Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
بالوں کو رنگنا | اشراق
Font size +/-

بالوں کو رنگنا

تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

—۱—

عَنِ الزُّبَیْرِ، قَالَ:۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’غَیِّرُوا الشَّیْبَ۲، وَلا تَشَبَّہُوْا بِالْیَہُوْدِ [وَالنَّصَارَی]‘‘.۳
زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم لوگ بڑھاپے کا رنگ بدل دیا کرواور اِس معاملے میں اِن یہود ونصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو۱۔

________

۱۔ بالوں کو رنگنا یا نہ رنگنا اصلاً کوئی دینی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔ آگے ابو امامہ باہلی کی پوری روایت پیش نظر رہے تو صاف واضح ہوجاتا ہے کہ عرب کے یہود ونصاریٰ بالوں کا رنگ بدلنے کو مذہبی لحاظ سے کوئی پسندیدہ چیز نہیں سمجھتے تھے۔چنانچہ آپ نے اِسی بنا پر فرمایا کہ تم اُن کی مشابہت اختیار نہ کرو یا اِس معاملے میں اُن کی مخالفت کرو تا کہ اِس مبتدعانہ خیال کی غلطی لوگوں پر واضح ہوجائے۔ زمانۂ رسالت میں یہ اِس لیے ضروری تھا کہ ایسا نہ کیا جاتا تو اِس طرح کی بدعات بعد والوں کے لیے آپ اور آپ کے صحابہ کی تصویب قرار پاسکتی تھیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن اصلاًمسند احمد، رقم۱۴۱۵سے لیا گیا ہے۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ مضمون الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوا ہے۔
زبیر رضی اللہ عنہ سے اِس کے متابعات جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۰۷۴۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۲۹۲۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۶۸۱۔ مسند شاشی، رقم۴۵۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِس کے شواہد اِن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں:مسند احمد، رقم۷۵۴۵۔سنن ترمذی، رقم۱۷۵۲۔مسند بزار، رقم۷۹۴۲، ۸۶۸۱۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۵۹۷۷، ۶۰۲۱۔ صحیح ابن حبان، رقم۵۴۷۳۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۴۸۲۳۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اِس باب کی روایتوں کے مراجع یہ ہیں:السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۰۷۳۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۲۹۱۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۵۶۷۸۔
۲۔بعض طرق، مثلاً مسند احمد، رقم۸۶۷۲میں یہاں ’شَیْبَکُمْ‘ ’’اپنے بڑھاپے کا رنگ ‘‘کے الفاظ روایت ہوئے ہیں، جب کہ بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم۱۰۴۷۲میں ’ہَذَا الشَّیْبَ‘ ’’بڑھاپے کا یہ رنگ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔
۳۔یہ اضافہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اکثر طرق، مثلاً مسند احمد، رقم۸۶۷۲میں نقل ہوا ہے۔

—۲—

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’إِنَّ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارَی لَا یَصْبُغُوْنَ،۲ فَخَالِفُوْہُمْ،۳ [فَاصْبُغُوْا]۴‘‘.۵
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ یہود ونصاری بالوں کو رنگتے نہیں ہیں،سو اِن کی مخالفت کرو اور اِس کے لیے تم بالوں کو رنگ لیا کرو۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند حمیدی، رقم۱۱۳۹سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ مسند حمیدی کے علاوہ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ اِس کے متابعات جن مصادر میں وارد ہوئے ہے، وہ یہ ہیں:جامع معمر بن راشد، رقم ۲۰۱۷۵۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۴۹۹۹۔ مسنداحمد، رقم۷۲۷۴، ۷۵۴۲، ۸۰۸۳، ۹۲۰۹۔ صحیح بخاری، رقم ۳۴۶۲، ۵۸۹۹۔ صحیح مسلم،رقم۲۱۰۳۔ سنن ابن ماجہ، رقم۳۶۲۱۔ سنن ابی داود، رقم۴۲۰۳۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم۵۰۶۹، ۵۰۷۱، ۵۰۷۲، ۵۲۴۱۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۲۸۶، ۹۲۸۷، ۹۲۸۸، ۹۲۸۹، ۹۲۹۰۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۵۹۵۷، ۶۰۰۱، ۶۰۰۳۔مستخرج ابی عوانہ، رقم ۸۷۱۲، ۸۷۱۳، ۸۷۱۴، ۸۷۱۵، ۸۷۱۶۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۹۲۹۶۔صحیح ابن حبان، رقم۵۴۷۰۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۴۸۱۱، ۱۴۸۱۲۔ معرفۃ السنن والآثار،بیہقی، رقم۱۲۸۴۔
۲۔ بعض طرق، مثلاً جامع معمر بن راشد، رقم ۲۰۱۷۵میں یہاں فعل واحد مؤنث ’تَصْبُغُ‘ آیا ہے۔
۳۔ بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم۷۵۴۲میں یہاں’فَخَالِفُوْا عَلَیْہِمْ‘ ’’سو اِس کے بر عکس کر کے تم اِن کی مخالفت کرو‘‘کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔
۴۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۲۸۸۔
۵۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۹۲۹۶میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے آپ کا یہ ارشاد مشرکین کے حوالے سے بھی اِن الفاظ میں روایت ہوا ہے:’إِنَّ الْمُشْرِکِیْنَ لَا یَصْبُغُوْنَ لِحَاہُمْ، فَغَیِّرُوا الشَّیْبَ‘’’یہ مشرکین اپنی ڈاڑھیوں کو نہیں رنگتے،سو تم بڑھاپے کا رنگ بدل دیا کرو‘‘۔

—۳—

إِنَّ أَبَا أُمَامَۃَ البَاہِلِيَّ یَقُوْلُ:۱ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی مَشْیَخَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارٍ بِیْضٌ لِحَاہُمْ، فَقَالَ: ’’یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، حَمِّرُوْا وَصَفِّرُوْا، وَخَالِفُوْا أَہْلَ الْکِتَابِ ... الحدیث‘‘.
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے کچھ بڑے بوڑھوں کی مجلس میں، جن کی ڈاڑھیاں سفید ہوچکی تھیں، تشریف لائے تو اُن سے کہا:انصار کے لوگو،اپنی ڈاڑھیوں کو سرخ یا زرد کر لیا کرو اور اِس معاملے میں اہل کتاب کی مخالفت کرو۱۔

________

۱۔ یہ بعینہٖ وہی حکم ہے جس کی وضاحت پیچھے ہوچکی ہے۔اِس میں سرخ یا زرد رنگ کا ذکر غالبًا مخاطب کی رعایت سے ہوا ہے، اِس لیے کہ بڑھاپے کی جھریوں کے ساتھ اِسی طرح کے رنگ زیادہ مناسبت رکھتے ہیں، اِس کا دین و شریعت کے لحاظ سے کسی ترجیح کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ یہی روایت ہے جو اگر پوری پیش نظر ہوتو صاف واضح ہوجاتا ہے کہ بالوں کو رنگنے کی یہ ہدایات یہود و نصاریٰ کے بعض مبتدعانہ خیالات کی اصلاح ہی کے لیے دی گئی تھیں۔روایت درج ذیل ہے:

إِنَّ أَبَا أُمَامَۃَ البَاہِلِيَّ یَقُوْلُ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی مَشْیَخَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارٍ بِیْضٌ لِحَاہُمْ، فَقَالَ: ’’یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، حَمِّرُوْا وَصَفِّرُوْا، وَخَالِفُوْا أَہْلَ الْکِتَابِ‘‘. قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنَّ أَہْلَ الْکِتَابِ یَتَسَرْوَلَوْنَ، وَلَا یَأْتَزِرُوْنَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’تَسَرْوَلُوْا، وَاءْتَزِرُوْا، وَخَالِفُوْا أَہْلَ الْکِتَابِ‘‘. قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنَّ أَہْلَ الْکِتَابِ یَتَخَفَّفُوْنَ، وَلَا یَنْتَعِلُوْنَ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’فَتَخَفَّفُوْا، وَانْتَعِلُوْا، وَخَالِفُوْا أَہْلَ الْکِتَابِ‘‘. قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنَّ أَہْلَ الْکِتَابِ یَقُصُّوْنَ عَثَانِیْنَہُمْ، وَیُوَفِّرُوْنَ سِبَالَہُمْ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’قُصُّوْا سِبَالَکُمْ، وَوَفِّرُوْا عَثَانِیْنَکُمْ، وَخَالِفُوْا أَہْلَ الْکِتَابِ‘‘.(مسند احمد، رقم۲۲۲۸۳)
’’ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے کچھ بڑے بوڑھوں کی مجلس میں، جن کی ڈاڑھیاں سفید ہوچکی تھیں، تشریف لائے تو اُن سے کہا: انصار کے لوگو، اپنی ڈاڑھیوں کو سرخ یا زرد کر لیا کرو اور اِس معاملے میں اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ابو امامہ کہتے ہیں کہ اِس پر ہم نے سوال کیا: یارسول اللہ، (پھر اِس کا کیا حکم ہے کہ) اہل کتاب شلوار پہنتے ہیں، وہ تہ بندنہیں باندھتے؟ آپ نے فرمایا:تم شلوار بھی پہنو اور تہ بند بھی باندھو اور اِس معاملے میں بھی اُن کی مخالفت کرو۔ہم نے پھر سوال کیا: (اور اِس کا کہ ) اہل کتاب موزے پہنتے ہیں، وہ جوتے نہیں پہنتے؟نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم موزے بھی پہنو اور جوتے بھی اور اِس معاملے میں بھی اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ہم نے سوال کیا: یارسول اللہ، (اور اِس کا کہ) اہل کتاب ڈاڑھی کتراتے اور مونچھیں خوب بڑھاتے ہیں؟ ابو امامہ کہتے ہیں کہ اِس پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مونچھیں تراشا کرو اور ڈاڑھیوں کو خوب بڑھنے دو، (جس طرح وہ مونچھوں کو بڑھنے دیتے ہیں) اوراِس معاملے میں بھی اہل کتاب کی مخالفت کرو۔‘‘

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۲۲۲۸۳سے لیا گیا ہے۔اِس واقعے کے راوی تنہا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ ہیں۔

—۴—

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ، قَالَ: سُءِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ خِضَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:۱ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ لَمْ یَکُنْ شَابَ إِلَّا یَسِیْرًا، وَلَکِنَّ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ بَعْدَہُ خَضَبَا بِالْحِنَّاءِ وَالْکَتَمِ. قَالَ: وَجَاءَ أَبُوْ بَکْرٍ بِأَبِیْہِ أَبِيْ قُحَافَۃَ إِلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۲ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ یَحْمِلُہُ حَتَّی وَضَعَہُ۳ بَیْنَ یَدَيْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَبِيْ بَکْرٍ: ’’لَوْ أَقْرَرْتَ الشَّیْخَ فِيْ بَیْتِہِ، لَأَتَیْنَاہُ‘‘ تَکْرُمَۃً لِأَبِيْ بَکْرٍ، [قَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، ہُوَ أَحَقُّ أَنْ یَمْشِيَ إِلَیْکَ مِنْ أَنْ تَمْشِيَ أَنْتَ إِلَیْہِ، قَالَ: فَأَجْلَسَہُ بَیْنَ یَدَیْہِ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَہُ، ثُمَّ قَالَ لَہُ: ’’أَسْلِمْ‘‘]۴، فَأَسْلَمَ، وَلِحْیَتُہُ وَرَأْسُہُ کَالثَّغَامَۃِ بَیَاضًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’غَیِّرُوْہُمَا، [وَاخْضِبُوْا لِحْیَتَہُ۵]، وَجَنِّبُوْہُ السَّوَادَ۶‘‘.۷وَعَنْ جَابِرٍ فِيْ بَعْضِ الرِوَایَاتِ:۸ فَأَمَرَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِہِ إِلَی نِسَاءِہِ، قَالَ: ’’غَیِّرُوْا ہَذَا [الشَّیْبَ۹] بِشَيْءٍ‘‘.
محمد بن سیرین کی روایت ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے بارے میں پوچھا گیاتو اُنھوں نے بتایاکہ رسول اللہ کے بال بہت کم سفید ہوئے تھے، مگر ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ ، دونوں آپ کے بعد مہندی اور نیل کے پتوں کا خضاب ضرور لگاتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابو بکر فتح مکہ کے دن اپنے والد ابو قحافہ کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور آپ کے پاس پہنچ کر اُن کو اتاردیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر کے اعزاز کا خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر بزرگوں کو گھر ہی میں رہنے دیتے تو ہم خود اُن کے پاس چلے جاتے۔ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ، اُنھی کو چاہیے تھا کہ وہ آپ کے پاس چل کر آئیں، بجاے اِس کے کہ آپ اُن کے پاس چل کر جاتے۔انس کہتے ہیں کہ اِس کے بعد رسول اللہ نے اُن کو اپنے سامنے بٹھایا، اُن کے سینے پر ہاتھ پھیرا۱اور اُن سے کہا: اسلام لے آؤ۔ چنانچہ وہ اسلام لے آئے۔ اُس وقت اُن کی ڈاڑھی اور سر کے بال ثغامہ نامی بوٹی۲کی طرح سفید ہو رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو فرمایا: اِن کا رنگ بدل دو اور اِن کی ڈاڑھی پر خضاب کرو۳، لیکن کالے رنگ سے پرہیز کرنا۴۔جابر رضی اللہ عنہ کی بعض روایتوں میں ہے کہ آپ نے اِس کی ہدایت اُن کی بیویوں کو کی اور فرمایا: اِن کے بڑھاپے کا یہ رنگ کسی اور رنگ سے بدل دو۔

________

۱۔ یہ غالباً اِس لیے کہ اسلام کی جودعوت دلائل کے ساتھ برسوں پیش کی جاتی رہی ، اُس کو قبول کرنے میں اگر کوئی نفسیاتی رکاوٹ ہے تو وہ بھی آپ کے اِس التفات سے دور ہوجائے اور وہ پورے اطمینان اور شرح صدر کے ساتھ ایمان لے آئیں۔اللہ کے پیغمبر کی طرف سے اظہار التفات کا یہ طریقہ برکت دینے کے لیے بھی ہوسکتا ہے، دعا کے لیے اور تسلی دلانے کے لیے بھی۔اِس طرح کے معاملات اُنھی ہستیوں کے ساتھ خاص ہوتے ہیں اور رہنے چاہییں جنھیں اللہ تعالیٰ نبوت ورسالت کے لیے منتخب کرلیتے ہیں ، اِن کا عام لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔قرآن مجید میں اِسی نوعیت کی ایک نمایاں مثال حضرت یوسف علیہ السلام کے کرتے کی ہے جو اُن کے جلیل القدر والدسیدنا یعقوب علیہ السلام کے منہ پر ڈالا گیا تو اُن کی بینائی واپس آگئی۔
۲۔ اِس بوٹی کے پھول اور پھل سفید ہوتے ہیں ، لہٰذا اہل عرب بڑھاپے کی سفیدی کو بالعموم اِسی سے تشبیہ دیتے ہیں۔
۳۔یہود کے زیر اثر قریش کے لوگ بھی، ہوسکتا ہے کہ بال رنگنے کو مذہبی لحاظ سے ناپسندیدہ سمجھتے رہے ہوں۔ چنانچہ قرین قیاس یہی ہے کہ آپ نے یہ ہدایت بھی اُسی مصلحت کے پیش نظر فرمائی، جس کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے۔
۴۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات غالباً اپنے ذوق کے لحاظ سے فرمائی ہے، اِس لیے کہ بڑھاپے کی جھریاں اور سیاہ بال کچھ موزوں نہیں لگتے۔ہم پیچھے بیان کرچکے ہیں کہ اِسے دین کے کسی حکم پر محمول نہیں کرنا چاہیے، اِس لیے کہ دین صرف وہی چیزیں ہوسکتی ہیں جو عبادات سے متعلق ہوں یا تطہیر بدن ، تطہیر خورونوش اور تطہیر اخلاق سے۔ چنانچہ متعدد صحابہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ سیاہ رنگ کا خضاب بغیر کسی تردد کے استعمال کرتے تھے۔ملاحظہ ہو: زادالمعاد، ابن قیم،۴/ ۳۲۶۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن اصلاًمسند احمد، رقم۱۲۶۳۵سے لیا گیا ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ روایت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ جابر رضی اللہ عنہ اور اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہوئی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ سے اِس کے متابعات جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: مسند بزار، رقم۶۷۳۷۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۲۸۳۱۔شرح مشکل الآثار،طحاوی، رقم۳۶۸۶۔ صحیح ابن حبان، رقم۵۴۷۲۔
جابر رضی اللہ عنہ سے اِس کے شواہد اِن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں: مسند ابن جعد، رقم۲۶۵۲۔ مسند احمد، رقم ۱۴۶۴۱۔ صحیح مسلم، رقم۲۱۰۲۔ سنن ابی داود، رقم۴۲۰۴۔ السنن الصغریٰ، نسائی، ۵۰۷۶، ۵۲۴۲۔السنن الکبریٰ، نسائی،رقم۹۲۹۴، ۹۲۹۵۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۱۵۱۲، ۱۵۱۳، ۱۵۱۴، ۸۷۰۶، ۸۷۰۷، ۸۷۰۸، ۸۷۰۹، ۸۷۱۰۔ شرح مشکل الآثار، طحاوی، رقم۳۶۸۳۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۴۷۱۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۵۶۵۸۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۸۳۲۸۔مستدرک حاکم، رقم۵۰۶۸، ۵۰۶۹۔ السنن الکبریٰ،بیہقی، رقم۱۴۸۲۲۔
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے اِس واقعے کے شواہد اِن مراجع میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں:مسند احمد، رقم۲۶۹۵۶۔ شرح مشکل الآثار، طحاوی، رقم۳۶۸۴۔ صحیح ابن حبان، رقم۷۲۰۸۔ المعجم الکبیر،طبرانی، رقم۲۳۶، ۲۳۷۔ معرفۃ الصحابۃ، ابو نعیم، رقم۴۹۱۲۔
۲۔مستدرک حاکم، رقم۵۰۶۸میں ہے: ’أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخَذَ بِیَدِ أَبِيْ قُحَافَۃَ فَأَتَی بِہِ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ ’’عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ابو قحافہ کا ہاتھ پکڑ کر اُنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے‘‘۔
۳۔سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی بعض طرق، مثلاً صحیح ابن حبان، رقم۷۲۰۸میں یہاں یہ الفاط روایت ہوئے ہیں:’فَلَمَّا دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ أَتَاہُ أَبُوْ بَکْرٍ بِأَبِیْہِ یَقُوْدُہُ‘ ’’پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اورمسجد حرام میں تشریف لائے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کو ساتھ لے کر اُن کی خدمت میں حاضرہوئے‘‘۔
۴۔ یہ اضافہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے ایک طریق،مسند احمد، رقم ۲۶۹۵۶سے لیا گیا ہے۔
۵۔یہ اضافہ جابر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۲۹۵سے لیا گیا ہے۔
۶۔بعض طرق، مثلاً صحیح مسلم، رقم ۲۱۰۲میں یہاں’وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ‘’’اور کالے رنگ سے پرہیز کرنا ‘‘کے الفاظ آئے ہیں۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۵۶۵۸میں ہے: ’غَیِّرُوا الشَّیْبَ، وَتَجَنَّبُوا السَّوَادَ‘’’ بڑھاپے کا رنگ بدل دو اور سیاہ رنگ سے بچو‘‘، جب کہ مستدرک حاکم، رقم۵۰۶۸میں ہے: ’غَیِّرُوْہُ وَلَا تُقَرِّبُوْہُ سَوَادًا‘ ’’اِس کا رنگ بدل دو،مگر کالے رنگ سے اِسے دور رکھنا‘‘۔
۷۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۸۳۲۸میں جابر رضی اللہ عنہ سے یہ تفصیل نقل ہوئی ہے: ’فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’اذْہَبُوا بِہِ إِلَی بَعْضِ نِسَاءِہِ یُغَیِّرْنَہُ‘‘، قَالَ: فَذَہَبُوْا بِہِ فَحَمَّرُوْہَا‘ ’’ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنھیں اِن کی بیویوں کے پاس لے جائیے تا کہ وہ اِن کے بالوں کا رنگ بدل دیں، چنانچہ وہ اُنھیں لے گئے، اور اُن کے بالوں کو سرخ کردیا‘‘۔
۸۔صحیح مسلم، رقم۲۱۰۲۔
۹۔ مسند احمد، رقم۱۴۶۴۱۔

—۵—

عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ، قَالَ:۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُیِّرَ بِہِ۲ الشَّیْبُ الْحِنَّاءُ وَالْکَتَمُ‘‘.۳
ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جن چیزوں سے بڑھاپے کا رنگ تبدیل کیا جاتا ہے، اُن میں سے سب سے بہتر مہندی اورنیل کے پتے ہیں۱۔

________

۱۔اِس اسلوب ہی سے واضح ہے کہ یہ بالکل اُسی طرح کی بات ہے جس طرح ہم کہتے ہیں کہ مردوں کے لیے کپڑا لینا ہو تو سفید رنگ سب سے بہتر ہے،اِس سے دین وشریعت کی کوئی ترجیح بیان کرنا مقصود نہیں ہے۔نیل کے پتوں کے لیے اصل میں ’الکَتَم‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اہل لغت کا بیان ہے کہ اِس سے خضاب کے لیے سیاہی مائل رنگ نکلتا ہے۔یہ بات اگر صحیح ہے تو اِس سے ابوقحافہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے متعلق ہمارے اُس نقطۂ نظر کی تائید ہوتی ہے جو ہم نے پچھلی روایت کے تحت بیان کیا ہے کہ آپ نے وہ بات اُن کے بڑھاپے کے ساتھ سیاہ رنگ کی ناموزونیت ہی کے پیش نظر فرمائی تھی۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۲۱۳۳۸سے لیا گیا ہے۔ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔ابو ذر رضی اللہ عنہ سے اِس کے متابعات جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: جامع معمر بن راشد، رقم۲۰۱۷۴۔الآثار، ابویوسف، رقم ۱۰۳۷۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۰۰۱۔ مسنداحمد، رقم ۲۱۳۰۷، ۲۱۳۳۷، ۲۱۳۶۲، ۲۱۳۸۶، ۲۱۴۸۹۔سنن ابن ماجہ، رقم۳۶۲۲۔سنن ابی داود، رقم۴۲۰۵۔سنن ترمذی، رقم ۱۷۵۳۔مسندبزار، رقم۳۹۲۱، ۳۹۲۲۔السنن الصغریٰ،نسائی، رقم۵۰۷۷، ۵۰۷۸، ۵۰۷۹، ۵۰۸۰۔السنن الکبریٰ، نسائی ۹۲۹۶، ۹۲۹۷، ۹۲۹۸، ۹۲۹۹۔ شرح مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۳۶۸۱، ۳۶۸۲۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۴۷۴۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۳۰۱۰۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۶۳۸، ۱۶۳۹۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۴۸۱۸۔شعب الایمان، بیہقی، رقم۵۹۷۹۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اِس باب میں ایک ہی طریق نقل ہوا ہے، جسے مسند ابی یعلیٰ، رقم۲۷۱۳اور معجم ابی یعلیٰ، رقم ۱۱۷میں دیکھ لیا جاسکتا ہے۔
۲۔بعض طرق، مثلاً صحیح ابن حبان، رقم۵۴۷۴میں یہاں ’مَا غُیِّرَ بِہِ‘ کے بجاے ’مَا غَیَّرْتُمْ بِہِ‘ ’’تم نے جن چیزوں سے بڑھاپے کا رنگ تبدیل کیا ہے‘‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
۳۔بعض روایتوں، مثلاً السنن الکبریٰ،نسائی، رقم۹۲۹۶میں آپ کا یہ ارشاد اِس تعبیر کے ساتھ روایت ہوا ہے: ’إِنَّ أَفْضَلَ مَا غُیِّرَ بِہِ الشَّمَطَ الْحِنَّاءُ وَالْکَتَمُ‘ ’’جن چیزوں سے بڑھاپے کے کھچڑی بالوں کی سفیدی تبدیل کی جاتی ہے، اُن میں سے سب سے بہتر مہندی اورنیل کے پتے ہیں‘‘ ۔

المصادر والمراجع

ابن أبی أسامۃ أبو محمد الحارث بن محمد بن داہر التمیمی البغدادی. (۱۴۱۳ھ/ ۱۹۹۲م). بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث. ط۱. تحقیق: د. حسین أحمد صالح الباکری. المدینۃ المنورۃ: مرکز خدمۃ السنۃ والسیرۃ النبویۃ.
ابن أبي شیبۃ أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد العبسي. (۱۴۰۹ھ). المصنف في الأحادیث والآثار. ط۱. تحقیق: کمال یوسف الحوت. الریاض: مکتبۃ الرشد.
ابن الجَعْد علي بن الجَعْد بن عبید الجَوْہَري البغدادي. (۱۴۱۰ھ/ ۱۹۹۰م). المسند. ط۱. تحقیق: عامر أحمد حیدر. بیروت: مؤسسۃ نادر.
ابن الجوزي جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علي. (د.ت). کشف المشکل من حدیث الصحیحین. د.ط. تحقیق: علي حسین البواب. الریاض: دار الوطن.
ابن حبان أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). الصحیح. ط۲.تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حبان أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ). المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.
ابن حجر أحمد بن علي أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/ ۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.
ابن حجر أحمد بن علي أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۴ھ / ۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.
ابن حجر أحمد بن علي أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ھ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. د.ط. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن حجر أحمد بن علي أبو الفضل العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.
ابن حجر أحمد بن علی العسقلانی. (۱۴۱۹ھ). المطالب العالیۃ بزوائد المسانید الثمانیۃ. ط۱. تحقیق: (۱۷) رسالۃ علمیۃ قدمت لجامعۃ الإمام محمد بن سعود. تنسیق: د. سعد بن ناصر بن عبد العزیز الشثری. السعودیۃ: دار العاصمۃ.
ابن شاہین أبو حفص عمر بن أحمد البغدادی. (۱۴۰۸ھ / ۱۹۸۸م). ناسخ الحدیث ومنسوخہ. ط۱. تحقیق: سمیر بن أمین الزہیری. الزرقاء : مکتبۃ المنار.
ابن قانع أبو الحسین عبد الباقی بن قانع بن مرزوق البغدادی. (۱۴۱۸ھ). معجم الصحابۃ. ط۱. تحقیق: صلاح بن سالم المصراتی. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ الغرباء الأثریۃ.
ابن قیم الجوزیۃ محمد بن أبي بکر أیوب الزرعي. (۱۴۰۷ھ/ ۱۹۸۶م). زاد المعاد في ہدي خیر العباد. ط۱۴. تحقیق: شعیب الأرنؤوط وعبد القادر الأرنؤوط. الکویت: مکتبۃ المنار الإسلامیۃ.
ابن ماجہ أبو عبد اللّٰہ محمد القزویني. (د.ت). السنن. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.
أبو داود سلیمان بن الأشعث السِّجِسْتاني. (د.ت). السنن. د.ط. تحقیق: محمد محیي الدین عبد الحمید. بیروت: المکتبۃ العصریۃ.
أبو الشیخ الأصبہانی أبو محمد عبد اللّٰہ بن محمد الأنصاری. (۱۹۹۸م). أخلاق النبی وآدابہ. ط۱. تحقیق: صالح بن محمد الونیان. د.م: دار المسلم للنشر والتوزیع.
أبو عوانۃ یعقوب بن إسحاق النیسابوري الإسفراییني. (۱۴۱۹ھ/ ۱۹۹۸م). المستخرج. ط۱. تحقیق: أیمن بن عارف الدمشقي. بیروت: دار المعرفۃ.
أبو نعیم أحمد بن عبد اللّٰہ الأصبہانی. (۱۴۱۷ھ/ ۱۹۹۷م). فضائل الخلفاء الأربعۃ وغیرہم. ط۱. تحقیق: صالح بن محمد العقیل. المدینۃ المنورۃ: دار البخاری للنشر والتوزیع.
أبو نعیم أحمد بن عبد اللّٰہ الأصبہاني. (۱۴۱۹ھ/ ۱۹۹۸م). معرفۃ الصحابۃ. ط۱. تحقیق: عادل بن یوسف العزازي. الریاض: دار الوطن للنشر.
أبو یعلي أحمد بن علي التمیمي الموصلي. المسند. ط۱. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.
أبو یعلي أحمد بن علي التمیمي الموصلي. (۱۴۰۷ھ). المعجم. ط۱. تحقیق: إرشاد الحق الأثري. فیصل آباد: إدارۃ العلوم الأثریۃ.
أبو یوسف یعقوب بن إبراہیم الأنصاري. د.ت. الآثار. د.ط. تحقیق: أبو الوفا: بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
أحمد بن محمد بن حنبل أبو عبد اللّٰہ الشیباني. (۱۴۲۱ھ / ۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
البخاري محمد بن إسماعیل أبو عبد اللّٰہ الجعفي. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.
البزار أبو بکر أحمد بن عمرو العتکي. (۲۰۰۹م). مسند البزار. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبري عبد الخالق الشافعي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
البیہقی أبو بکر أحمد بن الحسین الخراسانی. (۱۴۰۸ھ /۱۹۸۸م). الآداب. ط۱. تعلیق: أبو عبد اللّٰہ السعید المندوہ. بیروت: مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ.
البیہقی أبو بکر أحمد بن الحسین الخراسانی. (۱۴۰۵ھ). دلائل النبوۃ ومعرفۃ أحوال صاحب الشریعۃ. ط۱. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
البیہقي أبو بکر أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۲۴ھ / ۲۰۰۳م). السنن الکبری. ط۳. تحقیق: محمد عبدالقادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
البیہقي أبو بکر أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۲۳ھ / ۲۰۰۳م). شعب الإیمان. ط۱. تحقیق: الدکتور عبد العلي عبد الحمید حامد. الریاض: مکتبۃ الرشد للنشر والتوزیع.
البیہقي أبو بکر أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۲ہ/ ۱۹۹۱م). معرفۃ السنن والآثار. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجی. القاہرۃ: دار الوفاء.
الترمذي أبو عیسی محمد بن عیسی. (۱۳۹۵ہ/ ۱۹۷۵م). السنن. ط۲. تحقیق وتعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض. مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفی البابي الحلبي.
الحاکم أبو عبد اللّٰہ محمد بن عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۱۱ھ /۱۹۹۰م). المستدرک علی الصحیحین. ط۱. تحقیق: مصطفی عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
الحمیدي أبو بکر عبد اللّٰہ بن الزبیر القرشي الأسدي. (۱۹۹۶م). المسند. ط۱. تحقیق و تخریج: حسن سلیم أسد الدَّارَانيّ. دمشق: دار السقا.
الخطیب أبو بکر أحمد بن علی البغدادی. د. ت. الجامع لأخلاق الراوی وآداب السامع. د.ط. تحقیق: د. محمود الطحان. الریاض: مکتبۃ المعارف.
الدولابی أبو بِشْر محمد بن أحمد الأنصاری الرازی. (۱۴۲۱ھ /۲۰۰۰م). الکنی والأسماء. ط۱. تحقیق: أبو قتیبۃ نظر محمد الفاریابی. بیروت: دار ابن حزم.
الذہبي شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ / ۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.
الذہبي شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ /۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.
الذہبي شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد.(۱۴۱۳ھ / ۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ ۔ مؤسسۃ علوم القرآن.
السیوطي جلال الدین عبد الرحمن بن أبي بکر. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط۱. تحقیق وتعلیق: أبو اسحق الحویني الأثري. الخبر: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الشاشي أبو سعید الہیثم بن کلیب البِنْکَثي. (۱۴۱۰ھ) المسند. ط۱. تحقیق: د. محفوظ الرحمن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
الطبرانی أبو القاسم سلیمان بن أحمد الشامی. (۱۴۰۵ہ/ ۱۹۸۴م). مسند الشامیین. ط۱. تحقیق: حمدی بن عبدالمجید السلفی. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
الطبراني أبو القاسم سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.
الطبرانی أبو القاسم سلیمان بن أحمد الشامی. (۱۴۰۵ہ/ ۱۹۸۵م). المعجم الصغیر. ط۱. تحقیق: محمد شکور محمود الحاج أمریر. بیروت: المکتب الإسلامی.
الطبراني أبو القاسم سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.
الطحاوي أبو جعفر أحمد بن محمد الأزدي المصري. (۱۴۱۵ھ /۱۹۹۴م). شرح مشکل الآثار. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
القاضي عیاض بن موسی أبو الفضل الیحصبي. (۱۴۱۹ھ /۱۹۹۸م). إکمال المعلم بفوائد مسلم. ط۱. تحقیق: الدکتور یحْیَی إِسْمَاعِیل. مصر: دار الوفاء للطباعۃ والنشر والتوزیع.
مسلم بن الحجاج النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي.بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
معمر بن أبي عمرو راشد الأزدي البصري. (۱۴۰۳ہ). الجامع. ط۲. تحقیق: حبیب الرحمن الأعظمي. بیروت: توزیع المکتب الإسلامي.
النساءي أبو عبد الرحمن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۰۶ھ / ۱۹۸۶م). السنن الصغری. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النساءي أبو عبد الرحمن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/ ۲۰۰۱م). السنن الکبری. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
النووي یحي بن شرف أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List