Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

ماتم اور نسب میں طعنے کا انجام | اشراق
Font size +/-

ماتم اور نسب میں طعنے کا انجام

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اثْنَتَانِ فِی النَّاسِ، ہُمَا بِہِمْ کُفْرٌ: الطَّعْنُ فِی النَّسَبِ، وَالنِّیَاحَۃُ عَلَی الْمَیِّتِ.
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی دو عادتیں ہیں۔ یہ ان کے ساتھ کفر ہیں: نسب میں طعن اور میت پر نوحہ۔

لغوی مباحث

’ہما بہم کفر‘: اس جملے میں ’بہم‘، ’فیہم‘ کے معنی میں ہے۔مراد یہ ہے کہ یہ دو چیزیں جس میں ہوں، وہ ایمان کی حقیقت سے محروم ہے۔ اسی طرح ’اثنتان‘ کے بعد ’من اعمال کفر‘ یا ’من اخلاق جاہلیۃ‘ کے الفاظ محذوف ہیں۔
’الطعن فی النسب‘: ’طعن‘ کا لفظ اصلاً چبھونے اور گھونپنے کے معنی میں آتا ہے، لیکن زبان سے نکلنے والی تکلیف دہ باتیں بھی طعن ہی کہلاتی ہیں۔ نسب میں طعن سے مراد یہ ہے کہ نسب کے بارے میں کوئی ناگوار بات کہی جائے۔
’النیاحۃ‘ : اردو کے لفظ بین کرنے کا مترادف ہے۔ عرب عورتیں بھی میت پر بین کرتی تھیں۔مزید براں شدت اظہار کے لیے کپڑے پھاڑ لیتیں،گال پیٹتیں، سینہ کوبی کرتیں، سر میں خاک ڈالتیں اور اس طرح کی دوسری حرکتیں بھی کرتی تھیں۔ نوحہ کا لفظ ان سب کے لیے بولا جاتا ہے۔

معنی

کسی شخص کے حسب نسب کے بارے میں کوئی گفتگو کرنا ایک اخلاقی جرم ہے۔قرآن مجید میں یہ بات بڑے محکم انداز میں بیان ہوئی ہے کہ تمام انسان ایک آدم کی اولاد ہیں۔ قرآن مجید نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اللہ کے نزدیک معزز وہ ہے جو تقویٰ میں سب سے آگے ہے۔ سورۂ حجرات میں یہ بات بھی واضح کر دی گئی ہے کہ خاندان، ذات، قبیلہ محض تعارف کا ذریعہ ہیں۔ قرآن مجید کے یہ سارے بیانات انسانوں میں یہ احساس اور شعور پیدا کرنے کے لیے ہیں کہ وہ ذلت وپستی حسب نسب میں نہیں اخلاق وکردار میں ہے، لیکن انسانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ خاندان، قبیلہ اور قوم سے وابستگی کو معیار عظمت وذلت بنا لیتے ہیں۔ کاروبار اور پیشے کو اس کا سبب سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ دولت اور اقتدار سے بڑائی اور چھوٹائی طے کرنے لگ جاتے ہیں۔ یہی چیز ہے جو انسانوں کی زبان پر حسب نسب کے بارے میں ناروا تبصرے لانے کا باعث بنتی ہے۔ جو شخص مسلمان ہے اور خدا اور رسول پر ایمان رکھتا ہے، ان کے دیے ہوئے احکام اور بنائے ہوئے اخلاقی معیارات سے روگردانی کو جائز نہیں سمجھتا، بلکہ انھیں اپنے لیے ہدف جانتا اور ان پر عمل کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ اس سے گناہ اور غلطی تو ہوسکتی ہے، لیکن وہ نہ گناہ پر اصرار کر سکتا ہے، نہ اللہ کی مقرر کردہ حلت وحرمت میں تصرف کی جرأت دکھا سکتا ہے۔ نہ اس کے گناہ میں سرکشی اور بے پروائی ہو سکتی ہے۔ اگر کسی گناہ میں یہ عناصر شامل ہو جائیں تو گناہ کی شناعت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں بھی کچھ گناہوں کے حوالے سے ایمان کی نفی کی ہے۔ ہم واضح کر چکے ہیں کہ یہ نفی ان جرائم کی شناعت بیان کرنے کے لیے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر گناہ ایمان سے غفلت کے باعث ہوتا ہے، لیکن اگر اس میں مذکورہ عناصر شامل ہو جائیں تو سبب محض غفلت نہیں رہتا، اس میں ایمان سے انحراف کا پہلو پیدا ہو جاتا ہے۔
نوحہ کرنا ممنوع ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بڑی وضاحت سے بیان کی ہے، بلکہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جب عورتوں سے بیعت لیتے تھے تو ان سے نوحہ نہ کرنے کی بیعت لیتے تھے۔ آپ ان سے عہد لیتے کہ وہ گال نہیں پیٹیں گی، گریبان نہیں پھاڑیں گی اور جاہلیت کی صدائیں نہیں لگائیں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نوعیت کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کا حادثہ جب بھی پیش آئے تو دکھ کے اظہار کی ایسی صورتیں نہیں اختیار کرنی چاہییں جو ضبط و صبر کے منافی ہوں۔ رہی یہ بات کہ یہ نوحہ ایمان کے منافی کیوں ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا اور آخرت پر ایمان کسی انسان کے اندر راضی برضا ہونے کی جو کیفیت پیدا کرتا ہے نوحہ و بین اس کی نفی ہے۔
یہی معاملہ نسب میں طعن کا ہے۔ کسی خاندان کو کم تر سمجھنا یا کسی کی کسی والدین سے نسبت پر سوال اٹھاناطعن کی کوئی بھی صورت ہو، یہ دین کے واضح احکام کی خلاف ورزی ہے۔ اس اعتبار سے یہ گناہ ہے۔ گناہ غفلت سے بھی ہوتے ہیں اور لاپروائی، سرکشی اور اصرار سے بھی۔ صورت خواہ کوئی بھی ہو دین سے تعلق میں کمزوری پر دلالت کرتا ہے۔ غرض یہ کہ نافرمانی دین وایمان سے دوری کی حالت ہے۔

متون

اس روایت کے تین جملے ہیں: پہلا جملہ ’اثنتان فی الناس ہما بہم کفر‘ ہے۔ یہ جملہ دو اور صورتوں میں بھی آیا ہے۔ کچھ راویوں نے اسے ’شعبتان من امر الجاہلیۃ‘ کی صورت میں روایت کیا ہے اور کچھ نے اسے ’شعبتان لا تترکہا امتی‘ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ بعض مرویات میں دو کے بجاے تین چیزیں بیان ہوئی ہیں۔ چنانچہ ان روایات میں ابتدائی جملہ ’ثلاث من کفر باللّٰہ‘ ، ’ثلاثۃ من کفر باللّٰہ‘ یا ’ ثلاثۃ من الجاہلیۃ‘ کی صورت میں ہے۔
دوسرا جملہ ’الطعن فی النسب‘ کا ہے۔ بعض رواۃ اس میں ’نسب‘ کی جمع لائے ہیں اور اسے ’الطعن فی الأنساب‘ کے الفاظ میں روایت کرتے ہیں۔
تیسرا جملہ ’النیاحۃ علی المیت‘ ہے۔ کچھ راویوں نے ’علی المیت‘ کے الفاظ حذف کردیے ہیں اور صرف ’النیاحۃ‘ روایت کیا ہے۔
جن مرویات میں تین چیزیں بیان ہوئی ہیں، ان میں تیسری چیز یاتو ’شق الجیب‘ (گریبان پھاڑنا) یا ’الفخر بالأحساب‘ (خاندان پر فخر) ہے۔

کتابیات

مسلم، رقم۶۷؛ ابن حبان، رقم۱۴۶۵؛ مستدرک، رقم۱۴۱۵؛ سنن بیہقی، رقم۶۹۰۳؛ مسند احمد بن حنبل، رقم ۱۰۴۳۸؛ المعجم الکبیر، رقم۶۱۰۰؛ المنتقی لابن جارود، رقم۵۱۵؛ الادب المفرد، رقم۳۹۵۔




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List