Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
دین اور اخلاق | اشراق
Font size +/-

دین اور اخلاق

تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

—۱—

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ،۱ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاق‘‘.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں اخلاق عالیہ کو اُن کے اتمام تک پہنچانے ہی کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں۔۱

________

۱۔یعنی اُن کو پوری تفصیلات کے ساتھ واضح کر دینے اور اُن کا ایک کامل نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کر دینے کے لیے۔ روایت میں یہ بات جس حصر کے ساتھ کہی گئی ہے، اُس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دین میں اخلاق عالیہ کی کیا اہمیت ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۲۴۱ سے لیا گیاہے ۔اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت اِن مصادر میں نقل ہوئی ہے:مسند احمد، رقم ۲۴۱۔ الادب المفرد، بخاری، رقم ۸۷۵۲۔مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۳۸۱۸۔ مستدرک، حاکم، رقم ۴۱۵۲۔السنن الکبریٰ،بیہقی،رقم۱۹۱۳۵۔
۲۔ السنن الکبریٰ،بیہقی،رقم۱۹۱۳۵میں ’صَالِحَ الْأَخْلَاقِ‘ کے بجاے ’مَکَارِمَ الأَخْلاقِ‘ نقل ہوا ہے۔ دونوں کے مفہوم میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔

—۲—

عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ،۱ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’إِنَّ اللّٰہَ کَرِیمٌ یُحِبُّ الْکَرَمَ، وَیُحِبُّ مَعَالِيَ الأَخْلَاقِ،۲ وَیَکْرَہُ۳ سَفْسَافَہَا‘‘.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ فیاض ہے، وہ فیاضی کو پسند کرتا ہے اور دوسرے تمام اعلیٰ اخلاق کو بھی، اور اُن چیزوں کو ناپسند کرتا ہے جو اُن میں سے ردی ہیں۔۱

________

۱۔یعنی انسان کی سیرت و کردار، اور طرز عمل میں ردی سمجھی جاتی ہیں۔ اِس سے، ظاہر ہے کہ وہی چیزیں مراد ہوں گی جنھیں ہم رذائل اخلاق سے تعبیر کرتے ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن ا لمعجم الکبیر، طبرانی ، رقم ۵۷۸۹سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت اِن کتابوں میں نقل ہوئی ہے: مستدرک حاکم، رقم۱۴۰، ۱۴۱۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۳۰۳۱۔ السنن الکبریٰ،بیہقی ،رقم ۱۹۱۳۴۔
۲۔المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۳۰۳۱میں ’مَعَالِيَ الأَخْلاقِ‘ کے بجاے ’مَعَالِيَ الأُمُورِ‘ نقل ہوا ہے،یعنی اعلیٰ کام۔
۳۔ مستدرک حاکم، رقم ۱۴۱ میں ’وَیَکْرَہُ‘ کے بجاے ’وَیُبْغِضُ‘ منقول ہے۔ دونوں کا مدعا کم و بیش ایک ہی ہے۔

—۳—

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ،۱ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِینَ إِیمَانًا۲ أَحْسَنُہُمْ خُلُقًا‘‘۳.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مومنوں میں سب سے کامل ایمان والے وہ ہیں جواخلاق میں سب سے اچھے ہوں۔۱

________

۱۔ دین میں اگرچہ عبادات بھی ہیں اور تطہیر بدن اور تطہیر خور و نوش کے احکام بھی، مگر سب سے زیادہ اہمیت تطہیر اخلاق کی ہے۔ ایمان کا حسن اِس کے بغیر درجۂ کمال کو نہیں پہنچ سکتا۔ قرآن مجید نے جگہ جگہ اِس کی تصریح فرمائی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اُسی کی وضاحت ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن سنن ابی داؤد، رقم ۴۰۶۴سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے اِس روایت کے مصادر درج ذیل ہیں:
مسند احمد، رقم ۹۸۶، ۷۲۲۵، ۹۸۱۰، ۹۸۹۸، ۱۰۰۲۳، ۱۰۰۳۱۔ سنن دارمی، رقم۱۲۷۰۶۔الادب المفرد، رقم ۲۸۱۔ سنن ترمذی، رقم ۱۰۷۸۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۵۸۷۹۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۳۸۱۱، ۳۸۱۲۔صحیح ابن حبان، رقم۹۱، ۴۸۴۔مستدرک حاکم، رقم۱، ۲۔السنن الکبریٰ،بیہقی ، رقم ۱۹۱۳۶۔
۲۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۹۷۷۸میں اِس جگہ ’وَأَفْضَلُ الْمُؤْمِنِینَ إِیمَانًا‘ کا اضافہ نقل ہوا ہے،یعنی مومنوں میں سب سے بڑھ کر ایمان والے۔
۳۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۴۷۳۴میں یہاں ’وَخِیَارُکُمْ خِیَارُکُمْ لِنِسَائِہِمْ‘ کا اضافہ ہے،یعنی تم میں سے بہتر وہ ہے جواپنی عورتوں کے ساتھ بہتر ہو۔
صحیح بخاری، رقم۵۵۹۶میں یہی بات ’إِنَّ مِنْ أَخْیَرِکُمْ أَحْسَنَکُمْ خُلُقًا‘، کے الفاط میں بیان ہوئی ہے، یعنی تم میں سے بہترین لوگ اچھے اخلاق کے لوگ ہی ہیں، اور سنن ترمذی، رقم ۱۸۹۴ میں اِن کی جگہ ’خِیَارُکُمْ أَحَاسِنُکُمْ أَخْلَاقًا‘ کے الفاظ ہیں۔ دونوں کے راوی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔

—۴—

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ۱، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ’’مَا مِنْ شَیْءٍ یُوضَعُ فِي الْمِیْزَانِ أَثْقَلُ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ وَإِنَّ صَاحِبَ حُسْنِ الْخُلُقِ لَیَبْلُغُ بِہِ دَرَجَۃَ صَاحِبِ الصَّوْمِ وَالصَّلَاۃِ‘‘۲.
ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن آدمی کی میزان اعمال میں سب سے زیادہ بھاری چیز اچھے اخلاق ہی ہوں گے، اور اچھے اخلاق کے حاملین اِن سے اُسی درجے کو پہنچ جائیں گے جو نماز روزے جیسی عبادات کے لیے خاص ہو جانے والوں کو ملنا ہے۔۱

________

۱۔اصل میں ’صاحب الصوم والصلٰوۃ‘ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ یہ اِسی مفہوم کے لیے ہے۔ اِ س سے یہ اہم حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بدخلقی سے احتراز اور فرائض کا اہتمام تو ہر شخص کو کرنا ہے، ورنہ خدا کے ہاں مواخذے سے دوچار ہوگا، مگر بڑے درجات تک پہنچنے کے دو راستے ہیں اور دونوں یکساں ہیں: ایک یہ کہ آدمی عبادت گزار ہو اور زیادہ سے زیادہ نفل نمازیں پڑھے اور نفل روزے رکھے اور دوسرے یہ کہ عبادات میں خواہ فرائض پر اکتفا کرے، لیکن اِن کے ساتھ اپنے گھر والوں، دوست احباب، بلکہ پورے معاشرے کے لیے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بن کر رہے، اور ہر جگہ اور ہر موقع پر عدل، احسان، وفا، ایثار اور بنی نوع انسان کے ساتھ بے لوث محبت اور ہم دردی کو اپنا شعار بنائے۔ انسانی طبائع میں جس فرق و تفاوت کا مشاہدہ ہم اِس طرح کے معاملات میں کرتے ہیں، یہ دونوں راستے اُسی کے لحاظ سے رکھے گئے ہیں اور اِس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اسلام دین فطرت ہے، اُس میں جنت کے اعلیٰ ترین درجات تک پہنچنے کا راستہ صرف عبادات میں اشتغال ہی نہیں، اخلاق عالیہ کا اہتمام بھی ہے اور اپنے اپنے ذوق و رجحان کے لحاظ سے لوگ اِن میں سے جو راستہ چاہیں، اختیار کر سکتے ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن سنن ترمذی، رقم۱۹۲۲سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو درداء رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:
مسند ابن ابی شیبہ، رقم ۴۰۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۴۷۳۹۔مسند احمد، رقم ۲۶۸۴۵، ۲۶۸۶۶، ۲۶۸۷۷، ۲۶۸۹۶۔ مسند عبد بن حمید، رقم ۲۰۵۔الادب المفرد،بخاری، رقم ۲۰۵۔ سنن ترمذی، رقم ۱۹۲۱۔ سنن ابی داؤد، رقم ۴۱۶۸۔ مسند بزار، رقم ۱۸۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۳۸۰۹۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۴۳۳۰۔ المعجم الصغیر، طبرانی، رقم ۵۵۱۔
۲۔سنن ترمذی ،رقم۱۹۲۱میں اِس جگہ یہ اضافہ ہے: ’وَإِنَّ اللّٰہَ لَیُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ‘ ’’ اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ بدخلق اور فحش گو شخص کوپسند نہیں کرتا ہے‘‘۔

—۵—

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو،۱ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ’’أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَحَبِّکُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِکُمْ مِنِّي مَجْلِسًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟‘‘ فَسَکَتَ الْقَوْمُ، فَأَعَادَہَا مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ الْقَوْمُ: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ’’أَحْسَنُکُمْ خُلُقًا‘‘.۲
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: میں تمھیں اُن لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو قیامت کے دن میرے پاس بیٹھنے والوں میں سب سے زیادہ میرے محبوب اور میرے قریب ہوں گے؟ آپ کی یہ بات سن کر لوگ خاموش رہے تو آپ نے اِسے دو یا تین مرتبہ دہرایا۔ اِس پر لوگوں نے کہا: یارسول اللہ، ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا: جو تم میں سب سے اچھے اخلاق والے ہوں گے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد،رقم ۶۷۳۵سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں،اُن سے یہ روایت صحیح ابن حبان ، رقم۴۹۰میں بھی نقل ہوئی ہے۔اُن کے علاوہ یہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔ ملاحظہ ہو: ترمذی، رقم ۱۹۳۷۔
۲۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طریق میں اِس جگہ یہ اضافہ نقل ہوا ہے: ’وَإِنَّ أَبْغَضَکُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَکُمْ مِنِّي مَجْلِسًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الثَّرْثَارُونَ وَالْمُتَشَدِّقُونَ وَالْمُتَفَیْہِقُونَ، قَالُوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَدْ عَلِمْنَا الثَّرْثَارُونَ، وَالْمُتَشَدِّقُونَ، فَمَا الْمُتَفَیْہِقُونَ؟ قَالَ: الْمُتَکَبِّرُوْنَ.‘ ’’اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور مجھ سے دور بیٹھنے والے لوگ وہ ہیں جو زیادہ باتیں کرنے والے، بلاسوچے سمجھے بولنے والے اور ’مُتَفَیْہِقُوْنَ‘ ہوں گے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا :یا رسول اللہ ،بہت باتونی اور بہت زبان دراز کا تو ہمیں علم ہے، یہ ’مُتَفَیْہِقُون‘ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: تکبر کرنے والے‘‘۔(ملاحظہ ہو:سنن ترمذی،رقم ۱۹۳۷)

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ. ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.
ابن ماجۃ، ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.
ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ. ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ.
أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح. ط۳. تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.
بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.
السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط ۱. تحقیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
محمد القضاعي الکلبي المزي. (۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List