Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
دین میں آسانی (2/2) | اشراق
Font size +/-

دین میں آسانی (2/2)

دین میں آسانی (1/2)

___ ۷ ___

عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ، قَالَ:۱ أَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِيْ حَتَّی انْتَہَیْنَا إِلٰی سُدَّۃِ الْمَسْجِدِ۲ فَإِذَا رَجُلٌ [یُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ،]۳ یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ، وَیَرْکَعُ وَیَسْجُدُ، فَقَالَ لِيْ: ’’مَنْ ہٰذَا؟‘‘۴ فَقُلْتُ: ہٰذَا فُلاَنٌ فَجَعَلْتُ أُطْرِیْہِ، وَأَقُوْلُ: ہٰذَا ہٰذَا،۵ [وَہٰذَا مِنْ أَحْسَنِ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ، أَوْ قَالَ: أَکْثَرِ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ صَلٰوۃً،]۶ فَقَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’[أَمْسِکْ]۷ لَا تُسْمِعْہُ فَتُہْلِکَہُ‘‘، ثُمَّ انْطَلَقَ بِيْ حَتّٰی بَلَغَ بَابَ حُجْرَۃٍ،۸ ثُمَّ أَرْسَلَ یَدَہُ مِنْ یَدِيْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’[إِنَّ]۹ خَیْرَ دِیْنِکُمْ أَیْسَرُہُ‘‘۱۰ قَالَہَا ثَلَاثًا. وَعَنْہُ فِيْ رِوَایَۃٍ قَالَ: [’’إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی رَضِيَ لِہٰذِہِ الْأُمَّۃِ الْیُسْرَ، وَکَرِہَ لَہَا الْعُسْرَ‘‘، قَالَہَا ثَلَاثًا].۱۱
مِحجَن بن اَدرَع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا، یہاں تک کہ ہم مسجد کے دروازے تک آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں نماز پڑھ رہا ہے اور رکوع پر رکوع اور سجدے پر سجدہ کیے جارہا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو مجھ سے پوچھا: یہ کون ہے؟میں نے عرض کیا:یہ فلاں ہے اور اُس کی حد سے زیادہ تعریف کرنا شروع کی۔ میں نے کہا: یہ تو یہ ہے اور یہ مدینہ کے لوگوں میں سب سے اچھی یا کہا کہ سب سے زیادہ نماز کا اہتمام کرنے والوں میں سے ہے۔اِس پر آپ نے مجھے ٹوکا اور فرمایا:رکو، اُس کو مت سناؤ، ورنہ اُسے ہلاکت میں ڈال دو گے۔۱ پھر مجھے لے کر آگے بڑھے، یہاں تک کہ (مسجد کے حجروں میں سے)ایک حجرے کے دروازے تک پہنچے، اِس کے بعد میرا ہاتھ چھوڑدیا اور اللہ کے رسول نے فرمایا:تمھارا بہترین دین وہی ہے جو آسان تر ہو۔۲ آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی ۔ اِنھی مِحجَن بن اَدرَع سے مروی ہے کہ آپ نے اِس موقع پر فرمایا:اللہ نے اِس اُمت کے لیے آسانی کو پسند فرمایا اور مشکل کو نا پسند کیا ہے۔آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔

_____

۱۔ اِس لیے کہ انسان انسان ہی ہے۔اِس طرح کی مبالغہ آمیز تعریفیں بعض اوقات اُس میں ایسا کبر پیدا کردیتی ہیں کہ وہ دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا اوراِس طرح بندگی کے احساس ہی سے محروم ہوجاتا ہے۔
۲۔ دین سے مراد یہاں دینی رویہ ہے جو کوئی شخص دین کو سمجھ کر اُس پر عمل کے لیے اختیار کرتا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند طیالسی، رقم۱۳۹۲سے لیا گیا ہے۔ اِس کے علاوہ اِنھی مِحجَن بن اَدرع رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ اسلوب کے کچھ فرق کے ساتھ جن مراجع میں نقل ہوا ہے، وہ یہ ہیں: مسند ابن ابی شیبہ، رقم۵۹۶۔مسند احمد، رقم۱۸۹۷۶، ۱۸۹۷۷، ۲۰۳۴۷، ۲۰۳۴۸، ۲۰۳۴۹۔ الادب المفرد، بخاری، رقم ۳۴۱۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۷۰۴، ۷۰۵، ۷۰۷۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۵۷۳میں یہی واقعہ کچھ فرق کے ساتھ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں بھی منقول ہے۔
۲۔ مسند احمد، رقم۲۰۳۴۷میں یہاں یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں: ’ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِبَابِ الْمَسْجِدِ‘ ’’پھر ہم آگے بڑھے، یہاں تک کہ جب ہم مسجد کے دروازے کے پاس پہنچے‘‘۔
۳۔ مسند احمد، رقم۲۰۳۴۹۔
۴۔ مسند احمد، رقم۲۰۳۴۷ میں یہاں یہ الفاظ منقول ہیں: ’قَالَ: ’أَتَقُوْلُہُ صَادِقًا‘؟‘ ’’ آپ نے فرمایا:کیا تمھارے خیال میں یہ سچا آدمی ہے؟‘‘۔
۵۔ مسند احمد، رقم۱۸۹۷۶میں اِس جگہ یہ الفاظ ہیں: ’فَأَثْنَیْتُ عَلَیْہِ خَیْرًا‘ ’’تو میں نے اُس کی خوب تعریف کی‘‘۔
۶۔ مسند احمد، رقم۲۰۳۴۷۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۷۰۷میں یہاں یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں: ’وَہٰذَا أَعْبَدُ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ‘’’اور یہ مدینہ کے لوگوں میں سب سے بڑھ کر عبادت گزار ہے‘‘۔
۷۔ الادب المفرد، بخاری، رقم۳۴۱۔مسند احمد، رقم۱۸۹۷۶میں یہاں’أَمْسِکْ‘’’ رکو‘‘ کے بجاے ’اُسْکُتْ‘ ’’خاموش ہوجاؤ‘‘کا لفظ نقل ہوا ہے۔جب کہ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۷۰۷میں یہاں ’اتَّقِ‘’’ احتیاط کرو ‘‘کا لفظ ہے۔
۸۔مسند احمد، رقم ۱۸۹۷۶ میں اِس جگہ یہ الفاظ منقول ہیں: ’ثُمَّ أَتٰی حُجْرَۃَ امْرَأَۃٍ مِنْ نِسَاءِہِ‘ ’’پھر آپ اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کے حجرے کے پاس پہنچے‘‘،جب کہ مسند احمد، رقم۲۰۳۴۹میں اِس کے بجاے یہ الفاظ ہیں:’حَتّٰی إِذَا کُنَّا عِنْدَ حُجَرِہِ‘ ’’یہاں تک کہ جب ہم آپ کے حجروں کے پاس پہنچے‘‘۔
۹۔ مسند احمد، رقم ۲۰۳۴۹۔
۱۰۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ المعجم الصغیر، طبرانی، رقم۱۰۶۶اورمسند شہاب، رقم۱۲۲۵میں سیدنا انس بن مالک سے بھی نقل ہوئے ہیں، لیکن وہاں اِن کا پس منظر مذکور نہیں ہے۔مسند احمد، رقم۱۵۹۳۶میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کسی بدو سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ یہ کلمات دہراتے ہوئے سنا: ’إِنَّ خَیْرَ دِیْنِکُمْ أَیْسَرُہُ، إِنَّ خَیْرَ دِیْنِکُمْ أَیْسَرُہُ‘ ’’تمھارا بہترین دین وہی ہے جو آسان تر ہو، تمھارا بہترین دین وہی ہے جو آسان تر ہو‘‘۔
۱۱۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۷۰۷۔ مسند احمد، رقم۲۰۳۴۷میں اِس جگہ یہ الفاظ ہیں: ’إِنَّکُمْ أُمَّۃٌ أُرِیْدَ بِکُمُ الْیُسْرُ‘ ’’ تم ایک ایسی امت ہو جس کے ساتھ آسانی کاارادہ کیا گیا ہے‘‘۔

المصادر والمراجع

ابن أبي شیبۃ، أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد العبسي. (۱۴۰۹ھ). المصنف في الأحادیث والآثار. ط۱. تحقیق: کمال یوسف الحوت. الریاض: مکتبۃ الرشد.
ابن الجارود، أبو محمد عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۰۸ھ/ ۱۹۸۸م).المنتقی من السنن المسندۃ. ط۱. تحقیق: عبد اللّٰہ عمر البارودي. بیروت: مؤسسۃ الکتاب الثقافیۃ.
ابن الجَعْد، علي بن الجَعْد بن عبید الجَوْہَري البغدادي (۱۴۱۰ھ/ ۱۹۹۰م). مسند ابن الجعد. ط۱. تحقیق: عامر أحمد حیدر. بیروت: مؤسسۃ نادر.
ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ).المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ھ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. د.ط. بیروت: دارالمعرفۃ.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.
ابن خزیمۃ، أبو بکر محمد بن إسحاق، النیسابوري. (د.ت). صحیح ابن خزیمۃ. د.ط. تحقیق: د. محمد مصطفٰی الأعظمي. بیروت: المکتب الإسلامی.
ابن عبد البر، أبو عمر یوسف بن عبد اللّٰہ القرطبي. (۱۴۱۲ھ ؍ ۱۹۹۲م). الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب. ط۱. تحقیق: علي محمد البجاوي. بیروت: دار الجیل.
ابن ماجہ، أبو عبد اللّٰہ محمد القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجہ. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.
أبو داؤد، سلیمان بن الأشعث، السِّجِسْتاني. (د.ت). سنن أبي داؤد. د.ط.تحقیق: محمد محیي الدین عبد الحمید. بیروت: المکتبۃ العصریۃ.
أبو عوانۃ، الإسفراییني، یعقوب بن إسحاق النیسابوري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸م). مستخرج أبي عوانۃ. ط۱. تحقیق: أیمن بن عارف الدمشقي. بیروت: دار المعرفۃ.
أبو یعلٰی، أحمد بن علي، التمیمي، الموصلي. مسند أبي یعلٰی. ط۱. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.
أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد اللّٰہ، الشیباني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي.(۱۴۰۹ھ/ ۱۹۸۹م). الأدب المفرد. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار البشائر الإسلامیۃ.
البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.
البزار، أبو بکر أحمد بن عمرو العتکي. (۲۰۰۹م). مسند البزار. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبري عبد الخالق الشافعي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۰ھ؍۱۹۸۹م). السنن الصغرٰی. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. کراتشي: جامعۃ الدراسات الإسلامیۃ.
البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳م). السنن الکبرٰی. ط۳. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۲ھ؍۱۹۹۱م). معرفۃ السنن والآثار. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. القاہرۃ: دار الوفاء.
الترمذي، أبو عیسٰی، محمد بن عیسٰی. (۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵م). سنن الترمذي. ط۲. تحقیق و تعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض.مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفٰی البابي الحلبي.
الحمیدي، أبو بکر عبد اللّٰہ بن الزبیر بن عیسٰی القرشي الأسدي. (۱۹۹۶م). مسند الحمیدي. ط۱. تحقیق وتخریج:حسن سلیم أسد الدَّارَانيّ. دمشق: دار السقا.
الدارمي، أبو محمد عبد اللّٰہ بن عبد الرحمٰن، التمیمي. (۱۴۱۲ھ/۲۰۰۰م). سنن الدارمي. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد الداراني. الریاض: دار المغني للنشر والتوزیع.
الذہبي، شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.
الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.
الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۱۳ھ؍۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ ۔ مؤسسۃ علوم القرآن.
الرُّویاني، أبو بکر محمد بن ہارون. (۱۴۱۶ھ). المسند. ط۱. تحقیق: أیمن علي أبو یماني. القاہرۃ: مؤسسۃ قرطبۃ.
السیوطي، جلال الدین، عبد الرحمٰن بن أبي بکر. (۱۴۱۶ھ/۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط۱. تحقیق وتعلیق: أبو اسحٰق الحویني الأثري.الخبر: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الشافعي، محمد بن إدریس، أبو عبد اللّٰہ، القرشي، المکي. (۱۳۷۰ھ/ ۱۹۵۱م). مسند الإمام الشافعي. د.ط. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
الشوکاني، محمد بن علي، الیمني. (۱۴۱۳ھ /۱۹۹۳م). نیل الأوطار شرح منتقی الأخبار. ط۱. تحقیق: عصام الدین الصبابطي. دار الحدیث: مصر.
الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۴م). مسند الشامیین. ط۱. تحقیق: حمدي بن عبدالمجید السلفي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.
الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). المعجم الصغیر. ط۱. تحقیق: محمد شکور محمود الحاج أمریر. بیروت: المکتب الإسلامي.
الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.
الطیالسي، أبو داؤد سلیمان بن داؤد البصري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۹م). مسند أبي داؤد الطیالسي. ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکي. مصر: دار ہجر.
عبد الحمید بن حمید بن نصر الکَسّي، أبو محمد. (۱۴۰۸ھ/ ۱۹۸۸م). المنتخب من مسند عبد بن حمید. ط۱. تحقیق: صبحي البدري السامراءي، محمود محمد خلیل الصعیدي. القاہرۃ: مکتبۃ السنۃ.
عبد الرزاق بن ہمام، أبو بکر، الحمیري، الصنعاني. (۱۴۰۳ھ). المصنف. ط۲. تحقیق: حبیب الرحمٰن الأعظمي. الہند: المجلس العلمي.
القضاعي، أبو عبد اللّٰہ محمد بن سلامۃ بن جعفر.(۱۴۰۷ھ/ ۱۹۸۶م). مسند الشہاب. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مسلم بن الحجاج، النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
النووي، یحیٰی بن شرف، أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

____________



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List