Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Dr. Waseem Mufti Profile

Dr. Waseem Mufti

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
عثمان غنی رضی ﷲ عنہ-۵ | اشراق
Font size +/-

عثمان غنی رضی ﷲ عنہ-۵

[’’سیر و سوانح ‘‘ کے زیر عنوان شائع ہونے والے مضامین ان کے فاضل مصنفین کی اپنی تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں، ان سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے‘‘۔]

حضرت علیؓ اور محمدؓ بن مسلمہ نے مدینۃ النبیؐکا گھیرا کرنے والے باغیوں سے پوچھا ،تم ایک بار جانے کے بعد دوبارہ کیوں آ گئے ہو ؟انھوں نے کہا،ہم اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے کہ ایک ہرکارہ دکھائی دیا۔پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ امیر المومنین کا غلام ہے اور ان کا خط لے کر گورنر مصر کے پاس جا رہا ہے۔ خط پر مہر خلافت ثبت تھی اور اس میں عبدالرحمان بن عدیس، عمرو بن حمق،عروہ بن حمق اور عروہ بن بیّاع کے قتل،سولی اور ہاتھ پاؤں کاٹنے کے ا حکام درج تھے۔ان حضرات نے یہ بات سنی تو باغیوں کی حضرت عثمانؓ سے ملاقات کرانے کا فیصلہ کر لیا تاکہ فریقین روبرو ہو کر اس مسئلے کو سلجھا سکیں۔ سیدنا عثمانؓ کو دیکھ کر خارجیوں نے سلام تک نہ کیا۔انھوں نے ابن ابی سرح کے مظالم کی شکایت کی اورکہا، وہ مال غنیمت کو اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں۔خط کے بارے میں حضرت عثمانؓ نے تسلیم کیاکہ اسے لے جانے والا غلام اور اونٹ انھی کے ہیں،مہر بھی ان کی ہے، لیکن واﷲ!نہ خط انھوں نے لکھوایا نہ غلام کو بھیجا نہ اسے سواری دی، اس بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے ۔عبدالرحمان بن عدیس نے کہا،آپ کی مہر لگا کر آپ ہی کے غلام اور سواری کو استعمال کر لیا گیا ،اس قدر جسارت ہوئی اور آپ کو پتا تک نہ لگا؟انھوں نے کہا، ہاں ایسا ہی ہے۔ابن عدیس بولا،اس صورت میں دو باتوں کاامکان ہے،آپ سچ بتا رہے ہیں یادروغ گوئی سے کام لے رہے ہیں۔ دوسری صورت مان لی جائے تو ہمارے نا حق قتل کا حکم دینے کی وجہ سے آپ مستحق عزل ہو چکے اور اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ آپ سچ بول رہے ہیں تو بھی آپ کو خلافت برقرار رکھنے کاحق نہیں،کیونکہ اپنی کمزوری اور غفلت کی بنا پرآپ اس کی ذمہ داریاں نبھانے کے اہل نہیں۔حضرت عثمانؓ نے جواب دیا، میں اس قمیص کو نہ اتاروں گا جو اﷲ نے مجھے پہنائی ہے،میں توبہ و اصلاح کروں گا ۔باغیوں کے لیڈر نے کہا ،اگر یہ پہلا گناہ ہوتا تو ہم توبہ کو مان لیتے ۔آپ توبہ کرتے ہیں پھر اسی عمل کو دہراتے ہیں۔ہم آپ کو معزول یا قتل کیے بغیر نہ ٹلیں گے ۔اگر آپ کے ساتھیوں نے روکا تو ہم جنگ کر کے آپ تک پہنچ جائیں گے۔سیدنا عثمانؓ نے کہا ، میں محض اپنے دفاع کے لیے کسی کولڑائی کا حکم نہ دوں گااور خلع خلافت اتارنے کے بجاے شہادت پانے کو ترجیح دوں گا۔
یہ خط در اصل مروان نے حضرت عثمانؓ کے علم میں لائے بغیران کے قلم سے اور ان کی مہر خلافت لگا کر ازخود لکھا تھا،اس خیال کے حق میں محمدؓ بن مسلمہ کی تائید موجود ہے۔ مروان چاہتا تھا کہ اس اہم مسئلے میں سورۂ مائدہ کی آیت نمبر۳۳ کے احکام پر عمل کیاجائے۔اﷲ فرماتے ہیں،

’’انماجزاؤ الذین یحاربون اﷲ و رسولہ و یسعون فی الارض فساداً ان یقتّلوا او یصلّبوا او تُقطَع ایدیہم و ارجلہم من خلاف او ےُنفَوا من الارض۔‘‘
’’بے شک، ان لوگوں کی سزا جو اﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کریں اور زمین میں فساد مچاتے پھریں ، یہی ہے کہ بری طرح قتل کر دیے جائیں،سولی چڑھا دے جائیں یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔‘‘

یہ درست ہے کہ وہ لوگ خلافت اسلامیہ کے باغی اور فساد فی الارض کے مرتکب تھے اور ایسے ہی لوگوں پر آیت محاربہ کے احکامات لاگو ہوتے ہیں تاہم مروان حاکم مجاز تھا نہ اسے حق تھا کہ قرآن کے احکام کو پورا کرنے کے لیے جعل سازی سے کام لیتا ۔ ایک اورخط میں محمد بن ابو بکرؓ کے قتل کا حکم درج تھا۔کئی جعلی خطوط باغیوں نے بھی لکھے ،ان میں متعدد صحابہؓ کی طرف سے حضرت عثمانؓ سے قتال کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔
اسی شورش کے دوران میں ایک بار سیدنا عثمان مسجد نبوی میں آئے اور دریافت کیا،کیا یہاں علیؓ ہیں؟انھیں بتایا گیا، وہ موجود ہیں توپوچھا،کیا زبیرؓہیں؟ ان کی موجودگی کا علم ہونے کے بعد طلحہؓ اور سعدؓ بن ابی وقاص کے ہونے کی اطلاع پائی تو فرمایا،میں تمہیں اس اﷲ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں،تمہیں معلوم ہے ،جب مسجد نبوی نمازیوں کے لیے چھوٹی پڑ گئی تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:جو خاص اپنے مال سے فلاں قبیلے کا باڑا خریدے گاتو اﷲ اس کی مغفرت کرے گا اور اسے جنت میں اس سے بہتر گھر ملے گا۔ میں نے وہ احاطہ خریدلیا تو آپﷺنے فرمایا: اسے ہماری مسجد میں شامل کر دو،اس کا اجر پاؤگے۔اب تم مجھے اس مسجد میں دوگانہ ادا کرنے سے بھی روک رہے ہو؟ حضرت عثمانؓ نے مزید کہا،جب آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ آئے، بیر رومہ کے سوا کوئی کنواں ایسا نہ تھا جس کا پانی میٹھا ہو۔ مسافر بھی بلا قیمت اس سے سیراب نہ ہو سکتا تھا ۔آپﷺنے سوال فرمایا:کون اس کنویں کو خالص اپنے مال سے خرید کر اس میں مسلمانوں کا حصہ اپنے حصے کے برابر ٹھہرائے گا؟ اسے جنت میں اس سے کہیں بہتر بدلہ ملے گا۔میں نے اسے خاص اپنے مال سے خریداتوآپ ﷺنے فرمایا:اسے اہل ایمان کے لیے وقف کر دو، تمہیں ثواب ملتارہے گا۔ اب تم مجھے اس میں سے پانی پینے سے بھی روک رہے ہو؟ تمہیں اﷲ کی قسم ہے ،تم جانتے ہو ؟رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ نے غزوۂ تبوک کے دن بڑے بڑے سرداروں کی طرف دیکھ کر فرمایا:’’جو اس لشکر(جیش عسرت) کے لیے اسلحہ اور سامان مہیا کرے گا،اﷲ اس کی مغفرت کرے گا۔‘‘وہ میں ہی تھا جس نے اسے کیل اور کانٹے سے لیس کیا۔ لوگوں نے ان باتوں کی تائید کی تو انھوں نے کہا : اے اﷲ! گواہ رہ، اے اﷲ! گواہ رہ،اے اﷲ! گواہ رہ، پھر چلے گئے۔ایک باروہ اس دریچے پر آئے جو مسجد نبوی کے مقام جبرئیل ؑ کے پاس ہے اور جمع ہونے والے ہجوم سے خطاب کیا۔ انھوں نے سوال کیا ،کیا تم میں طلحہؓ بن عبیداﷲ ہیں؟ تین بار پکارنے پر وہ سامنے آئے توعثمانؓ ناراض ہوئے اور کہا،میرا خیال نہ تھا کہ تم ان لوگوں میں شامل ہو چکے ہو جنہیں بلانے کے لیے تین بار پکارنا پڑتا ہے۔ میں اٰﷲ کا نام لے کر تم سے پوچھتا ہوں، کیا تمہیں یاد ہے ،میں فلاں روز ، فلاں جگہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ۔صحابہؓ میں سے میں اور تم ،محض دو افراد ہی موجود تھے ۔آپﷺنے تمہیں مخاطب کر کے فرمایا تھا ،’’طلحہ!ہر نبی کا اس کے امتیوں میں سے ایک خاص ساتھی ہوتا ہے جو جنت میں بھی اس کے ساتھ رہے گا۔یہ عثمانؓ جنت میں میرے رفیق ہوں گے۔‘‘ طلحہؓ نے تائید کی تو عثمانؓ گھر کو پلٹ گئے۔
بلوے نے زور پکڑا تو حضرت عثمانؓ نے استفسار کیا،یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟میں نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، صرف تین وجوہ کی بنا پر کسی مسلم کی جان لی جا سکتی ہے۔وہ مسلمان ہونے کے بعد کافر ہو گیا ہو،اس نے شادی کے بندھن میں بندھنے کے بعد زنا کر لیا ہویا کسی شخص کو بغیر کسی قصاص کے قتل کر ڈالا ہو۔ اﷲ کی قسم،میں نے جاہلیت میں زنا کیا نہ اسلام میں،جب سے اﷲ نے مجھے دین حق کی ہدایت کی ہے ،میں نے اس سے روگردانی کی خواہش کی نہ میں نے کسی کو قتل کیا ۔پھر یہ مجھے کس جرم کی پاداش میں مار ڈالنا چاہتے ہیں؟ سیدنا عثمانؓ نے اﷲ کو گواہ بنا کر لوگوں سے پوچھا، تمہیں یاد ہے ، ایک دفعہ جبل حرا تھرتھرانے لگاتو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس پر پاؤں مار کر فرمایاتھا،’’حرا! پر سکون ہو جا،تجھ پر ایک نبیﷺ،ایک صدیقؓ اور ایک شہیدؓ کے سوا کوئی نہیں۔‘‘میں بھی آپﷺ کے ساتھ تھا۔لوگو ں نے کہا ،یہ سچ ہے تو انھوں نے مزیدکہا،میں ان اصحاب رسولﷺ کواﷲ کی قسم دلاکر ان سے پوچھتا ہوں جو بیعت رضوان (صلح حدیبیہ) میں آپﷺ کے ساتھ شریک تھے۔آپﷺ مجھے مکہ بھیج چکے تھے ،پھرجب بیعت کا موقع آیاتو آپپﷺنے اپنا دست مبارک دوسرے ہاتھ پر رکھ کر میری طرف سے بیعت لی اور فرمایا: یہ میرا ہاتھ ہے اور یہ عثمان کا۔حاضرین نے اس بات کی بھی تائید کی۔
باغیوں نے سیدنا عثمانؓ کے ہر استدلال کو ردکیا۔انھوں نے اپنے انتخاب کا ذکر کیا کہ وہ مسلمانوں کی مشاورت سے، ان کی رضامندی کے ساتھ ہوا تو انھوں نے کہا ،اﷲ نے اس انتخاب کوہماری آزمایش کا ذریعہ بنایا۔ جب حضرت عثمانؓ نے اسلام کی طرف اپنی سبقت اوردین حق کے لیے اپنی خدمات بیان کیں تو وہ بولے یہ سب بجا لیکن اب آپ بدل گئے ہیں۔ انہوں نے یہ فرمان نبویؐسنایاکہ تین طرح کے مسلمانوں کے علاوہ کسی مومن کی جان لینا جائز نہیں تو بلوائیوں نے کہا،قرآن مجید میں حسب ذیل لوگوں کی جان لینے کی اجازت دی گئی ہے۔وہ شخص جو زمین میں فساد مچاتا پھرے، جو بغاوت اور قتال کرے اور جو کسی حق کو روک لے اور اس کے لیے ہتھیار بھی اٹھائے۔آپ نے خلافت کو ہمارے خلاف ہتھیار بنا لیا ہے ۔آپ اس خلعت کو اتار دیں ،ہم بھی جنگ سے باز آ جائیں گے۔
ایام حج قریب تھے۔ام المومنین سیدہ عائشہؓنے بیت اﷲ کا قصد کیاتو کچھ لوگوں نے یہ کہہ کر انھیں رکنے کو کہا،ہو سکتا ہے بلوائی آپ کی موجودگی سے شرم کریں اور شر سے بازآ جائیں۔انھوں نے جواب دیا،مجھے اندیشہ ہے ،میں نے انھیں کوئی سجھاؤ دیا تو میرے ساتھ وہی سلوک نہ کریں جو انھوں نے ام المومنین ام حبیبہؓ(رملہؓ بنت ابوسفیانؓ) کے ساتھ کیا ہے۔وہ بنو امیہ کے یتیموں اور ان کی بیواؤں کے بارے میں بات کرنے لیے خچر پر سوار ہو کر حضرت عثمانؓ کے پاس آئیں تھیں ۔باغیوں نے خچر کا تنگ (زین کا تسمہ)کاٹ ڈ الاتو وہ بدک کر بھاگا۔اگر آس پاس کھڑے ان کے خادم خچر کو قابو نہ کر لیتے توان کے گرکر جان سے ہاتھ دھونے کا امکان تھا۔ ان حالات میں خلیفۂ سوم حضرت عثمانؓ کا حج کے لیے جانا نا ممکن تھا ۔انھوں نے حضرت عبداﷲؓ بن عباسؓ کو اپنی طرف سے امیر حج مقرر کیاتو انھوں نے کہا،حج پر جانے سے بہتر ہے کہ میں آپ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ کا دفاع کروں تاہم حضرت عثمانؓ کے اصرارپر وہ مدینہ کے حاجیوں کو لے کر عازم سفرہو گئے۔ شر پسندوں نے حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کر لیا تو صحابہؓ کی اکثریت بھی گھروں میں مقید ہو گئی تاہم ان میں سے نوجوان حضرت حسنؓ،حضرت حسینؓ، حضرت عبداﷲؓ بن زبیراور حضرت عبداﷲؓ بن عمروؓخلیفۃ المسلمین کے دفاع پر مامور ہو گئے۔ اس وقت تک کسی کے ذہن میں نہ تھا کہ حضرت عثمان کو شہید بھی کیاجا سکتا ہے۔یہ محاصرہ ایک ماہ سے زیادہ (یا۴۰ دن)جاری رہا۔اس دوران میں غافقی بن حرب مسجد نبوی میں جماعت کی امامت کرتا رہا،کچھ نمازیں حضرت علیؓ،حضرت طلحہؓ بن عبیداﷲ،حضرت ابو ایوبؓ(خالدؓ بن زید)اور حضرت سہلؓ بن حنیف نے پڑھائیں۔حج ہو چکا ، کچھ لوگ مدینہ واپس آئے اور بتایا،اکثر حجاج کرام مدینہ آنا چاہتے ہیں تاکہ باغیوں کو ان کے بلوے سے روک سکیں۔یہ اطلاع بھی آئی کہ حبیب بن مسلمہ کی قیادت میں بھیجا ہوا حضرت معاویہؓ کا لشکر مدینہ کے قریب آ چکا ہے۔مصر سے معاویہ بن خدیج کی کمان میں آنے والی ابن ابی سرح کی فوج کسی وقت پہنچ سکتی ہے۔کوفہ سے قعقاع اور بصرہ سے مجاشع اپنے اپنے جیش لے کر نکلے ہوئے ہیں۔ باغیوں نے یہ جان کر محاصرہ تنگ کر دیا اور کسی مدد کے مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی سیدنا عثمانؓ کو شہید کرڈالا۔
شہادت سے پہلے حضرت عثمانؓ نے باغیوں کے ایک لیڈر اشتر نخعی کو بلاکر پوچھا ،تمہارے کیا کیا مطالبات ہیں؟اس نے کہا،آپ اپنے آپ کو خلافت سے الگ کرلیں یا اپنی جاری کردہ تمام سزاؤں کا فدیہ دیں ورنہ آپ کو قتل کر دیا جائے گا۔پہلے وہ کہہ چکے تھے، تمام گورنروں کو ہٹا کر ان کی مرضی کے گورنر مقرر کیے جائیں۔اگر عثمانؓ استعفا نہیں دینا چاہتے تو مروان کو ان کے سپرد کر دیں۔ حضرت عثمانؓ نے یہ کہہ کر خلافت چھوڑنے سے انکار کیا ،وہ اس قمیص کو نہ اتاریں گے جو اﷲ نے ان کوپہنائی ہے۔ قصاص نہ دینے کا سبب یہ بتایاکہ وہ عمر رسیدہ اور ضعیف البدن ہیں اور مروان کو باغیوں کے حوالے اس لیے نہیں کرنا چاہتے کہ اس طرح وہ ایک مسلمان کے ناحق قتل کا سبب بن جائیں گے ۔انھوں نے انتباہ کیا،اگر تم نے مجھے قتل کر دیا ،تمہاری باہمی الفت ختم ہو جائے گی پھر اکٹھے نمازپڑھ سکوگے نہ دشمن سے ایک جان ہو کر لڑ سکو گے۔اپنی خلافت پر حضرت عثمانؓکے اصرارکا سبب وہ ارشاد نبوی تھا جو حضرت عائشہؓ کی اس روایت میں ذکر ہوا ۔ فرماتی ہیں: میں نے ایک بار سنا ، نبی صلی اﷲ علیہ وسلم عثمان کو تلقین فرمارہے تھے ،’’ ہو سکتا ہے اﷲ تمہیں ایک قمیص (خلعت خلافت) پہنائے۔ پھر اگر کوئی اس قمیص کو اتارنے کی کوشش کرے تو مت اتارنا۔‘‘آپ ﷺنے یہ حکم تین بار ارشاد کیا۔محاصرے کے بعد پہلا جمعہ آیا،ابن عدیس بلوی نے خطبہ دیا اور حضرت عثمانؓکی عیب جوئی کی۔عثمانؓ نے فرمایا:میں نے جب سے اسلام قبول کیا، ہر جمعہ کے دن ایک غلام آزاد کرتا رہا ہوں۔یہ پہلا جمعہ ہے کہ میں کوئی گردن قید غلامی سے نہیں چھڑا سکا۔ذی قعدکی درمیانی تاریخوں سے۱۸ ذی الحجہ تک یہ محاصرہ جاری رہا۔۱۲ویں دن باغیوں نے حضرت عثمانؓ سے ملاقات پر پابندی لگا دی اور ہر طرح کی رسد بند کر دی حتی کہ انھیں پانی پہنچانا بھی مشکل ہو گیا۔ شہادت سے ایک دن پہلے خلیفۂ ثالث نے اپنے گھر میں موجود ۷۰ کے قریب صحابہ سے جن میں عبداﷲؓ بن عمر، عبداﷲؓ بن زبیرؓ،حسنؓ ،حسینؓ اور ابوہریرہؓ شامل تھے عہد لیا کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے اور تلوار نہ اٹھائیں گے۔ انھوں نے اپنے غلاموں کو تلقین کی ، جو اپنی تلوار نیام سے نہ نکالے گا، آزاد ہو گا۔
آخرکارامیر المومنین عثمان غنیؓ کی زندگی کا آخری دن آ گیا۔انھوں نے اس حال میں روزہ رکھا کہ پینے کے لیے پانی نہ تھا،ان کے ہمسایہ آل عمروؓ بن حزم کی طرف سے خفیہ طور پر پہنچایا ہوا پانی بھی ختم ہو چکا تھا۔ باغیوں نے ان کے بھوکے پیاسے ہونے کا ذرا احساس نہ کیا ،کوڑے دان میں پڑے ہوئے گندے پانی کی طرف اشارہ کیا اور کہا، اسے استعمال کریں۔ روزہ رکھنے کے بعدسیدنا عثمانؓ نے خلاف معمول تہ بندکے بجاے شلوار پہنی،کچھ نوافل ادا کیے پھرمصحف سامنے رکھ کر سورۂ طٰہٰ کی تلاوت شروع کر دی۔وہ تلاوت میں مصروف تھے کہ کچھ لوگ ان کے پڑوسی عمروؓ بن حزم انصاری کی دیوار پھلانگ کر گھر میں گھسے اور دروازے کو آگ لگا دی۔ دروازے پر سخت مزاحمت ہوئی جس میں کئی مسلمان شہید ہوئے ، زیاد بن نعیم ،مغیرہ بن اخنس اور نیار بن عبداﷲ ان میں شامل تھے جب کہ عبداﷲؓ بن زبیرؓ، حسنؓ بن علیؓاور مروان بن حکم زخمی ہوئے۔کچھ باغیوں کی جانیں بھی گئیں۔آخر کار وہ اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔سب سے پہلے ایک مصری اسود آیا اور زور سے حضرت عثمانؓ کا گلا گھونٹاپھر محمد بن ابو بکرؓتیرہ آدمیوں کے ساتھ پہنچا۔اس نے حضرت عثمانؓ کو ڈاڑھی سے کھینچ کر اس شدت سے اٹھا یاکہ ان کے دانتوں کے ٹکرانے کی آواز آئی پھر چلایا،اب معاویہؓاور ابن عامرآپ کو کوئی مدد نہ کر سکیں گے۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا: او بھتیجے! میری ڈاڑھی چھوڑو۔تم نے اس( شخص کی) ڈاڑھی پر ہاتھ ڈالا ہے،تمہارا باپ جس کی بہت عزت کرتا تھا۔اس نے کہا ،میرے ا با اب آپ کو دیکھتے تو نکیر کرتے۔حضرت عثمانؓ نے جواب دیا،میں تمہارے خلاف اﷲ سے مدد مانگتا ہوں۔ وہ پیچھے ہٹ گیا، لیکن اپنے ایک ساتھی کنانہ بن بشر کو اشارہ کر دیا جس نے لپک کر نیزے سے حملہ کیا۔ اس کے کھبنے سے گہر ا زخم آیااور حضرت عثمانؓ گر گئے۔پھر ایک باغی آیا اور تلوار چلا کر ان کا ہاتھ زخمی کر دیا۔ان کا خون ٹپک کران کے سامنے پڑے قرآن مجید کے نسخے پر گرنے لگا۔ باقی لوگ بھی پل پڑے، سیدنا عثمانؓ نے مدافعت کرنے کی کوشش کی، لیکن باغی غالب آگئے۔ انھیں کچھ ہوش تھا کہ محمدبن ابوبکرؓپلٹ کر آیا اور بولا،اولمبی ڈاڑھی والے یہودی! تم کس دین کے پیروکار ہو؟انھوں نے جواب دیا ، میں مسلمان ہوں اور اہل ایمان کا امیر ہوں۔اسود بن حمران(یا سودان بن رومان) نے تلوار سے سینہ گھائل کیا،اس مرحلے پرآپ کی اہلیہ نائلہ حائل ہوئیں،وہ کود کر آپ پرگر گئیں اور چلائیں ، تم امیر المومنین کو قتل کر رہے ہو؟ انھوں نے تلوار کو ہاتھ سے پکڑلیا، لیکن اس نے تلوارزور سے کھینچ لی جس سے ان کی انگلیاں کٹ گئیں۔ نائلہ پیچھے ہٹیں تو اس نے تلوار حضرت عثمانؓ کے پیٹ میں گھونپ کر اس پر اپنا بوجھ ڈال دیاحتیٰ کہ ان کی روح پروازکر گئی۔ آخر میں عمرو بن حمق سینے پر چڑھ گیا اور اس پرکئی گھاؤ لگائے۔ مصحف ان کے ساتھ چپکا رہا، بد بخت غافقی بن حرب نے ان کے سر پر ٹھوکر مارکراسے الگ کیا۔سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۱۳۸ ’’ فان آمنوا بمثل آمنتم بہ فقد اھتدوا و ان تولو ا فانما ہم فی شقاق فسیکفیکہم اﷲ و ہو السمیع العلیم۔‘‘ (پھر اگر یہ (قریش) اسی طرح ایمان لے آئے جیسے تم لائے ہو تو راہ یاب ہو جائیں گے اور اگر انھوں نے روگردانی کی تو یقیناُ وہ تمہاری مخالفت میں مبتلا ہیں ۔پس ان کے مقابلے میں تمہیں اﷲ ہی کافی ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے کے الفاظ فسیکفیکہم پر آپ کا خون گرا ہوا تھا۔حضرت عثمانؓ کے ایک غلام نے ان کے قتل میں شامل سودان کی گردن اڑا ڈالی، قتیرہ نے اسے شہید کر دیا۔
خلیفۂ مظلومؓ کو شہید کرنے کے بعد بلوائی ان کا سر کاٹنا چاہتے تھے ۔ان کی بیویاں نائلہ اور ام بنین اوران کی بیٹیاں چلائیں اور روئیں پیٹیں تو عبد الرحمان بن عدیس نے اپنے ساتھیوں کو منع کر دیا۔جاتے جاتے انہوں نے گھر کا ساز وسامان لوٹ لیاحتی کہ پیالے اور برتن بھی اٹھا لیے ۔باغی نکل کر گھر کے صحن میں آئے تو امیر المومنینؓ کے ایک اور غلام نے کود کر قتیرہ پر حملہ کیا اور اسے جہنم واصل کر دیا۔ ایک بلوائی کلثوم تجیبی نے نائلہ کی چادر اٹھائی تواس نے اسے بھی مار ڈالا۔ پھر وہ خود بھی شہید ہوااور اپنے آقا پراپنی جان نثار کر دی۔اب خارجیوں کارخ بیت المال کی طرف تھا،اس میں کافی مال تھا جو وہ لوٹ مار کر چلتے بنے۔ مشہور روایت کے مطابق سیدناعثمانؓ کے گھرکا محاصرہ ۴۰ دن جاری رہا۔شعبی کا کہنا ہے ،یہ ۲۰ دنوں سے کچھ اوپر تک چلا۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت بروز جمعہ، ۱۸ ذی الحجہ ۳۵ھ کو دوپہر کے وقت ہوئی جب ان کی عمر ۸۲ برس سے اوپر تھی۔ مدت خلافت عثمانیؓ ۱۲ روز کم ۱۲ سال بنتی ہے۔
حضرت عثمانؓ کی لاش۳ دن بے گور و کفن پڑی رہی۔تب حکیمؓبن حزام اور جبیرؓ بن مطعم نے حضرت علیؓ کی اجازت سے تدفین کا ارادہ کیا۔ ان کی آخری آرام گاہ جنت البقیع کے مشرق میں حش کوکب کے مقام پر بنائی گئی۔ یہاں کھجوروں کا ایک باغ تھا جوخودحضرت عثمانؓ نے خریدا تھا ۔جنازے میں حکیمؓ بن حزام،حویطبؓ بن عبدالعزی، ابوجہم بن حذیفہ،نِیارؓ بن مُکرَم،جبیرؓ بن مطعم،زیدؓ بن ثابتؓ،کعبؓ بن مالک،طلحہؓ،زبیرؓ، علیؓاور حسنؓ شامل ہوئے۔ حضرت عثمانؓ کی دونوں بیویاں نائلہ اور ام بنین،ان کے بچے اور کچھ خادم بھی موجود تھے۔ خوارج نے جنازے میں بھی رکاوٹیں ڈالیں،وہ خلیفۂ مظلوم کی میت کو سنگسار کرنے کے لیے راستے میں بیٹھے رہے اور ان کے جسد کوچارپائی سے گرا کر بے حرمتی کرنا چاہی ۔انہوں نے زور لگایا کہ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ کو دیر سلع میںیہودیوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ حضرت علیؓ نے انہیں ان کے ارادوں سے باز کیا پھر بھی جنت البقیع میں قبر نہ کھودی جا سکی۔اس کی بجائے تدفین اصل قبرستان کی دیوار کے باہر ہوئی۔شہادت پانے والے حضرت عثمانؓ کے دو غلاموں کو بھی حش کوکب میں ان کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ حضرت معاویہؓ نے اپنے عہد حکومت میں حش کوکب اور بقیع غرقد کی درمیانی دیوار گرا دی اور لوگوں سے کہا، اپنے متوفیوں کو حضرت عثمانؓ کی قبر کے پاس دفن کریں اس طرح یہ مقام بھی جنت البقیع کا حصہ بن گیا۔ بنوامیہ نے اپنے عہد حکومت میں حضرت عثمانؓ کے مزار پر ایک بڑا قبہ بنوایا جسے ترکیوں نے خوب مزین کیا۔ سعودی حکومت نے اسے مسمار کرا دیا تاہم اب ان کی قبر کے اردگرد ٹائلیں لگا کر اسے ممیز کر دیا گیا ہے۔

مطالعۂ مزید:الکامل فی التاریخ(ابن اثیر)،البدایہ والنہایہ(ابن کثیر)،عثمان بن عفان(محمد حسین ہیکل)، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ(مقالہ:امین اﷲ وثیر)




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List