Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
بہترین مسلمان | اشراق
Font size +/-

بہترین مسلمان

تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

۱۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ:۱ إِنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَيُّ الْمُسْلِمِیْنَ خَیْرٌ؟۲ قَالَ: ’’مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ‘‘.۳
۲۔ عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۴ ’’الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ،۵ وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أمِنَہُ النَّاسُ عَلٰی دِمَاءِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ‘‘.۶
۳۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ:۷ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ’’تَدْرُوْنَ مَنِ الْمُسْلِمُ؟‘‘ قَالُوا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ’’مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ‘‘، قَالَ: ’’تَدْرُوْنَ مَنِ الْمُؤْمِنُ؟‘‘ قَالُوا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ’’مَنْ أَمِنَہُ الْمُؤْمِنُوْنَ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ‘‘.
۴۔ عَنْ عَاءِشَۃَ، قَالَتْ:۸ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ إِیْمَانًا أَحْسَنُہُمْ خُلُقًا،۹ وَأَلْطَفُہُمْ بِأَہْلِہِ‘‘.۱۰
۵۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ:۱۱ جَاءَ فَتًی مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَيُّ الْمُؤْمِنِیْنَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ’’أَحْسَنُہُمْ خُلُقًا‘‘، قَالَ: فَأَيُّ الْمُؤْمِنِیْنَ أَکْیَسُ؟ قَالَ: ’’أَکْثَرُہُمْ لِلْمَوْتِ ذِکْرًا، وَأَحْسَنُہُمْ لَہُ اسْتِعْدَادًا قَبْلَ أَنْ یَّنْزِلَ بِہِمْ، أُولٰئِکَ مِنَ الْأَکْیَاسِ‘‘، ثُمَّ سَکَتَ الْفَتٰی.
۶۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْإِسْلاَمِ۱۲ خَیْرٌ؟ قَالَ: ’’تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلٰی مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ‘‘.۱۳

۱۔عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، اُنھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے پوچھا:بہترین مسلمان کون ہے؟ آپ نے فرمایا:جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۱۔
۲۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے لوگ سلامت رہیں اور مومن وہ ہے جس سے دوسرے لوگ اپنے جان ومال کے معاملے میں مامون ہوں۲۔
۳۔عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جانتے ہو، مسلمان کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا:اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔ پھر پوچھا: جانتے ہو، مومن کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا:اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: جس سے ایمان والے اپنے جان ومال کے معاملے میں مامون ہوں۔
۴۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سب سے بڑھ کر کامل ایمان اُس شخص کا ہے جو لوگوں میں اخلاق کے لحاظ سے سب سے بہتراور اپنے اہل وعیال کے ساتھ سب سے بڑھ کر نرمی اور شفقت سے پیش آنے والا ہو۔
۵۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ، اُنھوں نے بیان کیا کہ انصار میں سے ایک نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کو سلام کیا، پھر بیٹھ گیا اور پوچھا:یا رسول اللہ، ایمان والوں میں سب سے زیادہ فضیلت کس کی ہے؟ آپ نے فرمایا:جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ اُس نے پوچھا:اُن میں سے سب سے زیادہ دانش مند کون ہے؟ فرمایا:جو اُن میں سب سے زیادہ موت کو یاد کرنے والے اور اُس کے آنے سے پہلے اُس کی سب سے اچھی تیاری کرنے والے ہوں۔ یہی سب سے زیادہ دانش مند ہیں۔اِس کے بعد نوجوان خاموش ہوگیا، اُس نے مزید کوئی بات نہیں پوچھی۔
۶۔عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کس شخص کا اسلام سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم ضرورت مند کو کھانا کھلاؤ اور ہرشخص کو سلام کہو، چاہے اُس کو جانتے ہویا نہ جانتے ہو۳۔

ترجمے کے حواشی

۱۔یعنی نہ وہ کسی کی حق تلفی کرے اور نہ کسی کے جان ومال اور آبرو کے خلاف زیادتی کا مرتکب ہو۔ یہ دونوں چیزیں قرآن نے پوری صراحت کے ساتھ حرام قرار دی ہیں۔ چنانچہ کسی سچے مسلمان سے یہ توقع نہیں ہوسکتی کہ وہ اِن جرائم کا ارتکاب کرے گا اور اپنے کسی بھائی سے بد ظن ہوگا یا اُس کی چغلی کھائے گا یا غیبت کرے گا یا اُس کا مال ہتھیانے اور اُس کے جسم وجان کو کوئی نقصان پہنچانے کے درپے ہوگا۔
۲۔ یعنی سچا مسلمان اور سچا مومن۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’سلامتی‘ اور’امان‘ کے الفاظ یہاں ایمان واسلام کی رعایت سے استعمال فرمائے ہیں اور اِس طرح نہایت خوب صورتی کے ساتھ اِس بات کی طرف اشارہ کردیا ہے کہ خدا کو ماننے اور اپنے آپ کو اُس کے حوالے کردینے کے بعد کوئی شخص اُس کے بندوں کو نقصان پہنچانے کے درپے نہیں ہوسکتا۔
۳۔ یعنی محض اپنے تعلق کے لوگوں ہی کے لیے نہیں ، بلکہ ہر انسان کے لیے امن وامان اور سلامتی کے خواہش مند رہو۔

 

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح مسلم، رقم۴۰سے لیا گیا ہے۔ روایت کا یہ مضمون عبد اللہ بن عمرورضی اللہ عنہ کے علاوہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوا ہے۔اِس مضمون کی روایات اِن صحابہ سے اسلوب وتعبیر کے کچھ فرق کے ساتھ جن کتابوں میں نقل ہوئی ہیں، وہ یہ ہیں:
مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۶۴۹۶، ۲۶۴۹۷۔مسند احمد، رقم۱۴۹۹۵۔سنن دارمی، رقم۲۷۵۴۔صحیح بخاری، رقم ۱۱۔ صحیح مسلم، رقم۴۰،۴۲۔ سنن ترمذی، رقم۲۵۰۴، ۲۶۲۸۔ مسند بزار، رقم۳۱۷۰، ۳۱۷۱۔سنن نسائی، رقم ۴۹۹۹۔ مسندابی یعلیٰ، رقم۲۲۷۳، ۷۲۸۶، ۷۲۸۸۔صحیح ابن حبان، رقم۱۹۷، ۴۰۰۔المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۲۱۰۶۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۴۶۔۱۴۸۔مستخرج ابی نعیم، رقم۱۵۶، ۱۵۸۔مسند احمد، رقم۶۸۸۹۔ سنن دارمی، رقم ۲۷۵۸۔ صحیح مسلم، رقم۴۱۔ صحیح ابن حبان، رقم۳۹۹۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۲۰۷۵۶۔مسند احمد، رقم۶۵۱۵، ۶۸۰۶، ۶۹۱۲، ۶۹۵۳، ۶۹۸۲،۶۹۸۳، ۷۰۸۶۔صحیح بخاری، رقم۱۰، ۶۴۸۴۔سنن ابی داؤد، رقم۲۴۸۱۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۴۹۹۶۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۸۶۴۸۔ صحیح ابن حبان، رقم۱۹۶، ۲۳۰۔ المعجم الصغیر، طبرانی، رقم۴۶۰۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۳۵۹۸، ۴۲۳۱، ۷۷۳۳۔مسندشہاب، رقم۱۶۶۔ السنن الکبریٰ،بیہقی، رقم۲۰۷۵۵۔ مسند حمیدی، رقم ۶۰۶،۶۰۷۔
۲۔سیدنا جابررضی اللہ عنہ کی ایک روایت، مثلاً مصنف ابن ابی شیبہ ، رقم۲۶۴۹۶میں یہاں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: ’جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَيُّ الْمُسْلِمِیْنَ أَفْضَلُ؟‘ ’’ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا: اللہ کے رسول، مسلمانوں میں بہترین کون ہے؟‘‘۔ سنن ترمذی، رقم ۲۵۰۴ میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے الفاظ ہیں: ’سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ أَيُّ المُسْلِمِیْنَ أَفْضَلُ؟‘ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ مسلمانوں میں سب سے بہتر کو ن ہے؟‘‘ بعض روایتوں، مثلاً صحیح بخاری، رقم ۱۱ میں یہاں ’أَيُّ المُسْلِمِیْنَ أَفْضَلُ؟‘ ’’مسلمانوں میں سب سے افضل کو ن ہے؟‘‘ کے بجاے ’أَيُّ الْإِسْلاَمِ أَفْضَلُ؟‘ ’’کس شخص کا اسلام سب سے بہترہے؟‘‘ کے الفاظ بھی نقل ہوئے ہیں۔
۳۔ بعض روایات، مثلاً مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۶۴۹۷میں بیان ہوا ہے کہ کسی موقع پر ایک شخص کھڑا ہوا اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاکہ کس شخص کا اسلام سب سے بہترہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ’أَنْ یَسْلَمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ یَدِکَ وَلِسَانِکَ‘ ’’یہ کہ دوسرے مسلمان تمھارے ہاتھ اور تمھاری زبان سے محفوظ رہیں‘‘۔ جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’أَسْلَمُ الْمُسْلِمِیْنَ إِسْلَامًا مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ‘ ’’وہ شخص سب سے بڑھ کر مسلمان ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔‘‘ (صحیح ابن حبان، رقم۱۹۷)۔
۴۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۸۹۳۱سے لیا گیا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ اس تعبیر پرمشتمل روایتیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہیں۔ اِن صحابہ سے یہ مرویات جن مصادر میں نقل ہوئی ہیں، وہ یہ ہیں:مسنداحمد،رقم۸۹۳۱۔سنن ابن ماجہ، رقم۳۹۳۴۔سنن ترمذی، رقم ۲۶۲۷۔مسند بزار، رقم ۸۹۴۱۔سنن نسائی، رقم۴۹۹۵۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۴۱۸۷۔صحیح ابن حبان، رقم ۱۸۰۔ مستدرک حاکم، رقم ۲۲۔ صحیح ابن حبان، رقم۵۱۰۔
۵۔ عبد اللہ بن عمرورضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ کسی موقع پر ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ مسلمانوں میں بہترین کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ’مَنْ سَلَّمَ النَّاسَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ‘ ’’جس نے لوگوں کو اپنی زبان اور اپنے ہاتھ سے محفوظ رکھاہو۔‘‘(جامع ابن وہب، رقم۳۰۳)۔
۶۔ مسند بزار، رقم۸۹۴۱میں یہاں’أَمْوَالِہِمْ‘ کی ترکیب ’دِمَائِہِمْ‘ پر مقدم بیان ہوئی ہے۔ جبکہ سنن ابن ماجہ، رقم ۳۹۳۴میں یہاں یہ الفاظ ہیں: ’أَمْوَالِہِمْ وَأَنْفُسِہِمْ‘ ’’اپنے مال اور اپنی جانوں‘‘۔
۷۔اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۶۹۲۵سے لیا گیا ہے۔عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے علاوہ اِس مضمون کی روایات فضالہ بن عبید انصاری اور ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہما سے بھی نقل ہوئی ہیں، جن کے مراجع یہ ہیں:مسند احمد، رقم ۶۹۲۵، ۷۰۱۷، ۲۳۹۵۸۔ مسند بزار، رقم ۳۷۵۲۔صحیح ابن حبان، رقم ۴۸۶۲۔ المعجم الکبیر، طبرانی ، رقم ۴۰۰، ۷۹۶، ۳۴۴۴، ۳۴۶۲۔
۸۔اِس روایت کا متن مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۵۳۱۹سے لیا گیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ یہ مضمون ابوہریرہ، جابر بن عبد اللہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی نقل ہوا ہے۔ اِس روایت کے مراجع یہ ہیں:مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۳۱۸، ۲۵۳۱۹، ۲۵۳۲۱، ۳۰۳۷۰، ۳۰۳۷۱، ۳۰۳۹۳۔ مسند احمد، رقم ۷۴۰۲، ۱۰۱۰۶، ۱۰۸۱۷، ۳۰۳۶۹۔ سنن دارمی، رقم۲۸۳۴۔سنن ابی داؤد، رقم۴۶۸۲۔سنن ترمذی، رقم ۱۱۶۲۔مسند حارث، رقم۸۴۸۔ مسند بزار، رقم ۷۹۴۵۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۵۹۲۶۔ صحیح ابن حبان، رقم۴۷۹، ۴۱۷۶۔المعجم الاوسط،طبرانی، رقم ۴۴۲۰۔ مستدرک حاکم، رقم ۱،۲، ۸۶۲۳ ۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۲۰۷۸۳۔
۹۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۵۳۱۸میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہاں یہ الفاظ منقول ہیں: ’أَکْمَلُ النَّاسِ إِیْمَانًا وَأَفْضَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ إِیْمَانًا أَحْسَنُہُمْ خُلُقًا‘ ’’لوگوں میں ایمان کے لحاظ سے درجۂ کمال کو پہنچے ہوئے اور ایمان والوں میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اخلاق کے اعتبار سے اُن میں سب سے اچھے ہیں‘‘۔جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق کسی موقع پر آپ سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ ’أَيُّ الْمُؤْمِنِیْنَ أَکْمَلُ إِیْمَانًا؟‘ ’’مسلمانوں میں کس کا ایمان درجۂ کمال کو پہنچا ہوا ہے ؟‘‘جس کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا: ’أَحْسَنُہُمْ خُلُقًا‘ ’’ وہ جو اُن میں اخلاق کے اعتبار سے سب سے بہتر ہیں‘‘۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۰۳۹۳)۔
۱۰۔المعجم الاوسط، طبرانی،رقم۴۴۲۰میں یہاں یہ الفاظ ہیں: ’وَخَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَہْلِہِ‘ ’’اور تم میں سب سے اچھے وہ ہیں جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھے ہیں‘‘۔بعض روایتوں، مثلاً سنن ترمذی، رقم۱۱۶۲میں ہے: ’وَخَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِنِسَاءِہِمْ‘ ’’اور تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہیں‘‘۔ مسند احمد، رقم۷۴۰۲میں یہ الفاظ ہیں: ’وَخِیَارُہُمْ خِیَارُہُمْ لِنِسَائِہِمْ‘ ’’اور اُن میں سب سے اچھے وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے سب سے اچھے ہیں‘‘۔ جب کہ بعض روایات، مثلاً مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۳۱۸میں ہے: ’وَخِیَارُکُمْ خِیَارُکُمْ لِنِسَائِہِمْ‘ ’’اور تم میں بہترین وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے بہترین ہیں‘‘۔
۱۱۔ مستدرک حاکم، رقم ۸۶۲۳۔
۱۲۔ مسند احمد، رقم۶۵۸۱میں یہاں اِس سوال میں’الْإِسْلاَمِ‘ کے بجاے ’الْأَعْمَالِ‘ کا لفظ روایت ہوا ہے۔
۱۳۔صحیح بخاری، رقم۲۸۔ اِس کے راوی عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہیں۔ اِس روایت کے مراجع یہ ہیں: مسند احمد، رقم۶۵۸۱۔ صحیح بخاری، رقم۱۲، ۲۸، ۶۲۳۶۔ صحیح مسلم، رقم۳۹۔سنن ابن ماجہ، رقم ۳۲۵۳۔سنن ابی داؤد، رقم ۵۱۹۴۔ سنن نسائی، رقم۵۰۰۰۔ صحیح ابن حبان،رقم ۵۰۵۔ المعجم الکبیر،طبرانی، رقم۱۴۹، ۱۴۷۳۲۔ مستخرج ابی نعیم، رقم ۱۵۵۔

 

المصادر والمراجع

ابن أبي أسامۃ، أبو محمد الحارث بن محمد بن داہر التمیمي البغدادي. (۱۴۱۳ھ / ۱۹۹۲م). بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث. ط۱. تحقیق: د. حسین أحمد صالح الباکري. المدینۃ المنورۃ: مرکز خدمۃ السنۃ والسیرۃ النبویۃ.
ابن أبي شیبۃ، أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد العبسي. (۱۴۰۹ھ). المصنف فی الأحادیث والآثار. ط۱. تحقیق: کمال یوسف الحوت. الریاض: مکتبۃ الرشد.
ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي.(۱۳۹۳ھ/۱۹۷۳م). الثقات. ط۱. حیدر آباد الدکن ۔ الہند: دائرۃ المعارف العثمانیۃ.
ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ).المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۱۵ھ). الإصابۃ في تمییز الصحابۃ. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.
ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.
ابن ماجہ، أبو عبد اللّٰہ، محمد القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجہ. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.
ابن وہب، أبو محمد،عبد اللّٰہ بن وہب بن مسلم المصري القرشي.(۱۴۲۵ھ/ ۲۰۰۵م). الجامع. ط۱. تحقیق: الدکتور رفعت فوزي عبد المطلب، والدکتور علي عبد الباسط مزید. د.م: دار الوفاء.
أبو داؤد، سلیمان بن الأشعث، السِّجِسْتاني. (د.ت). السنن. د.ط.تحقیق: محمد محیي الدین عبد الحمید. بیروت: المکتبۃ العصریۃ.
أبو عوانۃ، الإسفراییني، یعقوب بن إسحاق النیسابوري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸م). مستخرج أبي عوانۃ. ط۱. تحقیق: أیمن بن عارف الدمشقي. بیروت: دار المعرفۃ.
أبو نعیم، أحمد بن عبد اللّٰہ، الأصبہاني. (۱۴۱۷ھ/۱۹۹۶م). المسند المستخرج علی صحیح مسلم. ط۱. تحقیق: محمد حسن محمد حسن إسماعیل الشافعي. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
أبو یعلٰی، أحمد بن علي، التمیمي، الموصلي. المسند. ط۱. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.
أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد اللّٰہ، الشیباني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.
البزار، أبو بکر أحمد بن عمرو العتکي. (۲۰۰۹م). المسند. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبري عبد الخالق الشافعي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. السنن الکبرٰی. ط۳. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ. (۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳م).
الترمذي، أبو عیسٰی،محمد بن عیسٰی.(۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵م). السنن. ط۲. تحقیق و تعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض. مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفٰی البابي الحلبي.
الحاکم ، أبو عبد اللّٰہ،محمد بن عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۱۱ھ/۱۹۹۰م). المستدرک علی الصحیحین. ط۱. تحقیق: مصطفٰی عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
الحمیدي، أبو بکر، عبد اللّٰہ بن الزبیر بن عیسٰی القرشي الأسدي.(۱۹۹۶م). مسند الحمیدي. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن سلیم أسد الدَّارَانيّ. دمشق: دار السقا.
الدارمي، أبو محمد،عبد اللّٰہ بن عبد الرحمٰن، التمیمي. (۱۴۱۲ھ/۲۰۰۰م). السنن. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد الداراني. الریاض: دار المغني للنشر والتوزیع.
الذہبي، شمس الدین،أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.
الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.
السیوطي، جلال الدین، عبد الرحمٰن بن أبي بکر. (۱۴۱۶ھ/۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط۱. تحقیق وتعلیق: أبو اسحٰق الحویني الأثري. الخبر: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.
الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). المعجم الصغیر. ط۱. تحقیق: محمد شکور محمود الحاج أمریر. بیروت: المکتب الإسلامي.
الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.
القضاعي، أبو عبد اللّٰہ، محمد بن سلامۃ بن جعفر. (۱۴۰۷ھ/ ۱۹۸۶م).مسند الشہاب. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مسلم بن الحجاج، النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
النووي، یحیٰی بن شرف، أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

____________

 




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List