Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

​البیان: خصائص و امتیازات (۲) (3/3) | اشراق
Font size +/-

​البیان: خصائص و امتیازات (۲) (3/3)

البیان: خصائص و امتیازات (۲) (2/3)

اِلٰی‘ کی طرح حرف ’عَلٰی‘ بھی صلہ ہوکرآتاہے اورالفاظ میں معنی کی کئی جہتیں پیدا کر دیتا ہے، جیسا کہ مثال کے طورپریہ آیتیں:

وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰکِ وَطَھَّرَکِ وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ.(آل عمران ۳: ۴۲)
’’اورجب فرشتوں نے مریم سے کہا:اے مریم، اللہ نے تجھے برگزیدہ کیاہے اورپاکیزگی عطافرمائی ہے اور دنیاکی تمام عورتوں پر ترجیح دے کر(اپنی ایک عظیم نشانی کے ظہورکے لیے)منتخب کر لیا ہے۔‘‘

اصْطَفٰی‘ فعل کے ساتھ جب ’عَلٰی‘ کاصلہ آتا ہے تویہ انتخاب سے آگے بڑھ کراس میں ترجیح اورفضیلت کا مضمون بھی پیدا کر دیتا ہے۔ چنانچہ اس کا ترجمہ یوں کیاگیاہے:’’دنیاکی تمام عورتوں پرترجیح دے کرمنتخب کر لیا ہے۔‘‘

وَنَحْشُرُھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوْھِہِمْ عُمْیًا وَّ بُکْمًا وَّ صُمًّا.(بنی اسرائیل ۱۷: ۹۷)
’’قیامت کے دن ہم اُن کواُن کے منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے اکٹھاکریں گے،اندھے ،گونگے اوربہرے۔‘‘

یہاں ’نَحْشُرُھُمْ‘ کے ساتھ ’عَلٰی‘ استعمال ہواہے،اس لیے اس کے اندراکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ گھسیٹنے کا مفہوم بھی شا مل ہوگیا ہے۔ عام طورپرمترجمین اس کے ایک پہلوکوبیان کرتے ہیں:اکٹھاکرنے کویاگھسیٹنے اورچلانے کو۔ ’’البیان‘‘ کے ترجمہ میں اس کے یہ دونوں پہلو بیان کردیے گئے ہیں:’’منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے اکٹھا کریں گے۔‘‘

قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ.(الحجر ۱۵: ۴۱)
’’فرمایا:یہ(بندگی کاراستہ)ایک سیدھاراستہ ہے جو مجھ تک پہنچانے والاہے۔‘‘

اس آیت میں ’صِرَاط‘ کے بعد ’عَلٰی‘ آیا ہے۔ اب بات صرف یہ نہیں ہے کہ یہ راستہ سیدھاہے اورخدا تک پہنچ جانے والاہے،بلکہ اس میں یہ اضافی مضمون بھی پیداہوگیاہے کہ یہ اپنے راہ رووں کوخود منزل پرپہنچادینے والاہے۔ ’’البیان‘‘ میں اس کے لیے ’’مجھ تک پہنچانے والا ہے‘‘کے الفاظ لائے گئے ہیں۔

فَتَلَقّٰٓی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ.(البقرہ ۲: ۳۷)
’’ پھر آدم نے اپنے پروردگارسے (توبہ کے) چند الفاظ سیکھ لیے (اور اُن کے ذریعے سے توبہ کی) تو اُس پر اُس نے عنایت فرمائی اور اُس کو معاف کر دیا۔‘‘

تَابَ‘ کے بعد ’عَلٰی‘ کاصلہ اس بات پردلیل ہے کہ یہاں ’أقبل‘ یا اِس سے ملتاجلتاکوئی اورمفہوم بھی موجود ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم کومعاف کیااورپوری توجہ سے اُس کی طرف ملتفت بھی ہو گیا۔ ’تَابَ‘ کے ساتھ یہی اضافی مفہوم ہے جسے ’’البیان‘‘ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:’’اُس نے عنایت فرمائی اوراُس کومعاف کردیا۔‘‘

وَمَا ھُوَ عَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ.(التکویر ۸۱: ۲۴)
’’وہ غیب کی باتوں پرکبھی حریص نہیں رہا۔‘‘

عربی زبان میں ’ضَنِیْن‘ کے معنی بخیل کے ہیں۔ اس آیت میں اس کاصلہ ’ب‘ نہیں،بلکہ ’عَلٰی‘ آیا ہے، چنانچہ اب اس میں حریص ہونے کا مفہوم پیدا ہو گیا ہے۔ یعنی، آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاہنوں کی طرح غیب دانی کے حریص نہیں ہیں، بلکہ وہ خداکی منشا اور اُس کے حکم سے نبوت اوروحی سے سرفرازہوئے ہیں۔
عَنْ‘ صلہ ہوکرآئے تواس سے بھی کئی معانی ایسے پیداہوتے ہیں جن کو سمجھنے میں مترجمین کی طرف سے بعض اوقات سہو یا تساہل واقع ہو جاتا ہے:

اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْھُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ وَکُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِہٖ تَسْتَکْبِرُوْنَ.(الانعام ۶: ۹۳)
’’آج (تمھارے) اِس (جرم) کی پاداش میں تمھیں ذلت کاعذاب دیاجائے گاکہ تم اللہ پرناحق تہمت باندھتے تھے اوراُس کی آیتوں سے متکبرانہ اِعراض کرتے تھے۔‘‘

اس آیت میں ’تَسْتَکْبِرُوْنَ‘ کے ساتھ ’عَنْ‘ کاصلہ آیاہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لفظ یہاں اِعراض کے مفہوم پربھی مشتمل ہے۔عام طورپرمترجمین نے اس کاترجمہ’’ اس کی آیتوں سے تکبرکرتے تھے‘‘ کیاہے،اس کے برخلاف، ’’البیان‘‘ میں اِعراض کے اس مفہوم کو شامل کرتے ہوئے ترجمے میں’’متکبرانہ اعراض ‘‘کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔

فَعَقَرُوا النَّاقَۃَ وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّھِمْ.(الاعراف ۷: ۷۷)
’’پھر انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور پورے تمردکے ساتھ اپنے پروردگارکے حکم سے سرتابی کی۔‘‘

مترجمین نے بالعموم یہاں صرف’’ سرکشی‘‘ کاترجمہ کیا ہے، دراں حالیکہ ’عَتَوْا‘ کے ساتھ ’عَنْ‘ نے آ کر یہاں سرکشی کے ساتھ ساتھ منکرین کی نافرمانی کوبھی بیان کیاہے۔ ’’البیان‘‘ میں ان دونوں مفاہیم کواس طرح ادا کیا گیا ہے: ’’پورے تمردکے ساتھ اپنے پروردگار کے حکم سے سرتابی کی۔‘‘

وَاِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ عَنِ الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ.(بنی اسرائیل ۱۷: ۷۳)
’’(اے پیغمبر)،قریب تھاکہ یہ اُس چیزسے ہٹا کر تم کوفتنے میں ڈال دیں جوہم نے تمھاری طرف وحی کی ہے۔‘‘

اس آیت میں ’یَفْتِنُوْنَکَ‘اپنے ساتھ ’عَنْ‘ کے صلہ کی وجہ سے ’یصرفونک‘ پرمشتمل ہوگیاہے،چنانچہ اس کا مطلب اب صرف فتنہ میں ڈال دینانہیں ہے، بلکہ نازل ہونے والی وحی سے ہٹاکرفتنہ میں ڈال دیناہے۔ ’عَنْ‘ کے اسی متضمن معنی کالحاظ ہے کہ ’’البیان‘‘ میں ’’اُس چیزسے ہٹاکرفتنے میں ڈال دیں‘‘کے الفاظ لائے گئے ہیں۔
حرف ’لام‘ بھی بہت سے الفاظ کے ساتھ بطورصلہ استعمال ہوتاہے اوراپنے اندرمعنی کے بہت سے پہلو رکھتا ہے:

قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَکُمْ بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ھَدٰکُمْ لِلْاِیْمَانِ.(الحجرات ۴۹: ۱۷)
’’کہہ دو کہ اپنے اسلام کااحسان مجھ پرنہ رکھو،بلکہ اللہ کاتم پراحسان ہے کہ اُس نے تم کوایمان کی توفیق عطافرمائی۔‘‘

مترجمین ’ھَدٰکُمْ لِلْاِیْمَانِ‘ کا ترجمہ بالعموم ’’ایمان کی ہدایت کی ‘‘کرتے ہیں، دراں حالیکہ ’ھدایت‘ کے بعد ’لام‘ کاصلہ ہو تواس میں توفیق کامضمون آجاتا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں اسی رعایت سے ’’ایمان کی توفیق عطافرمائی‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا.(الطور ۵۲: ۴۸)
’’اورثابت قدمی کے ساتھ اپنے پروردگارکے فیصلے کا انتظار کرو۔ (یہ تمھیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے)، اس لیے کہ تم ہماری نگاہ میں ہو۔‘‘

اس آیت میں ’صبر‘ کے ساتھ ’لام‘ کا صلہ آیاہے جواس بات کی دلیل ہے کہ یہ انتظارکے مفہوم پرمشتمل ہے۔ چنانچہ اس کاصحیح ترجمہ وہی ہوسکتاہے جس میں صبرکے ساتھ ساتھ انتظارکے پہلوکوبھی بیان کیاجائے اور ’’البیان‘‘ میں ایسا ہی کیا گیا ہے: ’’ثابت قدمی کے ساتھ اپنے پروردگارکے فیصلے کاانتظارکرو۔‘‘
بعض اوقات ایک ہی لفظ ہوتاہے اوراس کامعنی ومفہوم صلہ کے بدل جانے سے بالکل بدل جاتاہے۔اس طرح کے الفاظ میں سے ’اِیْمَان‘ کالفظ ایک اچھی مثال ہے اورذیل کی دوآیات میں اس کے دومختلف مفاہیم آئے ہیں:

کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ.(البقرہ ۲: ۲۸۵)
’’یہ سب اللہ پرایمان لائے،اوراُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے پیغمبروں پر ایمان لائے۔‘‘
وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَھْرَۃً.(البقرہ ۲: ۵۵)
’’اوریادکروجب تم نے کہاکہ اے موسیٰ،ہم تمھاری بات کا ہرگز یقین نہ کریں گے، جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں۔‘‘

اٰمَنَ‘ کے ساتھ ’’ب‘‘ صلہ ہوکرآئے،جیساکہ پہلی آیت میں آیاہے تواس کامطلب ہوتا ہے: کسی چیزپرایمان لانا۔ اگر ’’لام‘‘ صلہ ہو، جیساکہ دوسری آیت میں ہے تواس کامطلب ہوتا ہے: کسی کی بات مان لینا۔بعض اوقات مترجمین ’لام‘ صلہ کے ساتھ آنے والے ’اِیْمَان‘ کا ترجمہ بھی ایمان لاناہی کردیتے ہیں۔ ’’البیان‘‘ میں کیے گئے ان آیتوں کے ترجمے میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس فرق کو ملحوظ رکھنے کی ایک اچھی کوشش کی گئی ہے۔

۳۔ اِعراب کا اثر

عربی زبان میں الفاظ پرمختلف اعراب آتے ہیں۔ان کادِقّت نظرسے مطالعہ معنی کی تعیین کرنے اورکلام کے بہت سے مضمرات کو سمجھنے میں بنیادی اہمیت کاحامل ہوتاہے۔اس بات کی وضاحت کے لیے ہم ’’البیان‘‘ میں سے چند آیات کاترجمہ پیش کرتے ہیں:

اِذْ اَوْحَیۡنَآ اِلٰٓی اُمِّکَ مَایُوْحٰٓی. اَنِ اقْذِ فِیۡہِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِ فِیۡہِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِہِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ.(طٰہٰ ۲۰: ۳۸۔ ۳۹)
’’جب ہم نے تمھاری ماں کووہ بات الہام کی تھی جو (اِس وقت تمھیں)وحی کی جارہی ہے کہ اس بچے کو صندوق میں رکھو، پھر صندوق کودریامیں ڈال دو۔ پھر دریا اُس کوکنارے پرڈال دے۔‘‘

یہاں ’فَلْیُلْقِہِ‘ کااِعراب قابل توجہ ہے۔کئی مترجمین نے اس لفظ کوجوابِ امرخیال کرتے ہوئے ترجمہ کیا ہے، حالاں کہ اس پرلام آیاہے اوراس وجہ سے یہ یقینی طورپرامرغائب ہے۔ ’’البیان‘‘ میں اس کے امرغائب ہونے کا لحاظ ہے کہ اس کاترجمہ ’’پس دریا اُسے کنارے لاڈالے گا‘‘کے بجاے اس طرح کیاگیاہے:پھردریااُس کوکنارے پر ڈال دے۔‘‘

وَدُّوْا لَوْ تُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ.(القلم ۶۸: ۹)
’’یہ توچاہتے ہیں کہ تم ذرانرم پڑو،پھریہ بھی نرم پڑ جائیں گے۔‘‘

بعض مترجمین نے اس آیت کے مفہوم کواس طرح کے الفاظ میں ادا کیا ہے: ’’وہ تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں۔‘‘ حالاں کہ اس آیت میں ’فَیُدْھِنُوْنَ‘ کالفظ ’لَوْ تُدْہِنُ‘ کاجواب نہیں ہے کہ اس صورت میں یہاں ’فیدہنوا‘ لایاجاتا۔ یہ اصل میں ’لَوْ تُدْہِنُ‘ پرعطف ہے اوراس کامبتدا ’ہم‘ یہاں محذوف کر دیا گیا ہے۔ ’فَیُدْھِنُوْنَ‘ کے اسی اعراب کالحاظ ہے کہ ’’البیان‘‘ میں ’’نرم پڑجائیں‘‘ کے بجاے ’’نرم پڑ جائیں گے‘‘ کے الفاظ میں ترجمہ ہواہے۔

وَالْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِذَا عٰھَدُوْا وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ.(البقرہ ۲: ۱۷۷)

’’اور وفاداری تو اُن کی وفاداری ہے کہ جب عہد کر بیٹھیں تو اپنے اِس عہد کو پورا کرنے والے ہوں اور خاص کر اُن کی جو تنگی اور بیماری میں اور جنگ کے موقع پر ثابت قدم رہنے والے ہوں۔‘‘

یہاں ’الصّٰبِرِیْن‘ کی صفت ’الْمُوْفُوْن‘ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت رفعی میں ہونی چاہیے تھی ،مگر اسے حالت نصب میں لایاگیا ہے۔ اعراب کی یہ تبدیلی اصل میں علی سبیل الاختصاص، یعنی صفت پر خصوصی توجہ مبذول کروانے کے لیے ہوئی ہے۔ گویامتکلم کہناچاہتاہے کہ ’أنا أخص بالذکر الصابرین‘، یعنی میں صابرین کا ذکر یہاں خاص طور پر کرنا چاہتا ہوں۔ اس اعراب سے پیداہونے والایہ معنی ہے کہ ’’البیان‘‘ میں ترجمہ کرتے ہوئے اس کے لیے ’’خاص کر‘‘ کے الفاظ لائے گئے ہیں۔

وَیَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا مَالَھُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ.(الشوریٰ ۴۲: ۳۵)
’’اِس لیے تباہ کردے کہ اُن سے انتقام لے اور اِس لیے کہ جولوگ ہماری آیتوں میں کٹ حجتی کررہے ہیں، وہ جان لیں کہ اُن کے لیے کوئی مفرنہیں ہے۔‘‘

اس آیت میں ’یَعْلَمَ‘ حالت نصب میں ہے،مگرکئی مترجمین نے اسے بالکل نظراندازکرکے ترجمہ کیاہے۔سیاق میں دیکھاجائے تو یہ نصب لام تعلیل کی وجہ سے ہے جو ’یَعْلَمَ‘ کے معطوف علیہ سمیت حذف ہو گیا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں اسے اداکرنے کے لیے پہلے ایک مناسب حال معطوف علیہ ،یعنی:’’اس لیے تباہ کردے کہ اُن سے انتقام لے۔‘‘ نکالا گیا ہے اوراس کے بعد ’ولیعلم‘ کاترجمہ کیاگیاہے۔

دیگر الفاظ

مرادی معنی معلوم کرنے میں لفظ کی ساخت اوراُس پرآنے والے عوارض کے بعد تیسری اہم ترچیزیہ ہے کہ کلام میں آئے ہوئے دیگرالفاظ پربھی اچھی طرح سے غوروخوض کرلیاجائے۔ دوسری صورت میں اس بات کاقوی امکان ہوتا ہے کہ ایک مجوزہ معنی کی تائیدمیں ہم چاہے لغت کے شواہد اورقرآن میں سے اُس کے بہت سے نظائر پیش کر دیں، مگر وہ حقیقت میں کسی مقام پر حشو قرارپاتاہویابالکل ہی غلط بیٹھتا ہو۔ اس بات کو ہم چندعنوانات کے تحت واضح کرتے ہیں:

۱۔ ساتھ میں آجانے والے لفظ کا معنی پر اثر

بسااوقات کسی لفظ کے معنی کی تعیین اُن دوسرے الفاظ پرمنحصرہوتی ہے جوکلام میں اس کے ساتھ ہی استعمال ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس کی مثال کے لیے ذیل کی چندآیتیں دیکھ لی جاسکتی ہیں:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلآی اَجَلٍ مُّسَمًّّی فَاکْتُبُوْہُ.(البقرہ ۲: ۲۸۲)
’’ایمان والو، تم کسی مقرر مدت کے لیے ادھار کا لین دین کرو تو اُسے لکھ لو۔‘‘

یہاں ’تَدَایَنْتُمْ‘ کالفظ آیاہے، جس کامطلب ہے ادھارلین دین کرنا۔اس کے بعدچونکہ ’بِدَیْنٍ‘ بھی آگیاہے جس نے ادھار معاملے کی وضاحت کردی ہے، اس لیے ’تَدَایَنْتُمْ‘ اب مجردہوکرصرف لین دین تک محدودہوکررہ گیا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں اسی لیے ’بِدَیْنٍ‘ کے لیے ’’ادھار‘‘اور ’تَدَایَنْتُمْ‘ کے لیے محض ’’لین دین کرو‘‘ کے الفاظ لائے گئے ہیں۔

ھُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی.(الحشر ۵۹: ۲۴)
’’وہی اللہ ہے نقشہ بنانے والا،وجود میں لانے والا اور صورت دینے والا۔ سب اچھے نام اُسی کے ہیں۔‘‘

عربی زبان میں بعض الفاظ اپنے اصل معنی سے ہٹ کرتوسعاًدوسرے معنوں میں استعمال ہوجاتے ہیں۔اس کی مثال لفظ ’خلق‘ بھی ہے جواپنے وسیع تراطلاق میں تخلیق کرنے اوربنانے کے معنی میں آتاہے ،وگرنہ اس کااصل معنی اندازہ کرنا اور خاکہ بناناہے۔ زیرنظر آیت میں یہ اپنے اصل معنی میں آیاہے ۔اس کی وجہ اس کے ساتھ آنے والا لفظ ’الْبَارِئُ‘ ہے، جس کااپناایک معنی بھی چونکہ کسی شے کووجودمیں لاناہے،اس لیے اب ’الْخَالِق‘ اپنے اصل معنی کی طرف لوٹ گیاہے۔ ’’البیان‘‘ میںیہی وجہ ہے کہ اس کاترجمہ’’ نقشہ بنانے والا‘‘ کیاگیا ہے۔ اس ترجمہ کا ایک فائدہ یہ بھی ہواہے کہ اس ترتیب میں، یعنی نقشہ بنانے اورکسی شے کووجودمیں لانے کے بعد ’الْمُصَوِّر‘ کے استعمال میں، ’الْمُصَوِّر‘ کا صحیح مفہوم بھی ہمارے سامنے آگیاہے کہ وہ کسی شے کی تصویربنانانہیں،بلکہ اُسے صورت دینا، یعنی نوک پلک درست کرکے اُسے آخری شکل دے دیناہے۔

وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ.(آل عمران ۳: ۸۵)
’’اور جو اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا تو اُس سے وہ ہرگزقبول نہ کیاجائے گا۔‘‘

لفظ ’دین‘ کے ایک سے زائدمستقل مفاہیم ہیں۔اس آیت میں اس کے ساتھ آنے والا ’الْاِسْلَام‘ چونکہ ایک مذہب کے نام کے طورپرآیاہے،اس لیے یہ طے ہے کہ اس کے غیرکے لیے آنے والا ’دِیْنًا‘ کالفظ بھی اپنے بہت سے مفاہیم میں سے ایک مفہوم ، یعنی ’’مذہب‘‘ہی کے لیے آیاہے۔

مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ اِلَّآ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰہُ.(یوسف ۱۲: ۷۶)
’’بادشاہ کے قانون کی روسے وہ اپنے بھائی کو روکنے کا مجاز نہ تھا، الّا یہ کہ خداہی چاہے۔‘‘

اس آیت میں ’دین‘ کے لفظ کے ساتھ ’الْمَلِک‘ کی اضافت کاخیال رکھاجائے تویہاں اس کامطلب ’’قانون‘‘ ہی موزوں قرارپاتاہے،جیسا کہ ’’البیان‘‘ میں اس کایہ ترجمہ کیابھی گیاہے۔

وَالذّٰرِیٰتِ ذَرْوًا. فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا. فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا. فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا. اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ. وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ. وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُکِ.(الذاریات ۵۱: ۱۔ ۷)
’’تند ہوائیں گواہی دیتی ہیں جو غبار اڑاتی ہیں، پھر (پانی سے لدے ہوئے بادلوں کا) بوجھ اٹھاتی ہیں، پھر نرمی کے ساتھ چلتی ہیں، پھرالگ الگ معاملہ کرتی ہیں۔ (یہ گواہی دیتی ہیں) اور دھاریوں والا آسمان بھی کہ جس عذاب کی وعیدتمھیں سنائی جارہی ہے ،وہ یقیناًسچ ہے اورجزاوسزاواقع ہوکررہے گی۔‘‘

اس آیت میں قسم اورجواب قسم کی باہمی موافقت ہی طے کر دیتی ہے کہ ’الدِّیْن‘ کالفظ جزاکے لیے آیا ہے، مگر ’وَاقِع‘ کا لفظ بھی بڑی حدتک اس تعیین میں معاونت کررہاہے کہ اس کااستعمال لفظ ’دین‘ کے دیگرمفاہیم،یعنی مذہب اور قانون سے کچھ مناسبت نہیں رکھتااوریہی وجہ ہے کہ ’’البیان‘‘ میں اس کاترجمہ’’ جزاوسزا‘‘کیاگیاہے۔

فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ. اَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ.(الزمر ۳۹: ۲۔ ۳)
’’سواللہ ہی کی بندگی کرو،اپنی اطاعت کواُسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔ سنو، خالص اطاعت اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘

فرمایاہے کہ اللہ ہی کی بندگی کرو۔اس کے بعد ’الدِّیْن‘ کے لفظ کولانایہ بالکل واضح کردیتاہے کہ یہاں اس سے اُسی بندگی کی عملی صورت، یعنی اطاعت مرادلی گئی ہے۔چنانچہ ’’البیان‘‘ میں اس طرح کے مواقع پراس کا ترجمہ ’’اطاعت‘‘ ہی کیاجاتاہے۔
بعض اوقات دوالفاظ ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح آتے ہیں کہ دونوں ہی اپنے اپنے معنی کو واضح کردیتے ہیں:

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ.(البقرہ ۲: ۱۲۹)
’’پروردگار،اوراُنھی میں سے تواُن کے اندر ایک رسول اٹھا جو تیری آیتیں انھیں سنائے اور قانون اور حکمت سکھائے اوراس طرح انھیں پاکیزہ بنائے۔‘‘

الْکِتٰب‘ قرآن میں ایک سے زائد معانی کے لیے آتاہے: خط ،کتاب اورقانون کے لیے۔اسی طرح ’الْحِکْمَۃ‘ بھی سمجھ بوجھ،دلائل و براہین اور دین کی حقیقت اور ایمان واخلاق کے مباحث کے لیے آتاہے۔لیکن ان دونوں الفاظ کے بارے میں یہ طے ہے کہ جب یہ ایک دوسرے پر عطف ہو کر آئیں گے تواب ’الْکِتٰب‘ سے مراد قانون اور ’الْحِکْمَۃ‘ سے مراددین کی حقیقت اورایمان واخلاق کے مباحث ہی ہوں گے۔اس طرح کے تمام مواقع پر ’’البیان‘‘ کے تفسیری حواشی میں ان معانی کی بخوبی وضاحت کردی گئی ہے۔

۲۔ تقابل میں آنے والے لفظ کا معنی پر اثر

قرآن میں بہت سے مقامات پرکسی لفظ کے معنی کی تعیین اس کے مقابل میں آنے والے الفاظ سے بھی ہوتی ہے۔اس کی مثال کے لیے ذیل کی چندآیتیں دیکھ لی جاسکتی ہیں:

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ.(النحل ۱۶: ۳۶)
’’ ہم نے ہر قوم میں ایک رسول اِس دعوت کے ساتھ بھیجا تھاکہ اللہ کی بندگی کرو اور شیطان سے بچو۔‘‘

طاغوت‘ ایک وصف ہے جومتکبر،سرکش اوراپنی حدودسے تجاوزکرنے والے شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ زیر نظر آیت میں اس کا اطلاق شیطان پرکیاگیاہے،اس لیے کہ یہاں پیغمبروں کی دعوت کے دوبنیادی اجزاکابیان ہو رہا ہے: اللہ کی عبادت اور طاغوت سے اجتناب۔سواس تقابل،یعنی اجتناب کے مقابلے میں عبادت اور ’الطَّاغُوْت‘ کے مقابلے میں لفظ ’اللّٰہ‘ کالحاظ رہے توواضح ہوجاتاہے کہ یہاں اس سے مراد لامحالہ شیطان ہی ہے۔

فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِیْ وَلَا تَکْفُرُوْنِ.(البقرہ ۲: ۱۵۲)
’’لہٰذا تم مجھے یاد رکھو، میں تمھیں یاد رکھوں گا اور میرے شکر گزار بن کررہو،میری ناشکری نہ کرو۔‘‘

کفر‘کالفظ انکاراورناشکری،دونوں مفاہیم کے لیے آتا ہے۔ اس کے مقابل میں ایمان کاذکرہوتو اس کا مطلب ماننے سے انکار کردینا،یعنی کفرکرناہوتاہے اورمقابل میں شکرگزاری ہوتوطے ہوجاتاہے کہ اب اس کا مطلب ناشکری کرنا ہے۔ سو یہی وجہ ہے کہ ’’البیان‘‘ میں اس لفظ کاترجمہ یہاں’’ناشکری‘‘ کیاگیاہے۔

اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ.(النحل ۱۶: ۹۰)
’’ اللہ (اِس میں) عدل اور احسان اور قرابت مندوں کو دیتے رہنے کی ہدایت کرتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے روکتا ہے۔‘‘

مُنْکَر‘ سے مراد اصل میں وہ برائیاں ہوتی ہیں جنھیں انسان بالعموم براجانتے ہیں۔یہاں اُن میں سے خاص وہ برائیاں مرادہیں جوکسی کاحق تلف کرنے والی ہوتی ہیں،اوراس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ ’عَدْل‘ کے مقابل میں آیاہے، جس کامطلب حق دارکواس کاحق ادا کرنا ہے۔ ’’البیان‘‘ کے حواشی میں اس لفظ کی مرادکے متعلق یہ وضاحت اچھی طرح سے کردی گئی ہے۔

۳۔ ساتھ میں آنے والی ضمائر کا معنی پر اثر

ضمیریں بھی اپنی حقیقت میں لفظ ہوتی ہیں جواپنے مراجع کی طرف رجوع کرتی ہیں اوراس اعتبارسے یہ اُن کے ساتھ آئے ہوئے دوسرے الفاظ ہی ہوتی ہیں۔سومعنی کی تعیین میں اُن کااور اُن کے مراجع کاصحیح طورپرادراک ہونا بہت زیادہ ضروری ہوتاہے:

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِھِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْہِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَھَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْہِ.(یوسف ۱۲: ۷۶)
’’ اِس پر اُس شخص نے یوسف کے بھائی کی خرجی سے پہلے اُن کی خرجیوں کی تلاشی لینا شروع کی، پھر (بادشاہ کا پیمانہ تو نہیں ملا، لیکن) اُس کے بھائی کی خرجی سے اُس نے وہ پیالہ برآمد کر لیا (جو یوسف نے رکھا تھا)۔‘‘

سیدنایوسف علیہ السلام کے اس واقعہ میں ’اسْتَخْرَجَھَا‘ کا لفظ آیاہے ۔عام طورپراس کی ضمیر ’ہا‘ کا مرجع لوگوں نے بادشاہ کے پیمانے کو قرار دیا ہے، دراں حالیکہ یہ ضمیرمونث ہے اوربادشاہ کے پیمانے کے لیے لفظ ’صُوَاع‘ استعمال ہواہے۔چنانچہ یہ طے ہے کہ بنیامین کے سامان سے نکلنے والاپیالہ بادشاہ کے ’صُوَاع‘ کے بجاے یوسف کا ’السِّقَایَۃ‘ تھا۔ ’’البیان‘‘ میں ضمیرکے اس صحیح مرجع کے لحاظ سے ترجمہ کیاگیاہے اوردیکھ لیاجاسکتاہے کہ اس کے نتیجے میں واقعے کی اصل صورت بھی سامنے آجاتی ہے اوروہ طول طویل بحثیں بھی خود سے ختم ہوجاتی ہیں جولوگوں نے حضرت یوسف کے اخلاق حسنہ پر،افسوس یہ کہ اُٹھادی ہیں۔

وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ وَاِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ.(البقرہ ۲: ۴۵)
’’اور(اس راہ پرچلنے کے لیے)صبراورنمازسے مدد چاہو، اور اس میں شبہ نہیں کہ یہ سب بہت بھاری ہے، مگر ان کے لیے بھاری نہیں ہے جو خدا سے ڈرنے والے ہیں۔‘‘

اس آیت میں ’وَاِنَّھَا‘ کی ضمیرکے بارے میں بحث ہے کہ یہ کس طرف راجع ہے؟مترجمین اس کے مونث ہونے کا لحاظ کرتے ہوئے اسے بالعموم ’الصَّلٰوۃ‘، یعنی نمازکی طرف لوٹاتے ہیں،دراں حالیکہ یہاں اصل مسئلہ ضمیراوراس کے مرجع میں تذکیروتانیث کی موافقت کاہے ہی نہیں ۔عربی زبان میں اس طرح کے مواقع پرجب مونث ضمیرلائی جاتی ہے تووہ کسی ایک چیز کے بجاے کلام میں مذکور سب چیزوں کی طرف لوٹ رہی ہوتی ہے۔یہاں بھی مرجع صرف نمازنہیں ،بلکہ وہ سب باتیں ہیں جواس سلسلۂ بیان میں بنی اسرائیل سے کہی گئی ہیں اوریہی وجہ ہے کہ ’’البیان‘‘ میں اس کاترجمہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے: ’’یہ سب بہت بھاری ہے۔‘‘

قَدْ سَاَلَھَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِکُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِھَا کٰفِرِیْنَ.(المائدہ ۵: ۱۰۲)
’’تم سے پہلے ایک قوم نے اسی طرح کی باتیں پوچھیں، پھر اُنھی کے منکرہوکررہ گئے تھے۔‘‘

فرمایاہے کہ ایمان والو،تم ایسی باتیں نہ پوچھاکروجواگرظاہرکردی جائیں تو تم پرگراں ہوں۔اس کے بعد فرمایا ہے: ’قَدْ سَاَلَھَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِکُمْ‘۔ یہاں ’ھا‘ کی ضمیرکامرجع توطے ہے کہ وہ ’اَشْیَآء‘ کالفظ ہی ہے، مگر یاد رہے کہ اس سے مرادخاص وہ ’أشیاء‘ نہیں ،بلکہ اُن کی نوعیت ہے۔یعنی، مطلب یہ نہیں ہے کہ تم سے پہلے لوگوں نے بھی ٹھیک یہی ’أشیاء‘، یعنی باتیں پوچھی تھیں ،بلکہ مطلب یہ ہے کہ اسی قسم کی باتیں تھیں جواُنھوں نے بھی پوچھی تھیں۔ ’’البیان‘‘ میں بیان نوعیت کی اس ضمیرکالحاظ ہے کہ ترجمے میں ’’اسی طرح کی باتیں‘‘کے الفاظ لائے گئے ہیں۔

فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ بِبَعْضِھَا.(البقرہ ۲: ۷۳)
’’چنانچہ ہم نے کہا: اِس (مردے) کو اُسی (گاے) کا ایک ٹکڑا مارو (جو قسمیں کھانے کے لیے ذبح کی گئی ہے تووہ زندہ ہوگیا)۔‘‘

اس مقام پر بنی اسرائیل کی تاریخ کے دوواقعات بیان ہوئے ہیں: ایک میں اُنھیں قسامہ کی غرض سے گاے قربان کرنے کاحکم دیا گیاہے جس پر انھوں نے کافی لیت ولعل کرنے کے بعد عمل کیا۔دوسرے واقعہ میں بھی قتل کے ایک مقدمے اورقسامہ کابیان ہے جس میں انھوں نے جھوٹی قسمیں کھائیں اور ایک دوسرے پرالزام دھرنے لگے۔ اس کے بعدفرمایا ہے: ’فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ بِبَعْضِھَا‘۔ یہاں ’ھا‘ کی ضمیرکا مرجع بظاہرایسالگتاہے کہ پہلے واقعہ میں ذبح ہونے والی گاے ہی ہے، مگر تدبر کی نگاہ سے دیکھیں تو یہ اصل میں وہ گاے ہے جودوسرے واقعہ میں ذبح کی گئی ہے ،لیکن اس ساری بات کولفظوں میں بیان کرنے کے بجاے اس کے لیے محض ایک ضمیرلائی گئی ہے ۔ ’’البیان‘‘ میں یہی وجہ ہے کہ ترجمہ کرتے ہوئے اس ضمیرمیں مضمرساری بات کوقوسین کے اندرکھول دیاگیاہے۔

اِذْ عُرِضَ عَلَیْہِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُ. فَقَالَ اِنِّیْٓ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ حَتّٰی تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ.(ص ۳۸: ۳۱۔ ۳۲)

’’یادکرو،جب خاصے کے اصیل اور عمدہ گھوڑے شام کے وقت اُس کے ملاحظے کے لیے پیش کیے گئے (اور اُن کے دیکھنے میں وہ ایسا محو ہوا کہ نماز جاتی رہی) تو اُس نے کہا: یہ تواپنے پروردگارکی یادسے غافل ہو کر، میں مال کی محبت میں لگ گیا،یہاں تک کہ آفتاب (مغرب کے) پردے میں چھپ گیاہے۔‘‘

اوپرجتنی مثالیں گزریں ان میں ضمیرکے مراجع کسی نہ کسی صورت میں کلام کے اندر موجودہیں۔بعض اوقات یہ مذکور نہیں ہوتے، مگروہاں موجودضرورہوتے اور صرف قرینہ سے سمجھ لیے جاتے ہیں۔سیدناسلیمان کے اس واقعہ میں بھی دیکھ لیاجاسکتاہے کہ ’تَوَارَتْ‘ کی ضمیر کا فاعل لفظوں میں بیان نہیں ہوا،بلکہ اسے کلام میں بیان کردہ ’’شام کے وقت‘‘ سے سمجھاگیاہے کہ وہ اصل میں آفتاب ہے۔
[باقی]

________

۱۲؂ یہ ’مخادعۃ‘ باب مفاعلہ سے ہے اورمبالغہ کے لیے آیاہے اورموقع کلام بتارہاہے کہ یہ مبالغہ اصل میں فریب دینے کی کوششوں میں کیاجارہاہے۔
۱۳؂ یہاں تکثیرکے پہلوکوترجیح کیوں دی گئی ہے،اس کی وضاحت کے لیے ’’البیان‘‘ کے حواشی کی مراجعت کرلی جاسکتی ہے۔

۱۴؂ ’الْعَذَاب‘ سے پہلے اصل میں دوسزاؤں کابیان ہواہے: ایک زناکی اوردوسرے قذف کی۔ ’الْعَذَاب‘ سے مرادزناکی سزا ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ یہاں جس عورت سے سزاکے ٹل جانے کا بیان ہورہاہے، وہ اس سیاق میں کسی پرالزام نہیں لگا رہی کہ اس سزاکو قذف کی سزاقراردیاجائے،بلکہ خوداُس پرالزام لگایا جارہاہے، اس لیے یہ قطعی طور پرزنا کی سزاہی ہے۔

____________

البیان: خصائص و امتیازات (۲) (1/3)




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List