Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

​البیان: خصائص و امتیازات (۲) (1/3) | اشراق
Font size +/-

​البیان: خصائص و امتیازات (۲) (1/3)

الفاظ

لفظ معنی کے اِبلاغ کاایک موثرذریعہ ہوتے ہیں۔مخاطَب کی طرف سے دیکھاجائے تویہ ابلاغ بہت کچھ اس بات پر منحصرہوتاہے کہ اُن کامرادی معنی کیاصحیح طورپرمتعین کرلیاگیاہے یانہیں؟معمول میں یہ کام انتہائی درجے کی سادگی سے انجام پاجاتاہے اوراس کے لیے کوئی مشقت اٹھانے کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔البتہ،بعض اوقات ایسا بھی ہوتاہے کہ اس میں کچھ نزاکتیں درآتی ہیں،۴؂ جن کااگر لحاظ نہ رکھا جائے تواس بات کااحتمال بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ ابلاغ کے عمل میں کوئی نقص یااصل مدعاہی سے قطعی انحراف واقع ہو جائے۔ قرآن بھی الفاظ سے تخلیق پانے والا ایک کلام ہے ،چنانچہ ضروری ہے کہ اس کاترجمہ کرتے ہوئے بھی اس طرح کی تمام باریکیوں کا خیال رکھاجائے اور اس کے الفاظ کامرادی معنی معلوم کرنے میں بہت زیادہ اہتمام سے کام لیاجائے۔ ہم اس نظر سے جب ’’البیان‘‘ کا مطالعہ کرتے ہیں تومعلوم ہوتاہے کہ یہاں کچھ باتیں معنی کی تعیین کے اس کام میں اصل اصول کی حیثیت رکھتی ہیں اور کچھ باتیں وہ ہیں جو اطلاق کی حیثیت رکھتی ہیں،مگروہ اِس کام کے طریق کو بالکل واضح کردینے والی ہیں۔ اس اعتبارسے دیکھاجائے توہم انھیں اصل اصول اورمنہج وطریق کے دو الگ ناموں کے تحت بیان کرسکتے ہیں۔

اصل اصول

اصولی حیثیت کی یہ باتیں قرآن کے ہرہرلفظ کے ترجمہ میں ملحوظ رکھی گئی ہیں اوریہ تعدادمیں چندایک ہیں، جیسا کہ معروف معنی،صحیح معنی اورقراء تِ عامہ۔

معروف معنی

قرآن واقعہ میں اورخود اپنی شہادت کے مطابق بھی عربی مبین میں نازل ہوا ہے۔۵؂ یہ حقیقت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اُس کے الفاظ کاترجمہ اُن کے معروف معنی کے لحاظ سے کیاجائے اوراس عمل میں کسی شاذمفہوم کو ہرگز راہ نہ دی جائے کہ ایساکرنااصل میں اس کلام کی فصاحت اوربلاغت کاانکارکردیناہے۔ چنانچہ ’’البیان‘‘ میں اس بات کا التزام کیا گیا ہے کہ ہرلفظ سے وہی معنی مراد لیا جائے جو اہل زبان کے ہاں معروف اورعام طورپرجانا پہچانا ہو۔ اس اصول کی مثال میں اس آیت کودیکھ لیا جاسکتا ہے:

اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ. وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ.(الرحمن ۵۵: ۵۔ ۶)
’’سورج اورچاند ایک حساب سے گردش میں ہیں، اور تارے اوردرخت،سب سجدہ ریزہیں۔‘‘

النَّجْم‘ سے مرادستارے ہیں۔یہاں اس سے بعض مترجمین نے بے تنے کے پودے اورجھاڑوغیرہ مرادلیے ہیں۔ خاص اس آیت میں معمول سے ہٹ کرمعنی لینے کی وجہ یہ ہوئی کہ اُن کے نزدیک ایک تو سورج اورچاندجیسی آسمانی نشانیوں کے بعد اب زمین کی نشانیوں کا ذکر ہے ،اس لیے یہاں ’النَّجْم‘ سے مرادزمین ہی کی کوئی چیز ہونی چاہیے۔ دوسرے یہ کہ اس کا ’الشَّجَر‘ کے ساتھ مذکورہونابھی اس بات کاتقاضاکرتا ہے کہ اس سے مرادزمین پر پائے جانے والے پودے ہی مرادلیے جائیں اور مزید یہ کہ ’النَّجْم‘ کاایک مطلب لغت کی کتابوں میں بے تنے کے پودے پایا بھی جاتاہے۔اس کے مقابل میں جن حضرات نے اس کاترجمہ ’’ستارے‘‘ کرنے پر اصرار کیا ہے، اُن کے نزدیک اس کی دلیل صرف یہ ہے کہ قرآن میں الگ سے ستاروں کے سجدہ ریزہونے کا ذکر موجودہے اوراس پر مستزاد یہ کہ بعض علماے تفسیرکی بھی اس مقام پریہی راے ہے۔ ’’البیان‘‘ میں بھی اس کا ترجمہ ’’تارے‘‘ کیا گیا ہے، مگر اس کی وجہ کچھ اورنہیں،بلکہ وہی اصول ہے جس کے مطابق ہر لفظ کاصرف معروف معنی مرادلیاجائے گا اورہم جانتے ہیں کہ عربی زبان میںیہ معروف معنی ستاروں ہی کاہے۔باقی جہاں تک درختوں کے ساتھ ان کی مناسبت کامعاملہ ہے تو واضح رہے کہ اس طرح کی باتیں لفظ کی حقیقی مرادکوپالینے کے بعدہی زیربحث آنی چاہییں اور ’’البیان‘‘ میںیہ اسی ترتیب سے زیربحث آتی بھی ہیں۔
ذیل کی آیات بھی معروف معنی میں ترجمہ کرنے کی اچھی مثال ہیں اور ’’البیان‘‘ میں ان کا ترجمہ کرتے ہوئے ’اِبِل‘ سے اونٹ، ’بَیْض‘ سے انڈے اور ’انْحَرْ‘ سے مرادقربانی لی گئی ہے، نہ کہ بادل،انڈوں کی چھپی ہوئی جھلی اور سینے پر ہاتھ باندھناجیسے شاذمفاہیم:

اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ.(الغاشیہ ۸۸: ۱۷)
’’(یہ نہیں مانتے )توکیااونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے ہیں؟‘‘
کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ.(الصافات ۳۷: ۴۹)
’’گویاکہ (شترمرغ کے)چھپے ہوئے انڈے ہیں۔‘‘
فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ.(الکوثر ۱۰۸: ۲)
’’اس لیے تم(اس بیت عتیق میں اب) اپنے پروردگار کی نماز پڑھنا اور اُسی کے لیے قربانی کرنا۔‘‘

یہاں اس بات پربھی توجہ رہے کہ کسی لفظ کااہل زبان کے ہاں غیرمعروف ہونا،ایک چیزہے اوراس کاہماری تفسیر کی کتابوں میں غیر معروف ہوکررہ جانا،یہ بالکل دوسری چیزہے۔مثال کے طورپر:

وَالَّذِیْٓ اَخْرَجَ الْمَرْعٰی. فَجَعَلَہٗ غُثَآءً اَحْوٰی.(الاعلیٰ ۸۷: ۴۔ ۵)
’’جس نے سبزہ نکالا، پھر اُسے گھنا سرسبز و شاداب بنا دیا۔‘‘

غُثَآءً اَحْوٰی‘ کاترجمہ عام طورپرمترجمین ’’سیاہ کوڑا‘‘کے الفاظ میں کرتے ہیں اوراس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ مفسرین کے ہاں ایک تسلسل سے ان الفاظ کایہی معنی بیان کیا گیا، حتیٰ کہ خیال ہونے لگاکہ یہ اِن الفاظ کا معروف معنی ہے حالاں کہ ’غُثَآء‘ کی حدتک تو صحیح ہے کہ یہ گھنی گھاس کے لیے بھی آجاتاہے اورکوڑاکرکٹ اورخس و خاشاک کے لیے بھی، مگر ’اَحْوٰی‘ کالفظ ہرگزاُس سیاہی کے لیے نہیں آتا جوکسی شے کی بوسیدگی اورپامالی کی وجہ سے اس پرآجاتی ہے، بلکہ یہ اُس سیاہی مائل سرخی اورسبزی کے لیے معروف ہے جوکسی شے پر اُس کی شادابی اور تازگی کے سبب سے نمایاں ہواکرتی ہے۔چنانچہ ’اَحْوٰی‘ کے معروف معنی کاخیال رہے اورموصوف اورصفت کی باہمی مناسبت کابھی دھیان رہے تو ’غُثَآءً اَحْوٰی‘ کا ترجمہ اب سیاہ کوڑاکرکٹ کرنے کے بجاے گھنا اور سرسبز و شاداب ہی کرنا چاہیے ،جیساکہ ’’البیان‘‘ میں کیا گیا ہے: ’’پھر اُسے گھنااورسرسبزوشاداب بنا دیا۔‘‘

صحیح معنی

دوسری چیز جو ’’البیان‘‘ میں اصول کے طورپرہرآیت کے ترجمے میں کارفرمانظرآتی ہے،وہ غلط معنی سے اجتناب اور صحیح معنی پرمترجم کا اصرار کرنا ہے۔۶؂ معنی کو صحیح قراردینے کی ایک سے زائد بنیادیں ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طورپر، قرآن نے ہمیں بتایاہے کہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان میں اتارا گیا ہے ۷؂ اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کی زبان وہی تھی جو اہل مکہ کے ہاں بولی اورسمجھی جاتی تھی۔ سو قرآن کے الفاظ کاصحیح مفہوم اب وہی ہوسکتاہے جس سے اہل مکہ اور بالخصوص قریش کے لوگ واقف ہوں،نہ کہ وہ مفہوم جس کے لیے ہمیں کسی دوسرے مقام اورقبیلے کی زبان سے استدلال لاناپڑے ۔ اور مزید یہ کہ وہ آپ کے زمانے میں سمجھا جانے والامفہوم ہو، نہ کہ وہ بعد میں اس لفظ کے اندر کسی زمانے میں تولدہوا ہو۔اسی طرح مثال کے طورپر،ہمارے لیے ضروری قراردیاگیاہے کہ ہم قرآن کی اتباع کریں، چنانچہ اس لحاظ سے بھی اب صحیح مفہوم وہی ہوسکتاہے جوقرآن کوموضوعی کے بجاے معروضی اندازمیں دیکھنے کے نتیجے میں ہمارے سامنے آئے اور اس پریہ بھی لازم ہوگا کہ اس عمل میں ہرطرح کی تحقیق اورگہرے غوروخوض کوبھی بروے کارلایاجائے کہ اس کے بغیرممکن ہے کہ ہم کسی غلط معنی کو لفظ کی اصل مراد قرار دے بیٹھیں۔ چندآیتوں کاترجمہ پیش کیاجاتاہے جن سے یہ اصول بالکل واضح ہوکر ہمارے سامنے آجائے گا:
۱۔اہل مکہ کی زبان ہی اس معاملے میں صحیح اور غلط کا معیار ہے، اس کے لیے ذیل کی آیت کاترجمہ دیکھ لیا جا سکتا ہے:

قَالَ اَحَدُھُمَآ اِنِّیْٓ اَرٰنِیْٓ اَعْصِرُ خَمْرًا.(یوسف ۱۲: ۳۶)
’’اُن میں سے ایک نے(ایک دن)اُس سے کہا: میں خواب میں دیکھتاہوں کہ شراب نچوڑرہاہوں۔‘‘

سیدنایوسف کے ساتھ قیددوآدمیوں نے آپ سے اپنے خوابوں کی تعبیرپوچھی۔ایک نے کہا: میں خواب میں دیکھتا ہوں: ’اَعْصِرُ خَمْرًا‘ (میں خمر نچوڑرہاہوں)۔ یہ لفظ اہل مکہ کے ہاں شراب کے لیے عام استعمال ہوتاہے اور قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی یہ اسی معنی میں آیا ہے، مگربعض لوگوں کے ہاں جب یہ اُلجھن پیداہوئی کہ حقیقت میں تو شراب کے بجاے انگورنچوڑے جاتے ہیں تو اُنھوں نے اِس کاحل یہ نکالاکہ ’خَمْر‘کاترجمہ یہ کہتے ہوئے انگورکردیاکہ اسے عُمان میں رہنے والے لوگ اسی معنی میں بولاکرتے ہیں۔اس کے برخلاف، ’’البیان‘‘ میں اس اصول کی رعایت سے کہ ترجمہ ہمیشہ اہل مکہ کی زبان کوسامنے رکھتے ہوئے کیاجائے گا،اسے انھی لفظوں میں ادا کیا گیا ہے کہ ’’شراب نچوڑرہاہوں۔‘‘باقی جہاں تک ’شراب‘ کے لفظ میں کسی الجھن کے پیداہونے کی بات ہے تو جان لینا چاہیے کہ اس معاملے میں زبان کے ایک معروف قاعدے سے صرف نظرہوگیاہے جسے ’تسمیۃ الشيء بما یؤول إلیہ‘ کہا جاتا ہے ، یعنی غایت اورنتیجے کے اعتبارسے کسی لفظ کااستعمال کرنا۔ انگور نچوڑنے کی غایت اگر شراب بناناہے تواسے یوں بھی کہاجاسکتاہے کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں۔یہ اسلوب ہماری زبان میں بھی موجودہے ، جیسا کہ مثال کے طورپرہم کہیں: ’’مزدورکنواں کھودرہے ہیں۔‘‘ حالاں کہ وہ زمین کھود رہے ہوتے ہیں کہ جس کا مقصد کنواں بناناہوتاہے۔’’درزی دلہاکاسوٹ سی رہاہے۔‘‘حالاں کہ وہ کپڑے کے پارچے سی رہاہوتاہے کہ جس کا مقصد سوٹ تیارکرناہوتاہے۔اسی طرح ہم کہتے ہیں:’’چکی آٹاپیس رہی ہے ۔ ‘‘ حالاں کہ وہ گندم پیس رہی ہوتی ہے کہ جس سے مقصود آٹا حاصل کرناہوتا ہے ۔
۲۔اس معاملے میں قریش کی زبان ہی اصل قرارپائے گی، اس کے لیے ’’البیان‘‘ میں کیا گیا اس آیت کا ترجمہ دیکھ لیاجاسکتاہے:

وَنَادٰی نُوْحُ نِ ابْنَہٗ.(ہود ۱۱: ۴۲)
’’اورنوح نے اپنے بیٹے کوآوازدی۔‘‘

بعض حضرات نے ایک خودساختہ اعتراض سے بچنے کی غرض سے یہاں ’ابْنَہٗ‘ کا ترجمہ ’ابن امرأتہ‘ کیا ہے، یعنی نوح نے اپنی بیوی کے بیٹے کوآوازدی اوراس کی دلیل میں کہاہے کہ قبیلہ طیء کے لوگ ’ابْنَہٗ‘ سے یہی معنی مراد لیتے ہیں، حالاں کہ ہم جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ قبیلہ طیء سے تعلق رکھتے تھے اورنہ قرآن ہی اُس قبیلے کی زبان میں اتاراگیاتھا۔
۳۔لفظ کے اُسی مفہوم کوترجمہ میں لکھاجائے گاجورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس سے سمجھا جاتا رہا ہو نہ کہ اُسے جو بعدمیں کہیں جاکراس کے اندرمتولد ہواہو، اس کے لیے ذیل کی آیت کاترجمہ غورطلب ہے:

وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗٓ اِلَّا اللّٰہُ.(آل عمران ۳: ۷)
’’دراں حالیکہ ان کی حقیقت اللہ کے سواکوئی نہیں جانتا۔‘‘

فرمایاہے کہ قرآن میں محکمات اورمتشابہات، دونوں طرح کی آیات ہیں۔جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ متشابہات کے درپے ہوتے ہیں اورمقصدیہ ہوتاہے کہ فتنہ پیداکریں اوراس کی حقیقت کوجان لیں ،دراں حالیکہ اُن کی حقیقت اللہ کے سواکوئی نہیں جانتا۔ قرآن کے زمانۂ نزول میں لفظ ’تَاْوِیْل‘ کااصل معنی کسی چیز کی حقیقت کوجان لینا تھا اور اس پرقرآن کے دیگر کئی مقامات بھی شاہد ہیں، چنانچہ ’’البیان‘‘ میں اس کا ترجمہ یہی لکھاگیاہے اور اُن آرا سے ہرگزکوئی اعتنانہیں برتاگیاجواس کامعنی ’’مطلب‘‘ ،’’مراد‘‘ اور ’’تفسیر‘‘ کرتے ہیں کہ یہ اس لفظ کے سراسرمتولد مفاہیم ہیں۔۸؂
۴۔اسی طرح یہ بھی’’ صحیح معنی‘‘کے اصول پراصرارہی ہے کہ ’’البیان‘‘ میں موضوعی کے بجاے معروضی انداز اپنایا گیا ہے۔ سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو موضوعی انداز اصل میں خارج کی بات کوقرآن میں داخل کردیناہے اور معروضی انداز سے مراد، قرآن کواس کی اپنی صورت میں ،جیسا کہ وہ ہے،دیکھنے کاالتزام کرناہے۔اس بات کوسمجھنے کے لیے ایک مثال کافی ہوسکتی ہے:

اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ.(آل عمران ۳: ۵۵)
’’اُس وقت جب اللہ نے کہا:اے عیسیٰ،میں نے فیصلہ کیاہے کہ تجھے وفات دوں گااوراپنی طرف اُٹھا لوں گا۔‘‘

خارج کے تناظرمیں دیکھنے کے بجاے اگر ’توفی‘ کے لفظ پربراہ راست غورکیاجائے تواس کاصحیح ترجمہ وہی بنتا ہے جو ’’البیان‘‘ میں اختیارکیاگیاہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان میں یہ لفظ اپنے مجازی معنی ،یعنی وفات کے لیے اس قدر معروف ہوگیاہے کہ اسے حقیقی معنی میں لینے کے لیے اب کسی قرینہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کی بعینہٖ مثال ہماری زبان میں لفظِ انتقال کی ہے ۔اس کے متعلق بھی ہم جانتے ہیں کہ یہ اپنے حقیقی معنی،یعنی منتقل ہونے کے بجاے اب اپنے مجازی معنی،یعنی وفات پاجانے میں زیادہ معروف ہوگیاہے۔
یہاں ایک اورمثال کااضافہ کیاجاسکتاہے ۔اس سے معلوم ہوگاکہ ’’البیان‘‘ میں معروضی اندازپراس قدر اصرار پایا جاتا ہے کہ لفظ تو لفظ، حرف کاترجمہ کرتے ہوئے بھی اس پرکسی درجے میں کوئی سمجھوتا نہیں ہوتا۔ مثلاً ذیل کی آیت میں حرف ’لَا‘ کاترجمہ:

لِئَلاَّ یَعْلَمَ اَھْلُ الْکِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰہِ.(الحدید ۵۷: ۲۹)
’’تاکہ یہ اہل کتاب نہ جانیں کہ اللہ کے فضل پراُن کاکوئی اجارہ نہیں ہے اوریہ کہ اللہ کافضل اُس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے۔‘‘

عام طورپرمترجمین نے ’لِئَلَّا‘ کے ’لَا‘ کو زائد قرارد ے کراس کاترجمہ نہیں کیاکہ اُن کی دانست میں یہاں اس کا ترجمہ کرناایک طرح کے ابہام اورالجھاؤکوپیداکردیناہے۔ ’’البیان‘‘ میں اس طرح کے ہراندیشے سے قطع نظر ،حرف ’لَا‘ کا ترجمہ ’’نہیں‘‘ کے لفظ میں کیا گیا ہے کہ یہی اس کاصحیح معنی ہے اوراسے زائدقرا ر دینا اصل میں نفی کواثبات میں بدل دینااوراس طرح غلط معنی کواختیارکر لینا ہے۔ باقی جہاں تک کسی اِبہام کاتعلق ہے تو’’نہیں‘‘کے اس ترجمے کے بعد بھی یہاں اصل بات بالکل واضح ہے ۔ یہ اہل کتاب سے بے زاری کا جملہ ہے ۔اس کامطلب ہے کہ یہ لوگ اسی بات کے سزاوارہیں کہ حقیقت حال سے کبھی واقف نہ ہوں اوریونہی اپنے آپ کواللہ کے انعامات کاتنہا حق دار سمجھتے رہیں اورنتیجے کے طورپر اُس کے انعامات سے یک سرمحروم ہوکررہ جائیں۔
۵۔اس سارے عمل میں عمیق غوروفکراورہرطرح کی تحقیق کوبروے کارلانابھی لازم ہے ،اس کے لیے ذیل کی آیت کے ترجمہ میں اچھی دلیل موجودہے:

اِنْ تَتُوْبَآ اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا.(التحریم ۶۶: ۴)
’’اگر تم دونوں اللہ کی طرف رجوع کرو تو یہی تمھارے لیے زیباہے،تمھارے دل تواِس کے لیے مائل ہی ہیں۔‘‘

یہاں ’صغو‘ کا لفظ آیاہے، جس کا معنی ہے: مائل ہونااورجھک جانا۔عام طورپرمترجمین نے اس میلان سے حق بات سے دورہو جانا مرادلیاہے۔اُن کے نزدیک آیت کامطلب یہ ہے کہ اے نبی کی بیبیو،اگرتم توبہ کروتوتمھیں یہی کرنا چاہیے ، اس لیے کہ تمھارے دل تک کج ہوچکے ہیں۔اس کے برخلاف، ’’البیان‘‘ میں اس ’صغو‘ کا ترجمہ تو مائل ہونا ہی کیاگیا ہے،مگراس میں پائے جانے والے باریک فرق کالحاظ رکھتے ہوئے اس سے کسی شے سے انحراف کرنا نہیں، بلکہ اُس کی طرف جھکنااورمائل ہوجانامرادلیاگیاہے، اس لیے کہ عربی زبان میںیہ اسی معنی میں آتا ہے۔ ۹؂

قراء ت عامہ

قرآن کے زمانۂ نزول میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتادیاگیاتھا کہ اس وقت جوقراء ت کی جارہی ہے ، جمع و تدوین ہو جانے کے بعد اس کی جگہ ایک اور قراء ت جسے ’’عرضۂ اخیرہ ‘‘کی قراء ت کہتے ہیں،دی جائے گی۔اوریہ بھی فرما دیا گیا کہ آپ کوبہرصورت اُسی کی پیروی کرنی ہے۔۱۰؂ اور ہم جانتے ہیں کہ یہی قراء ت ہے جسے بعد میں ’’قراء ت عامہ‘‘ کہاگیااور جسے امت کااجماع اورقولی تواتر بھی حاصل ہوا۔ ’’البیان‘‘ میں قرآن کے اس حکم کی وجہ سے یہ بھرپورالتزام کیاگیاہے کہ ہرلفظ کاترجمہ قراء ت عامہ ہی کی روشنی میں کیا جائے، جیسا کہ مثال کے طور پریہ آیت:

وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ.(الاعراف ۷: ۴۰)
’’اوروہ ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوں گے، جب تک اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزرجائے۔‘‘

حق کے مقابلے میں استکبارکرنے والوں کے متعلق بیان ہواہے کہ وہ ہرگز جنت میں داخل نہ ہوسکیں گے۔ اس کے بعد فرمایا ہے: ’حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ‘ (یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزر جائے)۔ عربی زبان میں ’الجَمَل‘ سے اونٹ مراد لیا جاتاہے،مگربعض حضرات جب سوئی کے ناکے اوراونٹ کے درمیان میں پائی جانے والی مناسبت کوسمجھ لینے سے قاصر رہے تو اُنھوں نے اسے ’الجُمَّل‘ پڑھااوراس سے ’’موٹا رسا‘‘ مراد لے لیا۔ ’’البیان‘‘ میں اس کاترجمہ بہرصورت اونٹ ہی کیاجاناتھاکہ یہاں مترجم کے نزدیک قراء ت عامہ ہی اصل قرآن ہے اوراس کوبدلناگویاقرآن کوبدل دیناہے ۔رہا سوئی کے ناکے کے ساتھ اس کی مناسبت کاسوال تواصل میں تعلیق بالمحال کے اسلوب کاتقاضاہے کہ سوئی کے ناکے جیسی چھوٹی چیزکے مقابلے میںیہاں ایک بڑی چیزکابیان کیا جائے جو کسی بھی صورت اس میں سے نہ گزرسکے۔اب عربوں کی معاشرت اوراُن کے مزاج کی رعایت رہے تو اتنی بڑی اورگزر جانے والی یہ چیزآخراونٹ کے سوااورکیاہوسکتی ہے؟۱۱؂
ذیل کی آیت بھی قراء ت عامہ کے مطابق ترجمہ کرنے کی ایک اچھی مثال ہے:

لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ.(آل عمران ۳: ۱۶۴)
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے تومسلمانوں پر بڑا احسان فرمایاہے کہ اُن کے اندرخوداُنھی میں سے ایک رسول اٹھایا ہے۔‘‘

یہاں ’مِنْ اَنْفُسِہِمْ‘ کالفظ آیاہے۔اس کامطلب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ خوداُنھی میں سے‘‘، یعنی مسلمانوں میں سے ہیں۔ بعض حضرات نے ایک اعتراض سے بچنے کے لیے جوحقیقت میں کوئی اعتراض نہیں ہے، اسے ’اَنْفَسِہِمْ‘ پڑھا ہے، یعنی وہ اُن کے شریف اورعمدہ لوگوں میں سے ہیں۔ ’’البیان‘‘ کے اصول کاتقاضا ہے کہ اس لفظ کاترجمہ بہرحال قراء ت عامہ کے مطابق کیاجائے اور وہ یہی بنتاہے کہ رسول اللہ ’’خوداُنھی میں سے‘‘ ہیں۔ اس ترجمہ کے بعداب اس کامطلب بھی آسانی سے سمجھ لیا جاسکتا ہے۔یہاں مسلمانوں پر جس احسان کا ذکر ہو رہا ہے، وہ اصل میں اپنی کامل صورت میں اُسی وقت سامنے آتاہے جب یہ کہا جائے کہ اللہ کے رسول اُن کے لیے کوئی اجنبی آدمی نہیں ہیں کہ اسلام کی دعوت میں کسی ابہام کے رہ جانے اورا س طرح اُن کے نامرادہوجانے کاکوئی امکان ہو، بلکہ وہ اُنھی میں سے ہیں،یعنی ملائکہ اورجنوں میں سے ہونے کے بجاے اُنھی کی طرح کے ایک انسان ہیں، انھی کی معاشرت میں جینے والے اورمزیدیہ کہ اُنھی کی زبان میں اُن سے کلام کرنے والے ہیں ۔

________

۴؂ جیساکہ مثال کے طور پر لفظ کا اصل معنی زیادہ معروف نہ رہے اورہم اس سے کوئی اورمعنی مرادلے بیٹھیں۔ لفظ میں کوئی نیا معنی پیداہوجائے اورہم اُسے ہی متکلم کا منشا قراردے لیں۔ لفظ ایک سے زائد معانی کے لیے استعمال ہوتا ہواورہم یہ نہ جان سکیں کہ متکلم نے ان میں سے کون سے معنی کاابلاغ کرناچاہاہے۔یا لفظ ایک جامع مفہوم کا حامل ہواورہمیں معلوم نہ ہوسکے کہ سیاق وسباق میں آکراس میں کیاتخصیص پیداہوگئی ہے ۔
۵؂ الشعراء ۲۶: ۱۹۵۔
۶؂ یہاں یہ فرق واضح رہے کہ معروف کے مقابلے میں شاذمعنی اپنی حقیقت میں غلط نہیں ہوتا،بلکہ وہ عام طورپر استعمال میں نہیں لایاجاتا،لیکن اس دوسرے اصول کے مطابق جومعنی صحیح کے مقابلے میںآتاہے ،وہ اصل میں سرے سے غلط ہوتاہے۔
۷؂ الدخان ۴۴: ۸۵۔
۸؂ بعض اوقات مترجمین لفظ کامعنی توصحیح لکھ دیتے ہیں، مگراس سے مرادمتولدمفاہیم ہی لیتے ہیں۔جیساکہ مثال کے طورپران آیتوں میں عالم،فقہ ،امام اورروح کے الفاظ سے ایک مذہبی عالم، فقہ کاعلم،امامت کاعقیدہ اوریونانی علم کا تصورِ روح مراد لے لینا: ’اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا‘ (فاطر ۳۵: ۲۸)۔ ’فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ‘ (التوبہ ۹: ۱۲۲)۔ ’یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اُنَاسٍ م بِاِمَامِھِمْ‘ (بنی اسرئیل ۱۷: ۷۱)۔ ’قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ‘ (بنی اسرائیل ۱۷: ۸۵)۔
۹؂ صحیح معنی تک اس رسائی سے یہ بات بھی بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ یہ ازواج مطہرات کی تنقیص کے بجاے اُن کے لیے خداکی طرف سے اتاراگیا ایک تحسین کاجملہ ہے۔
۱۰؂ القیامہ ۷۵: ۱۷۔ ۱۸۔
۱۱؂ اہل عرب کایہی مزاج تھاکہ ایک سریہ میں بہت بڑی مچھلی صحابۂ کرام کے ہاتھ لگی۔اُن کے امیرابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلی کی ہڈی کو کھڑا کیا اور ایک شخص کوحکم دیاکہ وہ اونٹ پرسوارہوکراس کے نیچے سے گزرے (بخاری، رقم ۴۳۶۱)۔

____________

البیان: خصائص و امتیازات (۲) (2/3)




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List