Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

ابو طالب سے مکالمہ | اشراق
Font size +/-

ابو طالب سے مکالمہ

 

(مسلم، رقم ۲۴)

عن المسیب رضی اﷲ عنہ قال : لما حضرت أبا طالب الوفاۃ جاء ہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم. فوجد عندہ أبا جہل وعبد اﷲ بن أبی أمیۃ بن المغیرۃ. فقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: یاعم، قل لا إلٰہ إلا اﷲ کلمۃ أشہد لک بہا عند اﷲ. فقال أبوجہل وعبد اﷲ بن أبی أمیۃ: یا أبا طالب، أترغب عن ملۃ عبد المطلب. فلم یزل رسول اﷲ صلیاﷲ علیہ وسلم یعرضہا علیہ ویعید لہ تلک المقالۃ حتی قال أبوطالب آخر ما کلمہم ہو علی ملۃ عبد المطلب وأبی أن یقول لا إلٰہ إلا اﷲ. فقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم أما واﷲ لأستغفرن لک مالم أنہ عنک. فأنزل اﷲ عز وجل: ما کان للنبی والذین آمنوا أن یستغفروا للمشرکین ولو کانوا أولی قربی من بعد ما تبین لہم أنہم أصحاب الجحیم. وأنزل اﷲ تعالٰی فی أبی طالب فقال لرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: إنک لا تہدی من أحببت ولکن اﷲ یہدی من یشاء وہو أعلم بالمہتدین.
’’حضرت مسیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا موقع آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے۔ آپ نے دیکھا کہ ان کے پاس ابوجہل اور عبد اﷲ بن ابی امیہ بھی موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چچا، لا الٰہ الا اللہ کا کلمہ کہہ دیجیے میں اس کی بنا پر آپ کے لیے گواہی دوں گا۔ اس پر ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ نے کہا: ابوطالب، کیا تم عبد المطلب کے طریقے سے ہٹ جاؤ گے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کلمہ پیش کرتے رہے اوروہ اپنی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ابو طالب نے انھیں آخر کار یہی بات کہی کہ میں عبد المطلب کے طریقے پر ہوں، اس طرح انھوں نے لا الٰہ الا اللہ کہنے سے انکار کر دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخدا، میں اس وقت تک آپ کے لیے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا جب تک اس سے روک نہ دیا جاؤں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم نازل ہوا:نبی اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کے لیے درست نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے اگرچہ وہ قرابت مند ہی ہوں،حق کے واضح ہونے کے بعد دعاے مغفرت کریں۔ (بطور خاص) ابو طالب کے بارے میں اللہ تعالیٰ (نے آیات )نازل کیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:تم انھیں ہدایت نہیں دے سکتے جنھیں تم (ہدایت دینا ) چاہتے ہو۔ لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ہدایت چاہنے والوں کو جانتا ہے۔‘‘

اگلی روایت میں مسلم میں یہ تصریح ہے کہ صالح کی روایت آیتوں کے ذکر سے پہلے ختم ہو جاتی ہے۔ اور معمر کی روایت میں ’یعید ‘کے بجائے’ یعیدان ‘آیا ہے۔

عن أبی ہریرۃ قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم لعمہ عند الموت قل لا إلٰہ إلا اﷲ أشہد لک بھا یوم القیامۃ، فأبی. فأنزل اﷲ : إنک لا تہدی من أحببت .
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کے وقت اپنے چچا سے کہا تھا: آپ لا الٰہ الا اللہ کہہ دیجیے، میں قیامت کے دن آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ انھوں نے انکار کردیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جس کے بارے میںآپ پسند کرتے ہیں(کہ وہ ہدایت پائے)...۔‘‘

عن أبی ہریرۃ رضی اﷲ عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم لعمہ قل: لا إلٰہ إلا اﷲ أشہد لک بہا یوم القیامۃ. قال: لو لا أن تعیرنی قریش یقولون إنما حملہ علی ذلک الجزع لاقررت بہا عینک. فأنزل اﷲ: إنک لا تہدی من أحببت ولکن اﷲ یہدی من یشاء .
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے کہا: آپ لا الٰہ الا اللہ کہہ دیجیے میں قیامت کے دن آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ انھوں نے کہا: اگرایسا نہ ہوتا کہ قریش مجھے یہ کہتے ہوئے عار دلاتے کہ اسے اس گھبراہٹ نے اس پر آمادہ کیا ہے تو میں تمھارے کہنے کے مطابق اقرار کر لیتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جس کے بارے میںآپ پسند کرتے ہیں(کہ وہ ہدایت پائے)۔ لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘

لغوی مباحث

أبو طالب: یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے اور ان کا اصل نام عبد مناف تھا۔ نووی رحمہ اﷲنے تصریح کی ہے کہ ان کی وفات ہجرت سے تھوڑا ہی عرصہ پہلے ہوئی اور ابن فارس کے حوالے سے لکھا ہے کہ ابوطالب کی وفات کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۴۹ سال آٹھ مہینے اور گیارہ دن تھی ۔ ابوطالب کی وفات کے تین دن بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہابھی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
أبا جہل: ابو جہل کا اصل نام عمرو بن ہشام تھا۔
أما واﷲ:یہ بعض روایات میں الف کے بغیر یعنی ’ أم واﷲ ‘ بھی روایت ہوا ہے۔ قسم کے ساتھ بالعموم اسے ایسے ہی بولا جاتا ہے اورقسمیہ جملے کے شروع میں الا کی طرح بطور کلمۂ افتتاح کے آتا ہے۔ اس کاایک استعمال ’ أحقاً‘ کے معنی میں ہے۔ مثلا: ’ أحقا إن زیدا منطلق ‘کے بجائے’ أما إن زیدا منطلق‘۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ حرف استفہام کے ساتھ ما مزیدہ جوڑ کر بنایا گیا ہے۔
الجزع: بعض روایات میں ’ جزع‘ کی جگہ ’ خرع‘ آیا ہے۔ ’ جزع‘ کے معنی موت کے خوف کے ہیں۔ جبکہ ’خرع‘ کے معنی کمزوری اور دہشت کے ہیں۔ بعض شارحین کا خیال ہے کہ یہاں ’خرع‘ زیادہ موزوں ہے۔ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ اختلاف لکھی ہوئی عبارت کو پڑھنے میں ہوا ہے۔ قرائن ’ جزع‘ کے حق میں ہیں۔

معنی

اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مکہ کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے ۔ اس واقعے سے چار نکات سامنے آتے ہیں۔ آیندہ سطور میں ہم ان کی وضاحت کریں گے۔
پہلی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے متعلق ہے۔ اس کے بھی دوپہلو ہیں۔ ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے اہل خاندان سے غایت درجہ محبت کا ہے۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کو بار بار کلمۂ توحید کہنے کی دعوت دی اور کہا کہ آپ یہ کلمہ کہہ دیجیے، میں اس کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ سے آپ کی مغفرت کے لیے سفارش کروں گا۔یہ اصرار اس بات کا غماز ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دل کی گہرائیوں سے یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے چچا جہنم میں جانے سے بچ جائیں۔ دوسرا پہلو آپ کے داعیانہ کردار کا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کو بڑی محبت سے دعوت دی۔ چچا اس دعوت کی حقانیت سے آگاہ ہیں، لیکن برادری کے کچھ لوگوں کے دباؤ کے باعث وہ ایمان قبول نہیں کر پاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس صورت حال کی قباحت کو دیکھ کر کمال حوصلے کا ثبوت دیتے ہیں۔ برادری کے لوگوں کو کچھ نہیں کہتے اور چچا سے غایت درجہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ میں آپ کی مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا، الاّ یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے روک دیں۔آج کا داعی اگر اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرتا تو مجلس کے لوگوں کو برا بھلا کہتا ہوا اٹھ آتا اور چچا کو نفرین بھیجتا۔ اس واقعے میں دعوت کا کام کرنے والوں کے لیے دو سبق ہیں: ایک یہ کہ انھیں کس طرح اپنے خاندان کا خیر خواہ ہونا چاہیے اور دوسرے یہ کہ یہ خیر خواہی خواہ بات بے سبب ہی رد کر دی گئی ہو کس طرح قائم رہنی چاہیے اور کسی طرح بھی اشتعال میں نہیں آنا چاہیے۔
دوسری بات حق وباطل کی کشمکش سے متعلق ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں واضح حق کے ساتھ کھڑے تھے اور اہل مکہ کو اس حق کو قبول کرنے کی دعوت دے رہے تھے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بسا اوقات آدمی پر حق واضح ہوتا ہے، لیکن وہ اپنے خاندان ، اپنے آبا اور اپنی انا کی حد کو پھلانگنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ چنانچہ حق سے محروم رہ جاتا ہے۔ استاد محترم نے اس روایت کا درس دیتے ہوئے بیان کیا کہ ابو طالب اسی کشمکش سے دوچار تھے۔ ممکن تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دل پزیر دعوت اس موقع پر موثر ہو جاتی، لیکن خاندان کے لوگوں نے خاندانی تعصب اور انا کو جگایا اور ابو طالب کو ایمان کی نعمت میسر نہ آسکی۔
تیسری بات ایمان کے نافع ہونے سے متعلق ہے۔شارحین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ فرعون جب غرق ہو رہا تھا تو اس نے ایمان قبول کرنے کی بات کہی تھی، لیکن اس کا یہ ایمان رد کر دیا گیا تھا۔ کیا ابوطالب کی صورت حال بھی یہی نہیں ہے۔ وہ موت کے کنارے پہنچے ہوئے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں ایمان کی دعوت دے رہے ہیں اور یہ امید دلا رہے ہیں کہ وہ اگر ایمان قبول کر لیں گے تو وہ ان کے ایمان قبول کرنے کی شہادت دیں گے۔شارحین نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ ایمان قبول کرنے کا موقع اس وقت تک ہے جب تک مرنے والا حقائق کو دیکھ نہ لے۔ انھوں نے اپنی بات کو مکالمے سے موکد کیا ہے ۔ یعنی جب ابوطالب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل خاندان کی بات سنی اوراپنے شعور کے ساتھ اس کا جواب بھی دیا تو اس سے واضح ہے کہ وہ مرض الموت میں توتھے، لیکن ابھی انھیں مشاہدہ نہیں ہوا تھا۔ ہمارے خیال میں دونوں معاملات میں فرق دوسرا ہے۔ فرعون اس عذاب سے دوچار تھا جس عذاب سے رسول کی مخاطب قومیں دوچار ہوتی ہیں۔ یہ عذاب ایک وعدے کی صورت میں پورا ہوتا ہے اور جب یہ عذاب آتا ہے تو حقیقت بالکل عریاں ہو جاتی ہے۔ جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت، مکہ میں جب یہ واقعہ پیش آیا تھا، اس مرحلے میں داخل نہیں ہوئی تھی جب سزا نافذ کر دی جاتی ہے اور لوگوں سے حق قبول کرنے کا موقع چھن جاتا ہے۔
چوتھی بات دو آیات کے شان نزول سے متعلق ہے۔ استاد محترم نے اپنے درس میں واضح کیا کہ دعاے مغفرت سے روکنے والی آیت سورۂ توبہ کی ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ یہ سورہ اس واقعے کے بہت بعد میں مدینہ میں نازل ہوئی۔ یہ ممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نزول تک دعا کرتے رہے ہوں اور اس کے نزول کے بعد دعا کرنے سے رک گئے ہوں اور آپ نے اس کا تذکرہ بھی صحابہ سے کیا ہو، لیکن یہ بات درست نہیں ہے کہ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی تھی۔ دوسری آیت سورۂ قصص کی ہے۔ اس کے سیاق وسباق کی رو سے اس کا مطلب یہ ہے کہ حق کے قبول کرنے کی نعمت اسے حاصل ہوتی ہے جو حق کو دلائل کی بنیاد پر قبول کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر کسی کو ایمان کی نعمت کی سرفرازی حاصل نہیں ہوگی۔ یہ ایک اصولی بات ہے اور اسے کسی ایک واقعے سے متعلق قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ استاد محترم کی رائے کے مطابق ان دونوں آیات کے نزول کی وجہ یہ واقعہ نہیں ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی معنوی مناسبت کی وجہ سے کسی راوی نے انھیں اس واقعے سے جوڑ دیا ہے۔صاحب فتح الملہم نے ایک روایت کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کے حوالے سے نازل ہوئی تھی۔ اوپر کی تفصیل سے واضح ہے کہ یہ بیان بھی ناقابل قبول ہے۔
اس روایت کے حوالے سے ایک ضمنی بحث ان روایات سے پیدا ہوئی ہے جن میں یہ بیان ہوا ہے کہ بالآخر ابوطالب نے کلمۂ توحید پڑھ لیا تھا۔ صاحب فتح الملہم نے اس پر جرح کرتے ہوئے رائے دی ہے کہ قوی روایات وہی ہیں جن میں ایمان قبول نہ کرنے کا ذکر ہوا ہے۔
فتح الملہم میں واحدی کے حوالے سے یہ بات بیان کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس موقع پر وہاں جانے کی وجہ کیا ہوئی تھی۔ ابو طالب جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے اور انھوں نے اپنے لوگوں سے اپنی تکلیف کا ذکر کیا تو ان لوگوں نے کہا کہ اپنے بھتیجے کو بلا بھیجو ۔ وہ ایک جنت کا ذکر کرتا ہے وہ اپنی اس جنت سے تمھارے لیے کچھ بھیج دے جو تمھارے لیے شفا ہو۔ یہ پیغام بھیج دیا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اس جنت کا طعام اور مشروبات اہل کفر کے لیے حرام ہیں۔ پھر آپ خود تشریف لائے اور یہ ساری بات ہوئی۔

متون

امام مسلم رحمہ اللہ نے اس روایت کے تمام اہم متون نقل کر دیے ہیں۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ کچھ متون میں واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے، کچھ میں محض حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے کلمہ پڑھنے کی دعوت دینے اور ابوطالب کے انکار کو بیان کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ باقی فرق لفظی ہیں۔ مثلاً ’ لما حضرت الوفاۃ‘ والے جملے میں فاعل، فعل اور متعلقات کی ترتیب کی تمام صورتیں روایت ہو گئی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوجہل وغیرہ کے اصرار کو بھی مختلف اسالیب میں بیان کیا گیا ہے۔ کہیں ’ فسکت فأعادہا‘ اور کسی میں’ فلم یزالا یکلمانہ ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ لیکن زیادہ مرویات مسلم رحمہ اللہ کے متن کے مطابق ہیں۔ اسی طرح ’ أشہد‘ کے بجائے ’ أحاج‘ اور ’أشفع‘ کا فعل بھی آیا ہے۔
مستدرک حاکم میں باقی واقعہ تو اسی طرح ہے، لیکن ابوطالب کی تعریف کے کچھ جملے بڑھائے گئے ہیں۔ اس روایت کے مطابق حضور نے کلمے کی طرف بلانے سے پہلے کہا تھا:

یا عم إنک أعظمہم علی حقا وأحسنہم عندی یدا ولأنت أعظم حقا علی من والدی فقل کلمۃ تجب لک علی بہا الشفاعۃ یوم القیامۃ قل لا إلٰہ إلا اﷲ.(رقم، ۳۲۹۱)
’’ اے چچا، آپ مجھ پر حق میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ دست شفقت (رکھنے میں ) میرے نزدیک ان سب سے اچھے ہیں۔ میرے اوپر قائم حق میں آپ میرے والد سے بڑھ کر ہیں۔ آپ ایک کلمہ پڑھ دیجیے جو آپ کے لیے قیامت کے دن میرے اوپر شفاعت واجب کردے گا۔ آپ لا الٰہ الا اللہ کہہ دیجیے۔‘‘

ابن حبان میں اسی طرح کے ایک اور واقعے کا بیان ملتا ہے:

عن ابن عباس قال مرض أبو طالب فأتتہ قریش وأتاہ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم یعودہ وعند رأسہ مقعد رجل. فقام أبوجہل. فقعد فیہ. فشکوا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم إلی أبی طالب. فقالوا: إن بن أخیک یقع فی آلہتنا. قال: ما شأن قومک یشکونک یا بن أخی. قال: یا عم إنما أردتہم علی کلمۃ واحدۃ تدین لہم بہا العرب وتؤدی إلیہم بہا العجم الجزیۃ. قال: وما ہی؟ قال: لا إلٰہ إلا اﷲ. فقالوا: أجعل الآلہۃ إلہا واحدا. قال: ونزلت: ص. والقرآن ذی الذکر. إلی قولہ إن ہذا لشیء عجاب.(رقم،۶۶۸۶)
’’حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ابو طالب بیمار ہوئے تو قریش اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے آئے۔ ان کے سر کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ ابوجہل اٹھا اوراس جگہ پر بیٹھ گیا۔ قریش نے ابو طالب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت کی۔ انھوں نے کہا: یہ تمھارا بھائی جایا ہمارے معبودوں کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ابوطالب نے کہا: بھائی کے بیٹے تیری قوم کو کیا ہوا کہ تیری شکایت کرتی ہے۔ آپ نے کہا: چچا جان، میں تو انھیں ایک کلمے پر لانا چاہتا ہوں جسے یہ اختیار کر لیں توعرب ان کی اطاعت کریں گے اور عجم انھیں جزیہ دیں گے۔ پوچھا: وہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: لا الٰہ الااللہ۔ انھوں نے سوال کیا: کیا اس نے سب معبودوں کو ایک کر دیا: چنانچہ سورۂ ص کی ’لشئ عجاب ‘تک آیات نازل ہوئیں۔‘‘

بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ابن حبان میں منقول یہ واقعہ مرض الموت سے متعلق نہیں ہے۔

کتابیات

بخاری، رقم۱۲۹۴، ۳۶۷۱، ۴۳۹۸، ۴۴۹۴، ۶۳۰۳۔ مسلم، رقم۲۴،۲۵۔ ترمذی، رقم ۳۱۸۸۔ ابن ماجہ، رقم۲۰۹۷۔ المستدرک، رقم ۳۲۹۱۔ نسائی، رقم ۲۰۳۵۔ ابن حبان، رقم ۹۸۲، ۲۶۷۰، ۶۶۸۶، ۶۲۷۰۔ احمد، رقم ۱۵۹۰، ۲۰۰۸،۹۶۰۸، ۹۶۸۵، ۲۳۷۲۴۔ سنن کبریٰ، رقم۲۱۶۲، ۱۱۲۳۰، ۱۱۳۸۳، ۱۱۳۸۴، ۱۱۴۳۶۔ ابویعلیٰ، رقم۶۱۷۸۔ معجم کبیر، رقم۸۲۰۔ الآحاد والمثانی، رقم۲۷۰۔ اسحاق بن راہویہ، رقم۲۰۸۔




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List