Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

متفرق سوالات | اشراق
Font size +/-

متفرق سوالات

[المورد میں خطوط اور ای میل کے ذریعے سے دینی موضوعات پر سوالات موصول ہوتے ہیں۔ المورد کے رفقا ان سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ ان میں سے منتخب سوال و جواب کو افادۂ عام کے لیے یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔]

سوال: کیا یہ بات درست ہے کہ جاوید احمد صاحب غامدی قرآن مجید کی صرف ایک ہی قرأ ت کے قائل ہیں،حالانکہ ساری امت قرآن مجید کی سات یا دس بلکہ اس سے بھی زیادہ قرأت کی قائل ہے؟ اگر یہ بات صحیح ہے تو انھوں نے امت سے ہٹ کر یہ نقطۂ نظرکیوں اختیار کیا ہے؟ کیا امت سے ہٹ کرایسا نقطۂ نظر اختیار کرنا گمراہی نہیں ہے؟(رشیداحمد)
جواب :اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری امت میں یہ نقطۂ نظر بھی پایا جاتا ہے کہ قرآن مجید کی بہت سی قرأ تیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ امت میں بس ایک یہی نقطہ ء نظر موجود ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی قرأ ت کے حوالے سے ہماری امت میں دو نقطہ ہائے نظر موجود ہیں۔
ایک یہ کہ قرآن مجید کی مختلف قرأ ت ہیں۔ مثلاً
۱۔ سورہ الفاتحہ کی آیت ۳ کی ایک قرأ ت ’’مِالِک یَِوْمِ الِدّیِْن‘‘ ہے
اور دوسری ’’مِالِک یَِوْمِ الِدّیِْن‘‘۔
۲۔ النساء کی آیت ۱۲کی ایک قرأ ت یہ ہے:
وَإِنْ کَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ کَلاَلَۃً أَوِ امْرَأَۃٌ، وَّلَہٗٓ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ۔
اور دوسری میں اس کے ساتھ ’من أم‘ کا اضافہ ہے:
وَإِنْ کَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ کَلاَلَۃً أَوِ امْرَأَۃٌ، وَّلَہٗٓ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ من أم۔
۳۔ المائدہ کی آیت ۸۹ کی ایک قرأ ت یہ ہے:
فَکَفَّارَتُہُ إِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِینَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَہْلِیکُمْ أَوْ کِسْوَتُہُمْ أَوْ تَحْرِیرُ رَقَبَۃٍ۔
اور دوسری میں اس کے ساتھ’مُؤْمِنَۃٍ‘ کا اضافہ ہے:
فَکَفَّارَتُہُ إِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِینَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَہْلِیکُمْ أَوْ کِسْوَتُہُمْ أَوْ تَحْرِیرُ رَقَبَۃٍ مُؤْمِنَۃٍ۔
۴۔ المائدہ کی آیت ۶کی ایک قرأ ت یہ ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاۃِ فاغْسِلُواْ وُجُوہَکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَینِ ۔
اور دوسری میں ’أَرْجُلَکُمْ‘کے بجائے ’أَرْجُلِکُمْ‘ ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاۃِ فاغْسِلُواْ وُجُوہَکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِکُمْ وَأَرْجُلِکُمْ إِلَی الْکَعْبَینِ ۔
۵۔ نساء کی آیت ۲۴ کی ایک قرأ ت یہ ہے:
فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِہِ مِنْہُنَّ فَآتُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ فَرِیضَۃً۔
اور دوسری قرأ ت میں الی أ جل مسمی کے الفاظ کا اضافہ ہے:
فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِہِ مِنْہُنَّ اِلَی اَجَلٍ مُسَمًّی فَآتُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ فَرِیضَۃً۔
۶۔ سورہ حج کی آیت ۵۲ کی ایک قراء ت یہ ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِیٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّی ۔
اور دوسری قرأ ت میں وَلَا مُحَدَّثٍ کا اضافہ ہے۔
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِیٍّ وَلَا مُحَدَّثٍ إِلَّا إِذَا تَمَنَّی ۔
۷۔ اسی طرح قرأ توں میں اس نوعیت کا اختلاف بھی موجود ہے کہ ایک قرأ ت میں ’نُنْشِزُہَا‘ کے الفاظ ہیں اور دوسری میں ’نَنْشُرُہَا‘کے، ایک میں ’فَتَبَیَّنُوْا‘کے الفاظ ہیں اور دوسری میں’فَتَثَبَّتُوْا‘کے اور ایک میں ’طَلْحٍ‘ کے الفاظ ہیں اور دوسری میں ’طَلْعٍ‘ کے۔
قرآن مجید کی قرأ توں کے حوالے سے اس طرح کے کئی اختلافات بیان کیے جاتے ہیں۔ پھر ان میں سے کچھ کو شاذ قرأ ت قرار دے کر قبول نہیں بھی کیا جاتا۔ قراء تو ں کے رد و قبول کا کوئی منصوص معیار موجود نہیں ہے۔ بس اہل فن نے مل کر کچھ شرائط طے کردی ہیں جن پر پورا اترنے والی قرأت کو قبول کیا جاتا اور باقی کو رد کیا جاتا ہے۔
یہ شرائط درج ذیل ہیں:

۱۔ قرأ ت مصحف عثمانی کے رسم الخط کے مطابق ہو۔
۲۔ وہ لغت محاورے اور قواعد زبان کے خلاف نہ ہو۔
۳۔ اس کی سند معتبر اور مسلسل واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہو۔
بہرحال، مختلف قرأ توں کے اس تصور کو قبول کرنے کے بعد یہ خیال غلط قرار پاتا ہے کہ خدا کی طرف سے نازل ہونے والے قرآن کے الفاظ میں ایک زیر، زبر اور ایک شوشے کا بھی فرق نہیں ہے اور مزید یہ کہ بعض قرأ توں سے معنی و مفہوم میں بھی فرق واقع ہو جاتا ہے، بلکہ بعض جگہ شریعت کا حکم بھی بدل جاتا ہے۔
اس سلسلے میں دوسری رائے وہ ہے جسے الزرکشی نے ’البرہان‘ میں ابوعبد الر حمن السلمی سے روایت کیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں:

’’ابو بکر و عمر ، عثمان ،زید بن ثابت اور تمام مہاجرین و انصار کی قرأ ت ایک ہی تھی۔ وہ قر�أت عامہ کے مطابق قرآن پڑھتے تھے۔ یہ وہی قرأ ت ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے سال جبریل امین کو دو مرتبہ قرآن سنایا۔ عرضۂ اخیرہ کی اِس قراء ت میں زیدبن ثابت بھی موجود تھے ۔دنیا سے رخصت ہونے تک وہ لوگوں کو اِسی کے مطابق قرآن پڑھاتے تھے ۔‘‘ (۱/۳۳۱ )

اسی نقطہء نظر کو السیوطی نے اپنی کتاب ’الاتقان‘ میں ابن سیرین سے اس طرح روایت کیا ہے:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات کے سال جس قراء ت پر قرآن سنایا گیا، یہ وہی قراء ت ہے جس کے مطابق لوگ اِس وقت بھی قرآن کی تلاوت کر رہے ہیں۔‘‘ (۱/۱۸۴)

اس رائے کی اصل خوبی یہ ہے کہ اس میں بیان کردہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے کیے گئے ایک وعدے کا لازمی نتیجہ ہے۔
قرآن مجید میں یہ وعدہ دو جگہ بیان ہوا ہے۔ سورہ الاعلیٰ میں ارشاد باری ہے:

سَنُقْرِءُکَ فَلَا تَنْسآی اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ، اِنَّہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ وَمَا یَخْفٰی۔ (۸۷: ۶۔ ۷ )
’’عنقریب (اِسے) ہم (پورا) تمھیں پڑھا دیں گے تو تم نہیں بھولو گے ، مگر وہی جو اللہ چاہے گا ۔ وہ بے شک ، جانتا ہے اُس کو بھی جو اِس وقت (تمھارے)سامنے ہے اور اُسے بھی جو (تم سے)چھپا ہوا ہے۔‘‘

اور سورہ القیامۃ میں ارشاد باری ہے:

لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ، اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَ قُرْاٰنَہٗ ، فَاِذَا قَرَاْنٰہٗ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ ، ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَابَیَانَہٗ۔( ۷۵: ۱۶۔۱۹)
’’اِس (قرآن) کو جلد پا لینے کے لیے ، (اے پیغمبر )، اپنی زبان کو اِس پر جلدی نہ چلاؤ۔ اِس کو جمع کرنا اور سنانا ، یہ سب ہماری ہی ذمہ داری ہے ۔ اِس لیے جب ہم اِس کو پڑھ چکیں تو (ہماری) اُس قراء ت کی پیروی کرو۔ پھر ہمارے ہی ذمہ ہے کہ (تمھارے لیے اگر کہیں ضرورت ہو تو) اِس کی وضاحت کر دیں ‘‘

اس وعدے کی تکمیل کی صورت میں درج ذیل تین واضح نتائج رونما ہوئے:

۱۔ قرآن مجید کی وہ قرأ ت جو زمانہ نزول میں کی جا رہی تھی اس کے بعد اس کی ایک دوسری قرأ ت کی گئی۔اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل شدہ جس چیز کو ختم کرنا چاہا ختم کر دیا، تب قرآن اپنی آخری اور مکمل صورت میں آپ کے پاس محفوظ ہو گیا اور اس میں کسی سہو یا نسیان کو کوئی امکان باقی نہ رہا۔
۲۔ اس دوسری قرأ ت کے بعد آپ اس کے پابند ہوگئے کہ آپ اسی کی پیروی کریں اور پہلی قرأ ت کی پیروی آپ کے لیے جائز نہ رہی۔
۳۔ اس دوسری قرأ ت ہی کے موقع پر خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو جمع و ترتیب اور شرح و وضاحت کے ہر پہلو سے بھی مکمل کر دیا۔
بخاری کی ایک حدیث میں اس دوسری قرأ ت کا ذکر اس طرح سے آیا ہے:

کان یعرض علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم القرآن کل عام مرۃ ، فعرض علیہ مرتین فی العام الذی قبض فیہ۔ ( رقم ۴۹۹۸)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر سال ایک مرتبہ قرآن پڑھ کر سنایا جاتا تھا، لیکن آپ کی وفات کے سال یہ دو مرتبہ آپ کو سنایا گیا۔‘‘

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو اس وقت لازم تھا کہ آپ کی قرأ ت یہی ہوتی، یہی قرأت آپ خلفاے راشدین اور تمام صحابۂ مہاجرین و انصار کو سکھاتے ، وہ اِسی کے مطابق قرآن کی تلاوت کرتے اور اِس معاملے میں اُن کے درمیان کوئی اختلاف نہ ہوتا۔ اوپر ہم نے زرکشی کے حوالے سے ابو عبدالرحمن السلمی کی اور سیوطی کے حوالے سے ابن سیرین کی جو روایات بیان کی ہیں ان میں یہی بتایا گیا ہے کہ صحابہ کے ہاں فی الواقع ایسا ہی تھا۔
ان دو آرا میں سے پہلی نسبتاً زیادہ شائع و ذائع ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عرضہ أخیرہ کی قراء ت سے پہلے جو قرأ ت موجود تھیں ،وہ بھی مختلف روایات کے ذریعے سے امت میں پھیل گئیں اور علما کے ہاں اپنے روایت ہونے کی بنا پر مقبول ہو گئیں اور پھر اس اختلاف کا باعث بنیں۔
بہرحال، غامدی صاحب ان آرا میں سے دوسری رائے کے قائل ہیں، چنانچہ ان کے بارے میں یہ بات کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے کہ انھوں نے اس معاملے میں امت میں موجود آرا سے ہٹ کر کوئی نیا نقطہء نظر قائم کیا ہے۔




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List