Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
دوزخ کے اعمال (۲) | اشراق
Font size +/-

دوزخ کے اعمال (۲)

تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

۱

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ۱، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ ۲یَوْمَ الِْاثْنَیْنِ، وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ، فَیُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ۳ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْءًا، إِلَّا رَجُلًا کَانَتْ بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَخِیْہِ شَحْنَاءُ، فَیُقَالُ: أَنْظِرُوْا ہَذَیْنِ حَتّٰی یَصْطَلِحَا‘‘.۴

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔پھر ہر اُس شخص کو بخش دیا جاتا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھیراتا ہو،اُس شخص کے سوا جس کے اور اُس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو۔اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اِن دونوں کو اُس وقت تک مہلت دو، جب تک یہ آپس میں صلح کے لیے راضی نہ ہوجائیں۔

________

۱۔اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کی باہمی عداوت اللہ تعالیٰ کو کس قدر نا پسند ہے اور یہ کس درجے میں اُس کی ناراضی کا باعث بن سکتی ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن صحیح مسلم،رقم۴۶۵۸ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے اِس کے مصادر درج ذیل ہیں:

جامع معمر بن راشد، رقم ۸۳۵۔ موطا امام مالک،رقم ۱۰۱۷، ۱۶۲۰۔ مسند طیالسی، رقم ۲۵۱۵۔ مصنف عبدالرزاق، رقم ۷۷۰۳، ۷۷۰۴۔ مسند حمیدی، رقم ۹۴۷۔ مسند احمد، رقم ۷۴۵۳، ۸۱۶۲، ۸۸۴۸، ۸۹۹۱، ۹۷۹۴، ۱۰۰۶۵۔ سنن دارمی، رقم ۱۷۰۴۔ صحیح مسلم، رقم ۴۶۵۹، ۴۶۶۰۔ سنن ترمذی، رقم ۶۷۷۔ سنن ابی داؤد، رقم ۴۲۷۲۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۶۶۴۴۔ صحیح ابن خزیمہ، رقم ۱۹۸۷۔ صحیح ابن حبان، رقم ۳۷۲۷، ۵۷۸۰،۵۷۸۵۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ روایت المعجم الاوسط ،طبرانی،رقم۷۶۱۵میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور مسند احمد،رقم۲۱۲۰۷ میں اسامہ بن زید ر ضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔

۲۔صحیح مسلم،رقم ۴۶۵۹ میں ’تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ‘ کے بجاے ’تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ‘ کے الفاظ ہیں، یعنی اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ مصنف عبد الرزاق، رقم ۷۷۰۳ میں اِس جگہ ’تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ‘ نقل ہوا ہے، یعنی آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔

۳۔موطا امام مالک،رقم۱۶۲۰ میں یہاں ’فَیُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ‘ نقل ہوا ہے،یعنی ہر مسلمان کی مغفرت کردی جاتی ہے۔المعجم الاسط، طبرانی،رقم۷۶۱۵ میں اِس جگہ یہ الفاظ ہیں: ’فَمِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَیُغْفَرُ لَہُ، وَمِنْ تَاءِبٍ فَیُتَابُ عَلَیْہِ‘ ’’پھر کوئی استغفار کرنے والاہوتو اُس کی مغفرت کردی جاتی ہے اور کوئی توبہ کرنے والا ہو تو اُس کی توبہ قبول کرلی جاتی ہے‘‘۔اِس کے راوی جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔

۴۔ المعجم الاوسط،طبرانی،رقم۷۶۱۵ میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ’وَیُرَدُّ أَہْلُ الضَّغَاءِنِ لِضَغَاءِنِہِمْ حَتّٰی یَتُوْبُوْا‘ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں ۔یعنی، آپس میں بغض رکھنے والوں کو اُن کے بغض کی وجہ سے لوٹا دیا جاتا ہے ،یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں۔

بعض روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ بھی نقل ہوا ہے کہ آپ اِن دنوں میں بالعموم روزہ رکھتے تھے،آپ کا ارشاد ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال پیش کیے جائیں تو میں روزے کی حالت میں ہوں۔ ملاحظہ ہو:مسند احمد،رقم۲۱۲۰۷۔

۲

عَنْ ہِشَامِ بْنِ عَامِرٍ،۱ أَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ۲أَنْ یَہْجُرَ۳مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَیَالٍ،۴ فَإِنْ کَانَ تَصَارَمَا فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَإِنَّہُمَا نَاکِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلٰی صُرَامِہِمَا، وَأَوَّلُہُمَا فَیْءًا فَسَبْقُہُ بِالْفَيْءِ کَفَّارَتُہُ،۵فَإِنْ سَلَّمَ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ سَلَامَہُ رَدَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَاءِکَۃُ، وَرَدَّ عَلَی الْآخَرِ الشَّیْطَانُ، فَإِنْ مَاتَا عَلٰی صُرَامِہِمَا [لَمْ یَدْخُلَا الْجَنَّۃَ]‘‘.۶

ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے کسی مسلمان بھائی سے قطع تعلق کیے رہے۔ اِس لیے کہ اگر دونوں نے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کیے رکھا تو جب تک وہ اِس حالت میں رہیں گے، حق سے دور رہیں گے۔ اور (یاد رکھو کہ) جو پہلے رجوع کرے گا، اُس کا یہ پہل کرنا اُس کے لیے کفارہ بن جائے گا۔۱اور(مزید یہ کہ) اگر ایک نے دوسرے کو سلام کیا، لیکن دوسرے نے جواب نہ دیا تو سلام کرنے والے کو فرشتے جواب دیں گے اور رد کرنے والے کو شیطان۔ پھر اگر دونوں اِسی قطع تعلقی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوگئے تو دونوں جنت میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔۲

________

۱۔یعنی اُس گناہ کا کفارہ جس کا ارتکاب اُس نے اپنے بھائی سے قطع تعلق کر کے کیا تھا۔

۲۔اِس لیے کہ جنت اُن لوگوں کی جگہ نہیں ہے جو خدا کے پیغمبر کی طرف سے اِس طرح کی وعید کے بعد بھی اپنے رویے کی اصلاح کرنے کے لیے تیار نہ ہوں اور اِس طریقے سے ایک دوسرے کے خلاف کینہ اور بغض دلوں میں لے کر دنیا سے رخصت ہو جائیں۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن اصلاً مسند احمد، رقم ۱۵۹۱۷سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت اِن مصادر میں نقل ہوئی ہے:مسند طیالسی، رقم۱۳۰۷، مسند احمد، رقم ۱۵۹۱۸۔ الادب المفرد، بخاری، رقم ۴۰۲،۳۹۷۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۱۵۴۸۔ صحیح ابن حبان، رقم۵۷۸۱۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۷۹۳۶، ۱۷۹۳۷۔

ہشام رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہی مضمون جن دوسرے صحابہ سے منقول ہے ،و ہ یہ ہیں:ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ،انس بن مالک رضی اللہ عنہ،ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا،عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ،سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، مسور بن مخرمہ القرشی رضی اللہ عنہ،عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ۔اِن صحابہ سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے :

جامع معمر بن راشد، رقم۸۳۲۔ موطا امام مالک، رقم۸۰۷، ۱۰۱۳، ۱۶۱۶۔مسند طیالسی، رقم۵۸۹، ۲۱۹۲۔مسند حمیدی، رقم ۳۷۲۔ مصنف عبدالرزاق، رقم ۱۵۳۸۴۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۴۷۸۳، ۲۴۷۸۴، ۲۴۷۸۶، ۲۴۷۹۲۔ مسند احمد، رقم ۱۵۲۴، ۸۷۲۰، ۸۸۸۶، ۹۶۶۵، ۲۲۹۰۸، ۲۲۹۵۴، ۲۲۹۶۲۔ الادب المفرد، بخاری، رقم ۳۹۴، ۴۰۱، ۴۰۹، ۴۷۹۔ صحیح بخاری،رقم۵۶۴۰، ۵۷۹۵۔صحیح مسلم، رقم۴۶۴۹، ۴۶۵۰، ۴۶۵۱۔سنن ترمذی، رقم۱۸۵۱۔سنن ابوداؤد، رقم۴۲۶۷، ۴۲۶۸، ۴۲۶۹،۴۲۷۰۔مسند بزار، رقم ۱۵۳۶، ۱۶۹۴، ۱۸۳۴، ۲۰۴۹۔السنن الکبریٰ،نسائی، رقم ۸۸۲۰۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۷۱۰، ۴۵۰۱، ۴۵۱۶۔ مسند الشاشی، رقم ۳۵۶، ۱۰۳۳، ۱۰۳۴۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۷۸۶، ۵۷۸۷۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۳۸۵۱، ۳۸۵۲، ۳۸۵۳، ۳۸۵۴، ۳۸۵۷، ۳۸۶۰، ۱۶۴۰۸، ۱۶۴۸۴۔ المعجم الاوسط،طبرانی،رقم ۲۵۸۳،۷۲۱۵،۷۷۴۹،۹۶۲۸۔

۲۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۷۱۰میں اِس جگہ ’لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ‘ کے بجاے ’لا یَحِلُّ لأَحَدٍ‘ نقل ہوا ہے۔اِس کے راوی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہیں۔عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی بعض طرق میں اِس جگہ ’لَا یَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ‘ کے الفاظ ہیں۔ ملاحظہ ہو:صحیح مسلم، رقم۴۶۵۰۔

۳۔مسند بزار، رقم۲۰۴۹میں اِس جگہ’لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ یَہْجُرَ‘ کے بجاے ’لا ہِجْرَۃَ فَوْقَ ثَلاثٍ‘ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔صحیح ابن حبان، رقم۵۷۸۱ میں ’أَنْ یَہْجُرَ‘ کے بجاے’أَنْ یُصَارِمَ‘نقل ہوا ہے۔دونوں الفاظ کم و بیش ایک ہی مفہوم ادا کرتے ہیں۔

۴۔مسندالشاشی، رقم۱۰۳۴میں ’فَوْقَ ثَلَاثِ لَیَالٍ‘کے بجاے ’فَوْقَ ثَلاثَۃِ أَیَّامٍ‘ منقول ہے۔اِس کے راوی ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہیں۔

۵۔ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت میںیہاں کفارے کا ذکر نہیں ہے،بلکہ اُس کی جگہ یہ بات نقل ہوئی ہے: ’یَلْتَقِیَانِ فَیُعْرِضُ ہٰذَا وَیُعْرِضُ ہٰذَا، وَخَیْرُہُمَا الَّذِي یَبْدَأُ بِالسَّلَامِ‘ ’’دونوں کا سامنا ہو تو ایک دوسرے سے منہ پھیرلیتا ہے،لیکن دونوں میں بہتر وہی ہے جو سلام میں ابتدا کرے‘‘۔ ملاحظہ ہو:صحیح بخاری، رقم ۵۶۴۰۔ اِسی طرح سنن ابو داؤد، رقم۴۲۶۸ میں اِس جگہ ایک دوسری بات بیان کی گئی ہے،روایت کے الفاظ ہیں: ’فَإِنْ مَرَّتْ بِہِ ثَلَاثٌ فَلْیَلْقَہُ فَلْیُسَلِّمْ عَلَیْہِ فَإِنْ رَدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ فَقَدِ اشْتَرَکَا فِي الْأَجْرِ‘ ’’اگر (اِس قطع تعلقی پر) تین دن گزرجائیں اور ایک دوسرے سے ملے اور سلام کرے، پھر اگردوسرے نے اُس کو جواب دے دیا تو دونوں اجر میں شریک ہوجائیں گے‘‘۔

۶۔صحیح ابن حبان،رقم ۵۷۸۱۔ سنن ابو داؤد،رقم ۴۲۷۰ میں اِس جگہ ’دَخَلَ النار‘ کے الفاظ ہیں۔اِس کے راوی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اصل روایت میں یہاں ’لَمْ یَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّۃِ أَبَدًا‘’’وہ دونوں کبھی جنت میں جمع نہیں ہو سکیں گے‘‘ نقل ہوا ہے، جب کہ مسند احمد،رقم ۱۵۹۱۸ میں ’لَمْ یَدْخُلَا الْجَنَّۃَ جَمِیْعًا أَبَدًا‘ کے الفاظ ہیں۔ اِن میں لفظ ’أبَدًا‘ کا اضافہ غالباً کسی راوی کا تصرف ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جس غلطی کا ذکر روایت میں ہوا ہے، اُس پر ابدی جہنم کی سزا قرآن مجید کی تصریحات کے خلاف ہے۔چنانچہ ہم نے اِسے قبول نہیں کیا۔

اِس مضمون کی روایات میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک واقعہ بھی نقل ہوا ہے۔اُس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک موقع پر سیدہ نے کسی کو تحفہ دیا تو عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اِس پر تنقید کی۔ عبد اللہ بن زبیر کا یہ اعتراض سیدہ عائشہ تک پہنچا تو اُنھوں نے اِس پر ناگواری کا اظہار کیا اورشدت جذبات میں اپنے اوپر واجب کر لیا کہ وہ عبداللہ بن زبیر سے کبھی بات نہیں کریں گی۔عبداللہ بن زبیر کو معلوم ہوا تو اُنھوں نے بعض صحابہ سے سفارش کرائی اور پھر سیدہ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنا عذر پیش کیا اور کوشش کی کہ وہ مان جائیں۔سیدہ نے اُن سے کہا :میں اپنے اوپر واجب کرچکی ہوں کہ تم سے بات نہیں کروں گی اورتم جانتے ہو کہ اِس طرح کی چیز اپنے اوپر واجب کر لینے کا معاملہ بہت سخت ہوتا ہے۔اِس پر عبد اللہ بن زبیر نے اُنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین رات سے زیادہ ترک تعلق کر لے۔ سیدہ یہ سنتے ہی رو پڑیں ،یہاں تک کہ اُن کا دوپٹا آنسوؤں سے تر ہوگیا اورپھر جو کچھ وہ اپنے اوپر واجب کر چکی تھیں،اُس کے کفارے میں چالیس غلام آزاد کیے۔(ملاحظہ ہو:مصنف عبدالرزاق،رقم۱۵۳۸۴)

۳

عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ۱ صَاحِبِ النَّبِيِّ عَنِ النَّبِيِّ قَالَ: ’’مَنْ ہَاجَرَ أَخَاہُ فَوْقَ ثَلاَثٍ فَہُوَ فِي النَّارِ، إِلَّا أَنْ یَتَدَارَکَہُ اللّٰہُ مِنْہُ بِتَوْبَۃٍ‘‘.

جس شخص نے اپنے بھائی کے ساتھ تین دن سے زیادہ قطع تعلق کیے رکھا ،وہ دوزخ میں جائے گا، الاّ یہ کہ اللہ خاص اپنی طرف سے اُس پر عنایت کی نظر فرمائے۱۔

________

۱۔ یعنی اُس کے باقی اعمال کو دیکھ کر اُسے معاف کردے۔قرآن میں تصریح ہے کہ بندہ شرک کے سوا ہر گناہ کے معاملے میں اپنے پروردگار سے اِس کی توقع کر سکتا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۴۷۸۶سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ ہیں۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.

ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ.ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.

ابن ماجۃ. ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.

ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ.ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ. أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح. ط۳. تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.

بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی.ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.

السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج.ط ۱. تحقیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

محمد القضاعي الکلبي المزي.(۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النسائي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

النسائي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List