Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Manzoor ul Hassan Profile

Manzoor ul Hassan

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
قومی سطح پر باہمی کشمکش کا حل | اشراق
Font size +/-

قومی سطح پر باہمی کشمکش کا حل

[’’آج‘‘ ٹی وی کے پروگرام ’’Live with ghamidi‘‘ میں میزبان جناب ڈاکٹر منیر احمد کے ایک سوال کے جواب میں جناب جاویداحمدغامدی کی گفتگو]

ہمارے موجودہ قومی حالات پر ہر حساس آدمی پریشان ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارا ملک ہی نہیں، پوری ملت اسلامیہ ایک سخت خطرناک صورت حال سے دوچار ہے۔ میں کبھی کبھی محسوس کرتا ہوں کہ جیسے یہ ملت بھی ایک بڑی سی لال مسجدہے اور تمام مسلمان قومی سطح پر وہی کچھ کر رہے ہیں جس کا مظاہرہ گزشتہ دنوں لال مسجد اسلام آباد میں ہوا تھا۔ اس کے قائدین کو دیکھیں ، ان کے طریق کار اور طرز استدلال کا جائزہ لیں، اس کے افراد کے جذبات اور محسوسات کا مطالعہ کریں توبالکل ویسی ہی صورت حال سامنے آتی ہے۔ اس کے اسباب و وجوہ کیا ہیں،اس ضمن میں بہت سی باتیں کہی جاسکتی ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ زیادہ ضروری ہے کہ اس مسئلے کو اس کے حل کے پہلو سے دیکھا جائے۔ یعنی یہ جو کشمکش مذہبی طبقات میں اور سیکولر قرار دیے جانے والے طبقات میں جاری ہے ،حکومتوں اور سیاسی گروہوں کے مابین جاری ہے اور عوام کے مختلف طبقوں میں جاری ہے، یہ کیسے ختم ہو سکتی ہے؟
میں برسوں اس مسئلے پر غور کرنے کے بعداس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ پانچ چیزیں ہیں جن کو ملحوظ خاطر نہ رکھنے کی وجہ سے جگہ جگہ کشمکش کے آثار پیدا ہوئے ہیں۔ ترکی ہو، انڈونیشیا ہو ، ملائیشیا ہو، سعودی عرب ہو، افغانستان ہو، ایران ہو، پاکستان ہو، کوئی بھی مسلمان ملک ہو ، انھی پانچ چیزوں کا عدم وجود کشمکش اور باہمی خلفشار کا باعث بناہے۔ یہ چیزیں اگر حاصل ہو جائیں تو پھر ہم مسائل سے نکل کر ترقی کی راہ پر گام زن ہو سکتے ہیں۔
پہلی چیز جمہوریت ہے۔یہ ہمارے دین کا بھی تقاضا ہے اوردنیا بھی اپنے تجربات کے نتیجے میں اسی مقام پر پہنچی ہے کہ جمہوری معاشرہ فلاح انسانی کے لیے ناگزیر ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ حکومت لوگوں کی راے سے وجود میں آئے، لوگوں کی راے سے قائم رہے اورلوگوں کی راے سے محرومی کے بعد اپناجواز کھو دے۔ کسی شخص کویہ حق نہ دیا جائے کہ وہ آئین کو توڑ دے یاکوئی ماوراے آئین اقدام کرے ۔ قومی سطح پر جو آئین، جو دستور،جو قاعدہ بنایا جائے، اسے قومی میثاق کی حیثیت حاصل ہو۔ سب لوگ اس کی عزت کریں،اس کا احترام کریں۔وہ ایک مقدس دستاویز قرار پائے اور اسے پس پشت ڈالنے کو ہر گز گوارا نہ کیا جائے ۔
حقیقی جمہوریت ہماری ضرورت ہے۔اس کے ذریعے سے آپ کشمکش کوختم کرسکتے ہیں۔ آپ لوگوں کے اندر سے تشدد کے عنصر کو ختم کرکے ان کو اس راستے پر لا سکتے ہیں کہ وہ تبدیلی کے لیے راے عامہ کو قائل کرنے کا طریقہ اختیار کریں۔ وہ ان کے ذہنوں پر، ان کے افکار پر اثرانداز ہوں اور اس طرح پر امن ذرائع سے تبدیلی لانے کے امکانات پیدا کریں۔ دیکھیے، تبدیلی لانا ،سوسائٹی کو درست کرنا، یہ انسان کا حق ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ نظم ریاست اس کی امنگوں، اس کی آرزووں کے مطابق ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کا طریقہ کیا ہے؟ اس کا طریقہ یہی ہے کہ ہم اپنی قوم کواس کا یہ حق دیں کہ مملکت کے تمام ادارے اس کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کریں گے۔ پارلیمنٹ کوحقیقی بالادستی حاصل ہواور ایک ایسا جمہوری نظام قائم ہو جس میں مذاکرات ہو سکیں، جس میں مکالمہ ہو سکے، جس میں اختلاف کو برداشت کیا جائے۔ اس کے بعد مذہبی طبقات کو بھی یہ بات سمجھائی جا سکتی ہے کہ وہ اگر کسی چیز کو درست سمجھتے ہیں تو لوگوں کی طرف رجوع کریں اور ان کے دل و دماغ کو بدلنے کی کوشش کریں۔ جب آپ جمہوریت کا راستہ بند کردیتے ہیں تو اس کے بعد تشدد کا دروازہ کھلتا ہے اور پھر لوگ اپنے مقاصد کو حل کرنے کے لیے غلط طریقے اختیار کرتے ہیں۔
دوسری چیز نظام تعلیم ہے۔ نظام تعلیم وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے آپ قوم کی تعمیر کرتے ہیں۔پڑھا لکھا طبقہ ہی اصل میں پوری قوم پر موثر ہوتا ہے۔ پاکستا ن میں بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کوئی ایک نظام تعلیم نہیں ہے۔ تین مختلف نظام ہاے تعلیم ہمارے ہاں رائج ہیں، بلکہ اب تواس سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔ مذہبی تعلیم کا الگ نظام ہے، غیرمذہبی تعلیم کا الگ نظام ہے، اردو تعلیم کا الگ نظام ہے، انگریزی تعلیم کا الگ نظام ہے ۔ یہ مختلف نظام ہاے تعلیم مختلف طبقات کو جنم دیتے ہیں۔تعلیمی نظام کی یہی تفریق ہے جس نے پوری قوم کو جزیروں میں بانٹ دیا ہے ۔
میں سمجھتا ہوں کہ بارہویں جماعت تک تعلیم ہر حال میں یکساں ہو نی چاہیے۔ کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ اس کے مقابلے میں کوئی متوازی تعلیمی نظام قائم کرنے کی کوشش کرے ۔ بچے پوری قوم کی امانت ہیں۔ ان سب کو ایک جیسا نصاب اور ایک جیسا ماحول میسر ہونا چاہیے۔اس کے بعد جب سپیشلائز کرنے کا موقع آئے تو کسی خاص شعبے میں تربیت دینی چاہیے۔ اس موقع پر جو چاہے تقسیم کر لی جائے، مگر تعلیم کی ابتدا ایک جگہ سے اور ایک طریق کار کے مطابق ہونی چاہیے ۔بارہویں جماعت کے بعد بچے شعور کی عمر کو پہنچ کر یہ فیصلہ کریں کہ ان کو عالم بننا ہے ، استاد بننا ہے،انجینئر بننا ہے یا ڈاکٹر بننا ہے۔ اس کے بعد جتنے چاہیں پرائیویٹ تعلیمی ادارے بنیں جو خاص دائروں میں تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں، مگر اس سے پہلے تعلیم کا ایک ہی نظام ہوناچاہیے۔ جب تک آپ ملی طور پر، قومی طور پر ایک نظام تعلیم کا فیصلہ نہیں کر لیتے، اس وقت تک معاشرے میں کشمکش کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔
تیسری چیزمسجد کا ادارہ ہے۔یہ بہت بڑا انسٹیٹیو شن ہے۔ہمارے دین میں جمعے کی نماز خاص طور پر ریاست سے متعلق کی گئی ہے۔ اسلامی قانون کے مطابق جمعے کا منبر مسلمان حکمرانوں کے ساتھ خاص ہے۔ یہ ان کا کام ہے کہ وہ خطبہ دیں اور نماز کا اہتمام کریں۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ ان کا تعلق سوسائٹی کے ساتھ بھی قائم ہو او ر خدا کے ساتھ بھی۔ ہم نے یہ منبر علما کے سپرد کر رکھا ہے ۔ اس کے نتیجے میں فرقہ بندی پیدا ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں مذہبی لوگوں کے قلعے وجود میں آئے ہیں۔ اس سے مسجدوں کی تفریق کی بنیاد پڑی ہے۔ یہی مسجد کا ادارہ ہے اور یہی جمعے کا منبر ہے جواب تشدد کاذریعہ بھی بننا شروع ہوگیا ہے اور ہنگامے اور فساد کا ذریعہ بھی۔وہ جگہ جو عبادت گاہ کے طور پر ہمارے لیے بہت مقدس تھی، اسی کو ہم اب سیاست کا اکھاڑا بنانے پر تل جاتے ہیں۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ اس کو واپس لے کر ریاست کے سپرد کیا جائے۔ ارباب اقتدار کو اس بات کی طرف توجہ دلائی جائے کہ جمعے کا یہ منبر اللہ کے پیغمبر نے تمھارے سپرد کیا تھا۔ جس طرح تم دوسرے کام کرتے ہو، اسی طرح اس منبر کوبھی سنبھالو تاکہ یہ قومی وحدت کا ذریعہ بنے اور اس کے ذریعے سے ریاست اپنی ذمہ داریوں کوادا کرنے کے قابل ہو۔
چوتھی چیز امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا نظام ہے۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ حکومت کے زیر اہتمام ایسے ادارے قائم کیے جائیں جو لوگوں کے اندر سماجی شعور بیدار کریں اور ان کی اخلاقی تربیت کا بندوبست کریں۔ یہ وہ کام ہے جو حکومت کی نگرانی میں علما کو سونپا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں علما کے لیے ایک ایسا چینل بن جاتا ہے جس میں وہ ریاست کے نظام کا حصہ بن کر خدما ت انجام دے سکتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو مذہبی طبقے اور حکمران طبقے میں کشمکش باقی رہے گی۔
ہر حکومت یہ چاہتی ہے کہ سماجی برائیوں کا قلع قمع ہو۔ وہ رشوت، بددیانتی، خیانت، دھوکا دہی، ظلم و عدوان اور دوسری برائیوں کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ اس ضمن میں اصلاح و تربیت کا کام اگر علما کے سپرد کر دیا جائے تو اس کے نتیجے میں علما بھی اپنے دینی فرائض کی طرف متوجہ ہوں گے اور ان کے اور حکمرانوں کے مابین کوئی کشمکش بھی باقی نہیں رہے گی۔ جہاں تک جرائم کے معاملے میں کارروائی کا تعلق ہے تو یہ کام تو ہر حال میں پولیس اور عدلیہ کے سپرد ہونا چاہیے، لیکن اس سے پہلے اور بعد میں اصلاح و تربیت کے مختلف کاموں پر علما کو مامور کرنا چاہیے۔
پانچویں چیز انصاف ہے۔ اگر کسی ملک میں انصاف موجود نہیں ہے تو وہاں نہ افراد کے مابین اعتماد قائم ہو سکتا ہے، نہ اداروں کے مابین اور نہ حکومت اور عوام کے مابین۔ ہمارے عدالتی نظام کی پستی ہر شخص پر واضح ہے ۔ اول تو یہاں انصاف میسر ہی نہیں ہوتا اور اگر کسی کو ہو جاتا ہے تو اس کے لیے عمریں درکار ہوتی ہیں۔اس نظام کے ساتھ لوگوں کی جتنی شکایتیں وابستہ ہوچکی ہیں،اس کے بعد اگر اس کی اصلاح نہیں کی جاتی تو لوگوں کے اضطراب میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ کسی ملک میں اگرانصاف کا صحیح نظام قائم ہو جائے تو اس کے بعد جھگڑے ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
یہ وہ پانچ چیزیں ہیں جنھیں میرے نزدیک سول سوسائٹی کا موضوع بننا چاہیے۔ اہل دانش کو ان پر اتفاق راے قائم کرنا چاہیے اور ہر طبقے کو اس کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ اگر ہم ان چیزوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ملکی و قومی کشمکش کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

 




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List