Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Dr. Waseem Mufti Profile

Dr. Waseem Mufti

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
عثمان غنی رضی ﷲ عنہ-۶ | اشراق
Font size +/-

عثمان غنی رضی ﷲ عنہ-۶

[’’سیر و سوانح ‘‘ کے زیر عنوان شائع ہونے والے مضامین ان کے فاضل مصنفین کی اپنی تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں، ان سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]
۳۵ھ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مقررکردہ گورنر اور عمال یہ تھے:
مکہ میں عبداﷲ بن حضرمی ،جن کی جگہ خالد بن عاص نے لی۔طائف میں قاسم بن ربیعہ، صنعا میں یعلی بن منیہ،جَنَدمیں عبداﷲ بن ابو ربیعہ اور بصرہ میں عبداﷲ بن عامر۔ایام شورش میں عبداﷲ بن عامر کے بصرہ سے آ جانے کے بعد وہاں کوئی گورنر مقرر نہ کیا جا سکا۔شام میں معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ،قنسرین میں حبیب بن مسلمہ، اردن میں ابو الاعور بن سفیان،فلسطین میں علقمہ بن حکیم اوربحر میں عبداﷲ بن قیس خلافت عثمانی کے نمایندے تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمان بن خالد کو حمص میں اپنا نائب مقرر کر رکھا تھا۔ابو موسیٰ اشعری م رضی اللہ عنہ کوفہ کے گورنر اور جابر بن عمرو سواد عراق کے کلکٹر تھے،قعقاع بن عمرو وہاں کے کمانڈر تھے۔ جریربن عبداﷲ قرقیسیا کے ،اشعث بن قیس آذربیجان کے اور عتیبہ بن نہاس حلوان کے عامل تھے۔ماہ پر مالک بن حبیب ، ہمدان پر نسیر،رے پر سعید بن قیس ،اصفہان پر سائب بن اقرع اور ماسبذان پرحبیش عمال مقرر تھے۔عبداﷲ بن سعد بن ابی سرح مصر کے گورنر تھے ، باغیوں کا پیچھا کرتے ہوئے مصر سے نکلے تو محمد بن ابو حذیفہ نے ان کی سیٹ پر قبضہ کر لیا۔عقبہ رضی اللہ عنہ بن عمرو بیت المال کے انچارج جب کہ زید بن ثابترضی اللہ عنہ چیف جسٹس تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ قریش کو مدینہ سے باہر جانے کی اجازت نہ دیتے تھے ۔ انھوں نے یہ کہہ کر انھیں بیرون عرب جہادپر جانے سے بھی روکے رکھا کہ تمھیں غزوات میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کا شرف حاصل ہو چکا ہے۔ان کا خیال تھا ،قریش دوردراز کے علاقوں میں بکھر جائیں گے اور غنائم کی خواہش میں کم زور پڑ جائیں گے البتہ غیر قرشی اہل مکہ کے لیے وہ اس اصول پر عمل نہیں کرتے تھے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد حکومت میں یہ پابندی برقرار نہ رکھی۔ مہاجرین قریش مدینے سے نکل کر ملت اسلامیہ میں ہر سو آباد ہو گئے۔ابن کثیر کہتے ہیں: اجل صحابہ جہاں آبادہوئے ،وہاں کے مقامی لوگ ان کے گرد اکٹھا ہونے لگے۔ اس طرح ہر علاقے میں کسی نہ کسی صحابی کو امتیازی حیثیت حاصل ہو گئی۔وہاں کے لوگ خواہش کرنے لگے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعدہمارے صاحب امیر المومنین بنیں۔
ایک بار حضرت عثمان نے اہل مدینہ کو اکٹھا کر کے پوچھا: تم میں سے کون فے میں ملنے والی اپنی اراضی عراق سے یہاں منتقل کرنا چاتا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنی زمینیں ادھرلے آئیں!انھوں نے جواب دیا: انھیں ان لوگوں کو بیچ دو جن کی حجاز میں بھی جائیداد ہے۔لوگ بہت خوش ہوئے۔ اس دورمیں اراضی ادل بدل کرنے کے کئی سودے طے ہوئے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو تلاوت قرآن اور نوافل سے خاص شغف تھا۔نوافل میں لمبی قرآت کرتے۔ حضرت حسان بن ثابت ان کی مدح کرتے ہوئے کہتے ہیں ، یقطّع الیل تسبیحاً و قرآنا۔ وہ رات اﷲ کی تسبیح کرتے اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔ تہجد کے لیے بیدار ہوتے تو کسی غلام کو نہ جگاتے ۔ انھیں کہا جاتا تو فرماتے:رات ان کے آرام کے لیے ہوتی ہے۔ حضرت عثمان کو لمبے قصائد تو یاد نہ ہوتے تاہم وہ چنداشعارضرور خوبی سے یاد کر لیتے اور سنادیتے تھے۔ زبان کا عمدہ ذوق رکھتے تھے،وہ مختصر جملے جو انھوں نے مختلف خطوط میں تحریر کیے یا اپنے خطبات میں ادا کیے ،ادب عربی کا شہ پارہ قرار دیے جا سکتے ہیں۔
حاطب بن ابو بلتعہ فرماتے ہیں ،میں نے عثمان رضی اﷲ عنہ سے بڑھ کر کامل اور احسن طریقے سے حدیث بیان کرنے والا نہیں دیکھا۔وہ روایت حدیث (کی ذمہ داری)سے خوف کھاتے تھے اس لیے ان کا شمار قلیل الروایت اصحاب رسول میں ہوتا ہے۔ان کی مرویات کی کل تعداد ۱۴۶ ہے جن میں ۳ متفق علیہ ہیں،آٹھ صرف بخاری میں ہیں اورمفردات مسلم پانچ ہیں۔حضرت عثمان نے نب�ئ اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم،حضرت ابوبکراور حضرت عمر سے روایت کی جبکہ ان سے حدیث نقل کرنے والے حضرات یہ ہیں:ان کے صاحب زدگان،عمرو،ابان اور سعید۔ان کے غلام حمران،ہانی، ابو صالح،ابوسہلہ اور ابن وارہ اوران کے چچا زاد مروان بن حکم۔روایت کرنے والے صحابیوں میں عبداﷲ بن مسعود،زید بن ثابت،عمران بن حصین،ابو ہریرہ، عبداﷲ بن عمر،عبداﷲ بن زبیراور عبداﷲبن عباس رضی اللہ عنھم کے نام آتے ہیں۔رواۃ تابعین میں احنف بن قیس ،عبدالرحمان بن ابو ضمرہ،عبدالرحمان بن حارث،سعید بن مسیب،ابووائل،ابو عبدالرحمان سلمی اور محمد بن حنفیہ کے نام شامل ہیں۔
حضرت عثمان مناسک حج کا خوب علم رکھتے تھے،عبداﷲبن عمرکا نمبر ان کے بعد آتا ہے۔ خلافت کے پہلے سال ان کو نکسیر پھوٹی اور آخری سال باغیوں نے ان کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ ان دو سالوں کے علاوہ وہ مسلسل ۱۰ سال حج پر جاتے رہے۔ حضرت عمر کی طرح وہ بھی امہات المومنین کو لے جانے کا اہتمام کرتے۔ حج کے موقع پر اپنے گورنروں کے خلاف شکایتیں سنتے اور انہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی نصیحت کرتے۔
حضرت عثمان کے زمانۂ خلافت میں تجارت ،صنعت اور تمدن کوخوب فروغ ملا۔صحابہ کرام نے مدینہ اور اس کے قرب و جوار میں خوب صورت عمارتیں تعمیر کیں۔ عہد عثمانی میں قدیم بازاروں کے علاوہ نئے بازار بھی قائم کیے گئے، مسافروں کے لیے مہمان خانے بنائے گئے۔ کوفہ میں ابو سمال اسدی کا گھر’ دارِ عقیل‘ اس مقصد کے لیے وقف تھا۔ ہذیل میں حضرت عبداﷲ بن مسعودکا گھر دارِ ضیافت قرار دیا گیا۔ دولت کی فراوانی ہوئی تو مدینہ میں لہو و لعب کو فروغ ہوا۔بے کار لوگ کبوتر بازی اور غلیل بازی کے کھیلوں میں مشغول ہوئے۔اپنی خلافت کے آٹھویں سال حضرت عثمان نے بنو لیث کے ایک شخص کی ڈیوٹی لگائی کہ کبوتروں کے پر کاٹے اورلوگوں کی غلیلیں توڑ ڈالے۔حسن بصری کہتے ہیں:میں نے حضرت عثمان کو خطبہ دیتے ہوئے سنا:انھوں نے حکم دیا: کبوتر ذبح کیے جائیں اور کتوں کو تلف کر دیا جائے۔ خلیفۂ ثالث نے نبیذ پینے پر اسامہ بن خیثمہ کو کوڑے لگوائے۔نشہ پھیلنے لگا تو انھوں نے اس کی روک تھام کے لیے ڈنڈا بردار اہل کا ر متعین کیے۔
حضرت عثمان کی انگوٹھی پر نقش تھا ،آمنت بالذی خلق فسوی ۔میں اس ذات پر ایمان لایا جس نے تخلیق کی اوراسے متناسب ومتوازن بنایا۔
حضرت عثمان کے خلاف خروج میں عجمی سازش صاف نظر آتی ہے ۔وہی لوگ جنھوں نے دوسرے خلیفۂ راشد عمر بن خطاب کی جان لی،خلافت عثمانی میں بھی سرگرم رہے۔انھوں نے مسلمانوں کے معمولی اختلافات کو ہوا دی ،اس طرح وحدت اسلامیہ کی شکست وریخت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ابن کثیر کہتے ہیں :خوارج گورنر مصر عمرو بن عاص کی سختی سے نالاں تھے ۔انھوں نے حضرت عثمان کو پے درپے شکایت کی کہ مصر پر کوئی نرم مزاج حاکم مقرر کیا جائے ۔ تب عثمان نے عمرو سے فوج کی کمان لے لی اور نماز پران کو رہنے دیا۔ عبداﷲ بن ابی سرح فوج کے کمانڈر اور خراج کے کلکٹر مقرر ہو گئے۔ خوارج ہی کی چغلیوں سے ان دونوں راہنماؤں میں رنجش پیدا ہوئی تو خلیفۂ ثالث نے عمرو سے نماز کی امامت بھی لے لی۔اب لوگوں نے تنقید شروع کر دی کہ حضرت عثمان نے کبار صحابہ کو ہٹاکر نااہل لوگوں کو عہدے دے دیے۔ باغیوں کی حضرت عثمان سے ذاتی رنجشیں بھی تھیں۔ ان رنجشوں کو انگیخت کیاگیا تو یہ سب مل کر ان کی خلافت ختم کرنے کے درپے ہو ئے ،یوں خارجیوں کی تشکیل ہوئی۔ کسی نے سعید بن مسیب سے پوچھا: حضرت معاویہ کا ماموں زاد محمد بن ابو حذیفہ حضرت عثمان کے خلاف خروج کرنے والوں میں کیونکر شامل ہوا؟ انہوں نے جواب دیا:وہ یتیم تھا اور اپنے خاندان کے کئی یتیموں کی طرح حضرت عثمان نے اس کی پرورش کی۔بڑا ہوکر اس نے کوئی عہدہ طلب کیا توعثمان (رضی اللہ عنہ )نے کہا: اگرتوقابلیت والاہوتے تو میں تمہیں عامل بنا دیتا۔اس نے کہا :مجھے اجازت دیجیے ،میں روزی کی تلاش میں نکل جاؤں۔حضرت عثمانؓنے ساز و سامان دے کر رخصت کیا۔وہ مصر پہنچا اور اس رنج کی وجہ سے حضرت عثمان کے خلاف بغاوت کرنے والوں سے مل گیا۔سوال کرنے والے نے پوچھا:عمار بن یاسرکا کیا معاملہ تھا؟سعید نے جواب دیا :ابو لہب کے پوتے عباس بن عتبہ اور عمارکے بیچ جھگڑا ہوا۔ عمارنے گالی گلوچ کی ،حضرت عثمان نے دونوں کو سزا دی توعمار ان کے خلاف سر گرم ہو گئے۔ اسی طرح سالم بن عبداﷲ سے محمد بن ابو بکرکے خروج کے بارے میں دریافت کیا گیاتو انھوں نے کہا:یہ سب طمع اور غصے کا نتیجہ تھا ۔ کچھ لوگوں کے کہنے میں آکر محمدبن ابوبکر قرض کے جال میں پھنس گیا۔حضرت عثمان نے قرض خواہوں کو ان کا حق دلایاتو یہ ان کے خلاف ہو گیا۔ایک شخص کعب بن ذو الحبکہ شعبدہ بازی اور نظر کا دھوکا کیا کرتا تھا۔سیدنا عثمان نے اسے شام بھجوا دیا اور کہا: کھیل تماشا چھوڑو ، کوئی سنجیدہ کام کرو۔ ولید کو خط لکھا کہ اسے سزا دی جائے ۔ تعزیر ملنے پر کعب غضب ناک ہوا اور خارجیوں میں شامل ہو گیا۔ ضابی بن حارث نے کسی انصاری سے قرحان نامی کتا عارےۃًلیا ۔ یہ کتا ہرنوں کے شکار میں ماہر تھا ۔ اس نے کتا نہ لوٹایا تو انصاریوں نے زبردستی واپس لے لیا تب ضابی نے ان کی ہجو کر ڈالی۔معاملہ حضرت عثما ن کے سامنے پیش ہواتو انھوں نے اسے سزا دی اور جیل میں ڈال دیا۔وہ جیل ہی میں فوت ہو گیا تو اس کا بیٹا عمیر باغیوں کے ساتھ مل گیا۔
ا صحاب رسول جنھوں نے بے سرو سامانی کی حالت میں بدر واحد کی جنگیں لڑیں۔غزوات میں مشرکوں کے چھکے چھڑا دیے۔عہد فاروقی اور حضرت عثمان کے ابتدائی دور حکومت میں اپنے سے کئی گنا دشمنوں کو زیر کیا،حضرت عثمان کے خلاف بغاوت فرو نہ کر سکے اور ان کی شہادت کو نہ ٹال سکے ؟یہ سوال بظاہر مشکل ہے لیکن اس کا جواب حاصل کیا جا سکتا ہے۔
باغی گروہ دو ہزارفسادیوں پرمشتمل تھاجبکہ اسلامی فوجیں سرحدوں پرہونے کی وجہ سے مدینہ میں مناسب تعداد میں لڑنے والے افرادموجود نہیں ہوتے تھے۔ پھربلوائیوں نے شورش پھیلانے کے لیے ایام حج کا انتخاب کیاجب مدینہ قریباً خالی تھا۔ جو صحابہؓموجود تھے انھوں نے یہ مسئلہ حل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ حضرت عثمان نے ایک بار منبر پر بیٹھ کر شکوے کے انداز میں صحابہ سے کہا:تم نے کم عقل اور جنونی لوگوں کو مجھ پر مسلط کر دیا ہے۔ تم میں سے کوئی جا کر ا ن سے پوچھ گچھ نہیں کر سکتا؟ان کے تین مرتبہ پکارنے پر کسی نے جواب نہ دیاتو حضرت علی اٹھے اورفرمایا:میں جاؤں گا (دوسری روایت کے مطابق حضرت عثمان نے حضرت علی کے گھر جا کر یہ درخواست کی تھی) سعیدبن زید،جبیر بن مطعم،حکیم بن حزام،سعید بن عاص،زید بن ثابت، حسان بن ثابت اور کعب بن مالک ان کے ساتھ جانے والے تیس رکنی وفد میں شامل تھے ۔ان کی باغیوں سے گفتگو بیان کی جا چکی ہے جس کے نتیجے میں معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔اصحابہ رسول ﷺ کے گھروں میں بیٹھنے کی دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان میں سے کچھ کو حضرت عثمان سے شکوے شکایتیں ہوں۔حضرت علی کی چند گفتگوؤں سے ایسا جھلکتا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علی نے باغیوں کی بغاوت ٹالنے کی حتی المقدور کوشش کی۔ خلیفۂ مظلومؓ کی شہادت کے بعد وہ جائے وقوعہ پرپہنچے تو اپنے صاحب زادوں حسنؓ کے منہ پر اورحسین کے سینے پرتھپڑ مار کر کہا:عثمان کیسے شہید ہو گئے جبکہ تم ان کی حفاظت کے لیے دروازے پر مامور تھے۔انھوں نے پہرے پر متعین حضرت زبیر اور حضرت طلحہ کے بیٹوں کو بھی برابھلا کہا ۔حضرت علی نے ایک بار خطبہ دیتے ہوئے بآواز بلند کہا:لوگو! تم میرے اور عثمان کے اختلافات کے بارے میں بہت باتیں کرتے ہو۔میرے اور ان کے تعلقات کی مثال اﷲ تعالی کے اس فرمان میں دیکھی جا سکتی ہے( جو جنت میں اہل ایمان کے باہمی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا)،’’اور ہم نے ان کے سینوں میں جو میل کھپاٹ تھی نکال دی(اب )اس حال میں ہیں کہ بھائیوں کی طرح خوش خوش تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ ( سورۂ حجر ،آیت ۴۸) حضرت عثمان کی شہادت پر انھوں نے قسم کھائی کہ وہ نہیں ہنسیں گے حتیٰ کہ عثمان سے جا ملیں۔
ہو سکتا ہے باقی صحابہؓ کے پرے رہنے میں بھی کسی گلہ مندی کو دخل ہو۔ایک روایت ہے کہ عمرو بن عاص کو مصر کی گورنری سے معزولی کا بہت رنج تھا۔ اس لیے وہ بھی سیدنا عثمان کے خلاف مہم میں شریک رہے۔یہ روایت اس لیے درست معلوم نہیں ہوتی کہ انھوں نے متعدد مواقع پر حضرت عثمان کا ساتھ دیا۔ روایتوں کے جھاڑ جھنکار میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ انصار نے سیدنا عثمان کی میت کوجنت البقیع میں دفن کرنے کی مخالفت کی۔ یہ ان بے شمار روایتوں کے برعکس ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انصار نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کے انصاری مخالفین میں اسلم بن اوس اور ابو حیہ مازنی کے نام لیے جاتے ہیں۔
باغیوں کے مدینہ پر قبضہ ہونے کی وجہ سے کئی فیصلے بر وقت نہ ہو سکے۔مروی ہے ،سیدنا عثمان نے بلوائیوں کے محاصرے کے دوران میں سیدنا علی کو بلا بھیجا۔ انھوں نے جانے کا قصد کیا تھا کہ ان کے ساتھی ان سے چپک گئے اور جانے نہ دیا۔وہ اپنا سیاہ عمامہ سر سے اتار کر پکارے ، میں عثمان کے قتل پر راضی ہوں، نہ میں نے اس کا مشورہ دیا ہے(طبقات ابن سعد)۔ ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت عثمان نے حضرت علی کو حضرت سعد کے ذریعے سے پیغام بھیجا:اگر آپ آ جائیں تو معاملہ سلجھ سکتا ہے۔وہ ان کے ساتھ چلے تھے کہ اشتر کو خبر ہو گئی ۔وہ چلایا:اگر آپ ان تک پہنچے تو سب کو قتل کر دیا جائے گا۔اس نے اتنا شور مچایاکہ علیؓ رکنے پر مجبور ہو گئے۔مالک اشتر نے اپنے باغی گروہ کو مشورہ بھی دیا :اگر عثمان کو قتل کرنا مقصود ہے تو فوراً یہ کام کر ڈالو (تاریخ دمشق)۔ابن سیرین کہتے ہیں:میرے علم کے مطابق کسی شخص نے بھی حضرت علی کو حضرت عثمان کی شہادت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ حضرت علی خود کہتے ہیں:میں مغلوب ہو گیا تھا، میں کم زور پڑ گیا تھا۔میں نے باغیوں کو منع کیا تھالیکن انھوں نے میری بات نہ مانی۔
کئی صحابہؓ شہر مدینہ چھوڑ کر مضافات چلے گئے تھے۔یہ مشورہ حضرت علی کو بھی دیا گیا تھا ،لیکن وہ نہ مانے۔ ابن کثیر نے یہ سانحہ پیش آنے کی ایک اور وجہ بیان کی ہے۔ وہ یہ کہ صحابہؓکی اکثریت کا خیال تھا،58حضرت عثمان کی شہادت کی نوبت نہیں آئے گی ۔ان کا خیال تھاکہ عثمان ،مروان کو لوگوں کے حوالے کر کے یا خلافت سے دست بردار ہوکر اس قضیے کو نمٹا دیں گے۔وہ سمجھتے تھے کہ باغی ان کو قتل کرنے کی کبھی جسارت نہ کریں گے۔
عقبہ بن عمرو،عبداﷲ بن ابی اوفی اورحنظلہ بن ربیع جیسے صحابیوں نے کوفہ میں رہ کرحضرت عثمان کے حق میں مہم چلائی۔مشہور تابعیوں مسروق،اسود بن یزید اور شریح بن حارث نے ان کا ساتھ دیا۔ یہی کام عمران بن حصین ، انس بن مالک اور ہشام بن عامر نے بصرہ میں انجام دیا۔تابعین میں سے کعب بن سور اور ہرم بن حیان ان کے ساتھ تھے۔شام میں مقیم اصحاب رسولﷺ میں سے عبادہ بن صامت،ابو الدرداور ابو امامہ حضرت عثمان کی حمایت میں پیش پیش تھے ، شریک بن خباشہ،ابومسلم خولانی اور عبدالرحمان بن غنم ان کا ساتھ دے رہے تھے۔مصر میں خارجہ بن حذافہ اور ان کے ساتھیوں نے سید نا عثمان کی بھر پور تائید کی۔
یہ حقیقت بھی بہت تلخ ہے کہ چالیس دن کے محاصرے کے دوران میں باغیوں کے خلاف ایکشن لینے کے لیے کوئی لشکر مدینہ نہ پہنچ پایا۔اس کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ سیدنا عثمان کا عزم تھا کہ مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھانے سے پرہیز کیا جائے،خصوصاً اہل مدینہ کی خون ریزی ہر گز نہ کی جائے ۔شاید اسی وجہ سے انھوں نے دارالخلافہ سے باہر فوجوں سے مدد طلب بھی کی تو اس پر زور دیا نہ اس کے لیے کوئی پلاننگ کی۔مغیرہ بن شعبہ ایام محاصرہ میں حضرت عثمان کے پاس آئے اور کہا:آپ باہر نکل کر بلوائیوں کا مقابلہ کریں،آپ کے پاس ان سے زیادہ فورس ہے ۔یہ بھی ہو سکتا ہے ،آپ اپنے گھر کے عقب میں ایک دروازہ بنا لیں اوروہاں سے نکل کر مکہ یا شام کو روانہ ہو جائیں۔عثمان نے وہی جواب دیا جو وہ کئی بار دے چکے تھے:میں اپنا دارِ ہجرت قطعاً نہ چھوڑوں گا اور رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت کا خون بہانے والا شخص ہر گز نہیں بنوں گا۔ عبداﷲ بن زبیرنے بھی ملتا جلتا مشورہ دیا۔انھوں نے کہا:عمرے کا احرام باندھ لیں تاکہ آپ کی جان ان کے لیے حرام ہو جائے،شام کو چلے جائیںیا پھر تلوار اٹھا لیں کیونکہ ان باغیوں سے قتال کرنا جائز ہے۔ سیدنا عثمان نے فرمایا:یہ لوگ احرام باندھنے کے بعد بھی میرا خون بہانا جائز سمجھیں گے۔میں خوف زدہ ہو کر شام کو بھاگنا بھی نہیں چاہتااور اﷲ سے اس حال میں ملنا چاہتا ہوں کہ میری وجہ سے کسی کی جان نہ لی گئی ہو ۔
ایک روایت کے مطابق، جس کا ذکر کیا جاچکا ہے ،حضرت معاویہ نے حبیب بن مسلمہ فہری کی کمان میں ۱یک لشکر مدینہ بھیجا،یزید بن شجعہ مقدمہ پر تھے۔ایک ہزار خچر سواروں کے ساتھ گھوڑے اورلدے ہوئے اونٹ بھی چل رہے تھے ۔یہ لشکر خیبر کے قریب پہنچا تھا کہ حضرت عثمان کی شہادت کی خبر آ گئی۔شام سے ایک اور لشکر یزید بن اسد کی قیادت میں وادئ قری تک پہنچ پایا۔مجاشع بن مسعود کی قیادت میں بصرہ سے چلنے والا جیش ربذہ تک آیا تھا کہ اس سانحے کی اطلاع ملی۔سانحۂ شہادت کے بعد نعمان بن بشیر ،حضرت عثمان کی خون آلود قمیص اور ان کی اہلیہ نائلہ کی کٹی ہوئی انگلیاں لے کرمعاویہ کے پاس پہنچے۔ انھوں نے یہ اشیا دمشق کی جامع مسجد میں آویزاں کر دیں اور حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے بدلہ لیے بغیر چین نہ لینے کی قسم کھائی۔
اگر یہ پوچھا جائے کہ بلوائیوں کے نہ ٹلنے کی واحد اور اہم ترین وجہ کیا ہے تو یہی کہا جا ئے گا کہ امیر المومنین نے ان کے خلاف کوئی ایکشن لینے سے منع کر دیا تھا ۔حضرت عثمان آخری وقت تک اپنے پاس موجود لوگوں کو قتال سے باز رہنے کی قسمیں دیتے رہے۔ محمد بن سیرین کی روایت کے مطابق تب ان کے پاس سات سو کے قریب آدمی تھے۔عبداﷲ بن عمر، عبداﷲ بن زبیر، حسن ، حسین اور مروان مزاحمت کرنا چاہتے تھے لیکن حضرت عثمان نے سختی سے رو ک دیا۔انصارِ مدینہ نے پیش کش کی :ہم پھر سے اﷲ کے انصار بن جاتے ہیں۔جواب ملا:قتال نہیں ہو گا۔ابوہریرہ سے فرمایا: اگر تم نے میری خاطر ایک شخص کو بھی قتل کیا تو گویا ساری انسانیت قتل ہو گئی۔سعید بن مسیب کہتے ہیں :جن لوگوں نے سیدنا عثمان کاساتھ چھوڑا، انھیں معذور مانا جا سکتا ہے۔عبداﷲ بن سلام کہتے ہیں:روزِ قیامت عثمان ہی فیصلہ کریں گے ،کس نے انھیں قتل کیا اور کس نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ حضرت علی نے حضرت عثمان کی اہلیہ سے ان کے قاتل کے بارے میں دریافت کیا توانھوں نے کہا: مجھے اس کی پہچان نہیں تاہم انھوں نے محمد بن ابو بکر کی کارروائی سے ان کو آگاہ کیا۔جب حضرت علی نے محمد سے پوچھا تو اس نے جواب دیا:میں عثمان کو قتل کرنے کے ارادے سے گیا تھا لیکن انھوں نے میرے والد کا ذکر کیا تو میں توبہ کر کے لوٹ آیا۔بخدا! میں نے انھیں پکڑا، نہ قتل کیا۔حضرت عائشہ نے کہا:یہ سچ کہتا ہے لیکن اسی نے قاتلوں کی راہنمائی کی۔
طبری کہتے ہیں :حضرت عثمان کے قاتلوں میں سے کوئی طبعی موت نہ مرا۔ان میں سے کچھ پاگل ہوگئے ۔کنانہ بیان کرتے ہیں:میں نے ایک سیاہ فام مصری جبلہ کو، جس نے سب سے پہلے حضرت عثمان سے بدزبانی کی اور انھیں قتل کی دھمکیاں دیں،اس حال میں دیکھا کہ ہاتھ پھیلا کر آہ و زاری کر رہا تھا، میں ہی قاتل ہوں۔ محمد بن ابوبکر کو گدھے کے پیٹ میں ڈال کر گدھے کو آگ لگا دی گئی۔عمیر بن ضابی نے حضرت عثمان کے گال پر اس وقت تھپڑ مارا تھا ،جب وہ خطبۂ جمعہ دے رہے تھے ۔پھر ان کی میت پر حملہ کیا ۔اس کا ہاتھ سوکھ کر لکڑی کی طرح سخت ہو گیاآخر کارحجاج نے اس کی گردن اڑا دی۔حجاج بن یوسف نے کمیل کو بھی مروا دیا۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ خلیفۂ دوم عمر بن خطاب کی حکومت اور خلیفۂ مظلوم سیدنا عثما ن بن عفان کے عہد میں کیا فرق تھا ؟ دشمن کو حضرت عمر پرمنہ اندھیرے چھپ کر وار کرنا پڑا جبکہ حضرت عثمان کے خلاف علانیہ مہم شروع کی گئی اور پھرخروج اورگھیرا ؤ ہوا جو ایک ماہ دس دن جاری رہا۔
ہمارے خیال میں اس کا ایک جواب یہ ہو سکتا ہے کہ حضرت عمر کی طبیعت میں سختی اور کنجوسی تھی۔خلیفہ بننے کے وقت انھوں نے اﷲ سے خود دعا کی:اے اﷲ !میں سخت ہوں،مجھے نرم کر دے۔مجھ میں بخل ہے ، مجھے سخی دل بنا دے۔یہ دعا قبول ہوئی ،وہ اہل ایمان کے حق میں انتہائی نرم اور فیاض ہو گئے جبکہ اپنے شریک اقتدارعمال کے لیے سخت ہی رہے۔اہل ایمان کے مال کی وہ کڑی حفاظت کرتے۔ان کے برعکس سیدنا عثمان نرم دل تھے،مال دار ہونے کی وجہ سے کھلا خرچ کرنے کے عادی تھے۔ خلعت خلافت پہننے پر یہ فیاضی کثرت سے عطیات دینے کی شکل اختیار کرگئی۔کچھ عطیات انھوں نے اپنی جیب سے دیے اور کچھ مالِ خمس میں سے ۔خمس سے دیے جانے والے عطیہ انھوں نے لوگوں کے اعتراض پر واپس لے لیے ۔ مالی معاملات میں حضرت عمر کے پیمانے اتنے کڑے تھے کہ کسی کو انگلی اٹھانے کی جرأت نہ ہوتی تھی جبکہ حضرت عثمان کا طریق کار جائز ہونے کے باوجود اعتراض کا احتمال رکھتا تھا۔کسی قریبی عزیز کو نوازنے پر لا محالہ سوال اٹھ کھڑا ہوتا ۔اسے اپنی خاص جیب سے رقم دی گئی یامسلمانوں کے بیت المال کا مال خرچ کر دیا گیا؟ سیدنا عثمان کے خلاف ایسا کوئی الزام ثابت نہ ہوا لیکن بدخواہوں نے انگلیاں ضروراٹھائیں۔
حضرت عثمان کا اپنے اعزہ واقارب سے محبت رکھنا اور ان کی بھلائی کا خیال رکھنا ایک جائز عمل تھا۔ وہ اس کے علمی دلائل بھی دیتے۔
انھوں نے اپنا ذاتی مال و دولت اور اپنی اراضی بنو امیہ میں بانٹ دی۔ بنو حکم اور بنو عثمان کے ہر فرد کو دس ہزار درہم دیے۔ بنوعاص ،بنو عیص اور بنو حرب کو بھی اسی طرح عطیات دیے۔انھوں نے زمانۂ جاہلیت میں اپنے شریک کار ربیعہ بن حارث کے بیٹے عباس کو ایک لاکھ درہم دلائے۔ یہ سب انھوں نے اپنی جیب سے کیا۔سیدنا عثمان نے اپنے اہل قبیلہ کی طرف اس قدرزیادہ جھکاؤ رکھنے کی وجہ اس طرح بیان کی:وہ غریب اور تنگ دست ہیں اس لیے میں نے ان پر نوازشیں کیں۔کچھ صحابہ نے عبداﷲ بن خالدبن اسیداور مروان کو عطیات دینے پر اعتراض کیا تو حضرت عثمان نے ان سے مذکورہ رقوم واپس لیں۔ ایک طر ف سیدنا عثمان کا یہ قدام ،دوسری جانب حضرت عمرکی اقارب سے ایسی بے رخی کہ اپنے داماد کو سرکاری خزانے سے ایک دھیلا بھی دینے سے انکار کر دیا۔ ان کی اہلیہ ام کلثوم بنت علی نے ملک�ۂ روم کو خوشبوؤں ،ظروف اور عورتوں کی زیب و زینت کا کچھ سامان تحفے میں بھیجاتو جواباً اس نے بھی کچھ تحائف ارسال کیے ،ان میں ایک قیمتی ہار بھی تھا۔حضرت عمر کو معلوم ہوا تو فوراً شوریٰ کا اجلاس طلب کر لیا۔ کچھ اصحاب کا خیال تھا:یہ ہار ام کلثوم ے ہدایا کے جواب میں موصول ہوا ہے اس لیے امیر المومنین اس کی ذمہ داری سے بری ہیں۔دوسروں نے کہا: تحائف مسلمانوں کے ایلچی کے ہاتھ بھیجے گئے، اسی لیے ملکہ نے انھیں اہمیت دی ، پھر جوابی عطیات لانے والا ہرکارہ بھی سرکاری تھا۔ یہ رائے عمرکے من کو بھا گئی، انھوں نے ہار ترت بیت المال میں جمع کرایااور اپنی اہلیہ کو ان کی خرچ کی ہوئی رقم دلا دی۔حضرت عمرکی شدت احتیاط تھی کہ کسی نکتہ چیں کوان پر نکتہ چینی کرنے کی گنجایش ہی نہ ملی۔ سیدنا عثمان اس روش کو کیسے اپنا سکتے تھے ،ان کا مزاج دوسرا تھا او ر وہ شعوری طور پر اتنی سختی کو صحیح بھی نہیں سمجھتے تھے۔ کہتے تھے: میرے دونوں پیش رووں نے احتساب کے نام پر اپنے اوپر اور اپنے متعلقین پر ظلم کیا۔انھوں نے اپنا حصہ چھوڑ رکھا تھا جبکہ میں نے لے کر اقربا میں بانٹ دیا ہے۔ اسے وہ صلۂ رحمی کہتے تھے۔ایک بار فرمایا،عمر ایسا خزیرہ(دودھ ،گوشت اور گھی سے بنا ہو سالن)کھاتے جس میں دودھ ہوتا نہ گوشت۔انھوں نے خود بھی مشقت اٹھائی اور دوسروں کے لیے بھی مشقت کا نمونہ ہی چھوڑا۔عثمان ،سفیدچھنا ہوا آٹا ، عمدہ روٹی اور گوشت کھاتے جبکہ عمر نے چھان کی روٹی اور بوڑھی بکریوں کا گوشت کھانا شعار بنا لیا تھا۔
امکان تھا کہ حضرت عثمان کی فطری حیاامور خلافت کی انجام دہی میں رکاوٹ بنتی، تاہم عمومی طور پر ایسا نہ ہوا۔چند مواقع پر مروان نے ان کی خاموشی یا ہچکچاہٹ سے ضرور فائدہ اٹھایااور آگے بڑھ کر اپنی مرضی سے اقدامات کیے۔ شہادت کے وقت سیدنا عثمان کے خزانچی کے پاس تین کروڑ درہم اور ڈیڑھ لاکھ دینار تھے جو سب لوٹ لیے گئے۔ربذہ کے فارم میں ایک ہزار اونٹ موجود تھے۔ ان کے ترکے میں اس کے علاوہ ۲ لاکھ دینار کی مالیت کے صدقات بھی تھے۔
حضرت عمر اور حضرت عثمان کی سیرتوں کا تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے یہ جان لینا چاہیے کہ افراد مختلف طبیعتیں اور الگ الگ مزاج ر کھتے ہیں۔ اسلام نہیں چاہتاکہ ایک طبیعت رکھنے والے کے لیے ترقی کی راہیں کھول دی جائیں اور دوسرے مزاج کے حامل کو اپنے جوہر دکھانے سے روک دیا جائے۔ جب ہر شخص اپنے مزاج اور اپنی سرشت کے مطابق کام کرنے کاموقع پائے گا تولا محالہ اس کے کام پراس کے ذاتی اور طبعی اثرات منعکس ہوں گے ۔ہو سکتا ہے یہ اثرات سرسری اور غیر اہم ہوں تاہم ان سے گہرے اور دوررس نتائج برآمدبھی ہو سکتے ہیں۔پختہ ایمان کے حامل اور اسلام کا گہر اشعور رکھنے والے ان دونوں جلیل القدراصحاب رسول ﷺکے طرز حکومت میں یہی فرق تھا۔حضرت عمر نے اپنی طبیعت کے مطابق امور خلافت سر انجام دیے اور حضرت عثمان نے اپنے مزاج پر رہتے ہوئے کاروبار سلطنت چلایا۔دونوں اصحاب نے ایک ہی نیت سے،ایک ہی مقصد کی خاطر خلافت کی ذمہ داریاں نبھائیں پھر بھی ان کا آپس کا فرق نمایاں ہو کر رہا ۔ایک بارسیدنا عثمان نے اہل ایمان سے کہا:میں نے تم سے نرمی برتی ،تمہارے لیے کندھے بچھائے ،اپنے ہاتھ اور زبان کو تم سے روکے رکھا، اس لیے تم مجھ میں وہ عیب نکالتے ہو اور وہ اعتراض کرتے ہو جو تم عمربن خطاب کے لیے برداشت کرتے رہے کیونکہ وہ تمہیں ٹھوکر مارتے ، پیٹتے اور برا بھلا کہتے تو تم ان کی ہر بات مان لیتے،پسند ہوتی یا نا پسند۔سیدنا عثمان نے اپنے سے پہلے بار خلافت اٹھانے والے صاحبینؓ کی روش پر چلنے کا پیمان باندھا ، اپنے ابتدائی دور میں وہ اس پر کاربند بھی رہے لیکن آخرکاران کا اپنامزاج غالب ہوااور وہ پیش روں سے مختلف ہو کر رہے۔
حضرت عثمان نے اپنے آخری خطبے میں ارشاد فرمایا:دنیا فنا ہو جائے گی اور آخرت باقی رہے گی۔فانی دنیا غرے میں ڈال کر تمہیں ہمیشہ کی زندگی سے غافل نہ کر دے۔غیرت الٰہی سے ڈرو!جماعت سے چپکے رہواور گروہوں میں نہ بٹ جاؤ۔ سیدنا عثمان کی شہادت کے بعد لوگ دوڑتے ہوئے حضرت علی کے پاس آئے اور بیعت خلافت لینے کوکہا ۔انھوں نے کہا، مجھے اﷲ سے حیا آتی ہے،ان لوگوں سے بیعت لے لوں جنھوں نے عثمان کو شہید کر ڈالا اورابھی ان کی تدفین بھی نہیں ہوئی۔جاؤ، اہل بدر سے پوچھو۔جس پر وہ راضی ہوں ،وہی آئندہ خلیفہ ہو سکتا ہے چنانچہ تمام بدری ان کے پاس آن پہنچے اور انھی کی خلافت پراتفاق کیا۔سب سے پہلے طلحہ، سعداور زبیر نے بیعت کی پھر وہ مسجد نبویﷺ پہنچے جہاں باقی صحابہ کی بیعت ہوئی۔مروان اور اس کے اقارب نے بھاگنے کی کی۔ایک روایت کے مطابق بیعت خلیفۂ سوم کی تدفین کے بعد ہوئی۔

مطالعۂ مزید:الطبقات الکبری(ابن سعد)،تاریخ الامم والملوک (طبری)، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، تاریخ اسلام(ذہبی)،البدایہ والنہایہ(ابن کثیر)،اردو دائرۂ معارف اسلامیہ(مقالہ:امین اﷲ وثیر)

 


Back to Home Page



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List