Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

متفرق سوالات | اشراق
Font size +/-

متفرق سوالات

[المورد میں خطوط اور ای میل کے ذریعے سے دینی موضوعات پر سوالات موصول ہوتے ہیں۔ المورد کے شعبۂ علم و تحقیق اور شعبۂ تعلیم و تربیت کے رفقا ان سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ یہاں ان میں سے منتخب سوال و جواب کو افادۂ عام کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔]

پردہ

سوال: اسلام میں عورتوں کے حجاب کے حوالے سے کیا تصور پایا جاتا ہے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ وہ نامحرم افراد سے اپنے چہرے، ہاتھوں اور پاؤں کو چھپائیں اور ان کے ساتھ درشتی سے بات کیا کریں؟(محمد کامران)
جواب: بالغ عورت کے لیے پردے کا وہ تصور جو ہمارے ہاں پایا جاتا ہے ، یہ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ چنانچہ یہ بات غلط ہے کہ عورت کو نامحرموں سے اپنا چہرہ،ہاتھ اور پاؤں لازماً چھپانا چاہیے۔ اسی طرح یہ بات بھی غلط ہے کہ عورت کو مردوں کے ساتھ درشتی ہی سے بات کرنی چاہیے۔
صحیح بات یہ ہے کہ مسلمان مرد وں اور عورتوں کو ان کے میل جول کے موقعوں کے حوالے سے کچھ ضروری آداب سکھائے گئے ہیں۔ ان آداب کا ذکر قرآن مجید کی سورۂ نور میں موجود ہے۔ ان میں غض بصر، شرم گاہوں کی حفاظت اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کرنے کا حکم تو موجود ہے، لیکن نامحرموں سے اپنا چہرہ ڈھانکنے کا حکم موجود نہیں ہے۔
اس کے علاوہ سورۂ احزاب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے حوالے سے بعض احکام دیے گئے ہیں، ان میں بے شک یہ بات بھی موجود ہے کہ اگر کسی کو ان سے کوئی چیز مانگنی ہے تو وہ پردے کی اوٹ سے مانگے اور اسی طرح منافقین کے ضرر سے بچنے کے لیے انھیں یہ بھی کہا گیا کہ وہ بلا تمیز ہر آنے والے سے نرمی اور تواضع سے بات نہ کیا کریں،بلکہ صاف اور سیدھی بات کیا کریں تا کہ جس کے دل میں کوئی خرابی موجود ہو، وہ کسی طمع میں گرفتار نہ ہو سکے، لیکن یہ احکام اصلاً،آپ کی ازواج ہی کے ساتھ خاص تھے، جیسا کہ سورۂ احزاب کے اپنے الفاظ سے پتا چلتا ہے۔ اس کے علاوہ اسی سورہ میں مدینے میں موجود منافقین کی شرارتوں سے بچنے کی غرض سے مسلمان عورتوں کو باہر نکلتے ہوئے اپنے اوپر بڑی چادر لینے کا حکم دیا گیا، سورہ کے الفاظ سے پتا چلتا ہے کہ یہ حکم اس صورت حال سے نبٹنے کے لیے ایک حل کے طور پر دیا گیا تھا، اسے سورۂ نور میں موجود احکام کی طرح شریعت کا مستقل حصہ نہیں بنایا گیا تھا۔ پردے کے معاملے میں علماے امت میں اختلاف اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ انھوں نے ان سب احکام کو پوری امت سے متعلق سمجھ لیا۔
مزید تفصیل کے لیے آپ غامدی صاحب کی تصنیف’’میزان‘‘کے باب ’’قانون معاشرت‘‘ میں ’مردوزن کا اختلاط‘ کی بحث کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

 

اسلام اور جہاد

سوال: جہاد کے بارے میں غامدی صاحب کا نقطۂ نظر کیا ہے؟ اس وقت مسلمان مختلف جگہوں پر جو جہاد کر رہے ہیں، غامدی صاحب کی راے میں کیا وہ دینی احکام کے مطابق ہے؟ (اسامہ)
جواب : جہاد کے حوالے سے دین کا حکم کیا ہے ،اسے جاوید احمد صاحب غامدی نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ کے باب ’’قانون جہاد‘‘ میں بیان کیا ہے۔ ذیل میں ہم اسے بیان کیے دیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ خود ہی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس وقت کے حالات میں مسلمانوں کو جہاد کے حوالے سے کیا کرنا چاہیے۔
غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’...یہ (جہاد کی ذمہ داری) ظاہر ہے کہ ایک بھاری ذمہ داری ہے اور مسلمانوں کے کسی نظم اجتماعی پر اُس کی حربی اور اخلاقی قوت کا لحاظ کیے بغیر نہیں ڈالی جا سکتی۔ چنانچہ سورۂ انفال میں قرآن نے وضاحت فرمائی ہے کہ اِس کا لحاظ کیا گیا اور مختلف مراحل میں یہ اِسی کے لحاظ سے کم یا زیادہ کر دی گئی۔
پہلے مرحلے میں جب مسلمانوں کی جماعت زیادہ تر مہاجرین و انصار کے سابقین اولین پر مشتمل تھی اور ایمان و اخلاق کے اعتبار سے اس میں کسی نوعیت کا کوئی ضعف نہ تھا ، وہ دس کے مقابلے میں ایک کی قوت سے اِس ذمہ داری کو پورا کرنے کے پابند تھے ۔ ارشاد فرمایا :

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ، حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ، اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صَابِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِاءَتَیْنِ، وَ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّاءَۃٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لاَّ یَفْقَھُوْنَ.(الانفال۸: ۶۵)
’’اے نبی ،ان اہلِ ایمان کو جہاد پر ابھارو ۔ تم میں سے اگر بیس ثابت قدم ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے ، اور اگر سو ایسے ہوں گے تو ان کافروں کے ہزار پر بھاری رہیں گے ، اس لیے کہ یہ بصیرت سے محروم لوگ ہیں۔‘‘

استاذ امام امین احسن اصلاحی اس بصیرت کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’یہی بصیرت انسان کا اصل جوہر ہے ۔اس بصیرت کے ساتھ جب مومن میدان جنگ میں نکلتا ہے تو وہ اپنے تنہا وجود کے اندر ایک لشکر کی قوت محسوس کرتا ہے ، اس کو اپنے داہنے بائیں خدا کی نصرت نظر آتی ہے ،موت اُس کو زندگی سے زیادہ عزیز ومحبوب ہو جاتی ہے ۔ اِس لیے کہ اُس کی بصیرت اُس کے سامنے اس منزل کو روشن کر کے دکھا دیتی ہے جو اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہی بصیرت اُس کے اندر وہ صبرو ثبات پیدا کرتی ہے جو اُس کو تنہا اِس بصیرت سے محروم دس آدمیوں پر بھاری کر دیتی ہے ۔‘‘ (تدبر قرآن ۳ /۵۰۶۔ ۵۰۷)

یہ پہلا مرحلہ تھا ۔اِس کے بعد نئے لوگ اسلام میں داخل ہوئے ۔اِس مرحلے میں مسلمانوں کی تعداد اگرچہ بہت بڑھ گئی ،لیکن دین کی بصیرت کے لحاظ سے وہ سابقین اولین کے ہم پایہ نہیں رہے تو اللہ تعالیٰ نے اِس ذمہ داری کا بوجھ بھی اُن پر ہلکا کر دیا اور فرمایا:

اَلْءٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا، فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّاءَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا مِاءَتَیْنِ، وَ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْآ اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِ، وَ اللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ.(الانفال ۸ : ۶۶)
’’اب اللہ نے تمھارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے اور جان لیا ہے کہ تم میں کمزوری آ گئی ہے۔ لہٰذا تم میں سے اگر سو ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر ہزار ایسے ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر بھاری رہیں گے اور (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو (اُس کی راہ میں) ثابت قدم رہیں۔‘‘‘‘(میزان۵۸۳۔۵۸۴)

اس کی وضاحت کرتے ہوئے غامدی صاحب نے لکھا ہے کہ:

’’اول یہ کہ ظلم و عدوان کا وجود متحقق بھی ہو تو جہاد اس وقت تک فرض نہیں ہوتا ،جب تک دشمن کے مقابلے میں مسلمانوں کی حربی قوت ایک خاص حد تک نہ پہنچ جائے ۔ سابقین اولین کے ساتھ دوسرے لوگوں کی شمولیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی میں دو کے مقابلے میں ایک مقرر کر دی تھی ۔ بعد کے زمانوں میں یہ تو متصور نہیں ہو سکتا کہ یہ اِس سے زیادہ ہو سکتی ہے ،لہٰذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جہاد و قتال کی اِس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ اپنے اخلاقی وجود کو محکم رکھنے کی کوشش کریں ، بلکہ اپنی حربی قوت بھی اُس درجے تک لازماً بڑھائیں جس کا حکم قرآن نے زمانۂ رسالت کے مسلمانوں کو اُس وقت کی صورت حال کے لحاظ سے دیا تھا:

وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَعَدُوَّکُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِھِمْ لَا تَعْلَمُوْنَھُمْ، اَللّٰہُ یَعْلَمُھُمْ، وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ.( الانفال۸:۰ ۶)
’’اور اِن کافروں کے لیے ، جس حد تک ممکن ہو، حربی قوت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو جس سے اللہ کے اورتمھارے اِن دشمنوں پر تمھاری ہیبت رہے اور اِن کے علاوہ اُن دوسروں پر بھی جنھیں تم نہیں جانتے ،(لیکن) اللہ اُنھیں جانتا ہے اور (جان رکھو کہ) اللہ کی اِس راہ میں تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے ،وہ تمھیں پورا مل جائے گا اور تمھارے ساتھ کوئی کمی نہ ہو گی۔‘‘ ‘‘(میزان ۵۸۶)

یہ غامدی صاحب کا نقطۂ نظر اور اس کا استدلال ہے۔ اس کے بعد آپ خود یہ اندازہ لگائیں کہ دنیا میں کس کس جگہ جہاد قرآن مجید کی ان ہدایات کے مطابق کیا جارہا ہے۔جہاں جہاں جہاد قرآن کی ہدایات کے مطابق کیا جا رہا ہے، وہاں اسے قائم رکھنا چاہیے اور جہاں اس کے مطابق نہیں کیا جا رہا ، یقیناًوہاں سے اسے ختم ہوجانا چاہیے۔
مزیدتفصیل کے لیے آپ غامدی صاحب کی کتاب ’’میزان‘‘ کے باب ’’قانون جہاد‘‘ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

قرآن فہمی کے متعلق اختلاف راے

سوال: جاوید احمد صاحب غامدی علامہ پرویز صاحب کی قرآن فہمی سے کس حد تک متفق ہیں ؟ علماے کرام نے پرویز صاحب پر کفر کے بہت فتوے لگائے تھے ، غامدی صاحب کی پرویز صاحب کے بارے میں کیا راے ہے ، کیا وہ صحیح تھے یا غلط؟ (صفدر اقبال)
جواب: معاملہ یہ ہے کہ غامدی صاحب اور پرویز صاحب کی قرآن فہمی میں کوئی اتفاق نہیں ہے۔ ان دونوں حضرات کے قرآن فہمی کے اصولوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ غامدی صاحب نے اپنے قرآن فہمی کے اصولوں کو اپنی کتاب ’’اصول ومبادی‘‘میں ’’مبادی تدبر قرآن‘‘ کے عنوان کے تحت تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے، انھیں آپ وہاں دیکھ سکتے ہیں اور پرویز صاحب نے اپنی تفسیر ’’مفہوم القرآن‘‘ کی ابتدا میں اپنے اصولوں کو بیان کیا ہے۔ ان دونوں حضرات کے اصولوں میں پائے جانے والے ایک بنیادی فرق کو میں یہاں بیان کر دیتا ہوں۔
غامدی صاحب کے نزدیک قرآن فہمی کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کے الفاظ کے وہی معنی لیے جائیں جو نزول قرآن کے زمانے میں عربوں میں مستعمل تھے، جبکہ پرویز صاحب کے نزدیک کسی لفظ کے معنی اس کے مادے (root) سے طے کیے جائیں گے۔
تفصیل کے لیے آپ ان دونوں حضرات کی قرآن فہمی سے متعلق کتب کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
ہمارے نزدیک کسی پر کفر کا فتویٰ لگانا درست نہیں ہے۔ ہم دوسرے کی آرا سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ اس کے خیالات کو غلط قرار دے سکتے ہیں، لیکن کسی کو کافر کہنے کا حق ہمیں حاصل نہیں۔ہمارے نزدیک دین کے معاملے میں پرویزصاحب کی کئی آرا یکسر غلط تھیں۔

 

اسلام میں زنا کی سزا

سوال: میں اپنی سوتیلی بھتیجی کے ساتھ زنا کر بیٹھا ہوں ، اپنے گناہ کے کفارے کے لیے مجھے کیا کرنا ہو گا اور اسلام میں اس جرم کی کیا سزا ہے ؟ (آصف حسین)
جواب: ظاہر ہے کہ زنا ایک بڑا جرم ہے۔ دنیا میں بھی اس کی سزا بہت سخت ہے، لیکن آخرت میں تو بہت ہی شدید ہے۔
ارشاد باری ہے:

’’ اور جو کوئی ان گناہوں (شرک،قتل اور زنا) کا مرتکب ہو گا، وہ اپنے گناہوں کے انجام سے دو چار ہو گا، قیامت کے دن اس کے عذاب میں درجہ بدرجہ اضافہ کیا جائے گا اور وہ اس میں خوار ہو کر ہمیشہ رہے گا، مگر جو توبہ کر لیں گے ، ایمان لائیں گے اور عمل صالح کریں گے تو اللہ ان کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ (الفرقان۲۵:۶۸ ۔ ۷۰)

آپ نے اس گناہ کی جو صورت بیان کی ہے، وہ اپنے اندر مزید شناعت رکھتی ہے، لہٰذا آپ خدا سے اپنے گناہ کی بہت معافی مانگیں، روزے رکھیں اور سچی توبہ کریں، کیونکہ توبہ سے ہر گناہ معاف ہو جاتا ہے اور آیندہ ایسے کسی گناہ کے قریب بھی نہ پھٹکیں۔
اسلام میں زنا کی سزا سو کوڑے ہے، البتہ بعض خاص صورتوں میں اس کے ساتھ عبرت ناک طریقے سے قتل کرنے کی سزا بھی شامل ہو جاتی ہے۔ سنگ ساری اس قتل ہی کی ایک شکل ہے۔ کسی مجرم کو یہ سزا تب ملتی ہے جب اس کا مقدمہ قاضی کے سامنے آ جائے اور وہ اس کے بارے میں اس سزا کا فیصلہ سنا دے۔
لیکن اگر اللہ کسی کے گناہ کی پردہ پوشی کرتا ہے اور اس کا گناہ قاضی کے سامنے نہیں آتا تو اسے خود بھی چاہیے کہ وہ اپنے گناہ کو چھپائے اور اللہ سے انتہائی توبہ کرے تا کہ قیامت کو جب کامل انصاف کے لیے سب مقدمے اللہ کی عدالت میں لگیں گے اور ہر ہر گناہ کو دیکھا جائے گا تو اس وقت یہ شخص جہنم کی سزا سے بچ جائے۔

سورۂ مائدہ کی آیت ۶ کا مفہوم

سوال: سورۂ مائدہ کی آیت ۶ کا مفہوم واضح فرما دیں؟(ریاض میمن)
جواب: سورۂ مائدہ کی آیت ۶ کا ترجمہ درج ذیل ہے:

’’اے ایمان والو، جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے ہاتھ اور منہ کہنیوں تک دھو لواور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوؤ اور اگرحالت جنابت میں ہوتو غسل کر لو، اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی جاے ضرورت سے آیا ہو یا عورتوں سے ملاقات کی ہو، پھر پانی نہ پاؤ تو پاک جگہ دیکھ کر اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر اس سے مسح کر لو، اللہ یہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمھیں پاک کرے اور تم پر اپنی نعمتیں تمام کرے تاکہ تم اس کے شکر گزار ہو۔‘‘(مائدہ۵:۶)

اس آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ:

ا۔ اگر آدمی بے وضو ہے تو اسے نماز پڑھنے کے لیے لازماًوضو کرنا چاہیے۔
۲۔ اور اگر وہ حالت جنابت میں ہے تو پھر لازم ہے کہ وہ غسل کرے۔
۳۔ اگر آدمی مریض ہے اور اس کے لیے پانی کا استعمال درست نہیںیا وہ سفر میں ہے اور اسے وضو کے لیے پانی میسر نہ ہو یا وہ پیشاب اور پاخانے سے فارغ ہو کر آیا ہے، لیکن اس کے پاس بقدر ضرورت پانی نہ ہو تو اس صورت میں اسے چاہیے کہ وہ نماز پڑھنے کے لیے وضو کی جگہ تیمم کر لے۔
۴۔ اسی طرح اگر ایک آدمی کو غسل کی ضرورت ہے، لیکن وہ مریض ہے اور اس کے لیے پانی کا استعمال درست نہیںیا وہ سفر میں ہے اور اس کے پاس پانی نایاب یا کم یاب ہے یا سفر کی اپنی مجبوریوں کے باعث پانی کے ہوتے ہوئے اس کے لیے غسل کرنا ممکن نہیں ہے تو وہ بھی غسل کی جگہ تیمم کر لے۔
غامدی صاحب نے ’’میزان‘‘ کے باب ’’قانون عبادات‘‘میں تیمم کی رخصت کو ان الفاظ میں واضح کیا ہے:

’’سفر، مرض یا پانی کی نایابی کی صورت میں یہ دونوں مشکل ہو جائیں تو ... اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ آدمی تیمم کر سکتا ہے ۔ اس کا طریقہ ... یہ بتایا گیا ہے کہ کوئی پاک جگہ دیکھ کر اُس سے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کر لیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ آپ نے اِس کے لیے دونوں ہاتھ مٹی پر مارے ، پھر اُن پر پھونک مار کر الٹے ہاتھ سے سیدھے ہاتھ پر اور سیدھے ہاتھ سے الٹے ہاتھ پر مسح کیا ، پھر دونوں ہاتھوں سے چہرے پر مسح کر لیا۔ قرآن نے صراحت کی ہے کہ تیمم ہر قسم کی نجاست میں کفایت کرتا ہے ۔ وضو کے نواقض میں سے کوئی چیز پیش آئے تو اُس کے بعد بھی کیا جا سکتا ہے اور مباشرت کے بعد غسل جنابت کی جگہ بھی کیا جا سکتا ہے ۔ اِسی طرح یہ صراحت بھی کی ہے کہ مرض اور سفر کی حالت میں پانی موجود ہوتے ہوئے بھی آدمی تیمم کر سکتا ہے۔‘‘(میزان۲۸۲،۲۸۶)

عذاب قبر کا ثبوت

سوال: کیا قرآن مجید میں عذاب قبر کا کوئی ثبوت موجود ہے؟(ریاض میمن)
جواب:قرآن مجید کی درج ذیل آیات سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کے براہ راست مخاطبین کے لیے قبر، یعنی عالم برزخ کا عذاب بر حق ہے:

’’اور فرعون والوں کو برے عذاب نے گھیر لیا، آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گی، حکم ہو گا: فرعون والوں کو بدترین عذاب میں داخل کرو۔‘‘(المومن۴۰:۴۵۔ ۴۶)

یعنی قیامت سے پہلے اس وقت وہ صبح و شام آگ پر پیش کیے جا رہے ہیں۔

’’تم ان (منافقوں) کو نہیں جانتے ، ہم انھیں جانتے ہیں۔ ہم انھیں دو مرتبہ عذاب دیں گے۔ پھر یہ عذاب عظیم کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ (التوبہ۹: ۱۰۱)

یعنی ایک مرتبہ دنیا میں اور دوسری مرتبہ عالم برزخ میں اور پھر اس کے بعد جہنم کا عذاب عظیم۔
چنانچہ ان دونوں آیات سے یہ پتا چلتا ہے کہ رسولوں کے مخاطبین اگر ان کی تکذیب کر دیں تو وہ قیامت سے پہلے عالم برزخ میں بھی عذاب میں گرفتار ہوتے ہیں۔احادیث میں اسی عذاب کو عذاب قبر سے تعبیر کیا گیا ہے۔

روزہ و نماز کے لیے اوقات کا تعین

سوال: جن علاقوں میں چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوتی ہے، ان میں نمازیں کیسے پڑھی جائیں گی اور روزے کیسے رکھے جائیں گے؟(ندیم الحق)
جواب: جن علاقوں میں چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوتی ہے ۔ کیا ان میں آدمی چھ ماہ سوتا اور چھ ماہ جاگا کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ وہ دن اور رات کی لمبائی اور چھوٹائی سے قطع نظر اپنے لیے چوبیس گھنٹے کا پروگرام بناتا ہے۔اور پھر اس کے مطابق وہ کھاتا پیتا ،سوتا جاگتا اور دیگر کام کاج کرتا ہے۔حالانکہ مسلسل دن یا مسلسل رات چل رہی ہوتی ہے۔ چنانچہ کیا مشکل ہے کہ آدمی اسی طرح چوبیس گھنٹوں میں اپنی پنج وقتہ نمازوں کے اوقات اور سال کے روزوں کو کسی قریبی علاقے کے اوقات کے مطابق متعین کر لے۔

 

خلائی شٹل میں نماز کی ادائیگی

سوال: ’Space shuttle‘ چالیس منٹوں میں زمین کے گرد ایک چکر پورا کر لیتی ہے، یعنی ان چالیس منٹوں کے بعد اس پر سورج دوبارہ طلوع ہو جاتا ہے، چنانچہ سوال یہ ہے کہ اس کے اندر رہنے والے دن بھر کی پانچ نمازیں ان چالیس منٹوں میں کیسے ادا کر سکتے ہیں؟(ندیم الحق)
جواب:یہ بات بہت غلط ہے کہ اگر ’Space shuttle‘ زمین کے گرد اپنا چکر چالیس منٹ میں طے کر لے گی تو ہم یہ کہیں گے کہ اس کے اندر رہنے والوں کی زندگی ان چالیس منٹوں ہی میں ایک دن کم ہو گئی ہے۔ چنانچہ ان پر یہ لازم ہے کہ وہ ان چالیس منٹوں ہی میں اپنی چوبیس گھنٹوں پر پھیلی ہوئی ساری ذمہ داریاں ادا کر لیا کریں۔
انسان اس زمین پر پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ جب تک اس کے لیے وقت کی رفتار وہی رہے گی جو زمین پر ہے، اس وقت تک اس کا دن وہی ہو گا جو زمین کا دن ہے، نہ کہ چالیس منٹ وغیرہ۔
اس بات کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھیں۔ آپ سہولت کے لیے یہ فرض کریں کہ سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے اور اب ’Space shuttle‘ صرف ایک سیکنڈ میں زمین کے گرد ۳۶۵ چکر پورے کرنے لگ گئی ہے تو کیا اب انسان کی عمر ستر یا اسی سال کے بجاے ستر یا اسی سیکنڈ ہوا کرے گی۔

 

حرام کاموں میں شناعت کا فرق

سوال: شراب بیچنے اور جوئے میں حصہ لینے میں اور قدم قدم پر جائز کاموں کے لیے رشوت دینے میں شناعت کے لحاظ سے کیا فرق ہے ؟ (احمد سعید)
جواب:دل کی رضا و رغبت کے ساتھ شراب بیچنے اور جوئے میں حصہ لینے میں اور نظام کی خرابی کی وجہ سے قدم قدم پر جائز کاموں کے لیے مجبوراً رشوت دینے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پہلی چیز سر تا سر گناہ ہے اور دوسری میں مجبوراً آدمی کے لیے سرے سے کوئی گناہ ہی نہیں۔ جو رشوت کسی سے ناجائز کام کرانے کے لیے اس کو دی جاتی ہے، وہ رشوت دینا گناہ ہے۔اپنا حق وصول کرنے کے لیے اگر آپ کو کسی محکمے کے افسروں کو کچھ تاوان دینا پڑتا ہے تو آپ کے لیے یہ گناہ نہیں ہے۔

 




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List