طیالسی، رقم ۱۶۵۔ اِس کے راوی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔
۲۔اِس روایت کا متن اصلاً مسنداحمد، رقم۱۰۷۳۸ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت جن کتابوں میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں:مسند طیالسی، رقم۲۶۱۷۔مسند ابن جعد، رقم۱۷۰۸۔مسند اسحاق، رقم۲۵۳، ۳۶۶۔مسند احمد،رقم ۷۹۶۷، ۱۰۷۳۸۔ مستدرک حاکم، رقم۳۔
۳۔بعض روایات، مثلاً مسند اسحاق، رقم۲۵۳اور مسنداحمد، رقم۷۹۶۷میں یہاں’سَرَّہُ‘ کے بجاے ’أَحَبَّ‘کا لفظ نقل ہوا ہے۔دونوں تعبیریں کم وبیش ایک ہی مفہوم رکھتی ہیں۔
۴۔بعض روایتوں، مثلاً مسند اسحاق، رقم۲۵۳اور مستدرک حاکم، رقم۳میں یہاں’طَعْمَ الْإِیْمَانِ‘ ’’ایمان کا ذائقہ‘‘ کے بجاے’حَلَاوَۃَ الْإِیْمَانِ‘ ’’ایمان کی حلاوت‘‘کا لفظ نقل ہوا ہے۔معنی کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
۵۔بعض روایات، مثلاً مسند ابن جعد، رقم ۱۷۰۸اور مسند احمد، رقم۷۹۶۷میں یہاں’الْعَبْدَ‘ ’’بندوں‘‘ کے بجاے ’الْمَرْءَ‘ ’’لوگوں‘‘کا لفظ منقول ہے۔ الف لام یہاں جنس کا ہے، اِس لیے ترجمہ اُسی رعایت سے کیا گیا ہے۔
۶۔ اِس روایت کا متن اصلاً مسند احمد، رقم ۱۲۰۰۲سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت اسلوب وتعبیر کے کچھ فرق کے ساتھ درج ذیل مراجع میں نقل ہوئی ہے:
مسند طیالسی، رقم۲۰۷۱۔مسند احمد، رقم۱۲۰۰۲، ۱۲۷۶۵، ۱۲۷۸۳، ۱۳۴۰۷، ۱۳۵۹۲، ۱۳۹۱۲، ۱۴۰۷۰۔ صحیح بخاری،رقم۱۶، ۲۱، ۶۰۴۱، ۶۹۴۱۔صحیح مسلم، رقم۴۳۔سنن ابن ماجہ، رقم۴۰۳۳۔سنن ترمذی، رقم۲۶۲۴۔سنن نسائی، رقم۴۹۸۷۔ ۴۹۸۹۔مسند بزار، رقم۶۲۲۱، ۶۶۰۶، ۶۸۱۶، ۷۱۴۰۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۲۸۱۳، ۳۰۰۰۔ ۳۰۰۱، ۳۱۴۲، ۳۲۵۶، ۳۲۵۹، ۳۲۷۹۔صحیح ابن حبان، رقم۲۳۷۔ ۲۳۸۔مستخرج ابی نعیم، رقم۱۵۹، ۱۶۱۔ ۱۶۳۔
۷۔بعض روایتوں، مثلاً صحیح مسلم، رقم ۴۳میں یہاں ’حَلَاوَۃَ الْإِیْمَانِ‘ ’’ایمان کی حلاوت‘‘ کے بجاے’طَعْمَ الْإِیْمَانِ‘ ’’ایمان کا ذائقہ‘‘ کے الفاظ ہیں، جبکہ سنن نسائی کی ایک روایت، رقم۴۹۸۹میں’حَلَاوَۃَ الْإِسْلَامِ‘ ’’اسلام کی حلاوت‘‘ کے الفاظ منقول ہیں۔ مسند بزار، رقم۶۲۲۱میں یہاں’فَقَدْ ذَاقَ طَعْمَ الْإِیْمَانِ‘ ’’تو اُس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا‘‘ کے الفاظ ہیں۔
۸۔سنن نسائی، رقم۴۹۸۷۔
۹۔بعض روایتوں میں یہ بات ذرا مختلف تعبیر کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ مثال کے طور پرمسند طیالسی، رقم ۲۰۷۱ میں ہے:’مَنْ یَکُنِ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا سِوَاہُمَا‘۔صحیح بخاری، رقم۲۱ کے الفاظ ہیں:’مَنْ کَانَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا سِوَاہُمَا‘۔ جبکہ مسند بزار، رقم۶۲۲۱میں ہے:’مَنْ کَانَ لَا شَیْءَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ‘۔یہ سب تعبیرات کم وبیش اُسی مفہوم میں ہیں جو اوپر ترجمے میں بیان ہوگیا ہے۔
۱۰۔الف لام یہاں بھی جنس کا ہے، اِس لیے ترجمہ ہم نے اُسی رعایت سے کیا ہے۔
۱۱۔ یہ بات بھی روایات میں متعدد الفاظ واسالیب میں نقل ہوئی ہے۔ مثلاً مسند احمد، رقم۱۳۵۹۲میں یہاں ’الْمَرْءَ‘ ’’لوگوں‘‘کے بجاے’الْعَبْدَ‘ ’’بندوں‘‘کا لفظ ہے۔ مسند طیالسی، رقم۲۰۷۱میں ہے:’أَنْ یُّحِبَّ الرَّجُلُ الْعَبْدَ‘ ’’یہ کہ آدمی خدا کے بندوں کو محبوب رکھے‘‘۔ مسند احمد، رقم۱۲۷۸۳میں یہ اسلوب ہے:’وَأَنْ یُّحِبَّ الْعَبْدُ الْعَبْدَ لَا یُحِبُّہُ إِلَّا لِلّٰہِ‘ ’’اور یہ کہ بندہ خدا کے دوسرے بندوں کو محبوب رکھے‘‘۔صحیح بخاری، رقم۲۱میں ہے:’مَنْ أَحَبَّ عَبْدًا لاَ یُحِبُّہُ إِلَّا لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ‘ ’’جس نے کسی بندے سے محبت کی تو صرف خدا کے لیے محبت کی‘‘۔ صحیح ابن حبان، رقم۲۳۷کے الفاظ ہیں:’وَالرَّجُلُ یُحِبُّ الْقَوْمَ لَا یُحِبُّہُمْ إِلَّا فِی اللّٰہِ‘ ’’اور آدمی لوگوں سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لیے محبت کرے‘‘۔جبکہ سنن نسائی، رقم۴۹۸۷یہ الفاظ منقول ہیں:’وَأَنْ یُّحِبَّ فِی اللّٰہِ، وَأَنْ یُّبْغِضَ فِی اللّٰہِ‘’’اور یہ کہ اُس کی محبت اور نفرت اللہ کے لیے ہو‘‘۔
۱۲۔ اِس صفت کے بیان میں بھی روایتوں کے الفاظ میں کافی تنوع ہے۔مثال کے طور پر مسند احمد، رقم ۱۲۷۸۳ میں روایت ہوا ہے:’وَأَنْ یَّکْرَہَ الْعَبْدُ أَنْ یَّرْجِعَ عَنِ الْإِسْلَامِ کَمَا یَکْرَہُ أَنْ یُّقْذَفَ فِی النَّارِ‘ ’’اور یہ کہ بندہ اپنے اسلام سے پلٹ جانے کو ایسا ناگوار سمجھے،جس طرح اُس کو یہ ناگوار ہے کہ اُس کو آگ میں جھونک دیا جائے‘‘ ۔مسند احمد، رقم۱۳۵۹۲کے الفاظ ہیں:’وَأَنْ یُّقْذَفَ فِی النَّارِ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ أَنْ یُّعَادَ فِی الْکُفْرِ‘ ’’اور یہ کہ آگ میں ڈال دیا جانا اُس کو اِس سے زیادہ محبوب ہو کہ اُس کو کفر کی طرف لوٹادیا جائے‘‘۔مسند طیالسی، رقم ۲۰۷۱ کے الفاظ ہیں: ’وَأَنْ یُّقْذَفَ الرَّجُلُ فِی النَّارِ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ أَنْ یَّرْجِعَ إِلَی الْکُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَہُ اللّٰہُ مِنْہُ‘ ’’اور یہ کہ آدمی کو آگ میں جھونک دیا جائے، یہ اُس کو اِس سے زیادہ محبوب ہو کہ وہ کفر کی طرف لوٹ جائے، جبکہ اللہ نے اُس کو اِس سے نکال لیا تھا‘‘۔ سنن نسائی، رقم۴۹۸۷میں ہے:’وَأَنْ تُوْقَدَ نَارٌ عَظِیمَۃٌ فَیَقَعَ فِیہَا أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ أَنْ یُّشْرِکَ بِاللّٰہِ شَیْئًا‘ ’’اور یہ اُس کے لیے ایک بڑی آگ بھڑکائی جائے اور وہ اُس میں کود پڑے، یہ اُس کو اِس سے زیادہ محبوب ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھیرائے‘‘۔مسند احمد، رقم۱۲۷۶۵ میں روایت ہوا ہے: ’وَمَنْ کَانَ أَنْ یُّلْقٰی فِی النَّارِ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ أَنْ یَّرْجِعَ فِی الْکُفْرِ، بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَہُ اللّٰہُ مِنْہُ‘۔ سنن نسائی، رقم۴۹۸۹میں بیان ہوا ہے: ’وَمَنْ یَّکْرَہُ أَنْ یَّرْجِعَ إِلَی الْکُفْرِ کَمَا یَکْرَہُ أَنْ یُّلْقٰی فِی النَّارِ‘ ’’اور وہ جو کفر کی طرف لوٹنے کو اپنے لیے ایسا ناگوارسمجھتا ہے،جیسا آگ میں ڈال دیے جانے کو ناگوار سمجھتا ہے‘‘۔ مسند بزار، رقم۶۲۲۱کے الفاظ ہیں: ’وَمَنْ کَانَ أَنْ یُّحَرَّقَ بِالنَّارِ لأَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ أَنْ یَّدَعَ دِینَہُ‘ ’’ اور وہ جوآگ میں بری طرح جلادیے جانے کو اِس سے زیادہ محبوب سمجھتا ہے کہ وہ دین اسلام کو چھوڑ دے‘‘۔ مسند احمد، رقم ۱۴۰۷۰ میں ہے: ’وَالرَّجُلُ أَنْ یُّقْذَفَ فِی النَّارِ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ أَنْ یَّرْجِعَ یَہُودِیًّا أَوْ نَصْرَانِیًّا‘ ’’اور وہ آدمی جو آگ میں جھونک دیے جانے کو اپنے لیے اِس سے زیادہ پسند کرتا ہے کہ وہ دوبارہ یہودیت یا نصرانیت اختیار کر لے‘‘۔
بعض روایتوں، مثلاً صحیح بخاری، رقم۶۰۴۱میں یہ حدیث اِس اسلوب میں بیان ہوئی ہے:

لاَ یَجِدُ أَحَدٌ حَلاَوَۃَ الْإِیْمَانِ حَتّٰی یُحِبَّ المَرْءَ لاَ یُحِبُّہُ إِلَّا لِلّٰہِ، وَحَتّٰی أَنْ یُّقْذَفَ فِی النَّارِ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ أَنْ یَّرْجِعَ إِلَی الکُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَہُ اللّٰہُ، وَحَتّٰی یَکُوْنَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا سِوَاہُمَا.
’’ ایمان کی حلاوت کوئی شخص اُسی وقت پاتا ہے، جب وہ لوگوں سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لیے محبت کرے، اور جب اُس کو آگ میں ڈال دیا جانا اِس سے زیادہ محبوب ہو کہ وہ کفر کی طرف لوٹے،اِس کے بعد کہ اللہ نے اُس کو اُس سے نکال لیا تھا، اور جب اللہ اور اُس کا رسول اُسے اُن کے سوا ہر شخص سے بڑھ کر محبوب ہوں۔‘‘

۱۳۔اس روایت کا متن اصلاً مسند احمد، رقم۱۷۷۸سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت جن مصادر میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں: مسند احمد، رقم۱۷۷۸، ۱۷۷۹۔صحیح مسلم، رقم۳۴۔ سنن ترمذی، رقم۲۶۲۳۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۶۶۹۲۔صحیح ابن حبان، رقم۱۶۹۴۔ مستخرج ابی نعیم، رقم ۱۴۵۔ معرفۃ السنن والآثار، بیہقی رقم۲۵۷۱۔
۱۴۔ بعض روایتوں، مثلاً سنن ترمذی، رقم۲۶۲۳اور مسند ابی یعلیٰ ، رقم۶۶۹۲میں یہاں’رَسُوْلًا‘ کے بجاے ’نَبِیًّا‘ کا لفظ روایت ہوا ہے۔

المصادر والمراجع

إبن الجَعْد، علی بن الجَعْد بن عبید الجَوْہَری البغدادی.(۱۴۱۰ھ/ ۱۹۹۰م). مسند ابن الجعد. ط۱.تحقیق: عامر أحمد حیدر. بیروت: مؤسسۃ نادر.
إبن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستی.(۱۳۹۳ھ/۱۹۷۳م).الثقات. ط۱. حیدر آباد الدکن ۔ الہند: دائرۃ المعارف العثمانیۃ.
إبن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستی. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
إبن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستی. (۱۳۹۶ھ). المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعی.
إبن حجر، أحمد بن علی، أبو الفضل العسقلانی. (۱۴۱۵ھ). الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
إبن حجر، أحمد بن علی، أبو الفضل العسقلانی.(۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.
إبن حجر، أحمد بن علی، أبو الفضل العسقلانی. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م).تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.
إبن حجر، أحمد بن علی، أبو الفضل العسقلانی. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.
إبن راہویہ، إسحاق بن إبراہیم بن مخلد بن إبراہیم الحنظلی المروزی.(۱۴۱۲ھ/ ۱۹۹۱م). مسند إسحاق بن راہویہ. ط۱. تحقیق: د. عبد الغفور بن عبد الحق البلوشی. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ الإیمان.
إبن ماجہ، أبو عبد اللّٰہ محمد القزوینی. (د.ت). سنن ابن ماجہ. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.
أبو نعیم، أحمد بن عبد اللّٰہ، الأصبہانی. (۱۴۱۷ھ/۱۹۹۶م). المسند المستخرج علی صحیح مسلم. ط۱. تحقیق: محمد حسن محمد حسن إسماعیل الشافعی. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
أبو یعلٰی، أحمد بن علی التمیمی، الموصلی. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). مسند أبی یعلٰی. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.
أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد اللّٰہ، الشیبانی. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
البخاری، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفی. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط ۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.
البزار، أبو بکر أحمد بن عمرو العتکی. (۲۰۰۹م). مسند البزار. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبری عبد الخالق الشافعی. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
البیہقی، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراسانی. (۱۴۱۲ھ/۱۹۹۱م). معرفۃ السنن والآثار. ط۱. تحقیق: عبد المعطی أمین قلعجی. القاہرۃ: دار الوفاء.
الترمذی، أبو عیسٰی محمد بن عیسٰی. (۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵م). سنن الترمذی. ط۲. تحقیق و تعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقی، وإبراہیم عطوۃ عوض. مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفی البابی الحلبی.
الحاکم ، أبو عبد اللّٰہ محمد بن عبد اللّٰہ النیسابوری. (۱۴۱۱ھ/ ۱۹۹۰م).المستدرک علی الصحیحین.ط۱. تحقیق: مصطفٰی عبد القادر عطاء. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
الذہبی، شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاری. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.
الذہبی، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.
السیوطی، جلال الدین، عبد الرحمٰن بن أبی بکر. (۱۴۱۶ھ/۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط۱. تحقیق وتعلیق: أبو اسحٰق الحوینی الأثری. الخبر: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الطیالسی، أبو داؤد سلیمان بن داؤد البصری.(۱۴۱۹ھ/ ۱۹۸۹م). مسند أبی داؤد الطیالسی. ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکی. مصر: دار ہجر.
مسلم بن الحجاج، النیسابوری. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی. بیروت: دار إحیاء التراث العربی.
النسائی، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراسانی. (۱۴۰۶ھ /۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النووی، یحیٰی بن شرف، أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربی.

____________



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List