Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

عرفان شہزاد Profile

عرفان شہزاد

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
احمدیت کی اشاعت اور بنیادی استدلالات کا مختصر جائزہ (2/2) | اشراق
Font size +/-

احمدیت کی اشاعت اور بنیادی استدلالات کا مختصر جائزہ (2/2)

احمدیت کی اشاعت اور بنیادی استدلالات کا مختصر جائزہ (1/2)

۴۔ قرآن مجید کی درج ذیل آیت سے ایک دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ کوئی جھوٹا نبی زندہ نہیں بچ سکتا:

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ. وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ. لَاَخْذَنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ. ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ.(الحاقہ ۶۹: ۴۳۔۴۶)
’’یہ رب العٰلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ (ہمارا) یہ (پیغمبر) اگر اپنی طرف سے کوئی بات ہم پر بنا لاتا۔ تو ہم اِس کو قوی ہاتھ سے پکڑ لیتے۔ پھر اِس کی رگ گردن کاٹ دیتے۔ پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اِس کام سے روک نہ سکتا۔‘‘

ہمارے نزدیک اس آیت کی حقیقت یہ ہے کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں آپ کی صداقت اور دین کی باحفاظت منتقلی کی دلیل کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ جیسے کوئی سرکاری عہدے دار اگر اختیارات کا غلط استعمال کرے تو اس کی سزا بیان کی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی عامی ایسا ہی کام کر گزرے تو اس کو اس کے لحاظ سے جو سزا دینا ہوگی دی جائے گی، لیکن سرکاری عہدے دار کی سزا متعین طور پر بتائی جاتی ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ دین کے ابلاغ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، نہ کہ یہ بتانا کہ کوئی اور بھی ایسا کرے گا تو اس کے ساتھ بھی یہی ہوگا۔ ایسا ہوتا تو طرز بیان عمومی ہوتا۔آیت مذکورہ میں بتایا جانے والا خصوصی انتظام دین کی حفاظت کے لیے ضروری تھا۔ یہ ایسے ہی ہے، جیسے آپ کی اجتہادی آرا کی خطا پر اللہ کی طرف سے فوراً درستی کر دی جاتی تھی، لیکن آپ کے بعدمجتہدین کی خطاؤں پر خدا کی طرف سے کوئی اصلاح نہیں کی جاتی، کیونکہ بنیاد، یعنی دین محفوظ ہے۔
دین جب محفوظ طور پر منتقل ہو گیا تو اب اللہ کو دین کی حفاظت کے لیے مزید اس قسم کے انتظامات کی ضرورت نہیں کہ کسی جھوٹے نبی کو لازماً دنیا میں ہی عبرت ناک سزا دے۔ اب جس طرح اجتہادی معاملات عقل و دانش کی آزمایش کا میدان ہیں، اسی طرح یہ بھی آزمایش کا محل ہے کہ لوگ دین کے درست اور محفوظ ذریعۂ علم کے ہوتے اپنے عقل و فہم کی بنیاد پر حق و باطل کی پہچان کریں۔ اس معاملے میں خدا کی محسوس مداخلت اب نہیں ہوگی، نہ اس کا خدا نے کوئی اعلان کر رکھا ہے۔
احمدی حضرات کی طرف سے چند اور آیات بھی تسلسل نبوت کے اثبات میں پیش کی جاتی ہیں، تاہم ہماری نظر میں یہی مقام قابل اعتنا تھے۔ باقی کے مقامات کا حال بھی یہی ہے کہ وہاں بھی تسلسل نبوت کا کوئی بیان نہیں دیا گیاہے۔

ایک اہم بات

قرآن مجید میں ایمان لانے کا مطالبہ جہاں بھی کیا گیا ہے، وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیا اور آپ سے پہلے نازل کردہ وحی اور آپ اور آپ پر نازل کردہ وحی پر ایمان لانے کا مطالبہ ہے۔ کسی ایک جگہ بھی، کسی آیندہ نبی یا آیندہ وحی پر ایمان لانے کا مطالبہ موجود نہیں۔اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ کوئی نبی آنے والا تھا ہی نہیں۔ اب چونکہ اس میں کوئی ابہام نہیں تھا، اسی بناپر اللہ تعالیٰ نے اس سمجھی ہوئی حقیقت کو سورۂ احزاب کی آیت ۴۰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے، حضرت زید کی مطلقہ، حضرت زینب سے آپ کے نکاح کی ضرورت کے ضمن میں بیان کیا (تفصیل آگے آتی ہے) اور یوں ختم نبوت کے مسئلے کو آخری درجے میں مبرہن کر دیا۔ یعنی فرض کیجیے کہ ختم نبوت کی آیت قرآن میں نہ بھی ہوتی، تب بھی آیندہ کسی نبی پر ایمان لانا ضروری تب ٹھیرتا کہ آیندہ انبیا کی آمد کا بیان موجود ہوتا، نہ صرف اس کا اعلان ہوتا، بلکہ ان پر ایمان لانا مطالباتِ ایمان میں شامل کیا جاتا، مزید برآں اس کے لیے باقاعدہ ذہن سازی کی جاتی، اس لیے کہ انبیا کا انکار کرنا عام رہا ہے، چنانچہ آنے والے انبیا کی نشانیاں ایسے ہی بتائی جاتیں جیسے گذشتہ انبیا کی آمد کی بشارتیں ان کی نشانیوں کے ساتھ گذشتہ آسمانی کتب میں بہ تکرار مذکور ہوا کرتی تھیں۔ محل غور یہ ہے کہ ان آنے والے انبیامیں سے بعض کی متعین نشانیاں، بلکہ نام تک بتائے جاتے تھے۔ جیسے یحییٰ علیہ السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کی نشانیاں اور نام بتایا، اور عیسیٰ علیہ السلام نے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نشانیاں اور نام بتایا۔ گذشتہ صحف سماوی کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ آنے والے انبیا کی نشانیاں بتا کر ان پر ایمان لانے کا عہد لیاجاتا تھا، قرآن مجید اس روایت سے یکسر خالی ہے۔

’’جب حضرت مسیحؑ نے اپنی دعوت کا آغاز کیا تو حضرت یحییٰ علیہ السلام اس وقت جیل میں تھے۔ انھوں نے وہیں سے حضرت مسیح علیہ السلام سے پچھوایا کہ ’’وہ جس کا انتظار تھا تو ہی ہے یا ہم کسی اور کا انتظار کریں؟‘‘ حضرت مسیح نے جواب دلوایا کہ ’’جا کے بتا دو کہ لنگڑے چل رہے ہیں اور اندھے دیکھ رہے ہیں، اب اور کیا چاہیے!‘‘ اس جواب کے بعد حضرت یحییٰ کو اطمینان ہو گیا کہ ان کا مشن پورا ہو گیا، وہ جس کی راہ صاف کرنے آئے تھے وہ آ گیا۔ حضرت یحییٰ کے بعد اسرائیلی سلسلے کے آخری نبی و رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، انھوں نے اپنے بعد آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی بشارت دی اور آپ کے نام نامی کی تصریح کے ساتھ بشارت دی۔ سورۂ صف میں اس کا حوالہ یوں آیا ہے: ’وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ‘ (یاد کرو، جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا: اے بنی اسرائیل، میں تمھاری طرف خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں، تورات کی اُن پیشین گوئیوں کا مصداق ہوں جو مجھ سے پہلے موجود ہیں، اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں، جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہو گا۔) (الصف۶۱: ۶) اور جب کہ عیسیٰ بن مریم نے دعوت دی کہ اے بنی اسرائیل! میں تمھاری طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں ان پیشین گوئیوں کے مطابق جو مجھ سے پہلے سے تورات میں موجود ہیں اور ایک رسول کی خوش خبری دیتا ہوا آیا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہو گا۔‘‘(تدبر قرآن ۶/ ۲۴۴)

لیکن قرآن ایسی کسی اثباتی دلیل سے بالکل خالی ہے۔ گذشتہ آسمانی صحائف میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بارے میں تو متعدد پیشین گوئیاں پائی جاتی ہیں، لیکن آپ کے بعد کسی نبی کے آنے کی پیشین گوئی سے وہ بھی خالی ہیں۔ یہ عدم ذکر درحقیقت اختتام نبوت کی بذات خود دلیل ہے۔
چنانچہ ہم سے جب بھی کسی نئے نبی کی نبوت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا تو پہلا سوال یہ ہونا چاہیے کہ اس کی نبوت پر ایمان لانے کے لیے خدا نے ہمیں مکلف کہاں کیا ہے؟ اس کی انفرادی نشانیاں کہاں بیان ہوئی ہیں۔ اس کے جواب میں اگر عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کی روایات پیش کی جائیں، تو مرزا غلام احمد صاحب پر اس کی تطبیق کی مشکلات سے قطع نظر ہمارا اعتراض یہ ہے کہ اس معاملے کو قرآن مجید کے بجاے انفرادی روایات پر کیسے چھوڑا جا سکتا ہے؟ قرآن مجیدمیں اس کا بیان کیوں نہیں آیا؟ قرآن مجید اگر قیامت کی نشانی کے طور پر یاجوج ماجوج کے آنے کی پیشین گوئی کر سکتا ہے تو عیسیٰ کا آنا تو ایک زیادہ مہتمم بالشان معاملہ تھا، قرآن اس پر کیوں خاموش ہے؟اس عظیم واقعہ سے قرون اولیٰ کی بے اعتنائی کا یہ عالم ہے کہ اس بارے میں پائی جانے والی روایات محدثین کے اصول کے مطابق تواتر کے درجے کو بھی نہیں پہنچتیں، یعنی صحابہ کے دور میں ان کے درمیان اس کا کوئی چرچا نہ تھا۔
پھران روایات پر بہت سے اشکالات وارد ہوتے ہیں۔ اس میں ہمارا رجحان یہ ہے کہ یہ روایات تمثیلی رنگ میں ہیں۔ مسیح الدجال کی طرح مسیح بھی تمثیل ہے۔ یعنی دین کا کوئی خادم یا مسلمانوں کا کوئی صالح حکمران یا ان کی فکر ہوگی جس سے دین کی تجدید کا کام لیا جانا مقصود ہوگا۔اسی کو مہدی بھی کہا گیا ہے۔ امام حسن بصری کے مطابق اس کا مصداق حضرت عمر بن عبد العزیز تھے، اور وہ گزر چکے۔ ان روایات میں جو تفصیل پیدا کی گئی ہے، وہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب سے حاصل ہوئی ہے، جو مسیح کی آمد اور ان کی بادشاہت کے قیام کے منتظر تھے۔ تاہم،یہ بشارت اتنی اہمیت نہیں رکھتی تھی کہ خدا کی ابدی کتاب میں جگہ پاتی۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے، پروفیسر محمدعقیل کی کتاب، ’’نزول مسیح کا تحقیقی مطالعہ‘‘)

خاتم النبیین

قرآن مجید میں سورۂ احزاب (۳۳) کی آیت ۴۰ اختتام نبوت پر ایک مزید محکم و قطعی دلیل ہے۔ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ختم نبوت کا اعلان کرنے والی آیت قطعی اور محکم ہے، یعنی اس میں اختتام نبوت کے علاوہ کسی دوسرے ضمنی یا اضافی معنی کے احتمال کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ اس کو ہم ذیل میں ثابت کرتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا.
’’محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ اور اللہ ہر چیز سے با خبر ہے۔‘‘

احمدی حضرات کے ترجمے میں بھی خاتم کو مہر ہی کے معنی میں لیا گیا ہے:

’’نہ محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ تھے نہ ہیں (نہ ہوں گے)لیکن اللہ کے رسول ہیں بلکہ (اس سے بڑھ کر) نبیوں کی مہر ہیں اور اللہ ہر ایک چیز سے خوب آگاہ ہے۔‘‘(تفسیر صغیر ۵۵۱۔ ۵۵۲)

قوسین میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آیندہ کے لیے بھی کسی مرد کے باپ ہونے کی نفی کی گئی ہے۔ اس کی دلیل ان کی طرف سے یہ دی جاتی ہے کہ ’مَا کَانَ‘ کے الفاظ عربی زبان میں صرف یہی معنی نہیں دیتے کہ صرف اِس وقت باپ نہیں، بلکہ یہ معنی بھی دیتے ہیں کہ آیندہ بھی باپ نہیں ہوں گے، جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے ’کَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘ (النساء ۴: ۱۵۸) یعنی اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم تھا، ہے اور آیندہ بھی رہے گا۔
آیت کی تشریح میں صاحب ’’تفسیر صغیر‘‘ لکھتے ہیں:

’’ختم نبوت کے یہ معنے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا مقام سب نبیوں سے افضل ہے۔‘‘ (۵۵۱)

پوری آیت کی تشریح احمدیت میں کچھ یوں کی جاتی ہے:
جب حضرت زید رضی اللہ عنہ کی مطلقہ حضرت زینب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کا واقعہ پیش آیا تو لوگوں نے باتیں بنائیں کہ اپنے متبنیٰ کی مطلقہ سے شادی عرب کے رواج کے خلاف تھی، کیونکہ وہ اسے بھی حقیقی بہو کی طرح ہی سمجھتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم جو سمجھتے ہو کہ زید (رضی اللہ عنہ) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ہیں، یہ غلط ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی بالغ جوان مرد کے باپ ہیں ہی نہیں اور صرف اِس وقت باپ نہیں، بلکہ آیندہ بھی کسی مرد کے باپ نہیں ہوں گے۔ اس اعلان پر قدرتاً لوگوں کے دلوں پر ایک اور شبہ پیدا ہونا تھا کہ مکہ میں تو سورۂ کوثر کے ذریعے سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دشمن تو اولاد نرینہ سے محروم رہیں گے، مگر آں حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) محروم نہیں رہیں گے، لیکن اب سالہا سال کے بعد مدینہ میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نہ تو کسی بالغ مرد کے باپ ہیں، نہ آیندہ ہوں گے، تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ سورۂ کوثر والی پیشین گوئی (نعوذبااللہ) جھوٹی نکلی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت مشکوک ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّٖنَ‘، یعنی ہمارے اس اعلان سے لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوا ہے، باوجود اس اعلان کے کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، بلکہ خاتم النبیین ہیں، یعنی نبیوں کی مہر ہیں۔ پچھلے نبیوں کے لیے بطور زینت کے ہیں اور آیندہ کوئی شخص نبوت کے مقام پر فائز نہیں ہو سکتا، جب تک کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مہر اس پر نہ لگی ہو۔ ایسا شخص آپ کا روحانی بیٹا ہو گا اور ایک طرف سے ایسے روحانی بیٹوں کے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی امت میں پیدا ہونے سے اور دوسری طرف اکابر مکہ کی اولاد کے مسلمان ہو جانے سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ سورۂ کوثر میں جو بتایا گیا تھا، وہ ٹھیک تھا۔ ابو جہل، عاص اور ولید کی اولاد ختم کی جائے گی اور وہ اولاد اپنے آپ کو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے منسوب کر دے گی اور آپ کی روحانی اولاد ہمیشہ جاری رہے گی اور قیامت تک ان میں ایسے مقام پر لوگ فائز ہوتے رہیں گے جس مقام پر کوئی عورت کبھی فائز نہیں ہو سکتی، یعنی نبوت کا مقام، جو صرف مردوں کے لیے مخصوص ہے پس اگر خاتم النبیین کے یہ معنی کیے جائیں کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) تم میں سے کسی بالغ مرد کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور آیندہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا، تو یہ آیت بالکل بے معنی ہو جاتی ہے اور سیاق و سباق سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہتا اور کفار کا وہ اعتراض جس کا سورۂ کوثر میں ذکر کیا گیا ہے، پختہ ہو جاتا ہے۔
اس بیانیے میں درج ذیل نکات ہیں:
o ’کَانَ‘ کی خبر حال کے ساتھ مستقبل کے لیے بھی موثر ہے۔ ’’تفسیر صغیر‘‘ کے ترجمے میں بھی اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔
o ’لٰکِنْ‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کی ابوبیت کی نفی سے پیدا ہونے والے شبہ کہ اولاد نرینہ نہ ہونے کی بنا پر آپ کا نام لیوا کوئی نہ ہوگا، کو ’لٰکِنْ‘ کے بعد کے بیان سے دور کرنا ضروری ہے، چنانچہ یہ آپ کی روحانی اولاد کے مفہوم سے دور کیا گیا ہے جو آپ کے نام لیوا ہوں گے اور نبیوں کی شکل میں بھی آتے رہیں گے۔
o ان آنے والے نبیوں پر آپ کی مہر تصدیق لگی ہوگی۔ مہر تصدیق کے لیے نقش پیدا کرتی ہے، جس پر آپ کی نبوت کا پرتو ہوگا، وہ گویا آپ کی طرف سے تصدیق شدہ نبی ہوگا۔
o ’خَاتَم‘ کا لفظ مہر کے ساتھ زینت اور افضلیت کے اضافی مفاہیم بھی رکھتا ہے۔
o خاتم کے معنی اختتام کمال کے ہیں، نہ کہ مطلق اختتام کے، یعنی خاتم النبیین کا مفہوم کمال نبوت کا اختتام ہے، یعنی آپ جیسا کامل درجے کا کوئی نبی اب اور کوئی نہیں آئے گا، البتہ آپ سے کم تر درجے کے انبیا آ سکتے ہیں۔ اس پر دلیل خاتم الشعرا اور خاتم الاولیا جیسی تراکیب ہیں، جن میں ’خَاتَم‘ سے مراد آخری نہیں، بلکہ مجازی معنی کے اعتبار سے درجۂ کمال میں آخری فرد مراد ہے۔

نقد

پہلی بات تو یہ ہے کہ ’کَانَ‘ کی خبر میں دوام اور استقرار اس کا ایک پہلو ہے جسے ہر جگہ لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً ’کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً‘ ’’لوگ ایک ہی امت تھے‘‘ (البقرہ۲: ۲۱۳)، تو کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی امت رہیں گے؟
دوام و استقرار کا معنی خبر کی خصوصیت کے سبب پیدا ہوتا ہے، نہ کہ ’کَانَ‘ کے فعل میں ایسی کوئی خصوصیت ہے۔ اس لیے ختم نبوت والی آیت ’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ‘ سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیندہ بھی کسی مرد کے باپ نہ ہو سکیں گے، یہ وہم آیت کے الفاظ سے پیدا ہونا لازم نہیں جس کے تدارک کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روحانی باپ بنانے کا استدلال درست قرار دیا جا سکے۔ چنانچہ اس آیت کے بعد آپ اگر کسی نرینہ اولاد کے باپ بن جاتے اور وہ بالغ ہو جاتی، تب بھی آیت کے بیان میں فرق نہیں پڑتا تھا، کیونکہ مسئلہ اس وقت زید کی مطلقہ سے آپ کے نکاح کا تھا اور اس وقت آپ بشمول زید کے کسی مرد کے باپ نہیں تھے اور اسی بنا پر اس نکاح پر اعتراض کرنے والوں کو جواب دیا جا رہا تھا، یعنی یہ کہا جا رہا تھا کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح پر لوگ کیوں معترض ہو رہے ہیں، آپ تو ان لوگوں میں سے کسی بھی مرد کے باپ نہیں ہیں؟ چنانچہ اس آیت کا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ آپ مستقبل میں بھی کسی مرد کے باپ نہ ہوں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ کسی مرد کے باپ نہ ہوئے، لیکن اس واقعہ کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔
اب سوال یہ ہے کہ یہاں رسول اللہ کی مردوں کے لیے ابوبت کی نفی کے ساتھ آپ کے ختم نبوت کا کیا تعلق ہے جو انھیں ایک ہی آیت میں انھیں مذکور کیا گیا؟ آیت کے ان مضمرات کو سمجھنے کے لیے آیت کا سیاق و سباق ہی کافی ہے۔ یہ آیت حضرت زید جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے تھے، کی مطلقہ سے آپ کے نکاح کے سلسلے میں وارد ہوئی ہے۔ یہ حکم اگرچہ پہلے نازل ہو چکا تھا کہ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹے نہیں ہیں، جس کا صاف مطلب تھا کہ ان کی بیویاں بھی حقیقی بہوؤں کی طرح نہیں ہیں:

مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَکُمُ الّآئِْ تُظٰھِرُوْنَ مِنْھُنَّ اُمَّھٰتِکُمْ وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَ کُمْ اَبْنَآءَ کُمْ ذٰلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِاَفْوَاھِکُمْ وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَھُوَ یَھْدِی السَّبِیْلَ. اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآءِہِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَآءَ ھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیْمَآ اَخْطَاْتُمْ بِہٖ وَلٰکِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُکُمْ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا.(الاحزاب۳۳: ۴۔۵)
’’اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے ہیں (کہ ایک ہی وقت میں وہ دو متضاد باتوں کو مانتا رہے)۔ چنانچہ نہ اُس نے تمھاری بیویوں کو جن سے تم ظہار کر بیٹھتے ہو، تمھاری مائیں بنایا ہے اور نہ تمھارے منہ بولے بیٹوں کو تمھارا بیٹا بنادیا ہے۔ یہ سب تمھارے اپنے منہ کی باتیں ہیں، مگر اللہ حق کہتا ہے اور وہی سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ تم منہ بولے بیٹوں کو اُن کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہی اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف ہے۔ پھر اگر اُن کے باپوں کا تم کو پتا نہ ہو تو وہ تمھارے دینی بھائی اور تمھارے حلیف ہیں۔ تم سے جو غلطی اِس معاملے میں ہوئی ہے، اُس کے لیے توتم پر کوئی گرفت نہیں، لیکن تمھارے دلوں نے جس بات کا ارادہ کر لیا، اُس پر ضرور گرفت ہے۔ اور اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘

لیکن منہ بولے بیٹے کی مطلقہ یا بیوہ سے منہ بولے باپ کا نکاح نہ کرنا، ایک سماجی رسم تھی، جو محض حکم دینے سے ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی تھی۔ ثقافتی عادات اتنی آسانی سے نہیں بدلتیں۔ مثلاًبرصغیر پاک و ہند میں مسلم بیوہ کے نکاح ثانی کا رواج آج تک ایک مسئلہ بنا ہوا ہے، حالاں کہ اس پر نہ صرف نص موجود ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی تمام امت کے سامنے ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ٹھیرا کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ یا بیوہ سے منہ بولے باپ کے نکاح کو درست نہ سمجھنے کی اس رسمِ باطل کی جڑ صرف حکم نازل کرنے سے نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے عملی طور پر ختم کر کے دکھا دی جائے۔ مسئلے کی نزاکت اور سماجی رد عمل کا عالم دیکھیے کہ قرآن مجید کی آیت کے ہوتے ہوئے کہ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹے نہیں ہوتے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نکاح پر لوگوں کی طرف سے باتیں بنانے کی پریشانی لاحق تھی، جس پر اللہ نے آپ کو سمجھایا کہ آپ سے پہلے ہم دیگر رسولوں سے بھی ایسی خدمات لے چکے ہیں تو آپ کو بھی لوگوں کا اندیشہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اللہ ہی سے ڈرنا چاہیے، جیسے گذشتہ رسول اللہ سے ڈرتے تھے۔ آیات ملاحظہ کیجیے:

وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْٓ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہُ فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا لِکَیْ لَا یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآءِھِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْھُنَّ وَطَرًا وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا. مَاکَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا.نِ الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَیَخْشَوْنَہٗ وَلَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ وَکَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا. مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا.(الاحزاب ۳۳: ۳۷۔۴۰)
’’(اِنھوں نے یہ فتنہ اُس وقت اٹھایا)، جب تم اُس شخص سے بار بار کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور تم نے بھی انعام کیا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو، اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا۔اور تم لوگوں سے ڈر رہے تھے،حالاں کہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تم اُس سے ڈرو۔ پھر جب زید نے اپنا رشتہ بیوی سے منقطع کر لیا تو ہم نے اُس کو تم سے بیاہ دیا تاکہ مسلمانوں پر اُن کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں کوئی تنگی نہ رہے، جب وہ اپنا رشتہ اُن سے منقطع کر لیں۔ اور خدا کا حکم تو ہو کر ہی رہنا تھا۔نبی کے لیے جو بات اللہ نے ٹھیرا دی ہو، اُس میں اُس پر کوئی تنگی نہیں ہے۔ (اُس کے پیغمبر) جو پہلے گزرے ہیں، اُن کے معاملے میں بھی اللہ کی یہی سنت رہی ہے اور اللہ کا حکم ایک طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے وہ جو اللہ کے پیغام پہنچاتے تھے اور اُسی سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔ (لہٰذا تم بھی اُسی سے ڈرو، اے پیغمبر، اور مطمئن رہو کہ) حساب کے لیے اللہ کافی ہے (حقیقت یہ ہے کہ) محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ (اِس لیے یہ ذمہ داری اُنھی کو پوری کرنی تھی)، اور اللہ ہر چیز سے با خبر ہے۔‘‘

اس تناظر میں آیت کے مضمرات یوں کھلتے ہیں:
(حقیقت یہ ہے کہ)محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں (تو متبنیٰ کی مطلقہ سے نکاح پر اعتراض کرنے والے کس بنیاد پر اعتراض کر رہے ہیں) بلکہ آپ (تو) اللہ کے رسول ہیں (اور خدا کے رسولوں سے تو ایسے کام لیے ہی جاتے ہیں، جیسے کہ اوپر آیات میں بتایا گیا) اور (چونکہ آپ) خاتم النبیین (یعنی آخری نبی) ہیں۔ (اِس لیے یہ ذمہ داری آپ ہی کو پوری کرنی تھی، کسی اور نبی نے آنا ہوتا تو یہ کام اس کے لیے موخر کیا بھی جا سکتا تھا، مگر یہاں یہ امکان بھی نہیں)، اور اللہ ہر چیز سے با خبر ہے۔
آیت زیر بحث میں ابوبیت کی نفی سے محض ابوبیت کی نفی نہیں، بلکہ اس اعتراض کی نفی مقصود تھی جو مخالفین اس نکاح پر اٹھا رہے تھے۔حرفِ استدراک ’لٰکِنْ‘ لانے کا مقصد یہ وہم دور کرنا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کام کیوں لیا گیا۔ اس کا جواب یوں دیا گیا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور اس حیثیت سے ایسی اصلاحات کرنا رسولوں کی سنت رہی ہے، بلکہ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ آپ آخری نبی تھے، اس لیے اس رسم باطل کی جڑ آپ ہی کے ہاتھوں سے کٹنا ضروری تھا۔

خاتَم کا مفہوم

’خاتَم‘ کے لفظ میں زینت یا افضلیت یا کمال درجہ کا اختتام کا اضافی معنی پیدا کرنے کی از خود کوئی گنجایش نہیں۔ خاتَم کا معنی انگوٹھی یا مہر ہے، انگوٹھی کو بھی مہر کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، اس لیے یہ ایک ہی لفظ دونوں کے لیے مستعمل ہو گیا، یعنی خاتَم کا اصل مطلب مہر ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس میں زینت کا مفہوم آپ سے آپ شامل نہیں، جب تک زینت کے لیے الگ لفظ نہ لایا جائے جو خاتَم کو موصوف قرار دے کر اس کی صفت بنے ۔ جیسے ’کتاب‘ کہہ دینے سے کوئی کتاب دل چسپ کتاب نہیں بن جاتی، جب تک اس کے دل چسپ ہونے کا مفہوم دینے والا لفظ بطور صفت ساتھ موجود نہ ہو، اسی طرح محض مہر کہنے سے مہر کی زینت بیان نہیں ہو جاتی، جب تک اس کی زینت بیان کرنے کے لیے کوئی دوسرا لفظ ساتھ موجود نہ ہو، یا کوئی واضح قرینہ ہو جیسے خاتم الملک، یعنی بادشاہ کی انگوٹھی۔ مہر کے لیے تو زینت کا مفہوم موزوں بھی نہیں، یہ انگوٹھی کے لیے ہی موزوں ہو سکتا تھا، لیکن سیاق و سباق کے لحاظ سے یہاں انگوٹھی کا مفہوم کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ بشمول احمدی حضرات کے کسی نے بھی اس کا مفہوم انگوٹھی نہیں لیا، یعنی یہ کہنے کا کوئی محل نہیں کہ رسول نبیوں کی انگوٹھی ہیں، اور اس کا مزین ہونا بھی بیان میں نہیں آیا۔ اس لیے بالاتفاق ’خَاتَم‘ سے یہاں مہر کے معنی ہی لیے جا سکتے ہیں جس میں زینت کا کوئی مفہوم شامل نہیں۔ نیزاسی بنا پر ’مہر‘ کے لفظ میں افضلیت کا بھی کوئی مفہوم شامل نہیں۔ افضیلت کا مفہوم زینت ہی کے مفہوم سے اخذ کیا گیا ہے۔ جب زینت کا مفہوم یہاں مفقود ہے تو افضلیت کا مفہوم بھی موجود نہیں ہے۔
خاتَم میں کمال درجہ کے اختتام کا بھی کوئی مفہوم خاتم میں پایا نہیں جاتا۔ یہ مفہوم پیدا کرنے کے لیے جو استدلال کیا جاتا ہے کہ اس کی حقیقت بھی دیکھ لیجیے:
یہ غلط فہمی خاتِم الشعرا اور خاتِم الاولیا جیسی تراکیب سے پیدا ہوئی ہے۔ استدلال یہ کیا گیا ہے کہ خاتِم الشعرا یا خاتِم الاولیا کا مفہوم آخری شاعر یا آخری ولی نہیں ہوتا، بلکہ صاحب خطاب کے کمال پر دلالت کا یہ مجازی اسلوب ہے کہ اس جیسا باکمال شاعر یا ولی دوبارہ نہیں آئے گا، لیکن اس سے کم تر درجے کے لوگ آ سکتے ہیں۔ اس استدلال میں غلطی یہ ہوئی ہے کہ یہ ترکیب ’ت‘ کے کسرہ، یعنی زیر کے ساتھ مستعمل ہے، فتح، یعنی زبر کے ساتھ نہیں۔ یعنی خاتِم الشعرا یا خاتِم الاولیا ہے، نہ کہ خاتَم الشعرا اور خَاتَم الاولیا۔ کلام عرب میں یہ ترکیب کمال درجہ کے اختتام کے مفہوم میں لفظ ’خَاتم‘ کے ساتھ مستعمل نہیں، جب کہ قرآن مجیدنے لفظ ’خَاتَم‘ استعمال کیا ہے۔
میری بساط بھر تلاش و تحقیق کے بعد معلوم یہ ہوا ہے کہ تائے مکسورہ کے ساتھ خاتِم الشعرا جیسی تراکیب جو کمال درجہ کے اختتام پر دلالت کرتی ہیں، زمانۂ جاہلیت کے کلام عرب کے اسالیب میں موجود نہیں، اس کا سب سے پہلے استعمال ابو بکر الصولی (وفات ۳۳۵ ھ) کی کتب میں ملا ہے جو چوتھی صدی ہجر ی کا ادیب ہے۔ اس نے اس ترکیب کو کچھ یوں برتا ہے:

وفلان خاتم القوم وخاتمتہم أي آخرہم. (أدب الکتاب للصولی ۱۴۰)
’’فلاں خاتم القوم ہے، یعنی ان کاآخری آدمی۔‘‘

یہاں خاتم پر کوئی اعراب نہیں، تاہم، ’خاتمتھم‘ سے یہاں خاتم کی ’ت‘ پر کسرہ معلوم ہوتا ہے۔ تاہم یہ اگر بفتح ’ت‘ بھی ہو تو معنی یہاں بھی مصنف نے آخری آدمی ہی مراد لیا ہے، نہ کہ کمال درجے کا آخری آدمی۔ اسی مصنف کے ہاں یہ ترکیب صرف ایک جگہ پر خاتم کی ’ت‘ پر فتح کے ساتھ بھی استعمال ہوئی ہے۔ اور پورے کلام عرب سے فقط یہ ایک ہی شعرہے جو خاتم بفتح ’ت‘ بمعنی اختتام کمال کے مفہوم میں احمدی حضرات کی طرف سے پیش کیا جا سکا ہے:

فُجِعَ القَریضُ بخاتَمِ الشُّعراءِ ...
وغَدیرِ رَوْضَتِہَا حَبیبِ الطَّائي

(کتاب في أخبار أبي تمام. ألفہ الصولي) أخبار أبي تمام (ص:۴۳)

یہ معلوم ہے کہ قرآن مجید پر کلامِ عرب سے کوئی استشہاد پیش کرنے کا اصول یہ ہے کہ وہ قرآن مجید سے پہلے موجود ہونا ضروری ہے۔ یہ ترکیب اول تو ایجاد ہی قرآن کے بعد کے دور کی ہے، دوسرے یہ کہ یہ خاتم کی ’ت‘ کے کسرہ کے ساتھ مستعمل ہے، جب کہ قرآن میں یہ تاے مفتوحہ کے ساتھ آئی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ ابو بکر الصولی کے کلام میں اگر یہ تاے مفتوحہ کے ساتھ پائی گئی ہے تو اس میں دو احتمالات ہیں: ایک یہ کہ یہ کاتب کی خطا ہو سکتی ہے، شاعر نے اسے تاے مکسورہ کے ساتھ ہی برتا ہوگا، دوسرے یہ کہ شاعر نے تاے مفتوحہ کے ساتھ اس کا یہ استعمال قرآن سے متاثر ہوکر کیا ہے۔ مزید یہ کہ تاے مفتوحہ کے ساتھ یہ ترکیب رواج بھی نہیں پا سکی۔ رواج پا بھی جاتی تو بھی قرآن مجید کے بعد کے دور کی ہونے کی بنا پر یہ اس پر استشہاد نہیں بن سکتی تھی۔
اسی طرح پورے ذخیرۂ حدیث میں صرف ایک روایت ہے جس میں خاتم بفتح ’ت‘ کو اس معنی میں پیش کیا جاتا ہے کہ آخری سے حقیقی آخری مراد نہیں، بلکہ مجازاً کمال درجے کا آخری فرد مراد ہے۔ اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو خاتَم المہاجرین کہا تھا۔ احمدی حضرات کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ ان کے بعد کوئی اور مہاجر نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ یہ ترکیب ’افضل المہاجرین‘ کے معنی میں آئی ہے:

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّٰہِ بْنُ مُوسَی بْنِ شَیْبَۃَ الأَنْصَارِيُّ السُّلَمِيُّ، قثنا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قَیْسٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ بَدْرٍ وَمَعَہُ عَمُّہُ الْعَبَّاسُ، قَالَ لَہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، لَوْ أَذِنْتَ لِي فَخَرَجْتُ إِلَی مَکَّۃَ فَہَاجَرْتُ مِنْہَا، أَوْ قَالَ: فَأُہَاجِرُ مِنْہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’یَا عَمِّ اطْمَءِنَّ، فَإِنَّکَ خَاتَمُ الْمُہَاجِرِینَ فِي الْہِجْرَۃِ، کَمَا أَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّینَ فِی النُّبُوَّۃِ‘‘.(فضائل الصحابۃ، احمد بن حنبل ۲/۹۴۱)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بدرسے واپس تشریف لائے تو آپ کے ساتھ آپ کے چچا حضرت عبا س بھی تھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول اگر آپ مجھے مکہ جانے کی اجازت دیں تو میں وہاں سے ہجرت کر کے آؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے چچا، اطمینان رکھیے۔ آپ ہجرت کرنے میں خاتم المہاجرین ہیں جیسے میں نبوت میں خاتم النبین ہوں۔‘‘

سند کے لحاظ سے یہ ایک منفرد روایت ہے، یعنی یہ فقط ایک ہی سند سے منقول ہے۔ سند سے قطع نظر، کلام عرب کے معیار سے اس کا متن قابل قبول ہے تو یہ روایت دراصل اُس ہجرت کے خاتمے کا اعلان کر رہی ہے جس کا کرنا اس وقت کے مسلمانو ں پر فرض قرار دیا گیا تھا۔ حضرت عباس فتح مکہ سے کچھ ہی وقت پہلے ہجرت کر کے مدینہ آئے تھے۔ اس کے فوراً بعد ہی مکہ فتح ہوا اور لازمی ہجرت کا حکم ختم ہو گیا۔ گویا حضرت عباس آخری مہاجر تھے جنھوں نے فتح مکہ سے پہلے ہجرت کی۔ چنانچہ اس روایت سے بھی اختتام سے حقیقی اختتام کا مطلب ہی واضح ہوتا ہے، نہ کہ افضل المہاجرین کا۔
عقلی طور پر بھی یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کہ وہ لوگ جنھوں نے اسلام کے شروع کے مشکل دور میں اپنی جان و مال کو خطرے میں ڈال کر ہجرت کی، ان کی ہجرت سے اس آخری دور کی ہجرت کو افضل قرار دے دیا جائے، جب کہ حالات مسلمانوں کے حق میں پلٹ چکے تھے۔
اسی ضمن میں صوفیانہ حلقوں میں مشہورایک اور روایت بھی پیش کی جاتی ہے جس میں حضرت علی کو خاتم الاولیا کہا گیا ہے:

أنا خاتم النبیٖن و أنت یا علي، خاتم الأولیاء.
’’میں خاتم النبیین ہوں اور تم، اے علی، خاتم الاولیا ہو۔‘‘

یہ روایت موضوع ہے۔ گھڑنے والے نے نہ صرف یہ روایت گھڑی، بلکہ اولیا کو صوفیا کے خاص مفہوم میں بھی گھڑا، حالاں کہ یہ درحقیقت اس مفہوم میں ہندوستان کی اختیار کردہ اصطلاح ہے، جوکلام عرب کے لیے اجنبی ہے۔

خاتم النبیین کا مطلب

خاتم، یعنی مہر کے دو مفاہیم پیش کیے جا سکتے ہیں، یعنی seal یعنی مہر بند اور stamp۔ یعنی اس کا ایک معنی یہ ہو سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کے سلسلے کے لیے مہر بند ہیں، اب ان کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا، سیاق و سباق کے لحاظ سے یہی مفہوم درست ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ وہ نبیوں کے تصدیق کرنے والے ہیں۔ احمدی حضرات کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مہر، مہر لگانے کے عمل میں نقش پیدا کرتی ہے جو تصدیق کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اب جس شخص پر نبوت محمدی کا نقش ہوگا، وہ بھی نبی ہوگا۔ آیت کے سیاق و سباق میں یہ مفہوم موزوں نہیں۔ تاہم برسبیل تنزل اسے تسلیم کر بھی لیا جائے تو یہ تو واضح ہے کہ گذشتہ انبیا آپ کی تصدیق سے ہی ہمارے لیے نبی قرار پائے ہیں، اور بالفرض اگر کوئی آیندہ انبیا ہوتے تو وہ بھی آپ کی تصدیق سے نبی مانے جاتے۔ گذشتہ انبیا کا معاملہ تو واضح ہے، لیکن اب آیندہ کوئی نبی، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لیے کوئی تصدیق کہاں سے لا سکتا ہے؟ رسول اللہ کی طرف سے قرآن یا کسی کثیر الروایہ حدیث میں کسی نئے رسول کی تصدیق ثابت نہیں ہے۔آنے والے انبیا کی کوئی نشانیاں نہیں بتائی گئیں۔ تسلسل نبوت کا نظریہ اگر درست ہو تو ہر آنے والے نبی کی خصوصیات کا بیان محمد رسول اللہ سے ثابت ہونا ضروری ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے ’’اپنے بعد آنے والے کسی نبی کی نہ آپ نے بشارت دی ہے، نہ تصدیق فرمائی ہے، بلکہ نہایت واضح اور قطعی الفاظ میں بار بار اعلان کیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ پھر یہی نہیں، اِس سے آگے یہ بات بھی آپ نے واضح کر دی ہے کہ نبوت کا منصب ہی ختم نہیں ہوا، اُس کی حقیقت بھی ختم ہو گئی ہے، لہٰذا اب کسی شخص کے لیے نہ وحی و الہام کا امکان ہے اور نہ مخاطبہ و مکاشفہ کا۔ ختم نبوت کے بعد اِس طرح کی سب چیزیں ہمیشہ کے لیے ختم کر دی گئی ہیں۔
آپ کے ارشادات درج ذیل ہیں:

’’۱۔ کانت بنو إسرائیل تسوسہم الأنبیاء، کلما ھلک نبي خلفہ نبي، وإنہ لا نبي بعدي وسیکون خلفاء.(بخاری، رقم ۳۴۵۵)
’’بنی اسرائیل کی قیادت اُن کے نبی کرتے تھے۔ ایک نبی دنیا سے رخصت ہوتا تو دوسرا اُس کا جانشین بن جاتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا، بلکہ خلفا ہوں گے۔‘‘
۲۔ إن مثلي و مثل الأنبیاء من قبلي کمثل رجل بنی بیتًا فأحسنہ وأجملہ إلا موضع لبنۃ من زاویۃ، فجعل الناس یطوفون بہ ویعجبون لہ و یقولون: ھلا وضعت ہذہ اللبنۃ؟ قال: فأنا اللبنۃ وأنا خاتم النبیین.(بخاری، رقم۳۵۳۵)
’’میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے نبیوں کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک شخص نے عمارت بنائی، نہایت حسین و جمیل، مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔ لوگ اُس عمارت کے گرد پھرتے اور اُس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے تھے، مگر کہتے تھے کہ یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی؟ فرمایا کہ وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔‘‘ ‘‘(میزان، جاوید احمد غامدی ۱۴۹۔۱۵۰)

ہمارے جن مفسرین نے ’خاتم‘ میں زینت اور افضیلت کے معنی پیدا کیے ہیں، انھوں نے ایسا زبان کے کسی قاعدے یا استعمال کی بنا پر نہیں کیا، بلکہ شاید عقیدت میں کیا ہے۔ کیونکہ کلام عرب میں اس کا کوئی ثبوت ہمیں نہیں مل سکا۔
بہر حال، کلام عرب میں ’خاتم‘ کا لفظ مہر کے معنی میں مستعمل ہے اور آیت زیر بحث میں یہ مہر، یعنی مہر بند کے علاوہ کسی اور معنی کے لیے موزوں نہیں۔ اس کے لیے کلام عرب میں خاتم البرید ڈاکٹ کی مہر، خاتم الکتاب، کتاب پر مہر جیسی تراکیب مستعمل ہیں جو یہی مفہوم دیتی ہیں کہ مہر لگنے کے بعد اس میں مزید کسی چیز کے دخول کی گنجایش نہیں ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آیت زیربحث میں لفظ ’خَاتَم‘ میں زینت، افضلیت اور کمال درجہ کے اختتام کے معانی نہیں پائے جاتے۔ اس کا ایک ہی مفہوم متعین ثابت ہوتا ہے اور وہ ہے مہر، یعنی حقیقی اختتام۔
لہٰذا ثابت ہوتا ہے کہ آیت زیر بحث، خاتمیت نبوت کے مفہوم میں قطعی اور محکم آیت ہے۔چنانچہ، خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف منصب نبوت ختم کر دیا گیا ہے، بلکہ حقیقت نبوت بھی ختم کر دی گئی ہے۔ یعنی آسمانی خبر جسے عربی میں ’نبأ‘ کہتے ہیں جس پر بھی آئے، وہ اصطلاحی یا لفظی اعتبار سے نبی کہا جا سکتا ہے۔ ’النَّبِیّٖنَ‘ کے لفظ میں کوئی تخصیص نہیں ہے۔ چنانچہ ’خَاتَمُ النَّبِیِّیٖنَ‘ سے ہر قسم کے نبی کا اختتام واضح ہو رہا ہے۔ ’النَّبِیّٖنَ‘ کہہ کر ایسے تمام مناصب کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اسی مضمر حقیقت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ارشاد میں واضح فرمایا:

لم یبق من النبوۃ إلا المبشرات. قالوا: وما المبشرات؟ قال: الرؤیا الصالحۃ. (بخاری، رقم۶۹۹۰)
’’نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی، صرف بشارت دینے والی باتیں رہ گئی ہیں۔ عرض کیا گیا: وہ بشارت دینے والی باتیں کیا ہیں؟ فرمایا: اچھا خواب۔‘‘

یہ خواب کسی کو نبی نہیں بنا سکتے، ان کی حد بتا دی گئی ہے، اور نہ کسی کو کسی نئے نبی کی نبوت پر ایمان لانے کی ترغیب دے سکتے ہیں، کیونکہ وہ حقیقت ہی میں موجود نہیں۔ رحمانی خواب اور شیطانی یا نفسانی خواب میں بھی حد امتیاز اور فیصلہ کن اتھارٹی خدا کا کلام کرتا ہے۔ جو خواب وحی کی تصریحات کے خلاف ہو، وہ سچا ہے نہ خدا کی طرف سے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید نبوت کے تسلسل کے بیان سے یکسر خالی ہے۔ اس سے بدیہی طور پر طے ہو جاتا ہے کہ اور کوئی نبی آنے والا نہیں، اگر یہ فہم غلط ہوتا تو قرآن مجید اس کو لازمی طور پر مخاطب کرتا، اور نئے انبیا کی آمد مع ان کی نشانیوں کے ذکر کرتا۔ عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا بھی امکان قرآن مجید کی روشنی میں موجود نہیں۔ اس بنا پر بھی کوئی دعویٰ نبوت لائق اعتنا نہیں۔ ختم نبوت کی آیت اس پر مستزاد ہے جس نے تسلسل نبوت کے کسی بھی امکان پر مہر لگا دی ہے۔ کوئی خواب، الہام اور مکاشفہ اس معاملے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ دین کی تکمیل، اور اس کے ماخذوں، قرآن اور سنت متواترہ کے محفوظ ہو جانے اور رشد و ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد انسانوں کی آزمایش کا آخری دور شروع کیا گیا ہے۔ یہ عقل و فہم اور دلیل کا دور ہے۔ قرآن نے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد عقل کے استعمال کی طرف توجہ دلائی ہے، نہ کہ پھر کسی خدائی مداخلت کے انتظار کی۔ اس سب کے لیے خدا کی اسکیم کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List