Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Khurshid Nadeem Profile

Khurshid Nadeem

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
مذہب اور معاشرہ | اشراق
Font size +/-

مذہب اور معاشرہ

بعض لو گوں کا خیال ہے کہ انفرادی اور اجتماعی اخلاقیات کی تعمیر میں مذہب آج ہمیں وہ کردار ادا کرتا دکھائی نہیں دیتا جس کی عام طور پر توقع کی جا تی ہے۔مسجدیں آباد ہیں لیکن دل ویران ہیں۔حج و عمرہ کر نے والوں کی کمی نہیں لیکن ساتھ ہی بر و بحر میں ایک فساد برپاہے۔ ہماری نظروں کے سامنے برا ئی روز افزوں ہے لیکن ہم زبان سے اسے روکتے ہیں نہ ہاتھ سے۔کیا دینی حمیت ہما رے گھر سے رخصت ہو چکی؟
اخلاقیات کے باب میں مذہب سے وابستہ یہ توقع ناقابل فہم نہیں۔آج اگرچہ’’ انسان دوستی” (Humanism) جیسے اخلاق کے بعض غیر مذہبی تصوّرات پیش کیے جاتے ہیں، لیکن فلسفہ اخلاق کے ماہرین جانتے ہیں کہ انسانی فطرت میں موجود اخلاقی احساس کو اگر سب سے پہلے کسی خارجی فلسفے نے اپنا موضوع بنایا ہے تو وہ مذہب ہے ۔ مذہب ہی نے انسان کو اس جانب متوجہ کیا ہے کہ اس کا ایک اخلاقی وجود ہے جس کی تعمیر کیے بغیر حیات انسانی آلایشوں سے پاک ہو سکتی اورنہ وہ معاشرت جنم لے سکتی ہے جو ایک مطمئن اور پر سکون زندگی کی ضامن بن سکتی ہو۔ غیر مذہبی معاشروں کے لیے بھی یہ تصوّر کتنا اہم ہے، اس پر دلائل دیے جا سکتے ہیں، لیکن مذہبی معاشروں میں ، اس حوالے سے کوئی کلام نہیں کہ اخلاق کی ہر تعلیم مذہبی احساس سے پھوٹتی ہے اور مذہب سے گہری وابستگی ہی ایک اخلاقی نظام کو جنم دے سکتی ہے ۔ اس پہلو سے مذہب کی فعالیت اور عدم فعالیت ، اگر ہمارے ہاں زیرِ بحث آتی ہے تو یقینًا اس کا ایک جواز ہے۔ہمارا معاشرہ اپنی بنت میں بہر حال مذہبی ہے۔
مذہب کے غیرمو ثر اخلاقی کردار پر لوگ مختلف آرا رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک رائے ہے کہ یہ ہماری مذہبی حساسیت میں کمی کا نتیجہ ہے ۔ آج مسلمانوں کی غیرت ایمانی کہیں کھو گئی ہے کہ ہمیں چاروں طرف غیر اخلاقی مناظر دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ تجزیہ جزواً درست ہو سکتا ہے ،تاہم معاشرتی تناظر میں مذہب اور سماج کے باہمی تعلق کو وسیع تر مفہوم میں سمجھے بغیر شاید ہم یہ نہ جان سکیں کہ اخلاقی تعمیر میں مذہب مو ثر کیوں نہیں ہے۔
اس باب میں سب سے اہم بات معاشرے کا فہمِ مذہب ہے۔ مذہب ہمارے ہاں بالعموم تین عنوانات کے تحت زیرِ بحث رہتا ہے : بطور سیاسی تحریک ،بطورنظامِ رسوم و فضائل یا پھر بطور مسلک۔ ان تینوں کو الگ الگ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
بیسویں صدی میں ہمارے بعض محترم اہل علم نے اسلام کو ایک نظامِ ریاست کے طور پر پیش کیا اور اس پر اصرار کیا کہ اسلا م کا سیاسی غلبہ، دین کا سب سے اہم مطالبہ ہے، لہٰذا ہماری انفرادی و اجتماعی سعی و جہد کا مرکز یہی مطالبہ ہونا چاہیے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دین کے بعض دوسرے مطالبات بھی ہیں ،لیکن دین کے ساتھ وابستگی کااصل ، مرکزی اور حقیقی تقاضا یہی ہے۔ چنانچہ مذہب کے اس مطالبے کو نمایاں کرنے کے لیے لٹریچر تیار کیا گیا ، تحریکیں برپا کی گئیں اور ایسی جماعتیں قائم ہوئیں جس میں ہزاروں افراد نے اسے وظیفہِ حیات کے طور پر اختیار کر لیا۔ یہ مہم اگرچہ مطلوبہ ہدف کے حصول میں ناکام رہی لیکن اس پہلو سے یہ سعی رائیگاں نہیں تھی کہ معاشرے میں لاکھوں لوگوں نے نظری طور پر اس تعبیرِ دین کو درست سمجھا اور کم از کم ذہنی طور پر مان لیا کہ اسلا م دراصل ایک سیاسی نظام ہے۔ جب تک ریاست ’’مسلمان‘‘ نہیں ہو جاتی، اسلام کے فیوض و برکات سے پوری طرح استفادہ ممکن نہیں، جس میں اس کے اخلاقی ثمرات بھی شامل ہیں۔ آج لاکھوں لوگ اس پیغام کو اپنائے ہوئے ہیں اور مذہب کے فعال سیاسی کردار کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ چنانچہ آج انھیں اسلامی انقلاب ، نفاذِ اسلام یا گو امریکہ گو کے عنوان سے مخاطب بنایا جائے تو ہزاروں افراد گھر سے نکل آتے اور اس طرح کے کسی مقصد کے لیے جان دینے کو اپنے لیے سعادت اور اُخروی نجات کا وسیلہ سمجھتے ہیں۔ اس نقطۂ نظر کے حاملین کو اگر کبھی دین کے دوسرے مطالبات کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ ان کا انکار نہیں کرتے، لیکن اصرار ہوتا ہے کہ ان کی تکمیل بھی اسلام کے سیاسی غلبے پر منحصر ہے۔ جب تک ملک کا اقتدار صالحین کے ہاتھ میں نہیں آجاتا، یہ سب باتیں بے معنی ہیں ۔ مثال کے طور پر اگر نماز کی اہمیت کو ایک مقصود بالذات دینی مطالبے کی حیثیت سے نمایاں کیا جائے تو ان کا کہنا یہ ہوتا ہے یہ عبادات بھی دراصل اس غلبہ دین کی جدوجہد کے لیے تربیتی پروگرا م کا حصہ ہیں۔ اس لیے ایسی نمازوں کاکیا فائدہ جن کے نتیجہ میں آپ ’’اصل مقصد ‘‘ کے لیے آمادۂ جدوجہد نہ ہو سکیں۔
اس اندازِ فکر کی ایک فرع وہ تصورِ مذہب ہے جسے ہم ایک طرح کی ’’ ذہنی عیاشی‘‘ (intellectual pleasure ( سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ جس طرح بیسویں صدی کی معاصر نظریاتی فضا میں ’’ سیاسی اسلام‘‘ کی تشکیل ہوئی ، اسی طرح جب سیکولرزم کی بنیاد پر قائم قومی ریاست(nation state (کے تصور کو قبولیتِ عام حاصل ہوئی تو ریاستی سطح پر قانون سازی اور معاشرتی سطح پر عوامی اخلاق کی تعمیرجیسے مسائل میں مذہب کا کردار زیر بحث آیا۔ اس پس منظر میں مسلمان معاشروں کی نفسیاتی ساخت اور معاصر چیلنجوں کو سامنے رکھتے ہوئے بعض اہل علم نے مذہب کے ایسے غیر سیاسی و سماجی کردارکو متعین کرنا چاہا جس سے مسلمانوں کی نفسیاتی تسکین توہوتی رہے کہ وہ مذہب کو خیرباد نہیں کہہ رہے، لیکن ساتھ ہی مذہب خارجی عوامل کے زیر اثر قائم ہونے والے معاشرتی ڈھانچے کو بھی متأثر نہ کرے۔ مقاصدِ شریعت یا مذہب کوتاریخی تناظر(historical context) کے عنوان سے سمجھنے کی کو ششوں کو بھی اسی حوالے سے دیکھنا چاہیے۔اس میں کو ئی شبہ نہیں کہ فہمِ دین وشریعت میں ان دونوں کی بنیادی اہمیت ہے جس سے کسی نے انکار نہیں کیا لیکن، انھیں فہمِ دین کا ایک پہلو قرار دینے اور واحد اساس سمجھنے میں جو جو ہری فرق ہے ،اسے اہلِ علم کی نظروں سے پو شیدہ نہیں رہنا چا ہیے۔
ہمارے ہاں معاشرتی سطح پر مذہب کی ایک تعبیر وہ ہے جس میں رسوم و رواج یا بعض ظاہری اعمال کو مرکزیت حاصل ہے۔اس تعبیر میں مذہب فضائل کا ایک مجموعہ ہے۔ ہر اسلامی مہینے کے آغاز پر لوگ بکثرت ایسے ایس ایم ایس بھیجتے ہیں جن میں رسالت مآبﷺ سے ایسی روایات منسوب کی ہوتی ہیں جن کے مطابق ’’ جس نے فلاں مہینے کے چاند کو دیکھ کر یہ دعا پڑھی، اس کے تمام گناہ بخش دیے گئے اور اس پر جنت واجب ہو گئی‘‘ ۔مختلف مذہبی گروہ سال کے بعض ایام کو غیر معمولی مذہبی توقیر دیتے ہیں اور پھر گنتی کے ان دنوں میں ایک خاص طرح کا رویہ اپنانے کے بعد بالفعل سارا سال مذہب کی عائد پابندیوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ ٹیلی وژن چینلزاس تصورِ دین کوپھیلانے میں اہم کردار کررہے ہیں۔ ان پروگراموں میں مسائل کے آسان دینی حل بتاتے ہیں جو وظائف و اذکار پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ مولاناوحید الدین خان اس تصور مذہب کو مذہبی تفریح(religious entertainment) سے تعبیر کرتے ہیں۔
تبلیغِ دین کے نام پر جاری سرگرمیاں بھی اس تصورِ مذہب کی فرع ہیں۔ ایک تو یہ سرگرمیاں مذہبی گرہ بندی کے عنوان سے منظم ہیں یا پھر ان کی بنیاد ایسے نصاب پر ہے جو فضائل کا مجموعہ ہے۔ موجودہ خانقاہی نظام اور یہ تبلیغی جماعتیں مل کر ایک خاص طرز کی مذہبی ذہنیت کو فروٖغ د ے رہی ہیں ۔ معاشرہ یا ریاست ان کے دائرہ عمل سے باہر ہیں۔ ان کے نزدیک ریاست یا سماج کی اصلاح فرد کی مخصوص مذہبی تشکیل کا ناگزیر نتیجہ ہے ۔ جب پہلا مرحلہ طے ہو جائے گا تو پھر اصلاحِ ریاست یا اصلاحِ معاشرہ کے لیے کسی جدوجہد کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
دین کے عنوان سے جاری ایک جدو جہد وہ ہے جس کا حاصل مسلکی گروہ بندی اور فرقہ واریت ہے۔ایک خاص مسلک کے فروغ کے لیے لو گوں نے دینی تعلیم کے ادارے قائم کر رکھے ہیں ،جن سے ہر سال ہزاروں مسلکی مبلغ تیار ہو کر نکلتے ہیں جو زیادہ تر کسی مسجد کے پیش امام اور خطیب بن جا تے ہیں اور اس طرح وہ مسجد اس مسلک کی تبلیغ کا ایک ادارہ بن جا تی ہے جس سے خطیب کی وا بستگی ہو تی ہے۔
دین کے نام پر تمام تگ و دو انھی تصوراتِ دین کے تحت جاری ہے اور اس کے نتائج نکل رہے ہیں ۔ ہم نے جو کچھ بویا، وہ کاٹ رہے ہیں۔ ہم نے مذہب کے نام پر جن تصورات کی آبیاری کی ، ان پر برگ و بار آ چکے۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ آج نفاذِ اسلام کے سیاسی نعرے پر ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آتے اور اس کے لیے جان دینے سے گریز نہیں کرتے۔ کیا ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ مقامی اور عالمی ’’طاغوتوں‘‘ کے خلاف تحریکیں منظم ہیں اور لوگ اس کے لیے خود کشی جیسے حرام فعل کوبھی جائز سمجھتے ہیں؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ تبلیغی جماعتوں کے اجتماعات میں لاکھوں لوگ شریک ہوتے اور وقتًا فوقتًا اس وابستگی کی تجدید کرتے ہیں؟ کیا یہ ہمارا مشاہدہ نہیں کہ ایسے ٹیلی ویژن پروگرامز کے ناظرین ان گنت ہیں اور یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے؟ کیا مسلکی گروہ بندی عروج پر نہیں ؟سماج، اقدار،روایات، تہذیب، یہ سب کبھی ہماری تگ و دو کا مرکز نہیں رہے۔ ہم نے ریاست کو ہدف بنایا ۔ ہم نے ایک خاص مذہبی تصور کے تحت اصلاحِ فرد کی کوشش کی ۔ہم نے اپنے اپنے مسلک کی تبلیغ کی۔ یہ کو ششیں بے نتیجہ نہیں رہیں۔ہم مذہب کے حوالے سے آج جس رویے کی توقع کررہے ہیں وہ ہم نے پیدا کب کیا تھا ۔آج اگر فروغ پزیر معاشرتی اقدار ہمارے تصورات سے ہم آہنگ نہیں ہیں تو اس پر تعجب کیسا؟
ہم اگر معاشرتی سطح پرتبدیلی کے خواہش مند ہیں تو ضروری ہے کہ ہم مذہب، معاشرہ اور فرد کو ایک نئے زاویہ نظر سے دیکھیں اور نئے اہداف کے تعین کے ساتھ حکمتِ عملی تشکیل دیں ۔ اس کے لیے چند امور بطورِ مقدمہ پیشِ نظر رہنے چاہییں۔
۱۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فرد معاشرے کی بنیادی اکائی ہے لیکن اس کا کردار دو طرفہ ہے۔ ایک کردار وہ ہے جس کا تعلق اس کے انفرادی وجود سے ہے ۔ دوسرا کردار وہ ہے جس کا تعلق اجتماعی وجود سے ہے، یعنی وہ دوسروں کے ساتھ کیسے متعلق ہوتا ہے۔ فرد کو جب ہم اپنامخاطب بناتے ہیں تو اس کے اجتماعی کردار کو نظر انداز کرتے ہیں۔ یہ کردار ان اقدار کے تابع ہوتا ہے جو ایک معاشرے میں پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔
۲۔یہ اہلِ علم و دانش کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ سماجی سطح پر ان اقدار کی آبیاری کریں ، جو معاشرے کے تہذیبی تشخص سے ہم آہنگ ہیں۔
۳۔یہ ہدف ایک شعوری تبدیلی ہی سے حاصل کیا جا سکتا ہے جس کے لیے تعلیم و تربیت واحد راستہ ہے۔ اہل علم کا کام یہ ہے کہ وہ ان اقدار کے حق میں فضا ہموار کریں، دلائل فراہم کریں اور ابلاغ کے ممکنہ ذرائع کو استعمال میں لا کر لوگوں کوبتا ئیں کہ ان کے لیے کیا درست ہے اور کیا غلط ہے۔مغربی معاشرہ آج اپنی تہذیبی شناخت کے حوالے سے کسی ابہام کا شکار نہیں ۔ ان کے ہاں اس باب میں تو اختلاف ہو سکتا ہے کہ اس تہذیبی شناخت اور امتیاز کو کیسے باقی رکھا جائے ،لیکن اس معاملے میں عمومی سطح پر دو آرا نہیں ہیں کہ وہ جو نظام بھی اپنائیں گے ،وہ ہر صورت میں فرد کی آزادی، مذہب اور ریاست میں علیحدگی، جمہوریت، آزاد منڈی کی معیشت، غیر اقداری علم(value free knowledge) جیسی اقدار پر مبنی ہو گا۔ مغرب میں اہل علم نے برسوں کی محنت سے ان اقدار کے بارے میں ایک اتفاقِ رائے پیدا کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ریاستی و سماجی ادارے وجود میں آئے جنھیں آج ہم بچشمِ سر دیکھ رہے ہیں۔ آج کا مغربی معاشرہ نشأۃِ ثانیہ (Renaissance) اورتحریکِ اصلاحِ مذہب جیسی کو ششوں کا ایک ناگزیر نتیجہ ہے۔
اس سے پہلے تاریخ میں ہو نے والی پیغمبرانہ جدوجہد پرنظر ڈالیے تواللہ کے پیغمبر بھی سب سے پہلے ذہن سازی کرتے ہیں ۔ رسالت مآبﷺ نے توحید، الہامی ہدایت یعنی رسالت، آخرت اور بعض دوسری اخلاقی اقدار کو مضبوط کیا۔جس کے بعد انہیں ان قدار پر مبنی ایک نظام تشکیل دینے میں مشکل پیش نہیں آئی۔ مواخات کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ درپیش مسئلے کا یہ معاشرتی حل ممکن نہیں تھااگر اس سے پہلے صحا بہ کے ذہنی تصورات کی تشکیل نہ ہو چکی ہوتی۔ مواخات کے تحت رسالت مآبﷺ نے حضرت سعد بن ربیع انصاری کو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کا بھائی بنایا۔ حضرت سعد نے انھیں پیش کش کی کہ وہ اپنی دولت کو دو حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں، جن میں سے ایک حصہ ان کا ہوگا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی دو بیویاں ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو ایک کو طلاق دے سکتے ہیں تا کہ عدت کے بعد وہ اپنا گھرآباد کر سکیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عو ف نے اس پیش کش کو قبول نہیں کیا ۔ ان کا شکریہ ادا کیا اور یہ کہا: اﷲ آپ کا مال اور بیویاں ، آپ کے لیے باعث برکت بنائے، مجھ آپ صرف بازار کا راستہ دکھا دیں ۔ جب وہ بازار سے لوٹے تو ان کے ہاتھ میں مکھن اور پنیر تھا، جسے انھوں نے بطورِ منافع کمایا۔ انھوں نے اپنا گھر بھی آباد کر لیا ۔ پھر وہ وقت آیا کہ ان کا شمار مدینہ کے رؤسا میں ہوتا تھا۔ حضرت سعد اور حضرت عبدالرحمٰن کے رویے ایثار، حمیت، محنت اور خودداری کی ان اقدار سے عبارت ہیں جو رسالت مآب ﷺ نے اپنے صحابہ میں پیدا کردی تھیں۔آج بھی ہم اگر افراد میں ایک خاص تہذیب کی جھلک دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے ان قدار کے لیے شعوری قبولیت پیدا کرنی ہوگی جن پر اس تہذیب کی اساس رکھی گئی ہے۔
۴۔اس شعوری تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ معاشرتی سطح پر داعی اور مدعو کا تعلق پیدا ہو۔ اسلام میں دعوت معاشرے سے کٹ کر کسی تنظیم سازی کا نام نہیں بلکہ اس کی نوعیت ایک معاشرتی قدر کی ہے جس میں ایک فرد ہمہ وقت داعی ہے اور مدعو بھی۔ جب ہم دعوت کے عنوان سے تنظیمیں بناتے ہیں تو اس کا ناگزیر نتیجہ قوم کو داعی اور مدعو میں تقسیم کرنا ہے۔ گویا بعض لوگ ہیں جو داعی کے منصب پر فائز ہیں اور بعض مدعو ہیں ۔ یہ تقسیم اسلام کے تصورِ دعوت کے خلاف ہے۔تواصی بالحق ہمارے لیے ایک معاشرتی قدر ہے۔ دعوت ایک تذکیر ہے۔ ہم ایک دوسرے کواس امر کی یاددہانی کراتے ہیں کہ ہمیں اﷲ کے حضورمیں پیش ہونا اور اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہوناہے۔ اس سے لوگوں میں تقویٰ یا صالحیت کا وہ زعم پیدا نہیں ہوتا جس کے بعد داعی دوسروں کو خود سے مختلف اور ایک گناہ گار مخلوق خیال کرتا ہے۔
اس سے اہلِ علم و دانش، قرآنِ مجید کی اصطلاح میں تفقہ فی الدین رکھنے والے افراد کے خصوصی کردار کی نفی نہیں ہوتی۔ مسلمان معاشرے میں اہلِ اقتدار اور اہلِ علم کی بعض اضافی ذمہ داریاں ہیں جن کی ادائیگی کے لیے وہ مکلف ہیں۔ جیسے اربابِ حکومت کا کام یہ ہے کہ وہ بعض خاص اقدار کے فروغ کے لیے ریاستی وسائل اور قوت کو بروئے کار لائیں یا اہلِ علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ عمومی سطح پرمعاشرے کے تمام طبقات کو انذار کریں۔ جہاں تک عام آدمی کا تعلق ہے تو اس کی دعوت وہی ہے جس کے تحت وہ بیک وقت داعی بھی ہے اور مدعو بھی۔
۵۔دعوت کے بارے میں قرآنِ مجید نے واضح کیا ہے کہ یہ فتویٰ بازی کا نام نہیں ۔ یہ مدعو کی خیر خواہی ہے جو تحمل اور خوش اخلاقی کو لازم کرتی ہے۔ جب ہم دوسرے مسلمانوں کو اباحیت پسند ، اسلام دشمن جیسے القابات سے نوازتے ہیں تو اس کے بعد داعی اور مدعو کا تعلق قائم کرناکسی طرح ممکن نہیں ہوتا۔ سیّدنا یونسؑ کے واقعہ سے قرآنِ مجید نے اسے دو اور دو چار کی طرح واضح کر دیا ہے کہ اس نوعیت کی فتویٰ بازی اور لقب سازی (lebelling) اسلامی رویے کے منافی ہے۔ دوسروں کے ساتھ ہمارااول و آخر تعلق داعی اور مدعو کا ہے۔ ا س کے بعد کسی فتویٰ سازی کی گنجایش کہاں باقی رہتی ہے۔فتویٰ یا خاص نام دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے توبہ اور اصلاح کے امکان کی نفی کر دی ہے۔اس کا حق ظاہر ہے کہ ہمیں کسی طرح حاصل نہیں ہے۔
۶۔عالمگیریت کے زیرِ اثر ایک عالمی تہذیبی انشقاق نے ہمیں تہذیبی سطح پر پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہمارے اندر غالب تہذیب کے خلاف غصے اور رد عمل کی نفسیات پیدا ہو رہی ہے۔ ایسی نفسیاتی کیفیت میں ایک فرد صحیح فیصلہ کر سکتا ہے نہ معاشرہ۔ ہمیں اس ذہنی فضا سے نکل کر تہذیب و معاشرے کے باہمی تعلق کو سمجھنا ہو گا اور اس کے ساتھ ان نتائج فکر پر بھی غور کرنا ہو گا جو ہم نے فہم دین کے حوالے سے مرتب کیے ہیں۔ ان میں بطورِ خاص ریاست اور مذہب کا باہمی تعلق ، خواتین کامعاشرتی و سیاسی کردار ، فنونِ لطیفہ اور عمرانیاتِ مذہب(Sociology of religion) اہم ہیں۔ ان موضوعات پر جب ہم نے پہلے سے قائم شدہ نظریات کو حتمی مان کر ان کا دفاع کرنا چاہا تو ہم اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس کے نتیجے میں ہم غصے میں مبتلا ہوئے یا کردار کے دوغلے پن میں۔ اس صورتِ حال کا سامنا کرنے کا فطری طریقہ یہ ہے کہ ہم تہذیبِ غالب کے مطالبات کو انسانی نفسیات اور فطرت کی روشنی میں سمجھیں اور پھر یہ جانیں کہ ہم نے قرآن و سنت کا مفہوم جس طرح سے اخذ کیا ہے وہ کس حد تک ان مطالبات سے ہم آہنگ ہے۔ اس سے ہم بڑی حد تک جان سکتے ہیں کہ ان مطالبات میں سے کون کون سا مطالبہ ناقابلِ قبول ہے اور کہاں ہم نے قرآن و سنت کا منشا سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ہے۔اس سے ہم یہ بھی معلوم کر سکیں گے کہ کیسے عالمی سمجھی جا نے والی اقدار، جب کسی معاشرے کی مخصوص فضا میں پر وان چڑھتی ہیں تو ان پر مقامی رنگ غالب آجا تا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مذہب نے ہمیشہ معاشرتی حسن میں اضافہ کیا ہے۔ اگر کوئی بدصورتی مذہب سے منسوب ہے تووہ مذہب کا سوئے فہم ہے، مذہب اس سے بری ہے۔ اسلام کا معاملہ تو مثالی ہے کہ یہ الہامی ہدایت کا مستند ترین ایڈیشن ہے۔ دیگر الہامی مذاہب کی اصل تعلیمات کو دیکھا جائے تو ان میں بھی کوئی ایسی چیز شامل نہیں ہے جو انسانی زندگی کے حسن کو مجروح کرتی ہو۔ آج دنیا میں جو ظلم ہے، حیا باختگی ہے، فساد ہے، دنیا کا کوئی مذہب انہیں جائز قرار نہیں دیتا۔ کوئی مذہب ایک ملک یا قوم کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ کسی کمزور پر چڑھ دوڑے اور معصوم شہریوں کا قتلِ عام کرے۔ کوئی مذہب مردو زن کے آزادانہ جنسی تعلق اور ہم جنس پرستی کو جائز نہیں کہتا۔ کوئی مذہب نظری یا مسلکی اختلاف کی بنیاد پرانسانی قتل کو جائز نہیں سمجھتا۔ کوئی مذہب ایسا نہیں جو جزا اور سزا کے معاملے کو غیرریاستی گروہوں کو سونپتا ہو۔ دنیا کا کوئی مذہب دوسروں کے حقوق کی پامالی کو روا نہیں رکھتا۔ اس بنا پر مذہب کو فساد کی علامت کہنا مذہب پر ایک اتہام ہے۔ یہ مذہب کا سوء فہم ہے یا اس سے بے نیازی ،جس نے ظلم اور فساد کو جنم دیاہے۔ جس نے بے حیائی کے کلچر کو روا رکھا ہے۔ ضرورت ہے کہ ان مذہبی تعبیرات کی غلطی واضح کی جائے۔جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہمیں اپنے بعض تصورات اور رویوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، جن کی ان سطور میں ایک حد تک نشان دہی کی گئی ہے۔ اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ ایک نئے نظامِ فکر (paradigm) کے تحت معاشرتی سطح پر ایک شعوری تبدیلی پیدا کی جائے۔ اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ نظری سطح پر ایک نئے فہمِ دین کو اپنایا جائے اور حکمتِ عملی کی سطح پر اس فہم کے تحت معاشرے کی تعلیم کو پہلی ترجیح بنایا جائے۔ مو جود نظام ہائے فکر کے منطقی نتائج ہم نے دیکھ لیے۔اگر ہم معاشرتی اور تہذیبی سطح پر کسی تبدیلی کے خواہاں ہیں توایک نئے نظامِ فکر کی تشکیل لازم ہے۔اس کا مطلب معاشرے اور مذہب کے ایک نئے تعلق کی دریافت ہے۔

 



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List