Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
متفرق سوالات | اشراق
Font size +/-

متفرق سوالات

’’دنیاٹی وی کے پروگرام’’دین و دانش.....جاوید احمد غامدی کے ساتھ‘‘ کے سوال و جواب کا انتخاب پیش خدمت ہے ۔اس کی ترتیب اور تلخیص کا کام دنیا ٹی وی کے شعبہ مذہبی امور نے انجام دیا ہے۔‘‘

سوال: اسلام کیا ہے؟
جواب: اسلام اللہ کا بھیجا ہوادین ہے۔ اس کوبنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک کا تعلق ایمان و اخلاق سے ہے اور دوسرے کا قانون سے ۔ ایمان میں کچھ حقائق ہیں ، جن کو ہمیں ماننا ہے اور اپنی اخلاقی تطہیر کرنی ہے۔ یہ دین کی بنیاد ہے۔ انبیا علیہم السلام اصلاً اسی مقصد کے لیے آئے ہیں۔ یعنی انسان کو ان حقائق کے بارے میں علم دیا جائے جن کو وہ خود دریافت نہیں کر سکتا تھا۔ اسے بتایا جائے کہ اس کا ایک پروردگار ہے، اسے اس کے سامنے ایک دن جواب دہ ہونا ہے، اس پروردگار کی رضا جوئی کے لیے اسے زندگی بسر کرنی ہے۔ یہ بنیادی حقیقت ہی اصل دین ہے۔
دین دنیا کے اندر انسان کے تزکیے کی دعوت ہے۔ تزکیہ قرآن مجید کی اصطلاح ہے۔ اسی کو قرآن مجید دین کا مقصد کہتا ہے۔ اس کا مطلب اپنے آپ کو اخلاقی لحاظ سے پاک کرنا، اپنے بدن کی تطہیر کرنا، اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو پاکیزہ رکھنا ہے۔ یہ تزکیہ انسان کی انفرادی زندگی سے بھی متعلق ہے، اور اجتماعی زندگی سے بھی۔
اس کے بعد قانون ہے۔ قانون سے مراد وہ احکام ہیں جن کی پابندی آپ کو کرنا ہوتی ہے اور یہ احکام چیزوں کو ایک قاعدے ضابطے میں باندھ دیتے ہیں۔ اسی کو شریعت کہتے ہیں۔ شریعت کا لفظ قانون ہی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ تورات کو اسی وجہ سے تورات کہا جاتا ہے کہ اس میں صرف قانون ہے۔ تورات کا لفظ قدیم عبرانی زبان میں قانون ہی کے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔ قرآن مجید اس مقصد کے لیے لفظ ’کتاب‘ بھی استعمال کرتا ہے اور ’شریعت‘ بھی۔ قانون کا تعلق زندگی کے بہت سے معاملات سے ہے۔ قرآن نے سیاست،معیشت، جہاد سے متعلق بھی قانون دیا ہے اور دعوت و تبلیغ سے متعلق بھی۔
اس میں جو ایمانیات ہیں، وہ پانچ ہیں۔ اللہ پر ایمان، اللہ کے فرشتوں پر ایمان، اللہ کی کتابوں پر ایمان، اللہ کے نبیوں پر ایمان اور قیامت کے دن پر ایمان۔ یہ چیزیں مسلمان کو مسلمان کی حیثیت سے لازماً ماننا ہوتی ہیں اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان میں سے ایک چیز کا بھی اگر آپ انکار کرتے ہیں تو آپ ایک بڑی حقیقت کا انکار کر دیتے ہیں۔ اللہ اس کائنات کا پروردگار ہے، اس کے فرشتے ہیں جن کے ذریعے سے وہ انسانوں کے ساتھ رابطہ پیدا کرتا ہے۔ انسانوں میں سے وہ پیغمبروں کا انتخاب کرتا ہے۔ پیغمبروں کو قول فیصل کی حیثیت سے وہ اپنی کتابیں دیتا ہے اور کتابیں جس چیز کے بارے میں خبردار کرتی ہیں، وہ قیامت کا دن ہے۔ انسان کو ایک دن مرنا ہے اور موت کے بعد ایک عظیم دن واقع ہونے والا ہے ،اور اس دن انسان کو اپنے پروردگار کے سامنے جواب دہ ہونا ہو گا۔ یہ پوری کی پوری ایک ہی بات ہے جس کو انسان مانتا ہے۔ جب انسان اس کو مانتا ہے تو پھر وہ ایمان کے ساتھ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے۔

فطری ہدایت

سوال: انسان کو جب اس دنیا میں بھیجا گیا تو کیا وہ اپنے ساتھ بھی کچھ ہدایت لے کر آیا ہے؟
جواب: بنیادی چیزیں تو اسی وقت انسان کی فطرت میں الہام کر دی گئی تھیں۔ مثلاً ایک خدا کا شعور، اس کے سامنے جواب دہی کا احساس، اچھے عمل کا تصور۔ خاص طور پر خیر و شر کے بارے میں بنیادی شعور۔ اس کے علاوہ بنیادی اخلاقیات ہیں جن کو قرآن نے بیان کیا ہے کہ انسان کو ہر حال میں انصاف پر قائم رہنا ہے، اپنے رشتہ داروں اور اعزہ کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے۔ عمومی طور پر زندگی میں ایثار اور احسان کا رویہ اختیار کرنا ہے، ان چیزوں سے بچنا ہے جو حق تلفی کا باعث بنتی ہیں اور جو لوگوں کی جان و مال اور آبرو کے خلاف ہوتی ہیں۔ اس طرح کی تمام بنیادی حقیقتیں انسان کو بتا دی گئی تھیں۔ انبیا علیہم السلام ان کی یاددہانی کرتے ہیں، ان کی تعیین کرتے ہیں، اگر کوئی ابہام ہو تو اسے دور کرتے ہیں، ان سے متعلق کوئی سوال پیدا ہو جائے تو اس کا جواب دیتے ہیں۔ ہماری فطرت کے اندر جو کچھ ودیعت کیا گیا ہے ، انبیا علیہم السلام اس کو نمایاں کرتے ہیں۔

دیدارالٰہی

سوال: کیا ہم اللہ تعالیٰ کو اس دنیا میں دیکھ سکتے ہیں ، اگر دیکھ سکتے ہیں تو کس طرح سے اور اگر نہیں تو کیوں؟
جواب: ہم اللہ تعالیٰ کو اس دنیا میں نہیں دیکھ سکتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری بصارت کی کچھ محدودیتیں ہیں۔ ہمارے پاس دیکھنے کا آلہ آنکھیں ہیںیا ہمارا متخیلہ ہے۔ تخیل کی نظر سے تو ہم ایک تصور قائم کر سکتے ہیں ، لیکن یہ اسی صورت میں قائم کر سکتے ہیں جب اللہ جیسی کوئی چیز ہمارے تصور میں آ سکے۔ دنیا میں کوئی چیز اللہ جیسی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے کہ ’لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْءٌ‘(الشوری ٰ۴۲:۱۱) اس کی مثل بھی کوئی چیز نہیں ہے۔ ہم صرف انھی چیزوں کو تخیل کا حصہ بنا سکتے ہیں یا آنکھیں بند کر کے دیکھ سکتے ہیں جن کی مماثل کچھ چیزیں یہاں موجود ہوتی ہیں۔ اس کے بعد حواس کی حد تک دیکھنے کے لیے ہمارے پاس آنکھیں ہیں۔اور ہماری آنکھیں تو دنیا کی بے شمار چیزوں کو دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ مثلاًایٹم، کشش ثقل وغیرہ۔جب انسان ان چیزوں کو نہیں دیکھ سکتا تو وہ پروردگار جس نے انسان کو بنایا ہے ، وہ انسان کی آنکھوں کی گرفت میں کیسے آ سکتا ہے؟آنکھوں کی گرفت میں جو چیزیں آئیں گی، ان کا کوئی زمان و مکان ہو گا اور اللہ تعالیٰ ان کا پابند نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ماورا ہے اور اس کو ماروا ہونا چاہیے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’لَا تُدْ رِکُہُ الْأَبْصَارُ‘(الانعام۶:۱۰۳) (آنکھیں اس کو نہیں پا سکتیں)۔ ’وَہُوَ یُدْرِکُ الَْأبْصَارَ‘اس لیے کہ وہ آنکھوں کو پا لیتا ہے۔ آنکھیں تو اس چیز کو دیکھیں گی جس کو آنکھیں اپنے احاطے میں لے سکیں جبکہ ذات خداوندی اپنے علم اور اپنی ذات کے لحاظ سے ہمارا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے ہم کیسے اس کا احاطہ کر سکتے ہیں؟ جب بھی کسی چیز کو آپ علمی طور پر حواس کی گرفت میں دیتے ہیں تو اصل میں آپ کی اس حس کو اس کا احاطہ کرنے کی پوزیشن میں ہونا چاہیے۔ ہمارے کان آواز کے اس والیم کا احاطہ کر لیتے ہیں جس کو وہ سن سکتے ہیں، آنکھیں اس چیز کا احاطہ کر لیتی ہیں ، جس کو وہ دیکھ سکتی ہیں۔ یہی معاملہ چھونے کا اور ہمارے باقی حواس کا ہے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی اس قابل نہیں کہ اللہ تعالیٰ کودیکھ سکے۔ یہ ہمارا عجز، بے بسی اور کمزوری ہے۔ اس وجہ سے اس دنیا میں تو ہم ذات خداوندی کو نہیں دیکھ سکتے۔ البتہ قرآن مجید اور بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں انسان کو یہ صلاحیت دی جائے گی کہ اللہ تعالیٰ کے نور اور اس کی شخصیت سے کسی حد تک وہ قریب ہو سکے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یقیناًاللہ تعالیٰ انسانوں کو وہاں یہ شرف عطا فرمائے گا کہ وہ اس کو دیکھ سکیں۔ پھر پوچھا گیا کہ ہمارے لیے یہ کیسے ممکن ہو گا؟ آپ نے فرمایا کہ بالکل ایسے ہی جیسے تم پورے چاند کی رات میں چاند کو دیکھ لیتے ہو۔
پروردگار اور انسانوں کے درمیان یہ جو غیاب ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دنیا امتحان کے لیے بنی ہے۔ اور جب آپ امتحان میں ڈالے گئے ہیں تو پھر آپ کو علم اور عقل کی روشنی میں چیزوں کو سمجھنا ہے۔ اگر خدا انسان کے سامنے ہی آ گیا تو پھر اس کے بعد امتحان کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ پھر کون گناہ کرے گا، کون سرکشی کی جسارت کرے گا۔ یہاں تو صورت حال یہ ہے کہ بہت معمولی ہستیاں سامنے آ جائیں تو آدمی کی ٹانگیں کانپتی ہیں کجا یہ کہ اس عالم کا پروردگار آپ کے سامنے آ جائے۔ اس لیے یہ غیاب بھی ضروری ہے، لیکن اس غیاب سے اللہ تعالیٰ قیامت کے بعد پردہ اٹھائیں گے۔

 

دیدارالٰہی: ایک فطری خواہش

سوال: کیا خدا کو دیکھنے کی خواہش فطری ہے ؟
جواب: یہ بالکل ایک فطری خواہش ہے۔ یہ خواہش خدا کے پیغمبر نے بھی کی تھی۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ کیا میں آپ کو دیکھ نہیں سکتا؟تب ان کو یہ بات بتائی گئی کہ انسان کو اپنے حدودکو پہچاننا چاہیے ۔ انسان ان ناسوتی آنکھوں سے خدا کی ذات کو نہیں دیکھ سکتا۔ اور ایسا ہی ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ کی تجلی پہاڑ پر آئی تو وہ پاش پاش ہو گیا اور سیدنا موسیٰ بھی اپنے حواس قائم نہ رکھ سکے۔ اس لیے جس چیز کو آپ اپنی گرفت میں لینے کی صلاحیت نہیں رکھتے ، اس کی خواہش ہی کی جاسکتی ہے۔

یہود کی دیدارالٰہی کی خواہش

سوال : قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے حضرت موسیٰ سے اللہ کو دیکھنے کی فرمایش کی، یہ فرمایش انھوں نے کیوں کی؟
جواب: ان کے ہاں یہ چیز انکار کے داعیات سے پیدا ہوئی تھی۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ انھوں نے جب یہ چاہا تو یہ اصل میں انکار کرنا چاہتے تھے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے انھوں نے کہا کہ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ سے رو در رو کلام کرتا ہے تو پھر ہمیں بھی اللہ کو دکھائیے۔ جب آپ کے ساتھ یہ معاملہ ہو سکتا ہے تو ہمارے لیے بھی یہ ہونا چاہیے۔ ہم اس کے بعد اللہ تعالیٰ کو مانیں گے۔ اس کے پیچھے اصل میں جو جذبہ موجود تھا، وہ انکا ر، تمرد اور سرکشی کا جذبہ تھا۔ کسی بات کو نہ ماننے کے لیے آپ جس طرح سے بہانے تراشتے ہیں، یہ وہی چیز تھی۔ اس پر ان کو بڑی سخت تنبیہ ہوئی اور ان سے کہا گیا کہ یہ تو ممکن نہیں ہے اور جو کچھ تم چاہ رہے ہو یہ حدود سے تجاوز ہے۔ اور اس چیز کو ان کا ایک بڑا جرم قرار دے دیا گیا۔ چنانچہ قرآن مجید نے اہل علم کے اوصاف میں یہ چیز بیان کی کہ ’یُوْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ‘ (البقرہ۲:۳) وہ بن دیکھے خدا کو مانتے ہیں یعنی عقلی دلائل سے مانتے ہیں۔ ان کا دل اور دماغ مطمئن ہوتا ہے تو مانتے ہیں ، لیکن دیکھنے کا تقاضا نہیں کرتے۔

 

ایمان بالغیب، خالص علمی رویہ

سوال: اس بات پر اصرار کہ ہم کسی چیز کو دیکھنے کے بعد اسے مانیں گے، کیا یہ علمی رویہ ہے؟ کیونکہ ایک زمانے میں سائنس کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ ہم ہر چیز کو دیکھ لیں گے اور کائنات پر عبور حاصل کر لیں گے۔
جواب :یہ کوئی علمی رویہ نہیں ہے۔ اگر کوئی انسان اصرار کرے کہ میں صرف انھی چیزوں کو مانوں گا جنھیں میں دیکھ سکوں یا جنھیں حواس کی گرفت میں لے سکوں تو اس کا علم انتہائی محدود ہو جائے گا۔ جہاں تک سائنس کے دعویٰ کا تعلق ہے تو اب سائنس میں بھی یہ بات نہیں رہی۔ ہائزن برگ کے قانون عدم تعین کے بعد سائنس نے بھی اپنی عاجزی کا اعتراف کر لیا ہے۔ وہ بھی اب یہ جانتے ہیں کہ انسان کی صلاحیتوں کے حدود کیا ہیں۔ انسان صرف انھی چیزوں کو نہیں مانتا جو اس کے حواس کی گرفت میں آ جاتی ہیں۔ دیکھ کر تو جانور بھی مانتے ہیں، سونگھ کر اور سن کر وہ بھی اپنے تحفظ کا سامان کرتے ہیں۔ انسان کو اللہ نے عقل جیسی نعمت سے نوازا ہے۔ عقل محسوس سے نا محسوس کا استنباط(Deduct) کرتی ہے۔ یعنی جو چیزیں ہمارے حواس کی گرفت میں آتی ہیں ان کے ذریعے سے ان چیزوں کو جان لینا،جو حواس کی گرفت میں نہیں آتیں،یہی انسان کا کمال ہے اور یہ عین علمی اور عقلی طریقہ ہے۔ آپ کا سارا علم اسی پر مبنی ہے۔ اس وقت جو کچھ بھی آپ کے پاس علم ہے،جس پر انسانیت فخر کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے سامنے تھا ، ہم نے اس کے پیچھے دیکھنے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کی ہے۔ یعنی ہمارے سامنے ایک چیز موجود ہوتی ہے، ہمارے سامنے کچھ مظاہر ہوتے ہیں۔ ہم ان کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر عقلی طریقے سے استنباط کر لیتے ہیں کہ یہ چیز اس کے پیچھے ہو گی۔ استقرائی منطق یہیں سے پیدا ہوئی ہے کہ انسان دنیا کے اندر جو چیزیں موجود ہیں ، ان کا استقرا (موازنہ)کرتا ہے، ان کو جمع کرتا ہے ،پھر اس سے نتائج نکالتا ہے۔ یہ نتائج نکالنا، تجزیہ کرنا، پیچھے جھانک لینا، محسوس سے نامحسوس تک پہنچ جانا، گرتے ہوئے سیب کو دیکھ کر کشش ثقل کے تصور کا استنباط کر لینا، یہی انسانیت کا شرف ہے۔

ایمان بالغیب اور مذہبی حقائق

سوال:جو چیزیں حواس کی گرفت میں نہیں آتی ہیں، ان کو دیکھے بغیر مان لینے کے نتیجے میں مذہبی حقائق کیا علم اور عقل کی میزان پر پورے اترتے ہیں؟
جواب: بالکل آخری درجے میں پورے اترتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مثال کے طور پر ہم اللہ تعالیٰ کواس لیے مانتے ہیں کہ کائنات اپنی توجیہ آپ کرنے سے قاصر ہے۔ یہ اپنے آپ کو خود Explain نہیں کر پاتی۔ یعنی یہ کہاں سے آ گئی، اس کے اندر یہ نظم کہاں سے آ گیا، یہ معنویت کہاں سے آئی، یہ غیر معمولی ربط و نظام کہاں سے آیا، یہ وسعت، یہ عظمت کہاں سے آئی، اس کے اندر یہ مخلوقات کہاں سے آئیں؟ جب یہ اپنی توجیہ خود نہیں کر پاتی تو پھر عقل تقاضا کرتی ہے کہ اس کا ایک خالق ہونا چاہیے۔ یہ اپنے وجود سے اپنے مخلوق ہونے کی گواہی دے رہی ہے۔ یہ چیز ہمارے حواس کی گرفت میں آ جاتی ہے۔ اس چیز کا ہم تجربہ کر لیتے ہیں۔ جب عقل کہتی ہے کہ یہ ہونی چاہیے تو جیسے ہی عقل کہتی ہے کہ یہ ہونی چاہیے تو ہمارا وجدان اس کو رد نہیں کرتا۔ آپ کشش ثقل کی مثال لے لیجیے۔ اس کے بارے میں جب نیوٹن نے یہ کہا کہ ایک ایسی قوت موجود ہے جو چیزوں کو ان کی کثافت کے لحاظ سے کھینچ رہی ہے تو یہ اتنی واضح بات تھی کہ ہمارے وجدان نے اس کو قبول کر لیا۔ اسی طرح جب ذات خداوندی کے بارے میں بھی عقل تقاضا کرتی ہے کہ ہمارا ایک خالق ہونا چاہیے تو ہمارا وجدان اس کو فوراً قبول کر لیتا ہے۔ یہ قبولیت اس بات کی دلیل بن جاتی ہے کہ انسان کے لیے یہ اجنبی چیز نہیں۔ اس کے بعد ہم تاریخ کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے آبا سے خدا کا تصور اسی تسلسل اور تواتر کے ساتھ چلا آ رہا ہے، یہ کسی خاص دور کی پیداوار نہیں ہے۔ اور پھر اس کے بعد الہامی صحائف ہمیں اس کے بارے میں وہ آخری دلائل دے دیتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کا انکار کرنے کی گنجایش نہیں رہتی۔ یہ چیز ایک خالص عقلی چیز ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی جیسے ہم علمی حقائق کو مانتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اگر کوئی آدمی یہ اصرار کرتا ہے کہ میں چیزوں کو دیکھ کر مانوں گا تو وہ اصل میں اپنے انسان ہونے کے شرف کا انکار کر رہا ہوتا ہے۔ انسان اس پر اصرار نہیں کرتا۔ یہ تو جانور ہیں جو صرف حواس کے علم تک محدود رہتے ہیں۔

 

اسلام کی دعوت کا طریقۂ کار

سوال: اسلام کی تبلیغ کے لیے خدا کا وجود اور اس پر بحث زیادہ اہم ہے یا خدا کے نظام کا وجود اور اس پر بحث ؟ خدا کے وجود کو تو باقی مذاہب بھی ثابت کرتے ہیں، لیکن ہمارے مذہب کی بنیادی چیز یہ ہے کہ خدا کے نظام کے وجود کو پہلے اسلام نے ثابت کیا تھا، اس کے بعد لوگ اسلام میں جوق در جوق داخل ہونا شروع ہوئے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: اس میں کئی مغالطے پوشیدہ ہیں اور ان کے بارے میں ہمیں ایک دوسرے کو بتانا چاہیے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ پہلی چیز یہ کہ اسلام انبیا علیہم السلام کا دین ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اسلام کی ابتدا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ہے۔ تمام انبیا یہی دین لے کر آئے ہیں۔ یہ بات قرآن مجید نے بڑی وضاحت سے بیان کر دی ہے ۔ ’شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصَّی بِہِ نُوحاً وَالَّذِیْ أَوْحَیْْنَا إِلَیْْکَ وَمَا وَصَّیْْنَا بِہِ إِبْرَاہِیْمَ وَمُوسَی وَعِیْسَی أَنْ أَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیْہِ‘ (الشوری۴۲:۱۳) اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اے پیغمبر ،ہم نے وہی دین آپ کودیا ہے جو ہم نے اس سے پہلے حضرت نوح، حضرت موسیٰ ،حضرت عیسیٰ اور سیدنا ابراہیم علیہم السلام کو دیا تھااور وہ دین اور ایمان و اخلاق کی دعوت تھی۔ قرآن مجید کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی نظام کی دعوت نہیں دیتا۔ وہ اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ لوگو! متنبہ ہو جاؤ، ایک دن تمھیں خدا کے حضور میں جواب دہ ہونا ہے۔ یہ جواب دہی کی دعوت ہے جو دی گئی تھی۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے جس کے بارے میں خدا کے پیغمبروں نے انسان کو متنبہ کیا کہ موت تمھارے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ تمھیں ایک دن اپنے پروردگار کے حضور میں جواب دہ ہونا ہے، اس جواب دہی کے لیے ضروری ہے کہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو پاکیزہ بناؤ۔ یہ اسلام کا اصل موضوع ہے۔اسلام نے کوئی نظام نہیں دیا، اسلام نے شریعت دی ہے۔ یعنی ایک قانون دیا ہے اور قانون میں وہ چندہدایات دی ہیں جن میں انسان کی اپنی عقل کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے جبکہ نظام تو ہم بناتے ہیں۔ یہ اسلام کی دعوت کو پیش کرنے کا بڑا ناقص طریقہ ہے۔ اسے اس کی اصل بنیاد پر پیش کرنا چاہیے۔

 



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List