Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
دوزخ کے اعمال (۳) | اشراق
Font size +/-

دوزخ کے اعمال (۳)

تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

۱

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ،۱ أَنَّہُ قَالَ:خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلّٰی۲ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَہَُ، ثُمَّ انْصَرَفَوَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: ’’إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ، لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَیَاتِہِ۳ فَإِذَا رَأَیْتُمْ ذٰلِکَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ‘‘، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، رَأَیْنَاکَ تَنَاوَلْتَ شَیْءًا فِيْ مَقَامِکَ ہٰذَا، ثُمَّ رَأَیْنَاکَ تَکَعْکَعْتَ، فَقَالَ: ’’إِنِّيْ رَأَیْتُ الْجَنَّۃَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْہَا عُنْقُوْدًا، وَلَوْ أَخَذْتُہُ لَأَکَلْتُمْ مِنْہُ مَا بَقِیَتِ الدُّنْیَا، وَرَأَیْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ کَالْیَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَیْتُ أَکْثَرَ أَہْلِہَا النِّسَاءَ‘‘، قَالُوْا: لِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ’’لِکُفْرِہِنَّ‘‘، قِیْلَ: أَیَکْفُرْنَ بِاللّٰہِ، قَالَ: ’’وَیَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ وَیَکْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلٰی إِحْدَاہُنَّ الدَّہْرَ کُلَّہُ ثُمَّ رَأَتْ مِنْکَ شَیْءًا، قَالَتْ: مَا رَأَیْتُ مِنْکَ خَیْرًا قَطُّ‘‘.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نما ز ادا کی۔اُس موقع پر صحابہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔پھر آپ نماز سے فارغ ہوگئے۔ اُس وقت تک سورج بھی صاف ہوچکا تھا۔چنانچہ آپ نے خطبہ دیا اورفرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ،اِنھیں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، لہٰذا اگر کبھی ایسا دیکھو تو اپنے رب کو یاد کیا کرو۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ،نماز کے دوران میں ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی اِس جگہ پر کھڑے کھڑے شاید کوئی چیز لینا چاہی تھی،پھر ہم نے دیکھا کہ آپ رک گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا :میں نے جنت دیکھی تو اُس میں سے میووں کا ایک گچھا لینا چاہا۔ اگر میں اُس کو لے لیتا تو جب تک دنیا باقی ہے، تم اُس میں سے کھاتے رہتے۔۱ پھر میں نے دوزخ ۲ دیکھی تو اُس میں ایک ایسا منظر دکھائی دیا کہ آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ اُس میں زیادہ تعداد عورتوں کی تھی۔ لوگوں نے پوچھا: وہ کیوں، یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا: اِس لیے کہ ناشکری کرتی رہتی ہیں۔ لوگوں نے پوچھا: کیا اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا :نہیں، اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور کسی کا احسان نہیں مانتیں۔تم نے کسی عورت کے ساتھ زندگی بھر احسان کیا ہو، پھر تم سے کوئی ایسی بات ہو جائے جو اُسے ناگوار ہو تو فوراً کہے گی: میں نے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔۳

________

۱۔یعنی جس طرح اجناس کے چند دانوں سے ہزاروں دانے پیدا ہو جاتے ہیں، اُسی طرح جنت کا یہ میوہ بھی بڑھتا رہتا، یہاں تک کہ دنیا کا آخری دن آجاتا اور اُس وقت بھی لوگ اُس کو کھا رہے ہوتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جو معجزات کھانے پینے کی چیزوں سے متعلق روایتوں میں بیان ہوئے ہیں، اُن کو بھی اِسی طریقے پر سمجھنا چاہیے۔
۲۔ اِس سے دوزخ کی وہ تمثیل مرادہے جو اُس وقت آپ کو دکھائی گئی۔ انبیا کے صحائف سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس طرح کے مشاہدات لوگوں کی تنبیہ کے لیے اُن کو بالعموم کرائے جاتے تھے۔ چنانچہ بہت سی چیزیں جو مستقبل میں واقع ہونے والی ہوں، وہ انبیا علیہم السلام کو بیداری میں بھی اُسی طرح ممثل کرکے دکھا دی جاتی ہیں، جس طرح ہم بعض اوقات اُن کو خواب میں دیکھتے ہیں۔
۳۔ اِس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ سب عورتیں ایسی ہوتی ہیں یا کسی مرد میں یہ برائی نہیں ہوتی۔ اِس طرح کی تنبیہ کے موقع پر جو کچھ کہا جاتا ہے، عام مشاہدے کی رعایت سے کہا جاتا اور اُس کے لیے اسلوب بھی بالعموم یہی اختیار کیا جاتا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن موطا امام مالک ، رقم۴۴۱سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت اِن کتابوں میں نقل ہوئی ہے:مسند احمد،رقم ۲۷۱۱،۳۳۴۷۔صحیح بخاری، رقم۲۸۔صحیح مسلم، رقم ۱۵۱۸۔السنن الصغریٰ، نسائی،رقم۱۴۸۲۔صحیح ابن حبان،رقم ۲۹۲۸۔السنن الکبریٰ،بیہقی،رقم۱۳۶۲۹۔
۲۔سورج گرہن اور چاند گرہن کے موقع پر رسول اللہ نے جو نماز ادا کی ،اُس کی تفصیل متعدد روایتوں میں مذکورہے۔ اِسے کسوف اور خسوف کی نماز کہا جاتا ہے ۔ ملاحظہ ہو:مسند احمد،رقم ۲۷۱۱۔
۳۔صحیح بخاری،رقم۹۹۰ میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کی وفات کے دن سورج گرہن ہوا تو لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ یہ ابراہیم کی وفات کی وجہ سے ہوا ہے۔آپ نے اُس موقع پر بھی یہی بات ارشاد فرمائی جو اوپر روایت میں نقل ہوئی ہے۔

۲

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، ۱ قَالَ: شَہِدْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّلَاۃَ یَوْمَ الْعِیْدِ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَۃٍ، ثُمَّ قَامَ مُتَوَکِّءًا عَلٰی بِلَالٍ فَأَمَرَ بِتَقْوَی اللّٰہِ۲ وَحَثَّ عَلٰی طَاعَتِہِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَکَّرَہُمْ، ثُمَّ مَضٰی حَتّٰی أَتَی النِّسَاءَ فَوَعَظَہُنَّ وَذَکَّرَہُنَّ فَقَالَ: ’’تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَکْثَرَکُنَّ حَطَبُ جَہَنَّمَ‘‘، فَقَامَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ سِطَۃِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّیْنِ، فَقَالَتْ: لِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟، قَالَ: ’’لِأَنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ الشَّکَاۃَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ‘‘،۳ قَالَ: فَجَعَلْنَ یَتَصَدَّقْنَ مِنْ حُلِیِّہِنَّ، یُلْقِیْنَ فِيْ ثَوْبِ بِلَالٍ مِنْ أَقْرِطَتِہِنَّ وَخَوَاتِمِہِنَّ. ۴
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا تو آپ نے نمازاذان اور اقامت کے بغیراور خطبے سے پہلے پڑھائی ۱۔اُس کے بعد آپ بلال کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کے لیے کہا، اُس کی اطاعت کی ترغیب دی اور اُنھیں وعظ و نصیحت کی اور یاددہانی کرائی۔ پھر آگے بڑھے اور خواتین کے پاس آئے، اُن کو بھی اِسی طرح وعظ و تذکیر کی اور فرمایا: تم لوگ صدقہ کیا کرو، اِس لیے کہ جو لوگ دوزخ کا ایندھن بنیں گے، اُن میں زیادہ تعداد تمھاری ہو گی۲۔ آپ کی یہ بات سن کر عورتوں کے درمیان سے ایک عورت اٹھی جس کے گال سرخی مائل سیاہ تھے۔ اُس نے عرض کیا: وہ کیوں، یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا: اِس لیے کہ تم لوگ شکایت بہت کرتی ہو اور شوہروں کی ناشکری کرتی ہو۔ جابر کہتے ہیں کہ یہ سن کر عورتیں اپنے زیورات صدقہ کرنے لگیں، وہ اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر اُس کپڑے میں ڈال رہی تھیں جو بلال رضی اللہ عنہ نے اِسی مقصد سے بچھا رکھا تھا۔

________

۱۔عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز کے معاملے میں یہی سنت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری فرمائی ہے۔مسلمان اِس وقت بھی پورے عالم میں اِسی کے مطابق یہ نمازیں ادا کر رہے ہیں۔
۲۔یہ آپ نے اُسی مشاہدے کے حوالے سے فرمایا ہے جس کا ذکر اوپر کی روایت میں ہو چکا ہے۔صدقے کی یہ اہمیت کہ وہ جہنم سے چھڑانے کا باعث ہوگا، بعض روایتوں میں اِس طرح کے کسی پس منظر کے بغیر بھی بیان ہوئی ہے۔چنانچہ فرمایا ہے: ’تَصَدَّقُوْا، فَإِنَّ الصَّدَقَۃَ فِکَاکُکُمْ مِنَ النَّارِ‘ ’’صدقہ کرو،یہ جہنم سے تمھیں چھڑانے کا باعث ہو گا‘‘۔ملاحظہ ہو:المعجم الاوسط،طبرانی،رقم۸۲۷۵۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح مسلم، رقم۱۴۷۳سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:
مسند احمد، رقم۱۴۱۳۱۔سنن دارمی، رقم۱۵۷۶۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۵۶۹۲، ۸۹۱۳۔السنن الصغریٰ،نسائی رقم ۱۵۶۳۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۲۰۰۶۔ صحیح ابن خزیمہ، رقم ۱۳۸۲۔ مسند ابی نعیم، رقم۱۸۰۲۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۳۳۹۔ السنن الکبریٰ،نسائی،رقم۵۷۱۹، ۵۷۴۰۔
۲۔مسند احمد، رقم۱۴۱۳۱میں اِس جگہ ’وَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ‘کا اضافہ بھی منقول ہے،یعنی اللہ کی حمد و ثنا فرمائی ۔
۳۔سنن دارمی، رقم۱۵۷۶میں اِس جگہ’لِأَنَّکُنَّ تُفْشِیْنَ الشَّکَاۃَ وَاللَّعْنَ، وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ‘کے الفاظ نقل ہوئے ہیں،یعنی اِس لیے کہ تم شکایتیں پھیلاتی اور لعنتیں بہت کرتی ہو اور شوہروں کی نا شکری کرتی ہو۔
۴۔ السنن الصغریٰ،رقم۱۵۶۳ میں اِس جگہ :’فَجَعَلْنَ یَنْزِعْنَ قَلَاءِدَہُنَّ‘کا اضافہ ہے،یعنی اپنے ہار اتارنے لگیں۔

۳

عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ، ۱ قَالَ :خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ أَضْحٰی أَوْ فِطْرٍ إِلَی الْمُصَلّٰی، فَمَرَّ عَلَی النِّسَاءِ، فَقَالَ: ’’یَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ۲ فَإِنِّيْ أُرِیْتُکُنَّ أَکْثَرَ أَہْلِ النَّارِ‘‘، [فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْہُنَّ جَزْلَۃٌ]۳: وَبِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ’’تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ، مَا رَأَیْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِیْنٍ أَذْہَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاکُنَّ‘‘،۴ قُلْنَ: وَمَا نُقْصَانُ دِیْنِنَا وَعَقْلِنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ’’أَلَیْسَ شَہَادَۃُ الْمَرْأَۃِ مِثْلَ نِصْفِ شَہَادَۃِ الرَّجُلِ‘‘؟ ۵ قُلْنَ: بَلٰی، قَالَ: ’’فَذٰلِکِ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِہَا، أَلَیْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ‘‘؟ قُلْنَ: بَلٰی، قَالَ: ’’فَذٰلِکِ مِنْ نُقْصَانِ دِیْنِہَا‘‘.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ عیدالاضحی یا عیدالفطر کے دن جاے نماز کی طرف جانے کے لیے نکلے تو آپ کا گزر عورتوں کے پاس سے ہوا۔ آپ نے فرمایا: بیبیو، صدقہ کیا کرو، اِس لیے کہ میں نے دوزخ میں تم کو زیادہ دیکھا ہے۔ اُن میں سے ایک عورت نے، جو دانش مند معلوم ہوتی تھی، پوچھا: ایسا کیوں ہو گا، یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا: تم لوگ بہت زیادہ لعنتیں کرتی ہو۱ اورشوہروں کی ناشکری کرتی ہو۔۲ میں نے تم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا کہ اُس پر دینی اور عقلی، دونوں طرح کے معاملات کی ذمہ داری کم ڈالی گئی ہو۳ اور وہ اچھے بھلے ہوشیار اور دانا مرد کو بے عقل بنا کر رکھ دے۴۔ عورتوں نے کہا: ہمارے اوپر دینی اور عقلی معاملات میں کیا کمی کی گئی ہے، یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا: کیا تم پر گواہی کی ذمہ داری مردوں سے آدھی نہیں ہے۵؟ اُنھوں نے کہا: یقیناً۔ آپ نے فرمایا: یہی عقلی معاملات میں ذمہ داری کی کمی ہے۔ فرمایا: پھر کیا ایسا نہیں ہے کہ عورتیں ایام سے ہوتی ہیں تو نہ نماز پڑھتی ہیں اور نہ روزہ رکھتی ہیں؟ اُنھوں نے کہا: ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ دینی معاملات میں ذمہ داری کی کمی ہے۔

________

۱۔یعنی دوسروں کے لیے بد دعائیں کرتی رہتی ہو کہ اللہ اُن کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔ ’لعنت‘ کا لفظ عربی زبان میں اِسی مفہوم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جن لوگوں کو دیہات میں رہنے کا موقع ملا ہے، وہ جانتے ہیں کہ پچھلے زمانے کی عورتوں میں یہ چیز کس قدر زیادہ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس پر جو وعید سنائی ہے، اُس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ زبان کے گناہ بھی آدمی کو کس انجام تک پہنچا سکتے ہیں۔
۲۔ اِس کی وضاحت پیچھے ایک روایت میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی ہے۔
۳۔ یعنی اُس کی خلقی کمزوری کے باعث کم ڈالی گئی ہو۔عقلی معاملات سے مراد دنیوی معاملات ہیں اور روایت میں’ناقصات‘ کا لفظ بالکل اُسی طرح آیا ہے ،جس طرح یہ سورۂ توبہ(۹) کی آیت ۴کے الفاظ’ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْکُمْ شَیْئًا‘ میں استعمال ہوا ہے۔یہ یہاں اُس مفہوم میں نہیں ہے جس کے لیے اردو زبان میں ہم ’ناقص العقل‘ کی تعبیر اختیار کرتے ہیں۔
۴۔ عورتوں کے بارے میں یہ عام مشاہدے کا بیان ہے، اِسے کسی پیغمبرانہ تبصرے پر محمول نہیں کرنا چاہیے۔
۵۔ یہ لین دین کے معاملات میں گواہی کا حوالہ ہے جس کا حکم سورۂ بقرہ (۲) کی آیات ۲۸۲۔۲۸۳ میں بیان ہوا ہے۔ اِس میں گواہ کا انتخاب چونکہ دستاویز لکھوانے والے کرتے ہیں، اِس لیے ہدایت کی گئی ہے کہ یہ بھاری ذمہ داری اُسی پر ڈالی جائے جو اِس کا تحمل کر سکتا ہو۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس میں دو فریقوں میں سے ایک فریق کی ناراضی، بلکہ بعض اوقات دشمنی کا خطرہ مول لے کر وہ بات کہنی پڑتی ہے جو فی الواقع طے ہوئی تھی۔ یہ اِس زمانے میں بھی اتنا آسان نہیں ہے، کجا یہ کہ قبائلی اور جاگیردارانہ سماج میں کوئی شخص اِس کی ہمت کرے۔ قرآن نے اِسی بنا پر فرمایا ہے کہ عورتوں کو گواہ بنانا پڑے تو ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے تاکہ عورت اگر اُس دباؤ کا مقابلہ نہ کر سکے جو اِس طرح کے موقعوں پر لازماً پڑتا ہے اور گواہی دیتے وقت گھبرا جائے تو دوسری عورت اُس کا سہارا بن سکے۔ یہ سد ذریعہ کا حکم ہے۔ چنانچہ معاشرے کے حالات میں تبدیلی کے باعث اِس کی ضرورت باقی نہ رہے تو اِس پر عمل کرنا بھی ضروری نہیں ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اِسی کو آدھی ذمہ داری سے تعبیر فرمایا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن اصلاً صحیح بخاری، رقم۲۹۶ سے لیا گیا ہے ۔اِس کے راوی ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت اِن کتابوں میں نقل ہوئی ہے:الاموال،ابو قاسم بن سلام،رقم۱۲۳۵۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۹۵۹۳۔صحیح بخاری،رقم ۱۳۷۵، ۱۸۲۴۔صحیح ابن حبان،رقم۵۸۶۲۔
ابوسعید خدری کے علاوہ یہی مضمون عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔اُن سے اِس کے مصادر یہ ہیں: حدیث اسماعیل بن جعفر، رقم ۳۵۰۔ الاموال، ابو قاسم بن سلام، رقم۱۲۳۵۔مسند احمد، رقم۵۱۹۲، ۸۶۶۳۔سنن ترمذی،رقم۲۵۵۵۔سنن ابو داؤد، رقم۴۰۶۱۔سنن ابن ماجہ، رقم ۴۰۰۱۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۸۹۲۸۔ مسند ابی یعلیٰ،رقم۶۵۴۸، ۶۵۵۰۔
۲۔صحیح مسلم ،رقم ۱۱۷ میں اِس جگہ ’وَأَکْثِرْنَ الْإِسْتِغْفَارَ‘ کا اضافہ نقل ہوا ہے،یعنی زیادہ استغفار کرو۔اِس کے راوی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔
۳۔یہ اضا فہ صحیح مسلم ،رقم ۱۱۷ سے لیا گیا ہے ۔یہ خاتون کون تھیں؟ ابو قاسم بن سلام کی الاموال، رقم۱۲۳۵میں مذکورہے کہ یہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ زینب تھیں۔بعض روایات میں یہ بات بھی نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس موقع پر شوہروں اور بچوں کو صدقہ دینے کے بارے میں بھی پوچھا گیا تو آپ نے اِس کی اجازت دی۔ ملاحظہ ہو:مسند احمد،رقم ۸۶۶۳۔
۴۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۹۸۱۹میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اِس جگہ یہ الفا ظ روایت ہوئے ہیں: ’مَا رَأَیْتُ مِنْ نَاقِصِ الدِّیْنِ وَالرَّأْيِ أَغْلَبَ لِلرِّجَالِ ذَوِي الْأَمْرِ عَلٰی أَمْرِہِمْ مِنَ النِّسَاءِ‘ ’’میں نے عورتوں سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا کہ اُس پر عقلی اور دینی، دونوں طرح کے معاملات کی ذمہ داری اُس کی کمزوری کے باعث کم ڈالی گئی ہو اور اِس کے باوجود وہ اپنے معاملات پر دسترس رکھنے والے مردوں پر غالب آجائے۔ ابوقاسم بن سلام کی الاموال ،رقم۱۲۳۵میں اِس جگہ ’مَا رَأَیْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُوْلٍ قَطُّ، وَلَا دِیْنٍ أَذْہَبَ لِقُلُوْبِ ذَوِي الأَلْبَابِ مِنْکُنَّ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔صحیح مسلم ،رقم ۱۱۷ میں یہاں’أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْکُنَّ‘کے الفاظ ہیں۔اِس کے راوی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔دونوں کے مدعا میں زیادہ فرق نہیں ہے۔مسند احمد ،رقم۸۶۶۳ میں اِس جگہ جملوں کی ترتیب یوں ہے:’مَا رَأَیْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُوْلٍ وَدِیْنٍ أَذْہَبَ لِقُلُوْبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْکُنَّ، فَإِنِّيْ قَدْ رَأَیْتُکُنَّ أَکْثَرَ أَہْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَتَقَرَّبْنَ إِلَی اللّٰہِ مَا اسْتَطَعْتُنَّ‘ ’’میں نے تم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا کہ اُس پر عقلی اور دینی، دونوں طرح کے معاملات کی ذمہ داری کم ڈالی گئی ہو اور وہ اچھے بھلے دانا مرد وں کے دل اچک لے جائے۔سو متنبہ رہو، قیامت کے دن میں نے دوزخ کے لوگوں میں تمھیں زیادہ دیکھا ہے۔ تم کو چاہیے کہ جہاں تک ہوسکے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو‘‘۔
۵۔صحیح مسلم،رقم ۱۱۷ میں یہ بات اِن الفاظ میں بیان ہوئی ہے:’أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ، فَشَہَادَۃُ امْرَأَتَیْنِ تَعْدِلُ شَہَادَۃَ رَجُلٍ، فَہٰذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ‘ ’’ رہا عقلی معاملات میں کمی کا معاملہ تو دو عورتوں پر گواہی کی ذمہ داری ایک مرد کے برابر ہے۔سو یہی عقلی معاملات میں ذمہ داری کی کمی ہے۔یہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔

۴

عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ،۱ أَنّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ فِيْ خُطْبَتِہِ: ’’وَأَہْلُ النَّارِخَمْسَۃٌ: الضَّعِیْفُ الَّذِيْ لَا زَبْرَ لَہُ، الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْکُمْ تَبَعًا، لَا یَبْتَغُوْنَ أَہْلًا وَلَا مَالًا وَالْخَاءِنُ الَّذِيْ لَا یَخْفٰی لَہُ طَمَعٌ، وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَہُ، وَرَجُلٌ لَا یُصْبِحُ وَلَا یُمْسِيْ إِلَّا وَہُوَ یُخَادِعُکَ عَنْ أَہْلِکَ وَمَالِکَ‘‘، وَذَکَرَ الْبُخْلَ أَوِ الْکَذِبَ وَالشِّنْظِیْرُ الْفَحَّاشُ.
عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے خطبے میں فرمایا: دوزخ میں پانچ طرح کے لوگ ہوں گے: وہ کمزور آدمی جس کے ہاں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی،۱ یہ جو تم میں زیردست ہوتے ہیں، نہ گھر بناتے ہیں اور نہ مال و منال کے لیے کوئی جدوجہد کرتے ہیں۔وہ خیانت کرنے والا آدمی کہ جس کی حرص چھپی نہیں رہ سکتی اور معمولی چیز میں بھی خیانت کر گزرتا ہے۔ وہ آدمی جو صبح و شام تمھیں تمھارے گھر والوں اور تمھارے مال کے بارے میں دھوکا دیتا رہتا ہے۔ اِس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل یا جھوٹ کا ذکر کیا۲ اور آخر میں فرمایا کہ اور حد سے گزر جانے والا بدخلق۔

________

۱۔ یعنی گناہ کے ارتکاب میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، علم و عقل اور اخلاقی تربیت سے محرومی کے باعث جو جی میں آئے کر گزرتے ہیں۔ اِس طرح کے لوگ زیادہ تر غلاموں اور نوکروں چاکروں میں ہوتے تھے۔چنانچہ آگے کی صفات سے اُنھی کی طرف اشارہ کیا ہے۔روایت میں جس انجام کا ذکر ہے، وہ ظاہر ہے کہ اُسی صورت میں ہوگا،جب وہ تنبیہ اور تنبہ کے باوجود اپنے گناہوں پر اصرار کرتے رہیں گے۔
۲۔ یہ جملہ جس مقام پر آیا ہے، اُس سے واضح ہے کہ اِس سے بخل یا جھوٹ کے مرتکبین کا ذکر مراد ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن صحیح مسلم ،رقم۵۱۱۳ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے اِس روایت کواِن کتابوں میں نقل کیا گیا ہے:جامع معمر بن راشد،رقم۶۹۳۔مسند طیالسی، رقم ۱۱۶۳۔ مسند احمد، رقم۱۷۱۴۹،۱۷۹۶۷۔مسندبزار،رقم۲۹۷۴۔السنن الکبریٰ،نسائی،رقم۷۷۵۶،۷۷۵۷۔صحیح ابن حبان، رقم۶۵۹، ۶۶۰۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۳۰۱۹،۳۰۲۱۔السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم۱۵۸۱۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۶۳۵۳۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ.ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.
ابن ماجۃ، ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.
ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر.
أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ.ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ.
أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح. ط۳. تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.
بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی.ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.
السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج.ط ۱. تحقیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
محمد القضاعي الکلبي المزي.(۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List