Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
دین میں نئی بات نکالنا | اشراق
Font size +/-

دین میں نئی بات نکالنا



تحقیق و تخریج: محمدعامر گزدر


۱۔عَنْ عَاءِشَۃَ، قَالَتْ:۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’مَنْ أَحْدَثَ فِيْ أَمْرِنَا ہٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ۲ فَہُوَ رَدٌّ‘‘.۳
۲۔إِنَّ عَاءِشَۃَ تَقُوْلُ:۴ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَہُوَ۵ رَدٌّ‘‘.۶
۳۔عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:۷ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ فِيْ خُطْبَتِہِ [یَوْمَ الْجُمُعَۃِ]،۸ یَحْمَدُ اللّٰہَ، وَیُثْنِيْ عَلَیْہِ بِمَا ہُوَ لَہُ أَہْلٌ، ثُمَّ یَقُوْلُ: ’’مَنْ یَہْدِ اللّٰہُ فَلاَ مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلاَ ہَادِيَ لَہُ، إِنَّ أَصَدَقَ الْحَدِیْثِ۹ کِتَابُ اللّٰہِ، وَأَحْسَنَ الْہَدْيِ۱۰ ہَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا، وَکُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ، وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ، وَکُلَّ ضَلَالَۃٍ فِي النَّارِ‘‘.۱۱


۱۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، اُنھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے ہمارے اِس دین میں کوئی نئی بات نکالی، ۱وہ رد کردی جائے گی۔۲
۲۔ سیدہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے دین میں کوئی ایسا کام کیا جس کے بارے میں ہمارا حکم ثابت نہیں ہے،وہ رد کردیا جائے گا۔
۳۔ جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن اپنا خطبہ دیتے تو اللہ کی حمد وثنا کرتے جو اُس کے شایان شان ہے، پھر فرماتے تھے کہ جسے اللہ ہدایت دے، اُسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے اور جس کو اللہ (اپنے قانون کے مطابق )گمراہی میں ڈال دے ،۳ اُ س کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ سب سے سچی بات کتاب الٰہی کی بات ہے اور بہترین طریقہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کا طریقہ ہے اور سب سے بری چیز وہ نئی باتیں ہیں جو دین میں پیدا کی جائیں۔ اِس طرح کی ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں ہوگی۔

ترجمے کے حواشی

۱۔ یعنی کوئی نیا عقیدہ یا عمل دین میں داخل کیا یا پہلے سے موجود کسی عقیدہ وعمل کو کوئی نئی صورت دے دی۔یہ، ظاہر ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے ۔ سورۂ اعراف (۷) کی آیت ۳۳ میں فرمایا ہے کہ اللہ نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ، اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تم اللہ پر افترا کر کے کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔ اِسی کو اصطلاح میں ’بدعت‘ کہا جاتا ہے۔چنانچہ دنیوی معاملات کے بارے میں جس طرح یہ طے ہے کہ ہر وہ چیز جس سے روکا نہیں گیا، مباح ہے، دینی معاملات میں بھی اِسی طرح طے ہے کہ ہر وہ چیز ممنوع ہے جس کے لیے کوئی بنیاد اللہ اور اُس کے رسول کی ہدایت میں موجو دنہیں ہے۔ امامت کا عقیدہ اور اُن لوگوں کی تکفیر جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے، بلکہ اپنے مسلمان ہونے پر اصرار کرتے ہیں ، اِس کی دو نمایاں ترین مثالیں ہیں۔
۲۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اُسے قبول نہیں کرے گا ، وہ اُس کے حضور میں رد کردی جائے گی۔
۳۔ یعنی اپنے اِس قانون کے مطابق کہ اللہ اُنھی لوگوں کو گمراہ کرتا ہے جو اُس کی دی ہوئی فطری ہدایت کی قدر نہیں کرتے اور جانتے بوجھتے حق سے رو گردانی کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۲۶۳۲۹ سے لیا گیا ہے۔ اِس کی راوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں اور اِس کے مراجع یہ ہیں:مسند احمد، رقم۲۶۰۳۳۔ صحیح بخاری، رقم۲۶۹۷۔ صحیح مسلم، رقم۱۷۱۸۔ سنن ابن ماجہ، رقم۱۴۔ سنن ابی داؤد، رقم ۴۶۰۶۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۴۵۹۴۔ منتقی ابن جارود، رقم۱۰۰۲۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۶۴۰۷، ۶۴۰۸۔صحیح ابن حبان، رقم ۲۷۔ سنن دار قطنی، رقم۴۵۳۴۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۳۲۵۳۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۲۰۳۷۱، ۲۱۱۹۶۔معرفۃ السنن والآثار، بیہقی، رقم۱۹۷۷۱۔
۲۔ روایت کے بعض طرق، مثلاً صحیح بخاری، رقم۲۶۹۷میں یہاں ’مَا لَیْسَ مِنْہُ‘ ’’ جس کا ہمارے اِس دین سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘ کے بجاے ’مَا لَیْسَ فِیْہِ‘’’ جو ہمارے اِس دین میں موجود نہیں ہے ‘‘کے الفاظ ہیں۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۶۴۰۷ میں ’مَا لَیْسَ مِنْہُ‘کے بجاے ’مَا لَا یَجُوْزُ‘ ’’جو جائز نہیں ہے ‘‘کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
۳۔مسند طیالسی، رقم ۱۵۲۵میں سیدہ عائشہ ہی سے آپ کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: ’مَنْ فَعَلَ فِيْ أَمْرِنَا مَا لَا یَجُوْزُ فَہُوَ رَدٌّ‘’’ جس نے ہمارے اِس دین میں کوئی ایسا کام کیا جو جائز نہیں ہے،وہ رد کردیا جائے گا‘‘۔
۴۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۲۶۱۹۱سے لیا گیا ہے۔ اس کی راوی سیدہ عائشہ ہیں اور اِس کے مصادر یہ ہیں:مسند اسحاق، رقم ۹۷۹۔ مسند احمد، رقم ۲۴۴۵۰، ۲۵۱۲۸، ۲۵۴۷۲۔صحیح مسلم، رقم۱۷۱۸۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۶۴۰۹، ۶۴۱۰۔سنن دار قطنی، رقم ۴۵۳۶، ۴۵۳۷، ۴۵۳۸۔
۵۔بعض روایتوں،مثلاً مسند احمد، رقم۲۵۱۲۸میں ’فَہُوَ رَدٌّ‘ کے بجاے ’فَأَمْرُہُ رَدٌّ‘’’اُس کا حال یہ ہوگا کہ رد کردیا جائے گا‘‘ کے الفاظ ہیں۔
۶۔ مسند اسحاق، رقم۹۷۹میں سیدہ عائشہ ہی سے آپ کے یہ الفاظ نقل ہوئے: ’مَنْ عَمِلَ بِغَیْرِ عَمَلِنَا فَہُوَ رَدٌّ‘ ’’جس نے دین میں ہمارے عمل سے ہٹ کر کوئی عمل کیا، وہ رد کردیا جائے گا‘‘۔ بعض طرق، مثلاً مسند احمد، رقم ۲۴۴۵۰میں سیدہ ہی سے یہ تعبیربھی روایت ہوئی ہے: ’مَنْ صَنَعَ أَمْرًا عَلٰی غَیْرِ أَمْرِنَا، فَہُوَ مَرْدُوْدٌ‘’’جس نے ہمارے حکم کے بر خلاف دین میں کوئی نئی بات نکالی، وہ رد کردی جائے گی‘‘۔ سنن دار قطنی، رقم۴۵۳۶میں ہے: ’مَنْ فَعَلَ أَمْرًا لَیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَہُوَ مَرْدُوْدٌ‘’’جس نے دین میں کوئی ایسا کام کیا جس کے بارے میں ہمارا حکم ثابت نہیں ہے،وہ رد کردیا جائے گا‘‘۔سنن دار قطنی، رقم ۴۵۳۸میں یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں:’کُلُّ أَمْرٍ لَمْ یَکُنْ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَہُوَ رَدٌ‘’’ دین میں ہر وہ معاملہ جس پر ہمارا حکم نہیں ہے، وہ رد کردیا جائے گا‘‘۔
۷۔ اِس روایت کا متن السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۱۷۹۹سے لیا گیا ہے۔اِس مضمون کی روایت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے علاوہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی ہوئی ہے۔اسلوب وتعبیر کے کچھ فرق کے ساتھ روایت کا یہ مضمون جن مراجع میں نقل ہواہے، وہ یہ ہیں:مسند احمد، رقم۱۴۳۳۴،۱۴۴۳۱،۱۴۹۸۴۔ سنن دارمی، رقم۲۱۲۔ صحیح مسلم، رقم ۸۶۷۔ سنن ابن ماجہ، رقم۴۵۔ مسند بزار، رقم ۲۰۷۶۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۱۵۷۸۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۵۸۶۱۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۲۱۱۱، ۲۱۱۹۔ منتقی ابن جارود، رقم ۲۹۷، ۲۹۸۔صحیح ابن خزیمہ، رقم ۱۷۸۵۔صحیح ابن حبان، رقم۱۰۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۹۴۱۸۔ مستخرج ابی نعیم، رقم ۱۹۵۱، ۱۹۵۲، ۱۹۵۳۔ مسند شہاب، رقم۱۳۲۵۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۵۷۵۳،۵۷۹۸، ۵۸۰۰۔معرفۃ السنن والآثار، بیہقی، رقم ۶۴۹۳۔
۸۔صحیح مسلم، رقم۸۶۷۔
۹۔بعض روایات،مثلاً مسند احمد،رقم ۱۴۴۳۱میں یہاں’أَحْسَنَ الْحَدِیْثِ‘ ’’سب سے اچھی‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد،رقم ۱۴۹۸۴میں اِس جگہ ’إِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ‘ ’’بلا شبہ، بہترین بات ‘‘کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۹۴۱۸میں یہاں’أَفْضَلَ الْحَدِیْثِ‘’’ سب سے بہتر بات ‘‘کے الفاظ ہیں، جبکہ مسند بزار، رقم۲۰۷۶میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اِس جگہ ’وأحسن القصص‘’’اور بہترین باتیں‘‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
۱۰۔ بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم۱۴۳۳۴میں یہاں ’وَأَحْسَنَ الْہَدْيِ‘’’اور سب سے اچھا اُسوہ ‘‘کے بجاے ’وَإِنَّ أَفْضَلَ الْہَدْيِ‘’’اور بلاشبہ، بہترین عمل ‘‘کے الفاظ منقول ہیں۔اِن دونوں کا مفہوم کم وبیش ایک ہی ہے۔ جبکہ بعض روایات، مثلاً مسند احمد، رقم ۱۴۹۸۴میں اِس جگہ ’وَخَیْرَ الْہَدْيِ ‘’’اور بہترین طریقہ ‘‘کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
۱۱۔مسند شہاب، رقم ۱۳۲۵میں عبد اللہ بن مسعود کا بیان ہے:’کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُنَا فَیَقُوْلُ: ’إِنَّمَا ہُمَا اثْنَانِ الْہَدْيُ وَالْکَلاَمُ، فَأَصْدَقُ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ، وَأَحْسَنُ الْہَدْيِ ہَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا، وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ‘’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرماتے تھے:عمل اور بات، یہی دو چیزیں ہیں۔چنانچہ سب سے سچی بات کتاب الٰہی کی بات ہے اور بہترین عمل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کا عمل ہے اور سب سے بری چیز وہ نئی باتیں ہیں جو دین میں پیدا کی جائیں۔ اِس طرح کی ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘بعض دوسرے مواقع پربھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو دین میں بدعت کے حوالے سے اِسی طرح کی تنبیہ فرمائی ہے۔ مثال کے طور پر ایک موقع پر خطبہ دیتے ہوئے آپ نے فرمایا: ’إِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ، فَإِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ، وَإِنَّ کُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ‘’’ تم دین میں نئی باتیں نکالنے سے باز رہنا، اِس لیے کہ اِس طرح کی ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے‘‘ ۔دیکھیے:مسند احمد، رقم ۱۷۱۴۴۔

المصادر والمراجع

ابن الجارود، أبو محمد عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۰۸ھ/۱۹۸۸م).المنتقی من السنن المسندۃ. ط۱. تحقیق: عبد اللّٰہ عمر البارودي. بیروت: مؤسسۃ الکتاب الثقافیۃ.
ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ).المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۱۵ھ). الإصابۃ في تمییز الصحابۃ. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ھ). فتح الباري شرح صحیح البخاري.د.ط. تحقیق: أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.
ابن خزیمۃ، أبو بکر محمد بن إسحاق، النیسابوري. (د.ت). صحیح ابن خزیمۃ. د.ط. تحقیق: د. محمد مصطفٰی الأعظمي. بیروت: المکتب الإسلامي.
ابن راہویہ، إسحاق بن إبراہیم بن مخلد بن إبراہیم الحنظلي المروزي.(۱۴۱۲ھ/ ۱۹۹۱م). مسند إسحاق بن راہویہ. ط۱. تحقیق: د. عبد الغفور بن عبد الحق البلوشي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ الإیمان.
ابن ماجہ، أبو عبد اللّٰہ محمد القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجہ. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.
أبو داؤد، سلیمان بن الأشعث، السِّجِسْتاني. (د.ت). سنن أبي داؤد. د.ط.تحقیق: محمد محیي الدین عبد الحمید. بیروت: المکتبۃ العصریۃ.
أبو عوانۃ، الإسفراییني، یعقوب بن إسحاق، النیسابوري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸م). مستخرج أبي عوانۃ. ط۱. تحقیق: أیمن بن عارف الدمشقي. بیروت: دار المعرفۃ.
أبو نعیم، أحمد بن عبد اللّٰہ، الأصبہاني. (۱۴۱۷ھ/۱۹۹۶م). المسند المستخرج علی صحیح مسلم. ط۱. تحقیق: محمد حسن محمد حسن إسماعیل الشافعي. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
أبو یعلٰی، أحمد بن علي، التمیمي، الموصلي. مسند أبي یعلٰی. ط۱. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.
أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد اللّٰہ، الشیباني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.
البزار، أبو بکر أحمد بن عمرو العتکي. (۲۰۰۹م). مسند البزار. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبري عبد الخالق الشافعي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۰ھ/۱۹۸۹م). السنن الصغرٰی. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. کراتشي: جامعۃ الدراسات الإسلامیۃ.
البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳م). السنن الکبرٰی. ط۳. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۲ھ؍۱۹۹۱م). معرفۃ السنن والآثار. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. القاہرۃ: دار الوفاء.
الدارقطني، أبو الحسن، علي بن عمر بن أحمد البغدادي.(۱۴۲۴ھ/ ۲۰۰۴م). السنن. ط۱. تحقیق وتعلیق: شعیب الأرنؤوط، حسن عبد المنعم شلبي، عبد اللطیف حرز اللّٰہ، أحمد برہوم. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
الدارمي، أبو محمد عبد اللّٰہ بن عبد الرحمٰن، التمیمي. (۱۴۱۲ھ/ ۲۰۰۰م). سنن الدارمي. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد الداراني. الریاض: دار المغني للنشر والتوزیع.
الذہبي، شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.
الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.
الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۱۳ھ/۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ ۔ مؤسسۃ علوم القرآن.
الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.
الطیالسی، أبو داؤد سلیمان بن داؤد البصري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۹م). مسند أبي داؤد الطیالسي. ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکي. مصر: دار ہجر.
القضاعي، أبو عبد اللّٰہ محمد بن سلامۃ بن جعفر. (۱۴۰۷ھ/۱۹۸۶م). مسند الشہاب. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
المزي، أبو الحجاج، یوسف بن عبد الرحمٰن القضاعي الکلبي. (۱۴۰۰ھ / ۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: الدکتور بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مسلم بن الحجاج، النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
النووي، یحیٰی بن شرف، أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List