Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

​البیان: خصائص و امتیازات (۲) (2/3) | اشراق
Font size +/-

​البیان: خصائص و امتیازات (۲) (2/3)

البیان: خصائص و امتیازات (۲) (1/3)

منہج و طریق

بعض باتیں اصولی حیثیت نہیں رکھتیں اورہرمقام پرالگ سے اپنائی گئی ہیں،مگر اس لحاظ سے بڑی اہمیت کی حامل ہیں کہ وہ معنی کی تعیین کے طریقۂ کارکوبالکل واضح کردینے والی ہیں،جیساکہ لفظ کی ساخت،لفظ کے عوارض، دیگر الفاظ، سیاق وسباق اورعرف ونظائر۔

لفظ کی ساخت

عربی زبان میں لفظ کی کنسٹرکشن معنی ومفہوم پراچھاخاصااثررکھتی ہے۔تراجم میں بالعموم اس کی رعایت کی جاتی ہے، مگر اس سے بعض معانی ایسے بھی پیداہوتے ہیں جو بسا اوقات نظر انداز ہو کر رہ جاتے ہیں۔اس بات کی وضاحت ایک سے زائد عنوانات کے تحت کی جاسکتی ہے،مثلاً:

۱۔ مصدراوراُس کے مشتقات

یُطَافُ عَلَیْھِمْ بِکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ م. بَیْضَآءَ لَذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ.(الصافات ۳۷: ۴۵۔ ۴۶)
’’اُن کے لیے شراب ناب کے جام گردش میں ہوں گے۔ بالکل صاف شفاف،پینے والوں کے لیے لذت ہی لذت۔‘‘

یہ اہل جنت کودی جانے والی نعمتوں کابیان ہے کہ اُنھیں شراب خالص کے جام دیے جارہے ہوں گے۔ وہ دیکھنے میں صاف شفاف اورپینے والوں کے لیے ’لَذَّۃ‘ ہوں گے۔یہاں ’لَذَّۃ‘ اصل میں مصدرہے اور صفت کے مفہوم میں آیاہے اورہم جانتے ہیں کہ جب مصدر صفت کے مفہوم میں استعمال ہوتواُس میں ایک طرح کامبالغہ پیدا ہو جایا کرتا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ’’البیان‘‘ میں اس لفظ کا ترجمہ صرف ’’لذت‘‘ یا ’’لذیذ‘‘ کرنے کے بجاے ’’لذت ہی لذت ‘‘کیاگیاہے۔
قرآن میں اس کی اوربھی کئی مثالیں موجودہیں،جیساکہ یہ آیت:

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖٓ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ.(الزخرف ۴۳: ۲۶)
’’یادکریں جب ابراہیم نے اپنے باپ سے اوراپنی قوم کے لوگوں سے کہاتھاکہ جنھیں تم پوجتے ہو،میں اُن سے بالکل بری ہوں۔‘‘

یہاں بھی مصدر ’بَرَآء‘ صفت کے مفہوم میں آیاہے اور ’’البیان‘‘ میں اس سے پیداہوجانے والے مبالغے کو ’’بری ہوں‘‘ کے ساتھ’’بالکل ‘‘کالفظ لاکراداکیاگیاہے۔
بعض اوقات مصدرترجمے میں تاکیدکامعنی بھی پیداکردیتاہے،جیساکہ اس آیت میں:

کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ.(الانبیاء ۲۱: ۱۰۴)
’’ہم نے جس طرح پہلی خلقت کی ابتداکی تھی، اُسی طرح ہم اُس کااعادہ کریں گے۔یہ ہمارے ذمے ایک حتمی وعدہ ہے،ہم اس کو ضرورکرکے رہیں گے۔‘‘

اس آیت کاترجمہ کرتے ہوئے عام طورپرمترجمین سے ’وَعْدًا‘ کا مصدر موکّد ہونا نظر انداز ہو گیا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں اس کی پوری رعایت کی گئی ہے اورترجمے میں اس کے لیے’’ حتمی‘‘ کالفظ لایاگیاہے۔
ترجمے میں مصدر کی طرح اس کے مشتقات کامعاملہ بھی بڑاغورطلب ہوتاہے۔جیساکہ مثال کے طورپراسم فاعل کا:

اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ لَّا رَیْبَ فِیْھَا وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ.(المومن ۴۰: ۵۹)
’’یہ بالکل قطعی ہے کہ قیامت آکے رہے گی،اِس میں کوئی شک نہیں،مگراکثرلوگ مان نہیں رہے ہیں۔‘‘

یہاں قیامت کے بارے میں فرمایا ہے: ’لَاٰتِیَۃٌ‘۔یہ اسم فاعل ہے اورہم جانتے ہیں کہ قدیم عربی زبان میں فاعل کا وزن فعل میں زورلانے اور قطعیت کوظاہرکرنے کے لیے بھی لایاجاتا ہے۔بالعموم اردوکے مترجمین اس سے زیادہ واقف نہیں ہیں،مگر ’’البیان‘‘ کے مذکورہ ترجمے میں اسے بیان کرنے کی اچھی کوشش کی گئی ہے۔
یہ فاعل جس طرح اللہ کی طرف سے کیے گئے وعدے کی قطعیت کے لیے آیاہے،اسی طرح بعض اوقات یہ اُس کے عزم جازم اور حتمی فیصلے کے لیے بھی آجاتاہے۔ اس کے لیے ذیل کی آیتوں کودیکھ لیاجاسکتاہے جن میں ’جٰعِلُوْن‘ اور ’فٰعِلِیْن‘ کے الفاظ میں پائے جانے والے اس مفہوم کواردومیں مختلف طریقوں سے اداکیاگیاہے:

وَاِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْھَا صَعِیْدًا جُرُزًا.(الکہف ۱۸: ۸)
’’ہم اُن سب چیزوں کوجوزمین پرہیں(ایک دن بالکل نابودکرکے اُس کو)ایک چٹیل میدان بنادینے والے ہیں۔‘‘
کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ.(الانبیاء ۲۱: ۱۰۴)
’’ہم نے جس طرح پہلی خلقت کی ابتداکی تھی، اُسی طرح ہم اُس کااعادہ کریں گے۔یہ ہمارے ذمے ایک حتمی وعدہ ہے،ہم اس کو ضرورکرکے رہیں گے۔‘‘

ذیل کی آیت میں ’کُنَّا مُرْسِلِیْنَ‘ بھی فاعل کے وزن سے بنا ہوا ’کُنَّا فٰعِلِیْنَ‘ کی طرح کا اسلوب ہے جو خدا کے حتمی فیصلہ کوبیان کرنے کے لیے لایاگیاہے:

وَمَا کُنْتَ ثَاوِیًا فِیْٓ اَھْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَا وَلٰکِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ.(القصص ۲۸: ۴۵)
’’تم مدین والوں کے درمیان بھی موجودنہ تھے،اُن کوہماری آیتیں سناتے ہوئے،لیکن ہم فیصلہ کرچکے تھے کہ تمھیں رسول بنائیں۔ ‘‘

فاعل کی طرح مفعول کے وزن کا بھی یہی معاملہ ہے، یہ بھی اپنے اندرایک طرح کی تاکیداورقطعیت رکھتا ہے۔ دیگر ترجموں کے برعکس، ’’البیان‘‘ میں اس کی بھی پوری پوری رعایت رکھی گئی ہے،جیساکہ ذیل کی آیت میں ’مَفْعُوْلًا‘ کا ترجمہ محض ہوجانے والی بات نہیں کیا، بلکہ اس میں پائی جانے والی حددرجہ قطعیت کوبھی بیان کیاہے:

وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا.(النساء ۴: ۴۷)
’’اور(یادرکھوکہ)خداکی بات ہوکررہتی ہے۔‘‘

اسم تفضیل عام طورپردوسروں کے مقابلے میں مصدری معنی کی زیادتی کوبیان کرنے کے لیے آتاہے،لیکن یہ بعض اوقات ہرطرح کے تقابل سے مجردہوکربھی آجایاکرتاہے:

وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَھُوَ یُخْلِفُہٗ وَھُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ.(سبا ۳۴: ۳۹)
’’اُس کی راہ میں جوچیزبھی تم خرچ کروگے،وہ اُس کاصلہ دے گااوروہ بہترین رزق دینے والا ہے۔‘‘

دیکھ لیاجاسکتاہے کہ ’خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ‘ کا ترجمہ ’’سب سے بہتررزق دینے والا‘‘کرنے کے بجاے’’ بہترین رزق دینے والا‘‘ کیا گیا ہے،اوراس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں اسم تفضیل، یعنی ’خَیْر‘ کالفظ کسی طرح کی ترجیح کے مفہوم میں نہیں،بلکہ محض بیان صفت کے لیے آگیاہے۔
اسم صفت بھی بعض مقامات پرکچھ خاص معنی اداکرتاہے:

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلاً مِّنْکُمْ وَاَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ.(البقرہ ۲: ۸۳)
’’پھرتم میں سے تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب (اُس سے) پھر گئے اورحقیقت یہ ہے کہ تم پھر جانے والے لوگ ہی ہو۔‘‘

یہاں فعل ’تَوَلَّیْتُمْ‘ کے بعد ’مُعْرِضُوْنَ‘ کی صفت آئی ہے۔فعل کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ یہ اپنے اندر ایک طرح کا حدوث رکھتاہے ، مگراس کے مقابلے میں صفت کے اندرکسی چیزکے مستقل وصف اورخصلت ہونے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ چنانچہ ’’البیان‘‘ میں ’تَوَلَّیْتُمْ‘ کاترجمہ ’’پھرگئے‘‘ کیا گیاہے جومحض وقوع پذیرہونے والے ایک فعل کا بیان ہے، مگر ’مُعْرِضُوْنَ‘ کا ترجمہ’’تم پھرجانے والے لوگ ہی ہو‘‘کیا گیا ہے جواُن لوگوں کے کردارکے ایک مستقل پہلو کوبیان کررہاہے۔

۲۔ صیغوں کا اختلاف

صیغوں کے بدل جانے سے بھی لفظ کے معنی بدل جاتے ہیں۔عام طورپرتثنیہ کاصیغہ دواورجمع کا صیغہ تین اور اس سے زائد افراد کے لیے لایاجاتاہے،مگرہم جانتے ہیں کہ بعض اوقات ان صیغوں سے کچھ اورمعانی کااِبلاغ بھی پیش نظرہوتاہے:

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ.(الرحمن ۵۵: ۱۷)

’’وہی مشرق کارب ہے،اُس کے دونوں کناروں تک، اور وہی مغرب کا رب ہے، اُس کے دونوں کناروں تک۔‘‘

اس آیت میں ’الْمَشْرِقَیْن‘ اور ’الْمَغْرِبَیْن‘ تثنیہ کی صورت میں آئے ہیں۔مترجمین نے ان کاترجمہ ’دو مشرق‘ اور ’دو مغرب‘ کے الفاظ میں کیاہے اوراس سے بالعموم گرمی اورسردی کے مشرق مرادلیے ہیں۔دراں حالیکہ عربی زبان میں تثنیہ کسی چیزکے دونوں کناروں کو بیان کرنے کے لیے بھی آتاہے۔اوریہی وجہ ہے کہ ’’البیان‘‘ میں اس کاترجمہ کرتے ہوئے ’’اُس کے دونوں کناروں تک‘‘کی وضاحت کردی گئی ہے۔
ذیل کی آیت بھی اس کی ایک اچھی مثال ہے جس میں ’صَدَفَیْن‘ کے تثنیہ سے اصل میں پہاڑوں کے درمیان خلا کے دونوں کناروں کو بیان کرنامقصودہے:

حَتّٰٓی اِذَا سَاوٰی بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا.(الکہف ۱۸: ۹۶)
’’یہاں تک کہ جب اُس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان خلاکوپاٹ دیاتوکہاکہ دھونکو۔‘‘

جمع کاصیغہ بھی بعض اوقات جمع کے بجاے وسعتِ اطراف کوبیان کرنے کے لیے آجاتاہے:

فَلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ.(المعارج ۷۰: ۴۰)
’’سو نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اُس کی جو مشرق و مغرب کی تمام وسعتوں کامالک ہے۔‘‘

اس آیت میں ’الْمَشٰرِق‘ اور ’الْمَغٰرِب‘ جمع کے صیغے ہیں۔ ان کاترجمہ اکثرمترجمین نے ’’مشرقوں‘‘ اور ’’مغربوں‘‘ کے الفاظ میں کیا ہے اوراس سے سورج کے مختلف مطالع اورمغارب کومراد لیا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں جمع کے اس خاص پہلوکالحاظ کرتے ہوئے کہ یہ بعض اوقات کسی شے کے اطراف کی وسعت کوبیان کرنے کے لیے بھی آتا ہے، اس کاترجمہ یوں کیاگیا ہے:’’جومشرق ومغرب کی تمام وسعتوں کامالک ہے۔‘‘
قرآن میں جمع کاصیغہ اس کے علاوہ بھی کئی مفاہیم کے پیش نظراستعمال کیاجاتاہے:

فَلَا تَذْھَبْ نَفْسُکَ عَلَیْھِمْ حَسَرٰتٍ.(فاطر ۳۵: ۸)
’’سواِن پرافسوس کرکرکے تم اپنے کوہلکان نہ کرو۔‘‘

یہاں ’حَسَرٰت‘ کے لفظ کی جمع اصل میں اُن لوگوں پرکیے جانے والے غم اورافسوس کی شدت کوبیان کرنے کے لیے ہے۔یہی وجہ ہے کہ ’’البیان‘‘ میں اس کاترجمہ کرتے ہوئے ’’افسوس کرکرکے‘‘ کے الفاظ لائے گئے ہیں اور ان میں ’’کر‘‘ کی تکراردرحقیقت افسوس کی اسی شدت کوظاہرکرنے کی ایک کوشش ہے۔
بعض اوقات جمع کاصیغہ کسی شے کے وجودکوبیان کرنے کے لیے بھی آجایاکرتاہے:

فَاِنْ کَانَ لَہٓٗ اِخْوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ مِنْ م بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْ بِھَآ اَوْدَیْنٍ.(النساء ۴: ۱۱)
’’لیکن اُس کے بھائی بہن ہوں توماں کے لیے وہی چھٹاحصہ ہے(اورباپ کے لیے بھی وہی چھٹا حصہ)۔ یہ حصے اُس وقت دیے جائیں، جب وصیت جو اُس نے کی ہو،وہ پوری کردی جائے اور قرض، (اگر ہو تو) ادا کر دیا جائے۔‘‘

اس آیت میں ’اِخْوَۃ‘ جمع کاصیغہ ہے،چنانچہ مترجمین نے اس کاترجمہ کرتے ہوئے ’’کئی بھائی‘‘ یا’’ایک سے زیادہ بھائی یابہن‘‘وغیرہ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ’’البیان‘‘ میں اس کے لیے محض ’’بھائی بہن‘‘ کے الفاظ لائے گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ’اِخْوَۃ‘ جمع کی صورت میں ہونے کے باوجود بیان عدد یابیان نوع کے لیے نہیں، بلکہ محض بیان وجودکے لیے آیا ہے۔جمع کایہ استعمال ہماری زبان میں بھی پایاجاتا ہے۔جیساکہ ہم کسی دوست کو گاڑی میں جاتے دیکھیں اوروقت ملاقات اُس سے کہیں: ’’بڑے مزے ہورہے ہیں،جناب گاڑیوں میں پھرتے ہیں۔‘‘ یہاں ’گاڑیوں‘ کالفظ جمع کی صورت میں آیاہے ،مگراس سے ہماری مرادنہ گاڑیوں کی تعداد بتانا ہے اورنہ اُن کی کسی مخصوص قسم کا تذکرہ کرنا۔
ماضی اورمضارع کے صیغے بھی عمومی معنی کے ساتھ ساتھ کچھ مزید معانی کااِبلاغ کرتے ہیں:

اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ.(الکوثر ۱۰۸: ۱)
’’ہم نے یہ خیرکثیرتمھیں عطاکردیاہے،(اے پیغمبر)۔‘‘

یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’الْکَوْثَر‘ دیے جانے کی خوش خبری سنائی جارہی ہے،مگراس کے لیے ماضی کا صیغہ لایاگیا ہے۔گویا یہ مستقبل میں ہونے والا واقعہ خداکے ہاں اس قدرحتمی ہے کہ سمجھ لیاجائے کہ یہ ابھی سے واقع میں آچکا۔ ’’البیان‘‘ میں دیگرمترجمین کی طرح ’اَعْطَیْنَا‘ کا ترجمہ فعل ماضی میں کیاگیاہے،مگراس کے بعدوالے جملوں میں ’’تم اپنے پروردگارکی نمازپڑھواوراُسی کے لیے قربانی کرو‘‘کہنے کے بجاے’’تم اپنے پروردگارکی نماز پڑھنا‘‘ اور ’’اُسی کی قربانی کرنا‘‘کے الفاظ لائے گئے ہیں اوراسلوب کی اس تبدیلی سے پیش نظر یہی ہے کہ ’اَعْطَیْنَا‘ کا فعل ماضی وعدے کی قطعیت کوتوضروربیان کرے،مگراگلے جملوں میں’’ کرنا‘‘یہ بھی بتادے کہ بہرکیف یہ مستقبل میں پوری ہونے والی ایک بشارت ہی ہے۔

وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ ذٰلِکَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ.(ق ۵۰: ۲۰)

’’اور (وہ دیکھو) صور پھونکا گیا۔ یہ وہی دن ہے جس کی وعیدہم نے تمھیں سنائی تھی۔‘‘

یہاں بھی قیامت کے احوال کاماضی کے صیغے میں ذکرکیاگیاہے۔اس سے مقصودایک بات تووہی ہے کہ خداکے وعدوں کی قطعیت کوبیان کیا جائے ،مگراس سے مقصوددوسری بات یہ ہے کہ اُن احوال کوقاری کی آنکھوں کے سامنے مصوربھی کر دیا جائے۔ ’’البیان‘‘ میں ’نُفِخَ‘ کاترجمہ کرتے ہوئے اس دوسری بات کی بھی رعایت کی گئی ہے اوراس غرض سے’’وہ دیکھو‘‘کے الفاظ لائے گئے ہیں۔
ماضی کی طرح مضارع بھی بعض اوقات کچھ خاص معنی اداکرتاہے،جیساکہ اس آیت میںیہ استمرارکابیان کر رہا ہے:

وَاٰتٰہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآءُ.(البقرہ ۲: ۲۵۱)
’’اوراللہ نے اُسے بادشاہی دی اورحکمت عطا فرمائی اوراُسے اُس علم میں سکھایا جو اللہ چاہتا ہے (کہ اپنے اِس طرح کے بندوں کو سکھائے)۔‘‘

یہاں ’عَلَّمَہٗ‘ کے فعل ماضی کے بعدہوناتویہ چاہیے تھا کہ ’مِمَّا شَآء‘ ہوتا، مگر دیکھ لیاجاسکتاہے کہ اس کے بجاے مضارع، یعنی ’مِمَّا یَشَآءُ‘ لایا گیاہے۔دراصل، اللہ نے نہیں چاہاکہ علم کی اس نعمت کابیان حضرت داؤدسے مخصوص ہو کر رہ جائے،بلکہ اُس نے چاہا ہے کہ وہ اسے اپنی ایک مستقل سنت کی حیثیت سے بیان کرے۔چنانچہ ’’البیان‘‘ میں ’مِمَّا یَشَآءُ‘ کا ترجمہ مضارع میں کرنے کے بعداس سے پیداہونے والے استمرارکے مفہوم کو بھی قوسین میں کھول دیاگیاہے۔

۳۔ ابواب کی خاصیات

عربی زبان میں لفظ مختلف ابواب میں کنسٹرکٹ ہوتاہے۔ اس سے بھی اس کے معنی میں بعض خاصیات پیدا ہو جاتی ہیں اور ترجمہ کرتے ہوئے ضروری ہوتاہے کہ ان کا خصوصی طورپرلحاظ رکھاجائے:

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ.(البقرہ ۲: ۹)
’’وہ اللہ اوراہل ایمان،دونوں کوفریب دیناچاہتے ہیں ،اورحقیقت یہ ہے کہ اپنے آپ ہی کوفریب دے رہے ہیں ۔‘‘

اس آیت میں ’یُخٰدِعُوْنَ‘اور ’یَخْدَعُوْنَ‘ کے دوالفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ مترجمین نے عام طورپران دونوں کا ترجمہ ایک جیسا کیاہے، یعنی دھوکااورفریب دینا، حالاں کہ ہم جانتے ہیں کہ ایک ہی مقام پردومختلف ابواب سے فعل آجائیں توان کاایک جیساترجمہ کر دینا کچھ زیادہ موزوں نہیں۔ ’’البیان‘‘ میں ’خدع‘ اور ’مخادعۃ‘ کا ترجمہ مختلف طریقے سے کیاگیا ہے، یعنی ’خدع‘ سے مراد فریب دینا اور ’مخادعۃ‘ سے مراد فریب دینے کی کوشش کرنا۔۱۲؂ اور دیکھ لیا جا سکتا ہے کہ اس ترجمے سے وہ ساری بحثیں آپ سے آپ ختم ہوگئی ہیں جو تفسیرکی کتابوں میں اس فرق کوملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے پیداہوگئی ہیں۔

فَلَمَّا رَاَیْنَہٗٓ اَکْبََرْنَہٗ وَقَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ.(الیوسف ۱۲: ۳۱)
’’پھرجب عورتوں نے اُس کودیکھاتواُس کی عظمت سے مبہوت ہو گئیں اور(اپنی بات اُس سے منوانے کے لیے)اپنے ہاتھ جگہ جگہ سے زخمی کرلیے۔‘‘

اصل میں ’قَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اس کاترجمہ کیاگیاہے کہ اُنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور اس سے مرادیہ لی گئی ہے کہ وہ عورتیں سیدنایوسف کے کردارکی عظمت کودیکھ کر اس قدرمبہوت ہوئیں کہ اپنے ہاتھوں کو کاٹ بیٹھیں، دراں حالیکہ یہاں ’قَطَّعْنَ‘اصل میں ’قطع‘ سے تفعیل ہے جس میں تکثیرکاپہلوبھی پایا جاتا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں تفعیل کی رعایت سے یوں ترجمہ کیا گیا ہے: ’’اپنے ہاتھ جگہ جگہ سے زخمی کرلیے۔‘‘ ۱۳؂ اور اس سے مترجم کی مرادیہ ہے کہ ہاتھوں کاکٹنا بے خودی کی کیفیت میں ہو جانے والاکوئی واقعہ نہیں تھا،بلکہ یہ مصرکی بیگمات کی طرف سے کیا جانے والاایک شعوری اِقدام تھاکہ وہ اپنے اس جذباتی مظاہرے سے سیدنا یوسف کوکسی طرح سے رام کرسکیں۔

وَاُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ.(النساء ۴: ۲۳)
’’اورتمھاری وہ مائیں بھی جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور رضاعت کے اس تعلق سے تمھاری بہنیں بھی۔‘‘

نکاح کے لیے حرام رشتوں کا ذکرکرتے ہوئے فرمایاہے کہ تمھاری وہ مائیں بھی تم پرحرام ہیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا۔ اس کے لیے ’اَرْضَعْنَکُمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔یہ باب اِفعال سے ہے جس کی خاصیات میں مبالغہ کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ ’’البیان‘‘ کے ترجمے میں مبالغے کے اس بیان کے لیے اردوکے اس جملے کوکافی سمجھاگیاہے کہ ’’تمھاری وہ مائیں بھی جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا‘‘۔ البتہ، تشریحی نوٹ میں اس امرکی وضاحت کردی گئی ہے کہ رضاعت کسی کواتفاقاً دودھ پلادینے سے قائم نہیں ہوجاتی،بلکہ ضروری ہے کہ یہ نہایت اہتمام کے ساتھ اورایک مقصد کی حیثیت سے عمل میں آئے۔

لفظ کے عوارض

لفظ کی ساخت کے ساتھ دوسری اہم چیزاس پرآنے والے عوارض ہیں۔یہ معنی ومفہوم پر اچھا خاصا اثر انداز ہوتے اور معنی کی تعیین کے اس کام میں بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ہم ان میں سے صرف چندایک کا یہاں ذکر کرتے ہیں:

۱۔ الف لام کا آنا

عربی زبان میں اسم پرالف لام بھی آتاہے جس کاایک مقصدکسی چیزکونکرہ کی حیثیت سے نکال کراسے معرفہ بنا دینا ہوتا ہے۔ تراجم میں عام طورپراس کی رعایت کی جاتی ہے،مگراسے بعض مقامات پرسمجھنا اس قدر دقیق ہوتاہے کہ یہ سرے سے نظرانداز ہوجاتا ہے۔یاکسی مقام پریوں ہوتاہے کہ یہ عہدکے لیے لایاگیاہوتاہے ،مگراسے جنس کا قرار دے دیا جاتا ہے۔یاکسی مقام پرعہدذہنی کے لیے لایاگیاہوتا ہے اور اسے عہد خارجی کا سمجھ کرترجمہ کر دیا جاتا ہے یا معاملہ بعض اوقات اس سے اُلٹ بھی ہوجاتاہے۔ان تمام صورتوں میں اس بات کا اِمکان بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ قاری پر متکلم کی اصل منشابالکل بھی واضح نہ ہوسکے:

اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا.(الاحزاب ۳۳: ۳۳)
’’اللہ تویہی چاہتاہے ،اِس گھرکی بیبیوکہ تم سے وہ گندگی دور کرے (جو یہ منافق تم پر تھوپنا چاہتے ہیں) اور تمھیں پوری طرح پاک کر دے۔‘‘

اس آیت میں ’الرِّجْس‘ کا لفظ آیاہے۔مترجمین نے عام طورپراس کے الف لام کو جنس کاقراردیااور’’گندی باتیں‘‘، ’’ہر قسم کی گندگی‘‘اور’’ہرطرح کی ناپاکی ‘‘ وغیرہ کے الفاظ میں اس کاترجمہ کیاہے۔ ظاہرہے،اس ترجمہ کے بعد بہت سی غیرمتعلقہ بحثیں آپ سے آپ پیدا ہوگئیں اوربعدازاں مستقل عقیدوں میں ڈھل گئی ہیں،دراں حالیکہ اس مقام پر ازواج مطہرات کودیے جانے والے خصوصی احکام کے پیش نظراصل میں اُنھیں منافقین کی ریشہ دوانیوں سے بچاناہے جواس قدرزیادہ ہو گئی ہیں کہ وہ اُن پراب اخلاقی الزامات لگانے کی بھی راہ ڈھونڈرہے ہیں۔اس لحاظ سے ’الرِّجْس‘ کاالف لام عہدکے لیے ہے اور اُس گندگی کو بیان کررہاہے جو ان الزامات کے ذریعے سے یہ لوگ ازواج مطہرات پر تھوپ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ’’البیان‘‘ کے ترجمے میں بھی اسے جنس کے بجاے عہدکاقرار دیا گیا ہے اور اس عہدکو کھولنے کے لیے ’’وہ گندگی‘‘ کے الفا ظ اورپھرقوسین کے اندر اس کی وضاحت میں یہ جملہ بھی لکھ دیاگیاہے: ’’ جویہ منافق تم پرتھوپنا چاہتے ہیں‘‘۔ دیکھ لیاجاسکتاہے کہ اس کے نتیجے میں کتاب اللہ کی یہ بات بہت واضح اورہر طرح کے غل وغش سے پاک ہوکر ہمارے سامنے آگئی ہے۔

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ.(التوبہ ۹: ۵)
’’(بڑے حج کے دن) اِس (اعلان) کے بعد جب حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو۔‘‘

یہاں اختلاف اس امر میں نہیں ہے کہ ’الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ‘ کا الف لام عہدکے لیے ہے یاجنس کے لیے؟بلکہ کم و بیش سب مترجمین کے نزدیک یہ عہد کے لیے ہے۔البتہ،اختلاف اس امرمیں ہے کہ اسے عہدخارجی کا سمجھاجائے یا عہد ذہنی کا۔اکثر مترجمین اسے عہد خارجی کا قرار دیتے اوراس کامطلب آیت ۲ کی روشنی میں یہ بیان کرتے ہیں کہ منکرین کوجن چارمہینوں کی مہلت دی گئی تھی،اصل میںیہ وہی چار مہینے ہیں۔اس کے برخلاف،بعض حضرات کے ہاں یہ الف لام عہدذہنی کے لیے ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اشہرحرم کی تعبیراسم اور علم کے طورپر استعمال ہوتی ہے اور اس سے ہٹانے کے لیے یہاں کوئی وجہ بھی موجودنہیں ہے،اس لیے عربیت کی روسے اس پرآنے والا الف لام اب عہد ذہنی ہی کا ہوسکتا ہے ۔چنانچہ اس سے مرادوہی چارمہینے ہیں جنھیں اصطلاح میں حرام مہینے کہاجاتاہے ،یعنی رجب، ذوالقعدہ ،ذوالحجہ اور محرم۔اب ظاہرسی بات ہے کہ براء ت کا اعلان اگر حج کے موقع پرکیاجائے تواس کے بعد حرام مہینوں میں سے تقریباً پچاس دن باقی رہ جاتے ہیں۔ ’’البیان‘‘ میں اسی راے کو اختیار کیا گیاہے اور حاشیہ میں اس کی وضاحت بھی کردی گئی ہے۔

وَیَدْرَؤُا عَنْھَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْھَدَ اَرْبَعَ شَھٰدٰتٍم بِاللّٰہِ اِنَّہٗ لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ.(النور ۲۴: ۸)
’’(اس کے بعد)عورت سے سزااُسی صورت میں ٹل سکتی ہے کہ(اِس کے جواب میں)وہ بھی چارمرتبہ اللہ کی قسم کھاکرکہے کہ یہ شخص جھوٹاہے۔‘‘

مذکورہ بالاآیت کے مقابلے میں یہاں معاملہ بالکل اُلٹ ہے۔یہ لعان کے متعلق ایک ہدایت ہے اوراس میں ’الْعَذَاب‘ کا الف لام معہودذہنی کے بجاے معہود خارجی کا ہے جس کابیان آیت ۲ میں ’عَذَابَھُمَا‘ کے لفظ میں موجود ہے۔ ’’البیان‘‘ میں بھی اسے عہدخارجی کا قرار دیاگیاہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ عربی زبان میں اگرمعرفہ کا اعادہ معرفہ کی صورت میں کیا جائے اورکوئی قرینہ بھی مانع نہ ہوتو دوسرابالکل پہلاہی ہوتا ہے۔چنانچہ اس شادی شدہ عورت کو دی جانے والی سزابھی بعینہٖ وہی ہوگی جو اس سے پہلے ’عَذَابَھُمَا‘ کے الفاظ میں،یعنی سو کوڑوں کی صورت میں ہرزانی مردوعورت کے لیے بیان کی جاچکی ہے۔ ۱۴؂
اسی طرح کی ایک مثال یہ آیت بھی ہے:

وَجَعَلْنَا بَیْنَھُمْ مَّوْبِقًا. وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ مُّوَاقِعُوْھَا.(الکہف ۱۸: ۵۲۔ ۵۳)
’’ہم اُن کے درمیان ایک ہلاکت کاگڑھاحائل کر دیں گے اوریہ مجرم اُس کی آگ کودیکھیں گے اورسمجھ لیں گے کہ اُسی میں گرنے والے ہیں۔‘‘

یہاں بھی دیکھ لیاجاسکتاہے کہ اکثرمترجمین ’النَّار‘ کے الف لام کوعہدذہنی کا قراردیتے ہوئے اس کا ترجمہ ’’آگ‘‘، ’’دوزخ‘‘ اور ’’جہنم‘‘ کے الفاظ میں کررہے ہیں۔ ’’البیان‘‘ میں اسے عہدخارجی کاقراردیتے ہوئے اس کا ترجمہ ’’اُس کی آگ‘‘ کے الفاظ میں کیا گیا ہے اور اس سے مرادپچھلی آیت میں مذکورہلاکت کے گڑھے کی آگ ہے کہ ایسانہ کرنے کی صورت میں یہ جملہ پچھلی بات سے گویا کٹ کررہ جاتاہے۔
بعض اوقات ایک ہی لفظ قرآن کے متعددمقامات پر الف لام کی مختلف حیثیتوں میں استعمال ہورہاہوتاہے اور اس وجہ سے اس کے سمجھنے میں کسی بڑی غلطی کے راہ پاجانے کااِمکان بہت زیادہ بڑھ جاتاہے،جیساکہ مثال کے طور پر ’الْاِنْسَان‘ اور ’الْمُشْرِکِیْن‘ کے الفاظ۔ ہم ان میں سے صرف ’الْمُشْرِکِیْن‘ کوذیل میں بیان کرتے ہیں:

اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ حَنِیْفًا وَلَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ.(النحل ۱۶: ۱۲۰)
’’حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم(اپنی جگہ)ایک الگ امت تھا، اللہ کا فرماں بردار اور یک سو اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا۔‘‘

اس آیت میں سیدناابراہیم کے اوصاف حمیدہ بتائے جارہے ہیں،کچھ ایجابی اندازمیں اورکچھ سلبی انداز میں۔ چنانچہ بادنیٰ تامل سمجھ لیاجاسکتاہے کہ یہاں ’الْمُشْرِکِیْن‘ کا الف لام مشرکین کے زمرے، یعنی ان کی جنس کوبیان کرنے کے لیے آیاہے ۔

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ.(البقرہ ۲: ۱۰۵)

’’اہل کتاب ہوں یا مشرکین، ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے، وہ نہیں چاہتے کہ تمھارے پروردگار کی طرف سے کوئی خیرتم پر نازل کی جائے۔‘‘

اس آیت میں ’الْمُشْرِکِیْن‘ کاالف لام جنس کے بجاے عہدذہنی کاہے ۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ متکلم اور مخاطب، دونوں کے ہاں یہ لوگ بالکل متعین ہیں اوردوسری وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا آیت میں بیان کردہ یہ وصف بھی کہ وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ تم پر خدا کی طرف سے کوئی خیراتاری جائے، اُنھیں واضح طورپرمتعین کررہاہے۔

وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ.(التوبہ ۹: ۶)
’’اور اگر (اس دار و گیر کے موقع پر) اِن مشرکوں میں سے کوئی شخص تم سے امان چاہے(کہ وہ تمھاری دعوت سننا چاہتا ہے)تواُس کوامان دے دے، یہاں تک کہ وہ اللہ کاکلام سن لے۔‘‘

یہاں الف لام عہدخارجی کے لیے ہے اور ’’البیان‘‘ کے ترجمہ میں اس کے لیے ’’اِن مشرکوں‘‘کے الفاظ لائے گئے ہیں۔اس تعیین کی دلیل یہ ہے کہ آیت ۱ میں بھی ’الْمُشْرِکِیْن‘ کایہی لفظ آیاہے اورزیربحث آیت میں معرفہ کے اس اِعادہ نے یہ بات طے کردی ہے کہ اس دوسرے سے مرادبھی اصل میں پہلاہی ہے۔یعنی اس سے مرادبھی وہی لوگ ہیں جن پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے من حیث الجملہ اِتمام حجت کیاجاچکاہے۔

۲۔ صلہ کا استعمال

بعض حروف لفظ کے اوپر صلہ ہوکرآتے ہیں اورمعنی میں اچھاخاصاتنوع پیداکردیتے ہیں اور بعض اوقات متعدد معانی پرمتضمن بھی ہوجاتے ہیں،چنانچہ ترجمہ کرتے ہوئے ان کی مکمل طورپررعایت کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ ’’البیان‘‘ میںیہ رعایت کس قدربرتی گئی ہے ، اس کے لیے ہم اُن چندآیتوں کاترجمہ پیش کرتے ہیں جن میں ایک ہی صلہ کو مختلف طریقوں سے استعمال کیاگیاہے،جیساکہ مثال کے طور پر ’اِلآی‘ کاصلہ:

وَعَھِدْنَآ اِلآی اِبْرٰھٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَھِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآءِفِیْنَ وَالْعٰکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ.(البقرہ ۲: ۱۲۵)
’’اور ابراہیم و اسمٰعیل کو اِس بات کا پابند کیا کہ میرے اِس گھرکواُن لوگوں کے لیے پاک رکھو جو (اِس میں) طواف کرنے، اعتکاف کرنے اوررکوع و سجود کرنے کے لیے آئیں۔‘‘

عَہِدَ‘ کے ساتھ جب ’اِلٰی‘ کا صلہ آئے تواب اس کامطلب صرف وعدہ کرنے کانہیں ،بلکہ اس سے آگے بڑھ کر کسی پر ذمہ داری ڈال دینے کا ہو جاتاہے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ’’البیان‘‘ میں اس کے لیے ’’اس بات کا پابند کیا‘‘ کے الفاظ لائے گئے ہیں۔

کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ.(الانعام ۶: ۱۲)
’’اُس نے اپنے اوپررحمت لازم کررکھی ہے۔وہ تم سب کوجمع کرکے ضرورقیامت کی طرف لے جائے گاجس میں کوئی شبہ نہیں۔‘‘

اس آیت میں ’اِلٰی‘ کاصلہ ’لَیَجْمَعَنَّکُمْ‘ کے بعد آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہاں کوئی لفظ ہانکنے اور لے جانے کے معنی میں محذوف ہے۔چنانچہ دیگر مترجمین کے برعکس،جنھوں نے عام طورپراس کاترجمہ’’ جمع کرے گا‘‘ کیا ہے، ’’البیان‘‘ میں اس کاترجمہ یوں کیا گیاہے:’’وہ تم سب کوجمع کرکے ضرورقیامت کی طرف لے جائے گا۔‘‘

وَقَضَیْنَآ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیْرًا.(بنی اسرائیل ۱۷: ۴)
’’بنی اسرائیل کوہم نے اِسی کتاب میں اپنے اِس فیصلے سے آگاہ کردیاتھاکہ تم دومرتبہ زمین میں فساد برپا کرو گے اوربڑی سرکشی دکھاؤگے۔‘‘

یہاں ’قَضَیْنا‘ کے بعد ’اِلٰی‘ کا صلہ آیاہے جس کاتقاضا ہے کہ اسے کسی ایسے فعل پرمتضمن ماناجائے جواس صلہ سے مناسبت رکھنے والا ہو اوروہ ’أبلغنا‘ یااس کے ہم معنی کوئی فعل ہوسکتاہے۔ مترجمین نے بالعموم ان دونوں افعال میں سے ایک کوسامنے رکھتے ہوئے ترجمہ کیاہے، جیسا کہ’’ فیصلہ کردیا‘‘اور’’صاف کہہ سنایا‘‘۔ ’’البیان‘‘ میں دونوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اس طرح ترجمہ کیا گیا ہے: ’’اس فیصلے سے آگاہ کردیا‘‘۔

وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ. اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ.(القیامہ ۷۵: ۲۲۔ ۲۳)
’’کتنے چہرے اُس دن تروتازہ ہوں گے، اپنے پروردگار کی رحمت کے منتظر۔‘‘

اس آیت میں ’نظر‘کے ساتھ ’اِلٰی‘ آیا ہے۔ اس کے دو ترجمے کیے جاسکتے ہیں: ایک کسی شے کی طرف دیکھنا اور دوسرے کسی سے اچھی بات کی کوئی امیدرکھنا۔ سیاق دلیل ہے کہ یہ دوسرے معنی میں ہے ،اس لیے کہ یہاں اگلی بات یہ بیان ہوئی ہے کہ دوزخ میں جانے والے اس اندیشہ میں مبتلا ہوں گے کہ اب وہ آفت ٹوٹنے والی ہے جواُن کی کمر کو توڑ ڈالے گی۔ اب ظاہرہے اس اندیشے کے مقابلے میں امیدورجا کا بیان ہی زیادہ موزوں ہو سکتا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں اسی وجہ سے اس کاترجمہ’’ اپنے پروردگار کی رحمت کے منتظر‘‘کیاگیاہے۔

____________

البیان: خصائص و امتیازات (۲) (3/3)




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List