Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Administrator Profile

Administrator

  [email protected]
Author's Bio
Humble slave of Allah!!!
Visit Profile
علامہ ابو الخیر اسدی کی رحلت | اشراق
Font size +/-

علامہ ابو الخیر اسدی کی رحلت

(۲)

مسلمانوں میں بدعقیدگی کا تعلق مجوسیت سے قائم کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’مجوسیت کے نظریات اتنے عالمگیر ہیں کہ دنیا کا کوئی ایک مذہب بھی ایسا نہیں ہے کہ جو اس کے ضرر سے بچ نکلا ہوا، امام اوزاعی تو اہلِ کتاب اور اسلام کے سوا دنیا کے باقی تمام مذاہب کو مجوسیت میں شمار کرتے ہیں۔ ان کا قول ہے:
’’اقوامِ عالم میں اسلام ، یہودیت اور نصرانیت کے علاوہ جتنے مذاہب ہیں وہ سب کے سب مجوسیت میں شامل ہیں۔‘‘ (کتاب الاموال ، ص ۵۴۵، حوالہ عرب و ہند عہدِ رسالت میں، ص ۱۴۸)
اور امام شہر ستانی فرماتے ہیں :
’’مجوسیت دینِ اکبر اور ملتِ عظمیٰ کے نام سے مشہور ہے ۔ سابقہ نبیوں میں سے جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام مجوسیت کی عالم گیر امت کی طرف مبعوث ہوئے تھے ،اسی طرح دوسرا کوئی نبی بھی اتنی وسیع امت کے لیے مبعوث نہیں ہوا تھا۔‘‘ (الملل والنحل ، ج ۱ ، ص ۲۳۰)
اس کی وجہ یہ ہے کہ مجوسیت جس طرح اکثریت کی وجہ سے اکثر ممالک میں پھیلی ہوئی تھی ، اس طرح اس مذہب کے نظریات بھی ایسے خطرناک تھے کہ اس کے لیے ایسے اولی العزم پیغمبر کی ضرورت تھی جو اس پوری ملت کے مہلک نظریات کی اصلاح کر سکے ۔ جس عہد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے ، اس وقت بابلی اور عرب کی مجوسیت صائبہ کے نام سے مشہور تھی، یعنی ہر خطے میں مجوسیت مختلف ناموں کے ساتھ پھیلی ہوئی تھی۔
اصولاً سب کے سب آگ اور کواکب کی پرستش کرتے تھے اور انھیں اپنے اوتاروں اور روحانیات کا مظہر سمجھتے تھے۔ عہدِ ابراہیم کی مجوسیت کے اہم نظریات میں سے ایک یہ نظریہ بھی تھا کہ وہ نبوت کے لیے بشری عوارض کی وجہ سے انسان کو نبی نہ مانتے تھے۔
علامہ شہر ستانی لکھتے ہیں:
’’صائبہ کہتے ہیں کہ اس کائنات کا خالق ایک بھی ہے اور کثیر بھی ۔ وہ ذات کے لحاظ سے تو واحد ہے اور دیکھنے والے کی نگاہ میں جو مختلف صورتیں نظرآ رہی ہیں ، اس وجہ سے وہ کثیر ہے ۔ جیسے آسمان پر تدبر کرنے والے سات ستارے علیحدہ علیحدہ صورتوں میں نظر آتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان ستاروں کے ذریعے اپنے افعال کو ظاہر کرتا ہے اور اپنے آپ کو ان کی صورتوں میں مشخص کر لیتا ہے ۔ اس طرح جو اس کی ذاتی وحدت ہے یہ کثرت اسے باطل نہیں کر سکتی اور بعض دفعہ صائبہ اپنے اس عقیدہ کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں کہ جتنے ہیاکلِ سماویٰ موجود ہیں ان کی ہر صورت میں خدا اپنے آپ کو مشخص کیے ہوئے ہے ، حالانکہ وہ ذات کے لحاظ سے واحد ہے لیکن ان تشخصات کی وجہ سے کثیر ہے۔ ان ہیاکل میں ظاہر ہونے سے مراد یہ ہے کہ ہر ستارے کی استعداد اور اس کے تشخص کے مطابق خدا اپنے کسی نہ کسی فعل کو ان کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔ گویا ان سات ہیاکل کو سات اعضا کے مانند تصور کریں جن کے ذریعے اس کی صفات کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح ہمارے سات اعضا بھی گویا اس خدا کے سات ہیاکل ہیں وہ ہمارے ان اعضا کے ذریعے سے اپنے افعال کو ظاہر کرتا رہتا ہے ۔ پس وہ ہماری زبان کے ساتھ بولتا ہے ، ہماری آنکھوں کے ساتھ دیکھتا ہے ، ہمارے کانوں کے ساتھ سنتا ہے ، ہمارے ہاتھوں کے ساتھ تنگی اور فراخی کرتا ہے اور ہمارے پاؤں کے ساتھ آتا جاتا ہے ۔ غرض یہ کہ ہمارے اندر جتنے جوارح موجود ہیں ان کے ذریعے سے خدا اپنے افعال کو ظاہر کرتا رہتا ہے۔(الملل والنحل ۔ ج ۲ ، ص ۵۴ ۔۵۶) ‘‘

اس کے بعد ابو الخیر اپنے نقطۂ نظر کا استدلال واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جن کمالات کا ذکر قرآن و حدیث میں مذکور ہے وہ سب کمالات شہادت دے رہے ہیں کہ آپ کے عنصری وجود پر تمام پیغمبرانہ خصائص کی انتہا اور نبوت و رسالت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے ۔ اب دنیا کسی نئے آنے والے نبی کے وجود سے بالکل مستغنی ہو گئی ہے ۔ لسان العرب ، صحاح جوہری ، قاموس کے تمام ائمۂ لغت نے لفظ ’’ختم‘‘ کے لغوی معنی یہ بیان کیے ہیں کہ کس چیز کو اس طرح بند کرنا کہ نہ اس کے اندر کی چیز باہر نکل سکے اور نہ باہر کی چیز اندر جا سکے ۔ اسی سے اس کے دوسرے معنی کسی شے کو بند کر کے اس پر مہر کرنا بھی کرتے ہیں ، جو اس بات کی علامت ہے کہ نہ اس کے اندر سے کوئی چیز باہر نکلی ہے اور نہ کوئی باہر کی چیز اس کے اندر گئی ہے ۔
لفظ خاتم کی دو قرأتیں ہیں ۔ مفسر ابن جریر اور ابن حبان اندلسی لکھتے ہیں کہ خاتم کی مشہور قرأت تا کے زیر کے ساتھ ہے جس کا معنی ختم کرنے والا ہے ۔ اور دوسری قرأت خاتم کے زبر کے ساتھ ہے جس کا معنی ہے ، وہ شے جس کے ذریعے سے کسی چیز کو بند کر دیا جائے اور اس پر مہر لگا دی جائے تاکہ اسے کوئی کھول نہ سکے ۔ اور نہ اس کے اندر کی چیز باہر جا سکے ۔ الغرض دونوں حالتوں میں آیت پاک کا حاصلِ معنی ایک ہی ہو گا کہ آپ کا عنصری وجود پیغمبروں کے سلسلے کو بند کرنے والا اور ان پر مہر لگا دینے والا ہے تاکہ آیندہ کوئی نیا شخص پیغمبروں کی مقدس جماعت میں داخل نہ ہو سکے ۔ اس کی تشریح احادیث میں اس طرح ہے:
’’میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، بلکہ خلفا آتے رہیں گے۔ ‘‘
(بخاری ، ج ۱ ، ص ۴۹۱ ۔ مسلم ، ج۲ ، ص ۴۹۱)
محدث ابنِ حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے آپ کے عنصری وجود کے بعد نبیوں کے طویل سلسلے کو بند کر دیا ہے اور آپ پر شریعت کی بھی تکمیل کر دی گئی ہے۔ ‘‘ (فتح الباری بحوالہ حاشیہ بخاری ، ج ۱ ، ص ۵۰۱)
ترمذی میں ہے :
’’رسالت اور نبوت کا سلسلہ بالکل منقطع ہو چکا ہے ۔ میرے بعد اب نہ کوئی نیا بنی آ سکتا ہے اور نہ کوئی رسول۔‘‘
(ترمذی ج ۲ ، ص ۱۲۹ )
محدث ابن التین فرماتے ہیں :
’’اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ وحی کا سلسلہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ساتھ ہی ختم ہو چکا ہے۔‘‘
(حاشیہ بخاری ، ج ۲ ، ص ۱۰۳۵)
قرآن اور احادیث میں جو خاتم النبیین کی تشریح کی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی موت کے بعد جو آپ کے عنصری وجود پر طاری ہوئی تھی ، اس موت کے بعد نہ کوئی نیا نبی آ سکتا ہے اور نہ اس موت کے بعد وحی کا سلسلہ جاری ہو سکتا ہے۔ یعنی ذاتِ نبویہ کی موت کے وقت سے لے کر تاقیامت ہر قسم کی نبوت کا باب بند کر دیا گیا ہے ۔ اسے زمانی ختمِ نبوت کہتے ہیں اور اسی عقیدہ پر جمہورِ امت کا اتفاق ہے لیکن جناب نانوتوی صاحب نے اس کا خلاف کرتے ہوئے ختمِ نبوت کا ایک دوسرا مفہوم اختراع کیا ہے جس کا نام ہے ’’مرتبی ختمِ نبوت‘‘ ۔ اس کا آسان مفہوم یہ ہے کہ کائنات سے قبل خدا نے آپ کا نور پیدا کر کے اس میں نبوت کے سارے مادے کو جمع کر دیا تھا جب تک حضرت آدم پیدا نہ ہوئے تھے آپ کی یہ روحانی نبوت سارے نبیوں کی ارواح کی مربی تھی۔ جب حضرت آدم پیدا ہوگئے تو آپ کی مرکزی نبوت سے فیض حاصل کر کے اپنے عہد میں تبلیغ کرتے رہے ۔ اس کے بعد سلسلہ وار ہر نبی اپنے اپنے عہد میں آپ کی نبوت سے فیض لے کر بطور سفیر کام کرتے رہے ۔ اس کے بعد جب آپ اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ نے فرمایا میری موت کے بعد اب نیا نبی نہیں آئے گا اس لیے نبوت کا مکمل طور پر انقطاع ہو چکا ہے لیکن نانوتوی اور اس کے ہم خیال علما کے نزدیک مرتبی نبوت کے بعد چونکہ حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک نبی آتے رہے تھے لہٰذا نانوتوی صاحب لکھتے ہیں کہ آپ کی وفات کے بعد مرتبی نبوت کے تحت بالفرض اگر کوئی نیا نبی آ جائے تو آپ کی مرتبی ختم نبوت میں فرق نہیں آئے گا ۔ لیکن زمانی ختم نبوت کے تحت ’’لانبی بعدی‘‘ کے قانون میں فرق آ جائے گا ۔ نانوتوی کا یہ نظریہ ابنِ عربی کی حقیقت محمدیہ سے ماخوذ ہے۔ ابنِ عربی کہتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد تشریعی نبی نہیں آ سکتا لیکن غیر تشریعی نبی آتے رہیں گے۔ ابنِ عربی کے اصل الفاظ یہ ہیں:
’’ذاتِ نبویہ کے بعد مطلق نبوت مرتفع نہیں ہوئی بلکہ تشریعی نبوت کا ارتقاع ہو چکا ہے۔ ‘‘
(الیواقیت والجواہر ، ج ۲ ، ص ۲۴)
ابنِ عربی کے ان الفاظ پر آپ تدبر کے ساتھ غور کریں کہ اس کے نزدیک نبوت کی کیا تعریف ہے ۔ یعنی نبوت اپنے اطلاق کی وجہ سے اتنا وسیع مقام رکھتی ہے کہ آپ کی وفات صرف تشریعی نبوت کو تو ختم کر سکتی ہے، لیکن آپ کی وفات سے مطلق نبوت کی وسعت ختم نہیں ہو سکتی جس کی وجہ سے غیر تشریعی نبوت کا اجرا ہوتا رہے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابنِ عربی کے نزدیک ذاتِ نبویہ کی جامع نبوت پر نبوت کا وسیع اطلاق عائد نہیں ہو سکتا بلکہ وہ مطلق نبوت کا ایک مخصوص حصہ ہے ۔ یہ مخصوص حصہ صرف تشریعی نبوت کو تو بند کر سکتا ہے لیکن غیر تشریعی نبوت کے اجرا کو بند نہیں کر سکتا۔
(مقامِ نبوت کی عجمی تعبیر، ص ۳۷۔ ۳۸ ،۲۴۷۔ ۲۵۱) ‘‘

اوپر مذکورہ اقتباسات سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ابو الخیر گردوپیش سے بے نیاز صرف گہری نظریاتی تحقیقات ہی میں ڈوبے رہتے تھے، بلکہ وہ معاشرے پر بالخصوص مذہبی دنیا پر بھی نگاہ رکھتے تھے ۔ ایک مقام پر ’’اہلِ علم کی موجودہ روش پر چند آنسو‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں :

’’ہمارے دور میں دینی مدرسوں میں جو عربی نصاب پڑھایا جاتا ہے وہ اتنا کمزور ہے کہ ان سے فارغ شدہ علما لکھے ہوئے ترجمہ کے بغیر قرآن کی ایک آیت کا بھی صحیح ترجمہ نہیں کر سکتے ۔ علامہ تفتازانی کی شرح عقائد علمِ کلام کی اعلیٰ ترین کتاب ہے۔ یہ کتاب چونکہ عویق انداز میں لکھی گئی ہے ، اس لیے اس کے فلسفیانہ دلائل کو طلبا کے سقیم اذہان اچھی طرح نہیں سمجھ سکتے پس امتحان میں انھیں چند اعزازی نمبر دے کر پاس کر دیا جاتا ہے ۔ اس لیے وہ علمِ کلام میں کمزور ہوتے ہیں۔ قرآن کی تفہیم کے لیے سورۂ بقرہ کے چند رکوع تبرکاً بیضاوی وغیرہ سے پڑھا دیے جاتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں احناف کی اکثریت ہے ۔ ان کے مقابلے میں اہلِ حدیث کے مدرسے ہیں ۔ دونوں حضرات اپنے اپنے مدرسوں میں مشکوٰۃ اور صحاحِ ستہ کا دورہ کرواتے ہیں ۔ چونکہ ان دونوں حضرات کے درمیان تقلید ، سورۂ فاتحہ خلف الامام ، آمین بالجہر وغیرہ میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس لیے وہ حدیث کے اس سارے نصاب میں ان ہی مسائل کی تردید اور تائید پر زور لگاتے رہتے ہیں ۔ فارغ ہونے کے بعد جن کے گلے میں کچھ مٹھاس ہوتی ہے ، وہ واعظ بن جاتے ہیں ۔ اگر تقریر میں کچھ شاطرانہ روش رکھتے بھی ہوں تو مناظر بن جاتے ہیں ۔ اگر کچھ ذہنی ذکاوت رکھتے ہوں تو تدریس کا پیشہ اختیار کر لیتے ہیں ۔ا گر وہ کسی خاص قابلیت کے حامل نہ ہوں تو حاجی بوٹا کی مسجد میں امام بن جاتے ہیں ۔ دین کے ان تمام شعبوں میں معاشی ضروریات کو زیادہ مقدم رکھا جاتا ہے۔ چونکہ علما کی معاشی ضروریات کو عوامی چندوں کے ذریعے سے پورا کیا جاتا ہے اس لیے چندے کی وصولی میں حرام و حلال کا امتیاز بالکل ختم ہو جاتا ہے حتیٰ کہ چندوں میں بینک کی سودی رقم بھی وصول کر لیتے ہیں ۔ اہلِ علم جب ایسے حرام مال کو استعمال کرتے ہیں تو اس کی تاثیر سے ان کے علم و اخلاق میں تقویٰ کا نور ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ جب دین کے معاملے میں ایسے حالات جمع ہو جائیں تو ان میں رازی ، غزالی ، تفتازانی ، زمخشری اور جرجانی جیسے ذی علم کیسے پیدا ہو سکتے ہیں۔ پھر اس کا نتیجہ یہی تو نکلے گا : بلھے شاہ اور خواجہ فرید کے مجازی کلام کو معارفِ الہٰیہ کا اعلیٰ مقام سمجھا جائے گا ۔ ‘‘ (فلسفۂ توحید کی عجمی تشکیل، ص ۷۴۔ ۷۵)

علامہ ابو الخیر اسدی علماے دین کی ان تمام خامیوں سے پاک و صاف تھے جن کا اوپر ذکر ہوا ہے ۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ابو الخیر کی وفات سے دین و دانش کی دنیا میں کتنا بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ مگر کوئی عالم ہو یا عامی، اسے ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہی ہے۔ اُمید ہے کہ ان کے جانشیں ان کی قائم کی گئی روایات کو زندہ رکھیں گے۔
ہم اس شعر کے ساتھ اپنی بات ختم کرتے ہیں کہ:

اب اس کے سوگ میں کچھ اور کیا کہیں ہم لوگ
کہ  مرنے  والا  تو  ہم  سے  زیادہ  زندہ  تھا

____________

 




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List