Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
ڈاڑھی مونچھ کی متکبرانہ وضع اور مذہبی لوگوں کی بدعتیں | اشراق
Font size +/-

ڈاڑھی مونچھ کی متکبرانہ وضع اور مذہبی لوگوں کی بدعتیں


تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

- ۱ -

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’أَحْفُوا۲الشَّوَارِبَ،۳ وَأَعْفُوا اللِّحٰی‘‘.۴
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم لوگ مونچھیں خوب تراش کر رکھو اور ڈاڑھیوں کو بڑھنے کے لیے چھوڑ دیا کرو۔۱

_____

۱۔ آگے کی روایتوں سے واضح ہوجائے گا کہ یہ ڈاڑھی اور مونچھیں رکھنے یا نہ رکھنے کا کوئی حکم نہیں ہے ، بلکہ اُس وضع سے اجتناب کی ہدایت ہے جو اُس زمانے کے مجوس، مشرکین اور اہل کتاب کے متکبرین نے اپنی جلالت کے اظہار کے لیے اختیار کر لی تھی۔ اِس کی مثالیں ہمارے اِس زمانے میں بھی دیکھ لی جاسکتی ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ ڈاڑھی اور مونچھیں رکھی ہوں تو اُن کی وضع شریفانہ اور خدا کے متواضع بندوں کے شایان شان ہونی چاہیے، یعنی مونچھیں چھوٹی اور ڈاڑھی بڑی ہو۔اِس کے بر خلاف اگر مونچھیں بڑی بڑی اور ڈاڑھی چھوٹی ہوگی یا اِس طرح کی مونچھوں کے ساتھ بالکل منڈوادی جائے گی تو یہ اوباشوں کی وضع بن جائے گی جس سے ہر مسلمان کو اجتناب کرنا چاہیے۔
تاہم اِس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بڑی بڑی مونچھیں مرد اپنی وجاہت اور مردانگی کے اظہار کے لیے بھی رکھتے رہے ہیں۔ یہ چیز دین میں بھی قابل لحاظ ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ اِس کے لیے تم ڈاڑھیوں کو بڑھنے کے لیے چھوڑ سکتے ہو۔ اِس لیے کہ وہی مقصد جو مونچھوں کو بڑھانے سے حاصل کرنا پیش نظر ہے،اِس طریقے سے بھی حاصل ہوجائے گا اور وضع بھی شریفانہ رہے گی ۔قبائلی معاشرے میں اِس طرح کی ڈاڑھیاں اِس زمانے میں بھی دیکھ لی جاسکتی ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مونچھیں پست رکھنے کی ہدایت کی تو اِس کے ساتھ یہ الفاظ کہ’ ڈاڑھیوں کو بڑھنے کے لیے چھوڑ دیا کرو‘، مخاطبین کے ذہن میں موجود اِسی محرک کی رعایت سے ارشاد فرمائے ہیں۔ اِن سے ڈاڑھی رکھنے کا کوئی حکم بیان کرنا مقصود نہیں ہے۔ روایتوں میں اِسی طرح کی چیزیں ہیں جن کے موقع ومحل کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ مہندی یا خضاب لگانے یا نہ لگانے کو بھی دین کا مسئلہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، دراں حالیکہ دین کا مقصد تزکیہ ہے اور اُس کے تمام احکام اِسی مقصد کو سامنے رکھ کر دیے گئے ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۴۶۵۴سے لیا گیا ہے۔عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اِس باب میں الفاظ و اسلوب کے فرق کے ساتھ جو کچھ نقل ہوا، اُس کے مراجع یہ ہیں: موطا امام مالک، رقم۷۵۱۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۵۴۹۲۔مسند احمد، رقم۴۶۵۴،۵۱۳۵، ۵۱۳۸، ۵۱۳۹، ۶۴۵۶۔صحیح بخاری، رقم۵۸۹۲، ۵۸۹۳۔صحیح مسلم، رقم۲۵۹۔سنن ابی داؤد، رقم۴۱۹۹۔سنن ترمذی، رقم۲۷۶۳، ۲۷۶۴۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم۱۵، ۵۰۴۵، ۵۰۴۶، ۵۲۲۶۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۱۳، ۹۲۴۶، ۹۲۴۷۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۵۷۳۸۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۴۶۶، ۴۶۷، ۴۶۸۔صحیح ابن حبان، رقم ۵۴۷۵، ۵۴۷۶۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۱۶۲۲۔مستخرج ابی نعیم، رقم۶۰۱، ۶۰۲۔السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم۸۶۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۶۸۸، ۶۸۹، ۶۹۶، ۷۰۰۔
۲۔بعض طرق، مثلاً مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۵۴۹۲میں یہاں’ أَحْفُوْا‘ کے بجاے ’انْہَکُوْا‘ کا لفظ منقول ہے۔معنی کے اعتبار سے یہ دونوں مترادف ہیں۔
۳۔بعض روایات، مثلاً السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۱۳میں یہاں’الشَّوَارِبَ‘’’مونچھوں‘‘کے بجاے ’الشَّارِبَ‘ ’’مونچھ ‘‘کا لفظ مفرد آیا ہے۔
۴۔بعض طرق، مثلاً مسند احمد، رقم۵۱۳۵میں ابن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے آپ کا یہ ارشاد اِس اسلوب میں نقل ہوا ہے:’أَعْفُوا اللِّحٰی، وَحُفُّوا الشَّوَارِبَ‘’’تم لوگ ڈاڑھیوں کو بڑھنے کے لیے چھوڑ دیا کرو اور مونچھوں کو اِس کے برخلاف خوب تراش کر رکھو‘‘، جب کہ بعض روایتوں، مثلاً سنن ابی داؤد، رقم۴۱۹۹میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ’أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ، وَإِعْفَاءِ اللِّحٰی‘’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کو خوب تراش کر رکھنے اور ڈاڑھیوں کو بڑھنے کے لیے چھوڑ دینے کی ہدایت فرمائی ہے‘‘۔مسند احمد، رقم۵۱۳۸کے مطابق اُن کے الفاظ یہ ہیں: ’أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تُعْفَی اللِّحَی، وَأَنْ تُجَزَّ الشَّوَارِبُ‘ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ ڈاڑھیوں کو بڑھنے کے لیے چھوڑ دیا جائے اورمونچھوں کو ترشوایا جائے‘‘۔

- ۲ -

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۱ ’’جُزُّوا۲ الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا ۳ اللِّحٰی، وَخَالِفُوا الْمَجُوْسَ‘‘.۴
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم لوگ مونچھیں تراشواور ڈاڑھیوں کو بڑھنے کے لیے چھوڑ دو، (جس طرح مونچھوں کو چھوڑ دیتے ہو)اور اِس معاملے میں اِن مجوسیوں کی مخالفت کرو۔۱

_____

۱۔ یعنی ڈاڑھی اور مونچھیں رکھنے کی جو وضع اُن کے متکبرین نے اختیار کر رکھی ہے، اُس کی مخالفت کرو۔ یہ وضع اگلی روایت میں مذکور ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۸۷۸۵سے لیا گیا ہے۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِس موضوع کے بارے میں اجمال وتفصیل اور اسالیب کے فرق کے ساتھ جو روایتیں نقل ہوئی ہیں، وہ اِن مراجع میں دیکھ لی جاسکتی ہیں: مسند احمد، رقم ۷۱۳۲، ۸۶۷۲، ۸۷۷۸، ۸۷۸۵، ۹۰۲۶، ۱۰۴۷۲۔ صحیح مسلم، رقم ۲۶۰۔مستخرج ابی عوانہ، رقم ۴۶۵۔مستخرج ابی نعیم، رقم۶۰۳۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۶۹۰۔معرفۃ السنن والآثار، بیہقی، رقم۱۲۶۹، ۱۲۷۱۔ کشف الأستار عن زوائد البزار، ہیثمی،رقم۲۹۷۱۔
۲۔مسند احمد، رقم۷۱۳۲میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے یہاں ’جُزُّوْا‘ کے بجاے ’قُصُّوْا‘کا لفظ منقول ہے۔ معنی کے اعتبار سے یہ دونوں مترادف ہیں۔مسند احمد، رقم۹۰۲۶میں ’خُذُوْا مِنَ الشَّوَارِبِ‘’’مونچھوں کے بال کاٹو‘‘کے الفاظ ہیں۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۴۶۵میں اِس جگہ’أَحْفُوْا‘’’ خوب تراش کر رکھو ‘‘کا لفظ نقل ہوا ہے۔
۳۔بعض روایات، مثلاً صحیح مسلم، رقم۲۶۰میں یہاں’وَأَعْفُوْا‘ کے بجاے ’وَأَرْخُوْا‘کا لفظ ہے۔دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔
۴۔ کشف الأستار عن زوائد البزار، ہیثمی ،رقم۲۹۷۱میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے اِس باب کی ایک روایت اِس طرح نقل ہوئی ہے:’قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’إِنَّ أَہْلَ الشِّرْکِ یُعْفُوْنَ شَوَارِبَہُمْ، وَیُحْفُوْنَ لِحَاہُمْ، فَخَالِفُوْہُمْ، فَأَعْفُوا اللِّحٰی، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ‘‘‘’’یہ مشرکین کا طریقہ ہے کہ وہ مونچھوں کو بڑھنے کے لیے چھوڑدیتے اور ڈاڑھیاں منڈاتے ہیں ، لہٰذا تم اُن کی مخالفت کرو۔ تم ڈاڑھیوں کو بڑھنے کے لیے چھوڑدو اور مونچھیں تراش کر رکھو ‘‘۔

- ۳ -

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:۱ ذُکِرَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَجُوْسَ، فَقَالَ: ’’إِنَّہُمْ یُوْفُوْنَ۲سِبَالَہُمْ، وَیَحْلِقُوْنَ لِحَاہُمْ، فَخَالِفُوْہُمْ‘‘.۳
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجوس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا:یہ لوگ مونچھیں پوری رکھتے ۱اور ڈاڑھیاں منڈادیتے ہیں ۔۲ سو تم اِس معاملے میں اِن کی مخالفت کرو۔

_____

۱۔ یعنی جتنی بڑھتی جائیں، بڑھنے دیتے ہیں، اُن کو کاٹتے نہیں ہیں۔
۲۔اِس سے یہ لازم نہیں آتا کہ پوری قوم نے ایک ہی وضع اختیار کر لی تھی۔ بعض اوقات ایک گروہ کے رویے کو بھی اِسی طریقے سے بیان کیا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کی فرد قرار داد جرم قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے۔اِس کی مثالیں اُس میں دیکھ لی جاسکتی ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح ابن حبان، رقم۵۴۷۶سے لیا گیا ہے۔
۲۔بعض طرق، مثلاً المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۱۶۲۲میں اِس جگہ ’یُوْفُوْنَ‘ ’’پوری رکھتے‘‘ کے بجاے’یُوَفِّرُوْنَ‘ ’’بڑھاتے ‘‘کا لفظ نقل ہواہے۔معنی کے لحاظ سے اِن دونوں میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔
۳۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۴۶۶میں ابن عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا یہی ارشاد اِن الفاظ میں روایت کیا ہے: ’خَالِفُوا الْمَجُوْسَ، أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحٰی‘’’تم لوگ مجوس کی مخالفت کرو۔ چنانچہ مونچھیں خوب تراش کر رکھو اور ڈاڑھیوں کو اِس کے برخلاف بڑھنے کے لیے چھوڑ دیا کرو‘‘۔

- ۴ -

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۱ ’’خَالِفُوا المُشْرِکِیْنَ، وَفِّرُوا اللِّحٰی، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ‘‘.۲
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:تم لوگ مشرکین کی مخالفت کرو۔۱ چنانچہ ڈاڑھیاں بڑھاؤ، (جس طرح یہ مونچھیں بڑھاتے ہیں)اور مونچھیں خوب تراش کر رکھو ۔

_____

۱۔ اِس طرح کے متکبرین ہر قوم میں ہوتے ہیں ۔ چنانچہ مشرکین میں بھی یقیناً ہوں گے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح بخاری، رقم۵۸۹۲ سے لیا گیا ہے۔
۲۔ صحیح مسلم، رقم۲۵۹میں ابن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے یہ الفاظ بھی روایت ہوئے ہیں: ’خَالِفُوا الْمُشْرِکِیْنَ، أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَوْفُوا اللِّحٰی ‘ ’’تم لوگ مشرکین کی مخالفت کرو۔چنانچہ مونچھیں خوب تراشواور ڈاڑھیاں پوری رکھو‘‘۔مستخرج ابی نعیم، رقم۶۰۲میں اِس جگہ’أَوْفُوْا‘کے بجاے ’أَعْفُوْا‘’’بڑھنے کے لیے چھوڑ دیا کرو ‘‘کا لفظ آیا ہے۔

- ۵ -

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:۱ ’’أَعْفُوا اللِّحٰی، وَخُذُوْا [مِنَ]۲ الشَّوَارِبَ، وَغَیِّرُوْا شَیْبَکُمْ،۳ وَلَا تَشَبَّہُوْا بِالْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی‘‘.۴
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم لوگ ڈاڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھوں کے بال کاٹو اور بڑھاپے کا رنگ بدل دیا کرواور اِس معاملے میں اِن یہود ونصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو۔۱

_____

۱۔ مطلب یہ ہے کہ اُن کے برخلاف تم مہندی یا خضاب لگا لیا کرو ۔آگے کی روایتوں سے واضح ہوجائے گا کہ یہود ونصاریٰ کے بعض لوگ بال رنگنے کو مذہبی لحاظ سے صحیح خیال نہیں کرتے تھے۔ اِس کی وجہ ،ظاہر ہے، یہی رہی ہوگی کہ وہ اِسے ورع وتقویٰ کے خلاف سمجھتے ہوں گے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے دین اور اُس کی شریعت کو اِس طرح کی تمام بدعتوں سے پاک کردینے کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ نے انصار کے بڑے بوڑھوں کو خاص طور پر اِس کی مخالفت کے لیے کہا، اِس لیے کہ سماجی لحاظ سے وہ یہود ونصاریٰ کے زیادہ قریب اور اُن سے زیادہ ربط ضبط رکھتے تھے۔چنانچہ یہ بھی مہندی یا خضاب لگانے کا کوئی حکم نہیں ہے، بلکہ ایک بدعت کو ختم کردینے کی ہدایت ہے جو اُس زمانے کے یہود ونصاریٰ نے اختیار کر لی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چاہتے تھے کہ اِس طرح کی کسی چیز کو آپ کی تصویب حاصل ہوجائے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۸۶۷۲سے لیا گیا ہے۔
۲۔ معرفۃ السنن والآثار، رقم۱۲۶۹۔
۳۔ مسند احمد، رقم۱۰۴۷۲میں یہاں’شَیْبَکُمْ‘’’ اپنے بڑھاپے کا رنگ ‘‘کے بجاے ’ہٰذَا الشَّیْبَ‘ ’’بڑھاپے کا یہ رنگ‘‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
۴۔ابو ہریرہ، ا بن عمر اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم سے بعض روایتوں میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ محض تغییر شیب کی ہدایت اور یہود ونصاریٰ سے عدم مشابہت یا اُن کی مخالفت کا حکم روایت ہوا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِس طرح کی روایات کے مراجع یہ ہیں:مسند احمد، رقم۷۵۴۵۔سنن ترمذی، رقم ۱۷۵۲۔ مسند بزار، رقم۷۹۴۲، ۸۶۸۱۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۵۹۷۷، ۶۰۲۱۔ صحیح ابن حبان، رقم۵۴۷۳۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۴۸۲۳۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اِس مضمون کی روایتیں اِن مصادر میں دیکھ لی جاسکتی ہیں: مسند ابی حنیفہ، رقم ۵۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۰۷۳۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۲۹۱۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۵۶۷۸۔
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے یہ مضمون اِن مراجع میں نقل ہوا ہے:مسند احمد، رقم ۱۴۱۵۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۰۷۴۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۲۹۲۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۶۸۱۔ مسند شاشی، رقم۴۵۔

- ۶ -

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’إِنَّ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی لَا یَصْبُغُوْنَ،۲ فَخَالِفُوْہُمْ،۳ [فَاصْبُغُوْا]۴‘‘.۵
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ یہود ونصاریٰ بالوں کو رنگتے نہیں ہیں۔سو اِن کی مخالفت کرو اور اِس کے لیے تم بالوں کو رنگ لیا کرو۔۱

_____

۱۔ یعنی اُن کے اِس طرز عمل کی مخالفت کے لیے رنگ لیا کرو تا کہ کوئی شخص اِس غلط فہمی میں نہ رہے کہ بالوں کو رنگنا یا نہ رنگنا بھی دین کا کوئی مسئلہ ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند حمیدی، رقم ۱۱۳۹سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ مسند حمیدی کے علاوہ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ روایت جن مصادر میں وارد ہوئی ہے، وہ یہ ہیں:جامع معمر بن راشد، رقم۲۰۱۷۵۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۴۹۹۹۔ مسند احمد، رقم۷۲۷۴، ۷۵۴۲، ۸۰۸۳، ۹۲۰۹۔صحیح بخاری، رقم۳۴۶۲، ۵۸۹۹۔صحیح مسلم، رقم۲۱۰۳۔سنن ابن ماجہ، رقم۳۶۲۱۔سنن ابی داؤد، رقم۴۲۰۳۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۰۶۹، ۵۰۷۱، ۵۰۷۲، ۵۲۴۱۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۲۸۶، ۹۲۸۷، ۹۲۸۸، ۹۲۸۹، ۹۲۹۰۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۵۹۵۷، ۶۰۰۱، ۶۰۰۳۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۸۷۱۲، ۸۷۱۳، ۸۷۱۴، ۸۷۱۵، ۸۷۱۶۔ المعجم الاوسط، رقم ۹۲۹۶۔ صحیح ابن حبان، رقم۵۴۷۰۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۴۸۱۱، ۱۴۸۱۲۔ معرفۃ السنن والآثار، رقم۱۲۸۴۔
۲۔ بعض طرق، مثلاً جامع معمر بن راشد، رقم ۲۰۱۷۵میں یہاں فعل واحد مونث ’تَصْبُغُ‘ہے۔
۳۔ بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم۷۵۴۲میں یہاں’فَخَالِفُوْا عَلَیْہِمْ‘’’سو اِس کے بر عکس کر کے تم اِن کی مخالفت کرو ‘‘کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔
۴۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۲۸۸۔
۵۔ المعجم الاوسط، طبرانی،رقم۹۲۹۶میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے آپ کا یہ ارشاد مشرکین کے حوالے سے بھی اِن الفاظ میں روایت ہوا ہے: ’إِنَّ الْمُشْرِکِینَ لَا یَصْبُغُوْنَ لِحَاہُمْ، فَغَیِّرُوا الشَّیْبَ‘’’یہ مشرکین اپنی ڈاڑھیوں کو نہیں رنگتے۔سو تم بڑھاپے کا رنگ بدل دیا کرو‘‘۔

- ۷ -

إِنَّ أَبَا أُمَامَۃَ البَاہِلِيَّ یَقُوْلُ:۱ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی مَشْیَخَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارٍ بِیضٌ لِحَاہُمْ، فَقَالَ: ’’یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، حَمِّرُوْا وَصَفِّرُوْا، وَخَالِفُوْا أَہْلَ الْکِتَابِ‘‘. قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنَّ أَہْلَ الْکِتَابِ یَتَسَرْوَلَوْنَ، وَلَا یَأْتَزِرُوْنَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’تَسَرْوَلُوْا، وَاءْتَزِرُوْا، وَخَالِفُوْا أَہْلَ الْکِتَابِ‘‘. قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنَّ أَہْلَ الْکِتَابِ یَتَخَفَّفُوْنَ، وَلَا یَنْتَعِلُوْنَ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’فَتَخَفَّفُوْا، وَانْتَعِلُوْا، وَخَالِفُوْا أَہْلَ الْکِتَابِ‘‘. قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنَّ أَہْلَ الْکِتَابِ یَقُصُّوْنَ عَثَانِیْنَہُمْ، وَیُوَفِّرُوْنَ سِبَالَہُمْ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’قُصُّوْا سِبَالَکُمْ، وَوَفِّرُوْا عَثَانِیْنَکُمْ، وَخَالِفُوْا أَہْلَ الْکِتَابِ‘‘.
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے کچھ بڑے بوڑھوں کی مجلس میں، جن کی ڈاڑھیاں سفید ہوچکی تھیں، تشریف لائے تو اُن سے کہا: انصار کے لوگو،اپنی ڈاڑھیوں کو سرخ یا زرد کر لیا کرو اور اِس معاملے میں اہل کتاب کی مخالفت کرو۔۱ ابو امامہ کہتے ہیں کہ اِس پر ہم نے سوال کیا: یا رسول اللہ، (پھر اِس کا کیا حکم ہے کہ) اہل کتاب شلوار پہنتے ہیں، وہ تہ بندنہیں باندھتے؟۔۲آپ نے فرمایا:تم شلوار بھی پہنو اور تہ بند بھی باندھو اور اِس معاملے میں بھی اُن کی مخالفت کرو۔ہم نے پھر سوال کیا:(اور اِس کا کہ )اہل کتاب موزے پہنتے ہیں، وہ جوتے نہیں پہنتے؟۳ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم موزے بھی پہنو اور جوتے بھی اور اِس معاملے میں بھی اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ہم نے سوال کیا:یا رسول اللہ،(اور اِس کا کہ)اہل کتاب ڈاڑھی کتراتے اور مونچھیں خوب بڑھاتے ہیں؟۴ ابو امامہ کہتے ہیں کہ اِس پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم مونچھیں تراشا کرو اور ڈاڑھیوں کو خوب بڑھنے دو، (جس طرح وہ مونچھوں کو بڑھنے دیتے ہیں)اور اِس معاملے میں بھی اہل کتاب کی مخالفت کرو۔۵

_____

۱۔ اِس کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے۔
۲۔ یہ بھی، ظاہر ہے کہ اِسی بنا پر ہوگاکہ ستر کی حفاظت کے پہلو سے وہ اِس کو مذہبی لوگوں کے لیے موزوں خیال نہیں کرتے ہوں گے۔
۳۔ قرآن میں بیان ہوا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو طور پر حاضری کے لیے بلایا گیاتو ہدایت کی گئی کہ جوتے اتار کر آئیں۔اِس سے غالباً صوفیانہ مزاج کے کچھ لوگوں نے یہ نکتہ پیدا کرلیا ہوگا کہ انسان ہر وقت خدا کی بار گاہ میں ہے، اِس لیے اُس کو جوتے نہیں پہننے چاہییں۔ارباب تصوف کے حلقوں میں اِس طرح کی بدعتیں ہمارے ہاں بھی دیکھ لی جاسکتی ہیں۔چنانچہ بہت سے لوگ ننگے پاؤں پھرتے، بعض صرف کھڑاؤں پہنتے اور بعض محض لنگوٹی میں زندگی بسر کردیتے ہیں۔
۴۔اِس سے معلوم ہوا کہ مجوس اور مشرکین عرب کے متکبرین کی طرح اہل کتاب کے بعض لوگوں نے بھی یہی وضع اختیار کر لی تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی باتوں کی طرح اِس کے متعلق نہیں فرمایا کہ یہ بھی کرسکتے ہو اور اِس کے برخلاف بھی۔اُس کی وجہ یہ ہے کہ متکبرانہ ہیئت ہر حال میں ممنوع ہے اور بڑی بڑی مونچھیں ڈاڑھی کے بغیر ہوں یا چھوٹی یا بڑی ڈاڑھی کے ساتھ ، یہ ہیئت لازماً پیدا کردیتی ہیں۔ پھر کھانے پینے کی اشیا منہ میں ڈالتے ہوئے اِن سے آلودہ بھی ہوتی ہیں۔چنانچہ انبیا علیہم السلام نے اِنھیں ہر حال میں پست رکھنے کا حکم دیا ہے۔اِس کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو، ہماری کتاب ’’میزان‘‘ کا باب ’’رسوم وآداب‘‘۔
۵۔ یہ بار بار مخالفت کی تاکید اِس لیے فرمائی ہے کہ کوئی چیز اگر اخلاقی لحاظ سے قابل اعتراض یا مذہبی نقطۂ نظر سے بدعت ہے اور بعض مسلمان اُس کو پیغمبر کی موجودگی میں بھی اختیار کیے رکھتے ہیں تو شدید اندیشہ ہے کہ بعد میں اِسے پیغمبر کی تقریر وتصویب کی حیثیت سے پیش کیا جائے گا اور علما ومصلحین کے لیے لوگوں کو اِس سے روکنا مشکل ہو جائے گا۔
ابو امامہ باہلی کی یہ روایت اِس مدعا کوہر لحاظ سے واضح کر دیتی ہے۔ چنانچہ پورے اطمینان کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ خدا کے پیغمبروں کو نہ خضاب لگانے اور شلوار اور تہ بند اور موزے اور جوتے پہننے یا نہ پہننے سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ڈاڑھی اور مونچھوں سے ۔ اُن کی دلچسپی تمام تر خود دین کو ہر آمیزش سے پاک رکھنے اور لوگوں کو پاکیزگی کی تعلیم دینے سے ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تمام باتیں اِسی مقصد سے ارشاد فرمائی ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۲۲۲۸۳سے لیا گیا ہے۔اِس واقعے کے راوی تنہا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ ہیں۔

المصادر والمراجع

ابن أبي شیبۃ، أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد العبسي. (۱۴۰۹ھ). المصنف في الأحادیث والآثار. ط۱. تحقیق: کمال یوسف الحوت. الریاض: مکتبۃ الرشد.
ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ). المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ھ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. د.ط. بیروت: دارالمعرفۃ.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.
ابن عبد البر، أبو عمر یوسف بن عبد اللّٰہ القرطبي. (۱۴۱۲ھ ؍ ۱۹۹۲م). الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب. ط۱. تحقیق: علي محمد البجاوي. بیروت: دار الجیل.
ابن ماجہ، أبو عبد اللّٰہ محمد القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجہ. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.
أبو حنیفۃ، النعمان بن ثابت بن زوطي بن ماہ. (د.ت). مسند أبي حنیفۃ روایۃ الحصکفي. د.ط. تحقیق: عبد الرحمٰن حسن محمود. مصر: الآداب.
أبو داؤد، سلیمان بن الأشعث، السِّجِسْتاني. (د.ت). سنن أبي داؤد. د.ط.تحقیق: محمد محیي الدین عبد الحمید. بیروت: المکتبۃ العصریۃ.
أبو عوانۃ، الإسفراییني، یعقوب بن إسحاق النیسابوري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸م). مستخرج أبي عوانۃ. ط۱. تحقیق: أیمن بن عارف الدمشقي. بیروت: دار المعرفۃ.
أبو نعیم، أحمد بن عبد اللّٰہ، الأصبہاني. (۱۴۱۷ھ/۱۹۹۶م). المسند المستخرج علی صحیح مسلم. ط۱. تحقیق: محمد حسن محمد حسن إسماعیل الشافعي. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
أبو یعلٰی، أحمد بن علي، التمیمي، الموصلي. مسند أبي یعلٰی. ط۱. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.
أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد اللّٰہ، الشیباني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.
البزار، أبو بکر أحمد بن عمرو العتکي. (۲۰۰۹م). مسند البزار. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبري عبد الخالق الشافعي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۰ھ؍۱۹۸۹م). السنن الصغرٰی. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. کراتشي: جامعۃ الدراسات الإسلامیۃ.
البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳م). السنن الکبرٰی. ط۳. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۲ھ؍۱۹۹۱م). معرفۃ السنن والآثار. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. القاہرۃ: دار الوفاء.
الترمذي، أبو عیسٰی، محمد بن عیسٰی. (۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵م). سنن الترمذي. ط۲. تحقیق و تعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض.مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفٰی البابي الحلبي.
الحمیدي، أبو بکر عبد اللّٰہ بن الزبیر بن عیسٰی القرشي الأسدي. (۱۹۹۶م). مسند الحمیدي. ط۱. تحقیق وتخریج:حسن سلیم أسد الدَّارَانيّ. دمشق: دار السقا.
الذہبي، شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.
الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.
الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۱۳ھ؍۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ ۔ مؤسسۃ علوم القرآن.
السیوطي، جلال الدین، عبد الرحمٰن بن أبي بکر. (۱۴۱۶ھ/۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط۱. تحقیق وتعلیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري.الخبر: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الشاشي، أبو سعید الہیثم بن کلیب البِنْکَثي. (۱۴۱۰ھ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: د. محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.
مالک بن أنس بن مالک بن عامر، الأصبحي، المدني. (۱۴۲۵ھ / ۲۰۰۴م). الموطأ. ط۱. تحقیق: محمد مصطفٰی الأعظمي. أبو ظبي: مؤسسۃ زاید بن سلطان آل نہیان للأعمال الخیریۃ والإنسانیۃ.
مسلم بن الحجاج، النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
معمر بن أبي عمرو راشد، الأزدي، البصري. (۱۴۰۳ھ). الجامع. ط۲. تحقیق: حبیب الرحمٰن الأعظمي. بیروت: توزیع المکتب الإسلامي.
النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
النووي، یحیٰی بن شرف، أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
الہیثمي، نور الدین، علي بن أبي بکر بن سلیمان. (۱۳۹۹ھ/ ۱۹۷۹م). کشف الأستار عن زوائد البزار. ط۱. تحقیق: حبیب الرحمٰن الأعظمي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List