Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
اخلاقیات (۲) | اشراق
Font size +/-

اخلاقیات (۲)

تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

—۱—

عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ۱: مَا تَذْکُرُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: [أَدْخَلَنِيْ غُرْفَۃَ الصَّدَقَۃِ ]۲ ،أَذْکُرُ أَنِّيْ أَخَذْتُ تَمْرَۃً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ، فَأَلْقَیْتُہَا فِيْ فَمِيْ، فَانْتَزَعَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِلُعَابِہَا، فَأَلْقَاہَا فِي التَّمْرِ. فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مَا عَلَیْکَ لَوْ أَکَلَ ہٰذِہِ التَّمْرَۃَ؟ قَالَ: ’’إِنَّا لَا نَأْکُلُ الصَّدَقَۃَ‘‘۳ قَالَ: وَکَانَ یَقُوْلُ: ’’دَعْ مَا یَرِیْبُکَ إِلٰی مَا لَا یَرِیْبُکَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِیْنَۃٌ، وَإِنَّ الْکَذِبَ رِیْبَۃٌ‘‘۴.
ابو حوراء سعدی کہتے ہیں: میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ باتیں یاد ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ایک مرتبہ آپ مجھے اُس کمرے میں لے گئے، جہاں صدقے کا مال پڑا ہوتا تھا ۔مجھے اتنا یاد ہے کہ میں نے صدقے کی ایک کھجور وہاں سے اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس پر لگے ہوئے تھوک سمیت اُسے باہر نکالا اور دوسری کھجوروں میں ڈال دیا۔۱ ایک شخص نے یہ دیکھا تو کہا: اگر یہ ایک کھجور کھا لیتے تو کیا ہو جاتا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم صدقے کا مال نہیں کھاتے۔۲ سیدنا حسن کا بیان ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے: اُن چیزوں کو چھوڑ کر جو شک پیدا کرتی ہیں، بے شبہ چیزیں اختیار کیا کرو، ۳ اِس لیے کہ سچائی اطمینان اور جھوٹ سراسر تردد اور خلجان ہے۔۴

________

۱۔ اِس لیے کہ صدقے کا مال آپ کے گھر میں امانت کے طور پر رکھا گیا تھا، جس میں کوئی ادنیٰ خیانت بھی آپ کسی طرح گوارا نہیں کر سکتے تھے۔
۲۔ یعنی وہ مال نہیں کھاتے جو لوگ ریاست کا نظم چلانے کے لیے زکوٰۃ اور خیرات کی صورت میں دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ امانت کے طور پر رکھا جاتا ہے اور اِس کی حفاظت اِسی شدت کے ساتھ کی جاتی ہے۔ چنانچہ اِس میں سے ایک کھجور کا لے لینا بھی نہ میں اپنے لیے جائز سمجھتا ہوں اور نہ اپنے گھر والوں کے لیے۔
۳۔ مطلب یہ ہے کہ حلال بھی واضح ہونا چاہیے اور حرام بھی۔ اِن کے درمیان میں اگر کوئی مشتبہ چیز ہے تو اُس سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ خدا سے ڈرنے والوں کے لیے صحیح رویہ یہی ہے۔
۴۔ یہ نتیجے کے لحاظ سے فرمایا ہے، اِس لیے کہ سچائی پر قائم رہیں تو ضمیر مطمئن رہتا اور جھوٹ ایک کے بعد دوسرے جھوٹ کی طرف دھکیلتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ آخر میں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ آدمی نے ابتدا میں کیا کہا تھا اور اب وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اِسی چیز کو یہاں ’رِیْبَۃٌ‘، یعنی تردد اور خلجان سے تعبیر کیا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد،رقم ۱۷۲۳ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی حسن رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:
مسند طیالسی، رقم ۱۲۶۲۔ مسند احمد، رقم ۱۶۶۲، ۱۷۲۴۔ سنن دارمی، رقم ۲۴۵۲۔ سنن ترمذی، رقم ۲۴۵۵۔ مسند بزار، رقم ۱۲۱۵۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۵۰۶۲۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۶۴۴۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۱۷۹۹۔ صحیح ابن حبان، رقم ۷۲۷۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۲۶۴۱۔ مستدرک حاکم، رقم ۲۱۰۶، ۲۱۰۷، ۷۰۹۶۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۰۰۱۱۔
۲۔ مسند احمد، رقم ۱۷۲۴۔
۳۔ مسند احمد ،رقم ۱۷۲۵ میں یہاں ’إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ، لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ‘ کے الفاظ ہیں۔ اِسی کے ایک طریق میں’ اہل بیت ‘کا اضافہ بھی منقول ہے،روایت کے الفاظ ہیں: ’فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فَإِنَّہَا لَا تَحِلُّ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ، وَلَا لِأَحَدٍ مِنْ أَہْلِ بَیْتِہِ‘ ’’اِس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِس لیے کہ یہ اللہ کے رسول کے لیے جائز ہے ،نہ اُس کے گھر والوں میں سے کسی کے لیے‘‘۔ ملاحظہ ہو:رقم ۱۷۲۴۔
۴۔ صحیح ابن حبان، رقم ۷۲۷ میں ’صدق‘ کے بجاے ’خیر‘ اور ’کذب‘ کی جگہ ’شر‘ نقل ہوا ہے۔

—۲—

عَنْ أُمِّ کُلْثُوْمٍ بِنْتِ عُقْبَۃَ،۱ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ’’لَیْسَ بِالْکَاذِبِ۲ مَنْ أَصْلَحَ بَیْنَ النَّاسِ فَقَالَ خَیْرًا أَوْ نَمٰی خَیْرًا.‘‘
ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور اِس کے لیے اچھی بات کہے یا کسی اچھی بات کو بڑھا کر بیان کر دے۔۱

________

۱۔ مطلب یہ ہے کہ اُس کی یہ بات اگرچہ خلاف واقعہ ہو گی، لیکن اللہ کے ہاں اُس کو جھوٹا قرار دے کر اُس کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا، اِس لیے کہ اُس نے یہ اپنے کسی فائدے یا دوسروں کو نقصان پہنچانے اور دھوکا دینے کے لیے نہیں، بلکہ خیر و صلاح کے جذبے سے کیا ہے اور خدا کے نزدیک یہ جذبہ ایسی محمود چیز ہے کہ اِس کے لیے جھوٹ اور مبالغے جیسی برائی کا مواخذہ بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن سنن ترمذی، رقم ۱۸۵۷ سے لیا گیا ہے۔ اِس کی راویہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا ہیں۔اُن سے یہ روایت اِن کتابوں میں نقل ہوئی ہے:
الجامع لمعمر بن راشد، رقم ۸۰۴۔ مسند طیالسی، رقم ۱۷۵۰۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۹۸۱۔ مسند اسحاق بن راہویہ، رقم ۲۱۰۱۔ مسند احمد، رقم ۲۶۶۳۰، ۲۶۶۳۱، ۲۶۶۳۲، ۲۶۶۳۳، ۲۶۶۳۷، ۲۶۶۳۹۔ مسند عبد بن حمید، رقم ۱۶۰۱۔ الادب المفرد، رقم ۳۸۰۔ سنن ترمذی، رقم ۱۸۵۷۔ صحیح بخاری، رقم ۲۵۰۸۔ صحیح مسلم، رقم ۲۵۰۸۔ سنن ابی داؤد، رقم ۴۲۷۶، ۴۲۷۷۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۸۳۲۱، ۸۷۸۲۔ مشکل الآثار، رقم ۲۴۶۳، ۲۴۶۴، ۲۴۶۵۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۵۱۔ المعجم الصغیر، طبرانی، رقم ۱۸۸۔ مسند شامیین، طبرانی رقم ۳۰۰۰۔ مسند شہاب، رقم ۱۱۱۹، ۱۱۲۰، ۱۱۲۱۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۹۱۸۴، ۱۹۱۸۵، ۱۹۱۸۶۔
۲۔صحیح بخاری،رقم ۲۵۰۸ میں ’الْکَاذِب‘ کے بجاے صیغۂ مبالغہ ’الْکَذَّاب‘ نقل ہوا ہے۔

—۳—

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ،۱ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’عَلَیْکُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ یَہْدِيْ إِلَی الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ یَہْدِيْ إِلَی الْجَنَّۃِ، وَمَا یَزَالُ الرَّجُلُ یَصْدُقُ وَیَتَحَرَّی الصِّدْقَ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللّٰہِ صِدِّیْقًا، وَإِیَّاکُمْ وَالْکَذِبَ،۲ فَإِنَّ الْکَذِبَ یَہْدِيْ إِلَی الْفُجُوْرِ، وَإِنَّ الْفُجُوْرَ یَہْدِيْ إِلَی النَّارِ، وَمَا یَزَالُ الرَّجُلُ یَکْذِبُ وَیَتَحَرَّی الْکَذِبَ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللّٰہِ کَذَّابًا‘‘۳.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچائی کو اختیار کرو، اِس لیے کہ سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ (یاد رکھو)، آدمی سچ بولتا ہے، پھر بولتے بولتے اللہ کے نزدیک ’صدیق‘ لکھ دیا جاتا ہے۔ اور جھوٹ سے بچو، اِس لیے کہ جھوٹ گناہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور گناہ دوزخ میں لے جاتا ہے۔ (یاد رکھو)، آدمی جھوٹ بولتا ہے، پھر بولتے بولتے اللہ کے نزدیک ’کذاب‘ لکھ دیا جاتا ہے۔۱

________

۱۔یہ وہی بات ہے جس کے لیے سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۸۱ میں ’اَحَاطَتْ بِہٖ خَطِیْٓئَتُہٗ‘ (اُن کے گناہ نے اُنھیں پوری طرح گھیر لیا ہے) کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نیکی ہو یا بدی، دونوں پر مداومت ہی آدمی کو اُس آخری اور فیصلہ کن نتیجے تک پہنچاتی ہے جس کے بعد وہ نیک یا بد کے لقب کا مستحق ٹھیرتا ہے۔ اِس سے پہلے زیادہ سے زیادہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ اُس نے فلاں نیکی یا بدی کا ارتکاب کیا ہے۔ چنانچہ بڑے سے بڑے گناہ کا مرتکب ہو جانے کے بعد بھی اُس کے پاس موقع ہوتا ہے کہ وہ توبہ اور ندامت کی توفیق پائے اور اپنے آپ کو اُس گناہ کے نتائج سے بچا لینے میں کامیاب ہو جائے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح مسلم،رقم ۴۷۲۷ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں منقول ہے:
الجامع لمعمر بن راشد، رقم ۶۸۱۔ مسند ابو داؤد طیالسی، رقم ۲۴۲، ۲۹۶۔ مسند ابن ابی شیبہ، رقم ۳۸۰۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۰۱۱۔ مسند احمد، رقم ۳۵۹۷، ۳۸۸۵، ۳۹۵۵، ۳۹۸۶، ۴۰۱۸، ۴۰۴۴۔ سنن دارمی، رقم ۲۶۳۲۔ صحیح بخاری، رقم ۵۶۵۶۔ الادب المفرد، رقم ۳۸۱۔ صحیح مسلم، رقم ۴۷۲۴، ۴۷۲۵، ۴۷۲۶۔ مسند بزار، رقم ۱۴۹۵۔ مسند الشاشی، رقم ۴۶۵، ۴۶۶۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۵۰۷۷، ۵۳۰۶۔ تہذیب الآثار، رقم ۱۴۸۵، ۱۴۸۶۔ صحیح ابن حبان، رقم ۲۷۴، ۲۷۵، ۲۷۶۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۸۴۳۳۔ مستدرک حاکم، رقم ۴۰۳۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۹۴۹۱۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۹۱۷۱، ۱۹۴۷۲۔
۲۔ معمر بن راشد کی الجامع میں اِس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب یہ اضافہ نقل ہوا ہے: ’إِیَّاکُمْ وَالْعِضَۃَ، أَتَدْرُوْنَ مَا الْعِضَۃُ؟ النَّمِیْمَۃُ‘ ’’ اپنے آپ کو ’الْعِضَۃ‘ سے دور رکھو، جانتے ہو کہ ’الْعِضَۃ‘ کیا ہے؟ یہ چغلی ہے‘‘۔ ملاحظہ ہو: رقم ۶۸۱۔ایک دوسرے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’الْعِضَۃ‘ کو اِن الفاظ سے واضح فرمایا: ’نَقْلُ الْحَدِیْثِ مِنْ بَعْضِ النَّاسِ إِلٰی بَعْضٍ لِیُفْسِدَ بَیْنَہُمْ‘ ’’یہ ایک کی بات دوسرے تک اِس غرض سے پہنچانا ہے کہ اُن کے درمیان فساد پیدا ہو‘‘۔یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، اور السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۹۴۹۲ میں نقل ہوئی ہے۔
۳۔ تہذیب الآثار، طحاوی، رقم ۱۴۸۶ میں اِس جگہ یہ اضافہ ہے: ’فَإِنَّ الْکَذِبَ لَا یَصْلُحُ بِالْجِدِّ وَلَا بِالْہَزْلِ، وَلَا یَعِدِ الرَّجُلُ صَبِیَّہُ مَا لَا یَفِيْ لَہُ بِہِ‘ ’’اِس لیے کہ جھوٹ بولنا نہ سنجیدگی میں موزوں ہے اور نہ مذاق میں، اور آدمی کو اپنے بچے سے بھی کوئی ایسا وعدہ نہیں کرنا چاہیے جسے وہ پورا نہ کر سکے‘‘۔

—۴—

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ،۱ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ،۲ [وَإِنْ صَلّٰی وَإِنْ صَامَ وَزَعَمَ أَنَّہُ مُسْلِمٌ]۳ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ‘‘.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں، اگرچہ وہ روزے رکھتا ہو، نمازیں پڑھتا ہو اور خود کو مسلمان سمجھتا ہو: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب امانت لے تو اُس میں خیانت کرے۔۱

________

۱۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے جو آپ کے زمانے میں جھوٹے مومن بنے ہوئے تھے۔ مطلب یہ تھا کہ جو لوگ فی الواقع منافق ہیں، وہ دوسروں کے سامنے اپنی دین داری کی نمایش کے لیے نماز روزے کا اہتمام تو کر سکتے ہیں، لیکن اپنے اخلاقی وجود کو ہمہ وقت پاکیزہ بنا کر نہیں رکھ سکتے۔ چنانچہ اِس امتحان میں لازماً ناکام ہو جاتے اور بالآخر پہچان لیے جا سکتے ہیں کہ وہ دل سے مسلمان نہیں ہوئے، اُنھوں نے ایمان و اسلام کا محض ڈھونگ رچا رکھا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن صحیح مسلم ،رقم ۹۲ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل کی گئی ہے:
مسند احمد، رقم ۸۴۸۴، ۸۹۵۰، ۱۰۷۰۸۔ صحیح بخاری، رقم ۳۲، ۲۴۹۸، ۲۵۵۷۔ صحیح مسلم، رقم ۹۲، ۹۳۔ سنن ترمذی، رقم ۲۵۷۴۔ السنن الصغریٰ، النسائی، رقم ۴۹۶۱۔ السنن الکبریٰ، النسائی، رقم ۱۰۶۱۴۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۶۴۹۷۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۳۱، ۳۲، ۳۳۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۰۵۹۵، ۱۱۷۵۲، ۱۱۷۵۳۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہی روایت عبد اللہ بن عمر السہمی رضی اللہ عنہ، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔ اِن صحابہ سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:
مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۰۲۲، ۲۵۰۲۳، ۲۵۰۲۴۔ مسند احمد، رقم ۶۵۹۲، ۶۶۸۶، ۶۷۰۳۔ مسند عبد بن حمید، رقم ۳۳۰۔ صحیح بخاری، رقم ۳۳، ۲۲۹۱، ۲۹۵۸۔ سنن ترمذی، رقم ۲۵۷۵۔ سنن ابو داؤد، رقم ۴۰۷۰۔ مسند بزار، رقم ۱۴۹۸۔ السنن الصغریٰ، النسائی، رقم ۴۹۶۰، ۴۹۶۳۔ السنن الکبریٰ، النسائی، ۸۴۱۳۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۳۰۔ صحیح ابن حبان، رقم، ۲۵۷، ۲۵۸۔
۲۔ عبد اللہ بن عمر السہمی رضی اللہ عنہ سے مروی بعض طرق میں ’آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ‘ کے بجاے ’أَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ فَہُوَ مُنَافِقٌ خَالِصٌ‘ کے الفاظ نقل ہوئے، یعنی چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی ہوں گی، وہ منافق ہوگا۔ پھر چوتھی خصلت یہ بیان فرمائی ہے: ’وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ‘’’ اور جب جھگڑے تو بد زبانی پر اتر آئے‘‘۔ملاحظہ ہو: مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۵۰۲۲۔
۳۔ مسند احمد، رقم ۸۹۵۰۔

—۵—

عَنْ أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِیْلَ الْبَجَلِيِّ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا بَکْرٍ،۱ حِیْنَ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ مَقَامِيْ ہٰذَا عَامَ الْأَوَّلِ، ثُمَّ بَکٰی أَبُوْ بَکْرٍ، ثُمَّ قَالَ: ’’عَلَیْکُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّہُ مَعَ الْبِرِّ، وَہُمَا فِي الْجَنَّۃِ، وَإِیَّاکُمْ وَالْکَذِبَ فَإِنَّہُ مَعَ الْفُجُوْرِ، وَہُمَا فِي النَّارِ، وَسَلُوا اللّٰہَ الْمُعَافَاۃَ، فَإِنَّہُ لَمْ یُؤْتَ أَحَدٌ بَعْدَ الْیَقِیْنِ خَیْرًا مِنَ الْمُعَافَاۃِ، وَلَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا تَقَاطَعُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ إِخْوَانًا [کَمَا أَمَرَکُمُ اللّٰہُ]۔۲
اوسط بن اسمٰعیل بجلی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے تو اُنھوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پچھلے سال اِسی جگہ کھڑے تھے، پھر وہ (آپ کو یاد کر کے) رونے لگے، پھر کہا: آپ نے فرمایا تھا: تم اپنے لیے سچائی کو لازم کر لو، کیونکہ سچائی نیکی کے ساتھ ہے، اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی۔ اور تم جھوٹ سے پرہیز کرو، کیونکہ جھوٹ برائی کے ساتھ ہے، اور یہ دونوں دوزخ میں ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ سے عافیت چاہو، اِس لیے کہ ایمان و یقین کے بعد کوئی چیز عافیت سے بڑھ کر نہیں ہے۔ تم آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو ، قطع تعلق نہ کرو اور باہم دشمنی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو، جیسا کہ اللہ نے تمھیں ہدایت فرمائی ہے۔۱

________

۱۔ یعنی قرآن مجید میں، جسے قرآن کا ہر طالب علم جگہ جگہ دیکھ سکتا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن سنن ابن ماجہ، رقم ۳۸۴۷ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادرمیں نقل ہوئی ہے:
مسند ابو داؤد طیالسی، رقم ۴۔ مسند حمیدی، رقم ۷۔ مسند ابن جعد، رقم ۱۴۵۷۔ مسند احمد، رقم ۱۷۔ الادب المفرد، رقم ۷۲۳۔ التاریخ الکبیر، بخاری، رقم ۷۲۸۔ مسند بزار، رقم ۵۸۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۱۱۶۔ مشکل الآثار، طحاوی ۳۹۱۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۵۲۔
۲۔ مسند بزار، رقم ۱۱۴۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ. ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.
ابن ماجۃ، ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.
ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ. ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ.
أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح. ط۳. تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.
بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.
السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط ۱. تحقیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
محمد القضاعي الکلبي المزي. (۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List