Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
اگلوں کی پیروی | اشراق
Font size +/-

اگلوں کی پیروی

تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

۱

عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ الخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ۱: ’’[وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ۲] لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ [کَانَ۳] قَبْلَکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتّٰی لَوْ سَلَکُوْا۴ جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَکْتُمُوْہُ‘‘۵، قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، الیَہُوْدَ، وَالنَّصَارٰی؟ قَالَ: ’’فَمَنْ؟‘‘.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم لوگ بھی اپنے اگلوں ہی کے طریقوں پر چلو گے۱۔تم میں اور اُن میں ایسی موافقت ہوگی، گویا بالشت پر بالشت اور ہاتھ پر ہاتھ ، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی لازماً گھسوگے۲۔ہم نے پوچھا:یا رسول اللہ، یہود ونصاریٰ مراد ہیں؟ آپ نے فرمایا: اور کون؟

_____

۱۔ اصل میں لفظ ’سنن‘ آیا ہے۔ اِس سے یہاں برے طریقے مراد ہیں،یعنی جو اُنھوں نے اپنی خواہشات اور تعصبات سے مغلوب ہو کردین کی تعبیر ، اُس کے فہم اور اُس پر عمل کے معاملے میں اختیار کیے۔آگے کی روایتوں سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجائے گی۔تاہم یہاں’لَوْ سَلَکُوْا جُحْرَ ضَبٍّ‘ کے الفاظ سے بھی واضح ہے۔
۲۔ یہ ظاہر ہے کہ شدید تنبیہ کا اسلوب ہے۔اِس سے مقصود یہ ہے کہ نسلاً بعد نسل آپ کے تمام ماننے والے متنبہ ہوں اور اگلوں کے انجام سے سبق لے کر اُن برے طریقوں سے بچیں جو اُن کے لیے خدا کے غضب اور اُس کی ناراضی کا باعث بن گئے۔قرآن مجید کے پہلے باب میں اُن سورتوں کی تقدیم کا مقصد بھی یہی ہے جن میں یہود و نصاریٰ سے خطاب کیا گیا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی، افسوس ہے کہ حرف بہ حرف پوری ہوگئی۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کے علما ورُہبان نے جو رویے اختیار کیے اور اپنے دین میں طرح طرح کی بدعتیں داخل کر کے جس طرح اُس کا حلیہ بگاڑا ، اُن کے حکمرانوں نے جس طرح خدا کی شریعت کو پس پشت ڈالا اور اُن کے عوام جس طرح توہمات میں مبتلا ہوئے اور مشرکانہ عقائد اور مبتدعانہ اعمال کے خوگر ہوکر رہ گئے، مسلمان بھی اُسی طریقے سے اِن سب جرائم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ اِس کی تفصیلات اگر کوئی شخص چاہے توعہد رسالت کے بعد ہر دور کے علما ومصلحین کی تحریروں میں دیکھ لے سکتا ہے جو اپنے زمانے کے لوگوں کو اُن کے جرائم پر متنبہ کرتے رہے ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن اصلاًصحیح بخاری، رقم۳۴۵۶سے لیا گیا ہے۔ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ اِس کے باقی طرق جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں:مسند احمد، رقم۱۱۸۰۰، ۱۱۸۴۳۔صحیح بخاری، رقم ۷۳۲۰۔صحیح مسلم، رقم۲۶۶۹۔صحیح ابن حبان، رقم۶۷۰۳۔
اِس کے شواہد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ،عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِن شواہد کے مراجع یہ ہیں: مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۷۳۷۶۔ مسند احمد، رقم۸۳۴۰، ۹۸۱۹، ۱۰۸۲۷۔سنن ابن ماجہ، رقم۳۹۹۴۔ مسند حارث، رقم۷۵۴۔مستدرک حاکم، رقم ۱۰۶۔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اِس باب کی روایت السُّنۃ، مروزی رقم۴۸میں اورابن عباس رضی اللہ عنہ سے السُّنۃ، مروزی رقم۴۳میں دیکھ لی جاسکتی ہے۔
۲۔ یہ اضافہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ایک طریق مسند احمد، رقم۸۳۴۰سے لیا گیا ہے۔
۳۔ صحیح بخاری، رقم ۷۳۲۰۔
۴۔بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم۱۱۸۰۰میں یہاں ’دَخَلُوْا‘کا لفظ ہے۔
۵۔ بعض روایتوں، مثلاً صحیح بخاری، رقم۷۳۲۰میں یہاں’تَبِعْتُمُوْہُمْ ‘کا لفظ روایت ہوا ہے۔

۲

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ۱: ’’لاَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَأْخُذَ أُمَّتِيْ بِأَخْذِ القُرُوْنِ قَبْلَہَا، شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ‘‘، فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، کَفَارِسَ وَالرُّوْمِ؟ فَقَالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’وَمَنِ النَّاسُ إِلَّا أُولٰئِکَ‘‘.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت نہیں آئے گی، یہاں تک کہ میری امت کے لوگ بھی وہی طریقے اختیار کرلیں گے جو اُن سے پہلی قوموں نے کیے تھے۔دونوں میں ایسی موافقت ہوگی،گویا بالشت پر بالشت اور ہاتھ پر ہاتھ رکھا ہو ۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ، جس طرح فارس اور روم کے لوگ ہیں۱؟آپ نے فرمایا: اِن کے سوا اور کون لوگ ہوسکتے ہیں؟

_____

۱۔یعنی فارس کے مجوس اور روم کے مسیحی۔اِس سے اشارہ نکلتا ہے کہ مجوس بھی اگرچہ ثنویت، آتش پرستی اور دوسری مشرکانہ بدعتوں میں مبتلا ہوچکے تھے، لیکن اصلاً کسی پیغمبر ہی کے پیرو تھے۔چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اِن کی سزا کے معاملے میں اِن پر اُسی قانون کا اطلاق کیا ، جس کا حکم قرآن میں اہل کتاب کے لیے دیا گیا ہے۔ سورۂ حج (۲۲)کی آیت۱۷ میں اِن کا ذکر جس طریقے سے ہوا ہے، اُس سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح بخاری، رقم۷۳۱۹سے لیا گیا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے تعبیر کے کچھ فرق کے ساتھ اِس کے متابعات اِن مراجع میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں:مسند احمد، رقم۸۳۰۸، ۸۴۳۳، ۸۸۰۵، ۸۸۰۶۔

۳

إنَّ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ، حَدَّثَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ۱: ’’لَیَحْمِلَنَّ شِرَارُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ عَلٰی سَنَنِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِہِمْ [مِنْ۲] أَہْلِ الْکِتَابِ حَذْوَ الْقُذَّۃِ بِالْقُذَّۃِ‘‘.
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اِس امت کے اشرار لازماً وہی طریقے اختیار کریں گے جو اہل کتاب کے اُن لوگوں نے اختیار کیے تھے جو اِن سے پہلے گزرے ہیں، بالکل اُسی طرح جیسے تیر کے پر پر ایک دوسراپر رکھ دیا جائے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن اصلاً مسنداحمد، رقم۱۷۱۳۵سے لیا گیاہے۔ اِس کے راوی تنہا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ہیں۔الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ اِس کے باقی طرق اِن مراجع میں نقل ہوئے ہیں:مسند طیالسی، رقم۱۲۱۷۔ مسند ابن جعد، رقم۳۴۲۴۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۷۱۴۰۔
۲۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۷۱۴۰۔

—۴—

عَنْ أَبِيْ وَاقِدٍ اللَّیْثِيِّ، قَالَ۱:کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَبِحُنَیْنٍ وَنَحْنُ حَدِیْثُو عَہْدٍ بِکُفْرٍ فَمَرَرْنَا عَلٰی شَجَرَۃٍ۲ یَضَعُ الْمُشْرِکُوْنَ عَلَیْہَا أَسْلِحَتَہُمْ،۳ [وَیَعْکُفُوْنَ حَوْلَہَا۴] یُقَالُ لَہَا: ذَاتُ أَنْوَاطٍ،۵ فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ کَمَا لَہُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، فَقَالَ: ’’اللّٰہُ أَکْبَرُ، قُلْتُمْ کَمَا قَالَ أَہْلُ الْکِتَابِ۶ لِمُوْسٰی عَلَیْہِ السَلَامَ:(اجْعَلْ لَنَا اِلٰہًا کَمَا لَہُمْ اٰلِہَۃٌ)‘‘ [الأعراف: ۱۳۸]، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’[وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ۷] إِنَّکُمْ سَتَرْکَبُوْنَ سَنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ [سُنَّۃً سُنَّۃً]۸‘‘.
ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ابھی نئے نئے کفر سے نکل کر اسلام کی طرف آئے تھے کہ ہمارا گزر ایک درخت کے پاس سے ہواجس پر مشرکین اپنے اسلحہ لٹکادیتے اور اُس کے گرد پرستش کے لیے بیٹھ جاتے تھے۔ اُسے ذات انواط کہا جاتا تھا۔چنانچہ ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ جس طرح اِن کا ذات انواط ہے، آپ ہمارے لیے بھی اِسی طرح کا ایک ذات انواط ٹھیرادیجیے۔آپ نے یہ سنا تو فرمایا:اللہ اکبر، تم نے تو وہی بات کہہ دی جو اہل کتاب نے اپنے پیغمبر موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی کہ جس طرح اِن کے معبود ہیں ، اِسی طرح کا ایک معبود ہمارے لیے بھی بنادو۔اِس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم لوگ بھی اپنے اگلوں ہی کے راستے پر چلو گے ، اِس طرح کہ اُن کا ایک ایک طریقہ اختیار کرتے جاؤ گے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن اصلاً مسند طیالسی، رقم۱۴۴۳سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ ہیں۔ متن کے معمولی اختلاف کے ساتھ اِس کے متابعات جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں:جامع معمر بن راشد، رقم ۲۰۷۶۳۔ مسند حمیدی، رقم۸۷۱۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۷۳۷۵۔مسنداحمد، رقم۲۱۸۹۷، ۲۱۹۰۰۔ سنن ترمذی، رقم ۲۱۸۰۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۱۱۱۲۱۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۱۴۴۱۔صحیح ابن حبان، رقم ۶۷۰۲۔ المعجم الکبیر، طبرانی،رقم ۳۲۹۰، ۳۲۹۱، ۳۲۹۲۔ معرفۃالسنن والآثار، بیہقی، رقم۳۲۹۔
۲۔ روایتوں کے کئی طریقوں، مثلاً مسند احمد، رقم۲۱۹۰۰میں یہاں’فَمَرَرْنَا بِسِدْرَۃٍ‘’’کہ ہمارا گزر بیری کے ایک درخت کے پاس سے ہوا ‘‘کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔
۳۔ بعض طرق، مثلاً المعجم الکبیر، طبرانی،رقم ۳۲۹۱میں یہاں ’یَنُوْطُوْنَ بِہَا أَسْلِحَتَہُمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں، جب کہ بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم۲۱۸۹۷میں یہاں ’یُعَلِّقُوْنَ بِہَا أَسْلِحَتَہُمْ‘کے الفاظ ہیں۔یہ سب کم و بیش ایک ہی معنی کی تعبیرات ہیں۔
۴۔ مسندا حمد، رقم۲۱۹۰۰۔
۵۔ صحیح ابن حبان، رقم۶۷۰۲میں یہاں ’وَیَدْعُوْنَہَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ‘’’ اور وہ اُس کو ذات انواط کے نام سے پکارتے تھے‘‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
۶۔ کئی طریقوں، مثلاً سنن ترمذی، رقم۲۱۸۰میں یہاں’أَہْلُ الْکِتَابِ‘کے بجاے ’قَوْمُ مُوْسٰی‘کے الفاظ ہیں، جب کہ مسند احمد، رقم ۲۱۹۰۰میں یہاں’کَمَا قَالَتْ بَنُوْ إِسْرَائِیْلَ لِمُوْسٰی‘’’جیسا کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ سے کہا تھا‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔
۷۔ سنن ترمذی، رقم۲۱۸۰۔
۸۔ مسند احمد،رقم۲۱۸۹۷۔

المصادر والمراجع

ابن أبي أسامۃ أبو محمد الحارث بن محمد التمیمي البغدادي. (۱۴۱۳ھ/ ۱۹۹۲م). بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث. ط۱. المنتقي: أبو الحسن نور الدین علي بن أبي بکر الہیثمي.تحقیق: د.حسین أحمد صالح الباکري. المدینۃ المنورۃ: مرکز خدمۃ السنۃ والسیرۃ النبویۃ.
ابن أبي شیبۃ أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد العبسي. (۱۴۰۹ھ). المصنف في الأحادیث والآثار.ط۱. تحقیق:کمال یوسف الحوت. الریاض: مکتبۃ الرشد.
ابن الجَعْد، علي بن الجَعْد بن عبید الجَوْہَري البغدادي. (۱۴۱۰ھ/ ۱۹۹۰م). مسند ابن الجعد. ط۱. تحقیق: عامر أحمد حیدر. بیروت: مؤسسۃ نادر.
ابن حبان أبو حاتم محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/ ۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حبان أبو حاتم محمد بن حبان البُستی.(۱۳۹۶ھ). المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.
ابن حجر أحمد بن علي أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۱۵ھ). الإصابۃ في تمییز الصحابۃ. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
ابن حجر أحمد بن علي أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/ ۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.
ابن حجر أحمد بن علي أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۴ھ / ۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.
ابن حجر أحمد بن علي أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ھ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. د.ط. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن حجر أحمد بن علي أبو الفضل العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.
ابن عدي أبو أحمد الجرجاني. (۱۴۱۸ھ/ ۱۹۹۷م). الکامل في ضعفاء الرجال. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود، وعلي محمد معوض. بیروت: الکتب العلمیۃ.
ابن ماجہ أبو عبد اللّٰہ محمد القزویني.(د.ت). سنن ابن ماجہ. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.
أبو یعلٰی أحمد بن علي التمیمي، الموصلي. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). مسند أبي یعلٰی. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.
أحمد بن محمد بن حنبل أبو عبد اللّٰہ الشیباني. (۱۴۲۱ھ/ ۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.
البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۲ھ/ ۱۹۹۱م). معرفۃ السنن والآثار. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. القاہرۃ: دار الوفاء.
الترمذي أبو عیسٰی محمد بن عیسٰی. (۱۳۹۵ھ / ۱۹۷۵م). سنن الترمذي. ط۲. تحقیق وتعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض. مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفٰی البابي الحلبي.
الحاکم أبو عبد اللّٰہ محمد بن عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۱۱ھ/ ۱۹۹۰م). المستدرک علی الصحیحین. ط۱. تحقیق: مصطفٰی عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
الحمیدي، أبو بکر عبد اللّٰہ بن الزبیر بن عیسٰی القرشي الأسدي. (۱۹۹۶م). مسند الحمیدي. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن سلیم أسد الدَّارَانيّ. دمشق: دار السقا.
الذہبي شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/ ۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین.ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.
الذہبي شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/ ۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.
الذہبي شمس الدین أبوعبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۱۳ھ/ ۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ ۔ مؤسسۃ علوم القرآن.
الذہبي شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۲ھ /۱۹۶۳م). میزان الاعتدال في نقد الرجال. ط۱. تحقیق: علی محمد البجاوي. بیروت: دار المعرفۃ للطباعۃ والنشر.
السیوطي جلال الدین عبد الرحمٰن بن أبي بکر. (۱۴۱۶ھ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط۱. تحقیق وتعلیق: أبو اسحٰق الحویني الأثري. الخبر: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الطبراني أبو القاسم سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.
الطیالسي أبو داود سلیمان بن داود البصري. (۱۴۱۹ھ/ ۱۹۹۹م). مسند أبي داود الطیالسي. ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکي. مصر: دار ہجر.
المزي أبو الحجاج یوسف بن عبد الرحمٰن القضاعي، الکلبي. (۱۴۰۰ھ/ ۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: دکتور بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مسلم بن الحجاج النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
معمر بن أبي عمرو راشد الأزدي البصري. (۱۴۰۳ہ). الجامع. ط۲. تحقیق: حبیب الرحمٰن الأعظمي. بیروت: توزیع المکتب الإسلامي.
النساءي أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/ ۲۰۰۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
المروزي أبو عبد اللّٰہ محمد بن نصر بن الحجاج. السنۃ. (۱۴۰۸ھ). ط۱. تحقیق: سالم أحمد السلفي. بیروت: مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ.
النووي یحیٰی بن شرف أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

____________



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List