Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
دین میں آسانی (1/2) | اشراق
Font size +/-

دین میں آسانی (1/2)

تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

___ ۱ ___

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:۱ قِیْلَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَدْیَانِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ؟ قَالَ: ’’الْحَنِیْفِیَّۃُ السَّمْحَۃُ‘‘.۲
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاکہ اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ دین کون سا ہے؟۱ آپ نے فرمایا:جو سب سے یک سو ہو کر صرف اللہ کے لیے ہواور جس میں وسعت ہو۔۲

_____

۱۔ اللہ کا دین تو ایک ہی ہے، لہٰذا دین سے مراد یہاں اُس کی وہ صورتیں ہیں جو لوگوں نے اپنی تعبیرات کے لحاظ سے پیدا کرلی ہیں، جیسے یہودیت اور نصرانیت وغیرہ۔
۲۔ یہ اسلام کی تعریف ہے، جس طرح کہ خدا کے پیغمبروں نے اُسے پیش کیا ہے۔چنانچہ قرآن سے اُس کی جو صورت سامنے آتی ہے، اُس میں زمین وآسمان کے پروردگار کے لیے وہی یک سوئی اور علم وعمل کے لحاظ سے وہی وسعت ہے جس کا ذکر روایت میں ہوا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۲۱۰۷سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں۔ الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ یہی مضمون ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوا ہے۔مسند احمد کے علاوہ اِس کے مراجع یہ ہیں: مسند عبد بن حمید، رقم۵۶۹۔الادب المفرد، بخاری، رقم ۲۸۷۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۱۵۷۲۔عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی اِس مضمون کی روایتیں المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۷۹۴ اورمسند شہاب، رقم۹۷۷میں دیکھ لی جاسکتی ہیں۔
۲۔عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق ایک دوسرے موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا: ’إِنَّ دِیْنَ اللّٰہِ الْحَنِیْفِیَّۃُ السَّمْحَۃُ‘ ’’اللہ کا دین وہ ہے جس میں صرف اللہ کے لیے یک سوئی ہوتی ہے اور جس میں وسعت ہے‘‘۔دیکھیے:المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۷۹۴۔

___ ۲ ___

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ:۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’إِنَّ ہٰذَا الدِّیْنَ یُسْرٌ، وَلَنْ یُشَادَّ الدِّیْنَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَہُ، فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا، وَأَبْشِرُوْا، وَیَسِّرُوْا، وَاسْتَعِیْنُوْا بِالْغَدْوَۃِ وَالرَّوْحَۃِ،۲ وَشَيْءٍ مِنَ الدَّلْجَۃِ‘‘.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اِس میں شبہ نہیں کہ دین آسان ہے، اِس میں شدت اختیار کر کے جو شخص بھی اِسے پچھاڑنے کی کوشش کرے گا ،۱ یہ اُس کو عاجز کردے گا۔ سو راہ راست کی رہنمائی کرو اور میانہ روی اختیار کرو اور لوگوں کو بشارت دواور اُن کے لیے آسانی پیدا کرو اور صبح وشام اور رات کے کچھ حصے میں اللہ سے مدد مانگتے رہو۔۲

_____

۱۔ یعنی عبادات میں غلو اختیارکرے گا اور اِس باب میں دین کے تقاضے خود دین کے مقرر کردہ حدود سے بڑھ کر پورے کرنے کی کوشش کرے گا ، جیسے رات بھر نفل پڑھنا یا ہمیشہ روزہ رکھنایا دنیا کے سب کام چھوڑ کر رہبانیت اختیار کر لینا وغیرہ۔
۲۔ اِس لیے مدد مانگتے رہو کہ وہ تمھیں راہ راست پر رکھے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۰۳۴سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔سنن نسائی کے علاوہ اِس کے مصادر یہ ہیں:صحیح بخاری، رقم۳۹۔ صحیح ابن حبان، رقم ۳۵۱۔ مسند شہاب، رقم ۹۷۶۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۴۷۴۱۔
۲۔صحیح ابن حبان، رقم۳۵۱میں یہاں’وَالرَّوْحَۃِ‘ کے بجاے ’وَالرَّوَاحِ‘ کا لفظ روایت ہوا ہے۔ معنی کے لحاظ سے دونوں مترادف ہیں۔

___ ۳ ___

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۱ ’’یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا، وَسَکِّنُوْا۶وَلَا تُنَفِّرُوْا‘‘.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، اُنھیں مشکل میں نہ ڈالواور اُنھیں اطمینان دلاؤ، اُن کو بھگاؤ نہیں۔۱

_____

۱۔ مطلب یہ ہے کہ اُن کے سامنے دین کو اِس طرح مشکل بنا کر پیش نہ کرو کہ وہ اُس سے گریز وفرار کے راستے تلاش کرنے لگیں۔یہ اِس لیے فرمایا کہ ایک ہی چیز بعض اعتبار سے سہل اور بعض اعتبار سے مشکل ہوتی ہے۔ چنانچہ دعوت کی ابتدا میں اگر اُس کے وہی پہلو نمایاں کیے جائیں جو بے گانہ سے بے گانہ لوگوں کے لیے بھی اپنے اندر دل آویزی کا بہت کچھ سامان رکھتے ہیں تو بعد میں توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے طبائع سے بظاہر ناموافق چیزوں کو بھی بتدریج قبول کرلیں گے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند طیالسی، رقم۲۱۹۹سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا انس رضی اللہ عنہ ہیں۔ مسند طیالسی کے علاوہ اِس کے مراجع یہ ہیں:مسند ابن جعد، رقم۱۴۰۴۔مسند احمد، رقم۱۲۳۳۳، ۱۳۱۷۵۔صحیح بخاری، رقم ۶۹، ۶۱۲۵۔ الادب المفرد، بخاری، رقم۴۷۳۔صحیح مسلم، رقم ۱۷۳۴۔مسند بزار، رقم۷۳۷۶۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۵۸۵۹۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۴۱۷۲۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۶۵۵۴، ۶۵۵۵، ۶۵۵۶، ۶۵۵۷۔ مسند شہاب، رقم ۶۲۴، ۶۲۵۔
۲۔ بعض طرق، مثلاً صحیح بخاری، رقم۶۹میں یہاں’وَسَکِّنُوْا‘ ’’اور تم لوگوں کو اطمینان دلاؤ‘‘ کے بجاے ’وَبَشِّرُوْا‘ ’’اورتم لوگوں کو خوش خبری دو‘‘کا لفظ نقل ہوا ہے۔

___ ۴ ___

عَنْ أَبِيْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ، قَالَ:۱ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِہِ فِيْ بَعْضِ أَمْرِہِ قَالَ: ’’بَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا، وَیَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا‘‘.
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ میں سے کسی کو اپنے کسی کام کے حوالے سے کہیں بھیجتے تو فرماتے تھے: تم لوگوں کو خوش خبری دو، اُنھیں بھگاؤ نہیں اور اُن کے لیے آسانی پیدا کرو، اُنھیں مشکل میں نہ ڈالو۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح مسلم، رقم۱۷۳۲سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہیں۔صحیح مسلم کے علاوہ یہ اِن مراجع میں دیکھ لی جاسکتی ہے:مسند احمد، رقم ۱۹۵۷۲۔ سنن ابی داؤد، رقم ۴۸۳۵۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۷۳۱۹۔

___ ۵ ___

عَنْ أَبِيْ مُوْسَی الْأَشْعَرِيِّ،۱ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَہُ وَمُعَاذًا إِلَی الْیَمَنِ، فَقَالَ [لَہُمَا]:۲ ’’[انْطَلِقَا فَادْعُوَا النَّاسَ إِلَی الْإِسْلَامِ،]۳ یَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا وَلاَ تَخْتَلِفَا‘‘.۴
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو دونوں سے کہا:تم لوگ جاؤ اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دو اور (یاد رکھو، اپنی اِس دعوت میں)اُن کے لیے آسانی پیدا کرنا، اُنھیں مشکل میں نہ ڈالنااور اُنھیں بشارت دینا ، اُن کو بھگانا نہیں اور ایک دوسرے کی بات ماننا ، آپس میں اختلاف نہ کرنا۔۱

_____

۱۔ اِس سے مراد وہ اختلاف ہے جو ضدم ضدا کی صورت اختیار کر لے اور جس کے نتیجے میں لوگ اجتماعی معاملات کو بھی حق وباطل کا مسئلہ بنا کر کسی نظم کے تحت کام کرنے سے انکار کردیں۔اِس طرح کی صورت حال پیدا ہوجائے تو تجربہ یہی ہے کہ تمام کوششیں پھر ایک دوسرے کی نفی ہی میں صرف ہونے لگتی ہیں اور لوگ جس مقصد کے لیے اکٹھے ہوئے تھے، وہ بالکل پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح مسلم، رقم۱۷۳۳سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی تنہا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہیں۔الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ جن مراجع میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں: مسند طیالسی، رقم۴۹۸۔مصنف عبد الرزاق، رقم ۵۹۵۹۔مسند ابن جعد، رقم۵۳۶۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۶۴۸۱۔ مسند احمد، رقم۱۹۶۹۹، ۱۹۷۴۲۔ صحیح بخاری، رقم۳۰۳۸، ۴۳۴۴، ۶۱۲۴۔صحیح مسلم، رقم۱۷۳۳، ۲۰۰۱۔مسند بزار، رقم۳۱۱۹، ۳۱۵۱، ۳۱۵۳، ۳۱۸۶۔ مسند رویانی، رقم ۴۹۹۔مستخرج ابی عوانہ، رقم ۶۵۵۹، ۶۵۶۰، ۶۵۶۱، ۷۹۵۱۔صحیح ابن حبان، رقم۵۳۷۳، ۵۳۷۶۔ المعجم الاوسط، رقم ۴۳۲۱۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۶۵۹۹، ۱۷۳۶۳، ۱۷۳۷۷،۲۰۱۵۰۔
۲۔مسند احمد، رقم۱۹۷۴۲۔
۳۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۶۵۶۱۔
۴۔ مصنف عبد الرزاق، رقم۵۹۵۹میں اِس جگہ ’وَلاَ تَخْتَلِفَا‘ کے بجاے ’وَلَا تَفْتَرِقَا‘ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ یہ دونوں ایک ہی مفہوم کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔مسند بزار، رقم۳۱۵۱میں، البتہ یہاں ’وَلَا تَعَاصَیَا‘ ’’اور تم دونوں آپس میں مخالفت پر نہ اُتر آنا‘‘ کے الفاظ منقول ہیں۔
مسند رویانی، رقم۴۹۹میں ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ اِن الفاظ میں روایت ہوا ہے: ’أَوْصَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ بَعَثَنَا إِلَی الْیَمَنِ أَنَا وَمُعَاذًا نُعَلِّمُہُمُ السُّنَّۃَ، قَالَ: وَأَوَصَانَا حِیْنَ أَرَدْنَا نَتَوَجَّہُ قَالَ: ’’یَسِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا أَوْ یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا‘‘.
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور معاذ کو یمن بھیجتے ہوئے یہ وصیت فرمائی تھی کہ ہم لوگوں کو سنت کی تعلیم دیں اور روانگی کے موقع پر ہم دونوں کو ہدایات دیتے ہوئے آپ نے فرمایا تھا: لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، اُن کو بھگانا نہیں یا آپ نے فرمایا تھا: لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، اُنھیں مشکل میں نہ ڈالنا‘‘۔ بعض طرق، مثلاً صحیح ابن حبان، رقم۵۳۷۳ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی ارشاد اِس اسلوب میں روایت ہوا ہے: ’بَشِّرَا وَیَسِّرَا، وَعَلِّمَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا‘ ’’تم دونوں، لوگوں کو خوش خبری دینا اور اُن کے لیے آسانی پیدا کرنا، اُن کو بھگانا نہیں اور آپس میں موافقت سے رہنا‘‘۔

___ ۶ ___

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:۱ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ۲ الْمَسْجِدَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّی [رَکْعَتَیْنِ]،۳ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِہِ، قَالَ: اللّٰہُمُّ ارْحَمْنِی وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا،۴ فَالْتَفَتَ إِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، [فَضَحِکَ،]۵ فَقَالَ: ’’لَقَدْ تَحَجَّرْتَ۶ وَاسِعًا‘‘، فَمَا لَبِثَ أَنْ بَالَ فِيْ [نَاحِیَۃِ]۷ الْمَسْجِدِ،۸ فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَیْہِ،۹ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: [’’دَعُوْہُ]،۱۰ أَہْرِیْقُوْا عَلَیْہِ سَجْلاً مِنْ مَاءٍ، أَوْ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ‘‘۱۱ [فَأُہْرِیْقَ عَلَیْہِ]،۱۲ ثُمَّ قَالَ: ’’إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُیَسِّرِیْنَ، وَلَمْ تُبْعَثُوْا مُعَسِّرِیْنَ‘‘، [وَعَنْہُ فِيْ رِوَایَۃٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’عَلِّمُوْا، وَیَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا‘‘].۱۳ [فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِہَ فِي الْإِسْلَامِ: فَقَامَ إِلَيَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، [بِأَبِيْ ہُوَ وَأُمِّيْ،]۱۴ فَلَمْ یُؤَنِّبْنِيْ، وَلَمْ یَسُبَّنِيْ، وَقَالَ: ’’إِنَّمَا بُنِيَ ہٰذَا الْمَسْجِدُ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَالصَّلٰوۃِ، وَإِنَّہُ لَا یُبَالُ فِیْہِ‘‘].۱۵
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی مسجد میں داخل ہوا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ وہ کھڑا ہوا اور اُس نے دو رکعت نماز پڑھی۔پھر جب نماز سے فارغ ہوا تو دعا کرنے لگا کہ پروردگار، مجھ پر رحم کر اور محمد پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر اُس کی طرف متوجہ ہوئے اورہنس پڑے، پھر فرمایا:تم نے وسعتوں کو تنگ ناے بنادیا۔پھر زیادہ دیر نہیں گزری کہ اُس نے مسجد ہی میں ایک طرف جاکر پیشاب کردیا۔لوگ یہ دیکھ کر اُس کی طرف لپکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِس کو چھوڑ دو اور اُس جگہ پانی کا ایک ڈول بہادو۔چنانچہ پانی بہادیا گیا۔اِس کے بعد آپ نے فرمایا:تم آسانی پیدا کرنے کے لیے اُٹھائے گئے ہو، لوگوں کو مشکل میں ڈالنے کے لیے نہیں اُٹھائے گئے۔ ابو ہریرہ ہی سے ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ اِس موقع پرآپ نے فرمایا: لوگوں کو سکھاؤ اور اُن کے لیے آسانی پیدا کرو ، اُنھیں مشکل میں نہ ڈالو ۔ یہی دیہاتی جب اسلام لانے کے بعد سمجھ بوجھ والا ہوگیا تو اِس نے خود بیان کیا کہ مجھ سے یہ حرکت سرزد ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میرے پاس آکر کھڑے ہوئے، لیکن نہ مجھ کو جھڑکا، نہ برا بھلا کہا۔ بلکہ فرمایا:یہ مسجد خدا کی یاد اور اُس کی نمازکے لیے بنائی گئی ہے، اِس میں پیشاب نہیں کیا کرتے۔۱

_____

۱۔ سبحان اللہ، کیا حلم، بردباری، محبت ، شفقت اور عفوو درگذر ہے جس کی تعلیم خدا کے پیغمبر نے اپنے اِس رویے سے اپنے ماننے والوں کو دی ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند حمیدی، رقم۹۶۷سے لیا گیا ہے۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ واقعہ الفاظ و اسلوب اور اجمال وتفصیل کے فرق کے ساتھ انس بن مالک ، عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہم سے بھی روایت ہوا ہے۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مسند حمیدی کے علاوہ یہ جن مراجع میں نقل ہوا ہے، وہ یہ ہیں:مسند شافعی، رقم۲۲۔ مسند احمد، رقم۷۲۵۵، ۷۷۹۹، ۷۸۰۰، ۱۰۵۳۳۔صحیح بخاری، رقم۲۲۰، ۶۱۲۸۔سنن ابن ماجہ، رقم ۵۲۹۔ سنن ابی داؤد، رقم ۳۸۰۔سنن ترمذی، رقم۱۴۷۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۵۴۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۶، ۳۳۰۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۵۸۷۶۔ منتقی ابن جارود، رقم ۱۴۱۔ صحیح ابن خزیمہ، رقم۲۹۷، ۲۹۸۔ صحیح ابن حبان، رقم ۹۸۵، ۱۳۹۹، ۱۴۰۰۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۴۲۴۰۔ معرفۃ السنن ولآثار، بیہقی، رقم۵۰۵۵۔ مسند شامیین، رقم ۱۷۵۵، ۳۱۱۹۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے طریق سے اِس واقعے کے مصادر یہ ہیں: مسند شافعی، رقم ۲۱۔مسند حمیدی، رقم ۱۲۳۰۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۰۳۰۔ مسند احمد، رقم۱۲۰۸۲، ۱۲۱۳۲، ۱۲۷۰۹، ۱۲۹۸۴، ۱۳۳۶۸۔مسند عبد بن حمید، رقم۱۳۸۱۔سنن دارمی، رقم۷۶۷۔ صحیح بخاری، رقم۲۱۹، ۲۲۱، ۶۰۲۵۔ صحیح مسلم، رقم ۲۸۴، ۲۸۵۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۵۲۸۔ مسند بزار، رقم۶۲۰۱، ۶۴۲۶۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم۵۳، ۵۴، ۵۵، ۳۲۹۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۵۱، ۵۲، ۵۳۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۳۴۶۷، ۳۶۵۲، ۳۶۵۴۔ صحیح ابن خزیمہ، رقم۲۹۳، ۲۹۶۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۵۶۵، ۵۶۶، ۵۶۷، ۵۶۸، ۵۶۹، ۵۷۰، ۵۷۱۔صحیح ابن حبان، رقم۱۴۰۱۔المعجم الاوسط، رقم۴۹۴۷، ۵۸۰۹۔مستخرج ابی نعیم، رقم۶۵۲، ۶۵۳، ۶۵۴۔السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم۱۷۶۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۴۱۴۲، ۴۲۳۴، ۴۲۳۵، ۴۲۳۷، ۴۲۳۸، ۲۰۲۶۴۔معرفۃ السنن والآثار، رقم۵۰۵۹۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ قصہ مسند ابی یعلیٰ، رقم۲۵۵۷اور المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۱۵۵۲میں دیکھ لیا جا سکتا ہے۔عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اِس واقعے سے متعلق جو کچھ منقول ہے، اُس کے مراجع یہ ہیں:مسند احمد، رقم ۶۵۹۰، ۶۸۴۹، ۷۰۵۹۔الادب المفرد، رقم۶۲۶۔صحیح ابن حبان، رقم۹۸۶۔
۲۔ یہ دیہاتی شخص کون تھا؟ اِس کی تعیین میں اہل علم کے ما بین اختلاف ہے۔ایک قول کے مطابق یہ ذو الخُویصرہ یمانی رضی اللہ عنہ تھے۔ دوسری راے کے مطابق یہ اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ تھے، جب کہ تیسرے موقف کے مطابق یہ عُیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ تھے۔دیکھیے: الشوکاني، محمد بن علي، الیمني. نیل الأوطار شرح منتقی الأخبار. تحقیق: عصام الدین الصبابطي. (دار الحدیث: مصر، ط۱، ۱۴۱۳ہ/ ۱۹۹۳م)، ج۱، ص۶۰۔
۳۔ مسند احمد، رقم ۷۲۵۵۔
۴۔بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم۱۰۵۳۳میں اِس بدو کی دعا کے یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں:’اللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَلِمُحَمَّدٍ وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا‘ ’’ اے اللہ، میری اور محمد کی مغفرت فرما اور ہمارے ساتھ کسی اورکی مغفرت نہ کرنا‘‘۔
۵۔سنن ابن ماجہ، رقم ۵۲۹۔
۶۔ بعض روایتوں، مثلاً صحیح ابن حبان، رقم۹۸۵میں یہاں’تَحَجَّرْتَ‘ کے بجاے ’احْتَظَرْتَ‘کا لفظ روایت ہوا ہے۔معنی کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
۷۔مسند شافعی، رقم ۲۲۔
۸۔بعض روایتوں مثلاً مسند احمد، رقم۱۰۵۳۳میں یہاں یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں:’ثُمَّ وَلّٰی حَتّٰی إِذَا کَانَ فِيْ نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِ، فَشَجَ یَبُوْلُ‘ ’’پھر وہ پلٹا، یہاں تک کہ مسجد کے ایک کونے میں جا کر اُس نے پیشاب کے لیے اپنی ٹانگیں کھول دیں‘‘۔ صحیح ابن حبان، رقم ۹۸۵ میں ہے: ’فَحَّجَ لِیَبُوْلَ‘ ’’پیشاب کرنے کے لیے اُس نے اپنی ٹانگیں پھیلا لیں‘‘۔
۹۔ بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم۷۷۹۹میں یہاں ’فَتَنَاوَلَہُ النَّاسُ‘ ’’ تو لوگوں نے اُس کو پکڑ لیا‘‘کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔بعض طرق، مثلاً صحیح بخاری، رقم ۶۱۲۸میں یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں: ’فَثَارَ إِلَیْہِ النَّاسُ لْیَقَعُوْا بِہِ‘ ’’ تو لوگ اُس کی طرف دوڑے کہ اُس کو جھپٹ لیں‘‘۔صحیح ابن خزیمہ، رقم۲۹۷میں یہ الفاظ ہیں:’فَثَارَ النَّاسُ إِلَیْہِ لِیَمْنَعُوْہُ‘ ’’چنانچہ لوگ اُس کی طرف دوڑ پڑے کہ اُس کو روک دیں‘‘۔ جب کہ بعض روایات، مثلاًالسنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۴۲۴۰میں اِس جگہ یہ الفاظ منقول ہیں: ’فَعَجِلَ النَّاسُ إِلَیْہِ، فَنَہَاہُمْ عَنْہُ‘ ’’ لوگ فوراًاُس کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں روکا کہ وہ اُس کے ساتھ کوئی معاملہ کریں‘‘۔
۱۰۔ صحیح بخاری، رقم ۶۱۲۸۔
۱۱۔ مسند احمد، رقم۷۷۹۹میں یہاں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: ’دَعُوْہُ، فَأَہْرِیْقُوْا عَلٰی بَوْلِہِ سَجْلَ مَاءٍ، أَوْ ذَنُوْبًا مِنْ مَاءٍ‘ ’’اِس کو چھوڑ دو ، بس اِس کے پیشاب پرپانی کا ایک ڈول بہادو‘‘۔ سنن ابی داؤد، رقم۳۸۰میں یہ الفاظ ہیں: ’صُبُّوْا عَلَیْہِ سَجْلاً مِنْ مَاءٍ أَوْ قَالَ: ذَنُوْبًا مِنْ مَاءٍ‘۔الفاظ میں معمولی فرق کے باوجود معنی کے لحاظ سے ایک ہی مفہوم ہے جو اِن متون میں بیان ہوا ہے۔
۱۲۔ مسند شافعی، رقم ۲۲۔
۱۳۔ مسند شافعی، رقم۲۲۔صحیح ابن خزیمہ، رقم۲۹۸کے ایک طریق کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس موقع پر یہ کلمات ارشاد فرمائے تھے: ’إِنَّ فِيْ دِیْنِکُمْ یُسْرًا‘ ’’ بلا شبہ، تمھارے دین میں آسانی ہے‘‘۔
۱۴۔ مسند احمد، رقم۱۰۵۳۳۔
۱۵۔ صحیح ابن حبان، رقم۹۸۵۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ پورا واقعہ صحیح مسلم، رقم۲۸۵میں بایں الفاظ بیان ہوا ہے: ’بَیْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ. إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَامَ یَبُوْلُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَہْ مَہْ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’لَا تُزْرِمُوْہُ دَعُوْہُ‘ فَتَرَکُوْہُ حَتّٰی بَالَ‘‘، ثُمَّ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَعَاہُ فَقَالَ لَہُ: ’’إِنَّ ہٰذِہِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنْ ہٰذَا الْبَوْلِ، وَلَا الْقَذَرِ إِنَّمَا ہِيَ لِذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالصَّلٰوۃِ وَقِرَاءَ ۃِ الْقُرْآنِ‘‘ أَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَأَمَرَ رَجُلاً مِنَ الْقَوْمِ فَجَاءَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَنَّہُ عَلَیْہِ‘۔
’’ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے کہ اِس اثنا میں ایک دیہاتی آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے کے لیے کھڑا ہوگیا۔رسول اللہ کے ساتھیوں نے یہ دیکھا تو اُس کو آواز دی:رک جاؤ، رک جاؤ۔راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اِس کو چھوڑ دو، درمیان میں مت روکو۔چنانچہ لوگوں نے اُسے چھوڑ دیا، یہاں تک کہ وہ پیشاب سے فارغ ہوگیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے بلایا اور فرمایا: یہ مسجدیں اِس طرح پیشاب کرنے اور گندگی پھیلانے کے لیے ہر گز موزوں نہیں ہیں۔ یہ خدا کی یاد ، اُس کی نماز اور قرآن پڑھنے کے لیے خاص ہیں یا پھر اِسی طرح کی کوئی بات آپ نے اُس موقع پر فرمائی۔ کہتے ہیں کہ اِس کے بعدآپ نے لوگوں میں سے ایک شخص کو حکم دیا تو وہ پانی کا ایک ڈول لے کر آیا اور اُسے اُس جگہ پر بہا دیا‘‘۔

دین میں آسانی (2/2)

____________



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List