Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Administrator Profile

Administrator

  [email protected]
Author's Bio
Humble slave of Allah!!!
Visit Profile
دہشت گردی کی تعریف | اشراق
Font size +/-

دہشت گردی کی تعریف


افغانستان پر امریکی حملے کے تناظر میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب کا ایک انٹرویو روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے میگزین ’’زندگی‘‘ کی ۲۸ اکتوبر ۲۰۰۱ کی اشاعت میں چھپا ۔ اس انٹرویو میں انھوں نے اپنی طرف سے ’’دہشت گردی‘‘ کی تعریف پیش کی اور امت مسلمہ کے مختلف مسائل پر اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔ بعد میں یہی انٹرویو ماہنامہ ’’اشراق‘‘ کی نومبر ۲۰۰۱ء کی اشاعت میں شامل کیا گیا، البتہ اس کی ذرا نوک پلک درست کی گئی ۔ اس انٹرویو میں جاوید صاحب نے جن خیالات کا اظہار کیا ، ان میں بہت سے امور پر مجھے ان سے اختلاف تھا۔ میرا جاوید صاحب کے ساتھ نیاز مندانہ تعلق ہے ، اس لیے میں نے ایک تفصیلی خط انھیں لکھا جس میں اپنے اختلاف کا اظہار کیا۔ یہ خط بڑی جلد ی میں اور جذباتی کیفیت میں لکھا گیا تھا۔ تاہم جاوید صاحب نے مجھے ان اختلافی امور پر بحث کے لیے لاہور آنے کی دعوت دی ۔ ابھی تک ان سے ملاقات نہیں ہو سکی ہے ، تاہم اس دوران میں ’’اشراق‘‘ کی جنوری ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں میرے خط کے بعض مندرجات پر میرے نہایت ہی عزیز اور محترم دوست منظور الحسن صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میں منظور صاحب کے تجزیے کے دوسرے مضامین سے صرف نظر کر کے فی الحال اپنی توجہ صرف ’’دہشت گردی‘‘ کی تعریف پر مرکوز کر رہا ہوں ، دیگر مضامین بالمشافہ گفتگو میں زیر بحث آ جائیں گے ۔ یار زندہ صحبت باقی !

دہشت گردی کی تعریف اور ضروری عناصر

جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے دہشت گردی کی تعریف ان الفاظ میں کی تھی :

’’غیر مقاتلین (Non-Combatants)کی جان ، مال یا آبرو کے خلاف غیر علانیہ تعدی دہشت گردی ہے ۔ ‘‘

اس تعریف کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ یہ جامع نہیں ہے ۔ یعنی مجھے جاوید صاحب سے اس بات پر تو اتفاق ہے کہ غیرمقاتلین کے خلاف غیرعلانیہ تعدی دہشت گردی ہے ، لیکن میں کہتا ہوں کہ دہشت گردی بس یہی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر غیر مقاتلین کی جان ، مال یا آبرو کے خلاف علانیہ تعدی کی جائے تو کیا یہ دہشت گردی نہیں ہو گی ؟ یہ تو بدترین دہشت گردی کہلانی چاہیے۔
اسی طرح مقاتلین (Combatants) کے متعلق جاوید صاحب کی رائے یہ ہے :

’’اگر مسلح افواج بھی برسرجنگ نہیں ہیں تو ان پر بھی غیر علانیہ حملہ دہشت گردی قرار پائے گا ۔‘‘

اس کے متعلق بھی میری رائے یہ ہے کہ یہ تعریف جامع نہیں ہے ۔ میں یہ تو مانتا ہوں کہ مسلح افواج اگر برسر جنگ نہیں تو ان پرغیر علانیہ حملہ دہشت گردی ہے ، لیکن کیا بس یہی دہشت گردی ہے ؟ مجھے اس سے اختلاف ہے۔ مثال کے طور پر اگر مقاتلین برسرجنگ نہیں ہیں اور ان کے خلاف حملہ علانیہ کیا جائے ، لیکن یہ حملہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ’’ناحق‘‘ اور ’’ناجائز‘‘ ہو یا حملے میں ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا جائے جیسا کہ ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا گیا ، جبکہ جاپان ہتھیار ڈال رہا تھا یا افغانستان پر Carpet Bombing کی گئی اور Daizzy Cutters برسائے گئے حالانکہ اس کی قطعاً ضرورت نہ تھی۔ یا حملے کے دوران میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی جائے جیسا کہ قلعہ جھنگی میں قیدیوں پر بم برسائے گئے یا کابل میں ریڈ کراس کی عمارتیں اڑا دی گئیں ۔تو کیا یہ دہشت گردی نہیں ہوئی ؟
میں نے جاوید صاحب کے نظریہ پر جو تنقید کی تھی اس کا ایک اچھا خلاصہ جناب برادر محترم منظور الحسن نے پیش کیا :

’’اس تعریف پر مشتاق احمد صاحب کا نقد حسبِ ذیل نکات پر مبنی ہے:
۱۔غیر مقاتلین کے معاملے میں اصل اہمیت علانیہ یا غیر علانیہ تعدی کی نہیں، بلکہ دانستہ یا غیر دانستہ تعدی کی ہے۔ کسی کارروائی کے دانستہ یا نادانستہ ہونے کا فیصلہ مسلماتِ عقل و فطرت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔چنانچہ صرف یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ حملہ کرنے والا کہتا کیا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ وہ کرتا کیا ہے۔
۲۔ غیر مقاتلین کے خلاف تعدی میں ایک اہم مسئلہ حقوقِ انسانی ادا نہ کرنے کا ہے۔ اگر کسی جگہ کوئی ریاست کسی شخص یا گروہ کو اس کا فطری یا قانونی حق دینے پر تیار نہ ہو اور ریاستی جبر کے ذریعے سے ان کے حقوق غصب کیے جائیں اور حق ماننے والے پر قوت کا استعمال کیا جائے تو یہ دہشت گردی ہے۔ فلسطین اور کشمیر اس کی مثال ہیں۔
۳۔مقاتلین کے خلاف کارروائی خواہ علانیہ ہو یا غیر علانیہ ، اگر یہ کارروائی ناحق ہے تو یہ دہشت گردی ہے۔ گویا اصل اہمیت یہاں بھی علانیہ یا غیر علانیہ کارروائی کی نہیں، بلکہ اس کی ہے کہ یہ کارروائی نا حق ہے یا نہیں؟ناحق سے مراد یہ ہے کہ کسی کے جائز قانونی حق کے خلاف کوئی اقدام کیا جائے اور وہ کارروائی قانوناً جائز نہ ہو۔ پس اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ مقاتلین کے خلاف کارروائی کرنے کا حق آپ کو قانوناً حاصل ہے یا نہیں ؟ لہٰذا اگر آپ کسی مسلح فوج کے خلاف ایسی کارروائی کرتے ہیں جس کا آپ کو قانونی طور پر حق حاصل نہیں ہے یا حق تو حاصل ہے ، مگر کارروائی کرنے میں آپ نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے اور آپ اپنی قانونی حدود سے باہر نکل گئے تو یہ کارروائی ’’ناحق‘‘ ہو جائے گی اور’’ دہشت گردی‘‘ قرار پائے گی۔ ‘‘ (اشراق جنوری ۲۰۰۲ ، ۳۳)

اس کے بعد منظور الحسن صاحب نے دہشت گردی کی ایک تعریف مستنبط کی ہے جو کچھ یوں ہے :

’’انسان خواہ مقاتلین ہوں یا غیر مقاتلین، ان کے خلاف ہر وہ تعدی دہشت گردی قرار پائے گی جس میں یہ تین شرائط پائی جاتی ہوں ۔
۱۔ کارروائی دانستہ ہو ۔ ۲۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہو ۔ ۳۔ قانونی لحاظ سے ناحق ہو ۔‘‘

اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ اولاً تو میں نے اپنی معروضات میں دہشت گردی کی کوئی تعریف پیش ہی نہیں کی ہے ،بلکہ جاوید صاحب کی تعریف پر تنقید کی ہے اور اس میں جو خلا نظر آیا ہے ، اس کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ منظور صاحب نے میری معروضات سے ایک تعریف اخذ کی ہے جو کافی حد تک درست ہونے کے باوجود بھی کلیتاً صحیح نہیں ۔
میں مندرجہ بالا تینوں شرائط کو’’تعدی‘‘ نہیں ، بلکہ کسی ’’کارروائی‘‘ کو دہشت گردی قرار د ینے کے لیے ضروری سمجھتا ہوں۔ ’’تعدی‘‘ اور ’’کارروائی‘‘ کا فرق اگر واضح ہو تو منظور صاحب نے میرے موقف پر جو تنقید کی ہے ، اس کی غلطی صاف معلوم ہو جاتی ہے ۔
ثانیاً ، منظور صاحب نے آگے ایک جگہ لکھا ہے :

’’ہر بات کے اندر کچھ مقدرات ہوتے ہیں جو اگرچہ ظاہر الفاظ میں بیان نہیں ہوتے ۔ مگر اسلوب بیان اور سیاق و سباق کی بنا پر اس کا لازمی حصہ تصور ہوتے ہیں ۔‘‘ (اشراق، جنوری ۲۰۰۲، ۳۶)

حیرت ہے کہ خود اپنا بیان کردہ یہ اصول منظور صاحب میری معروضات پر نقد کرتے وقت بھول جاتے ہیں ۔
اگر اس کو مدنظر رکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ ’’کارروائی‘‘ سے میری مراد’’طاقت کا استعمال یا ا س کی دھمکی‘‘(Use of threat or use of force) ہے ۔ نیز چونکہ بحث ’’دہشت گردی‘‘ سے متعلق ہے ، ا س لیے ’’خوف اور دہشت‘‘ (Terror) کا عنصر بھی لازماً اس کارروائی میں موجود ہو گا ۔
ثالثاً، دہشت گردی کے ضروری عناصر کا کسی کارروائی میں ’’بیک وقت‘‘ (Simultaneosly) موجود ہونا ضروری ہے ، کیونکہ یہ ان کے ضروری عناصر (Essential Ingredients) ہیں اور ان میں کسی ایک کا بھی فقدان ہو تو ’’کارروائی‘‘ دہشت گردی نہیں کہلائے گی ۔ پس میرے نزدیک دہشت گردی کی تعریف یہ ہے :

’’انسان خواہ مقاتلین ہوں یا غیر مقاتلین ، ان کے حقوق کی خلاف ورزی میں طاقت کا استعمال یا اس کی دھمکی دانستہ طور پر غیر قانونی طریقے سے ہو اور ا س کا مقصد معاشرے یا اس کے کسی طبقے میں خوف و دہشت پھیلانا ہو تو اسے دہشت گردی کہا جائے گا خواہ اس کا ارتکاب افراد کریں ، یا ان کی تنظیم، یا کوئی حکومت ۔ ‘‘

اس تعریف کی رو سے کسی ’’کارروائی‘‘ کو ’’دہشت گردی‘‘ قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں مندرجہ ذیل عناصر بیک وقت پائے جائیں :
۱۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ۲۔ طاقت کا استعمال یا اس کی دھمکی ۳۔ ارادہ اور شعور
۴۔ غیر قانونی طریقہ ۵۔ خوف و دہشت پھیلانا ۔
منظور صاحب میری معروضات پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ہمارے نزدیک،کسی اقدام پر دہشت گردی کا اطلاق کرنے کے لیے دانستہ یا نادانستہ کی بحث بالکل بے معنی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلماتِ قانون و اخلاق میں نادانستہ طور پر سرزد ہونے والا جرم اصل میں جرم قرار ہی نہیں پاتا۔وہی جرم، درحقیقت جرم شمار کیا جا تا ہے جوپورے شعور اور ارادے سے کیا گیا ہو۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں جیسے ہی کسی مجرمانہ کارروائی کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ کسی شعور اور ارادے کے بغیر نادانستہ طور پر کی گئی ہے تو ہم اسے فہرستِ جرائم سے نکال کر فہرستِ حوادث میں ڈال دیتے ہیں۔ ‘‘ ( اشراق، جنوری ۲۰۰۲، ۳۴)

مجھے منظور صاحب سے بالکل اتفاق ہے کہ کسی فعل کو ’’جرم‘‘ اسی وقت کہا جائے گا جب اس کے متعلق ثابت ہو جائے کہ وہ ’’دانستہ‘‘ طور پر کیا گیا ہے ۔ اور اگر یہ معلوم ہو کہ فعل شعور و ارادے کے بغیر کیا گیا ہے تو وہ ’’جرم‘‘ نہیں ، بلکہ ’’حادثہ‘‘ کہلاتا ہے۔ اسی کو انگریزی اصول قانون کی اصطلاح میں mens rea کہتے ہیں جو ’’جرم‘‘ کے ضروری عناصر میں شمار کیا جاتا ہے ۔ لیکن ہر ’’کارروائی‘‘ میں mens rea یا مجرمانہ ارادے کا ہونا ضروری نہیں ہوتا ، اس لیے میں نے عرض کیا تھا کہ کوئی کارروائی اگر دہشت گردی قرار دی جائے گی تو اس میں mens rea یا مجرمانہ ارادے کا ہونا ضروری ہے ۔ آگے منظور صاحب لکھتے ہیں :

’’ہر جرم ،خواہ اس کا ارتکاب کسی فرد نے کیا ہو، کسی گروہ نے کیا ہو یا ریاست نے ،بہرحال کسی نہ کسی انسانی حق کی خلاف ورزی پر مبنی ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ شرط ہر جرم کے اندر فطری طور پر موجود ہوتی ہے۔ ‘‘ (اشراق، جنوری ۲۰۰۲، ۳۵)

وہ مزید لکھتے ہیں :

’’بلا استثنا ہر جرم اسی بنا پر جرم قرار پاتا ہے کہ وہ قانونی لحاظ سے ناحق اور باطل ہوتا ہے ۔ ‘‘ (ایضاً )

منظور صاحب کی یہ دونوں باتیں بالکل صحیح ہیں ،مگر سوال یہ ہے کہ وہ تنقید کس بات پر کر رہے ہیں ؟ میں نے یہ شرائط ’’جرم‘‘ کو جرم قرار دینے کے لیے تو نہیں لگائیں ،بلکہ کارروائی (طاقت کا استعمال یا اس کی دھمکی) کو جرم قرار دینے کے لیے لگائی ہیں۔ یعنی میرے نزدیک ہر کارروائی کو جرم نہیں کہا جا سکتا ، بلکہ صرف وہی کارروائی جرم کہلائے گی جس میں یہ شرائط پائی جائیں۔ مثال کے طور پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے یا قاتل کو سزائے موت دی جائے تو یہ طاقت کا استعمال تو ہے ، کارروائی تو ہے ، مگر جرم نہیں ہے ، کیونکہ یہ قانون کی خلاف ورزی نہیں ، بلکہ قانون کی تنفیذ ہے ۔

مثالیں

اس کے بعد منظور صاحب نے جو مثالیں دی ہیں ان سب کے متعلق اصولی طور پر عرض ہے کہ ان میں دہشت گردی کے تمام عناصر ’’بیک وقت‘‘ نہیں پائے جاتے ، بلکہ ہر مثال میں کسی نہ کسی عنصر کا فقدان ہے ، اس لیے اسے دہشت گردی نہیں کہہ سکتے ۔ چنانچہ دیکھیے ،منظور صاحب لکھتے ہیں :

’’کسی شخص نے شکار کے لیے گولی چلائی ۔ اچانک ایک شخص سامنے آ گیا اور قتل ہو گیا۔ یہاں انسان کے حق جان کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اسے قتلِ خطا سے تعبیر کیا جائے گا ، مگر دہشت گردی نہیں کہا جائے گا۔‘‘(ایضاً)

اسے دہشت گردی اس لیے نہیں کہا جائے گا کہ اس میں ایک ضروری عنصر ارادہ و شعور mens rea نہیں پایا جاتا ، نیز اس سے مقصود خوف و و دہشت پھیلانا نہیں ہے ۔ اور ایک مثال انھوں نے یہ دی ہے ۔

’’کسی شخص نے اپنا مال بچانے کے لیے ڈاکو پر گولی چلائی اور اسے قتل کر دیا۔ یہاں بھی انسان کے حق جان کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اسے مدافعت میں کیا جانے والا قتل کہا جائے گا، مگر اس پر دہشت گردی کا اطلاق نہیں کیا جائے گا۔‘‘(ایضاً)

یہ اس لیے دہشت گردی نہیں کہ طاقت کا استعمال ’’ناحق‘‘ نہیں اور مقصد خوف و دہشت پھیلانا نہیں ۔ البتہ یہ واضح رہے کہ اگر مال و جان کسی اور طریقے سے بچانا ممکن تھا تو پھر یہ ’’ناحق‘‘ ہو جائے گا اور ’’جرم‘‘ بن جائے گا۔ چنانچہ دیکھیے مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۹۶ کیا کہتی ہے :

“Nothing is an offence which is done in exercise of the right of private defence.”

لیکن دفاع کا حق بالکل غیر مقید اور مطلق نہیں بلکہ اس پر بعض کڑی قیود رکھی گئی ہیں جو دفعہ ۹۹ میں بیان کی گئی ہیں ۔ ان میں اہم ترین یہ ہیں ۔

“There is no right of private defence in cases in which there is time to have recourseto the protection of the public authorities. The right of private defence in no case extends to the causing of more harm than it is necessary to inflict for the purpose of defence.”

اس آخری قید کی وضاحت کے لیے ایک نہایت اہم کیس ملاحظہ ہو :

“Where the deceased with an ordinary stick delivered two initial blows to the accused causing very simple injury, the accused drew out his dagger and delivered no less than eight blows to the deceased, five of which were sufficient to cause death it was hed that accused did not act either in good faith or without any intention of doing more harm than was necessary and as such plea of private defence not being available, was guilty of murder.”(PLD 1960 Pesh. 105)

میں نے یہاں کچھ تفصیل اس لیے دی ہے کہ حق دفاع کا جو حق بین الاقوامی قانون میں ریاستوں کو دیا گیا ہے ، اس پر بھی یہی قیود ہیں اور افغانستان پر امریکی حملے کو حق دفاع کے تحت ہی جائز قرار دیا جا رہا ہے ۔ اس پر آگے بحث آئے گی ۔ نیز اگر جان لینے کے علاوہ راستے کھلے تھے تب بھی اس نے قتل کیا اور اس سے مقصود خوف و دہشت پھیلانا تھا تو یہ ’’جرم‘‘ اب ’’دہشت گردی‘‘ بن جائے گا کیونکہ اب اس میں ’’دہشت گردی‘‘ کے سبھی عناصر پائے جاتے ہیں ۔ ایک اور مثال منظور صاحب نے یہ دی ہے :

’’کسی شخص نے خفیہ طریقے سے اپنے دشمن کو گولی کا ہدف بنا کر اسے قتل کر دیا۔ یہاں بھی انسان کے حق جان کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اسے بدترین جرم قرار دیا جائے گا ، مگر دہشت گردی سے تعبیر نہیں کیا جائے گا۔‘‘ (ایضاً)

یہ اس لیے دہشت گردی نہیں کہ اگرچہ یہاں دانستہ طور پر ناجائز طریقے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں طاقت استعمال کی گئی ہے ، مگر مقصود خوف اور دہشت پھیلانا نہیں ہے ۔ منظور صاحب نے ایک اور مثال یہ دی ہے :

’’کسی شخص نے کسی دوسرے شخص کو پہلے قتل کی دھمکی دی اور پھر دھمکی کے مطابق اسے برسرِ عام گولی مار کر قتل کر دیا۔ یہاں بھی انسان کے حق جان کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔اسے ایک بہت بڑا جرم سمجھا جائے گا، مگر دہشت گردی سے موسوم نہیں کیا جائے گا۔‘‘(ایضاً)

یہاں بھی اگرچہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں طاقت کا استعمال دانستہ طور پر ناجائز طریقے سے کیا ہے ،مگرمقصود صرف اپنے دشمن کو ٹھکانے لگانا ہے ، خوف و دہشت پھیلانا نہیں ، اس لیے اسے بدترین جرم تو کہا جائے گا ، مگر دہشت گردی نہیں ۔
منظور الحسن صاحب مزید لکھتے ہیں :

’’فرد کی سطح پر ملاوٹ، چوری اور قتل اور ریاست کی سطح پر عوامی تائید کے بغیر حکومت کا حصول اور جابرانہ قوانین کا نفاذ جیسے جرائم انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر کے عمل میں آتے ہیں ،مگر ہم انھیں دہشت گردی سے تعبیر نہیں کرتے ۔‘‘(ایضاً)

قتل کی جو مثالیں انھوں نے دی ہیں ان پر گفتگو کی جا چکی ہے ۔ ملاوٹ اور چوری میں طاقت کا استعمال یا ا س کی دھمکی نہیں ہوتی اور مقصود خوف و دہشت پھیلانا نہیں ہوتا ، اس لیے انھیں دہشت گردی نہیں کہا جا سکتا ۔
عوامی تائید کے بغیر غیر آئینی طریقے سے حکومت کا حصول اور جابرانہ قوانین کا نفاذ جس کا مقصد طاقت کے استعمال کے ذریعے خوف و دہشت پھیلانا ہو میرے نزدیک دہشت گردی ہی ہے کیونکہ اس میں دہشت گردی کے سبھی عناصر موجود ہیں اور اگر جابرانہ قوانین کا نفاذ نہ ہو اور خوف و دہشت پھیلانے کی خاطر طاقت کا استعمال بھی نہ ہو بلکہ صرف آئینی طریقے پر حکومت حاصل کی ہو تو یہ دہشت گردی نہیں مگر جرم ضرور ہو گا اور جرم بھی اس وقت تک ہوگا جب تک پچھلا آئین باقی ہے ۔ اگر وہ آئین ہی ختم ہو گیا اور عوام نے اس تبدیلی کو تسلیم کر لیا تو اسے انقلاب کہتے ہیں ، جرم نہیں ۔
اس کے بعد منظور صاحب نے دہشت گردی کی مثال یہ دی ہے :

’’کسی شخص نے بندوق اٹھائی اور راہ چلتے ہوئے انسانوں پر فائر کھول دیا۔اس کے نتیجے میں کوئی شخص قتل ہو گیا۔ یہاں بھی انسان کے حق جان کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اس اقدام کو بہرحال دہشت گردی قرار دیا جائے گا۔‘‘ (ایضاً)

اس کو اس وجہ سے دہشت گردی قرار دیا جائے گا کہ یہاں دہشت گردی کے سبھی عناصر بیک وقت پائے جاتے ہیں ۔ یعنی انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں دانستہ طور پر طاقت کا ناجائز طریقے سے استعمال خوف و دہشت پھیلانے کی غرض سے ۔ اس لیے یہ کھلی دہشت گردی ہے ۔ آگے منظور صاحب لکھتے ہیں :

’’ان مثالوں سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ کسی واقعے میں حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی اس بات کو لازم نہیں کرتی کہ اسے دہشت گردی قرار دیا جائے۔‘‘ (ایضاً )

یہ جملہ بالکل صحیح ہوتا اگر اس میں فقط ایک لفظ ’’صرف‘‘ کا اضافہ کر دیا جاتا ۔ یعنی یوں کہا جائے تو بالکل ٹھیک ہو گا کہ :

’’کسی واقعے میں صرف حقوق انسانی کی خلاف ورزی اس بات کو لازم نہیں کرتی کہ اسے دہشت گردی قرار دیا جائے۔‘‘

یہ اس لیے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی طاقت اور جبر کے استعمال کے بغیر بھی ہو سکتی ہے ، نیز طاقت کے استعمال کے لیے قانونی گنجایش بھی ہو سکتی ہے ۔ جیسے ہنگامی حالت میں حقوق کی معطلی یا طاقت کا غیر قانونی استعمال ہو تو ضروری نہیں کہ مقصود خوف و دہشت پھیلانا ہو ۔ تاہم جہاں حقوق انسانی کی خلاف ورزی طاقت کے ناجائز استعمال کے ذریعے سے ہو تو یہ ’’جرم‘‘ ہو گا اور جہاں اس کے ساتھ ساتھ مقصد خوف و دہشت پھیلانا ہو تو یہ ’’دہشت گردی‘‘ ہو گا ۔

غیر مقاتلین کے خلاف علانیہ دہشت گردی

یہاں ایک اور نکتے کی طرف اشارہ ضروری محسوس ہوتا ہے۔ اگر مثال کے طور پر کسی گروہ نے بازار کے بیچ میں برسرعام اعلان کر دیا کہ ہم فائرنگ کرنے والے ہیں اور پھر فائرنگ شروع کر کے بعض کو زخمی اور بعض کو ہلاک کر دیا تو کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے ؟ یقیناًہے حالانکہ یہ کارروائی غیر علانیہ نہیں ، بلکہ علانیہ ہے ۔ یہ صورت غامدی صاحب کی تعریف میں نہیں آتی اور اسی لیے میں نے ان کی تعریف کو غیر جامع کہا تھا۔ مگر منظور الحسن صاحب اس سلسلے میں کہتے ہیں :

’’...لفظ علانیہ میں یہ باتیں لازمی طور پر مقدر سمجھی جائیں گی:
ایک یہ کہ مخالفین کوواضح طور پر متنبہ کیا جائے کہ اگر بات نہ مانی گئی تو ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔
دوسرے یہ کہ اگر وہ مقاتلین ہیں تو انھیں ہتھیار ڈالنے اور اگر غیر مقاتلین ہیں تو انھیں مطیع ہوکر یا راہِ فرار اختیار کر کے جان، مال اور آبرو بچانے کا پورا موقع دیا جائے۔‘‘ (اشراق، جنوری ۲۰۰۲، ۳۶)

لیکن یہ شرائط تو اولاً ناکافی ہیں ۔ مثال کے طور پر اگر کسی گروہ نے بیچ بازار میں برسرعام اعلان کر کے کہا کہ لوگ اگر دکان بند کر کے گھروں میں نہیں جائیں گے تو وہ ان پر فائرنگ کر دیں گے ۔ اور پھر وہ ہوائی فائرنگ کر دیتے ہیں جس سے کوئی زخمی نہیں ہوا، کوئی ہلاک نہیں ہوا تو کیا یہ دہشت گردی نہیں ہوگی ؟ یا اگر انھوں نے ہوائی فائرنگ بھی نہیں کی ، لیکن صرف اسلحہ کی نمایش کی اور فائرنگ کی دھمکی دی تو کیا یہ دہشت گردی نہیں ہو گی ؟
یہ بہرصورت دہشت گردی ہے کیونکہ لوگوں کا حق آزادی متاثر ہوا ہے ، انھیں طاقت کے استعمال کی دھمکی دی گئی ہے یا آزادی سلب کرنے کے لیے طاقت استعمال کی گئی ( اگرچہ کسی کی جان ، مال یا آبرو کو بظاہر نقصان نہیں پہنچا ) اور اس کارروائی سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔ اگرچہ یہ کارروائی غیر علانیہ نہیں اور منظور صاحب نے جو مقدرات ذکر کیے وہ بھی موجود ہیں پھر بھی یہ دہشت گردی ہی ہے ۔
ثانیاً ، اگر کہیں مقاتلین کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے اور علانیہ ہو رہی ہے اور غیر مقاتلین ان سے کوسوں دور محفوظ مقامات جیسے ہسپتال ، ریڈ کراس کے دفاتر ، خوراک کے گودام ، سکول کی عمارت وغیرہ میں مقیم ہیں ، مگر عین ہسپتالوں اور اسکولوں وغیرہ میں شہری آبادی پر بمباری کی گئی تو کیا یہ دہشت گردی نہیں ہو گی ؟ اسے دہشت گردی ہی کہا جائے گا ، اگر یہ ثابت ہو جائے کہ شہری آبادی کے خلاف یہ کارروائی دانستہ کی گئی ہے ۔ جاوید غامدی صاحب نے جب افغانستان پر امریکی حملے کو دہشت گردی کی تعریف سے خارج کیا تھا تو یہی کہا تھا:

’’اس میں عام شہریوں کو دانستہ ہدف تو نہیں بنایا جا رہا ۔ باقی یہ معاملہ دنیا کی ہر جنگ میں ہوتا ہے یعنی ایسی کسی جنگ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی جس میں عام شہریوں کی جان و مال کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو ۔ اصل بات یہ ہے کہ انھیں دانستہ ہدف نہ بنایا جائے ۔ ‘‘

کیا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر غیر مقاتلین کو دانستہ ہدف بنایا جائے (اور دیگرضروری عناصر بھی ہوں) تو کارروائی دہشت گردی قرار پائے گی ؟ اسی وجہ سے میں نے کہا تھا کہ غیر مقاتلین کے خلاف طاقت کے استعمال میں اصل اہمیت علانیہ یا غیر علانیہ کی نہیں ، بلکہ دانستہ یا غیر دانستہ کی ہے ۔ باقی رہی یہ بات کہ کس طرح ثابت کیا جائے گا کہ غیر مقاتلین پر حملہ دانستہ کیا گیا ہے یا غیر دانستہ ؟ اور وہ اصلاً ہدف بنائے گئے یا مقاتلین پر حملہ کرتے ہوئے غیر مقاتلین ضمناً (Collaterally) غیرارادی طور پر (Unintentionally) نشانہ بن گئے ؟ تو یہ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے ۔ حملہ آور کے قول اور فعل دونوں کو مدنظر رکھ کر حالات و قرائن کی گواہی کے مطابق اسی طرح فیصلہ کیا جائے گا جیسا کہ دنیا کے ہر معاملے میں کیا جاتا ہے ۔

واقعات پر انطباق

دہشت گردی کے جن لازمی عناصر کا ذکر میں نے کیا ہے ان کے متعلق منظور صاحب کا خیال ہے :

’’ان کا کسی واقعے پر انطباق کر کے اسے دہشت گردی کے زمرے میں لانا کم و بیش ناممکن ہے ۔‘‘(اشراق، جنوری ۲۰۰۲، ۳۴)

میرا خیال اس کے بالکل برعکس ہے ۔ کسی کارروائی میں ان شرائط کی موجودگی یاعدم موجودگی کا بآسانی پتا چلایا جا سکتا ہے اور اس وجہ سے فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ کارروائی ’’جائز‘‘ ہے ، ’’جرم‘‘ ہے یا ’’دہشت گردی‘‘ ہے ۔
چند مثالیں ملاحظہ ہوں ۔ شریعت اسلامیہ کا حکم ہے کہ زنا کار مردو عورت کو سو کوڑے برسرعام لگا دیے جائیں اور مومنوں کی ایک جماعت ان کو سزا دیے جانے کا منظر دیکھے ۔ اس کا مقصد ظاہر ہے دوسروں کو تنبیہ اور زجر ہے ۔
اب یہاں دیکھ لیجیے کہ ایک انسان کے نفس (اور اس کی تکریم) کے خلاف طاقت کا استعمال ہو رہا ہے ، دانستہ ہو رہا ہے ، دوسروں کی عبرت کے لیے ہو رہا ہے ، مگر یہ نہ جرم ہے اور نہ دہشت گردی کیونکہ کارروائی ’’غیر قانونی‘‘ اور ’’ناحق‘‘ نہیں ہے ۔ اب اگر بعینہٖ یہی کارروائی ریاست کے بجائے کچھ افراد یا ان کی تنظیم کرے تو یہ غیر قانونی ہو جائے گی اورچونکہ دوسرے عناصر موجود ہیں ، اس لیے ’’دہشت گردی ‘‘ہو جائے گی ۔ تاہم اگر وہ یہ کارروائی برسرعام نہ کریں تو یہ دہشت گردی نہیں ہو گی ، مگر اسے ’’جرم‘‘ ضرور کہا جائے گا ۔
ایک اور مثال دیکھیے ۔ کشمیر پر بھارت نے پچھلے ۵۴ برسوں سے غاصبانہ قبضہ جمایا ہوا ہے اور اس نے کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم رکھا ہوا ہے ، یہ حق عمومی طور پر بھی اقوام متحدہ کے چارٹر اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے اور خصوصی طور پر بھی کشمیریوں کے لیے جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے ذریعے سے اسے تعلیم کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ پچھلے ۱۲ سال سے بھارت کی ۷ لاکھ سے زائد فوج کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہی ہے ، کسی کی جان ، مال اور آبرو محفوظ نہیں ہے ۔
اب یہاں دیکھیں کہ ’’دہشت گردی‘‘ کی سبھی شرائط یہاں پائی جاتی ہیں ۔
۱۔ حقوق انسانی کی بدترین پامالی ہو رہی ہے ۔
۲۔ حقوق انسانی کی یہ پامالی طاقت کے استعمال کے ذریعے سے کی جا رہی ہے ۔
۳۔ طاقت کا یہ استعمال دانستہ ہے ۔
۴۔ طاقت کا یہ استعمال قطعاً ناجائز، ناحق اور غیر قانونی ہے۔
۵۔ طاقت کے اس استعمال سے مقصود خوف و دہشت پھیلا کر حقوق مانگنے والوں کو دبانا ہے ۔
یہ کھلی دہشت گردی ہے اور چونکہ اس کا ارتکاب ریاست کر رہی ہے ، اس لیے یہ ’’ریاستی دہشت گردی‘‘ (State Terrorism) ہے ۔ یہی کچھ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی کارروائی کے متعلق بھی کہا جا سکتا ہے ۔
اب ذرا مقاتلین کے خلاف دہشت گردی کی کارروائی کی بھی ایک مثال ملاحظہ ہو ۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور حملے کے لیے جواز یہ پیش کیا کہ اس کے مطلوب’’دہشت گرد‘‘ وہاں مقیم ہیں ۔ قطع نظر اس سے کہ واقعی اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھی ۱۱ ستمبر کے واقعات میں ملوث تھے یا نہیں ، امریکا کے پاس بہرحال بین الاقوامی قانون کے تحت حملے کا اختیار نہیں تھا۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت کوئی بھی ملک کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کر سکتا ، بلکہ اس کی دھمکی بھی نہیں دے سکتا ۔ اس کلیے سے صرف دومستثنیات ہیں ۔ ایک یہ کہ جب کسی ملک پر حملہ ہو تو وہ انفرادی طور پر یا دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر اس حملے کے خلاف مدافعت کے لیے طاقت استعمال کر سکتا ہے ، لیکن معاملہ جلد از جلد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کیا جائے گا اور پھر اس کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے گا ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیر نگرانی کسی ملک کے خلاف مشترکہ طور پر طاقت استعمال کی جائے جیسا کہ ۱۹۹۱ء میں عراق کے خلاف کی گئی ۔
ہر دو صورتوں میں طاقت کے استعمال میں حقیقی ضرورت (Real Necessity) اور خطرے کے ساتھ تناسب (Proportion) کا خیال رکھا جائے گا۔ نیز بین الاقوامی انسانی قانون (International Humanitarian Law) کی بھی پابندی کی جائے گی ۔
افغانستان پر امریکا کا حملہ نہ پہلی صورت میں آتا ہے اور نہ دوسری صورت میں ، اس لیے یہ حملہ ابتدا ہی سے ناجائز تھا۔ ڈونلڈرمز فیلڈ صاحب کا کہنا ہے کہ امریکا نے حملہ اپنا حق دفاع استعمال کرتے ہوئے کیا ہے اور اب اسرائیل اور بھارت بھی اپنے اقدامات کے لیے یہی منطق استعمال کر رہے ہیں ، مگر حق دفاع کی یہ تشریح بین الاقوامی قانون کے لیے بالکل نئی اور اجنبی ہے ۔ اس وقت تک بین الاقوامی قانون کے تحت جو صورت حال ہے ، اس کے مطابق تو کوئی ملک حق دفاع کے تحت فوجی حملہ اسی وقت کر سکتا ہے جب اس پر کسی ’’ملک‘‘ نے حملہ کیا ہو نیز طاقت کا استعمال اس کے لیے اسی وقت تک جائز ہوتا ہے جب تک حملہ جاری ہو ۔ متوقع حملے (Anticipated Attack) سے بچنے کے لیے بھی اپنے طورپر حملہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ دوسرے ملک کا حملہ ختم ہونے کے بعد بدلے (Retaliation) کے لیے طاقت استعمال کی جا سکتی ہے ۔ امریکا پر نہ افغانستان نے حملہ کیا ہے ، نہ ہی امریکا اس وقت حملے کا شکار تھا جب اس نے افغانستان پر حملہ کیا ، کیونکہ ۱۱ستمبر کو جو کچھ ہوا وہ بعض افراد نے کیا اور وہ جو کچھ ہوا وہ ۱۱ ستمبر کو ہی ہوا ۔ اس لیے امریکا نے جو کچھ کیا ، یہ حق دفاع کے تحت نہیں کیا۔ اگر واقعی یہ حملہ اسامہ اور ان کے ساتھیوں نے کیا ہے اور افغانستان کی حکومت اس میں ملوث تھی تب بھی اس کو دفاع نہیں کہا جا سکتا ، بلکہ اسے بدلہ (Retaliation) ہی کہا جائے گا۔ اور منظور صاحب کو یقیناً معلوم ہو گا کہ جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا توتھا تو CNNکی Breaking News کی سرخی تھی: “America Strikes Back”۔ جب امریکا کا حملہ بین الاقوامی قانون کے تحت ’’ناحق‘‘ تھا تو پھر مقاتلین اور غیر مقاتلین کی بحث بے معنی ہے ، بہرصورت یہ دہشت گردی ہے کیونکہ اس میں دہشت گردی کے تمام ضروری عناصر پائے جاتے ہیں ۔ نیز اگر تھوڑی دیر کے لیے یہ فرض بھی کیا جائے کہ امریکا کو دفاع کے حق کے تحت حملے کی اجازت تھی تو پھر یہ دیکھا جائے گا کہ جتنی طاقت استعمال کرنے کی ضرورت تھی کیااس نے اتنی ہی استعمال کی ہے یا اس سے زیادہ ؟ اگر زیادہ استعمال کی ہے اور یقیناًبدرجہا زیادہ استعمال کی ہے اور بے محابا استعمال کی ہے تو طاقت کا یہ استعمال ابتداءً جائز ہونے کے باوجود بھی بعد میں ناجائز ہوا اور اس کے لیے یہ کارروائی دہشت گردی ہوئی۔
پھر اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ اس نے طاقت کا استعمال ضرورت کے مطابق اور خطرے کے تناسب سے کیا ہے تو پھر یہ دیکھا جائے گا کہ کیا اس نے صرف مقاتلین کے خلاف طاقت استعمال کی ہے یا غیر مقاتلین کے خلاف بھی ؟ اور اگر غیرمقاتلین کے خلاف استعمال کی ہے تو کیا وہ غیر ارادی طور پر ضمناً ہی شکار ہوئے ہیں یا انھیں دانستہ طور پر ہدف بنایا گیا ہے ؟ پس اگر غیر مقاتلین کو دانستہ ہدف بنایا گیا ہے ۔ اور یقیناًبنایا گیا ہے تو یہ کھلی دہشت گردی ہے ۔
پھر اگر صرف مقاتلین ہی کو نشانہ بنایا ہے اور غیر مقاتلین دانستہ نشانہ نہیں بنے ، بلکہ یہ نقصان ضمنی (Collateral) ہی تھا تو پھر یہ دیکھا جائے گا کہ مقاتلین پر طاقت کے استعمال میں بین الاقوامی انسانی قانون (International Humanitarian Law) اور ضابطۂ جنگ(Jus in Bello) کی پابندی کی گئی ہے ؟ مثال کے طور پر جنگی قیدیوں کے ساتھ کس طرح سلوک کیا گیا ہے ؟ زخمیوں کا کیا حشر کیا گیا ؟ کیمیائی ، حیاتیاتی یا نیو کلیائی ہتھیار تو استعمال نہیں کیے گئے ہیں؟ جنھوں نے ہتھیار ڈالنے چاہے انھیں تو نشانہ نہیں بنایا گیا ؟ وغیرہ وغیرہ ۔ پس اگر ان قواعد کی خلاف ورزی کی گئی اور یقیناًکی گئی ہے تب بھی یہ دہشت گردی ہی ہے ، خواہ امریکا کو دفاع کے حق کے تحت حملہ کا اختیار ہو اور اس نے صرف مقاتلین کے خلاف ہی طاقت استعمال کی ہو ۔ لہٰذاجن شرائط کا ذکر میں نے کیا ہے ، ان کا کسی بھی واقعے پر انطباق ’’ناممکن‘‘ ہر گز نہیں ہے بشرطیکہ آدمی کھلی دہشت گردی کی کارروائی کو بھی دہشت گردی کہنے سے انکار نہ کرنا چاہتا ہو۔
آخر میں برادر محترم منظور الحسن صاحب سے چندسوالات پوچھنا چاہتا ہوں ۔ مقاتلین پر حملے کے جواز کے لیے جاوید صاحب ’’علانیہ‘‘ ہونا ضروری سمجھتے ہیں ، ورنہ حملہ دہشت گردی میں تبدیل ہو جائے گا اور جب وہ لفظ ’’علانیہ‘‘ بولتے ہیں تو بقول منظور صاحب کے دو باتیں لازماً اس میں مقدر سمجھی جائیں گی ۔

’’ایک یہ کہ مخالفین کوواضح طور پر متنبہ کیا جائے کہ اگر بات نہ مانی گئی تو ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔
دوسرے یہ کہ اگر وہ مقاتلین ہیں تو انھیں ہتھیار ڈالنے اور اگر غیر مقاتلین ہیں تو انھیں مطیع ہوکر یا راہِ فرار اختیار کر کے جان، مال اور آبرو بچانے کا پورا موقع دیا جائے۔‘‘ (اشراق، جنوری ۲۰۰۲، ۳۶)

اور ’’غیر مقاتلین‘‘ بقول ان کے وہ ہیں :

’’جو برسر جنگ نہ ہوں یا جنگ کے لیے آمادہ نہ ہوں یا جنگ سے مطلع نہ ہوں یا جنگ کی اہلیت نہ رکھتے ہوں ۔‘‘ (ایضاً )

تو سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان پر حملے کے دوران میں امریکا نے ان شرائط کا لحاظ کیا ہے ؟ اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کے دفاتر پر حملہ ، ہسپتالوں اور شہری آبادی پر بم باری ، خوراک کے گوداموں کو راکھ کا ڈھیر بنانا، قلعہ جھنگی میں قیدیوں پر وحشیانہ بم باری خوست میں حامدکرزئی کو مبارک دینے کے لیے جانے والے قافلے پر محض شک کی وجہ سے بم باری ، ایک پورے گاؤں کو محض اس وجہ سے صفحۂ ہستی سے مٹا دینا کہ وہاں دو تین طالبان کی موجودگی کا شبہ تھا، کیا یہ ساری کارروائی بھی طاقت کے اس اندھا دھند ، وحشیانہ اور غیر انسانی استعمال کو ’’دہشت گردی‘‘ قرار دینے کے لیے کافی نہیں ہے ؟
اور آخری سوال ! کیا اتنے وسیع پیمانے پر معصوم انسانوں کے قتل عام کو محض ضمنی نقصان (Collateral Damage) کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟
منظور الحسن صاحب یقیناً برا نہیں منائیں گے، اگر میں ان ہی کے الفاظ میں ان سے یہ کہنے کی جسارت کروں :

’’چند ہفتے پہلے تو ہو سکتا ہے کہ منظور صاحب اپنی تمناؤں کی روشنی میں اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ، مگر آج حقائق اس قدر برہنہ ہو گئے ہیں کہ وہ چاہتے ہوئے بھی اس کا مثبت جواب نہیں دے سکتے۔‘‘

____________

 



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List