Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 286 آیات ) Al-Baqarah Al-Baqarah
Go
  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا مرکزی مضمون دعوت ایمان ہے۔ ایمان کی طرف اشارہ تو، جیسا کہ ہم نے بیان کیا، سورہ فاتحہ میں بھی ہوچکا ہے لیکن وہ اجمالی ایمان ہے جو جذبہ شکر کی تحریک اور اللہ تعالی کی ربوبیت ورحمت کی نشانیوں کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سورہ میں اس اجمال نے تفصیل کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس میں نہایت واضح طور پر قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ گویا سورہ فاتحہ میں ایمان باللہ کا ذکر ہے۔ اور سورہ بقرہ میں ایمان بالرسالت کا۔

    ایمان کی اصلی حقیقت ایمان بالرسالت ہی سے وجود پذیر ہوتی ہے۔ اگر ایمان بالرسالت موجود نہ ہو تو مجرد ایمان باللہ ہماری زندگی کو اللہ کے رنگ میں نہیں رنگ سکتا۔ زندگی پر اللہ کا رنگ اسی وقت چڑھتا ہے جب ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ ایمان بالرسالت بھی پایا جائے۔

    ایمان بالرسالت پیدا ایمان باللہ ہی سے ہوتا ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ پہلی چیز اس دوسری چیز ہی کا ایک بالکل فطری نتیجہ ہے۔ ایمان باللہ سے بندہ کے اندر خدا کی ہدایت کے لئے ایک پیاس اور ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ یہی پیاس اور تڑپ ہے جس کا اظہار سورہ فاتحہ میں اھدنا الصراط المستقیم کی دعا سے ہورہا ہے۔ اسی دعا کے جواب میں یہ سورہ بقرہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دے رہی ہے۔ گویا بندے کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالی کی بندگی کے حق کو تسلیم کر چکنے کے بعد اس کے راستہ کی تلاش ہے تو اس کتاب پر اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاو جس پر یہ کتاب اتری۔

    اس حقیقت کی روشنی میں اگر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ سورہ فاتحہ اگرچہ بظاہر ایک نہایت چھوٹی سی سورہ ہے، لیکن فی الحقیقت وہ ایک نہایت ہی عظیم الشان سورہ ہے۔ کیونکہ اس کے تنے سے پہلی ہی شاخ جو پھوٹی ہے وہی اتنی بڑی ہے کہ ہماری ساری زندگی پر حاوی ہو گئی ہے۔ اس سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے سورہ فاتحہ کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کہ پورا قرآن درحقیقت اسی سورہ فاتحہ کے تخم سے پیدا ہوا ہے اور یہ اسی شجرہ طیبہ کے برگ وبار ہیں جو قرآن کے پورے تیس پاروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی
    البقرۃ آل عمران

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں یہود اور دوسر ی میں یہود کے ساتھ ،بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت کے بعد بنی اسمٰعیل میں سے ایک نئی امت امت مسلمہ کی تاسیس کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اِن میں خطاب اگرچہ ضمناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اورمشرکین عرب سے بھی ، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً اہل کتاب اور اُن کے بعد مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ یہ ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہو چکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر کر رہے تھے۔

    پہلی سورہ البقرۃ کا موضوع اہل کتاب پر اتمام حجت ، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کے فرائض کا بیان ہے۔

    دوسری سورہ آل عمران کا موضوع اہل کتاب ، بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کا تزکیہ وتطہیر ہے۔

    • امین احسن اصلاحی (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جاوید احمد غامدی (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

    • امین احسن اصلاحی (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جاوید احمد غامدی (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

    • امین احسن اصلاحی شروع خدائے رحمان و رحیم کے نام سے (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ۱- اس آیت کی تاریخی حیثیت

      قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا مضمون بہت قدیم زمانہ سے اہل مذاہب میں نقل ہوتا چلا آرہا ہے۔ یہ فصیح وبلیغ الفاظ تو ممکن ہے پہلی مرتبہ قرآن مجید میں نازل ہوئے ہوں، لیکن جہاں تک اس کے مضمون کا تعلق ہے یہ کسی کام کے آغاز وافتتاح کے لئے اس قدر موزونیت ومناسبت رکھتا ہے کہ دل گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالی نے اس کی تعلیم انسان کو بالکل شروع ہی میں دی ہوگی۔ چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق خود قرآن مجید میں یہ نقل ہے کہ انہوں نے اپنے باایمان متعلقین اور اپنے ساتھیوں کو جب کشتی میں سوار کرایا تو اس وقت اسی سے ملتے جلتے الفاظ کہے:

      اور اس نے کہا کہ اس میں سوار ہوجاو، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا، بے شک میرا رب بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ (ہود - ۴۱)

      اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کو جو نامہ لکھا، اس کا آغاز بھی انہی مبارک کلمات سے کیا۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے:

      یہ سلیمان کی جانب سے ہے اور اس کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوا ہے۔ (نمل- ۳۰)

      ۲- یہ آیت دعا ہے

      یہ کلام خبریہ نہیں ہے بلکہ سورہ فاتحہ کی طرح، جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہوگا، یہ دعا ہے۔ ایک سلیم الفطرت آدمی کے دل کی یہ ایک فطری صدا ہے جو ہر قابل ذکر کام کرتے وقت اس کی زبان سے نکلنی چاہئے۔ اسی فطری صدا کو وحی الہی نے الفاظ کا جامہ پہنا دیا ہے اور ایسا خوبصورت جامہ پہنایا ہے کہ اس سے زیادہ خوبصورت جامہ کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی کام کرنے سے پہلے جب یہ دعا ارادہ اور شعور کے ساتھ زبان سے نکلتی ہے تو اول تو پہلے ہی قدم پر انسان کو متنبہ کر دیتی ہے کہ جو کام وہ کرنے جارہا ہے وہ کام بہرحال خدا کی نافرمانی اور اس سے بغاوت کا نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کی پسند کے مطابق اور اس کے احکام کے تحت ہونا چاہئے۔ ثانیاً وہ اس دعا کی برکت سے خدا کی دو عظیم صفتوں، رحمن اور رحیم، کا سہارا حاصل کر لیتا ہے۔ یہ دونوں باتیں اس بات کی ضمانت ہیں کہ اللہ تعالی اس کام میں اس کو برکت عطا فرمائے، اس کے اختیار کرنے میں اگر اس سے کوئی غلطی ہوگئی ہے تو اس کے وبال سے اس کو محفوظ رکھے، اس کو نباہنے اور تکمیل تک پہنچانے کی اس کو قوت وہمت دے، شیطان کی چالوں اور فریبوں سے اس کو امان میں رکھے اور دنیا میں  بھی اس کام کو اس کے لئے نافع اور بابرکت بنائے اور آخرت میں بھی یہ اس کے لئے رضائے الہی کے حصول کا ذریعہ بنے۔ جو کام اس دعا کے بغیر کیا جاتا ہے وہ ان تمام برکتوں سے خالی ہوتا ہے اس وجہ سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کام بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع نہ کیا جائے وہ بے برکت ہے۔
      بسم اللہ کی یہ برکتیں تو ہر کام کےساتھ ظاہر ہوتی ہیں لیکن خاص قرآن کی تلاوت کا آغاز اس دعا سے کرنے میں کچھ اور پہلو بھی ہیں جو پیش نظر رکھنے چاہئیں۔
      ایک یہ کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرآن مجید کی تلاوت کا آغاز کر کے بندہ اس حکم کی تعمیل کرتا ہے جو اللہ تعالی نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بالکل ابتدائی وحی نازل کرتے وقت ہی دیا تھا۔ اقرا باسم ربک الذی خلق ۔۔۔سورہ علق- ۱۔۔۔۔ یعنی اپنے خداوند کے نام سے پڑھ، جس نے پیدا کیا۔
      دوسرا یہ کے یہ مبارک کلمہ اس حقیقت کی یاددہانی کراتا ہے کہ انسان پر اللہ تعالی کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے اس کو نطق اور گویائی عطا فرمائی جس کی بدولت وہ قرآن کی نعمت کا مستحق بن سکا۔ اس حقیقت کی طرف اللہ تعالی کی صفت رحمان اشارہ کر رہی ہے جس کا اس آیت میں حوالہ ہے۔ ایک دوسری جگہ یہ بات تصریح کے ساتھ کہی گئی ہے کہ یہ اللہ تعالی کی رحمانیت ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کیا، اس کو نطق کی قابلیت عطا فرمائی اور اس کو قرآن کریم کی تعلیم دی۔ فرمایا ہے:

      “خدائے رحمان نے قرآن سکھایا، اس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو گویائی کی تعلیم دی۔۔۔سورہ الرحمن، آیت ۱تا۴۔”

      تیسرا یہ کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید سے متعلق ایک خاص پیشن گوئی کی تصدیق کر رہی ہے جس کی سند پچھلے آسمانی صحیفوں میں موجود ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ خلق خدا کو جو تعلیم دیں گے وہ اللہ کا نام لے کر دیں گے۔ حضرت موسی علیہ السلام کی پانچویں کتاب باب ۱۸ میں یہ الفاظ درج ہیں۔

      “میں ان کے لئے انہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گے اور جو کچھ میں اسے جکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا۔ اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا۔”

      چوتھا یہ کہ جس طرح قرآن مجید خدا کی صفت رحمانیت کا مظہر ہے اسی طرح اس کی صفت رجمانیت ہی ہے جو قرآن کے فتح باب کی کلید ہے، اسی سے اس کے بند دروازے کھلیں گے ،اسی سے اس کی مشکلات آسان ہوں گی، اس منبع فیض سے قاری پرمعانی وحقائق کا فیضان ہوگا اور اسی کے سہارے وہ کجی وگمراہی اور نفس اور شیطان کی آفتوں سے محفوظ رہے گا۔

      ۳- آیت کے اسمائے حسنی

      اس آیت میں اللہ تعالی کے ناموں میں سے تین کا ذکر آیا ہے۔ اللہ، رحمان، رحیم۔ مختصراً ان کے مفہوم بھی سمجھ لینے چاہئیں۔

      اللہ:

      اللہ کا نام لفظ الہ پر الف لام تعریف داخل کر کے بنا ہے۔ یہ نام ابتدا سے صرف اس خدائے برتر کے لئے خاص رہا ہے جو آسمان وزمین اور تمام مخلوقات کا خالق ہے۔ نزول قرآن سے پہلے عرب جاہلیت میں بھی اس کا یہی مفہوم تھا۔ اہل عرب مشرک ہونے کے باوجود اپنے دیوتاوں میں سے کسی کو بھی خدا کے برابر قرار نہیں دیتے تھے ان کو اس بات کا اقرار تھا کہ آسمان وزمین اور تمام مخلوقات کا خالق اللہ تعالی ہی ہے، اسی نے سورج اور چاند بنائے ہیں۔ اسی نے ان کو مسخر کیا ہے اور وہی پانی برسانے والا اور روزی دینے والا ہے۔ دوسرے دیوتاوں کی پرستش وہ محض اس غلط گمان کی بنا پر کرتے تھے کہ یہ اللہ تعالی کے مقرب ہیں اور اس کے ہاں ان کی سفارش کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں ان کے خیالات نہایت تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ ہم اختصار کے ساتھ یہاں صرف دو تین آیتیں نقل کرتے ہیں۔

      ہم نہیں پوجتے ان کو مگر اس لئے کہ یہ اللہ سے ہم کو قریب کر دیں۔۔۔۔۔ ۳ : زمر

      اگر تم ان سے پوچھو کس نے بنایا آسمانوں اور زمین کو اور مسخر کیا سورج اور چاند کو؟ کہیں گے، اللہ نے پھر کہاں ان کی عقل الٹ جاتی ہے۔ اللہ ہی روزی میں وسعت دیتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کر دیتا ہے اس کے لئے۔ اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ اور اگر ان سے پوچھو کس نے اتارا بادل سے پانی، پھر زندہ کی اس سے زمین اس کے خشک ہونے کے بعد؟ کہیں گے ، اللہ نے۔۔۔۔۔۶۱- ۶۳: عنکبوت

      اسی طرح تمام قوتوں اور قابلیتوں، تمام زندگی اور موت اور کائنات کے تمام انتظام و انصرام کا حقیقی منبع اور مرکز بھی وہ اللہ تعالی کو ہی مانتے تھے۔

      ان سے پوچھو تم کو کون روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے یا کون اختیار رکھتا ہے تمہارے سمع وبصر پر اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور کون سارے معاملے کا انتظام کرتا ہے؟ جواب دیں گے، اللہ، پھر پوچھو تو اس اللہ سے ڈرتے نہیں؟۔۔۔۔۳۱ : یونس۔

      رحمان اور رحیم

      اسم رحمان، غضبان اور شکران کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اور اسم رحیم، علیم اور کریم کے وزن پر صفت کا۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رحیم کے مقابل میں رحمان میں زیادہ مبالغہ ہے اس وجہ سے رحمان کے بعد رحیم کا لفظ ان کے خیال میں ایک زائد لفظ ہے جس کی چنداں ضرورت تو نہیں تھی لیکن یہ تاکید مزید کے طور پر آ گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ عربی زبان کے استعمالات کے لحاظ سے فعلان کا وزن جوش وخروش اور ہیجان پر دلیل ہوتا ہے اور فعیل کا وزن دوام واستمرار اور پائیداری واستواری پر۔ اس وجہ سے ان دونوں صفتوں میں سے کوئی صفت بھی برائے بیت نہیں ہےبلکہ ان میں سے ایک خدا کی رحمت کے جوش وخروش کو ظاہر کر رہی ہے، دوسری اس کے دوام وتسلسل کو۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ خدا کی رحمت اس خلق پر ہے بھی اسی نوعیت سے۔ اس میں جوش ہی جوش نہیں ہے بلکہ پائیداری اور استقلال بھی ہے۔ اس نے یہ نہیں کیا ہے کہ اپنی رحمانیت کے جوش میں دنیا تو پیدا کر ڈالی ہو لیکن پیدا کر کے پھر اس کی خبرگیری اور نگہداشت سے غافل ہو گیا ہو بلکہ اس کو پیدا کرنے کے بعد وہ اپنی پوری شان رحیمیت کے ساتھ اس کی پرورش اور نگہداشت بھی فرما رہا ہے۔ بندہ جب بھی اسے پکارتا ہے وہ اس کی پکار سنتا ہے اور اس کی دعاوں اور التجاوں کو شرف قبولیت بخشتا ہے۔ پھر اس کی رحمتیں اسی چند روزہ زندگی تک محدود نہیں ہیں بلکہ جو لوگ اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہیں گے ان پر اس کی رحمت ایک ایسی ابدی اور لازوال زندگی میں بھی ہو گی جو کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ یہ ساری حقیقت اس وقت تک ظاہر نہیں ہو سکتی جب تک یہ دونوں لفظ مل کر اس کو ظاہر نہ کریں۔

      ۴- قرآن میں اس آیت کی جگہ

      اس آیت سے متعلق ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے ہ قرآن مجید میں اس کی اصل جگہ کہاں ہے؟ یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ یوں تو یہ ہر سورہ کے شروع میں ، سوائے سورہ توبہ کے، ایک مستقل آیت کی حیثیت سے لکھی جاتی ہے لیکن کسی سورہ میں بھی، ماسوائے سورہ نمل کے، بظاہر اس کے ایک جزو کی حیثیت سے یہ شامل نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس امر میں اختلاف ہوا ہے کہ یہ کسی خاص سورہ کا حصہ بھی ہے یا ہر سورہ کے اوپر یہ صرف بطور ایک متبرک آغاز اور ایک علامت امتیار کے ثبت ہے۔ مدینہ، بصرہ اور شام کے قراء اور فقہاء کی رائے یہ ہے کہ یہ قرآن کی سورتوں میں سے کسی سورہ کی  بھی ، بشمول سورہ فاتحہ، آیت نہیں ہے بلکہ ہر سورہ کے شروع میں اس کو محض تبرک اور ایک علامت فصل کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ اس سے ایک سورہ دوسری سے ممتاز بھی ہوتی ہے اور قاری جب اس سے کسی سورہ کا افتتاح کرتا ہے تو اس سے برکت بھی حاصل کرتا ہے۔ یہی مذہب امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔
      اس کے برعکس مکہ اور کوفہ کے فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ یہ سورہ فاتحہ کی بھی ایک آیت ہے اور دوسری سورتوں کی بھی ایک آیت ہے۔ یہ مذہب امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب کا ہے۔
      استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ اس کو سورہ فاتحہ کی ایک آیت اور دوسری سورتوں کے لئے بمنزلہ فاتحہ مانتے ہیں۔ مجھے قوی مذہب قرائے مدینہ کا معلوم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصحف کی موجودہ ترتیب تمام تر وحی الہی کی رہنمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے تحت عمل میں آئی ہے اور بسم اللہ کی کتابت بھی اسی ترتیب کا ایک حصہ ہے۔ اس ترتیب میں جہاں تک بسم اللہ کے لکھے جانے کی نوعیت کا تعلق ہے سورہ فاتحہ اور غیر سورہ فاتحہ میں کسی قسم کا فرق نہیں کیا گیا ہے بلکہ ہر سورہ کے آغاز میں اس کو ایک ہی طرح درج کیا گیا ہے۔ اس کی حیثیت سورہ سے الگ ایک مستقل آیت کی نظر آتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اللہ کے نام سے جو سراسر رحمت ہے، جس کی شفقت ابدی ہے ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ آیت سورۂ توبہ کے سوا قرآن مجید کی ہر سورہ کے شروع میں بالکل اُسی طرح آئی ہے، جس طرح یہاں ہے ۔ لہٰذا یہ قرآن کی ایک آیت تو یقیناًہے اور اِس کی سورتوں کے شروع میں اِسی طرح نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے لکھی گئی ہے ،لیکن اپنے اِس محل میں سورۛہ فاتحہ سمیت کسی سورہ کی بھی آیت نہیں ہے،بلکہ ہر جگہ سورہ سے الگ اپنی ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے ۔ ’إقرأہ علی الناس‘ کا مفہوم اِس میں عربیت کی رو سے مقدر ہے ، یعنی اللہ ، رحمن و رحیم کے نام سے یہ قرآن لوگوں کو پڑھ کر سناؤ، اے پیغمبر ۔۔۔ چنانچہ اِس لحاظ سے دیکھیے تو اِس میں ’ب‘ گویا سند کے مفہوم میں ہے اور یہ قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تورات کی اُس پیشین گوئی کا ظہور ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آپ خدا کا کلام خود اُسی کے نام سے لوگوں کے سامنے پیش کریں گے۔ استثنا میں ہے :

      ’’میں اُن کے لیے ، اُنھی کے بھائیوں میں سے ،تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اُسے حکم دوں گا ، وہی وہ اُن سے کہے گا ۔ اور جو کوئی میری اُن باتوں کو ، جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا ، نہ سنے تو میں اُن کا حساب اُس سے لے لوں گا۔‘‘ (۱۸ :۱۸۔۱۹)

       

    • امین احسن اصلاحی شکر کا سزاوار حقیقی اللہ ہے، کائنات کا رب۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حمد: حمد کا ترجمہ عام طور پر قرآن مجید کے مترجموں نے تعریف کیا ہے۔ لیکن میں نے اس کا ترجمہ شکر کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی یہ لفظ اس ترکیب کے ساتھ استعمال ہوا ہے اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے جس مفہوم کو ہم شکر کے لفظ سے ادا کرتے ہیں مثلاً وقالو االحمد للہ الذی حدانا لھذا۔۔۴۳ : اعراف۔ انہوں نے کہا شکر کا سزا وار ہے اللہ جس نے ہمیں اس کی ہدایت بخشی۔ واخر دعواھم ان الحمد للہ رب العلمین۔۔۱۰ : یونس۔ اور ان کی آخری صدا یہ ہو گی کہ شکر ہے اللہ کے لئے جو عالم کا رب ہے۔ الحمد للہ الذی و ھب لی علی الکبر اسمعیل واسحق۔۔۳۹ : ابراھیم۔ شکر ہے اللہ کے لئے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمعیل اور اسحق عطا فرمائے۔
      استعمالات کے لحاظ سے اگرچہ حمد کا لفظ شکر کے مقابل میں زیادہ وسیع ہے، شکر کا لفظ کسی کی صرف انہی خوبیوں اور انہی کمالات کے اعتراف کے موقع پر بولا جاتا ہے جن کا فیض آدمی کو خود پہنچ رہا ہو۔ برعکس اس کے حمد ہر قسم کی خوبیوں اور ہر قسم کے کمالات کے اعتراف کے لئے عام ہے، خواہ ان کا کوئی فیض خود حمد کرنے والے کی ذات کو پہنچ رہا ہو یا نہ پہنچ رہا ہو۔ تاہم شکر کا مفہوم اس لفظ کا جزو غالب ہے۔ اس وجہ سے اس کے ترجمہ کا پورا پورا حق ادا کرنے کے لئے یا تو تعریف کے لفظ کے ساتھ شکر کا لفظ بھی ملانا ہو گا یا پھر شکر ہی کے لفظ سے اس کو تعبیر کرنا زیادہ مناسب رہے گا تاکہ یہ سورہ جس احساس شکر اور جس جذبہ سپاس کی تعبیر ہے اس کا پورا پورا اظہار ہو سکے۔ یہ اظہار صرف تعریف کے لفظ سے اچھی طرح نہیں ہوتا۔ آدمی تعریف کسی بھی اچھی چیز کی کر سکتا ہے اگرچہ اس کی اپنی ذات سے اس کا کوئی دور کا بھی واسطہ نہ ہو، لیکن یہ سورہ ہماری فطرت کے جس جوش کا مظہر ہے وہ جوش ابھرا ہی ہے اللہ تعالی کی ربوبیت ورحمانیت کے ان مشاہدات سے جن کا تعلق براہ راست ہمارے ذات سے ہے۔ اگر یہ اچھی طرح واضح نہ ہوسکے تو اس سور ہ کی جو اصل روح ہے وہ واضح نہ ہو سکے گی۔ شکر کے لفظ سے سورہ کا یہ پہلو نمایاں ہوتا ہے۔
      اللہ: اس کی وضاحت آیت بسم اللہ کے تحت ہو چکی ہے۔
      رب: رب کے معنی پرورش کرنے والے اور مالک و آقا کے آتے ہیں۔ یہ دوسرا مفہوم اگرچہ پہلے مفہوم ہی سے اس کے ایک لازمی نتیجہ کے طور پر پیدا ہوا ہے کیونکہ جو ذات پرورش کرنے والی ہے اسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ مالک اور آقا بنے۔ لیکن یہ مفہوم اس لفظ پر ایسا غالب ہوچکا ہے کہ اس سے الگ ہو کر محض پرورش کرنے کے لئے اس کا استعمال باقی نہیں رہا۔
      قرآن مجید کے مخاطب اول کائنات کا خالق تو، جیسا کہ آیت بسم اللہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے، تنہا اللہ تعالی ہی کو مانتے ہیں لیکن رب انہوں نے اور بھی بنا رکھے تھے جن کی نسبت ان کا گمان تھا کہ خدا نے کائنات کے انتظام میں ان کو اپنا شریک بنا رکھا ہے، اس وجہ سے یہ عبادت واطاعت کے حقدار ہیں۔ یہاں اللہ کے بعد اس کی پہلی ہی صفت رب العالمین بیان ہوئی جس سے مقصود اس حقیقت کو ظاہر کرنا ہے کہ جو اللہ کائنات کا خالق ہے، وہی اس کا مالک بھی ہے کیونکہ وہی سب کی پرورش کرنے والا ہے۔

      جاوید احمد غامدی شکر اللہ ہی کے لیے ہے ، عالم کا پروردگار۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’الْحَمْدُ‘استعمال ہوا ہے ۔ عربی زبان میں یہ کسی کی خوبیوں اور کمالات کے اعتراف کے لیے بولا جاتا ہے ۔ پھر اِن خوبیوں اور کمالات کا فیض اگرحمد کرنے والے کو بھی پہنچ رہا ہو تو اِس میں شکر کا مفہوم آپ سے آپ شامل ہو جاتاہے ۔ چنانچہ سورۛہ اعراف (۷) آیت ۴۳ ،سورۛہ یونس (۱۰) آیت ۱۰ اور سورۂ ابراہیم (۱۴) آیت ۳۹ میں اِس کے نظائر سے واضح ہوتا ہے کہ ’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ کی ترکیب میں یہ بالعموم اُسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جسے ہم لفظ شکر سے ادا کرتے ہیں۔ اِس سورہ میں ، اگر غور کیجیے تو یہ اُس جذبہ شکر و سپاس کی تعبیر ہے جو اللہ تعالیٰ کی عالم گیر ربوبیت اور بے پایاں رحمت کے مشاہدے اور قیامت میں اُس کی ہمہ گیر دینونت کے بارے میں انبیا علیہم السلام کی تذکیر سے پیدا ہوتا ہے یا پیدا ہونا چاہیے ۔
      اللہ کا نام لفظ ’ الٰہ‘ پر الف لام داخل کر کے بنا ہے ،نزول قرآن سے پہلے عرب جاہلیت میں بھی یہ نام اُسی پروردگار کے لیے خاص تھا جو زمین و آسمان اور اُن کے مابین تمام مخلوقات کا خالق ہے ۔ اہل عرب مشرک ہونے کے باوجود اپنے دیوی دیوتاؤں میں سے کسی کو بھی اُس کے برابر قرار نہیں دیتے تھے۔
      اصل میں ’رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ رب کے معنی اصلاً پالنے والے کے ہیں۔ پھر اِس مفہوم کے لازمی نتیجے کے طور پر مالک اور آقا کے معنی اِس لفظ میں پیدا ہوئے اور اردو کے لفظ پروردگار کی طرح اِس پر ایسا غلبہ حاصل کرلیا کہ پرورش کرنے والے کے معنی میں اِس کا استعمال عربی زبان میں باقی نہیں رہا ۔ سورہ کی ابتدا جس جذبہ شکر کی تعبیر سے ہوئی ہے ، یہ ’رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘ ا ور اِس کے بعد کی صفات اُس کی دلیل ہیں جو استدلال کے طریقے پر نہیں، بلکہ ایک بدیہی حقیقت کے اعتراف و اقرار کے اسلوب میں بیان ہوئی ہیں ۔ یعنی شکر اُس اللہ کے لیے ہے جو پوری کائنات کا مالک ہے ۔ ہم اُس کی مخلوق ہیں ۔ چنانچہ وہی ہمارا بھی مالک ہے ۔ہم دنیا میں قدم نہیں رکھتے کہ ہماری پرورش، نگہداشت اور تربیت کا پورا سامان اُس مالک کی طرف سے بالکل تیار موجود ہوتا ہے ۔پھر جب تک ہم زندہ رہتے ہیں ،صبح و شام اِس حقیقت کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ سورج ،چاند، ابروہوا، غرض یہ کہ کائنات کے سب چھوٹے بڑے عناصر ہماری ہی خدمت کے لیے سرگرم عمل ہیں اور اِس لیے سرگرم عمل ہیں کہ اُن کی باگ ایک ایسی ہستی کے ہاتھ میں ہے جو اُن کے دائرۂ عمل اور اُن کی غایت اور مقصود سے اُنھیں سرمو انحراف کی اجازت نہیں دیتی۔ ’رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘ یہاں اِسی حقیقت کی تعبیر ہے ۔

    • امین احسن اصلاحی رحمان اور رحیم۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اسم رحمان، غضبان اور سکران کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اور اسم رحیم، علیم اور کریم کے وزن پر صفت کا۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ’رحیم‘ کے مقابل میں ’رحمان‘ میں زیادہ مبالغہ ہے اس وجہ سے ’رحمان‘ کے بعد س’رحیم‘ کا لفظ ان کے خیال میں ایک زائد لفظ ہے جس کی چنداں ضرورت تو نہیں تھی لیکن یہ تاکید مزید کے طور پر آگیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ عربی زبان کے استعمالات کے لحاظ سے فَعْلان کا وزن جوش و خروش اور ہیجان پر دلیل ہوتا ہے اور فعیل کا وزن دوام و استمرار اور پائیداری و استواری پر۔ اس وجہ سے ان دونوں صفتوں میں سے کوئی صفت بھی برائے بیت نہیں ہے بلکہ ان میں سے ایک خدا کی رحمت کے جوش و خروش کو ظاہر کر رہی ہے، دوسری اس کے دوام و تسلسل کو۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ خدا کی رحمت اس خلق پر ہے بھی اسی نوعیت سے۔ اس میں جوش ہی جوش نہیں ہے، بلکہ پائیداری اور استقلال بھی ہے۔ اس نے یہ نہیں کیا ہے کہ اپنی رحمانیت کے جوش میں دنیا پیدا تو کر ڈالی ہو لیکن پیدا کر کے پھر اس کی خبرگیری اور نگہداشت سے غافل ہو گیا ہو بلکہ اس کو پیدا کرنے کے بعد وہ اپنی پوری شان رحیمیت کے ساتھ اس کی پرورش اور نگہداشت بھی فرما رہا ہے۔ بندہ جب بھی اسے پکارتا ہے وہ اس کی پکار سنتا ہے اور اس کی دعاؤں اور التجاؤں کو شرف قبولیت بخشتا ہے۔ پھر اس کی رحمتیں اسی چند روزہ زندگی ہی تک محدود نہیں ہیں بلکہ جو لوگ اس کے بنائے ہوئے راستے پر چلتے رہیں گے ان پر اس کی رحمت ایک ایسی ابدی اور لازوال زندگی میں بھی ہو گی جو کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہ ساری حقیقت اس وقت تک ظاہر نہیں ہو سکتی جب تک یہ دونوں لفظ مل کر اس کو ظاہر نہ کریں۔

      جاوید احمد غامدی سراسر رحمت ، جس کی شفقت ابدی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’رَحْمٰن‘اور ’ رَحِیْم‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔یہ دونوں اگرچہ رحمت ہی سے صفت کے صیغے ہیں ، لیکن معنی کے لحاظ سے دیکھیے تو اِن میں واضح فرق ہے۔استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن ‘‘میں اِس فرق کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’اسم ’رحمٰن‘، ’غضبان‘ اور ’سکران‘کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے ، اوراسم ’رحیم‘، ’علیم‘ اور ’کریم‘ کے وزن پر صفت کا ۔بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ’رحیم‘ کے مقابل میں ’رحمٰن‘ میں زیادہ مبالغہ ہے، اِس وجہ سے ’رحمٰن‘ کے بعد ’رحیم‘ کا لفظ اُن کے خیال میں ایک زائد لفظ ہے جس کی چنداں ضرورت تو نہیں تھی ،لیکن یہ تاکید مزید کے طور پر آ گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں ہے ۔ عربی زبان کے استعمالات کے لحاظ سے ’فعلان‘ کا وزن جوش و خروش اور ہیجان پر دلیل ہوتا ہے اور ’فعیل‘ کا وزن دوام و استمرار اور پائداری و استواری پر ۔ اِس وجہ سے اِن دونوں صفتوں میں سے کوئی صفت بھی براے بیت نہیں ہے ،بلکہ اِن میں سے ایک خدا کی رحمت کے جوش و خروش کو ظاہر کر رہی ہے، دوسری اُس کے دوام و تسلسل کو ۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ خدا کی رحمت اِس خلق پر ہے بھی اِسی نوعیت سے ۔ اُس میں جوش ہی جوش نہیں ہے ، بلکہ پائداری اور استقلال بھی ہے ۔اُس نے یہ نہیں کیا ہے کہ اپنی رحمانیت کے جوش میں دنیا پیداتو کر ڈالی ہو ،لیکن پیدا کر کے پھر اُس کی خبر گیری اور نگہداشت سے غافل ہو گیا ہو،بلکہ اُس کو پیدا کرنے کے بعد وہ اپنی پوری شان رحیمیت کے ساتھ اُس کی پرورش اور نگہداشت بھی فرما رہا ہے ۔بندہ جب بھی اُسے پکارتا ہے ،وہ اُس کی پکار سنتا ہے اور اُس کی دعاؤں اور التجاؤں کو شرف قبولیت بخشتا ہے ،پھر اُس کی رحمتیں اِسی چند روزہ زندگی ہی تک محدود نہیں ہیں ،بلکہ جو لوگ اُس کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہیں گے ، اُن پر اُس کی رحمت ایک ایسی ابدی اور لازوال زندگی میں بھی ہو گی جو کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے ۔غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ ساری حقیقت اُس وقت تک ظاہر نہیں ہو سکتی ،جب تک یہ دونوں لفظ مل کر اُس کو ظاہر نہ کریں ۔‘‘ (۱/ ۴۸)

      ’رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘ کے بعد یہ دونوں صفات جس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں ،وہ یہ ہے کہ جس پروردگار نے عالم میں ربوبیت کا یہ اہتمام فرمایا ہے ،اُس کے بارے میں یہ بات اگر نہیں کہی جا سکتی اور یقیناًنہیں کہی جا سکتی کہ اُس کی کوئی ذاتی غرض اِس اہتمام سے وابستہ ہے یا وہ اپنی سلطنت کے قیام و بقا کے لیے اِس کا محتاج ہے یا کسی کا کوئی حق اُس پر قائم ہوتا ہے جسے ادا کرنے کے لیے یہ اہتمام اُسے کرنا پڑا ہے تو اِس کی وجہ پھر یہی ہو سکتی ہے کہ وہ رحمن و رحیم ہے ۔اُس کی رحمت کا جوش ہے کہ اُس نے ہمیں پیدا کیا ہے اور اِس رحمت کا دوام و استمرار ہے کہ اُس کا فیضان برابر ہمیں پہنچ رہا ہے۔

      mercy
    • امین احسن اصلاحی جزا و سزا کے دن کا مالک۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ دین کے معانی: دین کا لفظ قرآن مجید میں کئی معنوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔

      1۔ مذہب و شریعت کے معنی کے لیے مثلاً

      ’اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ‘ 83۔ آل عمران (کیا خدا کے اتارے ہوئے مذہب کے سوا وہ کسی اور مذہب کے طالب ہیں)۔

      2۔ قانون ملکی کے لیے مثلاً

      ’مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ‘ 76۔ یوسف (اس کو بادشاہ کے قانون کی رو سے یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ اپنے بھائی کو روک سکے)۔

      3۔ اطاعت کے معنی کے لیے مثلاً

      ’وَلَہ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَہُ الدِّیْنُ وَاصِبًا‘ 52۔ نحل (اسی کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی اطاعت ہمیشہ لازم ہے)۔

      4۔ جزا کے معنی کے لیے مثلاً

      ’اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ‘ 6-5 ذاریات (جس چیز کی تمہیں دھمکی سنائی جا رہی ہے وہ سچ ہے اور جزا و سزا واقع ہو کر رہے گی)۔

      جزا سے مراد اس کے دونوں پہلو ہیں۔ نیک اعمال کا صلہ بھی اور برے کاموں کی سزا بھی۔ اس وجہ سے ہم نے ترجمہ میں جزا کے ساتھ سزا کا لفظ بھی بڑھا دیا ہے۔
      جزا و سزا کے دن کا تنہا مالک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس روز سارا زور اور سارا اختیار اسی کو حاصل ہو گا۔ اس کے آگے سب عاجز و سرفگندہ ہوں گے۔ کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اس کی اجازت کے بغیر زبان کھول سکے۔ سارے معاملات کا فیصلہ تنہا وہی کرے گا جس کو چاہے گا سزا دے گا، جس کو چاہے گا انعام دے گا۔ جیسا کہ فرمایا ہے

      ’اَلْمُلْکُ یَوْمَءِذٍ لِّلّٰہِ یَحْکُمُ بَیْنَھُمْ‘ 56۔ حج (اس دن سارا اختیار اللہ ہی کو ہوگا، وہی ان کے درمیان فیصلہ کرے گا)۔

      ’لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ‘ 16۔ غافر (آج کے دن بادشاہی کس کی ہے؟ صرف خدائے واحد و قہار کی)۔

      اس آیت کے تین لفظوں میں جو بات پوشیدہ ہے وہ اگر پھیلا دی جائے تو پوری بات یوں ہو گی کہ ایک دن جزا اور سزا کا آنے والا ہے۔ اس دن سارا اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہو گا اور اس کے آگے کسی کو دم مارنے کی مجال نہ ہو گی۔ لیکن کلام کے دعائیہ اسلوب میں یہ بات اس طرح لپیٹ دی گئی ہے کہ دعا کرنے والا ایک ثابت شدہ حقیقت کی حیثیت سے ان سب باتوں کا اعتراف کر جاتا ہے۔ گویا خدا کی ربوبیت و رحمت اور اس کے عدل و انصاف کے ان آثار و دلائل کے بعد جو اس کائنات کے ہر گوشہ میں پھیلے ہوئے ہیں، ایک ہٹ دھرم کے سوا کون ہے، جو اس حقیقت کے کسی جزو کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کر سکے؟

      جاوید احمد غامدی جو روزِ جزا کا مالک ہے ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی یہ اُس کی پروردگاری اور اُس کی رحمت کے دوام و استمرار کا تقاضا ہے کہ وہ ایک دن اپنی عدالت برپا کرے ۔ چنانچہ وہ اُسے برپا کرے گا اور اِس طرح برپا کرے گا کہ اُس دن سارا زور و اختیار اُسی کو حاصل ہو گا ۔ سب کے سر اُس کے سامنے جھکے ہوں گے ، کسی کو یارا نہ ہو گا کہ اُس کے سامنے زبان کھول سکے ۔ہر معاملے کا فیصلہ وہ خود کرے گا اور کوئی اُس کے فیصلے پر کسی پہلو سے اثر انداز نہ ہو سکے گا۔

    • امین احسن اصلاحی ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’عبادت‘ کا مفہوم: عبادت کے اصلی معنی عربی لغت میں انتہائی خضوع اور انتہائی عاجزی و فروتنی کے اظہار کے ہیں۔ لیکن قرآن میں یہ لفظ اس خضوع و خشوع کی تعبیر کے لیے خاص ہو گیا ہے جو بندہ اپنے خالق و مالک کے لیے ظاہر کرتا ہے۔ پھر اطاعت کا مفہوم بھی اس لفظ کے لوازم میں داخل ہو گیاہے کیونکہ یہ بات بالبداہت غلط معلوم ہوتی ہے کہ انسان جس ذات کو اپنے انتہائی خضوع و خشوع کا واحد مستحق سمجھے زندگی کے معاملات میں اس کی اطاعت کو لازم نہ جانے۔ چنانچہ عبادت کی اس حقیقت کو قرآن مجید نے بعض جگہ کھول بھی دیا ہے۔ مثلاً:

      اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ. (2زمر) ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری ہے حق کے ساتھ تو اللہ ہی کی بندگی کرو اسی کے لیے اطاعت کو خاص کرتے ہوئے۔

      عبادت کے ساتھ اطاعت کا یہ تعلق اس قدر گہرا ہے کہ بعض جگہ یہ لفظ صاف صاف اطاعت کے مفہوم ہی کے لیے استعمال ہو گیا ہے مثلاً:

      اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ اِنَّہ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ. (60یٰس) کہ شیطان کی عبادت نہ کرو کیونکہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔

      اللہ تعالیٰ کا جو حق بندوں پر ہے اس آیت میں وہ بھی بیان ہو گیا ہے اور بندے کا جو حق خود اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر واجب کیا ہے وہ بھی اس میں بیان ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حق بندے پر یہ ہے کہ بندہ تنہا اسی کی بندگی کرے اور اسی سے التجا کرے۔ بندے کا حق اس نے اپنے اوپر یہ بتایا ہے کہ وہ اس پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کی مدد فرماتا ہے۔ آیت کے پہلے ٹکڑے میں بندہ اس حق کا اقرار کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا اس کے اوپر ہے اور اس کے دوسرے ٹکڑے میں اس حق کے لیے درخواست پیش کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر بندے کی بتایا ہے۔ لیکن پیش کرنے کا انداز نہایت مؤدبانہ ہے۔ بندہ اپنے کسی حق کی طرف کوئی اشارہ کرنے کے بجائے صرف اپنی احتیاج اپنے اعتماد اور اپنی تمنا کا اظہار کر دیتا ہے کیونکہ بندے کا شایان شان یہی ہے کہ وہ اپنے رب سے التجا اور درخواست کرے نہ کہ اس پر اپنا کوئی حق جتائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ وہ بغیر کسی استحقاق کے بندے کو سب کچھ بخشتا ہے اور پھر اس فضل و کرم کو بندہ کا حق قرار دیتا ہے۔ چنانچہ اس سورہ سے متعلق جو مشہور حدیث قدسی ہے اس میں خاص اس ٹکڑے سے متعلق حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے یہ الفاظ نقل فرمائے ہیں کہ جب بندہ ’اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَُ‘ کے الفاظ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ٹکڑا میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے اور میں نے اپنے بندے کو وہ دیا جو اس نے مانگا۔
      ’’ہم تجھی سے مدد مانگتے ہیں‘‘ کے الفاظ عام ہیں۔ اس وجہ سے یہ طلب مدد خاص عبادت کے معاملہ میں بھی ہو سکتی ہے اور زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی۔ عبادت میں بندہ خدا کی مدد کا محتاج توفیق و رہنمائی اور ثبات و استقامت کے لیے ہوتا ہے کیونکہ عبادت بالخصوص جب کہ وہ زندگی کے ہر پہلو میں خدا کی اطاعت پر بھی مشتمل ہو ایک بڑی ہی آزمائش کی چیز ہے۔ اس میں ایسے سخت مقامات بھی آتے ہیں جہاں بڑے بڑوں کے پائے ثبات بھی ڈگمگا جاتے ہیں۔
      اس جملہ میں مفعول کی تقدیم نے حصر کا مضمون بھی پیدا کر دیا ہے۔ یعنی عبادت بھی صرف خدا ہی کی اور استعانت بھی تنہا اسی سے۔ اس حصر نے شرک کے تمام علائق کا یک قلم خاتمہ کر دیا کیونکہ اس اعتراف کے بعد بندہ کے پاس کسی غیر اللہ کو نہ کچھ دینے کو رہا اور نہ اس سے کچھ مانگنے کی گنجائش باقی رہی۔ اس کے بعد دوسروں سے بندے کے تعلق کی صرف وہی نوعیت جائز رہ گئی ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے ہی قائم کر دی ہو۔

      جاوید احمد غامدی (پروردگار) ،ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      عبادت کا لفظ عربی زبان میں اصلاً خضوع اور تذلل کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں یہ اُس خضوع و خشوع کے لیے خاص ہو گیا ہے جو بندہ اپنے خداوند کے لیے ظاہر کرتا ہے۔ اِس کے ظہور کی اصل صورت پرستش ہی ہے ،لیکن انسان چونکہ اِس دنیا میں اپنا ایک عملی وجود بھی رکھتا ہے ، اِس وجہ سے اِس ظہور سے آگے بڑھ کر یہ عبادت انسان کے اِس عملی وجود سے بھی لازماً متعلق ہوتی ہے اور اِس طرح پرستش کے ساتھ اطاعت کو بھی شامل ہو جاتی ہے ۔اُس وقت یہ انسان سے مطالبہ کرتی ہے کہ اُس کا باطن جس ہستی کے سامنے جھکا ہوا ہے ،اُس کا ظاہر بھی اُس کے سامنے جھک جائے ۔ اُس نے اپنے آپ کو اندرونی طور پر جس کے حوالے کر دیا ہے ، اُس کے خارج میں بھی اُس کا حکم جاری ہو جائے۔ یہاں تک کہ اُس کی زندگی کا کوئی پہلو اِس سے مستثنیٰ نہ رہے۔ یہی عبادت ہے جسے شرک کی ہر آلایش سے پاک کر کے اللہ ہی کے لیے خاص کرنے کا اقرار اِس آیت میں کیا گیا ہے ۔ چنانچہ اِس میں صرف اتنی بات نہیں کہی گئی کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں ، بلکہ پورے زور کے ساتھ اِس بات کا اقرار کیا گیا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے اورتجھی سے مدد چاہتے ہیں ۔اِس اعتراف و اقرار کے بعد ظاہر ہے کہ نہ بندے کے پاس کسی کو دینے کے لیے کچھ رہا ہے اور نہ کسی سے کچھ مانگنے کی کوئی گنجایش اُس کے لیے باقی رہ گئی ہے۔ چنانچہ خاص عبادت کے معاملے میں بھی اور زندگی کے دوسرے تمام معاملات میں بھی وہ اللہ ہی سے مدد کی درخواست کرتا ہے۔ سورہ کی ابتدا جس جذبہ شکر کے اظہار سے ہوئی ہے ،غور کیجیے تو یہ اُس کا لازمی نتیجہ ہے جو اِس اعتراف و اقرار کی صورت میں بندے کی زبان پر جاری ہو گیا ہے۔

      worship
    • امین احسن اصلاحی ہمیں سیدھے رستے کی ہدایت بخش۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اِھْدِنَا‘ کا مطلب صرف اسی قدر نہیں ہے کہ ہمیں سیدھا رستہ دکھا دے بلکہ اس کا مفہوم اس سے بہت زیادہ ہے۔ اس میں یہ مفہوم بھی ہے کہ اس راستہ کی صحت پر ہمارے دل مطمئن کر دے، اس پر چلنے کا ہمارے اندر ذوق و شوق پیدا کر دے، اس کی مشکلیں ہمارے لیے آسان کر دے اور اس پر چلا دینے کے بعد دوسری پگڈنڈیوں پر بھٹکنے سے ہمیں محفوظ رکھ۔ یہ سارا مضمون یہاں صلہ کو حذف کر دینے سے پیدا ہوتا ہے۔
      ’الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘ پر الف لام عہد کا ہے۔ اس سے مراد وہ سیدھا رستہ ہے جو بندوں کے لیے خود اللہ تعالیٰ نے کھولا ہے، جو دین اور دنیا دونوں کی فلاح و کامیابی کا ضامن ہے، جس پر چلنے کی دعوت نبیوں اور رسولوں نے دی ہے، جس پر ہمیشہ خدا کے نیک بندے چلے ہیں، جو قریب تر اور سہل تر ہے، جس کے بعد ادھر ادھر سے گمراہوں اور گمراہ کرنے والوں نے بہت سی کج پیچ کی راہیں نکال لی ہیں، لیکن وہ بجائے خود قائم ہے اور خدا تک پہنچنے والے ہمیشہ اسی پر چل کر خدا تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی سیدھے راستے کو حضورؐ نے ایک مرتبہ اس طرح سمجھایا کہ زمین پر ایک سیدھا خط کھینچا، پھر اس کے داہنے بائیں آڑے ترچھے خطوط کھینچ دیے، پھر فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا رستہ ہے اور یہ آڑے ترچھے خطوط پگڈنڈیاں ہیں اور ان میں سے ہر پگڈنڈی کی طرف کوئی نہ کوئی شیطان بلا رہا ہے۔

      جاوید احمد غامدی ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت بخش دے ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں : ’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘۔ اِن میں الف لام عہد کا ہے، یعنی وہ سیدھی راہ جس کی وضاحت آگے کی آیت میں کی گئی ہے۔
      آیت میں ’اِھْدِنَا‘ ، ’ الی‘ کے بغیر آیا ہے ۔چنانچہ عربیت کی رو سے اب اِس کا مفہوم صرف اِسی قدر نہیں رہا کہ ہمیں سیدھی راہ دکھا ،بلکہ اِس سے بہت کچھ زیادہ ہو گیا ہے۔ یعنی اِس پر ہمارے دلوں کو مطمئن کر دے۔اِس پر چلنے کا شوق عطا فرما، اِس پر ثبات و استقامت بخش دے۔ اِس کے نشیب و فراز میں ہماری رہنمائی کر اور مرتے دم تک اِس پر اِسی طرح چلتے رہنے کی توفیق عنایت فرما دے ۔

    • امین احسن اصلاحی ان لوگوں کے رستے کی جن پر تو نے اپنا فضل فرمایا، جو نہ مغضوب ہوئے اور نہ گمراہ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ الآیۃ‘ آدمی جس چیز سے جتنا ہی گہرا لگاؤ رکھتا ہے اس کو اسی قدر وضاحت کے ساتھ خود بھی سمجھنا چاہتا ہے اور دوسرے کو بھی سمجھانا چاہتا ہے۔ اس وجہ سے صرف اتنے ہی پر بس نہیں کیا کہ ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت بخش بلکہ اس کی پوری وضاحت بھی کر دی ہے اور یہ وضاحت مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں سے ہے۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ راستہ ان لوگوں کا ہو جن پر تیرا انعام ہوا ہے اور منفی پہلو یہ ہے کہ جو نہ تو مغضوب ہوئے ہیں اور نہ گمراہ۔ اس وضاحت کے بعد مدعا اس طرح آئینہ ہو کر سامنے آگیا ہے کہ کسی اشتباہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔
      اس ساری وضاحت کی ضرورت اس وجہ سے نہیں تھی کہ (العیاذ باللہ) اللہ تعالیٰ کو دعا کا مدعا سمجھنے میں کوئی غلط فہمی پیش آنے کا امکان تھا، بلکہ صرف یہ ہے کہ طالب اپنے مطلوب حقیقی کی طلب کے ساتھ ساتھ ان لوگوں سے اپنی بیزاری کا اظہار بھی کر رہا ہے جنھوں نے اس محبوب و مطلوب سے منہ موڑا یا اس سے بھٹک گئے نیز اپنے لیے استقامت و استواری کا بھی طلب گار ہے کہ اس راستہ کو پاجانے کے بعد اس پر قائم رہنا نصیب ہو، ان لوگوں کا حشر نہ ہو جن کو یہ راستہ ملنے کو تو ملا لیکن وہ اس کو پالینے کے بعد یا تو دیدہ و دانستہ اس سے منحرف ہو جانے کے سبب سے خدا کے غضب میں مبتلا ہوئے، یا اپنی بدعت پسندیوں کی وجہ سے اس کو پاکر اس سے محروم ہو گئے۔
      اس آیت میں تین گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک منعم علیہم۔ دوسرا مغضوب علیہم۔ تیسرا ضالین۔ مختصراً ان تینوں گروہوں کی خصوصیات بھی معلوم کر لینی چاہییں۔
      ’اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ‘ میں نعمت سے مقصود دراصل ہدایت و شریعت کی نعمت ہے جس سے انسان دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کا راستہ معلوم کرتا ہے۔ فعل انعام یہاں اپنے کامل اور حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد درحقیقت وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے شریعت کی نعمت عطا فرمائی اور انھوں نے دل و جان سے اس کو قبول کیا، اس نعمت کے دیے جانے پر وہ اللہ تعالیٰ کے شکرگزار رہے، اس کی خود بھی قدر کی اور دوسروں کو بھی اس کی قدر کرنے پر ابھارا، اس کے تحفظ کے لیے انھوں نے اپنی قوتیں اور قابلیتیں بھی صرف کیں، مال بھی قربان کیے اور اگر ضرورت پیش آئی تو اس کی راہ میں جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ یہاں بات اجمال کے ساتھ کہی گئی ہے اس وجہ سے واضح نہیں ہوتا کہ یہ اشارہ کس گروہ کی طرف ہے لیکن ایک دوسری آیت میں اس انعام یافتہ گروہ کی وضاحت ہو گئی ہے:

      فَاُولئکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَآءِ وَالصّٰلِحِیْنَ. (69نساء) ’’پس یہ لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے اپنا انعام فرمایا انبیاء، صدیقین، شہدا اور صالحین کے ساتھ۔‘‘

      ’مَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ‘ میں فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اس طرح براہ راست نہیں ہے جس طرح انعام کے ذکر میں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو سوء ادب سے احتراز ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ انعام ہمیشہ اور ہر حال میں بندہ پر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتا ہے، برعکس اس کے خدا کے غضب کا مستحق بندہ اپنے اعمال کے سبب سے خود بنتا ہے۔
      مغضوب علیہم سے مراد: ’مَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ‘ سے مراد دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت کی نعمت نازل فرمائی لیکن انھوں نے اپنی سرکشی کے سبب سے نہ صرف یہ کہ اس کو قبول نہیں کیا، بلکہ اس کی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور جن لوگوں نے اس کو ان کے سامنے پیش کیا ان کی بیخ کنی اور قتل کے درپے ہوئے جس کی پاداش میں ان پر خدا کا غضب نازل ہوا اور وہ ہلاک کر دیے گئے۔
      دوسرے وہ لوگ جنھوں نے قبول تو کیا لیکن دل کی آمادگی کے ساتھ نہیں قبول کیا بلکہ مارے باندھے قبول کیا، پھر بہت جلد شہوات نفس میں پڑ کر انھوں نے اس کے کچھ حصہ کو ضائع کر دیا، کچھ حصہ میں کتر بیونت کر کے اس کو اپنی خواہشات کے مطابق بنا لیا اور جن لوگوں نے ان کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی یا ان کو صحیح راستہ پر لانا چاہا انھوں نے ان میں سے بعض کو جھٹلا دیا اور بعض کو قتل کر دیا۔ پچھلی امتوں میں اس کی سب سے واضح مثال یہود ہیں۔ چنانچہ ان کے معتوب و مغضوب ہونے کا ذکر قرآن میں تصریح کے ساتھ ہوا بھی ہے۔ مثلاً:

      مَنْ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَغَضِبَ عَلَیْہِ وَجَعَلَ مِنْھُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیْرَ. (60مائدہ) ’’جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر اس کا غضب ہوا۔ اور جن کے اندر سے اس نے بندر اور خنزیز بنائے۔‘‘

      وَضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ وَبَآءُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ. (61بقرہ) ’’اور ان کے اوپر ذلت و مسکنت تھوپ دی گئی اور وہ خدا کا غضب لے کر پلٹے۔‘‘

      ’ضالّین‘ کی حقیقت: ’ضَآلِّیْنََ‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے دین میں غلو کیا، جنھوں نے اپنے پیغمبر کا رتبہ اتنا بڑھایا کہ اس کو خدا بنا کر رکھ دیا، جو صرف انہی عبادتوں اور طاعتوں پر قانع نہیں ہوئے جو اللہ اور اللہ کے رسول نے مقرر کی تھیں بلکہ اپنے جی سے رہبانیت کا ایک پورا نظام کھڑا کر دیا، جنھوں نے اپنے اگلوں کی ایجاد کی ہوئی بدعتوں اور گمراہیوں کی آنکھ بند کر کے پیروی کی اور اس طرح صراط مستقیم سے ہٹ کر گمراہی کی پگڈنڈیوں پر نکل گئے۔ پچھلی امتوں میں سے اس کی نہایت واضح مثال نصاریٰ ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید نے انہی وجوہ کی بنا پر جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے، ان کو گمراہ اور گمراہ کرنے والے قرار دیا ہے۔ مثلاً:

      یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَھْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا کَثِیْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ. (77مائدہ) ’’کہہ دو اے اہل کتاب تم اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور ان لوگوں کی خواہشوں (بدعتوں) کی پیروی نہ کرو جو پہلے سے گمراہ چلے آرہے ہیں اور جنھوں نے بہتوں کو خدا کے راستہ سے بھٹکایا اور جو خود بھی اس کے راستہ سے بھٹکے۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی اُن لوگوں کی راہ جن پر تو نے عنایت فرمائی ہے، جو نہ مغضوب ہوئے ہیں، نہ راہ سے بھٹکے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُن لوگوں کی راہ جنھیں تو نے اپنی ہدایت سے نوازا اور اُنھوں نے پورے دل اور پوری جان کے ساتھ اِس طرح اُسے قبول کیا کہ تیری نعمت ہر لحاظ سے اُن پر پوری ہو گئی ۔ سورۂ نساء (۴) آیت ۶۹میں وضاحت ہے کہ اِس سے مراد انبیا و صدیقین اور شہداوصالحین کی مقدس جماعت ہے ۔
      یعنی وہ لوگ جنھوں نے اپنی سرکشی کے باعث اِس ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا یا قبول کیا تو دل کی آمادگی سے قبول نہیں کیا اور ہمیشہ اِس سے انحراف پر مصر رہے ۔خدا کے جن بندوں نے اُن کی اصلاح کرنا چاہی، اُنھیں جھٹلایا۔ یہاں تک کہ اُن میں سے بعض کو اذیتیں دیں اور بعض کو قتل کر دیا۔ چنانچہ اپنے اِن جرائم کی پاداش میں وہ خدا کے غضب کے مستحق ٹھیرے۔ اِس میں اشارہ یہود کی طرف ہے جن پر آگے سورۛہ بقرہ میں اتمام حجت کیا گیا ہے۔
      یعنی جنھوں نے دین کا چہرہ اپنی بدعتوں اور ضلالتوں سے اِس طرح مسخ کر دیا کہ اب خود بھی اُسے پہچاننے سے قاصر ہیں۔ اِس میں اشارہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے پیرووں کی طرف ہے جن پر آگے سورۂ آل عمران میں اتمام حجت کیا گیا ہے ۔

      mercy
    • امین احسن اصلاحی یہ الف، لام، میم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      الم: یہ ایک مستقل جملہ ہے۔عربی زبان کے عام قائدے کے مطابق یہاں مبتدا محذوف ہے۔ اس کو ظاہر کر دیا جائے تو پوری بات یوں ہو گی۔ ھذہ الم، یہ الف، لام، میم ہے۔ ہم نے ترجمہ میں اس حذف کو کھول دیا ہے۔
      یہ اور اس طرح کے جتنے حروف بھی مختلف سورتوں کے شروع میں آئے ہیں چونکہ الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں اس وجہ سے ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں۔
      یہ جس سورہ میں بھی آئے ہیں بالکل شروع میں ہیں اس طرح آئے ہیں جس طرف کتابوں، فصلوں اور ابواب کے شروع میں ان کے نام آیا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان سورتوں کے نام ہیں۔ قرآن نے جگہ جگہ ذلک اور تلک کے ذریعہ سے ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے نام ہونے کو اور زیادہ واضح کر دیا ہے۔ حدیثوں سے بھی ان کا نام ہی ہونا ثابت ہوتا ہے۔
      جو سورتیں ان ناموں سے موسوم ہیں اگرچہ ان میں سے سب اپنے انہی ناموں سے مشہور نہیں ہوئیں بلکہ بعض دوسرے ناموں سے مشہور ہوئیں، لیکن ان میں سے کچھ اپنے انہی ناموں سے مشہور بھی ہیں۔ مثلاً طہ، یس، ق اور ن وغیرہ۔
      ان ناموں کے معانی کے بارے میں کوئی قطعی بات کہنا بڑا مشکل ہے اس وجہ سے ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ قرآن کا تو دعوی یہ ہے کہ وہ ایک بالکل واضح کتاب ہے، اس میں کوئی چیز بھی چیستاں یا معمے کی قسم کی نہیں ہے، پھر اس نے سورتوں کے نام ایسے کیوں رکھ دئیے ہیں جن کے معنی کسی کو بھی نہیں معلوم؟
      اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک ان حروف کا تعلق ہے، یہ اہل عرب کے لئے کوئی بیگانہ چیز نہیں تھے بلکہ وہ ان کے استعمال سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس واقفیت کے بعد قرآن کی سورتوں کا ان حروف سے موسوم ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے قرآن کے ایک واضح کتاب ہونے پر کوئی حرف آتا ہو۔ البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے حروف سے نام بنا لیناعربوں کے مذاق کے مطابق تھا بھی یا نہیں تو اس چیز کے مذاق عرب کے مطابق ہونے کی سب سے بڑی شہادت تو یہی ہے کہ قرآن نے نام رکھنے کے اس طریقہ کو اختیار کیا۔ اگر نام رکھنے کا یہ طریقہ کوئی ایسا طریقہ ہوتا جس سے اہل عرب بالکل ہی نامانوس ہوتے تو وہ اس پر ضرور ناک بھوں چڑھاتے اور ان حروف کی آڑ لے کر کہتے کہ جس کتاب کی سورتوں کے نام تک کسی کی سمجھ میں نہیں آ سکتے اس کے ایک کتاب مبین ہونے کے دعوے کو کون تسلیم کر سکتا ہے۔
      قرآن پر اہل عرب نے بہت سے اعتراضات کئے اور ان کے یہ سارے اعتراض قرآن نے نقل بھی کئے ہیں لیکن ان کے اس طرح کے کسی اعتراض کا کوئی ذکر نہیں کیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان ناموں میں ان کے لئے کوئی اجنبیت نہیں تھی۔
      علاوہ بریں جن لوگوں کی نظر اہل عرب کی روایات اور ان کے لٹریچر پر ہے وہ جانتے ہیں کہ اہل عرب نہ صرف یہ کہ اس طرح کے ناموں سے نامانوس نہیں تھے بلکہ وہ خود اشخاص، چیزوں، گھوڑوں، جھنڈوں، تلواروں حتی کہ قصائد اور خطبات تک کے نام اسی سے ملتے جلتے رکھتے تھے۔ یہ نام مفرد حروف پر بھی ہوتے تھے اور مرکب بھی ہوتے تھے۔ ان میں یہ اہتمام بھی ضروری نہیں تھا کہ اسم اور مسمی میں کوئی معنوی مناسبت پہلے سے موجود ہو بلکہ یہ نام ہی بتاتا تھا کہ یہ نام اس مسمی کے لئے وضع ہوا ہے۔
      اور یہ بالکل ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ جب ایک شے کے متعلق یہ معلوم ہو گیا کہ یہ نام ہے تو پھر اس کے معنی کا سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ نام سے اصل مقصود مسمی کا اس نام کے ساتھ خاص ہوجانا ہے نہ کہ اس کے معنی۔ کم ازکم فہم قرآن کے نقطہ نظر سے ان ناموں کے معانی کی تحقیق کی تو کوئی خاص اہمیت ہے نہیں۔ بس اتنی بات ہے کہ چونکہ یہ نام اللہ تعالی کے رکھے ہوئے ہیں اس وجہ سے آدمی کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ضرور یہ کسی نہ کسی مناسبت کی بنا پر رکھے گئے ہوں گے۔ یہ خیال فطری طور پر طبیعت میں ایک جستجو پیدا کر دیتا ہے۔ اسی جستجو کی بنا پر ہمارے بہت سے پچھلے علماء نے ان ناموں پر غور کیا اور ان کے معنی معلوم کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ان کی جستجو سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا لیکن ہمارے نزدیک ان کا یہ کام بجائے خود غلط نہیں تھا اور اگر ہم بھی ان پر غور کریں گے تو یہ ہمارا یہ کام بھی غلط نہیں ہو گا۔ اگر اس کوشش سے کوئِی حقیقت واضح ہوئی تو اس سے ہمارے علم میں اضافہ ہو گا اور اگر کوئی بات نہ مل سکی تو اس کو ہم اپنے علم کی کوتاہی اور قرآن کے اتھاہ ہونے پر محمول کریں گے۔ یہ رائے بہرحال نہیں قائم کریں گے کہ یہ نام ہی بے معنی ہیں۔
      اپنے علم کی کمی اور قرآن کے اتھاہ ہونے کا یہ احساس بجائے خود ایک بہت بڑا علم ہے۔ اس احساس سے علم ومعرفت کی بہت سے بند راہیں کھلتی ہیں۔ اگر قرآن کا پہلا ہی حرف اس عظیم انکشاف کے لئے کلید بن جائے تو یہ بھی قرآن کے بہت سے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہو گا۔ یہ اسی کتاب کا کمال ہے کہ اس کے جس حرف کا راز کسی پر نہ کھل سکا اس کی پیدا کردہ کاوش ہزاروں سربستہ اسرار سے پردہ اٹھانے کے لئے دلیل راہ بنی۔
      ان حروف  پر ہمارے پچھلے علماء نے جو رائیں ظاہر کی ہیں ہمارے نزدیک وہ تو کسی مضبوط بنیاد پر مبنی نہیں ہیں اس وجہ سے ان کا ذکر کرنا کچھ مفید نہیں ہوگا۔ البتہ استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمة اللہ علیہ کی رائے اجمالاً یہاں پیش کرتا ہوں۔ اس سے اصل مسئلہ اگرچہ حل نہیں ہوتا لیکن اس کے حل کے لئے ایک راہ کھلتی ضرور نظر آتی ہے۔ کیا عجب کہ مولانا رحمة اللہ علیہ نے جو سراغ دیا ہے دوسرے اس کی رہنمائی سے کچھ مفید نشانات راہ اور معلوم کر لیں اور اس طرح درجہ بدرجہ تحقیق کے قدم کچھ اور آگے بڑھ جائیں۔
      جو لوگ عربی رسم الخط کی تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ عربی زبان کے حروف عبرانی سے لئے گئے ہیں اور عبرانی کے یہ حروف ان حروف سے ماخوذ ہیں جو عرب قدیم میں رائج تھے۔ عرب قدیم کے ان حروف کے متعلق استاذ امام رحمة اللہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ یہ انگریزی اور ہندی کے حروف کی طرف صرف آواز ہی  نہیں بتاتے تھے بلکہ یہ چینی زبان کے حروف کی طرف معانی اور اشیاء پر بھی دلیل ہوتے تھے اور جن معانی یا اشیاء پر وہ دلیل ہوتے تھے عموماً ان ہی کی صورت وہئیت پر لکھے بھی جاتے تھے۔ مولانا کی تحقیق یہ ہے کہ یہی حروف ہیں جو قدیم مصریوں نے اخذ کئے اور اپنے تصورات کے مطابق ان میں ترمیم واصلاح کر کے ان کو اس خط تمثالی کی شکل دی جس کے آثار اہرام مصر کے کتبات میں موجود ہیں۔
      ان حروف کے معانی کا علم اب اگرچہ مٹ چکا ہے تاہم بعض حروف کے معنی اب بھی معلوم ہیں اور ان کے لکھنے کے ڈھنگ میں بھی ان کی قدیم شکل کی کچھ نہ کچھ جھلک پائی جاتی ہے۔ مثلاً “الف” کے متعلق معلوم ہے کہ وہ گائے کے معنی بتاتا تھا اور گائے کے سر کی صورت پر ہی لکھا جاتا ہے۔ “ب” کو عبرانی میں بیت کہتے بھی ہیں اور اس کے معنی بھی بیت یعنی گھر کے ہیں۔ “ج” کا عبرانی تلفظ جمیل ہے جس کے معنی جمل یعنی اونٹ کے ہیں۔ “ط” سانپ کے معنی میں آتا تھا اور لکھا بھی کچھ سانپ ہی کی شکل پر جاتا تھا۔ “م” پانی کی لہر پر دلیل ہوتا ہے اور اس کی شکل بھی لہر سے ملتی جلتی بنائی جاتی تھی۔
      مولانا اپنے نظریہ کی تائید میں سورہ “ن” کو پیش کرتے ہیں۔ حرف “ن” اب بھی اپنے قدیم معنی ہی میں بولا جاتا ہے۔ اس کے معنی مچھلی کے ہیں اور جو سورہ اس نام سے موسوم ہوئی ہے اس میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر صاحب الحوت، مچھلی والے، کے نام سے آیا ہے۔مولانا اس نام کو پیش کر کے فرماتے ہیں کہ اس سے ذہن قدرتی طور پر اس طرف جاتا ہے کہ اس سورہ کا نام “ن” اسی وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس میں صاحب الحوت، حضرت یونس علیہ السلام، کا واقعہ بیان ہوا ہے جن کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ پھر کیا عجب ہے کہ بعض دوسری سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں وہ  بھی اپنے قدیم معانی اور سورتوں کے مضامین کے درمیان کسی مناسبت ہی کی بناء پر آئے ہوں۔
      قران مجید کی بعض اور سورتوں کے ناموں سے بھی مولانا کے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے مثلاً حرف “ط” کے معنی، جیسا کے میں نے اوپر بیان کیا ہے، سانپ کے تھے اور اس کے لکھنے کی ہئیت بھی سانپ کی ہئیت سے ملتی جلتی ہوتی تھی۔ اب قرآن میں سورہ طہ کو دیکھئے جو “ط” سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں ایک مختصر تمہید کے بعد حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی لٹھیا کے سانپ بن جانے کا قصہ  بیان ہوتا ہے۔ اسی طرح طسم، طس وغیرہ بھی “ط” سے شروع ہوتی ہیں اور ان میں بھی حضرت موسی علیہ السلام کی لٹھیا کے سانپ کی شکل اختیار کرلینے کا معجزہ مذکور ہے۔
      “الف” کے متعلق ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ گائے کے سر کی ہئیت میں لکھا بھی جاتا تھا اور گائے کے معنی بھی بتاتا تھا۔ اس کے دوسرے معنی اللہ واحد کے ہوتے تھے۔ اب قرآن مجید میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ سورہ بقرہ میں جس کا نام الف سے شروع ہوتا ہے، گائے کے ذبح کا قصہ بیان ہوا ہے۔ دوسری سورتیں جن کے نام الف سے شروع ہوئے ہیں توحید کے مضمون میں مشترک نظر آتی ہیں۔یہ مضمون ان میں خاص اہتمام کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ان ناموں کا یہ پہلو بھی خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ جن سورتوں کے نام ملتے جلتے سے ہیں ان کے مضامین بھی ملتے جلتے ہیں بلکہ بعض سورتوں میں تو اسلوب بیان تک ملتا جلتا ہے۔
      میں نے مولانا کا یہ نظریہ، جیسا کہ عرض کر چکا ہوں، محض اس خیال سے پیش کیا ہے کہ اس سے حروف مقطعات پر غور کرنے کے لئے ایک علمی راہ کھلتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی حیثیت ابھی ایک نظریہ سے زیادہ نہیں ہے۔ جب تک تمام حروف کے معانی کی تحقیق ہو کر ہر پہلو سے ان ناموں اور ان سے موسوم سورتوں کی مناسبت واضح نہ ہوجائے اس وقت تک اس پر ایک نظریہ سے زیادہ اعتماد کر لینا صحیح نہیں ہوگا۔ یہ محض علوم قرآن کے قدردانوں کے لئے ایک اشارہ ہے، جو لوگ مزید تحقیق وجستجو کی ہمت رکھتے ہیں وہ اس راہ میں قسمت آزمائی کریں۔ شاید اللہ تعالی اس راہ سے یہ مشکل آسان کر دے۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورہ’ الم ‘ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس جملے میں مبتدا عربیت کی رو سے محذوف ہے ۔ اِسے کھول دیجیے تو پوری بات اِس طرح ہو گی: ’ھذہ الم‘ (یہ الف لام میم ہے )۔ اصطلاح میں اِنھیں حروف مقطعات کہتے ہیں۔ سورتوں کے شروع میں یہ حروف جس طرح آئے ہیں اور قرآن نے جگہ جگہ ’ذٰلک‘ اور ’تلک‘ کے ذریعے سے اِن کی طرف جس طرح اشارہ کیا ہے ،اُس سے واضح ہے کہ یہ سورتوں کے نام ہیں۔ اِن کے معنی کیا ہیں ؟ اِس باب میں سب سے زیادہ قرین قیاس نظریہ برصغیر کے جلیل القدر عالم اور محقق امام حمید الدین فراہی کا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ عربی زبان کے حروف تہجی چونکہ اصلاً عرب قدیم میں رائج وہی حروف ہیں جو صرف آواز ہی نہیں بتاتے تھے ،بلکہ چینی زبان کے حروف کی طرح معانی اور اشیا پر بھی دلیل ہوتے تھے اور جن معانی یا اشیا پر دلیل ہوتے تھے ، اُنھی کی صورت پر لکھے بھی جاتے تھے ، اِس لیے قرآن کی سورتوں کے شروع میں بھی یہ اپنے اُنھی قدیم معنی کے لحاظ سے آئے ہیں ۔ اِس کی نہایت واضح مثال سورۂ نون ہے ۔ حرف ’ن‘ کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ یہ اب بھی اپنے قدیم معنی میں بولا جاتا ہے ۔ اِس کے معنی مچھلی کے ہیں اور جس سورہ کو یہ نام دیا گیا ہے ،اُس کے بارے میں معلوم ہے کہ اُس میں سیدنا یونس علیہ السلام کا ذکر ’صاحب الحوت‘ یعنی مچھلی والے کے نام سے ہوا ہے ۔

    • امین احسن اصلاحی یہ کتابِ الہی ہے۔ اس (کے کتابِ الہی ہونے) میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ذلک: اہل نحو کہتے ہیں کہ “ذلک” اشارہ بعید کے لئے آتا ہے اور “ھذا” اشارہ قریب کے لئے۔ اس سے عام طور پر لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اگر کسی فاصلہ کی چیز کی طرف اشارہ کرنا ہو تو “ذلک” لائیں گے اور اگر قریب کی کسی چیز کی طرف اشارہ کرنا ہو تو “ھذا” استعمال کریں گے۔ لیکن اہل نحو کا مطلب قریب اور بعید سے یہ نہیں ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز مخاطب کے علم میں ہے یا جس کا ذکر گفتگو میں ہو چکا ہے اگر اس کی طرف اشارہ کرنا ہو تو وہاں “ذلک” استعمال کریں گے اور اگر کسی ایسی چیز کی طرف اشارہ کرنا ہو جس کا ذکر آگے آرہا ہو تو وہاں “ھذا” لائیں گے۔ اہل زبان ان دونوں اشارات کو اسی طرح استعمال کرتے ہیں اور اگر کبھی ان کو اس عام ضابطہ کے خلاف استعمال کرتے ہیں تو بلاغت کے کسی نکتہ کو ملحوظ رکھ کر کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی سابق الذکر چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے “ھذا” استعمال کر دیں تو اس سے مقصود چیز کو نگاہوں کے سامنے حاضر کر دینا ہو گا اسی طرح اگر کہیں “ھذا” کی جگہ “ذلک” استعمال ہوتا ہے تو اس سے عموماً مقصود اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کی شان اس سے ارفع ہے کہ اس کو سامنے لاکھڑا کیا جائے۔
      یہاں ذلک کا اشارہ سورہ کے اس نام کی طرف ہے جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اور بتانا یہ مقصود ہے کہ یہ الم قرآن عظیم کا ایک حصہ ہے۔ قرآن میں اس قسم کے اشارات کی نظیریں بکثرت موجود ہیں۔ مثلاً

      حم عسق۔ کذالک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم۔۔ شوری : ۱-۳ یہ حم، عسق ہے۔ اسی طرح خدائے عزیز وحکیم تمہاری طرف وحی کرتا ہے اور اسی طرح اس نے ان لوگوں کی طرف وحی کی جو تم سے پہلے گزرے ہیں۔ طس تلک ایات القران وکتاب مبین۔۔نمل۔

      یہ طس ہے، یہ قرآن اور ایک کتاب مبین کی آیتیں ہیں۔
      الکتب:  قرآن مجید میں کتاب کا لفظ پانچ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
      ۱ – نوشتہ تقدیر- مثلاً

      لو لا کتاب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم- انفال :۶۸- اگر نوشتہ الہی نہ گزر چکا ہوتا تو جس چیز میں تم مبتلا ہوئے اس کے باعث تمہیں ایک دردناک عذاب آپکڑتا۔

      ۲ – اللہ تعالی کا وہ رجسٹر جس میں وہ ہر چیز ریکارڈ کر رہا ہے۔ مثلاً

      وعندنا کتاب حفیظ-ق : ۴۔۔ اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے محفوظ رکھنے والی۔

      ۳ – خط اور پیغام۔ مثلاً

      انی القی الی کتاب کریم-نمل : ۲۹۔۔ میرے پاس ایک گرامی نامہ  بھجوایا گیا۔

      ۴ ۔ احکام وقوانین۔ مثلاً

      ویعلمحم الکتب والحکمۃ-جمعہ : ۲۔۔ اور ان کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔

      ۵ ۔ اللہ تعالی کا اتارا ہوا کلام۔ اپنے اس معنی کے لحاظ سے یہ لفظ کتاب الہی کے لئے استعمال ہوا ہے اور اس سے مراد کتاب الہی کا کوئی خاص حصہ بھی ہوا کرتا ہے اور اس کا مجموعہ بھی۔
      مجموعہ کے مفہوم کے لئے نظیر اعراف کی یہ آیت ہے۔

      والذین یمسکون بالکتاب واقامو الصلوۃ- اعراف :۱۷۰- اور جو کتاب الہی کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔

      دوسرے معنی کے لئے نظیر سورہ آل عمران کی یہ آیت ہے۔

      الم ترالی الذین اوتو انصیبا من الکتاب یدعون الی کتاب اللہ لیحکم بینھم-آل عمران : ۲۲- ذرا دیکھو تو ان کو جنہیں کتاب الہی کا ایک حصہ ملا، ان کو دعوت دی جارہی ہے اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کرے۔

      جس طرح کوئی لفظ اپنے مختلف معنی میں سے کسی ایک اعلی اور برتر معنی کے لئے خاص ہوجایا کرتا ہے، اسی طرح یہ کتاب کالفظ بھی خاص طور پر کتاب الہی کے لئے بولا جانے لگا۔ چنانچہ یہ استعمال قدیم زمانہ سے معروف ہے۔ یہود انبیاء کے صحیفوں میں سے ہر صحیفہ کو سفر کہتے تھے جس کے معنی کتاب کے ہیں۔ عیسائی مترجموں نے ان کتابوں کو بائیبل کا نام دیا اس کے معنی بھی یونانی میں کتاب کے ہیں۔ اسی طرح اس صحیفوں کے لئے  کا لفظ “سکرپچر” استعمال ہوا ہے جس کے معنی لاطینی میں کتاب کے ہیں۔الغرض کتاب کا لفظ کتاب اللہ کے لئے کوئی نیا استعمال نہیں ہے۔ یہ استعمال جیسا کہ واضح ہوا، بہت قدیم ہے۔ قرآن نے بھی اس معنی میں اس لفظ کو استعمال کیا اور اپنے استعمالات سے اس کے اس معنی کو اس قدر واضح کر دیا کہ اس کے مخاطب اس استعمال کو بے تکلف سمجھنے لگ گئے۔
      لاریب فیہ : “ریب کے معنی شک کے ہیں” اس میں کوئی شک نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے کتاب الہی ہونے یا ایک کتاب منزل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔یہ جملہ پہلے جملہ کی خبر نہیں بلکہ اس کی تاکید ہے۔ ذلک الکتاب کے معنی ہیں، یہ کتاب الہی ہے۔ اس کے بعد یہ تاکید اسی حقیقت کو مزید قوت کے ساتھ ظاہر کرتی ہے کہ اس کے کتاب الہی ہونے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔
      اگر اس کے معنی یہ نہ لئے جائیں تو پھر اس ٹکڑے کے لئے یہاں کوئی موزوں موقع ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ قرآن مجید کے نظائر سے بھی اسی معنی کی تائید ہوتی ہے۔ مثلاً اسی سورہ میں چند ہی آیات کے بعد فرمایا ہے۔

      وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فا تو ابسورۃ من مثلہ- بقرہ : ۲۳- اور اگر تم اس کی طرف سے شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندہ پر اتاری ہے تو لاو اس کے مانند کوئی ایک سورہ۔

      الم تنزیل الکتاب لاریب فیہ من العالیمن- السجدہ : ۱- الم، کتاب کی تنزیل، جس کے کتاب الہی ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، عالم خداوند کی طرف سے ہے۔

      حم تنزیل الکتاب من اللہ العزیز االعلیم- مومن : ۱-۲- حم، کتاب کا اتارنا خدائے عزیز وعلیم کی طرف سے ہے۔

      عام طور پر لوگ اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ اس کتاب میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس میں شک کیا جاسکے۔ اگرچہ بجائے خود یہ ایک حقیقت ہے، قرآن میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش ہو لیکن ہمارے نزدیک اس جملہ کا مطلب یہ نہیں ہے۔ اس کے کئی وجوہ ہیں۔

      اولاً تو قرآن کے نظائر جو ہم نے پیش کئے ہیں اس مطلب کے خلاف ہیں۔ ثانیاً شک وشبہ کتاب کی صفات میں سے نہیں ہے بلکہ آدمی کے ذہن کی صفات میں سے ہے۔ ایک ٹیڑھے ذہن کا آدمی سیدھی سے سیدھی بات میں سے بھی کوئِی نہ کوئی ٹیڑھ نکال ہی لیتا ہے اس وجہ سے اس بات کے کہنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ ثالثاً شک وشبہ کا سوال درحقیقت پیدا کسی دعوے سے متعلق ہوتا ہے، یہاں دعوی یہ ہے کہ یہ کتاب الہی ہے۔ اس وجہ سے اگر شک کی نفی کی ضرورت ہے تو اس دعوی سے متعلق ہے نہ کہ کتاب سے متعلق۔ رابعاً کتاب سے متعلق شک کی نفی سے کتاب کی شان میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ اس طرح کے شک کی نفی ریاضی یا اقلیدس کی کسی کتاب کے بارہ میں بھی کی جاسکتی ہے۔ خامساً قرآن کے ابتدائی مخاطبین کی اصلی الجھن یہ نہیں تھی کہ قرآن کی کچھ باتیں ان کو مشکوک ومشتبہ معلوم ہوتی تھیں بلکہ ان کی اصلی الجھن یہ تھی کہ اس کتاب کو اللہ کی اتاری ہوئی بتایا جاتا تھا اور وہ اس کو اللہ کی اتاری ہوئی کتاب ماننے کو تیار نہیں تھے۔ سادساً اگر کتاب سے متعلق شک کی نفی کر بھی دی جائے تو اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ اس کے خدا کی طرف سے ہونے کا مسئلہ پھر بھی مشکوک ہی رہا۔ ہاں اس کا خدا کی طرف سے ہونا غیر مشکوک ہوجائے تو پھر اس کا ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہونا آپ سے آپ ثابت ہوجاتا ہے۔
      ھدی :  ھدی کا لفظ عربی زبان میں بھی اور قرآن مجید میں بھی کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ جن معانی کے نظائر خود قرآن میں موجود ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
      ۱ ۔ قلبی نور وبصیرت۔ مثلاً

      والذین اھتدو ازادھم ھدی- محمد :۱۷- اور جو لوگ ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہیں اللہ ان کی قلبی بصیرت میں اضافہ فرماتا ہے۔

      ۲ – دلیل وحجت اور نشان راہ۔ مثلاً

      اواجد علی النار ھدی- طہ : ۱۰- مجھے آگ کے پاس پہنچ کر کوئی نشان راہ مل جائے۔

      بغیر علم ولا ھدی ولا کتاب منیر – حج : ۸- بغیر کسی علم، بغیر کسی دلیل اور بغیر کسی روشن کتاب کے۔

      ۳ – سیدھا اور صاف راستہ۔ مثلاً

      انک لعلی ھدی مستقیم- حج : ۶۸- بے شک تم ایک سیدھے راستے پر ہو۔

      یہیں سے یہ لفظ طریقہ اور شریعت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس معنی کی مثالیں بھی قران میں موجود ہیں۔ مثلاً ان الھدی ھدی اللہ – آل عمران : ۷۲- اور شریعت تو بس اللہ کی شریعت ہے۔ فبھد اھم اقتدہ – انعام : ۹۰- پس ان کے طریقہ کی پیروی کر۔
      ۴ – فعل ہدایت۔ مثلاً

      لیس علیک ھداھم ولکن اللہ یھدی من یشاء- بقرہ : ۲۷۲- تمہارے ذمہ ان کو ہدایت دینا نہیں ہے بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔

      قرآن مجید میں ظاہر ہے کہ ان چاروں معنوں کے اعتبار سے ھدی ہے۔
      للمتقین :  حرف لام یہاں انتفاع کے مفہوم میں ہے۔ یعنی اس کتاب سے فائدہ وہی لوگ اٹھائیں گے جو متقی ہیں۔ جس طرح سورج چمکتا تو سب کے لئے ہے لیکن اس سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو آنکھیں رکھتے ہیں اور جو ان آنکھوں کو دیکھنے کے لئے کھولتے بھی ہیں۔ اسی طرح یہ کتاب اتری تو سب ہی کی ہدایت کے لئے ہے لیکن چونکہ اس سے فائدہ فی الحقیقت وہی لوگ اٹھائیں گے جن کے اندر خدا کا خوف ہو، اس وجہ سے فرمایا کہ یہ متقین کے لئے ہدایت ہے۔
      متقی کا لفظ اتقاء سے ہے۔ اتقاء کا لفظ قرآن مجید میں کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ہم مثالوں سے اس کی وضاحت کرتے ہیں۔
      ۱ – جس چیز سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو اس سے بچنا۔ مثلاً

      فکیف تتقون ان کفرتم یوما یجعل الولد ان شیبا- مزمل : ۱۷- اگر تم نے کفر کیا تو اس دن سے کیسے بچ سکو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔

      ۲ – کسی آفت کے ظہور سے اندیشہ ناک ہونا۔ مثلاً

      واتقو افتنۃ لا تصیبن الذی ظلمو منکم خاصۃ- انفال : ۲۵- اور اس آفت سے چوکنے رہو جو خاص طور پر انہی پر نہیں آئے گی جنہوں نے تم میں سے ظلم کا ارتکاب کیا ہوگا۔

      ۳ – اس رب قدوس سے برابر لرزتے اور کانپتے رہنا جو اپنے شکرگزار اور وفادار بندوں پر رحم فرماتا ہے جو کفر ومعصیب کو ناپسند کرتا ہے اور جو ہر ظاہر وپوشیدہ سے باخبر ہے۔

      وسیق الذین اتقواربھم الی الجنۃ زمراً – زمر : ۷۳- اور جو لوگ اپنے پروردگار سے برابر ڈرتے رہے ان کو گروہ درگروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔

      ۴ – اس کا چوتھا مفہوم مذکورہ تینوں مفہوموں کا جامع ہے۔ یعنی گناہ سے اس کے برے نتائج اور خدا کے غضب کے ڈر سے بچتے رہنا۔ جب یہ لفظ مفعول کے بغیر استعمال ہوتا ہے تو عموماً یہی مراد ہوتے ہیں اور اسی چیز کو تقوی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

      وان تومنوا وتتقو فلکم اجر عظیم- آل عمران : ۱۷۹- اگر تم ایمان لاو گے اور تقوی اختیار کرو گے تو تمہارے لئے بہت بڑا اجر ہے۔

      اس تشریح کی روشنی میں متقی وہ شخص ہوگا جس کے دل میں خدا کی عظمت اور اس کےغضب کا خوف سمایا ہوا ہو اور جس کو گناہوں کے نتائج کا پورا پورا احساس ہو۔
      تقوی میں عمل کی نسبت کیفیت اور حال کا پہلو اور فعل کے بالمقابل ترک کاپہلو اگرچہ زیادہ نمایاں ہے اور اس پہلو سے کہہ سکتے ہیں کہ اس میں نفی اثبات پر غالب ہے لیکن چونکہ یہ دل کی تندرستی کی دلیل ہے اور دل تندرست ہو تو سب کچھ تندرست ہے اس وجہ سے اس سے علم اور عمل دونوں کے سوتے پھوٹتے ہیں۔

       

      جاوید احمد غامدی یہ کتابِ الٰہی ہے، اِس میں کوئی شبہ نہیں۔ ہدایت ہے اِن خدا سے ڈرنے والوں کے لیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں : ’ذٰلِکَ الْکِتٰبُ‘۔اِن میں ’ذٰلِکَ‘کا اسم اشارہ سورہ کے لیے آیا ہے اور ’الْکِتٰب‘کے معنی کتاب الٰہی کے ہیں ۔ قرآن میں یہ لفظ جگہ جگہ اِس معنی کے لیے استعمال ہوا ہے اور اُسی طریقے پر استعمال ہوا ہے ،جس پر کوئی لفظ اپنے مختلف مفاہیم میں سے کسی ایک اعلیٰ اور برتر مفہوم کے لیے خاص ہو جایا کرتا ہے۔
      یعنی اِس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ کتاب الٰہی ہے۔یہی اِس جملے کا سیدھا اور صاف مفہوم ہے اور قرآن کے نظائر سے بھی اِسی کی تائید ہوتی ہے ۔
      ہدایت راستہ پانے کے لیے بھی ہوتی ہے اور راستے پر چلنے کے لیے بھی۔ الہامی صحائف اصلاً اِسی دوسری ہدایت کے لیے نازل ہوئے ہیں۔ قرآن نے بھی یہاں اور بعض دوسرے مقامات پر اپنے آپ کو اِسی لحاظ سے ہدایت قرار دیا ہے۔ اِس ہدایت سے بہرہ مند ہونے والوں کی جو خصوصیات اِن آیتوں میں بیان ہوئی ہیں ، وہ اگر غور کیجیے تو ٹھیک اُن خصوصیات کی نقیض ہیں جو یہود میں من حیث القوم پائی جاتی تھیں۔ قرآن نے اِسی سورہ میں آگے اُن کی یہ خصوصیات بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کی ہیں۔ اُس نے بتایا ہے کہ خدا سے ڈرنے کے بجاے وہ اُس کے مقابلے میں سرکش ہوئے۔ اُنھوں نے خدا پر ایمان لانے کے لیے اُسے آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کیا ۔ وہ نماز سے غافل ہو گئے اور خدا کی راہ میں انفاق کے بجاے لوگوں کو بخل کی ترغیب دینے لگے ۔ اُنھوں نے محض اپنے تعصبات کی بنا پر خدا کے پیغمبروں کا انکار کیا اور آخرت اُن کے لیے ایک رسمی عقیدہ بن کر رہ گئی ، اُن کے طرزِعمل میں اِس پر ایمان کی کوئی جھلک کہیں دکھائی نہیں دیتی تھی۔

      zakah
    • امین احسن اصلاحی ان لوگوں کے لیے جو غیب میں رہتے ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو جو کچھ  ہم نے ان کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یومنون بالغیب :  ایمان، امن سے ہے۔ایمان کے اصل معنی امن دینے کے ہیں۔ اگر اس کا صلہ لام کے ساتھ آئے تو اسکے معنی تصدیق کرنے اور رب کے ساتھ آئے تو یقین اور اعتماد کرنے کے ہوجاتے ہیں۔ اس لفظ کی حقیقی روح یقین، اعتماد اور اعتقاد ہے۔ جو یقین، خشیت، توکل اور اعتقاد کی خصوصیات کے ساتھ پایا جائے اس کو ایمان کہتے ہیں۔ جو شخص اللہ تعالی پر، اس کی آیات پر، اس کے احکام پر ایمان لائے اور اپنا سب کچھ اس کے حوالے کر کے اس کے فیصلوں پر پوری طرح راضی اور مطمئن ہو جائے وہ مومن ہے۔
      یہ لفظ جب اپنے مفعول کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس سے خاص اسی چیز پر ایمان لانا مراد ہوتا ہے جس کا اس کے مفعول کی حیثیت سے ذکر ہوتا ہے لیکن اگر مفعول کے بغیر آئے تو اس کے تحت وہ ساری ہی چیزیں آ سکتی ہیں جن پر ایمان لانے کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے۔ یا جن پر قرینہ دلیل بن سکتا ہے۔
      “غیب” کا لفظ قرآن مجید میں مندرجہ ذیل معنوں میں آیا ہے۔
      وہ جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو۔ اس کا مدمقابل لفظ شہادت ہے۔ اللہ تعالی کی صفات میں سے  ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ عالم الغیب والشھادۃ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے بھی باخبر ہے جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں اور ان چیزوں سے بھی باخبر ہے جو ہمارے سامنے ہیں۔
      وہ چیز جس کے جاننے کا آدمی کے پاس کوئی ذریعہ نہ ہو – نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قران میں نقل ہے

      ولو کنت اعلم الغیب لا تستکثرت من الخیر – اعراف : ۱۸۸۔ اگر مجھے غیب کا پتہ ہوتا تو میں خیر میں بہت سا اضافہ کر لیتا۔

      وہ جگہ جو آدمی کے سامنے نہ ہو یا وہ سمت جو متعین نہ ہورہی ہو-

      ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک وما کنت لدیھم اذاجمعو اامرھم- یوسف : ۱۰۲- یہ غیب کے واقعات میں سے ہے جس کو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں اور جب وہ اپنے فیصلہ پر متفق ہوئے تو تم ان کے پاس موجود نہ تھے۔

      راز کے معنی میں بھی اس لفظ کا استعمال عام ہے۔ مثلاً نیک بیبیوں کی تعریف میں آتا ہے۔ حفظت للغیب – وہ راز کی حفاظت کرنے والیاں ہیں۔
      بالغیب کی “ب” کے بارے میں بھی دو رائیں ہو سکتی ہیں۔
      ایک یہ کہ اس کو ظرف کے معنی میں لیا جائے یعنی وہ غیب میں ہوتے ہوئے ایمان لاتے ہیں۔ اس معنی کی متعدد مثالیں قرآن میں موجود ہیں۔ مثلاً

      الذین یخشون ربھم بالغیب وھم من الساعۃ مشفقون – انبیاء : ۴۹- جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں غیب میں ہوتے ہوئے اور قیامت سے ڈرنے والے ہیں۔

      انما تنذر الذین یخشون ربھم بالغیب واقامو الصلوۃ- فاطر : ۱۸- تم انہی کو ڈرا سکتے ہو جو غیب میں ہوتے ہوئے اپنے رب سے ڈریں اور نماز قائم کریں۔

      اس صورت میں “یومنون” عام رہے گا۔ اور وہی تمام چیزیں اس کے تحت آ سکیں گی جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ ایمان لانے کے لئے وہ اس بات کے منتظر نہیں ہیں کہ تمام حقائق کا آنکھوں سے مشاہدہ کر لیں، بلکہ وہ مشاہدہ کے بغیر محض عقل وفطرت کی شہادت اورپیغمبر صلی اللہ علیہ سلم کی دعوت کی بنا پر ان تمام چیزوں پر ایمان لاتے ہیں جن پر ایمان لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سلف میں سے ربیع بن انس نے یہی تاویل اختیار کی ہے اور ہم نے بھی ترجمہ میں اسی کو ترجیح دی ہے۔
      دوسری رائے یہ ہوسکتی ہے کہ اس کو صلہ کی “ب” مانا جائے اور “بالغیب” کو “یومنون” کا مفعول قرار دیا جائے۔ یہ رائے اگرچہ اکثریتی رائے ہے، اور زبان کے اعتبار سے اس میں کوئی بھی نقص نہیں ہے لیکن مندرجہ ذیل وجوہ سےہمیں یہ رائے کچھ زیادہ قوی نہیں معلوم ہوتی۔
      پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس صورت میں ایمان صرف غیب کے ساتھ مخصوص ہو کر رہ جاتا ہے۔ غیب کے سوا بقیہ ساری چیزیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے، ایمان کے دائرہ سے باہر ہوجاتی ہیں۔ برعکس اس کے پہلی صورت میں وہ تمام چیزیں ایمان کے دائرہ میں آجاتی ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے اور جن کی قرآن نے دوسرے مواقع پر تفصیل بیان کر دی ہے۔
      دوسری وجہ یہ ہے کہ لفظ غیب کا اطلاق چاہے ان تمام چیزوں پر ہوتا ہو جن پر ایمان لانا ضروری ہے لیکن نبی اور کتاب پر تو اس کا اطلاق بہرحال نہیں ہوتا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ دونوں چیزیں جن پر اللہ تعالی کے بعد ایمان لانا سب سے زیادہ ضروری ہے یہاں ایمان سے کیوں خارج کر دی گئیں؟
      تیسری وجہ یہ ہے کہ غیب کا لفظ اللہ تعالی کے لئے بھی نہیں بولا گیا ہے۔ غیب اللہ تعالی کے ناموں میں سے نہیں ہے۔ اس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہوئے کہ یہاں اللہ تعالی بھی ایمان کے اجزاء میں شامل نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالی بھی ایمان کے اجزاء میں شامل نہیں ہے تو ایمان بالغیب کے تحت صرف آخرت اور فرشتوں پر ایمان لانا ضروری ٹھہرتا ہے یا زیادہ سے زیادہ مستقبل کے حوادث پر۔ آخر ایمان کے دائرہ کو اس قدر محدود کردینے کی کیا وجہ ہے؟
      چوتھی وجہ یہ ہے کہ یہ دوسری تاویل لینے والے حضرات کہتے ہیں کہ غیب سے مراد احوال آخرت ہیں۔ اگر احوال آخرت ہی مراد ہیں تو آخرت کا ذکر تو آگے اسی سلسلہ میں مستقل طور پر آرہا ہے۔ فرمایا ہے

      وبالاخرۃ ھم یوقنون- اور آخرت پر یہی لوگ ایمان رکھتے ہیں۔

      آخر ایک ہی سلسلہ میں ایک ہی بات کو اس طرح دہرانے کی کیا ضرورت تھی؟
      پانچویں وجہ یہ ہے کہ پہلی تاویل سے ایک بہت بڑی حقیقت سامنے آتی ہے جس سے یہ دوسری  تاویل بالکل خالی ہے۔ وہ یہ کہ ایمان یا خشیت وہی معتبر ہے جو بصیرت اور تقوی سے پیدا ہو۔ جو ایمان یا خشیت گناہوں کے نتائج سامنے آجانے کے بعد پیدا ہو خدا کے ہاں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کا عذاب دیکھ کر ایمان لائے ان کے بارہ میں ارشاد یہ ہے۔ اثم اذا ماوقع امنتم بہ الانوقدکنتم بہ تستعجلون- یونس : ۵۱- تو کیا پھر جب عذاب آ نازل ہی ہوگا تب ہی اس کو مانو گے، اس وقت ہم کہیں گے اب، حالانکہ اس کے لئے تم جلدی مچائے ہوئے تھے۔
      ظرفیت کے مفہوم کے خلاف ایک بات یہ کہی جاسکتی ہے کہ جہاں جہاں بھی، قرآن میں لفظ ایمان کے ساتھ “ب” آئی ہے کہیں بھی ظرفیت کے مفہوم میں نہیں آئی ہے۔ لیکن یہ بات کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتی کیونکہ اس کے جواب میں بالکل اسی کے برابر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ بالغیب کا لفظ قرآن میں جہاں جہاں بھی آیا ہے ظرف ہی کے طور پر آیا ہے، کہیں بھی مفعول کے طور پر نہیں آیا۔ اس وجہ سے جہاں تک قرآن کے نظائر کا تعلق ہے، وہ ظرفیت کے مفہوم کے حق میں زیادہ نمایاں ہیں۔
      یقیمون الصلوۃ : اقامت کے معنی کسی چیز کے کھڑے کرنے یا اس طرح سیدھے کرنے کے ہیں کہ اس میں کوئی ٹیڑھ باقی نہ رہ جائے۔ فرمایا ہے وہ نماز قائم کرتے ہیں، یہ نہیں کہا ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں قرآن نے نماز کے لئے قائم کرنے کا لفظ استعمال کر کے ایک ہی ساتھ کئی حقیقتوں کی طرف توجہ دلا دی ہے۔
      پہلی چیز جس کی طرف یہ لفظ متوجہ کرتا ہے وہ نماز میں اخلاص ہے یعنی نماز صرف اللہ ہی کے لئے پڑھی جائے کسی اور کو اس میں شریک نہ کیا جائے۔ اس کے اندر سیدھے کرنے کا جو مفہوم ہے اس کا تقاضا اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ ہی لئے نہ پڑھی جائے۔ دوسرے مقام پر یہ حقیقت واضح لفظوں میں بھی بیان کر دی ہے۔

      واقیمو اوجوھکم عند کل مسجد وادعوہ مخلڈین لہ الدین- اعراف : ۲۹- اور اسی کی طرف اپنے رخ کرو ہر مسجد کے پاس اور اسی کو پکارو اسی کے لئے اطاعت کو خاص کرتے ہوئے۔

      یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ نماز میں رخ قبلہ کی طرف ہونا چاہئے کیونکہ وہی توحید اور اخلاص کا مرکز ہے۔
      دوسری چیز جس کی طرف یہ لفظ اشارہ کرتا ہے وہ نماز کے اصل مقصود پر دل کو پوری طرح جمانا ہے۔ نماز کا اصل مقصود ذکر الہی میں خشوع وخضوع ہے، اگر آدمی اس چیز سے غافل ہو کر نماز پڑھے تو یہ نماز کو قائم کرنے نہیں بلکہ محض چھدا اتارنا ہوا۔اس حقیقت کی طرف بھی قران نے بعض مقامات پر توجہ دلائی ہے۔ مثلاً

      واقم الصلوۃ لذکری- طہ : ۴- اور نماز کو میرے ذکر کے لئے قائم کرو۔ دوسری جگہ فرمایا ہے۔

      قد افلح المومنون الذین ھم فی صلاتھم خاشعون- مومنون : ۱-۲ ان مومنوں نے فلاح پائی جو اپنی نمازیں خشوع و خضوع سے ادا کرتے ہیں۔

      تیسری چیز یہ ہے کہ نماز بغیر کسی کمی بیشی کے اس طریقہ کے مطابق ادا کی جائے جس طریقہ پر اللہ تعالی نے اس کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے:

      فاذا امنتم فاذکرواللہ کما علمکم- بقرہ : ۲۳۹- پس جب تم امن میں ہو جاو تو اس طریقہ کو یاد کرو جو طریقہ اس نے تم کو سکھایا ہے۔

      نماز کی صفوں کا ٹھیک کرنا اور ارکان نماز کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ اسی وجہ سے حدیث میں آیا ہے کہ

      تسویۃ الصفوف من اقامۃ الصلوۃ- صفوں کو برابر کرنا بھی اقامت صلوۃ کا ایک جزو ہے۔

      چوتھی چیز نماز کی پوری پوری پابندی ہے۔ فرمایا ہے:

      اقم الصلوۃ لدلوک الشمس الی غسق اللیل وقرآن الفجر- اسراء : ۷۸ – اور نماز قائم کرو سورج کے زوال کے وقت سے لے کر رات کے تاریک ہونے تک اور صبح کے وقت کا قرآن پڑھنا۔

      اسی چیز کو دوسرے مقامات میں  “نمازوں کی نگرانی” سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حافظو اعلی الصلوت- بقرہ : ۲۳۸
      پانچویں چیز نماز پر قائم رہنا ہے جیسا کہ فرمایا ہے-

      ھم علی صلاتھم دائمون- معارج : ۲۳- وہ اپنی نمازوں پر برابر قائم رہتے ہیں۔

      چھٹی چیز جمعہ وجماعت کا قیام واہتمام ہے۔ خصوصیت کے ساتھ جب امت یا امام کی طرف سے اس کی نسبت کی جاتی ہے تب تو واضح طور پر جمعہ وجماعت کا قیام واہتمام ہی مدنظر ہوتا ہے۔ مثلاً ملاحظہ ہو:

      الذین ان مکناھم فی الارض اقامو الصلوۃ واتواالزکوۃ وامروابالمعروف ونھوا عن المنکر- حج : ۴۱- اگر ہم ان کو زمین میں اقتدار بخشیں گے تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے۔

      حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا جس میں انہوں نے اپنی ذریت کا مشن بتایا ہے، ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔

      ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم ربنا لیقیمو الصلوۃ – ابراہیم : ۳۸- اے ہمارے رب میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو اس کھیتی کی زمین میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے، اے ہمارے رب، تاکہ یہ نماز قائم کریں۔


      “صلوۃ” کا لفظ اصل لغت میں کسی شے کی طرف متوجہ ہونے کے لئے آیا ہے۔ پھر یہیں سے یہ لفظ رکوع کے معنی میں اور پھر تعظیم اور تضرع اور دعا کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمہ اللہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ یہ لفظ عبادت کے معنی میں بہت قدیم ہے۔ کلدانی میں دعا اور تضرع کے معنی میں اور عبرانی میں رکوع اور نماز کے معنی میں یہ استعمال ہوا ہے۔ قرآن میں یہ لفظ ایک اصطلاح کی حیثیت سے استعمال ہوا ہے جس کی وضاحت قرآن نے بھی کر دی ہے اور سنت نے بھی اس کی پوری وضاحت کی ہے۔ علاوہ ازیں امت کے قولی وعملی تواتر نے اس کی شکل وہئیت اور اس کے اوقات بالکل محفوظ رکھے ہیں۔ اگر اس کے کسی جزو میں کوئی اختلاف ہے تو وہ محض فروعی قسم کا ہے جس سے اصل حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

      جاوید احمد غامدی جوبن دیکھے مان رہے ہیں اور نماز کا اہتمام کر رہے ہیں اور جو کچھ  ہم نے اِنھیں دیا ہے ، اُس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کر رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ‘۔اِن میں ’ب‘ ہمارے نزدیک ظرفیت کے لیے ہے، یعنی وہ غیب میں ہوتے ہوئے ایمان لاتے ہیں ۔غیب میں ہوتے ہوئے ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ وہ محض محسوسات کے غلام اور مادیات کے پرستار نہیں ہیں ،بلکہ ایک عقلی اور روحانی ہستی ہیں ، لہٰذا ہر چیز کو دیکھ کر ماننے کے لیے مصر نہیں ہوتے ۔وہ اپنا سفر عقل کی رہنمائی میں طے کرتے ہیں اور جو باتیں عقل سے ثابت ہوتی ہیں یا اُن کی فطرت جن باتوں کی شہادت دیتی ہے ،اُنھیں وہ تسلیم کرتے ہیں اور اُن کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی محسوس اور مادی لذتوں کو ہر لحظہ قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
      ہم نے جس مدعا کو نماز کا اہتمام کرنے سے ادا کیا ہے ،اُس کے لیے اصل میں اقامت صلوٰۃ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے ۔ اِس کے معنی عربی زبان میں نماز کی حفاظت کرنے اور اُس پر قائم رہنے کے ہیں۔ نماز اہل عرب کے لیے کوئی اجنبی چیز نہ تھی ۔ دین ابراہیمی کی ایک روایت کی حیثیت سے وہ اُس کے اعمال و اذکار سے نہ صرف یہ کہ واقف تھے ،بلکہ اُن کے صالحین اِس کا اہتمام بھی کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اِس کی کوئی تفصیلات بیان نہیں کی ہیں ۔ نماز کے ساتھ یہاں انفاق کا ذکربھی ہوا ہے ۔ قرآن کی روسے یہ بنیادی نیکیاں ہیں ۔ انجیل متی میں سیدنا مسیح علیہ السلام نے بھی ذرا مختلف اسلوب میں یہی بات فرمائی ہے :

      ’’اور اُن میں سے ایک عالم شرع نے آزمانے کے لیے اُس سے پوچھا:اے استاد ،توریت میں کون سا حکم بڑا ہے ؟ اُس نے اُس سے کہا کہ خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ ۔ بڑا اور پہلا حکم یہی ہے ۔ اور دوسرا اِس کی مانند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ ۔اِنھی دو حکموں پر تمام توریت اور انبیا کے صحیفوں کا مدار ہے ۔‘‘( ۲۲:۵ ۳۔۴۰)

       

    • امین احسن اصلاحی اور ان کے لئے جو ایمان لاتے ہیں اس چیز پر جو تم پر اتاری گئی ہے اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے اور آخرت پر یہی لوگ یقین رکھتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      وبالاخرۃ ھم یوقنون : آخرت سے مراد دار آخرت یاحیات آخرت ہے۔ آخرت کے لئے یہاں ایمان کے بجائے ایقان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ایمان اور ایقان کے درمیان تھوڑا سا فرق ہے جس کو سمجھ لینا چاہئے۔ ایمان کے معنی تصدیق کرنے اور مان لینے کے ہیں۔ اس کا ضد کفروانکار اورتکذیب ہے۔ ایقان کے معنی یقین کرنے کے ہیں۔ اس کاضد گمان اور شک ہے جس طرح کسی شے پر یقین رکھنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی اس پر ایمان بھی رکھتا ہو، اسی طرح کسی چیز پر ایمان رکھنے کے لئے اس پر یقین کرنا شرط نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آدمی کا ایمان محض گمان غالب پر مبنی ہو اور وہ آہستہ آہستہ گمان کی منزل سے نکل کر یقین کی منزل تک پہنچے اور اس طرح اس کے ایمان کی تکمیل ہوجائے۔ یہاں ایقان کا ذکر ایمان کے چند معروف عملی مظاہر کے بعد ہوا ہے جس سے اس بات کا اشارہ نکلتا ہے کہ جو لوگ مذکورہ اوصاف کے حامل ہیں درحقیقت وہی لوگ ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اور جو اُسے بھی مان رہے ہیں جو تم پر نازل کیا گیا اور اُسے بھی جو تم سے پہلے نازل کیا گیا اور آخرت پر فی الواقع یقین رکھتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ہر طرح کے تعصبات سے بالاتر ہو کر حق کو سمجھ رہے اور اِسی حیثیت سے اُسے تسلیم کر رہے ہیں۔
      یعنی آخرت کو محض مانتے ہی نہیں ،ہر طرح کے ریب و گمان سے بالکل پاک ہو کر اُس پر یقین رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہی سبب ہے کہ حق کو ماننے میں کوئی تعصب اور اُس کے تقاضوں کو پورا کرنے میں کوئی غفلت کسی طرح اُن کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔

    • امین احسن اصلاحی یہی لوگ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      علی ھدی : ھدی کے مختلف معانی اوپر بیان ہو چکے ہیں۔ یہاں مذکورہ معانی میں سے نور بصیرت کے معنی بھی لئے جاسکتے ہیں اور صراط مستقیم کے معنی بھی لئے جاسکتے ہیں۔ ان دونوں معنوں میں سے جو معنی بھی لے لیا جائے آیت کی تاویل ٹھیک بن جاتی ہے اور لغت اور استعمالات قرآن سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
      المفلحون: اس لفظ کی اصلی روح انشراح اور انکشاف کی ہے اور اس سے مراد وہ فائزالمرامی اور کامیابی ہوتی ہے جو اگرچہ حاصل ہو تو ایک صبر آزما اور جاں گسل جدوجہد کے بعد لیکن جب حاصل ہو تو محنت کرنے والے نہال ہوجائیں اور ان کی توقعات کے سارے پیمانے اس کے ناپنے سے قاصر رہ جائیں۔

      جاوید احمد غامدی یہی اپنے پروردگار کی ہدایت پر ہیں اور یہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ٹھیک اُس طریقے پر ہیں جو ہمیشہ سے اہل ایمان کا طریقہ رہا ہے۔
      فلاح سے مراد وہ کامیابی ہے جو آدمی کو اگرچہ حاصل تو بڑی صبر آزما اور جاں گسل جدوجہد کے بعد ہوتی ہے ،لیکن جب حاصل ہو جاتی ہے تو اِس طرح نہال کر دیتی ہے کہ اُس کی توقعات کے سارے پیمانے اُسے ناپنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے لئے یکساں ہے ڈراو یا نہ ڈراو، وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں. (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ان الذین کفروا:  کفر کے معنی اصل لغت میں ڈھانکنے اور چھپانے کے ہیں۔ قران میں یہ لفظ شکر کے ضد کی حیثیت سے بھی استعمال ہوا ہے اور ایمان کے ضد کی حیثیت سے بھی۔ پہلی صورت میں اس کے معنی ناشکری اور کفران نعمت کے ہوتے ہیں۔ دوسری صورت میں انکار کے۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ لفظ کی اصل روح ان دونوں معنوں کے اندر موجود ہے۔
      قرآن مجید میں یہ لفظ مطلق بھی استعمال ہوا ہے اور اپنے مفعول کے ساتھ بھی۔ جہاں مفعول کے ساتھ استعمال ہوا ہے وہاں تو متعین طور پر اس مفعول ہی کا کفر وانکار مراد ہے۔ لیکن جہاں کسی مفعول کے بغیر مطلق صورت میں استعمال ہوا ہے وہاں بالعموم تو ان تمام چیزوں کے انکار کے معنی میں استعمال ہوا ہے جن پر ایمان لانا ضروری ہے لیکن کہیں کہیں ناشکری اور کفران نعمت کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے جس کا پتہ قرینہ اور موقع محل سے چلتا ہے۔
      موقع کلام کا تقاضا یہ ہے کہ الذین کفروا سے یہاں انکار کرنے والوں کا کوئی مخصوص گروہ مراد ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ان لوگوں کی چند خاص صفات بھی بیان ہوئی ہیں۔ مثلاً یہ کہ ان کے لئے ڈرانا اور نہ ڈرانا دونوں برابر ہے، کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں، یہ کہ اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر کر دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردے پڑ چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ حال تمام کفار کا نہیں تھا ان میں بہتیرے ایسے بھی تھے جو ابتدا میں منکر ومخالف رہے لیکن بعد میں اسلام لائے۔ اس کی وجہ سے یہ امر تو بدیہی ہے کہ یہاں کوئی مخصوص گروہ مراد ہے۔ البتہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ گروہ کن لوگوں کا ہے؟
      ہمارے نزدیک اس سے مراد قریش، اہل کتاب اور منافقین کے وہ لیڈر اور سردار ہیں جن پر قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت پوری طرح واضح ہو چکی تھی لیکن اس وضاحت کے باوجود وہ محض ضد، ہٹ دھرمی، انانیت اور حسد وتکبر کے سبب سے مخالفت کر رہے تھے۔ اس تحصیص کے بعض وجوہ یہ ہیں۔
      پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس سے اوپر والے ٹکڑے میں اس گروہ کا بیان ہوا ہے جو قرآن پر ایمان لانے والا تھا۔ وہاں ہم نے ھدی للمتقین الذین یومنون بالغیب کی تفسیر کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ اس سے اہل کتاب اور بنی اسماعیل کے وہ تمام سلیم الفطرت اور خدا ترس لوگ مراد ہیں جن کے ضمیر زندہ، جن کی صلاحیتیں محفوظ اور جن کے دل بیدار تھے۔ انہی کے مقابل میں مذکورہ آیات میں اس گروہ کا بیان ہوا ہے جو ایمان لانے والا نہیں ہے۔ یہ تقابل خود دلیل ہے کہ اس سے مراد قریش اور اہل کتاب میں سے وہ لوگ ہوں جن کو دنیا پرستی اور حسد وانانیت نے بالکل اندھا بہرا کر دیا تھا، جن کی فطرت مسخ ہوچکی تھی اور جو قبول حق کی تمام صلاحیتوں سے یک قلم محروم ہوچکے تھے۔
      دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاں قرآن نے اس گروہ کی جو خصوصیات، ان کا نام لئے بغیر، بیان کی ہیں بعینہ وہی خصوصیات دوسرے مقامات میں یا تونام کی صراحت کے ساتھ بیان کی ہیں یا ایسے واضح قرائن کے ساتھ بیان کی ہیں جن سے گروہ کا تعین آپ سے آپ ہوجاتا ہے۔ ان مقامات کو سامنے رکھ کر اگر اس آیت کے اجمال کو واضح کرنے کی کوشش کی جائے تو آدمی اسی نتیجہ تک پہنچتا ہے جس نتیجہ تک ہم پہنچے ہیں۔ یعنی اس سے مشرکین، یہود اور منافقین کے وہ سردار اور لیڈر مراد لئے جائیں جن پر حقیقت اچھی طرح واضح ہوچکی تھی کہ قرآن کی دعوت حق ہے لیکن اس کے باوجود وہ اس کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور صرف کررہے تھے۔ یہاں ہم چند آیتیں نقل کرتے ہیں جن سے ہمارے رائے کی تائید ہوتی ہے۔

      مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن بَعْدِ إيمَانِهِ إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ وَلَـكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ذَلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّواْ الْحَيَاةَ الْدُّنْيَا عَلَى الآخِرَةِ وَأَنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ أُولَـئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ وَأُولَـئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ نحل :  ۱۰۶-۱۰۸ جس نے کفر کیا اللہ کا ایمان کے بعد، بہ جز ان کے جو مجبور کئے گئے اور جن کے دل ایمان پر جمے رہے، پر جن کے سینے کفر کے لئے کھل گئے تو ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے عذاب عظیم ہے۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور اللہ کافر قوم کو راہ یاب نہیں کرتا۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر، کانوں پر، اور جن کی آنکھوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے اور یہی لوگ ہیں جو بے خبر ہیں۔

      اس آیت میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ جولوگ ایمان لاچکنے کے بعد یا حق کے واضح ہوجانے کے بعد محض دنیا پرستی کی وجہ سے کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں ان پر اللہ کا غضب ہوتا ہے، ان کے لئے عذاب عظیم ہے، ان کے لئے خدا ایمان کی راہ نہیں کھولا کرتا، ان کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے حقیقی مصداق اگر ہوسکتے تھے تو سرداران قریش، علمائے یہود اور منافقین ہی ہوسکتے تھےیا پھر وہ لوگ جو انہی کی روش اختیار کریں۔
      دوسری جگہ تمام انبیا کے مخالفین ومعاندین کے بارہ میں فرمایا ہے:

      تِلْكَ الْقُرَى نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَآئِهَا وَلَقَدْ جَاءتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُواْ لِيُؤْمِنُواْ بِمَا كَذَّبُواْ مِن قَبْلُ كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللّهُ عَلَىَ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ اعراف : ۱۰۱ یہ بستیاں ہیں جن کی سرگزشتیں ہم تم کو سناتے ہیں ان کے پاس ان کے انبیا کی کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے لیکن وہ ایمان لانے والے نہ بنے، بوجہ اس کے کہ وہ جھٹلاتے رہے پہلے سے، اسی طرح اللہ مہر کر دیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر۔

      خاص طور پر یہود کے بارہ میں فرمایا ہے:

      فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بَآيَاتِ اللّهِ وَقَتْلِهِمُ الأَنْبِيَاء بِغَيْرِ حَقًّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَلِيلاً نساء : ۱۵۵ پس بوجہ اس کے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو توڑا، اللہ کی آیات کا انکار کیا۔ نبیوں کو ناحق قتل کیا اور کہا کہ ہمارے دل تو بند ہیں بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر مہر کر دی ہے تو وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر بہت کم۔

      اسی طرح منافقین کے بارہ میں یہ الفاظ وارد ہیں:

      ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ منافقون : ۳ یہ اس وجہ سے کہ وہ ایمان لائے، پھر انہوں نے کفر کیا پس ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی سو وہ نہیں سمجھتے۔

      قرآن کی ان تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ زیر بحث آیات میں الذین کفروا کا اشارہ ایک خاص گروہ کی طرف ہے۔لیکن یہ گروہ نہ تو مخصوص طور پر مشرکین کا ہے نہ محدود مفہوم میں اہل کتاب کا بلکہ یہ  مشرکین اور اہل کتاب دونوں گروہوں کے ان افراد پر مشمل ہے جو حق کو اچھی طرح پہچان چکنے کے بعد اس کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔
      سلف سے اس آیت کی تاویل میں جو اقوال منقول ہیں ان سے  بھی ہمارے خیال کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک اس سے اہل کتاب کے وہ ہٹ دھرم لوگ مراد ہیں جو ان تمام پیشین گوئیوں کو جھٹلا چکے تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں ان کے صحیفوں میں موجود تھیں اور اس طرح انہوں نے اس عہد کو توڑ دیا تھا جو اللہ تعالی نے ان سے آخری نبی کے متعلق لیا تھا۔ ربیع بن انس کے نزدیک اس سے ان مختلف پارٹیوں کے لیڈر مراد ہیں جو اسلام کی مخالفت میں پیش پیش تھیں۔ یہ دونوں قول ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں بس فرق اگر ہے تو یہ ہے کہ ربیع بن انس کی تاویل نسبتاً جامع اور وسیع ہے۔ قرآن کے نظاِئر سے اسی کی تائید ہوتی ہے اس وجہ سے ہم نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
      ء انذرتھم : انذار کے معنی ڈرانے، ہوشیار کرنے اور خبردار کرنے کے ہیں۔ انبیا علیہم السلام کی دعوت وتبلیغ ایک طرف تو نہایت ٹھوس انفسی و آفاقی دلائل پر مبنی ہوتی ہے۔ دوسری طرف اس میں انذاروتبشیر کا پہلو بھی ہوتا ہے۔ تبشیر کا مفہوم اس فوزوفلاح اور اس کامیابی وکامرانی کی بشارت دیتا ہے جو نبی کی دعوت قبول کر لینے اور اس کی بتائی ہوئی صراط مستقیم اختیار کر لینے سے دنیا اور آخرت دونوں میں حاصل ہوتی ہے۔ انذار کا مفہوم ان خطرات ومہالک سے آگاہ کرنا ہے جن سے نبی کی تکذیب کرنے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں لازماً دوچار ہونا پڑتا ہے۔ انبیا علیہم السلام عام حالات میں یہ دونوں ہی فرض انجام دیتے ہیں۔ لیکن جہاں ضدی اور ہٹ دھرم لوگ مقابل میں آن کھڑے ہوتے ہیں جن کی مخالفت کسی غلط فہمی کی بنیاد پر نہیں بلکہ محض حسد اور عناد کی بنیاد پر ہوتی ہے، وہاں قدرتی طور پر نبی کی دعوت میں انذار کا پہلو غالب ہوجاتا ہے کیونکہ اس وقت حالات اسی کے متقاضی ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہاں آپ کے کام کو صرف انذار ہی کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ آیت زیر بحث کا تعلق، جیسا کہ واضح ہو چکا ہے، ان مخالفین ومعاندین سے ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کسی غلط فہمی کی بنا پر نہیں کر رہے تھے بلکہ یہ جانتے ہوئے کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی برحق ہیں اور قرآن اللہ کی کتاب ہے۔
      انذار ہو یا تبشیر دونوں کی حقیقت ان قدرتی نتائج سے آگاہ کرنا ہے جو ایمان یا کفر کے اندر مضمر ہیں۔ جس طرح ایک طبیب اپنے زیر علاج مریض کو دوا اور پرہیز کے فوائد اور بدپرہیزی اور مرض سے غفلت کے نتائج آگاہ کرتا ہے اسی طرح پیغمبر بھی اپنی قوم کو اپنی دعوت کے ماننے اور نہ ماننے کے فوائد اور نتائج سے آگاہ کرتا ہے۔
      بعض لوگ انذار کی اس حقیقت سے بے خبر ہونے کے سبب سے مذہب کے خلاف یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ یہ موہوم خطرات کے ڈراوے سنا سنا کر لوگوں کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتا ہے، انسان کی عقل سے اپیل نہیں کرتا۔ یہ معترض عموماً دو باتوں سے بے خبر ہیں، ایک تو یہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ قرآن کی دعوت صرف انذار وتبشیر پر ہی مبنی نہیں ہے بلکہ وہ اپنے اندر نہایت مضبوط انفسی وعقلی دلائل بھی رکھتی ہے، انذار وتبشیر اس کی دعوت کا صرف ایک پہلو ہے۔ دوسری چیز جس سے یہ بے خبر ہیں وہ ایمانی واخلاقی اقدار کی قدروقیمت ہے۔ یہ لوگ اس بات سے تو واقف ہیں کہ سنکھیا کھا لینے سے آدمی مرجاتا ہے لیکن یہ حقیقت ان کی سمجھ سے بالا تر ہے کہ کفر، نفاق اور جھوٹ سے بھی انسان ہلاک ہوجایا کرتا ہے۔ پیغمبر کو چونکہ اخلاقی اقدار کے ثمرات ونتائج کا اچھی طرح علم ہوتا ہے اس وجہ سے وہ لوگوں کو ان سے آگاہ کرتا ہے اور اسی انداز بیان میں آگاہ کرتا ہے جو انداز بیان اس کے علم ویقین کے شایان شان ہوتا ہے۔ اسی چیز کو قرآن مجید انذار کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے برخلاف) جن لوگوں نے (اِس کتاب کو) نہ ماننے کا فیصلہ کرلیا ہے، اُن کے لیے برابر ہے، تم اُنھیں خبردار کرو یا نہ کرو ،وہ نہ مانیں گے ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور آپ کے مخالفین کے لیے سرزنش کا مضمون سورہ کی اِس تمہید میں نمایاں ہوتا ہے ۔گویا آپ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ لوگ اگر آپ کی بات نہیں سن رہے ہیں تو اِس میں نہ آپ کا کوئی قصور ہے اور نہ آپ کی تبلیغ و دعوت میں کوئی کسر رہ گئی ہے ، بلکہ یہ سرتا سر اِن کے دل کی خرابی ہے جس کی وجہ سے یہ حق کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں :

      ’’...اللہ کے دین کی صداقتوں کو جھٹلاتے جھٹلاتے اب یہ قانون الٰہی کی زد میں آ چکے ہیں جس کے سبب سے اِن کے دلوں کے اندر سے اثر پذیری کی، اِن کے کانوں کے اندر سے حق نیوشی کی اور اِن کی آنکھوں کے اندر سے عبرت نگاہی کی ساری صلاحیتیں سلب ہو چکی ہیں ۔ اب آپ اِن کی صلاح و فلاح کی طرف سے بالکل مایوس ہو جائیں ۔ اب اِن کے لیے اگر کوئی چیز باقی رہ گئی ہے تو وہ اللہ کا عذاب ہے جس سے وہ لازماً دوچار ہوں گے ۔‘‘ (تدبر قرآن ۱/۱۱۶)

      اصل میں ’ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ کے الفاظ آئے ہیں ۔ اِن میں فعل فیصلہ فعل کے معنی میں ہے اور اِس سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر قرآن اور پیغمبر کی حقانیت اگرچہ پوری طرح واضح ہو چکی تھی ،لیکن محض اپنی ضد ،ہٹ دھرمی اور انانیت کے باعث وہ اُن کی مخالفت کر رہے تھے اور اُنھیں کسی طرح مان کر دینا نہیں چاہتے تھے ۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لئے عذاب عظیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ختم اللہ : ختم کے معنی عربی زبان میں موم یا مٹی یا کسی اسی طرح کی چیز پر ٹھپہ لگانے کے ہیں۔ یہیں سے یہ لفظ خط پر مہر لگانے اور کسی چیز کے منہ کو اس طرح  بند کر دینے کے لئے استعمال ہونے لگا جس کے بعد نہ اس میں کوئی چیز داخل ہوسکے اور نہ کوئی چیز اس سے نکل سکے۔
      قرآن مجید میں بعض جگہ جب اللہ تعالی کسی فعل کو اپنی طرف منسوب فرماتا ہے تو اس سے مقصود  اس فعل کو اپنی طرف منسوب کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس قانون یا اس سنت کو اپنی طرف منسوب کرنا ہوتا ہے جس قانون اور سنت کے تحت وہ فعل ظہور میں آتا ہے۔ چونکہ یہ قانون خود اللہ تعالی ہی کا مقرر کردہ ہوتا ہے اس وجہ سے وہ فعل جو اس قانون کے تحت ظہور میں آتا ہے بعض اوقات قانون بنانے والے کی طرف منسوب کر دیا جاتا ہے۔ تعبیر مطلب کا یہ اسلوب کم وبیش ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ عربی زبان اور قرآن مجید میں بھی اس کی بکثرت مثالیں موجود ہیں۔ اسی اسلوب کے مطابق یہاں دلوں پر مہر لگانے کے فعل کو اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے لیکن مقصود اس سے اس سنت اللہ کی اپنی طرف نسبت ہے جو اس نے ہدایت وضلالت کے لئے جاری کر رکھی ہے۔ اور جس کے تحت دلوں پر مہر کرنے کا یہ فعل واقع ہوتا رہا ہے۔ رہا یہ سوال کے یہ سنت اللہ کیا ہے تو اس کی وضاحت ہم آگے کریں گے۔
      علی سمعھم: ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہاں سمع کا لفظ کیوں استعمال ہوا ہے جب کہ قلوب وابصار کے الفاظ جمع استعمال ہوئے ہیں۔ کلام کی ہم آہنگی کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ بھی جمع یعنی اسماع استعمال ہوتا؟ میرے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ اس چیز کاتعلق اہل زبان کے طریق استعمال سے ہے۔ قرآن میں یہ لفظ کم وبیش ۲۰-۲۲ مقامات میں استعمال ہوا ہے اور اکثر جگہ قلوب اور ابصار کے ساتھ استعمال ہوا ہے لیکن ہر جگہ واحد ہی کی شکل میں استعمال ہوا ہے، کہیں بھی جمع کی شکل میں استعمال نہیں ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن مجید زبان کے لحاظ سے بھی ایک معیاری چیز ہے اس وجہ سے ماننا پڑے گا کہ نصحائے عرب اس سیاق میں اس لفظ کو اسی طرح استعمال کرتے رہے ہیں۔

      ختم قلوب کی حقیقت اور اس کے بارے میں قانون الہی

      یہاں جس ختم قلوب کا ذکر ہے اس کے بارے میں دو باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہئیں۔
      ایک یہ کہ اس ختم سے مراد ظاہری نہیں ہے بلکہ ختم معنوی مراد ہے۔ جہاں تک ظاہری چیزوں کے دیکھنے، سننے اورسمجھنے کا تعلق ہے یہ لوگ ان کو دیکھتے، سنتے اور سمجھتے ہیں لیکن اس مشرب کے لوگ اپنی سمجھ بوجھ کی تمام قوتیں اور صلاحیتیں دنیا کے ظواہر ومحسوسات تک محدود رکھتے ہیں، ان ظواہر ومحسوسات کے پس پردہ جو حقائق ہیں ان کی طرف نہ تو یہ خود متوجہ ہوتے ہیں اور نہ کسی دوسرے توجہ دلانے والے کی  بات پر کان دھرتے ہیں۔ دنیا اور زخارف دنیا میں ان کا انہماک اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ کسی اور چیز کی طرف توجہ کرنے کی ان کے اندر گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی۔ یہ اپنی ذہانت وفطانت اسی ایک مقصد پر صرف کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آسمان وزمین کا طول وعرض ناپنے میں تو ان کی عقل بڑی تیز ہوجاتی ہے لیکن روحانی اقدار وحقائق کے معاملہ میں وہ بالکل ہی کند ہوتی ہے۔ یہ صورت حال ان کے مذاق کو بھی اس قدر بگاڑ دیتی ہے کہ صرف وہی باتیں ان کو اچھی لگتی ہیں جن سے ان کے اس بگڑے ہوئے مذاق کو غذا ملے۔ جن باتوں سے اس کی حوصلہ شکنی ہو، خواہ وہ کتنی ہی معقول ہوں، ان سے ان کی طبیعت کو وحشت ہوتی ہے۔ اسی صورت حال کو یہاں ختم قلوب کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔
      دوسری یہ کہ اس ختم قلوب سے مراد یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالی نے ان لوگوں کو ان کی  ماوں کے پیٹوں ہی سے ان کے دلوں پر ٹھپے لگا کر پیدا کیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بداعمالیوں سے اپنے آپ کو اس قدر بگاڑ لیا ہے کہ ان کے دل پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سننے اور سمجھنے سے محروم ہوگئے۔
      جہاں تک اللہ تعالی کا تعلق ہے اس نے ہر انسان کو اچھی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے، اس کو نیکی وبدی کا امتیاز بخشا ہے اور ساتھ ہی نیکی کو پسند کرنے اور بدی سے نفرت کرنے کا مذاق بھی اس کے اندر ودیعت کیا ہے۔ ان فطری صلاحیتوں سے آراستہ کرنے کے بعد اس نے انسان کو آزاد چھوڑا ہے کہ چاہے وہ نیکی کا راستہ اختیار کرے چاہے بدی کا۔ آگے چل کر یہی اختیاری نیکی یا بدی ہے جو اس کی فطری صلاحیتوں کے بنانے یا بگاڑنے میں اصلی دخل رکھتی ہے۔ اگر انسان نیکی اور بھلائی کی راہ اختیار کرتا ہے تو اس سے اس کی فطری صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں اور اللہ تعالی کی طرف سے اس کو نیکی کی راہ میں ترقی کی توفیق ملتی ہے۔ اور اگر وہ خواہشات نفس کے پیچھے لگ کر بدی کے رستے پر چل پڑتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ اس کا دل برائی کا رنگ پکڑنا شروع کرتا ہے یہاں تک کہ یہ رنگ اس پر اس قدر غالب ہوجاتا ہے کہ پھر اس کے اندر نیکی کی کوئی رمق باقی ہی نہیں رہ جاتی۔ یہی مقام ہے جہاں پہنچ کر اللہ تعالی کے قانون کے تحت آدمی کے دل پر مہر لگ جاتی ہے اور اس کا مذاق طبیعت اس قدر بگڑ جاتا ہے کہ اس کی ساری دلچسپی صرف بدی ہی کے کاموں سے باقی رہ جاتی ہے۔ نیکی کے کام کرنا تو الگ نیکی کی باتیں سننے سے بھی اس کو وحشت ہوتی ہے۔
      چنانچہ قرآن مجید میں یہ بات بار بار بیان ہوئِی ہے کہ آدمی کے دل پر یہ مہر اس کے گناہوں کی پاداش میں لگتی ہے۔ چند آیات ملاحظہ ہوں:

      أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الأَرْضَ مِن بَعْدِ أَهْلِهَا أَن لَّوْ نَشَاء أَصَبْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ وَنَطْبَعُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لاَ يَسْمَعُونَ اعراف : ۱۰۰ کیا ان لوگوں کو جو اگلوں کے بعد اس زمین کے وارث ہوئے اس بات سے کوئی سبق حاصل نہیں ہوتا کہ اگر ہم چاہتے تو ان کے گناہوں کی پاداش میں ان پر آفت بھی لاتے اور ان کے دلوں پر مہر کر دیتے پس وہ سننے سمجھنے سے رہ جاتے۔

      اس آیت میں اس بات کی صاف تصریح ہے کہ دلوں پر مہر گناہوں کی سزا کے طور پر لگتی ہے۔
      دوسری جگہ فرمایا ہے:

      وَلَقَدْ جَاءتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُواْ لِيُؤْمِنُواْ بِمَا كَذَّبُواْ مِن قَبْلُ كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللّهُ عَلَىَ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ وَمَا وَجَدْنَا لأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ وَإِن وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ اعراف ۱۰۱-۱۰۲ اور ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے لیکن یہ لوگ ایمان لانے والے نہ بنے کیوں کہ یہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے۔ اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہر کر دیا کرتا ہے۔ ہم نے ان میں سے اکثر کے اندر عہد کی پابندی نہیں پائی بلکہ ہم نے ان میں سے اکثر کو بدعہد اور نافرمان پایا۔

      یعنی اللہ تعالی کے عہد اور اس کے احکام کی خلاف ورزی میں یہ پہلے سے مشاق تھے۔ اس وجہ سے جب ان کے رسول بھی ان کے پاس اللہ کی آیات اور اس کی نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے ان کی بھی کوئِی پرواہ نہیں کی۔ جو لوگ حق کی تکذیب میں اس طرح دیدہ دلیر اور ڈھیٹ ہوجاتے ہیں اللہ تعالی ان کے دلوں پر مہر کر دیا کرتا ہے جس سے ان کی عقل بالکل ہی ماری جاتی ہے۔
      اس سے زیادہ وضاحت وتصریح کے ساتھ یہود کے بارے میں فرمایا ہے:

      فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بَآيَاتِ اللّهِ وَقَتْلِهِمُ الأَنْبِيَاء بِغَيْرِ حَقًّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَلِيلاً. نساء : ۱۵۵ پس بوجہ اس کے کہ انہوں نے عہد کو توڑا، اللہ کی آیات کا انکار کیا، انبیا کو ناحق قتل کیا اور کہا کہ ہمارے دل تو بند ہیں بلکہ اللہ نے ان کے دلوں پر ان کے کفر کے سبب مہر کر دی ہے تو وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر بہت کم۔

      مذکور بالا آیات سے ایک تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالی کسی کواس کی ماں کے پیٹ سے اس کے دل پر مہر کر کے نہیں بھیجتا بلکہ یہ مہر بھی جس کے دل پر لگتی ہے اس کے گناہوں کے قدرتی نتیجہ کے طور پر لگتی ہے۔
      دوسری حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ ہر درجہ کا گناہ وہ چیز نہیں ہے جس کے نتیجہ میں کسی کے دل پر مہر لگ جایا کرے، بلکہ کوئی فریاد یا کوئی گروہ جب حق کو حق سمجھتے ہوئے، اپنے دل کی گواہی کے بالکل خلاف محض ضد، نفسانیت، اور ہٹ دھرمی کے سبب سے اس کی مخالفت کرتا ہے اور اس مخالفت پر جم جاتا ہے تب اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے اور وہ صحیح طور پر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوجایا کرتا ہے۔
      تیسری حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ دل کا اس طرح مہربند ہوجانا اور سمع وبصر کی صلاحیتوں سے اس طرح محروم ہوجانا اللہ تعالی کا ایک عذاب ہے۔ جو اس کی نعمتوں کی ناشکری کی پاداش میں کسی فرد یاگروہ پر اس دنیا میں نازل ہوتا ہے اور اسی عذاب کا فطری نتیجہ وہ عذاب عظیم ہے جس میں اس طرح کے لوگ اس زندگی کے بعد والی زندگی میں مبتلا ہوں گے۔ چنانچہ زیر بحث آیت کے آخر میں جو فرمایا ہے کہ ولھم عذاب عظیم- اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے وہ درحقیقت اسی ختم قلوب کے اس قدرتی نتیجہ کا بیان ہے جو آخرت میں ظاہر ہوگا۔
      ختم قلوب کی جو حقیقت ہم نے بیان کی ہے اس کی وہی حقیقت احادیث سے بھی واضح ہوتی ہے۔ ہم طوالت سے بچنے کے لئے صرف ایک حدیث پر یہاں اکتفا کرتے ہیں۔

      ان المومن اذا ذنب کانت نکتۃ سوداء فی قلبۃ فان تاب ونذع واستعتب صقل قلبہ وان زادت حتی تعلو قلبہ فذالک الران الذی قال اللہ تعالی کلا بل ران علی قلوبھا ما کانوا یکسبون۔ (ابن کثیر بحوالہ ترمذی) مومن جب کوئِی گناہ کر بیٹھتا ہے تو اس کے سبب سے اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ پڑ جاتا ہے۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے، اس گناہ سے باز آجاتا ہے اور اللہ تعالی سے معافی مانگ لیتا ہے تو اس کے دل کا وہ دھبہ صاف ہوجاتا ہے۔ اور اگر اس کے گناہوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ ان کی سیاہی اس کے پورے دل پر چھا جاتی ہے تو یہی وہ رین ہے جس کا ذکر اللہ تعالی نے فرمایا ہے، ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی سیاہی چھا گئی ہے۔

      سلف صالحین کے نزدیک بھی ختم قلوب کی یہی حقیقت ہے۔ ابن کثیر نے اعمش کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ اعمش کہتے ہیں کہ مجاہد نے ایک مرتبہ ہمیں سمجھایا کہ سلف ،صحابہ رضی اللہ، دل کو اس ہتھیلی کی مانند سمجھتے تھے۔ جب آدمی کسی گناہ میں آلودہ ہوتا ہے تو ، انہوں نے اپنی انگلی سکیڑتے ہوئے سمجھایا، دل اس طرح بھنچ جاتا ہے اسی طرح تیسری انگلی کو سکیڑا۔ یہاں تک کہ یکے بعد دیگرے تمام انگلیوں کو سکیڑ لیا۔ پھر فرمایا کہ جب دل گناہوں کے غلبہ سے اس طرح بھنچ جاتا ہے تو اسپر مہر کر دی جاتی ہے۔ مجاہد نے بتایا کہ سلف اسی چیز کو وہ رین قرار دیتے تھے جس کا ذکر کلابل ران علی قلوبھم الآیہ میں آیا ہے۔
      ختم قلوب کی اصل حقیقت واضح ہوجانے کے بعد ہمیں جبراختیار کی اس بحث میں پڑنے کی ضرورت باقی نہیں رہی جو اشاعرہ اور معتزلہ کے درمیان برپا ہے اور جس میں یہ حضرات بے ضرورت اس آیت کو بھی گھسیٹ لے گئے ہیں۔ قرآن مجید میں نہ تو اس جبر ہی کے حق میں ہے جس کے مدعی اشاعرہ ہیں اور نہ اس اختیار ہی کے حق میں ہے جس کے علم بردار معتزلہ ہیں بلکہ حق ان دونوں کے درمیان ہے لیکن یہ مقام اس مسئلہ کی تفصیلات کے لئے موزوں نہیں ہے۔ ہم صرف چند اصولی باتیں یہاں بیان کئے دیتے ہیں جو ان لوگوں کے لئے ان شاء اللہ کفایت کریں گی جو اس مسئلہ پر ہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہو کر صرف علمی ذہن کے ساتھ غور کریں گے۔ یہ اصولی باتیں مندرجہ ذیل ہیں:۔
      ۱ ۔ مبداء فطرت سے اللہ تعالی نے ہر انسان کو اچھی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ اس کو نیکی وبدی کا امتیاز بخشا ہے اور ان میں سے جس کو بھی وہ اختیار کرنا چاہے اس کو اختیار کرنے کی اس کو آزادی دی ہے۔ اس کے بعد اس کا نیک یا بد بننا اس کے اپنے رویہ اور توفیق الہی پر منحصر ہے۔ اگر وہ نیکی کی راہ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کی نیکی کی توفیق بخشتا ہے اور اگر وہ بدی کی راہ پر جانا چاہتا ہے تو اس کو اللہ تعالی، اگر چاہتا ہے، بدی کی راہ پر جانے کے لئے بھی چھوڑ دیتا ہے۔
      ۲ – اللہ تعالی جن چیزوں پر انسان کا مواخذہ کرے گا یا جن پر اس کو اجر دے گا ان کے لئے اس نے انسان کو اختیار وارادہ کی آزادی بھی بخشی ہے۔ جو لوگ اس اختیار وارادہ کے حامل نہیں ہیں اللہ تعالی نے ان کو مواخذہ سے بھی بری رکھا ہے۔ یہ اختیار و ارادہ انسان کا ذاتی نہیں بلکہ اللہ تعالی ہی کا عطا کردہ ہے اور اس کا استعمال بھی انسان اللہ تعالی کی مشیت ہی کے تحت کرتا ہے۔ اللہ تعالی اپنی مشیت اور حکمت کے تحت انسان کے جس ارادہ کو چاہے پورا نہ ہونے دے البتہ اگر وہ اپنی کسی حکمت کے تحت اس کے کسی نیکی کے ارادہ کو پورا نہیں ہونے دیتا تو اس نیکی کے اجر سے اس کو محروم نہیں کرتا۔ اسی طرح اگر اس کی کسی بدی کی اسکیم کو پایہ تکمیل تک پہنچنے نہیں دیتا تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اس کے اخروی خمیازہ سے بھی لازماً اس کر بری قرار دے دے۔
      ۳ – قرآن مجید میں جہاں جہاں اللہ تعالی کی مطلق مشیت کا بیان ہوا ہے اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ اس کی مشیت کو اس کے سوا کوئی دوسرا روک یا بدل نہیں سکتا۔ یہ معنی نہیں ہیں کہ اس کی مشیت سرے سے کسی عدل وحکمت کی پابندی ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالی عادل اور حکیم ہے، اس کا کوئی کام بھی عدل اور حکمت سے خالی نہیں ہوتا اس وجہ سے جہاں کہیں بھی اس نے اپنی مشیت کو بیان فرمایا ہے اس کو اس قانون عدل وحکمت ہی کے تحت سمجھنا چاہئے جس کے تحت اس نے اس دنیا کے نظم کو چلانا پسند فرمایا ہے۔ یہ خیال کرنا کسی طرح صحیح نہیں ہے کہ اپنی جو سنت اس نے خود جاری کی ہے اور جس قانون عدل کو اس نے خود پسند فرمایا ہے اپنی مشیت کے زور سے خود ہی اس کو توڑے گا۔ مثلاً اللہ تعالی نے یہ جو فرمایا ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس پر ہدایت وضلالت کے لئے اس نے عدل وحکمت کا کوئی ضابطہ سرے سے مقرر ہی نہیں کیا ہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ہدایت وضلالت اس سنت کے مطابق واقع ہوتی ہے جو اس نے ہدایت وضلالت کے لئے مقرر کر رکھی ہے اور کوئی دوسرا اس سنت کے توڑنے یا بدلنے پر قادر نہیں ہے۔
      ۴ – قرآن مجید میں بعض افعال اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب فرمائے ہیں لیکن ان سے اصل مقصود، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے، ان افعال کی نسبت نہیں ہے بلکہ ان ضابطوں اور ان قوانین کی نسبت ہے جن کے تحت وہ افعال واقع ہوئے ہیں۔ چونکہ وہ ضابطے اور قاعدے خود اللہ تعالی ہی کے ٹھہرائے ہوئے ہیں اس وجہ سے کہیں کہیں اللہ تعالی نے ان کے تحت واقع ہونے والے افعال کو بھی اپنی طرف منسوب کر دیا ہے۔ مثلاً فرمایا ہے فلما زاغواازاغ اللہ قلوبھم- جب وہ کج ہوگئے تو اللہ نے ان کے دل کج کردئے، یا فرمایا ہے ونقلب افئدتھم وابصارھم- اور ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیتے ہیں۔ اس طرح کے مواقع پر عموماً قرآن مجید میں وہ اصول بھی بیان کر دیا جاتا ہے جس کے تحت وہ فعل واقع ہوتا ہے۔ مثلاً اس طرح کی کوئی  بات کہہ دی جاتی ہے کہ اللہ تعالی نہیں گمراہ کرتا مگر فاسقوں کو۔ ان اشارات کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ قاری اصل حقیقت کی طرف متوجہ ہوجائے اور ظاہری الفاظ سے کسی مغالطہ میں نہ پڑجائے۔
      ۵ – اللہ تعالی کا ازلی وابدی اور محیط کل علم، اللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی سنتوں میں سے کسی سنت کی نفی نہیں کرتا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ وہ ہر شخص کے متعلق ازل سے یہ جانتا ہے کہ وہ ہدایت کی راہ اختیار کرے گا یا ضلالت کی لیکن اسی کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ ہدایت وضلالت کو اسی سنت اللہ کے مطابق اختیار کرے گا جو ہدایت وضلالت کے لئے اس نے مقرر کر رکھی ہے۔
      ان اصولی  باتوں کو جو شخص پیش نظر رکھے گا وہ انشاء اللہ بہت سے الجھنوں سے آپ سے آپ نکل جائے گا جو جبرواختیار کے معاملہ میں قرآن مجید کی پیدا کردہ نہیں بلکہ متکلمین کی موشگافیوں کی پیدا کردہ ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اُن کے دلوں اور کانوں پر (اب) اللہ نے (اپنے قانون کے مطابق) مہر لگا دی ہے اور اُن کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ اور (قیامت کے دن) ایک بڑا عذاب ہے جو اُن کے لیے منتظر ہے ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں : ’ وَعَلٰی سَمْعِھِمْ‘ ۔اِن میں ’ سمع‘ مصدر ہے اور اِسی بنا پر واحد آیا ہے۔
      یعنی اپنے اُس قانون کے مطابق جو قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے اور جس کی رو سے جب کوئی شخص حق کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرتا اور جانتے بوجھتے اُسے ماننے سے انکار کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسے مہلت دی جاتی ہے ۔ پھر اِس مہلت سے وہ اگر فائدہ اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو اُس کے دل و دماغ پر مہر کر دی جاتی ہے اور اِس طرح وہ اِسی دنیا میں خدا کے عذاب کی زد میں آ جاتا ہے ۔اِس مہر کے نتیجے میں آدمی کا مذاق طبیعت اِس قدر بگڑ جاتا ہے اور اُس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اِس قدر ماؤف ہو جاتی ہے کہ صرف وہی باتیں اُسے اچھی لگتی ہیں جن سے اُس کے بگڑے ہوئے مذاق کو غذا ملے ۔ اُس کی ساری دل چسپی صرف بدی کے کاموں سے رہ جاتی ہے ۔نیکی کی بات معقول سے معقول اسلوب میں بھی کہی جائے تو اُس سے اُس کو وحشت ہوتی ہے ۔ وہ کبھی دل کی آمادگی اور اُس کے حضور کے ساتھ اُسے سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اِس قانون کی وضاحت کے لیے دیکھیے : سورۂ نساء (۴) آیت ۵۵ا، اعراف (۷ ) آیات ۱۰۰۔ ۱۰۲، نحل (۱۶) آیات ۱۰۶۔ ۱۰۸ اور صف (۶۱) آیت ۵۔
      اِس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آدمی کے اندر ایمان و ہدایت کی دعوت اُس کے دل و دماغ اور اُس کی آنکھوں اور کانوں ہی کے راستے سے داخل ہوتی ہے ۔وہ اگر انفس و آفاق کی نشانیوں پر بصیرت کی نگاہ ڈالے ،اُن پر غور کرے ،خدا کے کلام اور دعوت حق کے علم برداروں کی باتیں سراپا گوش ہو کر سنے تو اُس کو ہدایت ملتی ہے ؛اور اُنھیں دیکھنے ،سننے اور سمجھنے سے انکار کر دے تو گمراہی اور ضلالت کی بھول بھلیاں اُس کا مقدر ٹھیرتی ہیں ،ایمان و ہدایت کی راہ پھر اُس کے لیے ہر گز نہیں کھل سکتی ۔

    • امین احسن اصلاحی اور لوگوں میں کچھ  ایسے بھی ہیں جو دعوی کرتے ہیں کہ ہم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      من الناس: الناس کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ یہاں اس عام سے ایک خاص گروہ  مراد ہےاور وہ گروہ ہے یہود کا۔ اس تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ صرف یہود ہی ہوسکتے تھے جن کے اندر کی کوئی جماعت وہ روپ دھار سکتی تھی جس کی طرف قرآن نے ان آیات میں اشارہ کیا ہے۔ آگے مستقل عنوان سے اس اجمال کی وضاحت آئے گی۔

      جاوید احمد غامدی اور اِنھی لوگوں میں وہ (منافقین ) بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کو مانا ہے اور قیامت کے دن کومانا ہے ۔ دراں حالیکہ وہ اصلاً اِن میں سے کسی چیز کو بھی نہیں مانتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِنھی منکرین میں۔
      اِس سے مراد وہ منافقین یہود اور اوس و خزرج میں سے اُن کے ساتھی ہیں جو اسلام کی کھلی مخالفت کے بجاے اُس کے اور یہودیت کے درمیان ایک قسم کے سمجھوتے کی خواہش رکھتے تھے ۔ اُن کی مخالفت مصلحت اندیشی اور مصالحت پسندی کے پردے میں چھپی ہوئی تھی ۔ اپنے زعما کے طریقے پر وہ اسلام کے مقابلے میں مجرد انکار اور ضد کی پالیسی کو صحیح نہیں سمجھتے تھے ۔ اِس کے برعکس اُن کا نقطہ نظر یہ تھا کہ جس حد تک اپنے آبائی طریقے پر قائم رہتے ہوئے اسلام سے موافقت پیدا کی جا سکتی ہے ،کی جائے۔ چنانچہ وہ اللہ اور آخرت پر اپنا ایمان مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے اور اُن سے یہ چاہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اپنے لیے ، بے شک پیغمبر مانیں، لیکن یہود کے لیے آپ کو اپنا پیغمبر ماننے کا مطالبہ وہ اُن سے نہ کریں اور اتنے ہی پر اکتفا کرتے ہوئے دین داری اور خدا پرستی کا ایک مقام اُن کے لیے بھی تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں۔ اُن کا خیال تھا کہ اِس طرح کفر و ایمان کی جوکشمکش یثرب میں پیداکر دی گئی ہے ،اُس کا خاتمہ ہو جائے گا اور دونوں فریق امن و سلامتی کے ساتھ وہاں رہ سکیں گے ۔ اپنے اِس طرزعمل کو وہ اِسی لحاظ سے اصلاح کی کوشش سے تعبیر کرتے تھے۔
      یعنی یہ دونوں باتیں ہم مانتے ہیں ، لہٰذا اِس پر مزید کسی ایمان کا تقاضا تم کو ہم سے نہیں کرنا چاہیے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ لوگ اللہ کو اور ایمان لانے والوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ یہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکا دے رہے ہیں اور اس کا احساس نہیں کر رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یخدعون اللہ:  مخادعت کے معنی دھوکا دینے کی کوشش کرنا، عام اس سے کہ وہ دھوکا کامیاب ہوسکے یا نہ ہوسکے۔یہاں مخادعت کا لفظ بھی استعمال فرمایا ہے اور خدع کا لفظ بھی استعمال فرمایا ہے۔ جہاں لفظ کا تعلق اللہ تعالی سے ہے وہاں تو مخادعت استعمال ہوا ہے کیونکہ اللہ تعالی کو دھوکا دینے کی خواہش ہو تو کوئی شخص اپنی حماقت کے سبب سے کرسکتا ہےلیکن ظاہر ہے کہ اس کو دھوکا دے نہیں سکتا۔
      برعکس اس کے خود ان کے لئے خدع کا لفظ استعمال ہوا ہے کیونکہ جو شخص خدا کو دھوکا دینے کا ارادہ کرتا ہے، وہ اپنی اس کوشش میں ناکام تو رہتا ہے لیکن خود اپنے آپ کو وہ ضرور دھوکے میں ڈال دیتا ہے۔
      وما یشعرون :  شعور کا لفظ کسی محسوس چیز کے ادراک کے لئے آیا کرتا ہے۔ یہاں اس لفظ کا استعمال اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اگرچہ خدا کو دھوکہ دینے کی کوشش میں خود دھوکا کھا جانا ایک محسوس ہونے والی چیز ہے لیکن یہ برخود غلط لوگ ہوشیاری وچالاکی کے زعم کے باوجود اتنے غبی ہیں کہ اس حقیقت کا احساس نہیں کر رہے ہیں کیونکہ ابھی اس کا نتیجہ ان کے سامنے نہیں آیا۔

      جاوید احمد غامدی وہ اللہ اور اہل ایمان، دونوں کو فریب دینا چاہتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اپنے آپ ہی کو فریب دے رہے ہیں، لیکن اِس کا شعور نہیں رکھتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے کہ وہ اگر خدا اور آخرت پر فی الواقع ایمان رکھتے ہوتے تو حق کے معاملے میں یہ منافقانہ طرز عمل کبھی اختیار نہ کرتے۔
      اصل الفاظ ہیں :’یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ‘۔ ’مخادعہ‘ کے معنی کسی کو دھوکا دینے کی کوشش کرنے کے ہیں ۔ غور کیجیے تو ’خدع‘ کے مقابلے میں یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے تعلق سے نہایت موزوں استعمال ہوا ہے، اِس لیے کہ اللہ تعالیٰ کو دھوکا دینے کی کوشش تو کوئی شخص اپنی حماقت کے سبب سے کر سکتا ہے ،لیکن اُس کو دھوکا دے نہیں سکتا۔
      یعنی اِس کا نتیجہ چونکہ ابھی اِن کے سامنے نہیں آیا ،اِس لیے یہ اِس حقیقت کا احساس نہیں کر رہے ہیں کہ خدا کو دھوکا دینے کی کوشش میں یہ خود دھوکا کھا رہے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی ان کے دلوں میں روگ تھا تو اللہ نے ان کے روگ کو بڑھا دیا، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے بوجہ اس کے کہ وہ جھوٹ بولتے رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فی قلوبھم مرض : مرض کا لفظ قرآن میں عموماً دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک کینہ اور حسد کے معنی میں دوسرے نفاق کے معنی میں۔ جن مقامات میں یہ لفظ نفاق کے معنوں میں استعمال ہوا ہے وہاں تو یہ واضح طور پر کینہ اور حسد کے معنی میں ہے لیکن جن مقامات میں یہ تنہا استعمال ہوا ہے وہاں یا تو دونوں معانی اس کے اندر جمع ہیں یا قرینہ اس کے دونوں معانی میں سے کسی ایک معنی کو متعین کرتا ہے۔ یہاں واضح قرینہ اس بات کے لئے موجود ہے کہ اس سے مراد حسد ہے کیوں کہ یہاں جس گروہ کا بیان ہے آگے چل کر واضح ہو گا کہ یہ یہود ہی کے اندر کا ایک گروہ ہے اور یہود کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر ایمان لانے والوں سے جو حسد تھا، وہ معلوم ومشہور ہے۔ قران مجید نے متعدد مقامات پر اس کا ذکر فرمایا ہے۔
      فزادھم اللہ مرضاً :  یہاں حسد کے بڑھانے کے فعل کو اللہ تعالی نے جو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے تو یہ درحقیقت اس سنت کو اس نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے جس کے تحت یہ فعل انجام پاتا ہے۔ اللہ تعالی کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے سینہ کو ایمان واسلام کی جلوہ گاہ بنانے کی بجائے اس کو بغض و حسد ہی کی پرورش گاہ بنائے رکھنا چاہتا ہے تو اس کے سامنے اسی طرح کے حالات وواقعات ظاہر ہوتے ہیں جو اس کی اسی بس بھری فصل کی آبیاری کرتے ہیں۔ یہود کو مسلمانوں ہر حسد تھا کہ اللہ تعالی نے ان کو اسلام کی نعمت کیوں دے دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام اور اس کی برکتوں کی روز افزوں ترقی نے ان کے اس حسد کے اسباب میں اور زیادہ اضافہ کیااور یہ اضافہ برابر ہوتا ہی رہا۔ یہاں تک کہ اس چیز نے ان کو بالکل تباہ کر کے چھوڑا۔

      جاوید احمد غامدی اِن کے دلوں میں (حسد کی) بیماری تھی تو اللہ نے (اب) اِن کی اِس بیماری کو اور بڑھا دیا ہے، اور اِن کے اِس جرم کی پاداش میں کہ یہ جھوٹ بولتے رہے ہیں،اِن کے لیے بڑا دردناک عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِنھیں اِس بات پر حسد تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت سے بنی اسمٰعیل کو کیوں نوازا ہے ۔ پھر جب اسلام اور اُس کی برکتوں میں روز بروز ترقی ہوئی تو اِن کا یہ حسد اور بڑھ گیا ،یہاں تک کہ اِس نے اِن کو بالکل تباہی کے کنارے پر پہنچا کر چھوڑا۔

    • امین احسن اصلاحی اورجب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پیدا کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے لوگ ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لا تفسدوا فی الارض :  فساد فی الارض قرآن مجید کی ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم اس نظام حق کو بگاڑنا یا اس کو بگاڑنے کی کوشش کرنا ہے جو اللہ واحد کی عبادت اور اس کے احکام وقوانین کی اطاعت پر مبنی ہوتا ہے اور جس کی دعوت انبیائے کرام علیہم السلام لے کر آتے ہیں۔ قرآن کا دعوی یہ ہے کہ جس طرح اس کائنات کا نظام تکوینی اس وجہ سے قائم ہے کہ اس کے اندر ایک ہی رب قدیر وقہار کا ارادہ کارفرما ہے، اگر اس کے اندر کسی اور کا زور واختیار بھی چلتا ہوتا تو یہ آن کے آن میں درہم برہم ہو کے رہ جاتا اسی طرح اس کے نظام تشریعی کے اندر اگر کسی اور کی عبادت واطاعت کے جواز یا دخل کو تسلیم کر لیا جائے تو اس سے اس کا مزاج بالکل ہی بگڑ کے رہ جاتا ہے۔اور یہ بگاڑ سارے نظام تمدن کو خراب کر کے رکھ دیتا ہے۔ اس وجہ سے ہر وہ کوشش قرآن کے نزدیک فساد فی الارض کے حکم میں داخل ہے جو اس بگاڑ کا دروازہ کھولے گا اگرچہ یہ کوشش بہ ظاہر اصلاح کے  نیک ارادہ ہی کے ساتھ کیوں نہ کی جائے۔

      جاوید احمد غامدی اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ (اپنے اِس رویے سے) تم اِس سرزمین میں فساد پیدا نہ کرو تو جواب میں کہتے ہیں کہ ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں نہی نتیجے کے لحاظ سے ہے۔ یعنی خدا کی جو دینونت اِس سر زمین میں برپا ہے، اُس میں لوگوں کو ایمان کی دعوت دینے اور اِس طرح صلح و امن پر آمادہ کرنے کے بجاے جنگ کی آگ نہ بھڑکاؤ جس کا نتیجہ حرث و نسل کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔ آگے آیت ۲۰۵ میں قرآن نے اِسے صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔
      اِن کی اِس بات کا مطلب یہ تھا کہ دو فریقوں میں مصالحت کی جو پالیسی ہم نے اختیار کی ہے، تم اُسے فساد قرار دیتے ہو ،دراں حالیکہ اصلاح اگر ہو سکتی ہے تو ہمارے اِس طریقے ہی کو اختیار کرنے سے ہو سکتی ہے۔

    Join our Mailing List