Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
قانون معیشت | اشراق
Font size +/-

قانون معیشت

اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ میں نے اِس دین کو جس طرح سمجھا ہے، اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں بیان کر دیا ہے۔ یہ اِسی کتاب کا خلاصہ ہے جس میں کتاب کا نفس مضمون اُس کے علمی مباحث اور اُن کے استدلالات سے الگ کر کے سادہ طریقے پر پیش کر دیا گیا ہے۔جاوید
تزکیۂ معیشت کا جو قانون اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر کی وساطت سے انسانیت کو دیا ہے، اُس کی بنا اِس اصول پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا آزمایش کے لیے بنائی ہے ۔ اِس وجہ سے اِس کا نظام اُس نے اِس طرح قائم کیا ہے کہ یہاں سب لوگ ایک دوسرے کے محتاج اور محتاج الیہ کی حیثیت سے پیدا ہوئے ہیں ۔ اِس دنیا میں اعلیٰ سے اعلیٰ شخصیتیں بھی اپنی ضرورتوں کے لیے دوسروں کی طرف رجوع کی محتاج ہیں اور ادنیٰ سے ادنیٰ انسانوں کی طرف بھی اِن ضرورتوں کے لیے رجوع کیا جاتا ہے ۔ یہاں ہرشخص کا ایک کردار ہے اور کوئی بھی دوسروں سے بے نیاز ہو کر زندہ نہیں رہ سکتا ۔عالم کے پروردگار نے یہاں ہر شخص کی ذہانت ،صلاحیت ،ذوق و رجحان اور ذرائع و وسائل میں بڑا تفاوت رکھا ہے ۔ چنانچہ اِس تفاوت کے نتیجے میں جو معاشرہ وجود میں آتا ہے ، اُس میں اگر ایک طرف وہ عالم اورحکیم پیدا ہوتے ہیں جن کی دانش سے دنیا روشنی حاصل کرتی ہے؛ وہ مصنف پیدا ہوتے ہیں جن کا قلم لفظ و معنی کے رشتوں کو حیات ابدی عطا کرتا ہے ؛وہ محقق پیدا ہوتے ہیں جن کے نوادر تحقیق پر زمانہ داد دیتا ہے ؛وہ لیڈر پیدا ہوتے ہیں جن کی تدبیر و سیاست سے حیات اجتماعی کے عقدے کھلتے ہیں؛ وہ مصلح پیدا ہوتے ہیں جن کی سعی و جہد سے انسانیت خود اپنا شعور حاصل کرتی ہے اور وہ حکمران پیدا ہوتے ہیں جن کا عزم و استقلال تاریخ کا رخ بدل دیتا ہے تو دوسری طرف وہ مزدور اور دہقان اور وہ خادم اور قلی اور خاک روب بھی پیدا ہوتے ہیں جن کی محنت سے کلیں معجزے دکھاتی ،مٹی سونا اگلتی، چولھے لذت کام و دہن کا سامان پیدا کرتے،گھر چاندی کی طرح چمکتے ،راستے پاؤں لینے کے لیے بے تاب نظر آتے،عمارتیں آسمان کی خبر لاتی اور غلاظتیں صبح دم اپنا بستر سمیٹ لیتی ہیں۔
اِس فرق مراتب کے ساتھ دنیا کو پیدا کر کے عالم کا پروردگار یہ دیکھ رہا ہے کہ یہ اعلیٰ و ادنیٰ،باہمی احترام اور باہم دگر تعاون سے صالح معاشرت اور صالح تمدن وجود میں لاتے ہیں یا ایک دوسرے کے خلاف اپنی شرارتوں اور حماقتوں سے اِس عالم کو سراسر فساد بنا دینے کی سعی میں مصروف ہو جاتے ہیں ، اور اِس طرح دنیا میں بھی رسوا ہوتے اور آخرت میں بھی اُس کے عذاب کے مستحق ٹھیرتے ہیں ۔
انسان کی یہی آزمایش ہے جس میں پورا اترنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے اُس کی رہنمائی فرمائی اور معاشی عمل میں اُس کے تزکیہ و تطہیر کے لیے اُسے اپنا ایک قانون دیا ہے۔
یہ قانون درج ذیل ہے:
۱۔ مسلمان زکوٰۃ ادا کردیں تو اُن کا وہ مال جس کے وہ جائز طریقوں سے مالک ہوئے ہیں، اللہ و رسول کی طرف سے مقرر کسی حق کے بغیر اُن سے چھینا نہیں جا سکتا، یہاں تک کہ اُن کی ریاست اِس زکوٰۃ کے علاوہ اپنے مسلمان شہریوں پر اُن کی رضا مندی کے بغیر کسی نوعیت کا کوئی ٹیکس بھی عائد نہیں کر سکتی۔
۲۔ وہ تمام اموال اور املاک جو کسی فرد کی ملکیت نہیں ہیں یا نہیں ہو سکتے، اُنھیں ریاست ہی کی ملکیت میں رہنا چاہیے تاکہ قوم کی یہ دولت دولت مندوں ہی میں گردش نہ کرے اور اِس کا فائدہ وہ لوگ بھی اٹھائیں جو اپنی ضرورتوں کے لیے دوسروں کی مددکے محتاج ہیں۔ اِسی طرح نظم اجتماعی سے متعلق بعض دوسری ذمہ داریاں بھی اِس سے پوری کی جاسکیں۔
۳۔ دوسروں کا مال باطل طریقوں سے کھانا ممنوع ہے۔ سود اور جوا اِس سلسلے کے بدترین جرائم ہیں۔ اِن کے علاوہ دوسرے تمام معاشی معاملات کے جواز اور عدم جواز کا فیصلہ بھی اِسی اصول کی روشنی میں کرنا چاہیے۔
۴۔ لین دین، قرض، وصیت اور اِس طرح کے دوسرے مالی امور میں تحریرو شہادت کا اہتمام ضروری ہے۔ اِس سے بے پروائی بعض اوقات بڑے اخلاقی فساد کا باعث بن جاتی ہے۔
اِس کے احکام یہ ہیں:
قرض کا لین دین ایک خاص مدت کے لیے ہو تو ضروری ہے کہ اُس کی دستاویز لکھ لی جائے۔
یہ دستاویز دونوں پارٹیوں کی موجودگی میں کوئی لکھنے والا انصاف کے ساتھ لکھے۔
دستاویز لکھوانے کی ذمہ داری قرض لینے والے پر ہوگی۔ وہ دستاویز میں اعتراف کرے گا کہ میں فلاں بن فلاں کا اتنے کا قرض دار ہوں۔
اگر یہ شخص کم عقل ہو یا ضعیف ہو یا دستاویز وغیرہ لکھنے لکھانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو اُس کے ولی یا وکیل کو سچائی اور انصاف کے ساتھ یہ دستاویز لکھانی چاہیے۔
اِس پر دو مسلمان مردوں کی گواہی ثبت کی جائے جو میل جول اور تعلق کے لوگوں میں سے اور پسندیدہ اخلاق و عمل کے، ثقہ، معتبر اور ایمان دار ہوں۔
اگر مذکورہ صفات کے دو مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دوعورتوں کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ دو عورتوں کی شرط اِس لیے ہے کہ گھر میں رہنے والی یہ بی بی اگر عدالت کے ماحول میں گھبراہٹ میں مبتلا ہو تو گواہی کو ابہام و اضطراب سے بچانے کے لیے ایک دوسری بی بی اُس کے لیے سہارا بن جائے۔
جو لوگ کسی دستاویز کے گواہوں میں شامل ہو چکے ہوں، گواہی کے موقع پر اُنھیں گواہی سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
دست گرداں لین دین کے لیے تحریرو کتابت کی پابندی نہیں ہے۔ ہاں، اگر کوئی اہمیت رکھنے والی خرید و فروخت ہوئی ہے تو اُس پر گواہ بنا لینا چاہیے تاکہ کوئی نزاع پیدا ہو تو اُس کا تصفیہ ہو سکے۔
نزاع پیدا ہو جانے کی صورت میں کاتب یا گواہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کسی فریق کے لیے جائز نہیں ہے۔
آدمی سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا نہ ملے تو قرض کا معاملہ رہن قبضہ کرانے کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے۔ رہن کی اجازت اُسی وقت تک ہے، جب تک قرض دینے والے کے لیے اطمینان کی صورت پیدا نہیں ہو جاتی۔ یہ صورت پیدا ہو جائے تو قرض پر گواہی کرا کے رہن رکھی ہوئی چیز لازماً واپس کر دینی چاہیے۔
کسی شخص کی موت آجائے اور اپنے مال سے متعلق اُس کو کوئی وصیت کرنی ہو تو اپنے مسلمان بھائیوں میں سے دو ثقہ آدمیوں کو اُسے بھی اپنی اِس وصیت پر گواہ بنا لینا چاہیے۔
موت کا یہ مرحلہ اگر کسی شخص کو سفر میں پیش آئے اور گواہ بنانے کے لیے وہاں دو مسلمان میسر نہ ہوں تو مجبوری کی حالت میں وہ دو غیر مسلموں کو بھی گواہ بنا سکتا ہے۔
مسلمانوں میں سے جن دو آدمیوں کو گواہی کے لیے منتخب کیا جائے، اُن کے بارے میں اگر یہ اندیشہ ہو کہ کسی شخص کی جانب داری میں وہ اپنی گواہی میں کوئی ردوبدل کر دیں گے تو اِس کے سدباب کی غرض سے یہ تدبیر کی جا سکتی ہے کہ کسی نماز کے بعد اُنھیں مسجد میں روک لیا جائے اور اُن سے اللہ کے نام پر قسم لی جائے کہ اپنے کسی دنیوی فائدے کے لیے یا کسی کی جانب داری میں، خواہ وہ اُن کا کوئی قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو، وہ اپنی گواہی میں کوئی تبدیلی نہ کریں گے اور اگر کریں گے تو گناہ گار ٹھیریں گے۔
گواہوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ گواہی خدا کی گواہی ہے، لہٰذا اِس میں کوئی ادنیٰ خیانت بھی اگر اُن سے صادر ہوئی تو وہ نہ صرف بندوں کے، بلکہ خدا کے بھی خائن قرار پائیں گے۔
اِس کے باوجود اگر یہ بات علم میں آجائے کہ گواہوں نے وصیت کرنے والے کی وصیت کے خلاف کسی کے ساتھ جانب داری برتی ہے یا کسی کی حق تلفی کی ہے تو جن کی حق تلفی ہوئی ہے، اُن میں سے دو آدمی اٹھ کر قسم کھائیں گے کہ ہم اِن اولیٰ بالشہادت گواہوں سے زیادہ سچے ہیں۔ ہم نے اِس معاملے میں حق سے کوئی تجاوز نہیں کیا اور ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے ایسا کیا ہو تو خدا کے حضور میں ظالم قرار پائیں۔
گواہوں پر اِس مزید احتساب کا فائدہ یہ ہے کہ اِس کے خیال سے، توقع ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں گے۔ ورنہ اُنھیں ڈر ہو گا کہ اُنھوں نے اگر کسی بدعنوانی کا ارتکاب کیا تو اُن کی قسمیں دوسروں کی قسموں سے باطل قرار پائیں گی اور اولیٰ بالشہادت ہونے کے باوجود اُن کی گواہی رد ہو جائے گی۔
۵۔ ہر مسلمان کی دولت اُس کے مرنے کے بعددرج ذیل طریقے سے اُس کے وارثوں میں لازماً تقسیم کر دینی چاہیے:
مرنے والے کے ذمہ قرض ہوتو سب سے پہلے اُس کے ترکے میں سے وہ ادا کیا جائے گا۔ پھر کوئی وصیت اگر اُس نے کی ہو تو وہ پوری کی جائے گی۔ اِس کے بعد وراثت تقسیم ہو گی۔
وارث کے حق میں وصیت نہیں ہو سکتی، الاّ یہ کہ اُس کے حالات یا اُس کی کوئی خدمت یا ضرورت کسی خاص صورت حال میں اِس کا تقاضا کرے۔ اِسی طرح کوئی ایسا شخص کسی مرنے والے کا وارث نہیں ہو سکتا جس نے اُس کے ساتھ قرابت کی بنیاد ہی اپنے قول و فعل سے باقی نہ رہنے دی ہو۔
والدین اور بیوی یا شوہر کا حصہ دینے کے بعد ترکے کی وارث میت کی اولاد ہے۔ مرنے والے نے کوئی لڑکا نہ چھوڑا ہو اور اُس کی اولادمیں دو یادو سے زائد لڑکیاں ہی ہوں تو اُنھیں بچے ہوئے ترکے کا دو تہائی دیا جائے گا۔ ایک ہی لڑکی ہو تو وہ اُس کے نصف کی حق دار ہو گی۔ میت کی اولاد میں صرف لڑکے ہی ہوں تو یہ سارا مال اُن میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ اولادمیں لڑکے لڑکیاں، دونوں ہوں تو ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہو گا اور اِس صورت میں بھی سارا مال اُنھی میں تقسیم کیا جائے گا۔
اولاد کی غیر موجودگی میں میت کے بھائی بہن اولاد کے قائم مقام ہیں۔ والدین اور بیوی یا شوہر موجود ہوں تو اُن کا حصہ دینے کے بعد میت کے وارث یہی ہوں گے۔ ذکورواناث کے لیے اُن کے حصے اور اُن میں تقسیم وراثت کا طریقہ وہی ہے جو اولاد کے لیے اوپر بیان ہوا ہے۔
میت کے اولاد ہو یا اولاد نہ ہو اور بھائی بہن ہوں تو والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ دیا جائے گا۔ بھائی بہن بھی نہ ہوں اور تنہا والدین ہی میت کے وارث ہوں تو ترکے کا ایک تہائی ماں اور دو تہائی باپ کا حق ہے۔
مرنے والا مرد ہو اور اُس کی اولاد ہو تو اُس کی بیوی کو ترکے کا آٹھواں حصہ ملے گا۔ اُس کے اولاد نہ ہو تو وہ ایک چوتھائی ترکے کی حق دار ہو گی۔ میت عورت ہو اور اُس کی اولاد نہ ہو تو نصف ترکہ اُس کے شوہر کا ہے، اور اگر اُس کے اولاد ہو تو شوہر کوچوتھائی ترکہ ملے گا۔
اِن وارثوں کی عدم موجودگی میں مرنے والا اگر چاہے تو کسی کو ترکے کا وارث بنا سکتا ہے۔ جس شخص کو وارث بنایا گیا ہو، وہ اگر رشتہ دار ہو اور اُس کا ایک بھائی یا بہن ہو تو چھٹا حصہ اور ایک سے زیادہ بھائی بہن ہوں تو ایک تہائی اُنھیں دینے کے بعد باقی۶/۵یا دو تہائی اُسے ملے گا۔
یہ تقسیم جس بنیاد پر قائم ہے، وہ قرابت نافعہ ہے اور حصوں میں فرق کی وجہ بھی اُن کے پانے والوں کی طرف سے مرنے والے کے لیے اُن کی منفعت کا کم یا زیادہ ہونا ہی ہے۔ لڑکیوں کی منفعت چونکہ شادی کے بعد اُن کے شوہر کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح بیوی شوہر کو رفاقت مہیا کرتی ہے، لیکن شوہر رفاقت کے ساتھ اُس کے نان و نفقہ کی ذمہ داری بھی اٹھاتا ہے۔ اِس لیے لڑکوں کا حصہ لڑکیوں سے اور شوہر کا حصہ بیوی سے دوگنا رکھا گیا ہے۔




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List