Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  javedghamidi@javedahmadghamidi.com
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
دوزخ کے اعمال (۶) | اشراق
Font size +/-

دوزخ کے اعمال (۶)



تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

۱

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِیْہِ،۱ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیْقَ، وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، جَلَسُوْا بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَذَکَرُوْا أَعْظَمَ الْکَبَاءِرِ، فَلَمْ یَکُنْ عِنْدَہُمْ فِیْہَا عِلْمٌ یَنْتَہُوْنَ إِلَیْہِ، فَأَرْسَلُوْنِيْ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، أَسْأَلُہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَأَخْبَرَنِيْ أَنَّ أَعْظَمَ الْکَبَاءِرِ شُرْبُ الْخَمْرِ، فَأَتَیْتُہُمْ، فَأَخْبَرْتُہُمْ، فَأَنْکَرُوْا ذٰلِکَ، وَوَثَبُوْا إِلَیْہِ جَمِیْعًا، حَتّٰی أَتَوْہُ فِيْ دَارِہِ، فَأَخْبَرَہُمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’إِنَّ مَلِکًا مِنْ مُلُوْکِ بَنِيْ إِسْرَاءِیْلَ أَخَذَ رَجُلًا، فَخَیَّرَہُ بَیْنَ أَنْ یَشْرَبَ الْخَمْرَ، أَوْ یَقْتُلَ نَفْسًا، أَوْ یَزْنِيَ، أَوْ یَأْکُلَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ، أَوْ یَقْتُلُوْہُ إِنْ أَبٰی، فَاخْتَارَ أَنْ یَشْرَبَ الْخَمْرَ، وَأَنَّہُ لَمَّا شَرِبَہَا لَمْ یَمْتَنِعْ مِنْ شَيْءٍ أَرَادُوْہُ مِنْہُ‘‘، وَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا مُجِیْبًا: ’’مَا مِنْ أَحَدٍ یَشْرَبُہَا، فَیَقْبَلَ اللّٰہُ لَہُ صَلَاۃً أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً، وَلَا یَمُوْتُ وَفِيْ مَثَانَتِہِ مِنْہَا شَيْءٌ، إِلَّا حُرِّمَتْ عَلَیْہِ بِہَا الْجَنَّۃُ، فَإِنْ مَاتَ فِيْ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً، مَاتَ مَیْتَۃً جَاہِلِیَّۃً‘‘.
سالم بن عبد اللہ اپنے والد عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک دن ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور صحابہ میں سے کچھ دوسرے لوگ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اوراِس موضوع پر گفتگو کر رہے تھے کہ سب سے بڑا گناہ کون ساہے؟ اُن میں کسی کے پاس اِس معاملے میں کوئی ایسا علم نہیں تھا کہ حتمی فیصلے کے لیے وہ اُس کی مراجعت کر سکیں۔ اِس پر اُنھوں نے مجھے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں اِس موضوع کے بارے میں اُن سے کچھ معلوم کروں۔ چنانچہ میں اُن کے پاس گیا اور اُن سے پوچھا تو اُنھوں نے مجھے بتایا کہ اُن کے نزدیک سب سے بڑا گناہ شراب نوشی ہے۔۱ میں نے یہ بات واپس آ کر اِن حضرات کو بتائی تو اُنھوں نے مان کر نہیں دیا اور سب کے سب عبداللہ بن عمرو کی طرف لپکے اور اُن کے گھر جا پہنچے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اُنھیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ نے کسی شخص کو گرفتار کیا اور اُس سے تقاضا کیا کہ اپنی جان بخشی کے لیے وہ یا شراب پیے گا یا ایک بچے کو قتل کرے گا یا زنا کرے گا یا خنزیر کا گوشت کھائے گا، اور اُس نے اگر اِن میں سے کوئی کام نہ کیا تو اُسے قتل کردیا جائے گا۔ اُس شخص نے بظاہر کم تر درجے کی برائی سمجھ کر شراب پینے کو اختیار کیا، لیکن جب شراب پی تو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور وہ سارے گناہ کر گزرا جو وہ لوگ اُس سے کرانا چاہتے تھے۔ ۲ پھر مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سوال کا جواب دیتے ہوئے ہم سے کہا تھا کہ کوئی ایسا شخص نہیں کہ شراب پیے اور اللہ اِس کے باوجود چالیس روز تک اُس کی نماز قبول کرتا رہے اور اُس کے مثانے میں کوئی نشے کی چیز ہو اور وہ مر جائے تو اُس پر جنت اِسی بنا پر حرام نہ کر دی جائے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ پھر اگر وہ چالیسویں دن مر گیا تو اُس کی موت جاہلیت پر ہو گی۔ ۳

________

۱۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، خاص کر اُس بات سے جو آگے بیان ہوئی ہے کہ شراب پینے والا پھر اِس کے نشے میں ہر گناہ کر گزرتا ہے، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا استنباط ہے، ورنہ قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ سب سے بڑا گناہ شرک، اِس کے بعد قتل اور اِس کے بعد زنا ہے۔ اِسی طرح جو دس بڑے گناہ قرآن میں مذکور ہیں، اُن میں بھی اللہ تعالیٰ نے شراب نوشی کو شامل نہیں فرمایا۔ تاہم اُن کی بات اِس پہلو سے یقیناًقابل لحاظ ہے کہ شراب فی الواقع ام الخبائث ہے اور جس طرح کہ پیچھے ایک روایت کے حواشی میں ہم نے بیان کیا ہے، اِس کی لت پڑ جائے تو اِس سے دسیوں گناہ جنم لے سکتے ہیں۔
۲۔ یہ من جملہ اسرائیلیات ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ اِس طرح کے قصے جس طرح باقی قوموں میں بیان کیے جاتے ہیں، اُسی طرح عرب میں بھی بیان کیے جاتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اِس کی نسبت اگر صحیح ہے تو آپ نے بھی اِس کو غالباً کسی موقع پر ایک قصے ہی کی حیثیت سے بیان کیا ہو گا۔ اِس طرح کے قصے سبق آموزی کے لیے بیان کیے جاتے ہیں۔ اِس کی بہترین مثال سعدی شیرازی کی ’’گلستان‘‘، ’’بوستان‘‘ اور اِس نوعیت کی بعض دوسری کتابیں ہیں۔ اِنھیں حقیقت پر محمول نہیں کرنا چاہیے۔
۳۔ یہ اُنھی ارشادات کا حوالہ ہے جن کی وضاحت ہم پیچھے اِس باب کی روایتوں کے حواشی میں کر چکے ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کامتن مستدرک حاکم ،رقم ۷۳۰۱سے لیا گیا ہے اور اِس کے راوی عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت ابو نعیم کی الآحاد والمثانی میں بھی نقل ہوئی ہے۔

۲

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ، ۱ قَالَ: قَدِمَ نَفَرٌ مِنْ جَیْشَانَ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، سَمِعْنَا بِذِکْرِکَ، فَأَحْبَبْنَا أَنْ نَأْتِیَکَ، فَنَسْمَعَ مِنْکَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’أَسْلِمُوْا تَسْلَمُوْا‘‘، قَالَ: فَأَسْلَمُوْا، وَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، مُرْنَا وَانْہَنَا، فَإِنَّا نَرٰی أَنَّ الْإِسْلَامَ قَدْ نَہَانَا عَنْ أَشْیَاءَ کُنَّا نَأْتِیَہَا، وَأَمَرَنَا بِأَشْیَاءَ لَمْ نَکُنْ نَقْرَبُہَا، قَالَ: فَأَمَرَہُمُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَہَاہُمْ، ثُمَّ خَرَجُوْا حَتّٰی جَاءُ وْا رِحَالَہِمْ، وَقَدْ خَلَّفُوْا فِیْہَا رَجُلًا، فَقَالُوا: اذْہَبْ، فَضَعْ مِنْ إِسْلامِکَ عَلٰی یَدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَ الَّذِيْ وَضَعْنَا، وَسَلْہُ عَنْ شَرَابِنَا، فَإِنَّا نَسِیْنَا أَنْ نَسْأَلَہُ، وَقَدْ کَانَ مِنْ أَہْمِ الأَمْرِ عِنْدَنَا، فَجَاءَ ذٰلِکَ الْفَتٰی، فَأَسْلَمَ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنَّ النَّفْرَ الَّذِیْنَ جَاءُ وْکَ وَأَسْلَمُوْا عَلٰی یَدَیْکَ، قَدْ أَمَرُوْنِيْ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْ شَرَابٍ یَشْرَبُوْنَہُ بِأَرْضِہِمْ مِنَ الذُّرَۃِ، یُقَالُ لَہُ: الْمِزْرُ، وَأَرْضُہُمْ أَرْضٌ بَارِدَۃٌ، وَہُمْ یَعْمَلُوْنَ لِأَنْفُسِہِمْ، وَلَیْسَ لَہُمْ مَنْ یَمْتَہِنُ الأَعْمَالَ دُوْنَہُمْ، وَإِذَا شَرِبُوْہُ قَوَوْا بِہِ عَلَی الْعَمَلِ، قَالَ: ’’أَوَمُسْکِرٌ ہُوَ‘‘؟ قَالَ: اللّٰہُمَّ! نَعَمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ‘‘، قَالَ: فَأَفْزَعَہُمْ ذٰلِکَ، فَخَرَجُوْا بِأَجْمَعِہِمْ، حَتّٰی جَاءُ وْا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَۃٌ، وَإِنَّا نَعْمَلُ لِأَنْفُسِنَا، وَلَیْسَ لَنَا مَنْ یُمْتَہَنُ دُوْنَ أَنْفُسِنَا، وَإِنَّمَا شَرَابٌ نَشْرَبُہُ بِأَرْضِنَا مِنَ الذُّرَۃِ یُقَالُ لَہُ: الْمِزْرُ، وَإِذَا شَرِبْنَاہُ فَأُعِنَّا عَلَی الْبَرْدِ وَقَوِیْنَا عَلَی الْعَمَلِ، فَقَالَ: ’’أَمُسْکِرٌ ہُوَ‘‘؟ قَالُوْا: نَعَمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ، إِنَّ عَلَی اللّٰہِ عَہْدًا لِمَنْ یَشْرَبُ مُسْکِرًا أَنْ یَسْقِیَہُ مِنْ طِیْنَۃِ الْخَبَالِ‘‘. قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، وَمَا طِیْنَۃُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: ’’عَرَقُ أَہْلِ النَّارِ، أَوْ عُصَارَۃُ أَہْلِ النَّارِ‘‘.
جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ یمن کے لوگوں کی ایک جماعت جیشان کے علاقے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یارسول اللہ، ہم نے آپ کا ذکر سنا تو خواہش ہوئی کہ آپ کے پاس جائیں اور آپ کی دعوت خود آپ کی زبان سے سنیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے جواب میں فرمایا: اسلام لاؤ، سلامت رہو گے۔ اِس پر اُن لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور عرض کیا: یارسول اللہ، اب ہمیں کیا کرنا ہے، آپ حکم فرمائیے، اور جس چیز سے روکنا ہے، روکیے، کیونکہ ہمارا خیال ہے کہ اسلام نے کچھ چیزوں سے روکا ہے جو ہم اِس سے پہلے کرتے رہے ہیں اور کچھ چیزیں جن کے ہم قریب نہیں جاتے تھے، اُن کا حکم بھی دیا ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے بعد اُن کو اپنے کچھ اوامر و نواہی بتائے۔ پھر وہ لوگ وہاں سے نکلے اور اپنے کجاووں کے پاس پہنچ گئے، جہاں وہ ایک شخص کو پیچھے چھوڑ گئے تھے اور اُس سے کہا کہ تم بھی جاؤ اور اپنے عہد اطاعت کا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر رکھ دو، جس طرح ہم نے رکھ دیا ہے اور ہاں، آپ سے ہمارے مشروب کے بارے میں بھی پوچھنا، اِس لیے کہ ہم اُس کے بارے میں پوچھنا بھول گئے ہیں، دراں حالیکہ یہ ہمارے ہاں بہت اہم معاملہ ہے۔ اِس پر وہ نوجوان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا، پھر عرض کیا: یارسول اللہ، مجھے اُن لوگوں نے کہا ہے، جو ابھی آپ کے پاس آئے تھے اور اُنھوں نے اسلام قبول کیا ہے کہ میں آپ سے اُس مشروب کے بارے میں بھی پوچھوں جو یہ لوگ جو سے بناتے اور اپنے علاقے میں پیتے ہیں۔اور اِسے ’مزر‘ کہا جاتا ہے۔ یہ سرد علاقے کے رہنے والے ہیں اور اپنے لیے خود محنت کرتے ہیں۔ اِن کے کوئی خدام نہیں ہیں جو اِن کی جگہ اِن کے کام کاج کر دیں۔ سو یہ اُس کو پی لیتے ہیں تو اِن میں محنت کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ آپ نے پوچھا: کیا وہ نشہ آور ہے؟ اُس نے کہا: بخدا، نشہ آور تو ہے۔ آپ نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ یہ بات اُن لوگوں کو معلوم ہوئی تو بہت گھبرائے اور سب کے سب اپنے کجاووں کے پاس سے نکل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئے اور عرض کیا: یارسول اللہ، ہمارا علاقہ ایک سرد علاقہ ہے اور ہم اپنا کام خود کرتے ہیں، ہمارے کوئی خدام نہیں ہیں جو ہماری جگہ ہمارا کام کاج کر دیں اور یہ مشروب جو ہم اپنے ہاں پیتے ہیں، یہ جو سے بنتا ہے اور اِسے ’مزر‘ کہا جاتا ہے۔ ہم یہ پی لیتے ہیں تو اِس سے سردی کا مقابلہ کرنے میں مدد ملتی ہے اور ہمارے اندر محنت کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ اُن کی یہ بات سن کر آپ نے پوچھا: کیا وہ نشہ آور ہے؟ اُنھوں نے کہا: جی، نشہ آور تو ہے۔ اِس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور بلاشبہ نشے کی چیز پینے والوں کے لیے اللہ نے طے کر رکھا ہے کہ وہ اُنھیں ہلاکت کی کیچڑ پلائے گا۔ اُنھوں نے پوچھا: یارسول اللہ، یہ ہلاکت کی کیچڑ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: دوزخیوں کا پسینہ یا جو کچھ اُن سے نچڑے گا۔ ۱

________

۱۔ اِس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ نشہ آور چیزوں سے ہر حال میں بچنا چاہیے، اِس لیے کہ یہ اگر کسی ضرورت کے تحت بھی استعمال کی جائیں تو قابل معافی نہیں ہیں۔ یہ آدمی کو دوزخ میں لے جانے کا باعث بن سکتی ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مستخرج ابی عوانہ،رقم ۶۲۹۷سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے اِس کے مصادر یہ ہیں:مسند احمد، رقم ۱۴۵۸۵۔ صحیح مسلم،رقم۳۷۳۹ ۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۵۰۶۰، ۶۵۷۰۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۶۴۲۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۶۲۹۸۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۵۹۶۳۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۱۵۳۱۔ معرفۃ السنن و الاثار، بیہقی، رقم ۴۵۹۰۔

۳

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ۱ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’[عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ] ۲وَرَأَیْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ ۳یَجُرُّ قُصْبَہُ فِي النَّارِ ،۴ کَانَ أَوَّلَ مَنْ [غَیَّرَ عَہْدَ إِبْرَاہِیْمَ] ۵وَسَیَّبَ السَّوَائِبَ‘‘.
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے دوزخ پیش کی گئی تو میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو وہاں اِس حال میں دیکھا کہ اپنی آنت گھسیٹتا پھر رہا ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کے عہد کوبدل ڈالا اورجانور کو سائبہ کرنے کی رسم ڈالی۔ ۱

________

۱۔ یعنی یہ رسم کہ اونٹنی کو منت پوری ہو جانے کے بعد آزاد چھوڑ دیا جائے۔ یہ، ظاہر ہے کہ ایک مشرکانہ رسم تھی جس کی ابتدا اِس شخص نے کی۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس کی یہ حالت اِس لیے دکھائی گئی کہ لوگوں پر شرک و بدعت کی شناعت واضح ہو اور وہ اُن کی ہر آلایش سے اپنے دین کو پاک رکھنے کی کوشش کریں۔ پھر وہ لوگ بھی متنبہ رہیں جو آپ کے بعد آپ کی امت میں اِس طرح کی رسمیں ایجاد کرنے کی جسارت کریں گے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن اصلاً صحیح بخاری ،رقم۴۲۸۲سے لیا گیا ہے ،اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔اُن سے اِس روایت کو درج ذیل مصادر میں نقل کیا گیا ہے:
مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۳۵۰۵۴۔مسند احمد،رقم ۷۲۵۱،۸۵۸۸۔صحیح بخاری،رقم۳۲۸۱،۳۲۸۲۔صحیح مسلم ، رقم۵۱۰۰،۵۱۰۱۔السنن الکبریٰ،نسائی،رقم۱۰۶۴۳۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۶۰۷۶۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۱۲۸۰۔ صحیح ابن حبان، رقم ۶۳۹۵، ۷۶۵۰۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۳۱۲۸، ۹۰۰۵۔ مستدرک حاکم، رقم ۸۸۹۳۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۱۰۱۷، ۱۸۱۳۸۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۱۷۶۸۔
یہی روایت صحیح بخاری،رقم۴۲۸۳ میں عائشہ رضی اللہ عنہاسے بھی نقل ہوئی ہے۔
۲۔ مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۳۵۰۵۴۔
۳۔ صحیح مسلم ،رقم ۵۱۰۰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے اِس کا پورا نام ’عمرو بن لحي بن قمعۃ بن خندف‘ نقل ہوا ہے۔
۴۔ صحیح بخاری،رقم۴۲۸۳ میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے اِس جگہ یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: ’قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: رَأَیْتُ جَہَنَّمَ یَحْطِمُ بَعْضُہَا بَعْضًا‘ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے جہنم کو دیکھا کہ اُس کے بعض حصے بعض دوسرے حصوں کو توڑ رہے ہیں ‘‘۔
۵۔ صحیح ابن حبان رقم۷۶۵۰۔
اِس روایت کے بعض طرق ،مثلاً مستدرک حاکم ،رقم ۸۸۹۳کے آخر میں رسول اللہ سے منسوب یہ اضافہ نقل ہوا ہے: ’وَأَشْبَہُ مَنْ رَأَیْتُ بِہِ: أَکْثَمُ بْنُ أَبِي الْجَوْنِ، قَالَ: فَقَالَ أَکْثَمُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، یَضُرُّنِيْ شَبَہُہُ؟ قَالَ: لَا، إِنَّکَ مُسْلِمٌ، وَإِنَّہُ کَافِرٌ‘ ’’میں نے جس کو دیکھا، ا کثم بن ابی جون سب سے زیادہ اُس سے مشابہ ہے۔ اکثم نے یہ سنا تو پوچھا: یارسول اللہ، کیا اُس سے میری مشابہت، میرے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا:نہیں،تم مسلمان ہو، وہ تو کافر تھا‘‘۔

۴

حَدَّثَنِيْ أَبُوْ أُمَامَۃَ الْبَاہِلِيُّ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ،۱ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِِ وَسَلَّمَ، یَقُوْلُ: ’’بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ، إِذْ أَتَانِيْ رَجُلَانِ، فَأَخَذَا بِضُبْعِيْ، فَأَتَیَا بِيْ جَبَلًا وَعْرًا، فَقَالَا لِي: اصْعَدْ، فَقُلْتَ: إِنِّيْ لَا أُطِیْقُ، فَقَالَا: إِنَّا سَنُسَہِّلُہُ لَکَ، فَصَعِدْتُ حَتّٰی کُنْتُ فِيْ سَوَاءِ الْجَبَلِ، إِذَا أَنَا بِأَصْوَاتٍ شَدِیْدَۃٍ، قُلْتُ: مَا ہٰذِہِ الْأَصْوَاتُ؟ قَالُوْا: ہٰذَا ہُوَ عُوَاءُ أَہْلِ النَّارِ، ثُمَّ اُنْطُلِقَ بِيْ، فَإِذَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِیْنَ بِعَرَاقِیْبِہِمْ، مُشَقَّقَۃً أَشْدَاقُہُمْ، تَسِیْلُ أَشْدَاقُہُمْ دَمًا، فَقُلْتُ: مَا ہٰؤُلَاءِ؟ قَالَ: ہٰؤُلَاءِ الَّذِیْنَ یُفْطِرُوْنَ قَبْلَ تَحِلَّۃِ صَوْمِہِمْ،۲ ثُمَّ انْطَلَقَا بِيْ، فَإِذَا بِقَوْمٍ أَشَدَّ شَيْءٍ انْتِفَاخًا، وَأَنْتَنَہُ رِیْحًا، وَأَسْوَأَہُ مَنْظَرًا، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰؤُلَاءِ؟ قَالَ: ہٰؤُلَاءِ الزَّانُوْنَ وَالزَّوَانِيْ، ثُمَّ انْطُلِقَ بِيْ، فَإِذَا أَنَا بِنِسَاءٍ تَنْہَشُ ثَدْیَہُنَّ الْحَیَّاتُ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ ہٰؤُلَاءِ؟ فَقَالَ: ہٰؤُلَاءِ اللَّوَاتِيْ یَمْنَعْنَ أَوْلَادَہُنَّ أَلْبَانَہُنَّ‘‘.
ابو امامہ باہلی کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: اِس اثنا میں کہ میں سویا ہوا تھا، کیا دیکھتا ہوں کہ دو آدمی آئے، اُنھوں نے مجھے بازوؤں سے پکڑا اور ایک ایسے پہاڑ کے پاس لے گئے جو سخت متوحش کر دینے والا تھا۔ پھر کہنے لگے کہ اِس پر چڑھ جاؤ۔ میں نے کہا: مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ دونوں نے جواب دیا: ہم آپ کے لیے آسانی پیدا کیے دیتے ہیں۔ چنانچہ میں نے چڑھنا شروع کیا اور پہاڑ کے بیچ میں پہنچ گیا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ بڑی شدت کی آوازیں آ رہی ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ کیا آوازیں ہیں؟ اُنھوں نے بتایا کہ یہ دوزخیوں کی چیخم دھاڑ ہے۔ پھر مجھے آگے لے جایا گیا تو میں نے دیکھا کہ سامنے کچھ ایسے لوگ ہیں جنھیں اُن کی کوچوں سے باندھ کے لٹکایا گیا ہے، اُن کے جبڑے چیر دیے گئے ہیں اور اُن سے خون بہ رہا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ اُنھوں نے بتایا: یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ پورا ہونے سے پہلے اُس کو توڑ دیا کرتے تھے۔ پھر وہ اور آگے لے گئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ کچھ لوگ ہیں جن کے جسم بری طرح پھولے ہوئے ہیں، اُن سے سخت بدبو اٹھ رہی اور وہ بڑا ہول ناک منظر پیش کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ اُنھوں نے بتایا: یہ زنا کرنے والے مرد اور عورتیں ہیں۔ پھر مجھے آگے لے جایا گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے کچھ عورتیں ہیں جن کی چھاتیوں کو اژدہے ڈس رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: اِن کا کیا معاملہ ہے؟ لے جانے والے نے بتایا: یہ وہ عورتیں ہیں جو بچوں کو اپنے دودھ سے محروم رکھتی تھیں۔۱

________

۱۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رؤیا ہے، جس طرح کہ روایت کی ابتدا میں بیان ہوا ہے۔ انبیا علیہم السلام کو اِس طرح کے رؤیا اِس لیے دکھائے جاتے ہیں کہ اِن کے حوالے سے وہ لوگوں کو آخرت کے عذاب سے ڈرائیں۔ اِن میں جو سزائیں دکھائی جاتی ہیں، وہ تمثیلی ہوتی ہیں، بالکل اُسی طرح، جیسے ہم خواب میں بہت سی چیزیں تمثیل کے پیرایے میں دیکھتے ہیں۔ اِن سے مقصود یہ ہوتا کہ لوگ اِن کو سن کر آخرت میں اللہ تعالیٰ کی عقوبت کا کچھ اندازہ کر لیں اور اُن جرائم سے باز رہیں جن کی یہ سزائیں دکھائی گئی ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مستدرک حاکم ،رقم۲۷۶۳ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے اِس کے مصادر یہ ہیں:السنن الکبریٰ،نسائی،رقم۳۱۹۷۔صحیح ابن خزیمہ، رقم ۱۸۷۰۔ صحیح ابن حبان، رقم ۷۶۵۱۔ مستدرک حاکم، رقم ۱۴۹۹۔ السنن الکبریٰ،بیہقی، رقم ۷۳۹۶۔
۲۔ روایت کے مختلف طرق، مثلاً السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۳۱۷۹ میں اِس جگہ یہ اضافہ نقل ہوا ہے: ’فَقَالَ خَابَتِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی‘ ’’فرمایا: یہود و نصاریٰ نامراد ہو گئے‘‘۔ اِسی روایت کے ایک راوی سلیم بن عامر الکلاعی نے اِس پر یہ تبصرہ کیا ہے کہ: ’فَلَا أَدْرِيْ شَيْءٌ سَمِعَہُ أَبُوْ أُمَامَۃَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ؟ أَوْ شَيْءٌ مِنْ رَأْیِہِ‘ ’’مجھے نہیں معلوم کہ ابوامامہ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی یا پھر یہ اُن کی ذاتی راے تھی‘‘۔ صحیح ابن خزیمہ، رقم ۱۸۷۰میں بالکل یہی بات ایک دوسرے راوی الربیع بن سلیمان المرادی سے بھی نقل ہوئی ہے۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ.ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.
ابن ماجۃ، ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.
ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ.ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ. أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح. ط۳. تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.
بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی.ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.
السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج.ط ۱. تحقیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
محمد القضاعي الکلبي المزي.(۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
النسائي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النسائي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List