1 الفاتحہ (The Opening)
7 verses | مکی
ا۔ سورہ کا مضمون
اس سورہ میں پہلے اس جذبۂ شکر کی تعبیر ہے جو اللہ تعالیٰ کی پروردگاری، اس کی بے پایاں رحمت اور اس کائنات کے نظام میں اس کے قانون عدل کے مشاہدات سے ایک سلیم الفطرت انسان پر طاری ہوتا ہے یا طاری ہونا چاہیے۔ پھر اس جذبۂ شکر سے خدا ہی کی بندگی اور اسی سے استعانت کا جو جذبہ ابھرنا چاہیے اس کو تعبیر کیا گیا ہے، پھر اس جذبہ کی تحریک سے جو مزید طلب و جستجو ہدایت و رہنمائی کے لیے پیدا ہوتی ہے یا پیدا ہونی چاہیے، وہ ظاہر کی گئی ہے۔
ب۔ سورہ کا اسلوب
اس سورہ کا اسلوب دعائیہ ہے۔ لیکن انداز کلام مخاطب کو سکھانے کا نہیں ہے کہ وہ یوں دعا کرے بلکہ اصل دعا ہماری زبان پر طاری کر دی گئی ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ اگر ہماری فطرت سلیم ہے تو ہماری زبان سے ہمارے دل کا ترانۂ حمد یوں نکلنا چاہیے۔ چونکہ یہ تعبیر اسی خدا کی بخشی ہوئی ہے جو ہماری فطرت کا بنانے والا ہے اس وجہ سے اس سے زیادہ سچی تعبیر کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ہر سلیم الفطرت انسان اس کو اپنے ہی دل کی آواز سمجھتا ہے۔ صرف وہی لوگ اس سے کوئی بیگانگی محسوس کر سکتے ہیں جنھوں نے اپنی فطرت بگاڑ لی ہو۔
2 البقرۃ (The Heifer, The Calf)
286 verses | مکی
سورہ کا عمود
اس سورہ کا مرکزی مضمون دعوت ایمان ہے۔ ایمان کی طرف اشارہ تو، جیسا کہ ہم نے بیان کیا، سورہ فاتحہ میں بھی ہوچکا ہے لیکن وہ اجمالی ایمان ہے جو جذبہ شکر کی تحریک اور اللہ تعالی کی ربوبیت ورحمت کی نشانیوں کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سورہ میں اس اجمال نے تفصیل کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس میں نہایت واضح طور پر قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ گویا سورہ فاتحہ میں ایمان باللہ کا ذکر ہے۔ اور سورہ بقرہ میں ایمان بالرسالت کا۔
ایمان کی اصلی حقیقت ایمان بالرسالت ہی سے وجود پذیر ہوتی ہے۔ اگر ایمان بالرسالت موجود نہ ہو تو مجرد ایمان باللہ ہماری زندگی کو اللہ کے رنگ میں نہیں رنگ سکتا۔ زندگی پر اللہ کا رنگ اسی وقت چڑھتا ہے جب ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ ایمان بالرسالت بھی پایا جائے۔
ایمان بالرسالت پیدا ایمان باللہ ہی سے ہوتا ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ پہلی چیز اس دوسری چیز ہی کا ایک بالکل فطری نتیجہ ہے۔ ایمان باللہ سے بندہ کے اندر خدا کی ہدایت کے لئے ایک پیاس اور ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ یہی پیاس اور تڑپ ہے جس کا اظہار سورہ فاتحہ میں اھدنا الصراط المستقیم کی دعا سے ہورہا ہے۔ اسی دعا کے جواب میں یہ سورہ بقرہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دے رہی ہے۔ گویا بندے کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالی کی بندگی کے حق کو تسلیم کر چکنے کے بعد اس کے راستہ کی تلاش ہے تو اس کتاب پر اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاو جس پر یہ کتاب اتری۔
اس حقیقت کی روشنی میں اگر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ سورہ فاتحہ اگرچہ بظاہر ایک نہایت چھوٹی سی سورہ ہے، لیکن فی الحقیقت وہ ایک نہایت ہی عظیم الشان سورہ ہے۔ کیونکہ اس کے تنے سے پہلی ہی شاخ جو پھوٹی ہے وہی اتنی بڑی ہے کہ ہماری ساری زندگی پر حاوی ہو گئی ہے۔ اس سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے سورہ فاتحہ کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کہ پورا قرآن درحقیقت اسی سورہ فاتحہ کے تخم سے پیدا ہوا ہے اور یہ اسی شجرہ طیبہ کے برگ وبار ہیں جو قرآن کے پورے تیس پاروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔
3 آل عمران (The Family of Imran)
200 verses | مدنی
سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق
مندرجہ ذیل پہلوؤں سے یہ سورہ سابق سورہ (بقرہ) سے نہایت گہرا ربط رکھتی ہے۔
۱۔ ان دونوں کا موضوع ایک ہی ہے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اثبات۔ لوگوں پر عموماً اور اہل کتاب پر خصوصاً۔
۲۔ دونوں میں یکساں شرح و سبط کے ساتھ دین کی اصولی باتوں پر بحث ہوئی ہے۔
۳۔ دونوں کا قرآنی نام بھی ایک ہی ہے۔ یعنی اآمآ ۔
۴۔ دونوں شکلاً بھی ایک ہی تنے سے پھوٹی ہوئی دو بڑی بڑی شاخوں کی طرح نظر آتی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کو شمس و قمر سے تشبیہ دی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ دونوں حشر کے دن دو بدلیوں کی صورت میں ظاہر ہوں گی۔ اہل بصیرت سمجھ سکتے ہیں کہ وصف اور تمثیل میں یہ اشتراک بغیر کسی گہری مناسبت کے نہیں ہو سکتا۔
۵۔ دونوں میں زوجین کی سی نسبت ہے۔ ایک میں جو بات مجمل بیان ہوئی ہے، دوسری میں اس کی تفصیل بیان ہو گئی ہے۔ اسی طرح ایک میں جو خلا رہ گیا ہے ، دوسری نے اس کو پر کر دیا ہے۔ گویا دونوں مل کر ایک اعلیٰ مقصد کو اس کی مکمل شکل میں نہایت خوب صورتی کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔
ب۔سورۂ بقرہ اورسورۂ اٰلِ عمران کے امتیازی پہلو
لیکن اس اشتراک اور یکسانی کے ساتھ ساتھ ان دونوں کی کچھ الگ الگ خصوصیات بھی ہیں جو ان کو ایک دوسری سے ممتاز کرتی ہیں ۔ مثلاً:
بقرہ پر غور کیجیے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورہ اس زمانے میں نازل ہوئی ہے جب اہل کتاب نے یہ محسوس کر لیاہے کہ اسلام ایک سچا دین ہے اور یہ آہستہ آہستہ جڑ پکڑ رہا ہے لیکن حسد اور ضد کے باعث وہ اس کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہوئے۔ اس احساس نے ان کو شدید کشمکش میں ڈال دیا ہے۔ وہ جذبات سے مغلوب ہو کر اس کی مخالفت کے لیے تو اٹھ کھڑے ہوئے لیکن یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی کہ یہ مخالفت کس عنوان سے کریں۔ جس کے منہ میں جو آیا اس نے وہ اگلنا شروع کر دیا۔ کسی نے کہا نبوت و رسالت کے لیے تو بنی اسرائیل کا گھرانا مخصوص رہا ہے، اس گھرانے سے باہر کسی کو نبوت کس طرح مل سکتی ہے؟ کسی نے کہا ہدایت کے لیے تو بس تورات کافی ہے اور جب اس کے حامل ہم موجود ہیں تو اب کسی نئی ہدایت کی ضرورت کہاں باقی رہی؟ اسی جھنجھلاہٹ میں بعضوں نے حضرت جبریلؑ تک کو مطعون کر ڈالا کہ یہ فرشتہ شرع سے ہمارا بیری ہے۔ کچھ لوگوں نے یہود و نصاریٰ کا ایک متحدہ محاذ بنا کر مخالفت کا یہ پہلو اختیار کیا کہ آسمانی ہدایت یا تو یہودیت کے اندر ہے یا نصرانیت کے اندر ،جس کو ہدایت مطلوب ہو وہ ان میں سے کسی کو اختیار کرے، ان کے سوا آسمانی ہدایت حاصل ہونے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ایک گروہ نے دھوکا بازی کی روش اختیار کی۔ اس نے مسلمانوں کو یہ اطمینان دلانا چاہا کہ ہم بھی ایمان رکھتے ہیں، مسلمان ایمان کا اجارہ دار تنہا اپنے ہی کو نہ سمجھیں، خدا، آخرت اور اپنے پیغمبر کو تو ہم بھی مانتے ہیں، اس سیکیا فرق پیدا ہوا کہ ہم نئے مدعی نبوت کو نہیں مانتے۔ ان حالات میں یہ سو رہ اتری۔ اس میں ایک طرف تو تفصیل کے ساتھ ان تمام اعتراضات کے جواب دیے گئے جو اہل کتاب کی طرف سے اٹھائے گئے، دوسری طرف نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کی جو اعلیٰ سند خود ان کے صحیفوں میں موجود تھی، اس کو واضح کیا گیا اور تیسری طرف نبی امی کی رسالت سے دین حق کی جو تجدید و تکمیل ہوئی تھی اس کی طرف رہنمائی کی گئی۔ اس طرح یہ سورہ گویا دعوت ایمان و اثباتِ رسالت بھی ہے اور دعوتِ جہاد برائے آزادئ قبلہ و غزوۂ بدر بھی۔
سورۂ آل عمران پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ بقرہ کے کچھ عرصہ بعد اس دور میں نازل ہوئی ہے۔ جب افق پر اسلام کے غلبہ اور اس کی صداقت کے آثار اتنے نمایاں ہو چکے ہیں کہ اہل کتاب کے لیے اس کی علانیہ مخالفت کرنا ممکن نہیں رہا۔ اس صورتِ حال نے اہل کتاب کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک گروہ نے اسلام تو قبول کر لیا لیکن یہ اسلام صرف اس کی زبانوں ہی تک رہا، اس کے دلوں میں نہیں گھسا۔ دوسرے گروہ نے اسلام تو نہیں قبول کیا لیکن اس نے مسلمانوں کے ساتھ مذہب کے معاملے میں ایک سمجھو تہ کرنے کی کوشش کی۔ اس سمجھوتے کے لیے اس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ہر مذہب کے پیروؤں کے لیے ان کا اپنا دین حق ہے اس وجہ سے مسلمان ہم کو ہماری یہودیت ونصرانیت پر چھوڑ دیں اور ہم مسلمانوں کو ان کے اسلام پر۔ اس طرح دونوں اپنے اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے ایک ہی ملک میں ایک ساتھ امن کی زندگی بسر کر سکیں۱ گے۔
۱ سورہ بقرہ کے شروع میں اس گروہ کی طرف اشارہ ہے لیکن اس وقت تک یہ گروہ پوری طرح سامنے نہیں آیا تھا۔ اس سورت میں یہ بے نقاب ہو کر سامنے آگیا ہے ۔ اس گروہ کا نظریہ بعینہٖ وہی ہے جو آج وحدتِ ادیان کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے۔
اس طرح ان دونوں گروہوں کا رویہ اسلام کے ساتھ بدل تو گیا لیکن یہ تبدیلی دل کی تبدیلی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ سراسر مصلحت پرستی پر مبنی تھی۔ پہلے گروہ نے اسلام کا جو اظہار کیا تو محض مسلمانوں کی متوقع کامیابیوں میں حصہ بٹانے کے لیے۔ دوسرے نے صلح جویانہ پالیسی اختیار کی تو صرف متوقع خطرات سے اپنے کو محفوظ کرنے کے لیے۔
اسی اثناء میں احد کا معرکہ پیش آیا جس میں مسلمانوں ہی کی ایک جماعت کی بے تدبیری سے ان کو ایک عارضی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اس واقعے کا اثر اہل کتاب کے مذکورہ دونوں گروہوں پر یہ ہوا کہ انھوں نے اسلام کے بارے میں اپنی پالیسی پھر تبدیل کر دی۔ جو گروہ محض دنیوی کامیابیوں کے لالچ میں اسلام کی صفوں میں آ گھسا تھا، جب اس نے دیکھا کہ اسلام کی اطاعت کا قلاوہ اتار کر پھر اپنے کفر کی طرف پلٹ گیا۔ دوسرے گروہ نے جب دیکھا کہ اسلام کو زک بھی پہنچائی جا سکتی ہے تو اس نے سو چا کہ ہم نے جو اس کی بڑھتی ہوئی طاقت سے مرعوب ہو کر اس کے ساتھ صلح جویانہ روش اختیار کر لی ہے، یہ غلط ہے، کیوں نہ ہم مخالف طاقتوں کو قوت پہنچا کر یہ کوشش کریں کہ ایک مرتبہ اسلام کو جڑ پیڑ سے اکھاڑ کے پھینک دیں۔ چنانچہ انھوں نے بھی کھلم کھلا اپنی دشمنی کا اعلان کر دیا۔
اس طرح یہ دونوں ہی گروہ کھلم کھلا اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کی راہ پر چل پڑے اور انھوں نے طرح طرح کی چالوں سے مسلمانوں کے ذہنوں پر شبہات و شکوک بھرنے شروع کیے تاکہ جس طرح وہ خود فرقوں اور گروہوں میں بٹ چکے ہیں اسی طرح مسلمان بھی اپنی وحدت و یکجہتی کھوکر پراگندہ ہو جائیں اور ان کی طاقت ختم ہو جائے۔ ان حالات نے تقاضا کیا کہ اہل کتاب اور مسلمان دونوں کے سامنے دین کی یہ حقیقت واضح کی جائے کہ اللہ کی طرف سے لوگوں کو کئی دین نہیں ملے ہیں بلکہ ایک ہی دین ملا ہے جس کا نام اسلام ہے۔ اس دین میں تقسیم اور تجزیہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اس کے کچھ حصے کو تو مانا جائے اور کچھ کو نہ مانا جائے بلکہ بیک وقت اس کے کل کو ماننا یا کل کو چھوڑنا ہے۔ اس دین کا مطالبہ ہر حالت میں اللہ کی اطاعت اور اس کے احکام کی فرمانبرداری ہے، خواہ حالات نرم ہوں یا سخت اور خواہ راہ ہموار نظر آ رہی ہو یا آزمائشوں اور فتنوں نے قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہوں، حق بہرحال حق ہے، وہ بعض حالات میں مخفی تو ہو جاتا ہے جس طرح چھلکے کے اندر مغز لیکن معدوم نہیں ہوتا۔ اس طرح کے حالات میں وہی لوگ ثابت قدم رہتے ہیں جن کے ایمان اور علم میں پختگی ہوتی ہے۔ جو حق سے بے خبر ہوتے ہیں ان کے قدم اکھڑ جاتے ہیں۔
غزوہ احد بھی اسی طرح کا ایک امتحان بن کرلوگوں کے سامنے آیا۔ جس طرح غزوہ بدر کی نوعیت ایک فرقان کی تھی جس نے حق اور باطل کو الگ الگ کر دیا اسی طرح غزوہ احد کی حیثیت ایک آیت متشابہ کی تھی جس کے باطن میں حکمت تھی لیکن اس کا ظاہر کمزور لوگوں کے لیے آزمائش بن گیا۔ چنانچہ اس نے پختہ فکر و پختہ ایمان مسلمانوں کو چھانٹ کر ان لوگوں سے بالکل الگ کر دیا جن کے دلوں میں کجی اور دماغوں میں فتنہ جوئی تھی۔
یہ حالات تھے جن میں یہ سورہ اتری چنانچہ اس میں ان تمام خامیوں اور گمراہیوں پر تبصرہ ہے جو اس وقت نمایاں ہوئیں، عام اس سے کہ وہ مسلمانوں سے ظاہر ہوئیں یا اہل کتاب سے۔ اس میں اس شک اور تذبدب کی ضلالت بھی واضح کی گئی ہے جس میں اہل کتاب مبتلا تھے اور اس اختلاف اور عدم اطاعت کے انجام بد پر بھی تبصرہ ہے جس کا اظہار منافقوں اور کمزور قسم کے مسلمانوں کی طرف سے ہوا تھا۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو ان تمام چالوں سے آگاہ کیا گیا ہے جوان کو زک پہنچانے کے لیے ان کے دشمن چل رہے تھے اور احد کی شکست سے ان کو جو بد دلی ہوئی تھی اس کو نہایت مؤثر انداز میں دور کیا گیا۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو آپ محسوس کریں گے کہ جس طرح سورۂ بقرہ سورہ بدر ہے اسی طرح یہ سورۂ آلِ عمران سورۂ احد ہے مزید غور کیجیے تو بات بھی واضح ہوگی کہ بقرہ میں ایمان کی حقیقت واضح کی گئی ہے اور اس سورہ میں اسلام کی۔ دوسرے الفاظ میں اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بقرہ میں اللہ کے آخری رسول پر ایمان لانے کی دعوت ہے اور اس سورہ میں اسلامی نظام اور اللہ کی حکومت میں داخل ہونے کی دعوت ہے۔
ان دونوں سورتوں کے موضوع اور عمود سے متعلق یہ ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح کرنی مقصود ہے کہ بقرہ میں ایمان کا پہلو نمایاں ہے اور اس سورہ میں اسلام کا۔ اس حقیقت کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی ہمیں رہنمائی ملتی ہے۔ روایات میں آتاہے کہ حضورؐ نمازوں میں کبھی کبھی ایک رکعت میں بقرہ میں سے آیت ایمان پڑھتے اور دوسری رکعت میں آل عمران میں سے آیت اسلام۔ یہ گویا ایک لطیف اشارہ ہوتا اس بات کی طرف کہ ان دونوں میں موضوع اورمقصود کی حیثیت کن مضامین کو حاصل ہے۔ علاوہ ازیں بقرہ کا خاتمہ ایک ایسی آیت پر ہوا ہے جو ایمان کے باب میں ایک نہایت جامع آیت ہے۔ اٰمَنَ الرَّسُوْلَ بِمَا اُنْزِلَ اَلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ الایۃاور پھراس کا خاتمہ کامل اطاعت الٰہی کے مضمون پر ہوا ہے تاکہ ہم پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ ایمان کا لازمی ثمرہ اسلام ہے، جہاں صحیح ایمان موجود ہو گا اس سے لازماً اسلام ظہور میں آئے گا۔ اس طرح بقرہ کے خاتمے کی آیت نے آل عمران کے ساتھ اس کے ربط کو خود واضح کر دیا۔
دوسرا پہلو ان دونوں کے درمیان امتیاز کا یہ ہے کہ سورۂ بقرہ میں زیادہ تر خطاب یہود سے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب کی حیثیت سے اصلی مقام انھی کو حاصل تھا۔ نصاریٰ کی حیثیت محض ایک ضمنی فرقے کی تھی۔ چنانچہ قرآن نے بقرہ میں ان سے خطاب کیا بھی ہے تو وہ سرسری نوعیت کا ہے۔ البتہ آلِ عمران میں ان سے براہِ راست خطاب کیا ہے اور بحث کا زیادہ حصہ انھی سے متعلق ہے۔ سورہ کی تمھید بھی ایک جامع نوعیت کی ہے جو یہود و نصاریٰ دونوں کے لیے موزوں ہے۔ پھر اس سے آگے جو مضمون شروع ہوا ہے وہ تدریجی طور پرنصاریٰ کی تردید میں نمایاں ہوتا گیا ہے۔
تیسرا پہلو یہ ہے کہ بقرہ میں استدلال زیادہ تر ایسے امور فطرت سے ہے جو کفار اور اہل کتاب دونوں پر یکساں حجت ہو سکتے ہیں۔ اس کے بر خلاف آلِ عمران میں زیادہ تر استدلال صفات الٰہی یا ایسے مسلمات سے ہے جو اہل کتاب کے ساتھ مخصوص ہیں۔
چوتھا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ ان دونوں ہی سورتوں میں اہل کتاب کو سخت توبیخ فرمائی ہے لیکن اندازِ توبیخ دونوں میں الگ الگ ہے۔ بقرہ میں توبیخ براہِ راست ہے برعکس اس کے آلِ عمران میں ان کو براہِ راست خطاب کرنے کے بجائے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ ان کو یہ یہ تہدیدات پہنچا دو۔ یہ گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت تمام ہو جانے کے بعد یہ لوگ لائق خطاب نہیں رہے۔ اب خطاب کے اہل صرف پیغمبرؐ اور اہل ایمان ہی ہیں۔
ج۔ دونوں سورتوں کی تقدیم و تاخیر کے وجوہ
ان دونوں سورتوں کے موضوع ان کے زمانۂ نزول کی خصوصیات، ان کے اسلوبِ بیان کے امتیازات پر ہم نے یہ جو کچھ عرض کیا ہے اس سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ مضامین کے اشتراک کے باوجود ان دونوں میں نسبت اس نوعیت کی ہے کہ مصحف میں تقدیم و تاخیر کے لحاظ سے ان کی یہی ترتیب ہونی چاہیے تھی جو ہے۔ یہاں بقرہ کے آل عمران پر مقدم رکھنے کے مندرجہ ذیل وجوہ بالکل واضح ہیں۔
ایمان اسلام کی بنیاد ہے۔ جس طرح علم عمل کی بنیاد ہے۔
یہود، نصاریٰ سے اقدم ہیں اس وجہ سے ضروری ہوا کہ پہلے یہود پر حجت تمام کی جائے۔
دلائل فطرت سے استدلال ، صفاتِ الٰہی سے استدلال کے مقابل میں زیادہ واضح، زیادہ قدیم، زیادہ وسیع ہے اس وجہ سے قرآن نے پہلے اس کو استعمال کیا۔
علی ہذا لقیاس حضرت آدم اور حضرت ابراہیم علیہما السلام چونکہ انبیاء متقدمین میں سے ہیں اس وجہ سے یہ مناسب ہوا کہ پہلے ان کے عہد و میثاق کا حوالہ دیا جائے اور اس سے استدلال کیا جائے۔ چنانچہ بقرہ میں ان کے عہد کا حوالہ دیا۔ بعد کی سورہ میں دوسرے انبیا کے عہد کا ذکر ہوا۔
اس تفصیل سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ان لوگوں کا خیال صحیح نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ ترتیب میں سورتوں کی تقدیم و تاخیر صرف ان کی ظاہری بڑائی چھوٹائی پر مبنی ہے۔ ہمارے نزدیک اس کا تعلق معانی و مطالب سے ہے۔معانی کی ترتیب کے لحاظ سے حکمت جس ترتیب کی مقتضی ہوئی ہے وہ ترتیب قرآن میں اختیار فرمائی گئی ہے۔ البتہ اگر کہیں معانی کے اعتبار سے دو سورتیں ایک ہی درجے اور ایک ہی مزاج کی ہوئی ہوں تو ممکن ہے ، وہاں مجرد طول و حجم کی بنا پر ایک کو دوسرے پر مقدم کر دیا گیا ہو۔ لیکن یہ بات محض قیاس کی حد تک صحیح قرار دی جا سکتی ہے، ورنہ ایسے مواقع میں بھی گمان یہی ہوتا ہے کہ کوئی گہری معنوی حکمت ایک کو دوسرے پر مقدم کرنے کا باعث ہوئی ہو گی اگرچہ وہ حکمت ہماری سمجھ میں نہ آ رہی ہو۔
د۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے اس کا تعلق سورہ کے موضوع، اس کے ظاہری نظام اور سابق سورہ کے ساتھ اس کے تعلق سے ہے۔ اب ہمیں چند باتیں اس کے اندرونی نظام اور اس کے مختلف اجزاء کے باہمی ربط و تعلق کے بابت بھی کہنی ہیں۔
اس سورہ میں جو شخص بھی تامل کی نظر ڈالے گا اس پر یہ حقیقت واضح ہو گی کہ یہ دو بڑے حصوں میں منقسم ہے۔ اس کے نصف اول میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا اثبات اور اہل کتاب خصوصاً نصاریٰ کی گمراہیوں کا بیان ہے اور ا س کے دوسرے نصف میں مسلمانوں کو اہل کتاب کی ان گمراہ کن چالوں سے خبردار کیا گیا ہے جو وہ ان کو راہِ حق سے ہٹانے کے لیے اختیار کر رہے ہیں یا اختیار کرنے والے ہیں۔ ساتھ ہی ان کو اللہ کی رسی مضبوطی سے تھامے رہنے، اطاعت پر جمے رہنے، جہاد کرنے اور امتحان کے مواقع پر انتشار و اختلاف سے بچنے کی تاکید فرمائی کہ اسی طرح وہ اسلام کی پیروی کا صحیح حق ادا کر سکیں گے اور نرمی و سختی دونوں صورتوں میں اللہ کی اطاعت پر قائم رہ سکیں گے۔ اگر وہ ان باتوں کی خلاف ورزی کریں گے تو ان کا حشر بھی وہی ہو گا جو موسیٰ علیہ السلام کی امت کا ہوا کہ انھوں نے اپنے پیغمبر کی نافرمانی کی تو چالیس سال تک صحرا میں بھٹکتے رہ گئے۔
اس پہلو سے دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ اس کے نصف اول کی حیثیت تمھید کی ہے اور نصف ثانی کی حیثیت مقصود کی۔ اس روشنی میں پوری سورہ کی تلاوت کیجیے توآیات کا باہمی نظم سمجھنے میں بڑی آسانی ہو گی اور اس تمھید سے اصلی مقصود یہی ہے۔ رہا آیات کا باہمی نظم اوراس کے معانی کی وضاحت تو یہ چیز اس وقت سامنے آئے گی جب ہم سورۂ بقرہ کی طرح اس کے اجزا کو بھی الگ الگ مجموعوں کی شکل میں لے کر ان کی تفسیر کریں گے۔ چنانچہ اب ہم اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں اس سورہ کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔ وَمَا توفیقی اِلاّ باللّٰہ۔ ۱
۱ یہ تمھیدی بحث بیشتر استاذ رحمتہ اللہ علیہ کے افادات سے ماخوذ ہے۔
4 النساء (The Women)
176 verses | مدنی
سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق
یہ سورہ اپنی سابق سورہ ۔۔۔ آلِ عمران ۔۔۔ کے بعد اس طرح شروع ہو گئی ہے کہ اس کے ابتدائی الفاظ ہی سے نمایاں ہو جاتا ہے کہ یہ آل عمران کا تکملہ و تتمہ ہے۔ آلِ عمران کی آخری اور نساء کی پہلی آیت پڑھیے تو معلوم ہو گا کہ جس اہم مضمون پر آلِ عمران ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے سورۂ نساء کی تمھید استوار ہوئی ہے۔ گویا آلِ عمران کے خاتمے اور نساء کے آغاز نے ایک حلقہ اتصال کی صورت اختیار کر لی ہے۔ آل عمران کی آخری آیت یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْاقف وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ہے جس میں مسلمانوں کو فوز و فلاح کی راہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہ انفرادی و اجتماعی حیثیت سے ثابت قدمی دکھائیں، آپس میں جڑے، دشمن کے مقابل میں ڈٹے اور خدا سے ڈرتے رہیں۔ اب اس سورہ کو دیکھئے تو اسی ’اِتَّقُوا اللّٰہ‘ کے مضمون سے شروع ہو گئی ہے۔ (یا یھا الناس اتقوا ربکم) اور آگے آپس میں جڑے رہنے اور مخالفین کے بالمقابل ثابت قدمی کے لیے جو باتیں ضروری ہیں وہ نہایت وضاحت و تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔ ۱ (۱ سابق اور لاحق سورہ میں ربط کی یہ صورت صرف انہی دو سورتوں کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اس کی متعدد نہایت لطیف مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں جو اپنے مواقع پر بیان ہوں گی۔)
ثابت قدمی ، بالخصوص اجتماعی ثابت قدمی ، بغیر مضبوط جماعتی اتصال کے ممکن نہیں ہے اور جماعتی اتصال کوئی اتفاق سے پیدا ہو جانے والی چیز نہیں ہے بلکہ یہ بنیاد کا بھی محتاج ہے، مثبت تدابیر کا بھی متقاضی ہے اور اس کو ان فتنوں سے محفوظ رکھنے کی بھی ضرورت ہے جو اس کو درہم برہم کر سکتے ہوں۔ چنانچہ اس سورہ میں وہ ساری چیزیں بیان ہوئیں جو اسلامی معاشرہ اور اس کے فطری نتیجہ اسلامی حکومت کو مستحکم رکھنے اور اس کو انتشار سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔
اس سورہ کے مطالب پر ایک سرسری نظر بھی ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ اس کا آغاز اس حقیقت کے اظہارسے ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرہ اس عقیدے پر قائم ہے کہ مرد اور عورت سب کا خالق اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے، اسی نے سب کو ایک آدم و حوا سے وجود بخشا ہے۔ اس وجہ سے خدا اور رحم سب کے درمیان مشترک ہیں۔ اس کے بعد معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور عناصر یتیموں اور عورتوں کے حقوق معین فرمائے ہیں اور ان کو ادا کرنے پر زور دیا ہے۔ پھر اسی تعلق سے وراثت کی تقسیم سے متعلق قانون کی وضاحت فرمائی ہے۔ پھر مسلمانوں کے باہمی حقوق و فرائض پر زور دیتے ہوئے اللہ، رسول اور اولوالامر کی اطاعت پر سب کو مجتمع و متفق رہنے کی تاکید فرمائی، اس لیے کہ اسی چیز پر اسلامی حکومت کی بنیاد ہے۔ اس کے بعد تفصیل کے ساتھ منافقین کی قلعی کھولی ہے جو اسلامی معاشرے کے اندر ناسور کی حیثیت رکھتے تھے اور مسلمانوں کے اندر ان کے دشمنوں۔۔۔ یہود و نصاریٰ ۔۔۔ کے ایجنٹ کے طور پر کام کررہے تھے۔ اس روشنی میں غور کیجیے تو اس سورہ میں گویا اس ارتباط باہمی کی بنیادیں استوار کی گئی ہیں جس کی ہدایت پر سابق سورہ ختم ہوئی تھی۔
ب۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
یہ سورہ کے عمود اور ماسبق سورہ کے ساتھ اس کے تعلق کی طرف ایک اجمالی اشارہ تھا۔ اب ہم اس کے مطالب کا تجزیہ بھی کئے دیتے ہیں تاکہ پوری سورہ کے مضامین پر ایک سرسری نگاہ پڑ جائے۔
(۱۔۶) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی ہدایت جس نے سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا۔ تمام مرد اور تمام عورتیں ایک ہی آدمؑ و حوا کی اولاد ہیں اس وجہ سے خدا اور رشتۂ رحم سب کے درمیان مشترک ہے۔ اس کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ سب خدا سے ڈرتے رہیں اور سب رشتہ رحم کا احترام ملحوظ رکھیں۔ انھی دو بنیادوں پر اسلامی معاشرہ کی عمارت قائم ہے۔
یتیموں کے حقوق ادا کرنے کی تاکید اور اس بات کی ممانعت کہ زور آور سر پرست اپنے رشتہ دار یتیموں کے اچھے مال اپنے برے مال سے بدلنے یا اپنے مال کے ساتھ ملا کر اس کو ہڑپ کرنے کی تدبیریں کریں۔ یتیموں کے حقوق کے تحفظ کے نقطۂ نظر سے ان کی ماؤں سے نکاح کی اجازت اور اس کے لیے چار تک کی قید، عدل اور ادائے مہر کی شرائط کے ساتھ تعدد ازواج کی رخصت۔
سرپرستوں کو اس بات کی ہدایت کہ وہ اس وقت تک یتیموں کے مال و جائیداد ان کے حوالہ نہ کریں جب تک ان کے اندر معاملات کی سوجھ بوجھ نہ پیدا ہو جائے لیکن اس دوران میں ان کی ضروریات اور ان کی دلداری کا پورا خیال رکھیں۔ جب ان میں معاملات کی سوجھ بوجھ پیدا ہو جائے تو ان کا مال ان کے حوالہ کر دیا جائے۔ اس تولیت کے دوران میں اگر کوئی سر پرست غریب ہو تو یتیم کے مال میں سے بقدر کفاف لے سکتا ہے لیکن اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ یتیم کے بڑے ہو جانے کے اندیشے سے اس کے بڑے ہونے سے پہلے ہی ا س کی ساری املاک و جائیداد ٹھکانے لگا دینے کی کوشش کرے۔
(۷۔۱۴) تقسیم وراثت کے ضابطے کی تفصیل تاکہ ضعیف و قوی سب کے حقوق معین ہو جائیں اور معاشرے میں ظلم و حق تلفی اور نزاع و مخاصمت کے دروازے بند ہو جائیں۔
(۱۵۔۱۸) معاشرے کو فواحش سے پاک رکھنے کے لیے ایک ابتدائی حکم اور اس کے تعلق سے اس امر کی وضاحت کہ کن لوگوں کی توبہ قبول ہوتی ہے، کن کی نہیں؟
(۱۹۔۲۱)اس امر کا بیان کہ عورت مالِ وراثت نہیں ہے کہ باپ کی منکوحہ بیٹے کووراثت میں ملے۔ عورتوں سے اپنا دیا ہوا مال واپس لینے کے لیے ان کو تنگ نہ کیا جائے۔ اگر کوئی شخص ایک عورت کو چھوڑنا اور دوسری سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو محض مال اینٹھنے کے لیے پہلی کو تہمت اور بہتان کا ہدف نہ بنائے۔
(۲۲۔۲۵) باپ کی منکوحہ کے ساتھ بیٹے کو نکاح کی ممانعت اور ان عورتوں کی تفصیل جن کے ساتھ نکاح ناجائز ہے۔ نیز شرائط نکاح کا بیان تاکہ معاشرہ بد کاری و بے حیائی اور ظلم و زیادتی کے مفاسد سے پاک رہے۔ جو لوگ اس وقت آزاد عورتوں سے نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے تھے ان کو مسلمان لونڈیوں سے بعض شرائط کے ساتھ نکاح کی اجازت اورقید نکاح میں آجانے کے بعد اگر ان لونڈیوں سے بدکاری کا صدور ہو تو ان کے لیے تعزیر کا ضابطہ۔
(۲۶۔۲۸) مسلمانوں کو آگاہی کہ اللہ تعالیٰ ان احکام و ہدایات کے ذریعے سے تمھاری رہنمائی ایمان و عمل صالح اور توبہ و اصلاح کی اس شاہ راہ کی طرف فرما رہا ہے جو اس نے ہمیشہ سے اپنے صالح بندوں کے لیے پسند فرمائی ہے۔ ان احکام و ہدایات میں اس نے وہ سہولت بھی ملحوظ رکھی ہے جو لوگوں کی طبعی کمزوری کے پیش نظر ضروری تھی تو خبردار ان نفس پرستوں کے ورغلانے میں نہ آجانا جو تمھیں پاکیزگی کی اس شاہ راہ سے ہٹا کر شہوات کی وادیوں میں بھٹکا دینے کے لیے اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہیں۔
(۲۹۔۳۱) مسلمانوں کو ایک دوسرے کا مال ناجائز ذرائع سے کھانے اور ایک دوسرے کا خون بہانے کی ممانعت ۔ خدا رحیم ہے اس وجہ سے وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحیم ہوں۔ جو لوگ معاشرے میں ظلم و عدوان کی تخم ریزی کریں گے وہ سب جہنم میں جھونک دیے جائیں گے ۔ البتہ جو لوگ بڑے گناہوں سے بچتے رہیں گے ، اللہ تعالیٰ ان کے چھوٹے گناہوں سے درگزر فرمائے گا۔
(۳۲۔۳۳) شریعت میں عورت اور مرد دونوں کے لیے جو حدود و حقوق معین کر دیے گئے ہیں سب ان کے اندر ہیں۔ اپنے اپنے حدود کے اندر ہر ایک خدا کے ہاں اپنی محنت کا اجر پائے گا۔ اس لیے کہ ایک دوسرے کی ریس اور ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ خدا نے حقوق بھی معین فرما دئیے ہیں اور فرائض بھی اور وہ سب کو دیکھ بھی رہا ہے۔
(۳۴۔۳۵)خاندان اور معاشرے میں سربراہی اور قوامیت کا مقام مرد کو حاصل ہے۔ اپنی خلقی صفات اور کفالتی ذمہ داریوں کے لحاظ سے وہی اس کے لیے موزوں ہے۔ نیک بیبیاں اس حق کا احترام کرتی ہیں جن عورتوں سے سرکشی کا اندیشہ ہو ان کو ان کے شوہر نصیحت کریں اور اگر ضرورت محسوس کریں تو ایک حد مناسب تک ان کو تنبیہ بھی کر سکتے ہیں اور اگر محسوس ہو کہ فریقین کے اختلاف کی نوعیت کچھ زیادہ شدید ہے تو اس کے لیے یہ تدبیر اختیار کی جائے کہ میاں اور بیوی دونوں کے خاندانوں سے ایک ایک پنچ مقرر کر دیا جائے، جو حالات کی اصلاح کی کوشش کریں۔
(۳۶۔۴۰) خدا، والدین، اقربا، یتامیٰ ، مساکین ، پڑوسی (عام اس سے کہ قرابت مند ہو یا غیر قرابت مند ، مستقل ہو یا عارضی اور وقتی) مسافر اور غلام، سب کے حقوق پہچاننے اور ادا کرنے کی تاکید۔ خدا کو وہی بندے پسند ہیں جو متواضع اور نرم مزاج ہوں، وہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اکڑنے والے، فخر کرنے والے ، بخیل اور بخل کا مشورہ دینے والے ہوں، جو اول تو ادائے حقوق میں خرچ ہی نہ کریں اور اگرکریں تو محض ریا و نمائش کے لیے۔ ادائے حقوق اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے گھاٹے میں رہنے والے نہیں۔ ان کے لیے خدا کے ہاں بڑا اجر ہے۔
(۴۱۔۴۲)ان لوگوں کے حال پر اظہار افسوس جو آخرت سے بالکل بے پروا ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی پر اڑے ہوئے تھے، ایمان و عمل صالح کی صحیح راہ خود اختیار کرتے تھے نہ دوسروں کو اختیار کرنے دینا چاہتے تھے۔
(۴۳۔۴۵) یہود کی بعض شرارتوں کا حوالہ جو وہ اسلام اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی نگاہوں سے گرانے کے لیے کر رہے تھے اور اس شرارت کے آخری نتائج سامنے آنے سے پہلے ان کو توبہ اور اصلاح کی دعوت۔
(۴۸۔۵۷) یہود اپنی پاکی و برتری کے جھوٹے دعوے کرکے مسلمانوں کو گرانے کی جو کوشش کر رہے تھے، یہاں تک کہ مشرکین کو بھی ان پر ترجیح دیتے تھے، اس کی تردید کہ یہ ساری باتیں محض ان کے حسد کا نتیجہ ہیں لیکن ان کے حسد کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے نبی خاتمؐ اور ان کی امت کے لیے یہ فیصلہ فرما لیا ہے کہ وہ ان کو کتاب و حکمت اور ایک عظیم کتاب عطا فرمائے گا اور یہ حاسد یہود ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔ یہ حکومت گویا اسلامی معاشرے کا قدرتی ثمرہ ہے۔
(۵۸۔۵۹) مسلمانوں کو اس بات کی نصیحت کہ اب اہل کتاب سے چھین کر شریعت الٰہی کی یہ امانت تمھارے سپرد جو کی جا رہی ہے تو تم یہود کی طرح اس امانت میں خیانت کرنے والے نہ بن جانا کہ اس کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والے بننا اور ہر حال میں عدل پر قائم رہنا۔ نیز اللہ اوررسول اور اپنے اولوالامر کی اطاعت کرتے رہنا، اس کے بغیر اس امانت کی ذمہ داریاں ادا نہیں ہو سکتیں اور اگر کسی امر میں اختلاف واقع ہو تو ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو اللہ و رسول ہی کی طرف لوٹانا تاکہ اس نزاع کا صحیح فیصلہ ہو سکے اور وہ تمھارے شیرازے کو درہم برہم نہ کرنے پائے۔
(۶۰۔۷۰) منافقین کو ملامت کہ وہ اللہ اور رسول کی اطاعت پر مجتمع ہونے کے بجائے اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں سے میل جول رکھتے ہیں اور اس کو بڑی دانش مندانہ سیاست سمجھتے ہیں حالانکہ اس وقت تک ان کا ایمان ہی معتبر نہیں ہے جب تک وہ پورے طور پر اپنے آپ کو پیغمبرؐ کے حوالہ نہ کر دیں اور ہر معاملے میں ان کی اطاعت نہ کریں۔
(۷۱۔۷۶)مسلمانوں کو اپنی مدافعت اور دارالکفر میں گھرے ہوئے مظلوم مسلمانوں کی آزادی کے لیے جہاد کی تاکید۔ ان منافقین کو ملامت جو جہاد سے جی چراتے تھے، مسلمانوں کی ہمتیں پست کرتے تھے، مالِ غنیمت میں حصہ داری کے تو متمنی و مدعی تھے لیکن خطرہ کوئی بھی مول لینے کے لیے تیار نہ تھے۔
(۷۷۔۸۰) منافقین کی اس متضاد روش پر ملامت کہ جب تک جہاد کا حکم نہیں ہوا تھا اس وقت تک تو وہ اپنی منافقت پر دہ ڈالنے کے لیے جہاد کے لیے بڑی بے قراری کا اظہار کرتے تھے لیکن اب کہ جہاد کا حکم دے دیا گیا تو جس طرح خدا سے ڈرنا چاہیے، اس طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ اسلام کے دشمنوں سے ڈرتے رہیں۔ حالانکہ موت سے کہیں بھی مفر نہیں۔ ان کی کج فہمی کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تواس کوتو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن اگر کوئی ابتلا پیش اجائے تو اس کو پیغمبرؐ کی بے تدبیری کا نتیجہ قرار دیتے ہیں حالانکہ خیر و شر سب خدا ہی کی طرف سے ہے البتہ شر جو پیش آتا ہے تو ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آخر میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی کہ جو تمھاری اطاعت کریں وہی درحقیقت خدا کی اطاعت کرنے والے ہیں، جو تمھاری اطاعت سے گریز اختیار کریں ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ تم پر ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔
(۸۱۔۸۵) منافقین کی روش کی مزید تفصیل کہ جب پیغمبرؐ کے سامنے ہوتے ہیں تب تو ان کی ہر بات پر سر تسلیم خم کرتے ہیں لیکن جب وہاں سے ہٹتے ہیں تو ہر بات میں مین میکھ نکالنا شروع کر دیتے ہیں حالانکہ پیغمبرؐ جو کچھ بھی کہتے ہیں ب خدا ہی کی طرف سے ہے۔ قرآن کی کامل ہم آہنگی شاہد ہے کہ اس میں کوئی چیز بھی غیر اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔
پھر منافقین کی اس شرارت کی طرف اشارہ کہ اگر ان کو امن یا خطرے کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو سنسنی پیدا کرنے کے لیے اس کو فوراً پھیلادیتے ہیں حالانکہ صحیح روش یہ ہے کہ اس کو رسولؐ اور اربابِ حل و عقد کے سامنے پیش کرتے تاکہ وہ اس پر غور کرکے اس کے تدارک کے لیے صحیح قدم اٹھاتے لیکن یہ مسلمانوں کے دل جلانے کے لیے یہ شرارت کرتے ہیں۔ انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ جو کسی حق کی تائید میں کلمۂ خیر کہے گا تو اس کو اس میں سے حصہ ملے گا اور جو کسی حق کی مخالفت میں کلمۂ شر زبان سے نکالے گا تو اس کو اس میں سے حصہ ملے گا۔
(۸۶۔۸۷)منافقین کی مذکورہ بالا روش کے باوجود مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ معاشرہ کے اندر ان کو نکو بنانے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ ظاہری سلوک ان کے ساتھ وہی رکھا جائے جو مسلمانوں کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یعنی ان کے ساتھ سلام کلام باقی رکھا جائے۔
(۸۸۔۹۱) جو منافقین دارالکفر میں پڑے ہوئے ہیں اور جن کی ساری ہمدردیاں کفار کے ساتھ ہیں، دارالاسلام کے مسلمانوں کو ان کے ساتھ اس وقت تک دوستی و حمایت کا تعلق پیدا نہیں کرنا چاہیے جب تک وہ دارالکفر کو چھوڑ کر دارالاسلام کی طرف ہجرت نہ کر آئیں۔ اگر وہ ہجرت نہ کریں تو ان کے ساتھ بھی اسی طرح جنگ جائز ہے جس طرح دشمن کے ساتھ۔ اس سے صرف وہ مستثنیٰ ہوں گے جن کا تعلق یا تو کسی ایسی قوم سے ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ ہے یا جن کے متعلق یہ علم ہے کہ یہ اپنی کمزوری کی وجہ سے نہ تو اپنی قوم کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑنا چاہتے، نہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر اپنی قوم سے لڑنے کی ہمت رکھتے۔ مگر جن کے متعلق معلوم ہے کہ ان کے اوپر خود ان کی قوم کا یا دوسرے کفار کا دباؤ پڑ جائے گاتو وہ مسلمانوں سے لڑنے کے لیے آمادہ ہو جائیں گے تو وہ دشمن ہی کے حکم میں ہیں۔ ان سے جنگ جائز ہے۔
(۹۲۔۹۴) دارالحرب میں پڑے ہوئے مسلمانوں کے جان و مال کے احترام سے متعلق بعض احکام۔
(۹۵۔۱۰۰) دارالحرب کے مسلمانوں کو ہجرت اور جہاد کی تاکید تاکہ وہ کفر کے ماحول سے نکل کر اسلامی معاشرہ میں آئیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اسلام اور مسلمانوں کو قوت بہم پہنچائیں۔
(۱۰۱۔۱۰۴) جہاد کے لیے ہر وقت مستعد رہنے کے حکم کے تعلق سے خطرے کی حالت میں نماز کا طریقہ۔
(۱۰۵۔۱۲۶) ان مسلمانوں کو تنبیہ جو کھلے ہوئے منافقین کے معاملے میں بھی مداہنت برتتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات ان کی طرف سے مدافعت کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ فرمایا کہ پیغمبرؐ کے خلاف منافقین کی سرگوشیاں اور سرگرمیاں اور اسلام کی راہ چھوڑ کر دوسری راہ اختیار کرنے کی کوشش کوئی معمولی جرم نہیں ہے۔ یہ چیز اپنی فطرت کے لحاظ سے شرک ہے اور شرک کو اللہ تعالیٰ کبھی معاف فرمانے والانہیں ہے۔ خدا کے ہاں جھوٹی آرزوئیں کام آنے والی نہیں ہیں بلکہ ایمان اور عمل صالح کام آنے والا ہے۔
(۱۲۷۔۱۳۰) ابتدائے سورہ میں جو احکام یتیموں ، ان کی ماؤں اور عورتوں سے متعلق بیان ہوئے ان کے متعلق بعد میں پیدا ہونے والے بعض سوالوں کے جواب۔
(۱۳۱۔۱۴۷) مسلمانوں کو پوری سختی کے ساتھ اس بات کی تاکید کہ جو کچھ حکم دیا جا رہا ہے اس پر بے چون و چرا عمل کرو، اس سے گریز و فرار کی راہیں نہ اختیار کرو اور منافقین کی کفر دوستی سے پوری شدت کے ساتھ اظہار بیزاری اور یہ تنبیہ کہ منافقین اور کفار دونوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔
(۱۴۸۔۱۴۹) مسلمانوں کو اس بات کی نصیحت کی ہر چند منافقین ہر ملامت کے سزاوار ہیں لیکن بے ضرورت بد زبانی و سخت کلامی ان کے ساتھ جائز نہیں ہے۔
(۱۵۰۔۱۶۲) اہل کتاب بالخصوص یہود کو، جو اس مرحلے میں طرح طرح کی سازشوں اور مختلف قسم کے اعتراضات سے مخالفت کے محاذ کو تقویت پہنچا رہے تھے سرزنش اور ان کے اعتراضات کے جواب۔
(۱۶۳۔۱۷۵) قرآنی دعوت کے مرتبہ و مقام کی وضاحت اور اہل کتاب بالخصوص نصاریٰ کو دعوت و نصیحت کہ اس روشنی کی، جو اللہ نے اتاری ہے، قدر کریں اور اندھیرے میں ٹھوکریں کھاتے نہ پھریں۔
(۱۷۶)ایک آیت مبینہ جو شروع میں بیان کردہ احکام کی وضاحت کے طور پر نازل ہوئی۔
مذکورہ بالا تجزیے پر تدبر کی نگاہ ڈالئے تو یہ بات صاف صاف نظر آئے گی کہ آیت ۴۰ تک تو معاشرہ سے متعلق احکام و قوانین بیان ہوئے ہیں اور ضمناً کہیں کہیں اس ردِ عمل کی طرف بھی اشارہ ہو گیا ہے جو ان احکام کا مخالفین پر ہوا لیکن آیت ۴۰ کے بعد کلام کا رخ بالتدریج اسلامی نظامِ حکومت کی اساسات کی وضاحت اور اسلام کے مخالفین کی طرف مڑ گیا ہے اور اس رویے پر تفصیل کے ساتھ تنقید کی گئی ہے جو اس نظامِ حق کی مزاحمت کے لیے اہل کتاب اور منافقین نے اختیار کیا۔ منافقین اس میں خاص طور پرزد میں آئے ہیں۔ اس کی وجہ ، جیسا کہ ہم نے سورہ کے دیباچہ میں ظاہر کی، یہ ہے کہ معاشرے اور حکومت کے استحکام کے نقطۂ نظر سے اس مارِ آستین گروہ کی بیخ کنی ضروری تھی۔
قرآن مجید کے متعلق یہ بات یاد رکھئے کہ یہ صرف فقہی احکام کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ دعوت کا صحیفہ بھی ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے اس ردِ عمل سے تعرض ناگزیر ہے جس سے ان احکام کی تعلیم کے دوران میں سابقہ پیش آیا۔ چنانچہ قرآن ہر جگہ ان احکام کے پہلو بہ پہلو ان حالات سے بھی بحث کرتا ہے جو مخالفین نے اس وقت بالواسطہ یا بلا واسطہ پیدا کیے اور ان سے بحث کرنا تعلیم و دعوت کے نقطۂ نظر سے نہایت ضروری ہے۔ لیکن جو لوگ قرآن کی اس خصوصیت سے واقف نہیں ہیں وہ اس بات سے حیران ہوتے ہیں کہ ان فقہی احکام کے ساتھ منافقین و معاندین کے اس تفصیلی ذکر کا کیا موقع تھا؟
5 المائدہ (The Table Spread, The Table)
120 verses | مدنی
سورہ کا عمود
یہ سورہ، جیسا کہ مقدمۂ کتاب میں واضح ہو چکا ہے، پہلے گروپ کی آخری سورہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے ، آخری امت کی حیثیت سے ، اپنی آخری اور کامل شریعت پر پوری پابندی کے ساتھ قائم رہنے اور اس کو قائم کرنے کا عہد و پیمان لیا ہے۔ اس سے پہلے یہ عہد و پیمان اہل کتاب سے لیا گیا تھا لیکن وہ ، جیسا کہ پچھلی سورتوں سے واضح ہوا، اس کے اہل ثابت نہ ہوئے اس وجہ سے معزول کیے گئے اور ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو دی اور اس کو اپنی آخری اور مکمل شریعت کا حامل اور امین بنایا۔ اب اس سورہ (مائدہ) میں عہد و پیمان لیا جا رہا ہے کہ تم پچھلی امتوں کی طرح خدا کی شریعت کے معاملے میں خائن اور غدار نہ بن جانا بلکہ پوری وفاداری اور کامل استواری کے ساتھ اس عہد کو نباہنا، اس پر خود بھی قائم رہنا ، دوسروں کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کرنا اور اس راہ میں پوری عزیمت و پا مردی کے ساتھ تمام آزمائشوں اور تمام خطرات کا مقابلہ کرنا۔
ب۔ سورہ کے مطالب کی نوعیت
سورہ کے موضوع کے تقاضے سے اس میں جو مطالب بیان ہوئے ہیں ان پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی چند باتیں بالکل نمایاں طور پر سامنے آتی ہیں۔
ایک یہ کہ اس میں جو احکام و قوانین بیان ہوئے ہیں وہ عوتِ اسلامی کے اس دور سے تعلق رکھنے والے ہیں جب تکمیل دین اور اتمامِ نعمتِ الٰہی کا مرحلہ سامنے آ چکا تھا۔ طاہر ہے کہ عہد و پیمان لینے کے لیے سب سے زیادہ موزوں احکام یہی ہو سکتے تھے۔ ان پر عہد و پیمان لینے کے معنی یہ ہیں گویا پوری شریعت پر عہد و پیمان ہو گیا۔
دوسری یہ کہ ان احکام میں امتحان و ابتلا کا پہلو بہت نمایاں ہے۔ پچھلی امتوں کو اس طرح کے جو احکام دیے گئے تھے ان میں انھوں نے ٹھوکریں کھائیں جن کے نتیجے میں وہ خدا کی معتوب و مغضوب ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر یہ فضل فرمایا کہ عہد و پیمان لیتے وقت ایسے احکام خاص طور پر سامنے کر دیے تاکہ یہ امت پاؤں پھسلنے کے ان مقامات سے اچھی طرح واقف ہوشیار رہے۔ ظاہر ہے کہ جو خطرے کی جگہوں پر اپنے کو سنبھال سکے گا اس سے توقع یہی ہے کہ وہ ہمار جگہوں میں ٹھوکر نہیں کھائے گا۔
تیسری یہ کہ اس میں تفصیل کے ساتھ یہود و نصاریٰ کے نقضِ عہد کی تاریخ بھی بیان ہوئی ہے اور اس کے اسباب و محرکات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے تاکہ یہ تاریخ اس امت کے لیے سبق آموزی اور عبرت پذیری کا ذریعہ بن سکے۔
چوتھی یہ کہ اس میں انفرادی و اجتماعی زندگی کے ان مخفی گوشوں کی خاص طور پر نشان دہی کی گئی ہے جہاں سے شیطان اور اس کے ایجنٹوں کو در آنے کا موقع ملتا ہے اور پھر وہ فتنے سر اٹھاتے ہیں جو روکے نہ جائیں تو پوری شریعت تاراج ہو کے رہ جاتی ہے۔
پانچویں یہ کہ اس میں وہ اصول و ضوابط پوری طرح واضح کر دیے گئے ہیں جن کا اہتمام عہدِ الٰہی پر قائم واستوار رہنے کے لیے ضروری ہے۔
یہ پانچ باتیں سامنے رکھ کرجو طالبِ حق تدبر کے ساتھ اس سورہ کی تلاوت کرے گا وہ اس کے موضوع اور اس کے نظام کے سمجھنے میں ان شاء اللہ کوئی الجھن ہیں محسوس کرے گا۔ اگرچہ سورہ کے نظام کو سمجھنے کے لیے یہ اشارات بھی کافی ہیں تاہم پوری سورہ کے مضامین کا تجزیہ بھی ہم کیے دیتے ہیں تاکہ تمام مطالب بیک نظر سامنے آ جائیں۔
ج۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
(۱۔۵) اللہ سے باندھے ہوئے ہر عہد کو پورا کرنے کی تاکید۔ اشہر حرم اور تمام شعائر الٰہی کی نگہداشت کی ہدایت یہاں تک کہ حالت احرام میں شکار بھی ناجائز ہے اور دوسروں کی انگیخت بھی اس بات کے لیے عذر نہیں ہو سکتی کہ شعائر الٰہی کی حرمت کو کوئی بٹہ لگے۔ تعاون نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ہونا چاہیے، نہ کہ گناہ اور حدود الٰہی سے تجاوز کے کاموں میں۔
اس امت کے لیے کھانے پینے کی چیزوں میں سے جو چیزیں حرام ہیں ان کی تفصیل و تکمیل اور یہ ہدایت کہ اب تمھیں کسی کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب تمھارے مخالفین نہ یہ توقع رکھتے کہ ان کے دین اور تمھارے دین میں کوئی مفاہمت ہو سکے گی اور نہ یہ امید وہ کرتے کہ وہ اس دین کو شکست دے سکیں گے۔ اب تمھارا دین کامل ہو گیا اور تم پر اللہ نے اپنی شریعت کی نعمت تمام کر دی۔ اب تم بس اسی کی پیروی کرو اور دوسروں سے بے پروا ہو جاؤ۔
تربیت کردہ شکاری جانوروں کے شکار، اہل کتاب کے کھانے اور کتابیہ سے نکاح کے بارے میں حکم اور یہ تنبیہ کہ جو ایمان کے ساتھ کفر کو جمع کریں گے ان کے سارے عمل اکارت جائیں گے۔
(۶۔۷) نماز کے لیے وضو کا حکم اور عذر و مجبوری کی حالت میں تیمم کی اجازت اور تنبیہ کہ اس حکم اور اس رخصت سے اللہ نے تمھیں پاکیزہ بنایا اور تم پر اپنی شریعت کی نعمت کو کامل کر نا چاہا ہے تو اللہ کے شکر گزار رہنا، اس کے اس انعام کو یاد رکھنا، اور ’سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا‘ کا اقرار کرکے اپنے رب سے جو عہد تم نے باندھا ہے اس پر مضبوطی سے جمے رہنا۔
(۸۔۱۱) مسلمانوں کو مخالفوں اور دشمنوں کی شر انگیزیوں کے باوجود حق و عدل پر قائم رہنے کی ہدایت۔ اللہ کا وعدۂ مغفرت انہی کے لیے ہے جو ایمان و عمل صالح پر قائم رہیں گے۔ مسلمانوں کو یہ یاد دہانی کہ دشمن کے ایک گروہ نے تم کو زک پہنچانی چاہی تو خدا نے اس کو بے بس کر دیا تو اللہ ہی سے ڈرو اور اسی پر بھروسہ کرو۔
(۱۲۔۱۳) بنی اسرائیل سے میثاق کا حوالہ کہ اللہ نے ان سے عہد لیا کہ اگر وہ اللہ کی شریعت پر قائم رہیں گے تو اللہ ان کے ساتھ ہو گا اور اگر وہ اس عہد کو توڑ دیں گے تو گمراہ اور خدا کی معیت سے محروم ہو جائیں گے لیکن انھوں نے اس عہد کو توڑ دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان پر لعنت کر دی۔
(۱۴) نصاریٰ کے میثاق کا حوالہ کہ خدا نے ان سے بھی میثاق لیا لیکن وہ اس کا ایک حصہ بھلا بیٹھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اندر قیامت تک کے لیے عناد و اختلاف کی آگ بھڑک اٹھی اور وہ آخرت میں بھی اس کی سزا بھگتیں گے۔
(۱۵۔۱۶) اہل کتاب کو دعوت کہ اللہ نے اپنے آخری پیغمبر اور قرآن کے ذریعہ سے جو روشنی تمھیں دکھائی ہے اس کی قدر کرو اور اندھیرے میں بھٹکنے کے بجائے سلامتی کی راہ اور صراطِ مستقیم کی طرف آؤ۔
(۱۷۔۱۹) نصاریٰ کو ملامت کہ انھوں نے مسیحؑ کو خدا بنا لیا اور یہودو نصاریٰ دونوں کے اس زعم کی تردید کہ وہ خدا کے بیٹے اور چہیتے ہیں، نیز یہ تنبیہ کہ خدا نے اپنا رسول بھیج کر ان پر حجت تمام کر دی ہے۔ اب یہ ذمہ داری تمامتر ان کی ہے۔
(۲۰۔۲۶) بنی اسرائیل کو ان کی تاریخ کے اس واقعہ کی یاد دہانی کہ خدا نے ان کو اپنے عظیم فضل سے نوازا، ان کو فتح و نصرت کے وعدے کے ساتھ ارض مقدس میں داخل ہونے کا حکم دیا لیکن انھوں نے بزدلی دکھائی اور اپنے اندر کے دو اوالعزم آدمیوں کی ہمت افزائی کے باوجود اپنے پیغمبر کے حکم کی تعمیل سے انکار کر دیا جس کی سزا ان کو یہ ملی کہ چالیس سال تک صحرا ہی میں بھٹکتے رہ گئے اور ان کو ارض مقدس میں داخل ہونے کی سعادت نہ حاصل ہوئی۔
(۲۷۔۳۱) آدمؑ کے دو بیٹوں کا قصہ جس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ ایک خدا ترس انسان کس طرح دشمن کی انگیخت کے باوجود خدا کے عہد پر قائم رہتا ہے اور ایک شریر انسان کس طرح فاسد جذبات سے مغلوب ہو کر اپنے بھائی کو قتل کر دیتا اور پھر اعترافِ گناہ کے بجائے اس کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔
(۳۲) اس امر کا بیان کہ نفس انسانی کی مذکورہ بالا خرابی کے سدباب کے لیے اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے یہ قانون بنایا کہ ایک کا قاتل سب کا قاتل اور ایک کا بچانے والا سب کا بچانے والا ہے یعنی قتل جماعتی جرم اور حفاظت جان جماعتی ذمہ داری ہے۔ لیکن بنی اسرائیل نے اس قانون کا احترام نہیں کیا بلکہ اپنے رسولوں کی کھلی ہوئی ہدایات و تنبیہات کے باوجود خدا کی زمین میں فساد مچاتے رہے۔
(۳۳۔۳۴) ان لوگوں کی سزا کا بیان جو جسارت اور ڈھٹائی کے ساتھ خدا کا قانون توڑنے اور ملک میں فساد برپا کرنے کی کوشش کریں۔
(۳۵۔۳۷) مسلمانوں کو اس بات کی تاکید کہ حدودِ الٰہی پر قائم رہو، پابندئ شریعت کو حصول قربِ الٰہی کا وسیلہ بناؤ اور اس شریعت کے قیام کے لیے ہمیشہ سرگرمِ عمل رہو۔ خدا کے عذاب سے یہی چیز نجات دینے والی ہے۔ اس کے سوا کوئی چیز بھی نفع پہنچانے والی ثابت نہیں ہو گی۔
(۳۸۔۴۰) چوری کی سزا قطع ید ہے۔ اس کی بے رورعایت تنفیذ کی تاکید اور یہ تنبیہ کہ خدا کے قانون سے بھاگنے والوں کو آخرت میں کوئی بچانے والا نہ ہو گا۔
(۴۱۔۴۵) منافقین او ریہود کی ان چالوں اور شرارتوں کا بیان جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت سے گریز کے لیے کر رہے تھے۔ ان محرکات کی پردہ دری جو ان شرارتوں کے پیچھے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی کہ اپ ان لوگوں کی شرارتوں سے آزردہ نہ ہوں اور یہ خواہ کچھ کریں، آپ جب بھی ان کے معاملے کا فیصلہ کریں ٹھیک قانونِ عدل کے مطابق کریں۔ یہود کو ملامت کہ یہ ان کی کیسی بد بختی ہے کہ جس کتاب کے وہ شاہداور امین بنائے گئے اس کے واضح احکام کے مطابق اپنے معاملات کے فیصلے کرانے سے گریز اختیار کر رہے ہیں۔
(۴۶۔۴۷) نصاریٰ کو تنبیہ کہ انھیں بھی یہ حکم ہوا ہے تھا کہ وہ تمام معاملات کے فیصلے انجیل کے مطابق کریں اور جو اس کی خلاف ورزی کریں گے وہ نا فرمان اور عہد شکن قرار پائیں گے۔
(۴۸۔۵۰) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کہ قرآن تمام اختلافات کے درمیان قولِ فیصل بن کر نازل ہوا ہے اب یہی تمام پچھلے صحیفوں کے لیے کسوٹی ہے۔ اہل کتاب کی بدعات کی کوئی پروا نہ کرو۔ ہر معاملے کا فیصلہ اسی کی روشنی میں کرو۔ اگر یہ اہل کتاب اپنی بدعات چھوڑنا نہیں چاہتے تو تم ان کو ان کے حال پر چھوڑ و۔ ان کا فیصلہ قیامت میں ہو گا۔ ہوشیار رہو کہ یہ تمھیں اپنی بدعات و خواہشات کی طرف موڑنے نہ پائیں۔
(۵۱۔۵۶) مسلمانوں کو تنبیہ کہ یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ جو ان کو اپنا دوست بنائے گا اس کا شمار انہی میں ہو گا۔ منافقین کے اس راز کا اظہار کہ یہ ڈرتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ سے کھلم کھلا بگاڑ کر لیا اور کل کو پلہ انہی کا بھاری رہا تو کیا ہو گا حالانکہ انھیں یہ سوچنا چاہیے کہ اسلام کی فتح کے بعد اگران کا سارا پول کھول دیا گیا تب کیا ہو گا۔ منافقین کو دھمکی کہ یہ مرتد ہونا چاہتے ہیں تو ہو جائیں، خدا کو کوئی پروا نہیں، خدا اسلام کی حمایت کے لیے ایسے لوگوں کو کھڑا کر ے گا جن سے خدا محبت کرے گا اور جو خدا سے محبت کریں گے۔
(۵۷۔۶۶) منافقین کی بے حمیتی پر ملامت کہ ان یہود کو یہ اپنا دوست بناتے ہیں جو اپنی مجلسوں میں اسلام اور اس کے شعائر کا مذاق اڑاتے ہیں۔ یہو دکو سرزنش کہ انھیں آخرت میں پتا چلے گا کہ خدا کے نزدیک سب سے زیادہ بد انجام کون ہے۔ یہود کی دھوکہ بازی اور ان کے علماء کی بے حسی و بے غیرتی کی طرف اشارہ۔ یہود کا طنز اللہ تعالیٰ پر اور اس کا جواب۔ یہ اشارہ کہ حسد کے جوش میں یہود برابر جنگ کی آگ بھڑکاتے رہیں گے لیکن خدا ان کو کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ اہل کتاب کو ملامت کہ ان کی شامت ہی ہے کہ انھوں نے اسلام کو اپنے لیے خطرہ سمجھا۔ اگر وہ اس کو قبول کرتے تو درحقیقت تورات اور انجیل کو قائم کرتے اور ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابیوں کے دروازے کھل جاتے لیکن ان میں عدل پسند تھوڑے نکلے، اکثریت بروں ہی کی ہے۔
(۶۷۔۷۱) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کہ تم بالکل نڈر ہو کر ان اہل کتاب کو حق پہنچا دو کہ جب تک تم تورات و انجیل اور اس قرآن کو قائم نہ کرو تمھاری کوئی حیثیت نہیں۔ خدا سے نسبت صرف ان کو حاصل ہو گی جو ایمان و عمل سے نسبت پیدا کریں گے۔ یہود کی تاریخ کا حوالہ کہ ان سے میثاق لینے کے بعد اللہ نے اس میثاق کی تجدید کے لیے برابر رسول بھیجے لیکن انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی۔ رسولوں کے ایک گروہ کی انھوں نے تکذیب کر دی اور بعض کو قتل کر دیا۔ انھوں نے خدا کی ڈھیل سے یہ گمان کر لیا کہ اب کوئی پکڑ نہیں ہو گی اور برابر اندھے بہرے بنے رہے۔
(۷۲۔۷۷) نصاریٰ کے کفر کا بیان کہ انھوں نے مسیحؑ کی تعلیمات کے بالکل خلاف حلول اور تثلیث کے عقیدے ایجاد کر لیے۔ حضرت مسیحؑ اور ان کی والدہ کے اصل مرتبہ کی وضاحت اور نصاریٰ کو یہ تنبیہ کہ ایک گمراہ قوم کی ایجاد کردہ بدعات کی تقلید میں انھوں نے اپنے کو ہلاکت میں مبتلا کیا۔
(۷۸۔۸۶) بنی اسرائیل پر حضرت داؤدؑ اور حضرت مسیحؑ کی لعنت کا حوالہ۔ کفر دوستی اور اسلام دشمنی کے جوش میں مشرکین مکہ تک سے ان کی دوستی کی طرف اشارہ۔ اسلام دشمنی میں یہود ، مشرکین ، قریش اور نصاریٰ کے مزاج کا فرق۔ حق پرست نصاریٰ کی حق پرستی اور اسلام دوستی کی تحسین۔
(۸۷۔۱۰۵) سورہ کے شروع میں بیان کردہ احکام حلت و حرمت کے بعض پہلوؤں کی وضاحت اور ان سے متعلق سوالوں کے جواب۔ خدا کی مباح کردہ چیزوں کو اپنے جی سے حرام ٹھہرانے کی ممانعت۔ احترام عہد و پیمان کے پہلو سے قسم کے معاملے میں احتیاط کی تاکید اور ارادی قسموں کا کفارہ۔ شراب ، جوا اور انصاب و ازلام کی قطعی حرمت کا اعلان۔ شراب اور جوئے کے شرعی اور معاشرتی مفاسد۔ جو لوگ درجہ بدرجہ تحریم و تحلیل کے معاملے میں خدا کے احکام کا احترام کرتے آئے ہیں ان کی پچھلی غلطیوں پر کوئی گرفت نہیں۔ حالتِ احرام میں شکار کی ممانعت ایک سخت آزمائش ہے اس وجہ سے اس معاملے میں بیدار رہنے کی ہدایت اور اگر غلطی ہو جائے تو اس کے کفار ے کی صورت ، نیز اس ممانعت میں جس حد تک رخصت ہے اس کا بیان۔ خانہ کعبہ اور اس سے متعلق تمام شعائر کے برابر احترام کرتے رہنے کی تاکید اور یہ تنبیہ کہ رسول کا کام اللہ کی ہدایات کا پہنچا دینا تھا، اس نے پہنچا دیں اب یہ ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے۔ برائی کی کثرت برائی کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتی اس وجہ سے دانشمندی اور فلاح کی راہ یہی ہے کہ برائی سے بچا جائے۔ غیر ضروری سوالات کرنے کی ممانعت ، اس سے یہود کو جو نقصانات پہنچے ان کی طرف اشارہ۔ تحریم و تحلیل سے متعلق قریش کی بعض بدعات کا حوالہ اور ان کی اندھی تقلید آبا پرسرزنش۔ مسلمانوں کو ہدایت کہ جو نہیں سنتے ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔
(۱۰۶۔۱۰۸) شہادتِ ہق اور عہد و قسم کے تحفظ کے پہلو سے حالت سفر کی وصیت اور اس سے متعلق گواہی کا ضابطہ اور اگر اس کے بارے میں کوئی اشتباہ پیش آجائے تو اس کے تدارک کا طریقہ۔
(۱۰۹۔۱۲۰) خاتمۂ سورہ ۔۔۔ قیامت کے دن انبیاء اپنی اپنی امتوں کے باب میں شہادت دیں گے کہ انھوں نے اللہ کی طرف سے لوگوں کو کیا بتایا اور سکھایا اور لوگوں سے کن باتوں کے کرنے اور کن باتوں کے نہ کرنے کا عہد و اقرر لیا تاکہ ہر امت پر حجت قائم ہو سکے کہ جس نے بھی کوئی بد عہدی کی ہے اس کی ذمہ داری تمام تر اسی پر ہے ، اللہ کے رسول اس سے بری ہیں۔ اس شہادت کی نوعیت واضح کرنے کے لیے بطور مثال حضرت عیسیٰ ؑ کی شہادت کا تفصیلی تذکرہ تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اللہ نے اپنے نبیوں اور رسولوں پر جس شہادت حق کی ذمہ داری ڈالی ہے۔ وہ اس کے بارے میں عنداللہ مسؤل ہوں گے اور ان کے واسطہ سے امتوں نے جس قیام بالقسط اور شہادتِ ہق کا عہد و پیمان خدا سے باندھا ہے وہ اس کے لیے مسؤل ہوں گی اور آخرت کی فلاح اور خدا کی خوشنودی ان کو حاصل ہو گی جو اس عہد کا حق ادا کرنے والے ثابت ہوں گے۔
اس فہرست مطالب پر سرسری نظر ڈالنے سے بھی سورہ یک تمام اجزاء کا ربط اس کے موضوع سے بالکل واضح نظر آتا ہے۔ اب ہم اللہ کی توفیق اور اس کی رہنمائی کے بھروسے پر سورہ کی تفسیر شروع کر تے ہیں۔
6 الانعام (The Cattle)
165 verses | مکی
سورہ کاعمود
سورۂ انعام میں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مخاطب قریش ہیں۔ ان کے سامنے توحید، معاد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے دلائل واضح کرتے ہوئے ان کو ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے اور ساتھ ہی یہ تنبیہ ہے کہ اگر اُنھوں نے یہ دعوت قبول نہ کی تواس انجام سے دوچار ہونے کے لیے ان کوتیار رہنا چاہیے جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کو دوچار ہوناپڑا۔ اہل عرب چونکہ حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد تھے اور ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جس مذہب پر وہ ہیں یہ ان کو حضرت ابراہیم ؑ ہی سے وراثت میں ملا ہے اس وجہ سے اس سورہ میں اس حجت کو خاص طورپرنمایاں کیا گیاہے جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تاکہ قریش پریہ واضح ہو جائے کہ اصل ملتِ ابراہیم ؑ کیا ہے اور اس کے حقیقی پیرو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ ہیں یا قریش سورہ کے اس عمود کو پیش نظر رکھتے ہوئے اب ایک اجمالی نظرسورہ کے مطالب پر ڈالیے۔
ج۔ سورہ کے مطالب کاتجزیہ
(1۔5) توحید اور معاد کے بعض واضح دلائل کی طرف اشارہ۔ بالکل بدیہی حقائق سے اعراض پر اظہار تعجب۔ قرآن کی تکذیب ایک امرحق کی تکذیب ہے جس کاخمیازہ یہ بھگتیں گے۔ قرآن انھیں جن نتائج کی خبردے رہاہے وہ سب پیش آ کے رہیں گے۔
(6۔7) رسولوں کی تکذیب کرنے والے عذاب الٰہی میں پکڑے گئے۔ عرب کی پچھلی تاریخ کی طرف اشارہ۔
(8۔11) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی کہ کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان کو جھٹلانے والوں کو قائل نہیں کرسکتا۔ جو معجزہ یہ مانگتے ہیں وہ بھی ان کودکھا دوگے جب بھی یہ اپنے انکارسے باز نہیں آئیں گے۔ تم سے پہلے جو رسول آئے اس قماش کے لوگوں نے ان کابھی مذاق اڑایا۔ بالآخر وہ اس عذاب میں مبتلا ہو کے رہے جس کا انھوں نے مذاق اڑایا۔ اِن کواُن کے ملک کی تاریخ کی طرف توجہ دلاؤ۔
(12۔13) آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کی ملکیت ہے۔ اس نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے اس وجہ سے لازم ہے کہ وہ جزا اور سزا کا دن لائے۔
(14۔18) شرک سے اظہار برأت۔ خیروشر سب خدا ہی کے ہاتھ میں ہے۔ سب اُسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ وہ حکیم و خبیر ہے۔
(19۔24) توحید اور شرک کے باب میں فیصلہ کن شہادت اللہ کی ہے اور اللہ کی شہادت توحید کے حق میں ہے۔ یہ قرآن اسی شہادت کے ساتھ اترا ہے۔ سچے اہل کتاب بھی اس سے آشنا ہیں، صرف بدبخت ہی ہیں جو اس پر ایمان لانے سے محروم رہیں گے۔ جو لوگ شرک کے مدعی ہیں وہ خدا پر جھوٹ افترا کر رہے ہیں۔ ایسے ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔ قیامت کے دن جب ان سے سوال ہو گا کہ تمھارے شرکاء کہاں ہیں توا ن کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
(25۔32) یہ لوگ اگر سنتے بھی ہیں تو سمجھنے اور ماننے کے لیے نہیں بلکہ کٹ حجتی کے لیے سنتے ہیں، قرآن ان کو پچھلے مکذبین کی جو سرگزشتیں سناتا ہے ان سے سبق حاصل کرنے کے بجائے یہ ان کو اگلوں کا فسانہ کہتے ہیں۔ ان کی آنکھیں تو اسی وقت کھلیں گی جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت یہ اپنی بدبختی پر ماتم اور حسرت کریں گے کہ کاش پھر دنیا میں جانا ہوتا کہ ایمان لاتے۔ آج ان کے نزدیک زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے، جس دن یہ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے اس دن حسرت سے کہیں گے ہائے ہماری بدبختی ہم نے اپنی زندگی کس طرح برباد کی۔
(33۔39) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی کہ نشان�ئ عذاب کا مطالبہ پورا نہ کیے جانے پر یہ جو تمھارا مذاق اڑا رہے ہیں، یہ چیز تمھارے لیے غم کا باعث نہ بنے۔ یہ تمھارا مذاق نہیں بلکہ خدا کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اس وجہ سے اس معاملے کو خداپرچھوڑو۔ تم سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں ان کوبھی اسی طرح کے حالات سے سابقہ پیش آیا تو انھوں نے صبر کیا۔ اس کے بعد اللہ کی نصرت ظاہر ہوئی۔ یہی سنت اللہ ہے اور سنت اللہ میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ تمھیں اس معاملے میں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ ایمان تووہی لائیں گے جن کے اندرکچھ صلاحیت ہے، جن کے دل بالکل مردہ ہوچکے ہیں وہ بڑی سے بڑی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ خداکے آسمان و زمین نشانیوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن جواندھے ہوچکے ہیں ان کوان نشانیوں سے کیا فائدہ؟
(40۔50) یہ عذاب کی نشانی مانگتے ہیں، ان سے پوچھو کہ اگر خدا کا عذاب آیا تو اس سے بچاؤ کا کیا سامان انھوں نے کر رکھا ہے؟ پچھلی قوموں کا حوالہ کہ انھوں نے بھی اپنے رسولوں سے نشانیاں مانگیں تو اللہ نے ان کومختلف مصیبتوں میں مبتلا کیا لیکن خدا کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے ان کے دل سخت ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خدانے ان کی جڑ ہی کاٹ دی۔ پیغمبر ؐ کی طرف سے یہ اظہار واعلان کہ میں خداکے خزانوں کا مالک اور غیب کاعالم ہونے کا مدعی نہیں ہوں، میں تو بس وحی الٰہی کا پیرو ہوں۔
(51۔55) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت کہ جن کے اندر خدااور آخرت کاخوف موجود ہے وہی اس قرآن سے فائدہ اٹھائیں گے۔ سو ان کو اس کے ذریعہ سے جگاؤ۔ رہے وہ جو معجزات کے طالب ہیں تو ان کو نظرانداز کرو۔ جو غریب لوگ اللہ کی خوشنودی کے طالب اور تمھاری باتوں کے سننے والے ہیں ان کو ان متکبرین کے مطالبہ پر اپنے سے دور نہ کرو۔ اگر یہ متکبرین اس وجہ سے تمھارے پاس نہیں آتے کہ تمھاری مجلس میں غربا ہوتے ہیں تو ا ن کو ان کے حال پر چھوڑو، تم ان کے ایمان و اسلام کے ذمہ دار نہیں ہو۔ ان کے لیے غریبوں کی غریبی اور ان کی اپنی امیری فتنہ بن گئی ہے۔ تم ان غربائے مسلمین کا بہرحال خیرمقدم کرو اور ان کو بشارت دو۔
(56۔67) شرک سے اعلانِ بیزاری کی ہدایت اس لیے کہ اس کی کوئی دلیل نہیں۔ پیغمبر ایک واضح شہادت اپنے پاس رکھتا ہے اور یہ مکذبین اس شہادت کو تو جھٹلاتے ہیں اور نشان�ئعذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عذاب کا لانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں، خدا کے اختیار میں ہے۔ ہر جان خدا کی مٹھی میں ہے۔ اللہ جب چاہے اور جہا سے چاہے عذاب بھیج سکتا ہے۔ ہر بات کا ایک وقت مقرر ہے۔ یہ جھٹلانے والے عنقریب جان لیں گے۔
(68۔70) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت کہ جب دیکھو کہ ان مکذبین کو اعتراض و مخالفت کا بخار چڑھ گیا ہے تو ان سے بحث میں نہ اُلجھو، بلکہ کنارہ کش ہو جاؤ۔ تمھارا کام تذکیر و موعظت ہے، جب دیکھو کہ وہ سننا نہیں چاہتے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو، یہ خود بھگتیں گے، تم ان کے ایمان و اسلام کے ذمہ دار نہیں ہو۔
(71۔73) ان سے کہہ دو کہ حق واضح ہو جانے اور اللہ کی ہدایت آجانے کے بعد کیا ہماری مت ماری ہوئی ہے کہ ہم صحرا میں گم کردہ راہ قافلے کی طرح بھٹکتے پھریں؟ ہم تو اب اسی راہ پر چلیں گے جو خدا نے ہمارے لیے کھولی ہے۔
(74۔83) توحید ے ثبوت میں حضرت ابراہیم ؑ نے جو دلیل اپنی قوم پر قائم کی اس کا بیان۔
(84۔90) حضرت ابراہیم ؑ سے پہلے اور ان کے بعد ان کی ذریت میں جو انبیاء و رسل اس دینِ توحید کے حامل اُٹھے ان کی طرف ایک سرسری اشارہ اور اس بات کی تاکید کہ اصل ہدایت کی راہ یہی ہے جو ان پیغمبروں نے بتائی ہے تو اسپر مضبوطی سے استوار رہو۔ اگرکفار قریش اس کاانکار کرنا چاہتے ہیں تو ان کی پروا نہ کرو۔ اللہ دوسروں کو اس کی تائید و حمایت میں کھڑا کر دے گا۔
(91۔92) یہود کا القا کیا ہوا ایک اعتراض اور اس کا جواب۔
(93۔94) ان بددماغوں کی تردید جو دعویٰ کرتے تھے کہ اگر وہ چاہیں تو وہ بھی اسی طرح کا کلام پیش کر سکتے ہیں جس قسم کا کلام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) خدا کی طرف منسوب کر کے پیش کرتے ہیں، انھیں بھی وحی کا تجربہ ہوتا ہے۔
(95۔99) توحید کے آفاقی دلائل۔
(100۔105) شرک کی تردید اور یہ تنبیہ کہ ہدایت تُمھارے پاس آچکی، اب جو گمراہی اختیار کرے گا تو ذمہ داری خود اس پر ہے۔
(106۔108) پیغمبرؐ کو مضبوطی سے وحی الٰہی کے اتباع پر جمے رہنے اور مشرکین سے اعراض کی ہدایت اور مسلمانوں کو یہ نصیحت کہ مشرکین کے بتوں اور معبودوں کی بے ضرورت تحقیر و تذلیل نہ کی جائے کہ وہ مشتعل ہو کر تمھارے خدا کو برا بھلا کہنے لگیں۔
(109۔111) کفار کی اس قسم کی تردید کہ اگر ان کی طلب کے مطابق ان کو معجزہ دکھا دیا جائے تووہ ضرور ایمان لائیں گے۔ فرمایا کہ اگرا ن کو دنیا جہان کے معجزے دکھا دیے جائیں جب بھی جو ایمان لانے والے نہیں ہیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
(112۔117) اس سنت اللہ کا بیان کہ جب نبی کی دعوت بلند ہوتی ہے تو شیاطین جن و انس کو بھی یہ مہلت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے باطل کو ملمع کر کے لوگوں کے سامنے پیش کر لیں تاکہ جن کو ان کی راہ اختیار کرنی ہے وہ ان کی راہ اختیار کریں۔ پیغمبر کو یہ ہدایت کہ تم ان الجھنے والوں کو بتا دو کہ جب میرے پاس خدا کی کتاب آچکی ہے تو میں اس کو چھوڑ کو کسی دوسری چیز کی پیروی کس طرح کر سکتا ہوں۔
(118۔123) مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ تم ورغلانے والوں کی باتوں سے ہوشیار رہو۔ انھوں نے اپنے مشرکانہ عقاید کے تحت جوچیزیں حرام کر رکھی ہیں ان کے باب میں تم ان کی بدعات کی پروا نہ کرو بلکہ وہ چیزیں کھاؤ جن کی حرمت کی کوئی دلیل نہ ملّت ابراہیم میں موجود ہے نہ قرآن نے ان کے حرام ہونے کی خبر دی ہے۔ اب خدا نے تمھیں تاریکی سے روشنی میں لا کھڑا کیا ہے تو تم ان لوگوں کی بدعات اور کج بحثیوں کی پروا نہ کرو جو کفر و شرک کے اندھیرے میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
(124۔127) ان مغروروں کی تردید جو قرآن پر ایمان لانے کی شرط یہ ٹھہرات تھے کہ جب تک ان پر بھی اسی طرح وحی نہ آئے جس طرح پیغمبر پر آتی ہے اس وقت تک وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ فرمایا کہ نبوت کے مرتبۂ بلند کا سزاوار ہر شخص نہیں ہوتا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ کون اس کا اہل ہے، کون نہیں۔ جو لوگ کبرِ نفس میں مبتلا ہو کر دنیا اور آخرت دونوں کی سرفرازیوں کا اجارہ دار صرف اپنے کو سمجھتے ہیں وہ اپنے اس غرور کی سزا پائیں گے۔ رہا ایمان لانے اور نہ لانے کا معاملہ تو یہ اللہ کی توفیق پر منحصر ہے اور اس توفیق کے لیے ایک مخصوص سنتِ الٰہی ہے۔
(128۔135) آخرت میں جنوں اور انسانوں کے گمراہ لوگ اعتراف کریں گے کہ وہ اتمام حجت کے باوجود محض اپنی شامت اعمال سے اس انجام کو پہنچے۔ قریش کو دھمکی کہ سنبھلنا چاہتے ہو تو اب بھی سنبھل جاؤ ورنہ جس عذاب کی دھمکی تمھیں سنائی جا رہی ہے وہ آکے رہے گا اور کوئی اس سے بچ نہ سکے گا۔
(136۔144) مشرکین نے اپنے مشرکانہ عقائد کے تحت کھیتی اور چوپایوں میں سے جن چیزوں کو حرام ٹھہرا لیا تھا یااپنے دیوتاؤں کو راضی کرنے کے لیے انسانی جانوں کی جو قربانیاں پیش کرتے تھے ان کی تردید و مذمت کہ یہ سب باتیں بے سروپا اوہام پرمبنی ہیں۔ عقل، فطرت اور ملتِ ابراہیم ؑ میں ان کی کوئی اصل نہیں ہے۔
(145۔154) ملّتِ ابراہیم ؑ اور ملت موسوی میں جو چیزیں حرام ٹھہرائی گئیں ان کی طرف ایک اشارہ۔ مشرکین کے اس عذر کی تردید کہ وہ جس راستہ پر ہیں، خدا ہی کے چلانے سے اس پر ہیں، اگر اللہ کو یہ راستہ پسند نہیں ہے تو وہ ان کو صحیح راستہ پر کیوں نہیں چلا دیتا۔
(155۔165) اس قرآن کے زریعہ سے جو اتمام حجت ہوا ہے اس کا بیان۔ اب اس کے بعد بھی اگر لوگ کسی نشانی کے ظہور کے منتظر ہیں تو وہ انتظار کریں، اس قسم کی نشانی دکھانا پیغمبرؐ کے اختیار میں نہیں ہے۔ پیغمبر کی طرف سے یہ اعلان کہ خدا نے مجھے ملت ابراہیم کی ہدایت بخشی ہے اور میں اس پر چل کھڑا ہوا ہوں۔ اب جس کا جی چاہے اس صراط مستقیم پر آئے اور جس کا جی چاہے بھٹکتا پھرے۔ اللہ کے ہاں ہر ایک اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔
7 الاعراف (The Heights)
206 verses | مکی
سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق
سورۂ انعام میں، جیسا کہ تفصیل سے واضح ہوا ، قریش کو اسلام کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ دعوت اس بنیاد پر دی گئی ہے کہ یہی اصل ملت ابراہیمؑ ہے جس کی ابراہیمؑ نے اپنی ذریت کو تلقین کی نہ کہ وہ مجموعۂ بدعات و اوہام ہے جوتم لیے بیٹھے ہو۔ اللہ نے تم پر بڑافضل فرمایا ہے کہ اس نے تمہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جس نے اللہ کی حجت تم پر پوری کر دی ہے اب تمھارے لیے گمراہی پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر تم اپنی ضد پر اڑے رہ گئے تو یاد رکھو کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو خدا نے ہمیشہ تباہ کر دیا ہے۔ یہ تاریخ کی ایک معروف حقیقت ہے جس کی دلیل ڈھونڈنے کے لیے تمھیں کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس ملک میں تم آج بااقتدار ہو خود اسی کی تاریخ میں تمھارے لیے کافی سامان عبرت موجود ہے۔ تم اس سرزمین پر پہلے آنے والے نہیں ہو بلکہ تم سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں جو اسی طرح اقتدار کی مالک ہوئیں جس طرح تم۔ بلکہ بعض اپنے اقتدار و سطوت کے اعتبارسے تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں۔ انہی کے وارث تم ہوئے ہو۔ پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ قدرت کا قانون تمھارے ساتھ اس سے مختلف معاملہ کرے جو اس نے ان کے ساتھ کیا۔ ان کے جرائم کی بنا پر خدا نے ان کو ہلاک کر کے ان جگہ تم کو بخشی، انہی جرائم کے مرتکب تم ہوئے تو خدا تم کو دندناتے پھرنے کے لیے کیوں چھوڑے رکھے گا، خدا کا قانون تو سب کے لیے ایک ہی ہے۔
انعام کے بعد اعراف، انعام کی مثنیٰ سورہ ہے۔ اس میں دعوت کے بجائے انذار کا پہلو غالب ہے۔ اس میں صاف صاف قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو بس سمجھ لو کہ اب تم خدا کے عذاب کی زد میں ہو۔ اس میں پہلے ان کی فرد قرار داد جرم کی طرف اجمالاً اشارہ کیا، اس کے بعد تفصیل کے ساتھ ان تمام پچھلی قوموں کی تاریخ سنائی جو اس ملک میں اقتدار پر آئیں اور پھر یکے بعد دیگرے اسی جرم میں کیفر کردار کو پہنچیں جس کے مرتکب قریش ہوئے۔ یہ تفصیل گویا انعام کی آخری آیت کے اجمام کی تفصیل ہے۔ اسی کے ساتھ یہود کو بھی لے لیا ہے اور ان کو بھی بالکل آخر تنبیہ فرمائی ہے۔ آخر میں عہد فطرت کو، جو تمام ذریت آدم سے لیا گیا ہے، بنیاد قرار دے کر انذار کے مضمون کو اس کے آخری نتائج تک پہنچا دیا ہے جس کے بعد برأت، ہجرت اور اعلان جنگ یا نزول عذاب کے مراحل سامنے آجاتے ہیں۔
اب ہم سورہ کے مطالب کا تجزیہ پیش کرتے ہیں تاکہ پوری سورہ بیک نظر نگاہ کے سامنے آجائے۔
ب۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
(1۔9) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی کہ اس کتاب الٰہی سے متعلق تمھاری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہوشیار کر دو تاکہ ان پر اللہ کی حجت تمام ہو جائے۔ تم پر یہ ذمہ داری نہیں کہ لوگ اس کو قبول بھی کرلیں۔ اس سے فائدہ صرف اہل ایمان ہی اٹھائیں گے۔ قریش کو تنبیہ کہ اس کتاب کو قبول کرو ورنہ یاد رکھو کہ تم سے پہلے کتنی قومیں رسولوں کی تکذیب کے جرم میں ہلاک ہو چکی ہیں اور جب خدا کا عذاب ان پر آیا تو اس کے مقابل میں وہ کوئی بند نہ باندھ سکیں بلکہ انھوں نے خود اپنے جرم کا اقرار کیا اور عذاب الٰہی کی پکڑ میں آگئیں۔ پھر تم پر ایک ایسا دن لازماً آنے والا ہے جس میں تم سے تمھاری ذمہ داریوں کے بابت پرسش ہونی ہے اور رسول سے اس کی ذمہ داری کے بابت۔ اس دن سارا کچا چٹھا ہم سب کے سامنے رکھ دیں گے۔ اس دن جو میزان عدل نصب ہو گی وہ ہر ایک کے اعمال تول کر بتا دے گی کہ کس کے پاس کتنا حق ہے، کتنا باطل اس دن فلاح صرف وہی پائیں گے جن کے پلڑے بھاری ہوں گے۔ باقی سب نامراد ہوں گے۔
(10۔25)قریش کو تنبیہ کہ اس ملک میں تمھیں جو اقتدار حاصل ہوا، خدا ہی کا بخشا ہوا ہے۔ اسی نے تمھارے لیے معاش و معیشت کی راہیں فراخ کیں۔ لیکن شیطان نے تم پر حاوی ہو کر تم کو ناشکری کی راہ پر ڈال دیا۔ آدمؑ اور ابلیس کے ماجرے کاحوالہ جس سے یہ واضح ہو تا ہے کہ شیطان نے ذریت آدم کو جو دھمکی دی تھی کہ وہ ان کو اپنی چالوں سے گمراہ کر کے چھوڑے گا، ان کی اکثریت خدا کی نافرمان و ناشکری بن جائے گی، اس نے اپنی وہ دھمکی تمھارے اوپر سچ کر دکھائی۔ جس طرح اس نے آدم و حوا کو دھوکا دے کر جنت سے نکلوایا اسی طرح اس نے اپنا فریب تم پر چلایا ہے تو تم شیطان کے چکموں میں آکر اس کی امیدیں بر آنے کے سامان نہ کرو۔
(26۔30)یہ تذکیر کہ تم نے آدمؑ کی اولاد ہو کر شیطان کی اس دشمنی کو یاد نہ رکھا جو اس نے تمھارے باپ کے ساتھ کی۔ اس نے انھیں فتنے میں ڈالا اور حلّہ جنت سے محروم کر کے جنت سے نکلوایا۔ وہی کھیل وہ تمھارے ساتھ کھیلا ہے۔ خدا نے تم کو ظاہر و باطن کے جس لباس سے مزین کرنا چاہا شیطان کی اطاعت میں تم نے وہ دونوں جامے اتار پھینکے۔ تقویٰ کا لباس بھی جو باطن کی زینت ہے، اتار کر پھینک دیا اور ظاہر کا لباس بھی اتار دیا۔ چنانچہ عین حرم الٰہی میں، اس نے تمھیں عریاں طواف پر ورغلایا اور تم اس بے حیائی کو نہ صرف باپ دادا کی وراثت سمجھتے ہو بلکہ یہ دعویٰ کرتے ہو کہ اس کا حکم تمھیں خدا نے دیا ہے۔ سوچو کہ خدا یسی بے حیائی کا حکم کس طرح دے سکتا ہے؟ خدا نے تو ہر باب میں صرف حق و عدل کا حکم دیا ہے، صرف اپنی عبادت کا حکم دیا ہے، توحید کا حکم دیا ہے۔ تم نے شیطان کی پیروی میں اپنے آپ کو فتنوں میں مبتلا کیا اور دعویٰ کرتے ہو کہ یہی راہ ہدایت کی راہ ہے۔ صرف تھوڑے سے لوگ اس فتنہ سے محفوظ رہ سکے۔
(31۔34) قریش کو تنبیہ کہ اپنے جی سے تم نے یہ جو حرام و حلال بنا رکھا ہے اس کی کوئی بنیاد نہیں ۔ خدا نے نہ تو زینت حرام کی ہے اور نہ کھانے پینے کی چیزیں حرام کی ہیں۔ یہ دنیا میں بھی اہل ایمان کے لیے مباح ہیں اور آخرت میں تووہ ان کے بلاشرکت غیر حق دار ہوں گے ہی۔ خدا نے حرام بے حیائی کو ٹھہرایا ہے خواہ ظاہری ہو یا باطنی، حق تلفی اور سرکشی کو حرام ٹھہرایا ہے جن کا کوئی جواز نہیں، شرک کو ٹھہرایا ہے جس کے حق میں کوئی دلیل نہیں اور اللہ کے اوپر افترا کو حرام ٹھہرایا ہے۔ لیکن تم ان ساری ہی باتوں کے مرتکب ہو رہے ہو۔ اگر اس کے باوجود تمھیں مہلت مل رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کے ہاں ہر امت کی تباہی کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔
(35۔43) اس امر کی یاددہانی کہ ذریت آدمؑ کو ابتدا ہی میں یہ ہدایت کر دی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ اپنے احکام سے آگاہ کرنے کے لیے اپنے رسول بھیجے گا تو جو لوگ ان رسولوں کی پیروی کریں گے وہ جنت حاصل کریں گے، جو ان کو جھٹلائیں گے وہ دوزخ میں پڑیں گے۔ یہ دوزخ میں پڑنے والے سب ایک دوسرے کے اوپر لعنت بھیجیں گے اور ان کو کسی طرح دوزخ سے نکلنا نصیب نہ ہو گا۔ بس دوزخ کی آگ ہی ان کا اوڑھنا بچھونا بنے گی۔ البتہ جو اہل ایمان ہوں گے وہ جنت حاصل کریں گے اور وہ باہمدگر ایک دوسرے کی ملاقات سے مسرور اور اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں پر شکرگزار ہوں گے۔ وہ اعتراف کریں گے کہ یہ ہمیں جو کچھ خدانے بخشا اپنے رسولوں کی پیروی کے طفیل بخشا۔ رسولوں نے جو کچھ فرمایا سب حرف حرف سچ ثابت ہوا۔
(44۔53) اہل جنت کا اہل دوزخ سے خطاب کہ ہم سے تو ہمارے رب نے جو وعدے فرمائے تھے وہ سب حرف بحرف پورئے ہوئے، تم بتاؤ کہ تم نے بھی وہ سب کچھ دیکھ لیا یا نہیں جس سے تمھیں آگاہ کیا گیا تھا؟ اہل دوزخ پر خدا کی طرف سے لعنت کا اعلان۔ اس امر کا بیان کہ مقام اَعراف سے اہل ایمان کے ایک گروہ کو دوزخ اور جنت دونوں کا مشاہدہ کرایا جائے گا تاکہ وہ دیکھ لیں کہ خدا نے رسولوں کے ذریعے سے جن باتوں کی خبر دی تھی وہ سب پوری ہوئیں۔ اصحاب اعراف کی طرف سے اہل جنت کو مبارک باد اور اہل دوزخ کو ملامت۔ اہل دوزخ کی اہل جنت سے فریاد کہ وہ ان پر کچھ کرم کریں۔ اہل جنت کی طرف سے جو اب کہ جنت کی نعمتیں کفار پر حرام ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اعلان کہ جنھوں نے دنیامیں خدا کی باتوں کو نظرانداز کای آج خدا نے ان کو نظرانداز کر دیا ہے۔ کفار کی طرف سے اپنی محرومی و بدبختی پر اظہار حسرت۔
(54۔58) کفار قریش کو تنبیہ کہ خلق و امر سب خد اہی کے اختیار میں ہے تو امید و بیم ہر حالت میں اسی کو پکارو۔ زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ برپا کرو۔ قیامت شدنی ہے۔ موت کے بعد زندگی کا مشاہدہ تم اس کائنات میں برابر کر رہے ہو۔ خدا نے ہر پہلو سے اپنی آیات واضح فرما دی ہیں۔
(59۔93) قوم نوحؑ ، قوم ہودؑ ، قوم صالحؑ ، قوم لوطؑ ، قوم شعیبؑ کی سرگزشتیں، جو اس بات کا تاریخی ثبوت ہیں کہ جو قومیں فساد فی الارض کی مرتکب ہوتی اور اپنے رسول کی دعوت اصلاح کی تکذیب کر دیتی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو صفحہ ارض سے مٹا دیتا ہے۔
(94۔102) مذکورہ بالا سرگزشتوں پر ایک اجمالی تبصرہ۔ قوموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ جو معاملہ کرتا ہے اس کے بعض بنیادی اصول اور بعض حکمتیں اور عبرتیں۔ قریش کو یہ تنبیہ کہ انہی کے خلف تم ہر تو اگر تم دیدۂ عبرت سے دیکھتے تو تمھارے اپنے ملک کی تاریخ میں تمھارے لیے کافی سامان بصیرت موجود ہے لیکن جس طرح ان قوموں کے دلوں پر اللہ کی مہر لگی گئی تھی اسی طرح تمھارے دلوں پر بھی اللہ کی مہر لگ چکی ہے۔
(103۔136) حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کی سرگزشت جس سے واضح ہوتا ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ کو شکست دینے کے لیے تمام ہتھکنڈے، جو اس کے امکان میں تھے، استعمال کیے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بامراد کیا اور فرعون کو، تمام اسباب و وسائل کے علی الرغم، شکست دی۔ مفسدین کا بیڑا غرق ہوا اورجو جماعت مظلوم و مقہور تھی خدا نے اس کو، اس کی استقامت کی بدولت، زمین میں اقتدار بخشا۔
(137۔171) بنی اسرائیل کی تاریخ کے تمام ادوار پر ایک جامع تبصرہ جس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہمیشہ بڑے بڑے کرم فرمائے لیکن انھوں نے شروع سے لے کر اب تک ہمیشہ خدا کے انعامات کی ناقدری کی اور کسی تذکیر و تنبیہ سے بھی کوئی پائدار فائدہ نہیں اٹھایا اور اب بھی ان کی روش وہی ہے چنانچہ جس حق کی علمبرداری کی ذمہ داری ان پر ڈالی گئی تھی وہ اس کی مخالفت میں پیش پیش ہیں حالانکہ یہ موقع ان کے لیے آخری موقع ہے جس کو ضائع کر دینے کے بعد ان کے لیے دائمی ذلت کے سوا اور کوئی چیز باقی نہیں رہ جائے گی۔
(172۔206) خاتمۂ سورہ جس میں قریش کو عہد فطرت کی یاددہانی کی گئی ہے اور بنی اسرائیل کے حالات سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ پھر ان کو عذاب الٰہی کی دھمکی دی گئی ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ جب اللہ کی پکڑ میں آجاؤ گے تو تمھارے یہ اولیا و اصنام جو تم نے گھڑ رکھے ہیں کچھ کام نہیں آئیں گے۔ آخر میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر، اعراض اور ہر آن یاد الٰہی کے ساتھ وابستہ رہنے کی ہدایت۔
8 الانفال (The Spoils of War)
75 verses | مدنی
سورہ کا عمود
سورۂ انفال دوسرے گروپ کی تیسری سورہ ہے۔ یہ مدنی ہے۔ اس میں مسلمانوں کو تقویٰ، باہمی اخوت و ہمدردی اور اللہ و رسول کی اطاعت کی اساس پر منظم اور جہاد کے لیے تیار ہونے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ اس ملت ابراہیمیؑ اور مرکز ملت ابراہیمیؑ ۔ بیت اللہ ۔ کی امانت و تولیت کے اہل ہو سکیں جو اب قریش کی جگہ ان کی تحویل میں دی جانے والی ہے۔
پچھلی دونوں سورتوں ۔۔۔ انعام اور اعراف ۔۔۔ میں آپ نے دیکھا کہ قریش کو عقائد، اعمال اور اخلاق، ہر پہلو سے اس امانت کے لیے نااہل ثابت کر دیا ہے۔ اب اس سورہ میں مسلمانوں کی تطہیر و تنظیم، ان کی اصلاح اور تزکیہ کی طرف توجہ فرمائی ہے۔ اس کا آغاز اس طرح ہوا ہے کہ غزوۂ بدر کے دوران میں بعض کمزور مسلمانوں کی طرف سے جو کمزوریاں، اللہ و رسول کی اطاعت اور ایمان و توکل کے منافی، صادر ہوئی تھیں، ان پر پہلے گرفت فرمائی ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو ان کمزوریوں سے پاک کریں۔ پھر ان غیبی تائیدات کی طرف اشارہ فرمایا جو غزوۂ بدر کے دوران میں ظاہر ہوئیں تاکہ مسلمانوں کا اعتماد اللہ پرمضبوط ہو اورجو لوگ ابھی پوری طرح یکسو نہیں ہوئے ہیں وہ یکسو ہر کر آگے کے مراحل کے تقاضے پورے کرنے کے اہل ہو سکیں۔ پھر مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں جہاد پر ابھارا ہے اور یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر انھوں نے کمزوری نہ دکھائی تو جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ حریف کی سازشوں کے سارے تار و پود بکھر جائیں گے۔ بیچ بیچ میں قریش کو بھی تنبیہ فرمائی ہے کہ بدر کے واقعہ میں تمہارے لیے بڑا سبق ہے، تمہارے لیے اب بہتر یہی ہے کہ اس سے فائدہ اٹھاؤ ورنہ یاد رکھو کہ اگر تم نے مزید کوئی شرارت کی تو پھر منہ کی کھاؤ گے، اب تک تمہارے ساتھ جو رعایت ہوئی ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ رسولؐ تمہارے اندر موجود تھا۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جب تک رسولؐ قوم کے اندر موجود رہتا ہے اس وقت تک قوم پر عذاب نہیں آتا لیکن اب جب کہ ر سول تمہارے اندر سے ہجرت کر چکا ہے، تمہاری امان اٹھ چکی ہے اور تم ہر وقت عذاب الٰہی کی زد میں ہو۔ تمہارا یہ غرہ بالکل بے جا ہے کہ تم بیت اللہ کے متولی اور مجاور ہو، بیت اللہ کے متولی ہونے کے اہل تم نہیں ہو، تم نے ابراہیمؑ کے بنائے ہوئے اس گھر کا مقصد بالکل برباد کر کے رکھ دیا اور اس کی حرمت کو بٹہ لگایا، تم جس نماز اور عبادت کے مدعی ہو یہ نماز عبادت نہیں بلکہ محض مذاق ہے، تمہارے لیے سلامتی کی راہ یہ ہے کہ تم توبہ اور اصلاح کی روش اختیار کرو ورنہ یاد رکھو کہ اب اس حرم کی سرزمین پر نہ اہل ایمان پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کا کوئی موقع باقی چھوڑا جائے گا اور نہ اللہ کے دین کے سوا یہاں کوئی اور دین باقی رہنے دیا جائے گا۔
آگے بدر کے واقعات ہی کی روشنی میں مسلمانوں کی حوصلہ افزائی اور کفار کو تنبیہ کرتے ہوئے بات ان اعتراضات کے جواب تک پہنچ گئی ہے جو قریش نے بدر میں شکست کھانے کے بعد لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بدگمان کرنے کے لیے اٹھائے۔ بدر سے پہلے تک تو وہ مسلمانوں کی کمزوری و مجبوری کو اسلام کے خلاف دلیل کے طورپر پیش کرتے تھے لیکن بدر میں انہی کمزور مسلمانوں کے ہاتھوں جب پٹ گئے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پیغمبر کس طرح ہو سکتے ہیں، بھلا پیغمبر کا کہیں یہ کام ہوتا ہے کہ اپنی ہی قوم کو باہم لڑا دے۔ اپنے ہی بھائیوں کو قتل کرائے، پھر ان کو قید کرے، ان سے فدیہ وصول کرے اور ان کامال و اسباب غنیمت بنا کر کھائے اور کھلائے؟ اس اعتراض سے بھی کمزور قسم کے لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا ہو سکتے تھے اس وجہ سے قرآن نے ان کو بھی صاف کیا اور آخر میں انصار اور مہاجرین کو باہمی اخوت کی تعلیم و تلقین فرمائی کہ دونوں مل کر کفر کے مقابلہ میں بنیان مرصوص بن کر کھڑے ہوں۔
اگرچہ سورہ کا نظام سمجھنے کے لیے یہ اجمالی نظر بھی کافی ہے لیکن ہم مزید وضاحت کے لیے سورہ کے مطالب کا تجزیہ بھی کیے دیتے ہیں۔
ب ۔سورہ کے مطالب کا تجزیہ
(1۔4) مال غنیمت کی تقسیم سے متعلق بعض کمزور قسم کے مسلمانوں کی طرف سے معترضانہ نوعیت کے سوال کا حوالہ اور اس کا اجمالی جواب۔ اس اعتراض کو پیش نظر رکھ کر مسلمانوں کو اس امر کی ہدایت کہ اگر تم سچے مومن ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو، اپنے آپس کے تعلقات رشک و رقابت سے پاک رکھو، اللہ و رسول کی ہر مرحلے میں اطاعت کرو۔ سچے اور پکے اہل ایمان کی خصوصیات کا بالاجمال حوالہ اور ان کے لیے اللہ کے ہاں اجر عظیم کا وعدہ۔
(5۔8) کمزور قسم کے مسلمانوں کی ایک اور کمزوری کی طرف اشارہ جو جنگ بدر کے لیے نکلتے ہوئے ان سے صادر ہوئی کہ باوجودیکہ ان پر یہ بات واضح تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نکلنا قریش کی اس فوج سے مقابلہ کے لیے ہے جو تجارتی قافلہ کی حفاظت کا بہانہ بنا کر مدینہ پر حملہ کرنا چاہتی ہے لیکن وہ فوج کے مقابلہ سے ڈرتے رہے اور انھوں نے پورا زور اس بات پر لگایا کہ آنحضرتؐ تجارتی قافلہ کا رخ کریں تاکہ بغیر کسی خطرے کے لقمۂ تر ہاتھ آئے حالانکہ اللہ و رسول کا منشا یہ تھا کہ حق کا بول بالا ہو اور باطل کا زور ٹوٹے جو اسی صورت میں متصور تھا جب قریش کی عسکری قوت مجروح ہو نہ کہ ایک غیر مسلح تجارتی قافلہ۔
(9۔14) مسلمانوں کی تقویت اور حوصلہ افزائی کے لیے ان غیبی تائیدات کا حوالہ جو بدر کے موقع پر ظاہر ہوئیں۔ مسلمانوں کی دعا کے جواب میں بروقت ہزار فرشتوں کی مدد کا وعدہ۔ برسرموقع میدان جنگ میں اطمینان کی نیند اور بارش کے نزول سے مساعد حالات کا ظہور۔ امدادی فرشتوں کو یہ ہدایت خداوندی کہ مسلمانوں کا حوصلہ بحال رکھو، کفار کو مرعوب کر دو اور ان کے پرخچے اڑا دو۔
(15۔18) مذکورہ تائیدات غیبی کی روشنی میں مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ کفار سے جب مقابلہ ہو تو کبھی پیٹھ نہ دکھاؤ، منظم فوج کشی کی صورت میں پیٹھ دکھانے والے خدا کے غضب اور جہنم کے عذاب کے سزاوار ٹھہریں گے۔ مسلمان جب خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو صرف وہی نہیں لڑتے بلکہ ان کی طرف سے خدا بھی لڑتا ہے اور اہل ایمان کے لیے جوہر دکھانے کے مواقع فراہم کرتا ہے، بدر میں اس حقیقت کا مشاہدہ تم کر چکے ہو۔ اور یہ جو کچھ ہوا ہے اس پر بس نہ سمجھو، آئندہ اللہ ان کفار کی ساری چالیں بے کار کر دے گا۔
(19) قریش کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے برسر موقع تنبیہ کہ تم کہتے تھے کہ اس جنگ میں جو کو فتح حاصل ہو گی وہ برسر حق سمجھا جائے گا تو دیکھ لو فتح ظاہر ہو گئی۔ اب بہتر ہے کہ کسی مزید شرارت کی جرأت نہ کرو۔ اگر تم باز نہ آئے، پھر شرارت کی تو یاد رکھو ہم کہیں چلے نہیں گئے ہیں، ہم بھی اپنی شان پھر دکھائیں گے اور یہ اچھی طرح یاد رکھو کہ تمہارے لاؤ لشکر کی کثرت کچھ کام نہ آئے گی، مسلمانوں کے پہلو پر ہم ہیں۔
(20۔23) مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ پوری وفاداری کے ساتھ اللہ و رسول کی اطاعت کرو، رسول کی عین موجودگی میں اس سے انحراف نہ اختیار کرو۔ یہ روش ان یہود کی ہے جو کہتے تھے کہ ہم نے مانا لکن مانتے نہیں تھے۔ اللہ کے نزدیک سب سے بدترجانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو سوچنے سمجھنے سے عاری ہیں۔ انہی لوگوں پر کارگر ہوتی ہے جو اپنے اندر اثرپذیری اور قبول حق کی صلاحیت زندہ رکھتے ہیں۔
(24۔26) مسلمانوں کو تنبیہ کہ رسول کی دعوت تمہارے لیے روح و قلب کی زندگی کی دعوت ہے تو ا س دعوت کی قدر کرو اور اس پر لبیک کہو۔ اگر تم نے کمزوری دکھائی اور تذبذب کے شکار رہے تو یاد رکھو کہ آدمی اور اس کی قوت ارادی کے درمیان سنت الٰہی حائل ہوجاتی ہے۔ پھر وہ خیر کی توفیق سے محروم ہوجاتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں جو خرابیاں کچھ مخصوص لوگوں کی طرف سے ظاہر ہوتی ہیں اگر دوسرے ان کی اصلاح کی کوشش نہ کریں تو ان کے برے نتائج کی لپیٹ میں اچھے برے سب آجاتے ہیں۔ اسلام کے مستقبل کی طرف سے کسی تذبذب اور اندیشے میں مبتلا نہ ہو۔ تم اس ملک میں تھوڑے تھے۔ خدا نے تمہیں زیادہ کیا اور اپنی تائید و نصرت سے تمہیں نوازا۔ اسی خدا پر بھروسہ رکھو وہ آگے کے مراحل میں بھی تمہارا کارساز ہے۔
(27۔29) کمزور قسم کے مسلمانوں کو تنبیہ کہ اللہ اور رسول سے عہد اطاعت و وفاداری کر چکنے کے بعد بے وفائی نہ کرو۔ مال و اولاد کی محبت اللہ و رسول کی محبت کے تقاضوں میں مانع نہ ہو۔ یہ چیزیں فتنہ ہیں۔ ان فتنوں میں پڑ کر اس اجر عظیم کو ضائع نہ کرو جو اللہ کے پاس اس کے وفادار بندوں کے لیے محفوظ ہے۔ جولوگ محبت دنیا کو اپنے اوپر غالب نہ ہونے دیں گے اللہ ان کے آگے سے باطل کے تمام حجابات چاک کر دے گا اور ان کو اپنی مغفرت سے نوازے گا۔
(30۔37) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے ان تائیدات ربانی کی یاددہانی جو قریش کی مسلسل سازشوں کے مقابل میں ظاہر ہوئیں اور جن سے ان کے تمام منصوبے خاک میں مل گئے، ان کی ساری چالیں شکست کھا گئیں اور خدا کی تدبیر غالب رہی۔ وہ قرآن کو اگلوں کا فسانہ کہتے تھے لیکن اس کا انذار ان کے لیے واقعہ ثابت ہوا۔ وہ مطالبہ کر رہے تھے کہ اگر تم پیغمبر برحق ہو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسیں یا کوئی اور عذاب آئے تو ہم مانیں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے ان پر عذاب نہیں بھیجا کہ تم ان کے اندر موجود تھے لیکن اب جب کہ تم ان کے اندر سے نکل چکے ہو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ عذاب سے محفوظ رہیں۔ وہ اپنے آپ کو مسجد حرام کا متولی سمجھتے ہیں لیکن وہ اس کے متولی کہاں سے ہوئے؟ اس کے متولی تو صرف خدا سے ڈرنے والے بندے ہی ہو سکتے ہیں۔ ان مدعیوں کو اللہ کے اس گھر کی اصل تاریخ اور اس کے مقاصد تعمیر کا کوئی غلم نہیں، تالی پیٹنا اور سیٹی بجانا ان کی نماز ہے، بھلا اس مسخرا پن کو نماز ابراہیمی سے کیا علاقہ؟ یہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنے اور اسلام کو شکست دینے کے لیے بڑی دلیری سے جو اپنے مال خرچ کر رہے ہیں اس کا کچھ حاصل نہیں۔ یہ سارا خرچ ان کے لیے موجب حسرت و اندوہ بنے گا۔ اب ان کے آگے صرف جہنم ہے۔ خدا اس سارے ذخیرۂ خبیث کو اکٹھا کر کے دوزخ کی آگ میں جھونک دے گا۔
(38۔40) کفار قریش کو تنبیہ کہ اگر وہ اپنی شرارتوں سے باز آجائیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ اگر انھوں نے اپنے رویے کی اصلاح کر لی تو ان کی پچھلی غلطیاں معاف کر دی جائیں گی اور اگر وہ باز نہ آئے تو یاد رکھیں کہ ان کا بھی وہی حشر ہونا ہے جو ان سے پہلے انبیاء کو جھٹلانے والی قوموں کا ہو چکا ہے۔ مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ ان سے جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ کمزور مسلمانوں پر ان کے جبر و ظلم کا خاتمہ ہو جائے اور اس سرزمین پر اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین باقی نہ رہ جائے۔ اگر یہ باز آگئے تو ان کے لیے بہتر ہے، اگر باز نہ آئے تو خدا تمہارا مددگار ہے اور وہ بہترین مدد گار ہے۔
(41۔44) مال غنیمت کی تقسیم سے متعلق سوال مذکورہ آیت 1کا تفصیلی جواب اور مسلمانوں کو یہ تنبیہ کہ اس تقسیم کو خوش دلی سے قبول کریں۔ اللہ و رسول کے فیصلہ پر راضی رہنا ہی سچے ایمان کی علامت اور اس کا تقاضا ہے۔ یہ یاد رکھو کہ بدر کے دن تمہیں جو کامیابی حاصل ہوئی یہ تمہاری اپنی تدبیر اور تمہارے اپنے تدبر کا کرشمہ نہیں تھی بلکہ یہ ساری اسکیم اللہ کی بنائی ہوئی تھی۔ یہ اسی کی کارسازی تھی اور اس نے ٹھیک اس وقت تمہاری فوج کو اس وادی کے ایک سرے پر پہنچا دیا جس کے دوسرے سرے پر دشمن کی فوجیں پہنچ چکی تھیں۔ اگر تم ایک دوسرے کو الٹی میٹم دے کر نکلے تو تمہارا یہ عین وقت پر دشمن کے مقابلہ کے لیے پہنچ جانا ممکن نہ تھا۔ یہ اللہ کی اسکیم تھی جو پوری ہوئی۔ اس نے یہ چاہا کہ تمہارے اور قریش کے درمیان ایک ایسا معرکہ ہو جائے جو حق و باطل کے درمیان ایک امتیاز پیدا کر دے تاکہ اس کے بعد جو کفر پر جمے رہنا چاہیں ان پر حجت قائم ہو جائے اور جو اسلام کو اختیار کریں ان کو ایک روشن دلیل مل جائے۔ یہی رمز تھا کہ خدا نے کفار کی فوج کو پیغمبر کی رویا میں کم دکھایا تاکہ مسلمانوں میں ہراس نہ پیدا ہو اور وہ ان سے ٹکر لینے کے لیے پرحوصلہ رہیں اور پھر یہی رمز تھا کہ جب تمہاری اور ان کی فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو تمہاری نگاہوں میں خدا نے ان کو حقیر دکھایا اور ان کی نگاہوں میں تم کو کم دکھایاتاکہ ٹکر لینے سے کوئی بھی نہ جھجکے اور وہ معرکہ واقع ہو ہی جائے جو حق و باطل کے درمیان ایک فرق بنا کر نمایاں ہو۔ یاد رکھو کہ سارے معاملات کا سررشتہ خدا ہی کے ہاتھ میں ہے۔
(45۔46) مسلمانوں کو آئندہ کے لیے نصیحت کہ بدر کی اس جنگ میں تم نے دیکھ لیا کہ اصل کارساز خدا ہے تو جب کفار کے کسی گروہ سے تمہاری ٹکر ہوجائے تو پورے جماؤ اور پوری ثابت قدمی سے لڑو اور اپنے مرجع حقیقی خدا کو زیادہ سے زیادہ یاد کرو۔ یہی فلاح کا راستہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی پوری اطاعت کرو۔ کسی امر میں اختلاف نہ کرو ورنہ ہزیمت اٹھاؤ گے اور تمہاری ہوا کھڑ جائے گی۔ دوسری چیز جو اطاعت کے ساتھ مطلوب ہے وہ ثابت قدمی اور پامردی ہے۔ خدا نہی کے ساتھ ہوتا ہے جو اس کی راہ میں ثابت قدمی دکھاتے ہیں۔
(47۔49) ان کفار کی روش سے بچتے رہنے کی ہدایت جو اکڑتے، اتراتے اور اپنے کروفر کی نمائش کرتے ہوئے میدان جنگ میں اترے تھے اور مقصود جن کا لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنا تھا، ان لوگوں کو پتہ نہیں کہ خدا کے آگے کسی کی پیش نہیں جاتی، سب کا زور و زراور سب کا کروفر اس کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ ان لوگوں کو شیطان نے پٹی پڑھائی تھی کہ آج تمہارا کوئی مدمقابل نہیں اور میں تمہارا ساتھی ہوں لیکن جب اس نے میدان جنگ کا نقشہ دیکھا تو اپنی روایت کے مطابق دم دبا کر بھاگا کہ میں تو اللہ رب العٰلمین سے ڈرتا ہوں (یہاں ایک لطیف تعریض یہود کی طرف بھی ہے، تفسیر میں اس کی وضاحت آگے آئے گی) منافقین اور حاسدوں کے اس طعنہ کا جواب جو وہ مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کے لیے دیتے تھے کہ ان کو ان کے دین کے غرے نے نتائج و عواقب سے بے پروا کر دیا ہے، یہ ہاتھیوں سے گنے کھانے چلے ہیں۔ ان منافقین کو پتا نہیں تھا کہ خدا کا بھروسہ بڑی چیز ہے، خدا عزیز و حکیم ہے۔
(50۔54) قریش کو تہدید کہ یہ بدر میں جو کچھ پیش آیا ہے یہ تو محض نقد عاجل ہے، مرنے کے بعد جو کچھ تمہارے سامنے آنے والا ہے وہ بڑی ہی سخت چیز ہے اور یہ جو کچھ ہوا ہے یا جو کچھ ہو گا یہ تم پر کوئی ظلم نہیں ہے بلکہ تمہارے اعمال کا قدرتی نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ اپنے رویے کو نہیں بدلتا جب تک وہ قوم اپنا رویہ نہ بدل لے۔ تم سے پہلے قوم فرعون اور دوسری قوموں کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے یہی معاملہ کیا۔ جب انھوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی خدا نے ان کو تنبیہ کی۔ پھر جب اس تنبیہ کے بعد بھی وہ سرکشی سے باز نہ آئے تو خدا نے ان کو اپنے عذاب میں دھر لیا اور وہ فنا کر دیے گئے۔ اسی طرح بدر کا واقعہ تمہارے لیے ایک تنبیہ ہے۔ اگر اس سے تم نے سبق نہ لیا تو تمہارے سامنے بھی وہی انجام آجائے گا جو فرعون اور اس کی قوم کے سامنے آیا۔
(55۔62) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کہ جن گروہوں نے تم سے معاہدہ کر رکھا ہے لیکن وہ اس کا احترام نہیں کر رہے ہیں بلکہ جب کوئی موقع ان کو ہاتھ آجاتا ہے معاہدے کو توڑ دیتے ہیں، ان کے ساتھ ذرا رعایت نہ کرو۔ اگر کسی جنگ میں وہ تمہارے مقابل میں آجائیں تو ان کو ایسا سبق دو کہ جو ان کی پشت پنائی کر رہے ہیں ان کے بھی ہوش درست ہو جائیں۔ یہ لوگ تمہارے قابو سے باہر نہیں نکل سکتے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے مقدور بھر اپنی فوجی قوت بڑھائیں تاکہ اللہ کے اور اپنے ان دشمنوں کو مرعوب رکھ سکیں جن میں سے بعض ظاہر ہیں اور بعض ابھی پس پردہ ہیں۔ مسلمان اس مقصد کے لیے جو بھی خرچ کریں گے خدا کے ہاں سب پورا کر دیا جائے گا، کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ ہاں اگر یہ صلح کے خواہشمند ہوں تو تم بھی صلح سے گریز نہ کرو۔ اللہ پر بھروسا کر کے ان سے صلح کر لو۔ اگر اس مصلحت سے ان کا مقصد تم کو دھوکا دینا ہو تو تمہارے لیے وہ اللہ کافی ہے جس نے اپنی تائید خاص اور مسلمانوں کے ذریعے سے تمہاری مدد فرمائی۔ یہ اللہ ہی کافضل ہوا ہے کہ اس نے اہل ایمان کے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا ہے ورنہ یہ کام تو دنیا جہان کی دولت بھی تم لٹا دیتے جب بھی ہونا ممکن نہیں تھا۔
(63۔65) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطمینان دہانی کہ تم اپنے ساتھیوں کی افرادی قوت کی کمی سے کسی پریشانی میں مبتلا نہ ہو، تمہارے لیے اللہ اور مومنین کی یہی مختصر سی جماعت کافی ہے۔ تم انہی مسلمانوں کو جہاد پر ابھارو۔ تمہارے بیس ثابت قدم جانباز کفار کے دو سو آدمیوں پر بھاری رہیں گے اور تمہارے سو مجاہد حریف کے ایک ہزار کے لشکر کو شکست دیں گے۔ جنگ، عزم و ایمان سے لڑی جاتی ہے۔ ان ناسمجھ کفار کے اندر یہ جوہر کہاں؟
(66) ایک آیت تخفیف جو بعد میں اس زمانہ میں نازل ہوئی جب لوگا اسلام کے اندر فوج در فوج داخل ہونے لگے۔ چونکہ ان مسلمانوں کے اندر وہ پختہ کاری نہیں تھی جو سابقون الاولون کے اندر تھی۔ اس وجہ سے وہ عددی نسبت گھٹا دی گئی جوا وپر والی آیت میں مذکور ہوئی۔ اب نسبت صرف ایک اور دو کی رہ گئی۔ وضاحت آیت کی تفسیر کے تحت آئے گی۔
(67۔69) کفار کے اس طعنہ کا جواب جو بدر میں شکست کھانے کے بعد انھوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کہ بھلا یہ پیغمبر کس طرح ہو سکتے ہیں، پیغمبر کا کہیں یہ کام ہوتا ہے کہ وہ اپنی ہی قوم سے جنگ کرے، اس کا خون بہائے، اس کے اندر سے قیدی پکڑے، ان سے فدیہ وصول کرے، اور قوم کے مال کو مال غنیمت قرار دے کرا پنے ساتھیوں میں تقسیم کرے اور کھائے کھلائے؟ اس طعنہ سے ان کا مقصود بدر میں مسلمانوں کی فتح کے ان اثرات کو مٹانا تھا جو قدرتی طور پر عام لوگوں کے دلوں پر پڑتے نظر آئے۔ چونکہ قریش کے لیڈروں نے خود اس جنگ کو حق و باطل کے درمیان امتیاز کی کسوٹی بنا دیا تھا، اس وجہ سے انھیں بدر میں منہ کی کھانے کے بعد اپنے پروپیگنڈے کا رخ بدل دینا پڑا۔ اب انھوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ نعوذ باللہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اقتدار اور حکومت کے خواہاں ہیں۔ اور اس مقصد کی خاطر انھوں نے اپنی ہی قوم کو آپس میں ٹکرا دیا ہے جو ایک پیغمبر کا کام کبھی نہیں ہوتا۔ قرآن نے ان کو یہ جواب دیا کہ یہ جو کچھ ہوا ہے پیغمبر کی وجہ سے نہیں ہوا ہے بلکہ اس کے باعث تم خود ہوئے ہو۔ دنیا کے طالب تم ہو۔ اللہ و رسول دنیا کے طالب نہیں ہیں۔ تم نے اسلام اور مسلمانوں کی بیخ کنی کی سازش کر کے جو اقدام کیا تھا وہ ایسا سنگین مجرمانہ اقدام تھا کہ حق تھا کہ تم پر خدا کی طرف سے عذاب عظیم آجاتا جو تمہارا فیصلہ ہی کر دیتا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے لیے جو مہلت لکھ رکھی ہے وہ تم کو ملی اور تم عذاب سے تباہ کر دیے جانے کے بجائے صرف تنبیہ کر کے چھوڑ دیے گئے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو خطاب کر کے ان کو اطمینان دلایا کہ یہ تمہارے مال غنیمت پر جو اعتراض کر رہے ہیں تم اس کی کوئی پروا نہ کرو۔ اس کو کھاؤ برتو، یہ تمہارے لیے حلال طیب ہے۔
(70) اسی سلسلہ میں بدر کے قیدیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے یہ کہلوایا کہ اگر اللہ نے ان کے دلوں میں کوئی بھلائی پائی، انھوں نے اس احسان کی قدر کی کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا تو ان کے لیے مزید بھلائی کی راہیں کھلیں گی۔ اور اگر انھوں نے بے وفائی اور بدعہدی کی اور پھر خدا سے لڑنے کے لیے نکلے تو یاد رکھیں کہ خدا ان پر پھر تم کو اسی طرح قابو دے دے گا جس طرح اس نے بدر میں ان کو تمہارے قابو میں دے دیا۔
(71۔75) مہاجرین اور انصار کے درمیان اخوت کی تاسیس۔ اس اخوت میں وہ تمام مسلمان شریک ہیں جو کفر کے علاقوں سے ہجرت کر کے اس میں آشامل ہوں۔ جومسلمان ہجرت نہ کریں، دارالاسلام کے مسلمانوں پر ان کی نصرت و حمایت کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اگر اپنے دین و ایمان کے تحفظ کے لیے وہ کسی مدد کے طالب ہوں تو ان کی مدد کی جائے بشرطیکہ یہ مدد مسلمانوں کے کسی معاہد گروہ کے خلاف یااس کے مقابل میں نہ ہو۔ اب حقوق و فرائض اور حمایت و نصرت کی ذمہ داری ایمان و ہجرت کی بنیاد پر ہو گی۔ پچھلے خاندانی اور قبائلی تعلقات کی بنیاد پر نہیں ہو گی۔ البتہ مسلمانوں کے آپس کے حقوق کی بنیاد انہی رحمی رشتوں کے تحت ہو گی جو اللہ کی کتاب میں بیان ہوئے ہیں۔
9 التوبہ (The Repentance)
129 verses | مدنی
سورہ کا عمود اور اس پر بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ
یہ سورہ، جیسا کہ گروپ کی تمہید میں ہم واضح کر چکے ہیں، سورتوں کے دوسرے گروپ کی آخری سورہ ہے۔ اس میں اور انفال میں بالکل اسی نوع کا تعلق ہے جس نوع کا تعلق متن اور شرح یا تمہید اور اصل مقصد میں ہوتاہے۔ سورۂ انفال میں مسلمانوں کو جس جہاد کے لیے ظاہراً و باطناً منظم کیا گیا ہے اس سورہ میں اس کا اعلان فرما دیا۔ مصحف کی ترتیب میں اس سورہ پر بسم اللہ نہیں لکھی ہوئی ہے اور روایات سے ثابت ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی سے چلی آرہی ہے جس سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ اس پر بسم اللہ کا نہ لکھا جانا ایمائے الٰہی سے ہوا ہے۔ علمائے تفسیر نے اس کی مختلف توجہیں کی ہیں۔ سب سے زیادہ قابل قبول توجیہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں میں عمود و مضمون کے لحاظ سے نہایت گہرا اتصال بھی ہے اور مقصد و غایت کے اعتبار سے فی الجملہ انفصال بھی۔ ایک کا رخ بالکلیہ مسلمانوں کی طرف ہے اور دوسری کا رخ اصلاً مشرکین، اہل کتاب اور منافقین کی طرف۔ ایک کی نوعیت تیاری کی ہے اور دوسری کی، جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں، الٹی میٹم اور اعلان جنگ کی۔ اشتراک و انفصال کے ان دونوں پہلوؤں کو ممیز کرنے کے لیے حکمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ یہ سورہ سابق سورہ سے بالکل الگ بھی نہ ہو لیکن فی الجملہ نمایاں اور ممتاز بھی رہے۔ بسم اللہ نہ لکھے جانے سے یہ دونوں پہلو بیک وقت نمایاں ہو گئے۔ بسم اللہ، جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں، دو سورتوں کے درمیان علامت فصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس علامت فصل کے نہ ہونے سے دونوں کا معنوی اتصال نمایاں ہو گیا اور ساتھ ہی اس کے علیحدہ وجود نے اس کو علیحدہ نام دے دیا جس سے اس کی امتیازی خصوصیت بھی سامنے آگئی۔
ب۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
اس سورہ میں مطالب کی ترتیب اس طرح ہے کہ پہلے ان تمام مشرکین سے اعلان براء ت کیا ہے جنھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے امن و صلح کے معاہدے کیے لیکن ان کی خلاف ورزیاں کر کے وہ ان کو کالعدم کر چکے تھے۔ جنھوں نے اپنے معاہدے قائم رکھے تھے ان کے متعلق یہ اعلان فرمایا کہ مدت پوری ہو جانے کے بعد یہ معاہدے بھی ختم کر دیے جائیں اور ان سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جائے جب تک یہ اسلام نہ قبول کریں۔
اس کے بعد اہل کتاب کے متعلق یہ اعلان فرمایا کہ ان سے بھی جنگ کرو تاآنکہ یہ تمہاری ماتحتی قبول کرنے اور تمہیں جزیہ ادا کرنے پر مجبور ہوں۔
اس کے بعد آخر سورہ تک بڑی تفصیل کے ساتھ منافقین کا تعاقب کیا ہے اور ان کے باب میں بھی یہ ہدایت دی ہے کہ اب ان کا سختی سے محاسبہ کیا جائے، ان کے ساتھ کوئی نرمی نہ برتی جائے تاآنکہ یہ یا تو سچے اور اچھے مسلمان بن جائیں یا پھر مشرکین اور اہل کتاب میں سے، جن کے ساتھ بھی ان کی وابستگی ہے، ان کے انجام میں یہ بھی شریک ہو جائیں۔
یہی تین گروہ اس وقت مسلمانوں کے کھلے یا چھپے دشمن تھے۔ ان تینوں کا ذکر پچھلی سورہ میں بھی آیا تھا لیکن ان کے باب میں قطعی پالیسی واضح نہیں ہوئی تھی۔ اس سورہ میں بالکل واضح ہو کر سامنے آگئی۔
اگرچہ سورہ کے نظام کو سمجھنے کے لیے یہ اجمالی نظر بھی کافی ہے تاہم سورہ کے مطالب کا تفصیلی تجزیہ بھی ہم کیے دیتے ہیں۔
(1۔4) جن مشرکین نے معاہدہ کر کے درپردہ یا علانیہ اپنے معاہدے توڑ دیے تھے ان سے براء ت ذمہ کا اعلان۔ ان کو چار مہینے کی مہلت اور مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ حج کے موقع پر یہ منادی کر دی جائے کہ اللہ تعالیٰ اور رسولؐ اب ان کے معاہدوں کی ذمہ داری سے بری ہیں۔ اگر وہ توبہ کر لیں تو ان کے حق میں بہتر ہے۔ اگر انھوں نے توبہ نہ کی تو یاد رکھیں کہ وہ خدا کے قابو سے باہر نہیں جا سکتے۔ صرف وہ مشرکین اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جنھوں نے نہ تو اپنے معاہدے کی کوئی خلاف ورزی کی ہے نہ مسلمانوں کے خلاف ان کے دشمنوں کی کوئی مدد کی ہے۔ یہ معاہدے قرار دادہ مدت تک باقی رکھے جائیں۔
(5۔6) مسلمانوں کو یہ حکم کہ محترم مہینوں کے گزرنے کے بعد ان کے خلاف جنگی کارروائی کرو۔ ان کو پکڑو، گھیرو اور مارو اور اس وقت تک ان کا پیچھا نہ چھوڑو جب تک یہ توبہ کر کے نماز نہ قائم کریں اور زکوٰۃ نہ ادا کریں۔ البتہ ان میں اگر کوئی شخص پناہ کا طالب ہو تو اس کو اتنی مہلت دو کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام سن لے اور پھر اس کو اس کے مأمن میں پہنچا دو۔ یہ رعایت ان کو اس لیے دی جائے کہ یہ امی لوگ رہے ہیں، ممکن ہے ان کو خدا کا کلام نہ پہنچا ہو۔
(7۔16) مشرکین کے ساتھ آیندہ کوئی معاہدہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے وجوہ کی تفصیل ۔۔۔ مسجد حرام کے پاس قریش سے جو معاہدہ ہوا ہے وہ بھی اسی وقت تک باقی رکھا جائے جب تک وہ اس کو نباہتے ہیں۔ اگر وہ اس کو توڑ دیتے ہیں تو تم ان ائمہ کفر سے بھی جنگ کرو۔ قریش کے بعض سنگین جرائم کی طرف اشارہ۔ مسلمانوں کو بشارت کہ تم ان سے ڈرو نہیں، لڑو، تمہارے ہاتھوں اللہ ان مظلوم مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا جو ان ظالموں کی قساوت کا ہدف بنے۔
(17۔22) مشرکین قریش کو بیت اللہ اور مساجد الٰہی پر قابض رہنے کا کوئی حق نہیں۔ مساجد الٰہی کے متولی اور منتظم وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے، نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ حاجیوں کو پانی پلا دینا اور حرم کی کچھ دیکھ بھال کر دینا نیکی کے کام سہی لیکن یہ نیکیاں اللہ اور آخرت پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کا بدل نہیں ہو سکتیں۔
(23۔28) مسلمانوں کو تنبیہ کہ ان لوگوں سے جنگ کرنے میں رشتہ و قرابت کا پاس و لحاظ مانع نہ ہو۔ جو لوگ ایمان کے تقاضوں پر ان چیزوں کو ترجیح دیں گے ان کا شمار انہی لوگوں کے ساتھ ہو گا۔ اللہ اور رسولؐ کی محبت ہر چیز پر مقدم ہے۔ جنگ حنین اور پچھلے غزوات سے مسلمانوں کو سبق کہ اصل شے خدا کی مدد و نصرت ہے، پس اصلی بھروسہ خدا ہی پر ہونا چاہیے۔ یہ اعلان کہ مشرکین نجس ہیں۔ اس وجہ سے ان کو اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس پھٹکنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ مسلمانوں کو یہ اطمینان دہانی کہ اس کا جو اثر تجارت اور معاشی حالات پر پڑے گا اللہ اپنے خزانۂ جود سے اس کی تلافی فرمائے گا۔
(29۔35) اہل کتاب سے جہاد اور ان کو ذمی بنا کر جزیہ وصل کرنے کا حکم۔ ان کے فساد عقائد اور فساد اخلاق کی طرف بعض اشارات۔ ان کے علماء اور صوفیا کے فاسد کردار اور ان کی اسلام دشمنی کا حوالہ۔
(36۔37) مسلمانوں کو یہ تاکید کہ یہ جنگ و جہاد اگرچہ تمام مشرکین سے من حیث القوم ہو، کسی گروہ کے ساتھ رعایت نہ کی جائے، تاہم محترم مہینوں کا احترام ہر حال میں ملحوظ رہے۔ یہ محترم مہینے بحساب سال قمری ملت ابراہیمؑ کی یادگار ہیں۔ اگر تم نے ان کی حرمت کو بٹہ لگایا تو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنو گے۔ ’نسی‘ کی بدعت کی طرف اشارہ کہ اس بدعت نے ان مہینوں کو ان کے اصل مقام سے ہٹا کر موسموں کے ساتھ باندھ دیا اور یہ کفر میں ایک اضافہ ہے۔ تمہیں قمری مہینوں کے حساب پر، جو روزاول سے خدا کے مقرر کیے ہوئے مہینے ہیں، ان چار محترم مہینوں کی حرمت کو برقرار رکھنا ہے۔
(38۔42) منافقین کو تنبیہ کہ تم جہاد سے جی چراتے ہو، یاد رکھو کہ اگر تم اسی طرح جی چراتے رہے تو تم خدا کچھ نہیں بگاڑو گے، اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنو گے۔ خدا تمہاری جگہ اپنے دین کی نصرت کے لیے دوسروں کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ یاد کرو کہ ایک دن وہ بھی گزرا ہے جب ہمارا رسول ایک غار میں پناہ گیر تھا اور اس کے ایک ساتھی کے سوا اور کوئی بھی اس کے ساتھ نہ تھا لیکن پھر وہ دن بھی آیا کہ خدا نے اپنی طرف سے اس پر سکینت نازل فرمائی۔ غیبی فوجوں سے اس کی مدد فرمائی کفر کا سر نیچا اور اللہ کا کلمہ بلند ہوا۔ پس یہ خدا کی ضرورت نہیں بلکہ تمہاری اپنی سعادت ہے کہ جو سرو سامان بھی میسر ہو اس کے ساتھ جہاد کے لیے اٹھو۔ منافقین کے جہاد سے جی چرانے اور جھوٹی قسموں کے بل پر بہانہ سازی کی ایک مثال۔
(43۔46) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت آمیز عتاب کہ جہاد سے جی چرانے والوں کے جھوٹے عذرات تم قبول کر لیتے ہو حالانکہ یہ منافق لوگ ہیں۔ اگر یہ چاہیں تو جہاد کے لیے نکلنے کا سامان مہیا کر سکتے ہیں لیکن یہ جھوٹے بہانے بنا کر تمہاری نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
(47۔52) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو تسلی کہ جہاد کے لیے تمہارے ساتھ ان منافقین کے نہ نکلنے میں ہی خیر ہے۔ اگر یہ نکلتے تو کوئی نہ کوئی فساد ہی برپا کرتے۔ ان کے دلوں میں خیرخواہی کا کوئی جذبہ نہیں ہے۔ یہ تو ہر پہلو سے تمہارے لیے کسی مصیبت کے متمنی ہیں۔
(53۔57) منافقین بادل ناخواستہ دین کے نام پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اللہ کے ہاں اس کی کوئی قیمت نہیں۔ یہ اللہ و رسولؐ کے منکر ہیں اور ان کا انفاق اور ان کی نماز سب محض نمائش ہے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کہ ان کے مال کو کوئی وقعت نہ دو اور ان کی رفاقت کی ذرا پروا نہ کرو۔ یہ بزدل اور ڈرپوک تمہارے ساتھی نہیں بن سکتے۔
(58۔60) منافقین کے اس گروہ کی طرف اشارہ جو محض صدقات کے مال میں حصہ بٹانے کی حد تک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی تھا۔ اگر خواہش کے مطابق پا جاتے تو راضی ورنہ پیغمبرؐ کے خلاف طرح طرح کی باتیں بناتے۔ صدقات کے اصل حق داروں کی تفصیل۔
(61۔66) ان شریر منافقین کی طرف اشارہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف پروپیگنڈا کرتے کہ آپؐ کان کے کچے ہیں، لوگوں میں آپ کی رائے اور معاملہ فہمی کا مذاق اڑاتے، جب کسی بات پر گرفت ہوتی تو جھوٹی قسمیں کھاتے اور لایعنی صفائی پیش کرتے۔
(67۔70) منافق مردوں اور منافق عورتوں کا کردار ار ان کا انجام دنیا اور آخرت میں۔
(71۔72) مومنین اور مومنات کا کردار اور ان کی فوزوفلاح آخرت میں۔
(73۔78) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت کہ کفار کی طرح ان منافقین کے معاملے میں بھی اب سخت رویہ اختیار کرو کہ تمہاری نرمی سے فائدہ اٹھا کر یہ اسلام کے ساتھ چمٹے نہ رہیں۔ یہ جھوٹی قسموں کے پردے میں اپنے کفر کو چھپائے ہوئے ہیں۔ اللہ کے فضل اور رسول کی کریم النفسی نے ان کو اسلام دشمنی میں اور زیادہ دلیر بنا دیا ہے۔ انھوں نے وعدے کچھ کیے اور ان کا عمل اس کے بالکل خلاف ہوا اور اس چیز نے ان کے نفاق کو پختہ کر دیا۔
(79۔84) منافقین کی اس شرارت کا بیان کہ خود تو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اور اگر اللہ کے مخلص اور غریب پرور بندے اپنی گاڑھی کمائی سے خرچ کرتے ہیں تو ان کا مذاق اڑاتے اور ان کی دل شکنی کرتے ہیں۔ اسی طرح خود تو جہاد میں نکلنے کے بجائے گھروں میں بیٹھ رہتے ہیں اور جو اللہ کے بندے نکلتے ہیں ان کو گرمی اور سردی کے ڈراوے سنا سنا کر بٹھا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اشرار کے بارے میں وعید الٰہی کا بیان اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے لیے دعا و استغفار کرنے کی شدید ممانعت۔
(85۔96) دین کے مطالبات سے چی چرانے والوں کے جھوٹے عذرات کی طرف اشارہ سچے اہل ایمان کے کردار کا بیان۔ ان معذورین کی تفصیل جن کا عذر قابل قبول ہے۔ عذر تراشوں اور بہانہ بازوں کو یہ دھمکی کہ اگر تم پیغمبرؐ اور مومنین کو اپنے خانہ ساز عذرات سے دھوکا دینے میں کامیاب بھی ہو جاؤ جب بھی یہ چیز تمہارے لیے کچھ سود مند نہیں۔ خدائے علام الغیوب کو تم بہرحال ان بہانہ سازیوں سے فریب نہیں دے سکتے۔
(97۔101) اعراب یعنی اہل بدو میں جو منافقین تھے ان کی طرف اشارہ اور ان کے اندر جو مخلصین تھے ان کی حوصلہ افزائی۔ سابقون الاولون اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کی تحسین۔ منافقین اعراب اور منافقین مدینہ دونوں کو دھمکی۔
(102۔106) ان لوگوں کو قبولیت توبہ کی بشارت جنھوں نے ان تنبیہات سے متاثر ہو کر اپنے رویہ میں تبدیلی کر لی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی مزید تربیت اور ان کے لیے دعا کی ہدایت۔ اس گروہ کے بعض افراد کی قبولیت توبہ کے معاملہ کا التوا۔
(107۔110) مسجد ضرار کے بانیوں کو نہایت تند الفاظ میں وعید۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسجد میں نماز پڑھنے کی ممانعت۔
(111۔113) اہل ایمان اور اللہ کے درمیان جو عہد و میثاق ے اس کی نوعیت کی وضاحت اور اس کے حقیقی مقتضیات کا بیان۔
(114۔116) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کو شرک پر مرنے والوں کے لیے دعائے استغفار کرنے کی ممانعت اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ رہے ہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو اپنے باپ کے لیے دعا کی اس کی نوعیت۔
(117۔118) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مخلص مہاجرین و انصار کے لیے عام قبولیت توبہ کی بشارت۔ جن لوگوں کی توبہ کی قبولیت کا معاملہ آیت 106 میں ملتوی کیا گیا تھا، رجوع کامل کے بعد ان کی توبہ کی قبولیت کا اعلان۔
(119۔122) اہل مدینہ اور اعراب کو راست بازی اور کامل وفاداری کے ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جاں نثاری کی تلقین۔ اس جاں نثاری کی راہ میں چھوٹی یا بڑی جو تکلیف بھی اہل ایمان اٹھائیں گے اس کے اجرعظیم کا بیان۔ اہل بدو کو یہ ہدایت کہ ان میں سے ہر گروہ کے لوگ اپنے منتخب آدمی حصول تربیت کے لیے مجلس نبوی میں بھیجتے رہیں تاکہ یہ لوگ وہاں سے کسب فیض کر کے اپنی قوم کی تربیت کر سکیں۔
(123۔129) مسلمانوں کو یہ عام ہدایت کہ ہر جگہ کے مسلمان اپنے اپنے علاقہ کے کفار سے مصروف جہاد ہوں۔ ان لوگوں کی طرف اشارہ جو قرآن اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مواجہہ سے گریز کرتے تھے۔ پیغمبرؐ کے وجود قدسی کی صورت میں دنیا پر اللہ کی جو عظیم رحمت نازل ہوئی تھی اس کی قدر کرنے کی تلقین۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ناقدروں سے بے پروا ہو کر صرف اللہ پر بھروسہ کرنے کی ہدایت۔
اس فہرست مطالب پر ایک سرسری نظر ڈال کر بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سورہ کا ہر جزو نہایت مربوط و منظم ہے اور آغاز سے لے کر انتہا تک باہم دگر ایک فطری تسلسل کے ساتھ وابستہ و پیوستہ۔ اب ہم توفیق الٰہی کے اعتماد پر سورہ کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔
10 یونس (Jonah)
109 verses | مکی
سورتوں کے تیسرے گروپ پر ایک اجمالی نظر
سورۂ نور کی حیثیت: سورۂ توبہ پر سورتوں کا دوسرا گروپ، جیسا کہ ہم نے مقدمہ میں واضح کیا ہے، تمام ہوا۔ اب سورۂ یونس سے تیسرا گروپ شروع ہو رہا ہے جو سورۂ نور پر ختم ہوا ہے۔ اس میں 14 سورتیں ۔۔۔ یونس، ہود، یوسف، رعد، ابراہیم، حجر، نحل، بنی اسرائیل، کہف، مریم، طٰہٰ، انبیاء، حج اور مومنون مکی ہیں، آخر میں صرف سورۂ نور مدنی ہے۔ سورتوں کے جوڑے جوڑے ہونے کا اصول، جس طرح پچھلے دونوں گروپوں میں آپ نے ملاحظہ فرمایا اسی طرح اس گروپ میں بھی ملحوظ ہے۔ گروپ کی پندرھویں سورہ ۔۔۔ سورۂ نور ۔۔۔ بظاہر الگ نظر آتی ہے لیکن اس کی حیثیت، جیسا کہ ہم سورہ کی تفسیر میں واضح کریں گے، سورۂ مومنون کے تکملہ اور تتمہ کی ہے۔ سورۂ مومنون میں اہل ایمان کو دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کی جو بشارت دی گئی ہے وہ اس خاص اخلاق و کردار کے ساتھ مشروط ہے جو ایمان کا لازمی مقتضیٰ ہے۔ سورۂ نور میں اخلاق و کردار کو مزید واضح فرمایا گیا ہے جس سے ’خبیثون‘ اور ’خبیثات‘ کے کافرانہ معاشرہ کے مقابل میں ’طیبون‘ اور ’طیبات‘ کا مومنانہ معاشرہ پوری آب و تاب کے ساتھ نگاہوں کے سامنے آگیا ہے اور اس معاشرہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ ہے وہ بھی اس نہایت واضح اور قطعی الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے۔
وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا. (نور55)
تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیا ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلافت بخشے گا جس طرح اس نے ان لوگوں کو خلافت بخشی جو ان سے پہلے گزرے اور ان کے اس دین کو ان کے لیے مستحکم کرے گا جس کو اس نے پسند فرمایا اور ان کی اس خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا۔
اس گروپ کی سورتوں میں سے سورۂ حج کو بعض لوگوں نے مدنی قرار دیا ہے لیکن یہ رائے صحیح نہیں ہے۔ گروپ کی آخری سورتیں چونکہ ہجرت کے بالکل قریب زمانے کی ہیں اس وجہ سے ان میں کہیں کہیں مدنی دور کی جھلک آگئی ہے۔ لیکن یہ سورتیں اپنے مزاج اور مطالب کے اعتبار سے سب مکی ہیں۔ سورۂ حج کی بعض آیتیں مدنی دور سے تعلق رکھنے والی ضرور ہیں لیکن سورہ بحیثیت مجموعی، جیسا کہ ہم اس کی تفسیر میں واضح کریں گے، مکی ہے۔ کسی مکی سورہ میں مدنی دور کی بعض آیتیں بطور توضیح یا تکمیل آجانے سے پوری سورہ پر مدنی ہونے کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ ایسی سورتیں قرآن میں بہت ہیں جن میں مدنی دور کی آیات شامل ہیں لیکن یہ سورتیں اپنے بنیادی مطالب اور اپنے مزاج کے اعتبار سے مکی ہی قرار دی گئی ہیں۔
ان تمام سورتوں میں قدر مشترک: اس پورے گروپ کی تلاوت باربار تدبر کے ساتھ کیجیے تو آپ نہایت واضح طور پر محسوس کریں گے کہ گروپ کی تمام سورتوں میں مشترک حقیقت، جو مختلف اسلوبوں اور پہلوؤں سے واضح فرمائی گئی ہے، یہ ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا ہو چکی ہے وہ بالآخر پیغمبرؐ اور اہل ایمان کی کامیابی و فتح مندی اور قریش کی ذلت و ہزیمت پر منتہی ہو گی۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ اس میں قریش کے لیے انذار اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کے لیے بشارت ہے۔ قریش پر عقل و فطرت اور آفاق و انفس کے دلائل اور تاریخ و نظام کائنات کے شواہد سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ جو حق تمہارے پاس آ چکا ہے۔ اگر اس کی مخالفت میں تمہاری یہی روش قائم رہی تو بہت جلد وہ وقت آ رہا ہے جب تم اس کا انجام بد اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ دنیا میں تم سے پہلے جن قوموں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی ہے جو حشر ان کا ہوا ہے اور جن کے عبرت انگیز آثار تمہارے اپنے ملک میں موجود ہیں، وہی حشر تمہارا بھی ہونا ہے۔
اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو صبر و اسقامت اور تقویٰ کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ جس حق کو لے کر تم اٹھے ہو انجام کار کی کامیابی اور فیروز مندی اسی کا حصہ ہے۔ آفاق و انفس اور تاریخ اقوام و ملل کے دلائل و شواہد سب تمہارے ہی حق میں ہیں۔ البتہ سنت الٰہی یہ ہے کہ حق کو غلبہ اور کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے آزمائش کے مختلف مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان مرحلوں سے لازماً تمہیں بھی گزرنا ہے۔ اگر یہ مرحلے تم نے عزیمت و استقامت کے ساتھ طے کر لیے تو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تمہارا ہی حصہ ہے۔ ’یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ وَےُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْنَ‘۔ (ابراہیم 27)
سورہ کا عمود اور گروپ کی دوسری سورتوں میں اس کے مؤیدات: یہ پورے گروپ پر ایک اجمالی نظر ہوئی۔ اب ہم گروپ کی ایک ایک سورہ کو الگ الگ لے کر اس کی تفسیر کریں گے۔ گروپ کی پہلی سورہ، سورۂ یونس ہے۔ ہم اپنے طریقہ کے مطابق پہلے اس کا عمود متعین کر کے اس کے مطالب کا تجزیہ کریں گے، اس کے بعد ایک ایک آیت کی تفسیر کریں گے۔ وَمَا تَوفِیْقِیْ اِلّا بِاللّٰہِ۔
ب۔ سورہ کا عمود
اس سورہ کا عمود نہایت جامع الفاظ میں اس کی دوسری ہی آیت سے واضح ہو رہا ہے۔ فرمایا ہے۔
اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ قَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ. (2۔ یونس)
کہ لوگوں کو آگاہ کر دو اور اہل ایمان کو بشارت پہنچا دو کہ ان کے رب کے پاس ان کے لیے بڑی پایگاہ ہے کافروں نے کہا یہ تو کھلا ہوا جادوگر ہے۔
سورۂ ہود میں اسی حقیقت کو یوں واضح فرمایا ہے:
فَاصْبِرْ اِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیْنَ. (49۔ ہود)
پس ثابت قدم رہو۔ انجام کار کی کامیابی متقین ہی کے لیے ہے۔
سورۂ یوسف میں ارشاد ہے:
اِنَّہٗ مَنْ یَّتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ. (90۔ یوسف)
بے شک جو تقویٰ اختیار کریں گے اور ثابت قدم رہیں گے تو اللہ ایسے خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔
سورۂ رعد میں اس صبر و تقویٰ کی کسی قدر تفصیل بھی آگئی ہے:
وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْہِ رَبِّھِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً وَّ یَدْرَءُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّءَۃَ اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عُقْبَی الدَّارِ. (22۔ رعد)
اور جو لوگ اپنے رب کی رضا جوئی میں جمے رہے اور نماز کا اہتمام کیا اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق بخشا اس میں سے چھپے اور کھلے خرچ کیا اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے رہے وہی لوگ ہیں جن کے لیے دارآخرت کی کامیابی ہے۔
سورۂ ابراہیم میں اس کلمہ کی طرف بھی اشارہ ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں اہل ایمان کے ثبات قدم کا ضامن ہے:
یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ وَےُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْنَ. (27۔ ابراہیم)
اللہ اہل ایمان کو ددنیا اور آخرت میں قول محکم کی بدولت ثبات قدم بخشے گا اور ظالموں کو نامراد کر دے گا۔
سورۂ نحل میں ہے:
لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ وَلَدَارُالْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَ. (30۔ نحل)
جن لوگوں نے خوب کاری اختیار کی ان کے لیے اس دنیا میں بھی اچھا صلہ ہے اور آخرت کا گھر اس سے کہیں بہتر ہے اور کیا ہی اچھا ہے متقین کا گھر۔
سورۂ بنی اسرائیل میں ہے کہ سیدھی راہ قرآن کی بتائی ہوئی راہ ہے اور جن لوگوں نے یہ راہ اختیار کر لی ہے دنیا اور آخرت کی فلاح کی بشارت انہی کے لیے ہے۔
اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ وَیُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا کَبِیْرًا ۵ وَّاَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ اَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا. (9۔10 بنی اسرائیل)
بے شک یہ قرآن اس رستہ کی طرف رہنمائی کر رہا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ان مومنین کو جو نیک عمل کر رہے ہیں ایک اجر عظیم کی بشارت دے رہا ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لیے ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
سورۂ انبیاء میں ہے:
وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْم بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ. (105۔ انبیاء)
اور ہم نے زبور میں یاددہانی کے بعد یہ لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔
گروپ کی آخری سورہ ۔۔۔ سورۂ نور۔۔۔ میں یہ بشارت واضح سے واضح تر ہو گئی ہے۔
وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا. (55۔نور)
تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلافت عطا فرمائے گا جس طرح ان لوگوں کو خلافت عطا فرمائی جو ان سے پہلے گزرے اور ان کے اس دین کو مستحکم کرے گا جس کو ان کے لیے پسند فرمایا اور ان کی اس خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا۔
ان آیات کو نقل کرنے سے مقصود سورۂ یونس اور اس گروپ کی دوسری سورتوں کے عام مزاج سے فی الجملہ قارئین کو آشنا کر دینا ہے۔ ہر سورہ کا عمود اور بحث و استدلال میں اس کا صحیح رخ مطالب کے تجزیہ سے سامنے آئے گا۔ اب ہم سورۂ یونس کے مطالب کا تجزیہ پیش کرتے ہیں تاکہ پوری سورہ بیک نظر سامنے آجائے۔
ج۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
(1۔2) قریش کے حال پر اظہار افسوس کہ یہ پرحکمت کتاب کی آیات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک شخص پر اتاری ہیں، حق تھا کہ وہ اس کتاب کی قدر کرتے، یہ منکرین کو ان کے انجام بد سے آگاہ کرنے والی اور مومنین کو اللہ کے ہاں مرتبہ بلند کی بشارت دینے والی ہے لیکن ان مستکبرین پر یہ بات شاق گزر رہی ہے کہ انہی میں کا ایک آدمی ان کے پاس بشیر و نذیر بن کر آئے چنانچہ وہ اس کو جادوگر قرار دیتے ہیں۔
(3۔4) اللہ ہی سب کا رب ہے۔ اسی نے آسمان و زمین بنائے۔ وہی تمام آسمان و زمین کا انتظام فرما رہا ہے۔ اس کے ہاں اس کے اذن کے بغیر کسی کے لیے سفارش کی گنجائش نہیں۔ سب اسی کی طرف لوٹیں گے اور وہ ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو عدل کے ساتھ بھرپور صلہ دے گا اور کفار کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔
(5۔10) آفاق کی شہادت کہ یہ کائنات کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشہ نہیں ہے۔ جو غور کرنے والے ہیں وہ اس حقیقت پر ایمان رکھتے ہیں کہ اس کے بعد ایک روز عدل ظہور میں آنے والا ہے۔ صرف وہی لوگ اس حقیقت سے غافل ہیں جو اللہ کی نشانیوں پر غور نہیں کرتے اور اسی دنیا کی دلچسپیوں میں مگن ہیں۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اللہ ایمان اور عمل صالح والوں کو ان کے ایمان کی بدولت نعمت کے باغوں میں داخل کرے گا جہاں وہ اپنی کامیابیوں پر شاداں ایک دوسرے کو مبارک سلامت کا پیغام دیں گے اور اللہ کی نعمتوں کی تکمیل پر ان کی زبانوں پر حمد و شکر کے ترانے ہوں گے۔
(11۔12) اللہ تعالیٰ سرکش لوگوں کو اس دنیا میں جو ڈھیل دیتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ رحمت کرنے میں تو جلدی کرتاہے لیکن قہر کرنے میں جلدی نہیں کرتا۔ اگر وہ رحمت کی طرح قہر کرنے میں بھی جلدی کرنے والا ہوتا تو ان سرکشوں کا قصہ کب کا تمام ہو چکا ہوتا۔ لیکن ایسا نہیں ہے اس وجہ سے وہ ایسے لوگوں کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں اچھی طرح بھٹک لیں اور اپنے اوپر اللہ کی حجت تمام کرا لیں۔ ان لوگوں کی یہ سرکشی اور ان کی یہ اکڑ ان کے تھڑ دلے پن کا ثبوت ہے۔ انسان کا حال یہ ہے کہ ذرا ہم پکڑیں تو لیٹے، بیٹھے، کھڑے ہمارا وظیفہ پڑھنا شروع کر دیتا ہے لیکن ذرا ڈھیل دے دیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نہ یہ کبھی ہماری پکڑ میں آیاتھا اور نہ کبھی اس نے ہمارے آگے کوئی فریاد کی تھی۔
(13۔14) پچھلے رسولوں اور ان کی امتوں کا حوالہ کہ آخر یہ لوگ ان کے حالات سے سبق کیوں نہیں لیتے؟ اللہ تعالیٰ نے انہی کی جگہ ان کو دی اور اس لیے دی کہ دیکھے یہ کیسا عمل کرتے ہیں تو آخر ان کے ساتھ اس سے مختلف معاملہ کیوں ہو گا جو ان کے ساتھ ہوا۔
(15۔19) توحید بیزاری کے سبب سے قریش کا یہ مطالبہ کہ اگر ہم کو سنانا ہے تو اس قرآن کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا کم از کم اس میں کوئی ایسی ترمیم کرو کہ یہ ہمارے لیے گوارا ہو سکے۔ پیغمبر کی طرف سے اس کا جواب کہ میں تو تمہارے سامنے اللہ کی وحی پیش کرتا ہوں۔ مجھے اس میں کسی تبدیلی یا ترمیم کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے اندر اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ گزار چکا ہوں اور اس دوران میں کوئی دعویٰ یا دعوت لے کر نہیں اٹھا۔ اب جو میں تمہارے سامنے آیا ہوں تو اپنی خواہش سے نہیں آیا ہوں بلکہ خدا کے حکم کی تعمیل میں آیا ہوں۔ اگر خدا کا حکم نہ ہوتا تو میں ہرگز تمہارے سامنے یہ چیزیں پیش نہ کرتا ۔۔۔ ساتھ ہی ان کی توحید بیزاری پر یہ تنبیہ کہ یہ جن چیزوں کی پرستش کر رہے ہیں اور سمجھ بیٹھے ہیں کہ یہ خدا سے ان کے لیے سفارش کرتی ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ سب ان کے ذہن کے مفروضات ہیں، خدا کے علم میں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس قسم کی شرکتوں سے پاک اور ارفع ہے۔ اس نے لوگوں کو اپنی طرف سے ایک ہی دین توحید دیا لیکن لوگوں نے اس میں اختلاف پیدا کیا اور اگر اللہ نے اپنے فیصلہ کا ایک دن نہ مقرر کیا ہوتا تو آج ہی اس جھگڑے کا فیصلہ ہو جاتا۔
(20۔23) کفار قریش کی طرف سے نشانئ عذاب کا مطالبہ اور اس کا جواب کہ نشانئ عذاب دکھانا پیغمبر کا کام نہیں ہے۔ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔ صرف وہی جانتا ہے کہ کوئی نشانی ظاہر ہو گی یا نہیں اور ظاہر ہو گی تو کب ہو گی۔ یہ محض انسان کی رعونت ہے کہ وہ کسی عذاب کا مطالبہ کرتا ہے حالانکہ تھڑ دلے پن کا حال یہ ہے کہ جب ذرا خدا کی گرفت میں آجاتا ہے تو اللہ اللہ پکارنے لگتا ہے اور عہد کرتا ہے کہ اس آفت سے جان چھوٹ جائے تو زندگی اپنے رب کا شکرگزار بن کر گزاروں گا لیکن جب اللہ تعالیٰ اس کو نجات دے دیتا ہے تو پھر وہ بغاوت اور نافرمانی کی وہی زندگی اختیار کر لیتا ہے۔
(24۔27) اس دنیا کی زندگی کی بے ثباتی کی تمثیل کہ کفار کو اس وقت جو زور اور اقتدار حاصل ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی رخنہ کہاں سے پیدا ہو جائے گا۔ حالانکہ آئے دن اس دنیا میں یہ مشاہدہ ہوتا رہتا ہے کہ بارش ہوتی ہے، زمین لہلہا اٹھتی ہے۔ باغ اور کھیت سب مالا مال ہو جاتے ہیں، زمینوں اور باغوں کے مالک یہ سمجھتے ہیں کہ بھلا اب ہمیں ان سے کون محروم کر سکتا ہے کہ دفعۃً رات میں یا دن میں کسی وقت عذاب الٰہی کا کوئی جھونکا آتا ہے اور وہ سب کو آناً فاناً بے نشان کر کے رکھ دیتا ہے۔ سلامتی کا گھر صرف اللہ کے پاس ہے اور وہ لوگوں کو اسی کی طرف دعوت دیتا ہے لیکن اس کی راہ صرف صاحب توفیق ہی اختیار کرتے ہیں اور یہی لوگ ہیں جن کے چہرے آخرت میں روشن ہوں گے۔ رہے یہ لوگ جو اسی دنیا کی زندگی میں مگن ہیں خدا سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہو گا اور ان کے چہروں کا یہ حال ہو گا کہ گویا ان پر شب دیجور کا کوئی ٹکڑا اڑھا دیا گیا ہے۔
(28۔36) کفار اپنے جن معبودوں پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں آخرت میں ان کے اور ان کو معبودوں کے درمیان جدائی ہو جائے گی۔ ان کے معبود ان سے اظہار بیزاری کریں گے کہ ہمیں کچھ خبر نہیں کہ تم ہماری عبادت کر رہے تھے۔ اس دن ہر شخص کو صرف اپنے اعمال سے سابقہ پیش آئے گا اور ہر ایک کی پیشی معبود حقیقی کے سامنے ہو گی۔ کفار سے یہ مطالبہ کہ جب تم خالق، رازق، مالک اور زندگی اور موت پر اختیار رکھنے والا خدا ہی کو مانتے ہو تو اسی کو رب بھی مانو، اس واضح حق کے بعد اگر تم خدا کے سوا کسی اور کو بھی رب مانتے ہو تو یہ صریح ضلالت ہوئی آخر اس دنیا کی خلق و تدبیر اور تمہاری ہدایت و رہنمائی میں تمہارے ان فرضی معبودوں کا کیا حصہ ہے جس کی بنا پر تم ان کو خدا کے حقوق میں شریک بن بیٹھے ہو؟ یہ تو محض تمہاری اٹکل پچو باتیں ہیں جو حق کے مقابل میں تمہارے کچھ کام آنے والی نہیں ہیں۔
(37۔44) یہ قرآن کوئی من گھڑت چیز نہیں ہے۔ اس کی پیشین گوئیاں پچھلے صحیفوں میں موجود ہیں اور یہ انہی پیشین گوئیوں کا مصداق اور انہی اشارات کی تفصیل ہے۔ اس کے خدائی کتاب ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر کفار کہتے ہیں کہ یہ تمہاری گھڑی ہوئی چیز ہے جس کو تم جھوٹ موٹ خدا کی طرف منسوب کر رہے ہو تو ان سے کہو کہ یہ اس کی مانند کوئی ایک ہی سورہ لا کر دکھائیں اور اس کام میں اپنے معبودوں کی مدد بھی اگر حاصل کر سکیں تو وہ بھی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اصل یہ ہے کہ یہ ایک ایسی چیز کا انکار کر رہے ہیں جس کی حقیقت ان کے سامنے ابھی نہیں آئی ہے اور اس معاملے میں یہ پچھلے مکذبین کی روش کی تقلید کر رہے ہیں تو صبر کرو اور دیکھو کہ ان کاانجام کیا ہو تا ہے ۔۔۔پیغمبرؐ کو تسلی کہ جن کے اندر صلاحیت ہے وہ اس کتاب پر ایمان لا رہے ہیں، رہے وہ لوگ جو اندھے بہرے بن چکے ہیں تو نہ وہ تمہاری بات سنیں گے نہ تمہارے اوپر ان کی کوئی ذمہ داری ہے۔ تم ان سے اپنی برأت کا اعلان کر دو۔ یہ خود اپنے اعمال کی بدولت اس حالت کو پہنچے ہیں۔ خدا نے ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی ہے۔
(45۔58) جس عذاب اور روز آخرت کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے اس کے لیے یہ جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ جب وہ آئے گا تو یہ محسوس کریں گے کہ زندگی کی مہلت ایک ساعت سے زیادہ نہیں تھی۔ یہ اللہ ہی کے علم ہے کہ یہ عذاب کب آئے گا۔ ہو سکتاہے کہ یہ تمہاری موجودگی ہی میں ان کو دکھا دیا جائے اور یہ بھی ہو سکتاہے کہ تمہاری وفات کے بعد یہ اس کا مزا چکھیں۔ لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جب کسی قوم کے پاس اس کا رسول آجاتا ہے تو اس قوم کا فیصلہ لازماً ہو جایا کرتا ہے۔ اگر یہ تم سے اس دھمکی کے ظہور کا وقت پوچھتے ہیں تو تم کہہ دو کہ میرے پاس نہ غیب کا علم ہے اور نہ میں کسی نفع و ضرر پر اختیار رکھتا ہوں۔ بس یہ حقیقت جانتا ہوں کہ ہر امت کے لیے ایک ایک پیمانہ مقرر ہے، جب وہ پیمانہ بھر جائے گا تو پھر اس کو ایک منٹ کی بھی مہلت نہیں ملے گی۔ یہ اگر اتنی جلدی مچائے ہوئے ہیں تو ان سے پوچھو کہ خدا کے عذاب کا مقابلہ کرنے کے لیے انھوں نے کیا سامان کر رکھا ہے؟ اس وقت تو ان کا ایمان لانا بھی بالکل بے سود ہو گا؟ اس وقت تو حال یہ ہو گا کہ ہرجان اس سے چھوٹنے کے لیے ساری دنیا بھی اس کے ہاتھ آجائے تو اس کو فدیہ میں دینے کے لیے تیار ہو جائے گی تو آخر یہ اپنی شامت بلانے کے درپے کیوں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت و رحمت کو اختیار کیوں نہیں کرتے جو ان پر قرآن کی شکل میں نازل ہوئی ہے اور جس کے آگے اس دنیا کے تمام زخارف بالکل ہیچ ہیں!
(59۔70) جن لوگوں نے بے دلیل خدا کے شریک اور سفارشی بنا رکھے ہیں کیا ان کو خدا سے ناانصافی کا اندیشہ ہے؟ خدا تو اپنے بندوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔ البتہ لوگ ناشکری کرتے اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کو دوسروں کی نسبت سے حلال و حرام ٹھہراتے ہیں۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو تسلی کہ خدا ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہے۔ جو اللہ کے اولیاء ہیں ان کے لیے کوئی خوف اور غم نہیں ہے۔ دنیا کی زندگی میں بھی ان کے لیے بشارت ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے بشارت ہے اور خدا کے وعدے اٹل ہیں۔ عزت صرف اللہ کے لیے ہے، جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی پوجا کرتے ہیں وہ صرف گمان کی پوجا کر رہے ہیں۔ شب و روز سب اللہ ہی کے بنائے ہوئے ہیں اور زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ اللہ سب سے مستغنی ہے۔ اس کا کوئی ساجھی اور شریک نہیں۔ جو لوگ اپنے جی سے خد کے شریک ٹھہراتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور وہ آخرت میں عذاب شدید سے دوچار ہوں گے۔
(71۔93) اوپر کے بیان کردہ حقائق کی تائید میں تاریخ کی شہادت۔ حضرت نوحؑ سے لے کر حضرت موسیٰ ؑ تک کے انبیاء اور ان کی قوموں کی سرگزشت کا اجمالی حوالہ، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو یہ تلقین کہ جس طرح کے حالات تم سے پہلے ابنیاء اور ان کے ساتھیوں کو پیش آچکے ہیں اسی طرح کے حالات تمہاری قوم کی طرف سے تم کو پیش آرہے ہیں۔ پس اگر تم نے صبر اور توکل کی وہی روش اختیار کی جو تمہارے پیش رو انبیاء اور ان کے صحابہؓ نے اختیار کی اور اس پر جمے رہے تو تمہیں اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں جہان میں سرخرو کرے گا اور تمہارے مخالفوں کا وہی حشر ہو گا جو نوحؑ اور موسیٰ ؑ کے مخالفوں کا ہو چکا ہے۔
(94۔103) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے مسلمانوں کو یہ تلقین کہ مخالفوں کا غوغا تمہیں اس کتاب کے باب میں کسی شک میں نہ ڈالے جو تم پر اللہ نے اتاری ہے۔ یہ بالکل حق ہے اور جو اچھے اہل کتاب ہیں وہ بھی اس کے حق ہونے کے گواہ ہیں۔ جو لوگ اس کو جھٹلا رہے ہیں وہ اپنے اعمال کے سبب سے خدا کے قانون کی زد میں آچکے ہیں، ان کو خواہ کتنی ہی نشانیاں دکھا دی جائیں وہ اس وقت تک ایمان لانے والے نہیں ہیں جب تک فیصلہ کن عذاب نہ دیکھ لیں۔ کوئی قوم جب قانون الٰہی کی زد میں آجاتی ہے تو اس کو ایمان نصیب نہیں ہوا کرتا۔ صرف قوم یونس ایک ایسی قوم ہے جو عذاب الٰہی کی زد میں آتے آتے بچ گئی۔ عذاب بس آنے ہی والا تھا کہ وہ ایمان لائی اور اس نے اس کو بچا لیا۔ اہل ایمان کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ لوگ عقل اور سمجھ سے کام لے کر ایمان کی راہ اختیار کریں نہ کہ عذاب کی نشانیوں سے مجبور ہو کر۔ اگر اللہ کو مجبورانہ ایمان مطلوب ہوتا تو اس کے لیے کیا مشکل تھی کہ وہ سب کو ایمان کی ڈگر پر ہانک دیتا؟ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ ایمان کی توفیق صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو عقل و بصیرت سے کام لیتے ہیں۔ جو لوگ اپنے دلوں پر نجاست کے انبار جمع کر لیتے ہیں ان کے لیے ایمان کی راہ نہیں کھلتی۔ ایسے لوگوں کو بڑی سے بڑی نشانی بھی کچھ نفع نہیں پہنچاتی۔ یہ لوگ تو بس اس طرح کے فیصلہ کن دن کے انتظار میں ہیں جس طرح کے فیصلہ کن دن پچھلی قوموں کو پیش آچکے ہیں۔ ان سے کہو کہ اگر تم اسی کے انتظار میں ہو تو انتظار کرو میں بھی اب تمہارے لیے اسی کے انتظار میں ہوں۔
(104۔109) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے مخالفین کے سامنے ایک فیصلہ کن اعلان کہ اگر کسی کومیرے دین کے بارے میں شک ہو تو وہ اچھی طرح کان کھول کر سن لے کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان کو نہیں پوجتا، میں صرف اللہ واحد کی عبادت کرتا ہوں۔ اسی توحید پر آپ کو جمے رہنے کی تاکید، اس لیے کہ نفع و ضرر صرف اللہ ہی کے اختیار میں ہے، دوسرا نہ کچھ بنا سکتا، نہ بگاڑ سکتا ۔۔۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اعلان کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق آچکا ہے اور وہ میں نے لوگوں کو پہنچا دیا ہے۔ اب جو ہدایت اختیار کرے گا تو اس کا نفع اس کو پہنچے گا اور جو گمراہی کی راہ اختیار کرے گا تو اس کا انجام خود بھگتے گا میں کسی کے ایمان کا ذمہ داری نہیں ہوں ۔۔۔ آخر میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت کہ وحی الٰہی کی پیروی کرو، اسی پر جمے رہو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ صادر فرما دے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
11 ہود (Hud)
123 verses | مکی
سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق
اس پورے گروپ کے عمود اور اس کے مطالب پر ایک جامع تبصرہ ہم سورہ یونس کی تمہید میں پیش کر چکے ہیں۔ یہ سورہ چونکہ ہمارے اصول سے سورۂ یونس ہی کا مثنیٰ ہے اس وجہ سے نفس عمود میں دونوں کے درمیان کچھ ایسا فرق نہیں ہے، البتہ اجمال و تفصیل اور بحث و استدلال کے اعتبار سے دونوں کا نہج الگ الگ ہے۔ سورۂ یونس میں جو باتیں بالاجمال بیان ہوئی تھیں، مثلاً پچھلی قوموں کی سرگزشتیں ۔۔۔ وہ اس سورہ میں تفصیل سے بیان ہوئی ہیں اور اس حقیقت کی طرف اس کی پہلی ہی آیت نے اشارہ بھی کر دیا ہے۔ ’کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ‘ (یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں، پھر خدائے حکیم و خبیر کی طرف سے ان کی تفصیل کی گئی)۔ ان دونوں کاقرآن نام بھی ایک ہی یعنی ’اآرا‘ ہے اور یہ بات ہم اس کے محل میں واضح کر چکے ہیں کہ سورتوں کے نام میں اشتراک ان کے مطالب کے اشتراک پر دلیل ہے۔
عمود کے متعلق یہ اشارہ کافی ہے۔ اب ہم سورہ کے مطالب کا تجزیہ پیش کرتے ہیں جس سے پوری سورہ بحیثیت مجموعی نگاہ کے سامنے آجائے گی۔
ب۔ سورہ کے مطالب کی تجزیہ
(1۔4) پہلے بطور تمہید قرآن کی یہ خصوصیت واضح کی گئی ہے کہ لوگوں کی تربیت و تعلیم کے مقصد کو پیش نظر رکھ کر اللہ تعالیٰ نے اس کو اس شکل میں اتارا ہے کہ پہلے صرف اصولی اور بنیادی باتیں، گٹھے ہوئے الفاظ میں اجمال و اختصار کے ساتھ، بیان ہوئیں، پھر بتدریج وہ تفصیل کے قالب میں آئیں۔ اس کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کتاب کے پیغام کی وضاحت فرمائی کہ یہ اللہ واحد کی بندگی اور استغفار و توبہ کی دعوت ہے اور میں اللہ کی طرف سے بشیر و نذیر ہو کر آیا ہوں کہ جو لوگ استغفار کر کے اللہ واحد کی طرف رجوع کر لیں گے اللہ ایک مقررہ مدت تک ان کو زندگی کی نعمتوں سے بہرہ مند اور اپنے فضل سے متمتع کرے گا اور جو لوگ اس سے اعراض کریں گے ان کے لیے ایک بڑے عذاب کا دن سامنے ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
(5۔6) ان لوگوں کی حالت پر اظہار افسوس جن کے دل تو یہ گواہی دے رہے ہیں کہ پیغمبر کا ڈراوا بالکل حق ہے لیکن اس کے باوجود وہ حقیقت کا مواجہہ کرنے سے اس طرح گریز کر رہے ہیں گویا وہ اپنے آپ کو خدا سے چھپا رہے ہیں حالانکہ خدا سے کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں رہتی، وہ پوشیدہ و علانیہ ہر چیز سے باخبر اور سینوں کے بھیدوں سے بھی آگاہ ہے۔ وہی سب کو رزق پہنچاتا ہے۔ اس کو ہر ایک کے مستقر و مدفن کا پتہ ہے۔ ہر چیز اس کے رجسٹر میں درج ہے۔
(7۔11) جزا و سزا کے منکرین اور عذاب کے مذاق اڑانے والوں کو تنبیہ کہ یہ دنیا بازیچۂ اطفال نہیں ہے۔ اللہ نے اس کو اس لیے بنایا ہے کہ وہ دیکھے کہ لوگ کیسا عمل کرتے ہیں۔ مجرموں کو جو مہلت وہ دیتا ہے اس سے دلیر ہو کر شریر لوگ پیغمبر کا مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں کہ اس نے محض دھونس جمانے کے لیے عذاب کی دھمکی دی تھی۔ انسان کا حال عجیب ہے کہ جب خدا کی پکڑ میں آجاتا ہے تب تو بالکل مایوس اور دل شکستہ ہو جاتا ہے لیکن جب خدا اس کو ڈھیل دے دیتا ہے تو اکڑنے اور شیخی بگھارنے لگتا ہے۔ تھوڑے لوگ ایسے نکلتے ہیں جو مصیبت میں صبر کی اور نعمت میں شکر کی روش اختیار کرتے ہیں۔ انہی کے لیے خدا کے ہاں مغفرت اور اجر عظیم ہے۔
(12۔16) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی کہ تم مخالفین کے استہزا اور مطالبۂ معجزات سے دل شکستہ نہ ہو۔ تم ایک منذر ہو۔ اپنا فرض انذار ادا کرو، خدا سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہے۔ اگر یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن تمہارا گھڑا ہوا ہے تو ان سے کہو کہ وہ دس سورتیں ایسی ہی گھڑی ہوئی لا کر دکھا دیں اور اس کام میں وہ اپنے شریکوں کی مدد بھی حاصل کر لیں جن کو یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں۔ اگر ان کے شرکاء اس کام میں ان کی مدد نہ کر سکیں تو پھر یہ مانیں کہ خدا کی اتاری ہوئی چیز ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ ان لوگوں کو اگر یہ گھمنڈ ہے کہ دنیاوی اعتبا ر سے تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے مقابل میں ان کا حال بہتر ہے تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا کے طالبین کو اللہ سب کچھ اسی دنیا میں پورا کر دیتا ہے، آخرت میں ان کے لیے دوزخ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
(17۔24) قرآن کی دعوت کو قبول کرنے والوں اور اس سے اعراض کرنے والوں کے ذہنی فرق و اختلاف کی وضاحت۔ ایمان صرف وہ لوگ لائیں گے جن کی فطرت مسخ ہونے سے محفوظ ہو۔ وہ قرآن کی آواز کو اپنے دل کی آواز سمجھیں گے۔ اس سے پہلے موسیٰ ؑ کو جو کتاب دی گئی وہ بھی ان کے لیے ایک تائید مزید فراہم کرے گی۔ رہے وہ لوگ جن کی اپنی فطرت کا نور بجھ چکا ہو وہ دوزخ کی آگ ہی دیکھ کر قائل ہوں گے تو ان کی مخالفت تمہیں اپنے موقف کے بارے میں کسی تردد میں نہ ڈالے۔ ان لوگوں سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جنھوں نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے اور اس جھوٹ کے ذریعہ سے لوگوں کو اللہ کے راستے سے روک رہے ہیں۔ یہ خدا کے قابو سے باہر نہیں ہیں۔ لیکن خدا اس لیے انھیں ڈھیل دے رہا ہے کہ آخرت میں ساری کسر پوری ہو جائے گی۔ فلاح صرف ان لوگوں کو حاصل ہو گی جنھوں نے اپنے آپ کو بالکلیہ اپنے رب کے حوالے کر دیا اور ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کی۔ ان دونوں گروہوں کی تمثیل ایسی ہے کہ ایک گروہ اندھوں بہروں کا ہو اور دوسرا چشم وگوش رکھنے والوں کا۔ کیا یہ دونوں یکساں ہوں گے؟
(25۔49) حضرت نوحؑ اور ان کی قوم کی سرگزشت جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا ہے کہ جس بشارت و انذار کے ساتھ تم اپنی قوم کے پاس آئے ہو بعینہٖ اسی انذار و بشارت کے ساتھ اللہ نے نوحؑ کو ان کی قوم کے پاس بھیجا تھا۔ ان کی قوم کے سرغنوں نے بھی بعینہٖ اسی طرح کی باتیں بنائیں جس طرح کی باتیں تمہاری قوم کے لوگ بنا رہے ہیں۔ بالآخر ان پر اللہ کاعذاب آیا اور وہ غرق کر دیے گئے۔ آخر میں اس کا خلاصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان لفظوں میں رکھا گیا ہے۔ ’فَاصْبِرْ اِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیْنَ‘ (پس جمے رہو، انجام کار کی کامیابی خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لیے ہے) یعنی اگر تمہاری قوم کے لوگ بھی سرکشی سے باز نہ آئے تو اسی طرح کا روز بد یہ بھی دیکھیں گے۔ خدا تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو بہرحال سرخرو کرے گا، اگر تم تمام مخالفتوں کے علی الرغم اپنی دعوت میں ثابت قدم رہے۔
(50۔60) قوم عاد کی سرگزشت۔ انھوں نے بھی اپنے پیغمبر ہود کے ساتھ اسی قسم کی روش اختیار کی جس قسم کی روش قوم نوحؑ نے نوحؑ کے ساتھ اور قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اختیار کی۔ بالآخر یہ بھی اپنے کیفر کردار کوپہنچے اور ہود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے سرخرو کیا۔ اس سرگزشت کے سنانے سے بھی مقصود قریش کو تاریخ کے آئینہ میں ان کا انجام دکھا دینا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے۔
(61۔68) قوم ثمود اور حضرت صالحؑ کی سرگزشت جس سے بعینہٖ وہی حقیقت واضح ہوتی ہے جو اوپر کی سرگزشتوں سے واضح ہوتی ہے۔
(69۔83) قوم لوطؑ کی سرگزشت اسی مضمون کی تائید کے لیے جو اوپر سے چلا آرہا ہے۔ اس سے ضمناً یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ قریش جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرشتے اتارنے کا مطالبہ کر رہے ہیں یہ اپنی شامت بلانے کا سامان کر رہے ہیں۔ فرشتوں کا آنا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہوتا، یہ جب آتے ہیں تو کسی عظیم خدائی مہم پر آتے ہیں۔ ان کی اہمیت کا یہ حال ہے کہ حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ جیسے عظیم پیغمبر نے جب یہ محسوس کیا کہ ان کے پاس فرشتے آئے ہیں تو ان کا دم خشک ہو گیا اور اس وقت تک انھوں نے اطمینان کا سانس نہیں لیا جب تک ان کی پیش نظر مہم کی نوعیت ان کے سامنے واضح نہیں ہو گئی۔
(84۔95) اہل مدین اور حضرت شعیبؑ کی سرگزشت۔
(96۔99) حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کی سرگزشت کی طرف سرسری اشارہ۔ چونکہ حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت پچھلی سورہ میں تفصیل سے گزر چکی تھی اس وجہ سے اس سورہ میں اس کی طرف صرف اشارہ فرما دیا۔
(100۔123) خاتمۂ سورہ جس میں ان سرگزشتوں کو سنانے سے جو مقصد ہے اس کو واضح فرمایا ہے۔ پھر ان سے جو نتائج و حقائق نکلتے ہیں ان کی روشنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو ضروری ہدایات دی ہیں۔ قریش کو اپنے ملک کی تاریخ سے سبق لینے ورنہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنے کے لیے تنبیہ فرمائی ہے۔
مضامین سورہ کے اس تجزیہ پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی اندازہ ہو جائے گا کہ پوری سورہ ایک معین مقصد پر نہایت جامع اور مربوط خطبہ ہے۔ اب ہم اللہ کا نام لے کر، اپنے طریقہ کے مطابق، سورہ کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔ وما توفیقی الا باللّٰہ۔
12 یوسف (Joseph)
111 verses | مکی
سورہ کا عمود
سورتوں کا یہ گروپ سورۂ یونس سے شروع ہوا ہے۔ ہم اس پورے گروپ کے عمود پر، سورۂ یونس کی تفسیر کی تمہید میں ایک جامع تبصرہ کر چکے ہیں۔ یہاں ہم اس کا ضروری حصہ نقل کیے دیتے ہیں تاکہ ذہن میں بات تازہ ہو جائے ہم نے لکھا ہے۔
’’اس پورے گروپ کی تلاوت، تدبر کے ساتھ باربار کیجیے تو آپ نہایت واضح طور پر محسوس کریں گے کہ گروپ کی تمام سورتوں میں مشترک حقیقت، جو مختلف پہلوؤں اور اسلوبوں سے واضح فرمائی گئی ہے، یہ ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا ہو چکی ہے وہ بالآخر پیغمبرؐ اور اس پر ایمان لانے والوں کی کامیابی و فتح مندی اور قریش کی ذلت و ہزیمت پر منتہی ہو گی۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ اس میں قریش کے لیے انذار اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کے لیے بشارت ہے۔ قریش پر عقل و فطرت اور آفاق و انفس کے دلائل اور تاریخ و نظام کائنات کے شواہد سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ جو حق تمہارے پاس آ چکا ہے۔ اس کی مخالفت میں اگر تمہاری یہی روش قائم رہی تو بہت جلد وہ وقت آ رہا ہے جب تم اس کا انجام بد اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔‘‘
’’اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو صبر، اسقامت اور تقویٰ کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ جس حق کو لے کر تم اٹھے ہو انجام کار کی کامیابی و فیروز مندی اسی کا حصہ ہے۔ البتہ سنت الٰہی یہ ہے کہ حق کو غلبہ اور کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے آزمائش کے مختلف مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان مرحلوں سے لازماً تمہیں بھی گزرنا ہے۔ اگر یہ مرحلے تم نے عزیمت و استقامت کے ساتھ طے کر لیے تو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تمہارا ہی حصہ ہے۔ ’یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ وَےُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْنَ‘۔ (27۔ ابراہیم)
اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے سورۂ یونس اور سورۂ ہود دنوں میں، جیسا کہ آپ نے دیکھا، حضرات انبیاء علیہم السلام اور ان کی قوموں کی سرگزشتیں تفصیل سے سنائی گئی ہیں اور سورۂ ہود کے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے ان سرگزشتوں کے سنانے کا یہ مقصد بیان فرمایا گیا ہے۔
وَکُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ وَجَآءَ کَ فِی ھٰذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَّ ذِکْرٰٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۵ وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنَّا عٰمِلُوْنَ ۵ وَانْتَظِرُوْا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ. (ہود 122-120)
اور ہم رسولوں کی سرگزشتوں میں سے تمہیں وہ سب سنا رہے ہیں جس سے تمہارے دل کو مضبوط اور ان میں تمہارے لیے بھی حق واضح ہوا ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے بھی ان میں موعظت اور یاددہانی ہے اور جو ایمان نہیں لا رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ تم اپنی جگہ پر کام کرو، ہم اپنی جگہ پر کام کر رہے ہیں اور تم بھی انتظار کرو، ہم بھی منتظر ہی ہیں۔
ب۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
بعینہٖ یہی مقصد اس سرگزشت کا بھی ہے جو سورۂ یوسف میں مذکور ہوئی ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ پچھلی سورتوں میں متعدد انبیاؑ ء کی سرگزشتیں سنائی گئی ہیں، اس میں ایک ہی سرگزشت نے پوری سورہ کو گھیر لیا ہے اور اس احسن القصص (بہترین سرگزشت) سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور آخر میں خلاصۂ سرگزشت ان الفاظ میں سامنے آیا ہے۔
اِنَّہٗ مَنْ یَّتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ. (یوسف 90)
بے شک جو تقویٰ اختیار کریں گے اور ثابت قدم رہیں گے تو اللہ ایسے خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔
گویا سورۂ ہود کے بعد سورۂ یوسف اسی حقیقت کو مبرہن کرنے کے لیے ایک تاریخی شہادت ہے جو سورۂ ہود کی مندرجہ بالا آیت میں مذکور ہوئی ہے اور یہ شہادت ایک بہترین شہادت ہے جو ایک بہترین سرگزشت میں نمایاں ہوئی ہے۔
ج۔ قصۂ یوسف (علیہ السلام) کے احسن القصص ہونے کے بعض وجوہ
قصۂ یوسف کا احسن القصص ہونا اس پہلو سے تو نہایت واضح ہے کہ ہر پڑھنے والا اس کے اندر اپنے ایمان کے لیے غذا اور اپنی روح کے لیے لذت و حلاوت محسوس کرتاہے لیکن اس کے بعض پہلوؤں کی طرف ہم بھی یہاں اشارہ کیے دیتے ہیں تاکہ جو لوگ اس کے محاسن کو گرفت میں لینے کا شوق رکھتے ہوں ان کی کچھ رہنمائی ہو سکے۔
ہمارے نزدیک اس کے ’احسن القصص‘ ہونے کے مندرجہ ذیل پہلو خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
1۔ یوں تو قرآن میں حضرات انبیاء علیہم السلام اور ان کی قوموں کے درمیان کشمکش کے جتنے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں سب ہی عبرت و رہنمائی کے لیے بیان ہوئے ہیں کہ ماضی کی ان سرگزشتوں سے حاضر اور مستقبل کے حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے سبق حاصل کیے جائیں لیکن خاص طور پر حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کی یہ سرگزشت تو گویا ایک آئینہ ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے سے وہ تمام حالات دکھا دیے گئے جو آپ کی قوم کے ہاتھوں آپ کو پیش آنے تھے۔
تفصیلات میں جانے کا یہاں موقع نہیں ہے۔ چند نمایاں واقعات کی طرف اشارہ کر دینا کافی ہو گا۔
دارالندوہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے مشورے اور اس شر سے حضورؐ کا محفوظ رہنا۔ غارثور میں حضورؐ کا چھپنا اور پھر مدینہ کو ہجرت فرمانا۔ مدینہ پہنچ کر آہستہ آہستہ آپؐ کو وہ وقار و اقتدار حاصل ہونا کہ چشم فلک نے اس کی نظیر نہیں دیکھی۔ آپ کی قوم کے باایمان لوگوں کا مدینہ کو ہجرت کرنا اور وہاں ایک طاقتور حکومت کا قیام۔ اس حکومت کا عروج اور اہل مکہ کا اس کی اطاعت میں داخل ہونا۔ فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی قوم کے لوگوں سے یہ سوال کہ لوگو، بتاؤ، میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں؟ وہ بولے کہ ’آپ شریف بھائی اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں۔‘ ان کے اس جواب کے بعد آپ نے فرمایا۔ ’میں تم سے وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی، جاؤ تم آزاد ہو، تم پر کوئی الزام نہیں۔‘ ................... ان تمام واقعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے سورۂ یوسف کو تدبر کے ساتھ مطالعہ کیجیے تو یہ ساری سرگزشت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر یوں منطبق ہوتی ہے کہ گویا
جامۂ بود کہ بر قامت او دوختہ بود
2۔ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حاضر و مستقبل اس آئینہ میں بالکل مصور و ممثل دیکھ لیا اسی طرح آپؐ کے دشمنوں نے بھی، کم از کم جو ذہین رہے ہوں گے، اس قصہ کے پیرایہ میں اپنی عاقبت دیکھ لی ہو گی اور اس کا بھی امکان ہے کہ جن کے اندر صلاحیت رہی ہو گی وہ اس سے متاثر بھی ہوئے ہوں گے۔ حالانکہ اگر یہی باتیں صریح الفاظ میں کہی جاتیں تو اس سے فائدہ پہنچنے کی بجائے الٹا نقصان پہنچتا۔ ایک لطیف قصہ کے پردے میں لوگ جو کچھ ہضم کر جاتے ہیں وہ کھلے ہوئے وعظ کی شکل میں کبھی قبول نہیں کرتے۔
3۔ عام طور پر لوگ ان قصوں سے بہت دلچسپی لیتے ہیں جن میں کچھ چاشنی حسن و عشق کی ہو لیکن ایسے قصے بالعموم اخلاق کو بگاڑنے والے ہوتے ہیں۔ اس قصہ کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں حسن و عشق کی چاشنی بھی ہے اور پھر پوری سرگزشت ہر پہلو سے حضرت یوسفؑ کے اعلیٰ کردار و صفات کا ایک مرقع ہے۔ جو مواقع خاص آزمائش کے آئے ہیں ان میں حضرت یوسفؑ نے اپنی اعلیٰ فطرت کے جو جوہر نمایاں کیے ہیں وہ ایسے شاندار ہیں کہ ہر پڑھنے والے کے اندر ان کی تقلید کا جذبہ ابھرتا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ یہ تقلید ناممکن نہیں بلکہ ممکن محسوس ہوتی ہے۔
4۔ یہ پہلو بھی اس سرگزشت کا نہایت دلکش ہے کہ باوجودیکہ جو واقعات و حالات پیش آئے وہ نہایت حیرت انگیز ہیں لیکن کوئی بات بے ربط اور رفتار حالات سے بے جوڑ نہیں معلوم ہوتی۔ ذہن بے تکلف اس کو قبول کر لیتا ہے اور ان کی فطری صداقت سے ہر سننے والا اپنی صلاحیت کے مطابق متاثر ہوتا ہے۔
5۔ حضرت یوسفؑ حسن ظاہر اور حسن باطن دونوں کے جامع تھے لیکن ان کا اصلی حسن ان آزمائشوں میں نمایاں ہوا ہے جو ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں پیش آئے ہیں۔ وہ بیک وقت ذہانت، پاکیزگی، نبوت ، بادشاہی، پاکدامنی اور قدرت کے ساتھ عفو و درگزر کی ایک زندہ جاوید مثال ہے۔
یہ چند نمایاں پہلوؤں کی طرف یہاں ہم نے اشارہ کر دیا ہے۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس قصہ کی حکمت بس انھی چندباتوں تک محددو ہے۔ آگے اثنائے قصہ میں کتنے نوادر حکمت آئیں گے جن کی وضاحت ان کے محل ہی میں مناسب رہے گی۔ اس تمہیدی بحث کے بعد اب ہم اللہ کا نام لے کر سورہ کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔
13 الرعد (The Thunder)
43 verses | مدنی
سورہ کا عمود
یہ سورہ سورۂ یوسفؑ کے توام اور اس کے جوڑے کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ قرآن کے نزول نے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا کر دی تھی، انجام کار کی کامیابی اس میں جس گروہ کو حاصل ہونے والی تھی اس کو اس میں نمایاں فرمایا ہے۔ یہی حقیقت سورۂ یوسف میں بھی واضح کی گئی ہے، البتہ دونوں سورتوں میں طریق استدلال الگ الگ ہے۔ سورۂ یوسف میں حضرت یوسف کی زندگی کے حالات و واقعات سے اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے اور اس سورہ میں عقل و فطرت کے دلائل سے۔ آیات 22-17 سے اس سورہ کے عمود پر روشنی پڑتی ہے۔
ب۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
یہ سورہ اپنے مطالب کے اعتبار سے تمام تر مکی ہے۔ بعض مصاحف میں اس پر مدنی لکھا گیا ہے، جس کی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ ہمارے نزدیک پوری سورہ کا مدنی ہونا تو الگ رہا اس کی کوئی ایک آیت بھی مدنی نہیں ہے۔
اب ہم اختصار کے ساتھ سورہ کے مطالبہ کا تجزیہ بھی کیے دیتے ہیں تاکہ پوری سورہ پر ایک اجمالی نظر پڑ جائے۔
(1) تمہید، جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں، ہوائی باتیں نہیں ہیں، ان کی ہر بات ایک حقیقت ہے اور جن باتوں کی یہ خبر دے رہی ہیں وہ سب پوری ہو کر رہیں گی لیکن اکثر لوگ اپنی ضد پر اڑے ہی رہیں گے، اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔
(4-2) کائنات کی ان نشانیوں کی طرف اشارہ جن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ پورا کارخانہ ایک ہی مدبر کی تدبیر و حکمت سے چل رہا ہے۔ اس میں ربوبیت کا وسیع نظام ہے جو اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ اس کو بنانے والے نے کوئی کھیل تماشا نہیں بنایا ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک عظیم مقصد ہے جو ظہور میں آ کے رہے گا۔ اس کے ہر گوشہ میں کثرت کے اندر وحدت اور اختلاف کے اندر سازگاری کی ایسی نشانیاں موجود ہیں جو صاف شہادت دے رہی ہیں کہ اس پورے کارخانہ پر ایک ہی خالق و مالک کا ارادہ اور تصرف کارفرما ہے۔
(6-5) منکرین قیامت کے اس تعجب پر تعجب کہ وہ مرجانے اور سڑ گل جانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کو نہایت عجیب بات سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ تعجب درحقیقت خدا کے انکار کے ہم معنی ہے۔ ان لوگوں کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں۔ نہ یہ آسمان کی نشانیاں دیکھنے کے لیے اپنی آنکھیں اٹھا سکتے ہیں اور نہ یہ زمین کی نشانیاں دیکھنے کے لیے ان کو جھکا سکتے ہیں۔ یہ توبہ سے پہلے عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ تاریخ کے اندر ان کے لیے کافی سبق موجودہے۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی سرکشی کے باوجود مہلت دیتا ہے لیکن وہ سخت پاداش والا بھی ہے، جب وہ پکڑے گا تو کوئی اس کی پکڑ سے نہ بچ سکے گا۔
(11-7) کفار کی طرف سے کسی نشانئ عذاب کا مطالبہ اور اس کا جواب۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تسلی کہ تم پر ذمہ داری صرف لوگوں کو عذاب سے ہوشیار کردینے کی ہے، عذاب کا لانا یا اس کا وقت مقرر کرنا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کی طرف انذار اور بشارت کے لیے اپنا ایک رسول بھیجتا ہے۔ اگر قوم اس کی تکذیب کر دیتی ہے تو وہ لازماً تباہ کر دی جاتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ عذاب کب اور کس شکل میں آئے گا تو اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ ایک حاملہ یہ تو جانتی ہے کہ اس کے پیٹ میں بچہ ہے اور وہ اس کو جنے گی لیکن اس بات کا علم صرف اللہ ہی کو ہے وہ کب جنے گی اور کیا جنے گی۔
لوگوں کو مخاطب کر کے یہ دھمکی کہ تم میں سے ایک ایک کی ہر بات، خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ اور ہر شخص، خواہ وہ شب کے پردوں میں چھپا ہوا ہو یا روز روشن میں مصروف عمل ہو، اللہ کے علم میں ہے۔ اللہ کے مقرر کیے ہوئے فرشتے اس کی نگرانی کر رہے ہیں، وہ ان کو جب چاہے گا اور جہاں سے چاہے گا پکڑ لے گا۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی نظر عنایت سے محروم نہیں کرتا جب تک وہ قوم خود اپنی روش بگاڑ نہ لے۔ ہاں جب قوم اپنی روش بگاڑ لیتی ہے تو اللہ کی طرف سے اس پر وہ عذاب آتا ہے جس کو کوئی بھی دفع نہیں کر سکتا۔
(13-12) عذاب کی بعض نشانیوں کی طرف اشارہ جو آئے دن لوگوں کے مشاہدے میں آتی رہتی ہیں۔ مثلاً بجلی اور کڑک دمک کی نشانی۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے ایک کڑک سے سب کو فنا کر دے۔ اس کی طاقت بے پناہ ہے۔
(16-14) خدا کے سوا کسی دوسرے کو پکارنا سراب کو پانی سمجھ کر اس کے پیچھے بھاگنا ہے۔ یہ خیالی شرکاء و شفعاء کہیں کام آنے والے نہیں ہیں۔ ان کو پکارنا محض صدا بصحرا ہے۔ اس کائنات میں ہر چیز اپنے وجود سے خدا کی توحید کی شہادت دے رہی ہے۔ جن کی گردنیں خدا سے اکڑی ہوئی رہتی ہیں ان کے جسموں کا بھی سایہ خدا ہی کے آگے سجدہ رہز ہوتا ہے۔ ان کو پکارنے سے کچھ حاصل نہیں جو خود اپنے لیے کسی نفع و ضرر پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ شرک خدا کے عدل و حکمت کی نفی ہے۔ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ایک یکہ و تنہا سب کو اپنے کنٹرول میں رکھنے والا ہے۔
(17) اس کائنات کی بعض نشانیوں کی طرف اشارہ جن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس کا خالق و صانع ہر گوشہ میں نافع کو باقی رکھتا اور غیر نافع کو چھانٹتا رہتا ہے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ وہ حق و باطل کی اس کشمکش میں بھی جو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دعوت اور قرآن کے نزول سے برپا ہوئی ہے باطل کو مٹا دے گا اور حق کا بول بالا کرے گا۔
(25-18) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کر کے اللہ کے راستہ پر چل کھڑے ہونے والوں کے لیے انجام کار کی کامیابی کی بشارت اور اس دعوت کی مخالفت و مزاحمت کرنے والوں پر اللہ کی لعنت۔
(26) اس شبہ کا جواب کہ اگر اللہ کی تمام عنایتوں کے حق دار صرف اہل ایمان ہی ہیں تو وہ لوگ کیوں رزق و فضل کے مالک بنے بیٹھے ہیں جو رات دن اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت و مزاحمت میں سرگرم ہیں۔
(32-27) کفار کی طرف سے کسی معجزہ کا مطالبہ اور اس کا جواب۔ دلوں کو مطمئن کرنے والی چیز اللہ اور اس کی صفات کی یادداشت اور اس میں غور و فکر ہے نہ کہ کوئی معجزہ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی کہ تمہیں وہی کچھ پیش آ رہا ہے جو تم سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو پیش آچکا ہے تو تم خدا کی وحی کی ہوئی کتاب ان کو سنا دو اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ مسلمانوں کو یہ تسلی کہ یہ نہ خیال کرو کہ اگر ان کو کوئی معجزہ دکھا دیا گیا تو یہ مان لیں گے۔ اگر کوئی ایسا قرآن بھی ان کے لیے اتار دیا جائے جس سے پہاڑ چلنے لگیں، زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے یا مردے بولنے لگ جائیں جب بھی یہ اپنی ہٹ سے باز آنے والے نہیں ہیں۔ اہل ایمان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ نے ایمان کے معاملے میں جبر کو پسند نہیں فرمایا ہے، اگر وہ جبر کوپسند کرتا تو سب کو ہدایت کے راستہ پر چلا دیتا۔ عذاب کی نشانیاں ان پر یا ان کے قرب و جوار میں ظاہر ہوتی رہیں گی یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ کن عذاب آجائے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی کہ جس طرح یہ لوگ تمہارا مذاق اڑا رہے ہیں اسی طرح تم سے پہلے آنے والے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا، بالآخر خدا کا عذاب نمودار ہوا اور ان مذاق اڑانے والوں کا فیصلہ کر دیا گیا۔
(35-33) شرک اور شرکاء کی نفی۔ شرکاء و شفعاء کا کوئی وجود نہیں۔ یہ محض من گھڑت باتیں ہیں۔ اس فریب نفس میں مبتلا ہو کر جنھوں نے اللہ کے راستہ سے منہ موڑا وہ اس دنیا میں بھی خدا کے عذاب سے دوچار ہوں گے اورآخرت کا عذاب تو اس سے کہیں سخت ہو گا۔ کوئی شریک و شفیع وہاں ان کو بچانے کے لیے نہیں اٹھے گا۔ جنت کی ابدی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جو خدا سے ڈرنے والے ہیں۔
(37-36) اہل کتاب کے دو گروہوں کا حوالہ جن میں سے ایک حق پر قائم تھا اس وجہ سے اس نے قرآن کا پوری خوش دلی سے خیر مقدم کیا اور دوسرا اپنی ایجاد کردہ بدعات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس کا مخالف بن گیا۔ ان کے سامنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان حق اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تنبیہ کہ حق کے واضح ہو چکنے کے بعد اگر تم نے ان کی بدعات کی پیروی کی تو تمہیں خدا کی پکڑ سے کوئی نہ بچا سکے گا۔
(43-38) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو مخالفین کے اعتراضات و مطالبات کے مقابل میں تسلی کہ تم سے پہلے جو رسول آئے وہ بھی کوئی فرشتے یا آسمانی مخلوق نہیں تھے بلکہ تمہاری ہی طرح بشر اور بیویاں رکھنے والے لوگ تھے۔ انھوں نے جو معجزے بھی دکھائے وہ اللہ کے حکم سے دکھائے، اپنے اختیار سے نہیں دکھائے۔ تم ان لوگوں کو جن باتوں سے ڈرا رہے ہو ہو سکتا ہے کہ ہم تمہاری زندگی ہی میں ان میں سے بعض چیزوں کو دکھا دیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم تمہیں وفات دیں اور اس کے بعد ان سے مواخذہ کریں۔ یہ لوگ اگر آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انھیں یہ چیز نظر آسکتی ہے کہ ہم ان کے اطراف سے بالتدریج ان کی طرف بڑھ رہے ہیں اور عنقریب ان کو اپنے گھیرے میں لیا چاہتے ہیں۔ اس وقت انھیں پتہ چل جائے گا کہ انجام کار کی کامیابی کس کا حصہ ہے۔ اگر یہ لوگ تمہیں رسول نہیں مانتے تو تم ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے اللہ اور اللہ کے وہ بندے کافی ہیں جن کے پاس اللہ کی کتاب کا علم ہے۔
14 ابراہیم (Abraham)
52 verses | مکی
سورہ کا عمود
سورۂ رعدکی آیات ’اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا‘ الایہ میں قریش کو جو دھمکی اور مسلمانوں کو جو بشارت، اشارہ اور کنایہ کے انداز میں، دی گئی تھی اس سورہ میں وہ کھل کر سامنے آگئی ہے۔ قریش پر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ آج مکہ کی سرزمین پر حق و باطل میں جو کشمکش برپا ہے اس میں تم جس کلمۂ باطل کے علمبردار ہو اس کی کوئی بنیاد نہ زمین میں ہے نہ آسمان میں۔ اس کی مثال گھورے پر اگے ہوئے ایک شجرہ خبیثہ کی ہے جو بیک جنبش اکھاڑ کر پھینکا جا سکتا ہے۔ اگر یہ اب تک برقرار رہا تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ کوئی مضبوط جڑ رکھتا تھا بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اس کو اکھاڑنے والے ہاتھ موجود نہیں تھے۔ اب اللہ نے وہ ہاتھ نمودار کر دیے ہیں توتم دیکھو گے کہ کتنی جلدی اس کا قصہ پاک ہوا جاتا ہے۔ اس کے بالمقابل اسلام کی دعوت کی تمثیل اس سدا بہار شجرۂ طیبہ سے دی گئی ہے جس کی جڑیں پاتال میں اتری ہوئی اور جس کی شاخیں فضائے آسمانی میں پھیلی ہوئی ہوں۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا میں بھی مضبوط و مستحکم کرے گا اور آخرت میں بھی ان کو سرخروئی بخشے گا بشرطیکہ وہ صبر و استقامت کے ساتھ اپنی دعوت حق پر جمے رہے اور اس راہ میں پیش آنے والی آزمائشوں کا انھوں نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے مقابلہ کیا۔
اس حقیقت کو تاریخ کی روشنی میں واضح کرنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاؑ ء کی سرگزشتوں کے ان پہلوؤں کی طرف اس میں اشارات ہیں جن سے اصل مدعا کی تائید ہوتی ہے۔ آخر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سرگزشت کا حوالہ دے کر یہ واضح فرمایا ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے اپنے وطن سے ہجرت کر کے اس وادئ غیر ذی زرع میں آئے تھے، اس سرزمین کے لیے انھوں نے کیا دعا کی، اس میں اپنی اولاد کو بساتے ہوئے ان کے دل میں کیا ارمان تھے اور انھوں نے اپنے رب سے ان کے لیے کیا چاہا اور کیا مانگا تھا۔ یہ باتیں سنانے سے مقصود قریش کے سامنے ان کی اپنی تاریخ کا آئینہ رکھ دینا ہے تاکہ وہ اندازہ کر سکیں کہ ان کو کیا بننا تھا اور وہ کیا بن کے رہ گئے ہیں۔
اگرچہ سورہ کا نظام سمجھنے کے لیے یہ تمہید بھی کافی ہے لیکن اپنے طریقہ کے مطابق ہم سورہ کے مطالب کا تجزیہ بھی کیے دیتے ہیں۔
ب۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
(4-1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے اس کتاب کو اتارنے کا مقصد واضح فرمایا گیا ہے کہ یہ اس لیے اتاری گئی ہے کہ اس کے ذریعے سے تم لوگوں کو عقاید و اعمال کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان و عمل صالح کی روشنی میں لاؤ۔ پھر ان لوگوں کا انجام بتایا گیا ہے جو اس کا انکار کریں گے۔ قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ اس کتاب کو ان کی زبان میں اتار کر خدا نے ان پر اپنی حجت تمام کر دی ہے۔ پیغمبر صلعم کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ لوگوں کا ایمان لانا یا نہ لانا خدا کی توفیق بخشی پر منحصر ہے وہ جس کو جس چیز کا مستحق پائے وہی دے گا۔ اس معاملے میں تمہاری ذمہ داری صرف بلاغ کی ہے۔
(17-5) حضرت موسیٰ ؑ اور دوسرے انبیاؑ ء سابقین کا حوالہ کہ وہ بھی اسی مقصد کو لے کر آئے تھے اور انھیں اس راہ میں بڑے بڑے مصائب سے دوچار ہونا پڑا لیکن انھوں نے استقامت دکھائی جس کا صلہ اللہ تعالی کی طرف سے ان کو یہ ملا کہ وہ غالب رہے اور ان کے مخالفین کو اللہ نے تباہ کر دیا۔ مقصود ان سرگزشتوں کے حوالہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر یہ واضح کرناہے کہ اس کشمکش میں بھی بالآخر غلبہ انہی کو حاصل ہو گا لیکن ان ابتدائی مراحل میں صبر و استقامت اور آخری مرحلہ میں شکر نعمت لازمی ہے۔
(22-18) کفارو مشرکین کا آخرت میں جو حشر ہو گا اس کا بیان کہ ان کا سارا کیا کرایا خاک اور راکھ ہو کر اڑ جائے گا لیڈر اور ان کے پیرو ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ یہاں تک کہ شیطان بھی اپنی پیروی کرنے والوں سے اعلان براء ت کر دے گا اور ان سے کہے گا کہ تم مجھے ملامت کرنے کے بجائے خود اپنے سر پیٹو، تم اپنی بدبختی کے ذمہ دار خود ہو۔
(27-23) اس کے مقابل میں اہل ایمان کا حال آخرت میں یہ ہو گا کہ آپس میں سلام و تحیت اور مبارک سلامت کے تبادلے ہو رہے ہوں گے۔ اللہ نے اپنے قول محکم کی بدولت جس طرح دنیا میں ان کو سرفرازی بخشی اسی طرح آخرت میں بھی ان کو سرفرازی بخشے گا۔
(34-28) قریش کے لیڈروں کو انذار و تنبیہ کہ انھوں نے اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو کفر و شرک کا ذریعہ بنایا اور اس طرح اپنی قوم کو جہنم کے گھاٹ پر اتارا۔ ضمناً مسلمانوں کو نصیحت کہ وہ نماز کا اہتمام رکھیں اور اپنے مال میں سے خدا کی راہ میں سراً و علانیۃً خرچ کریں۔ مقصود اس نصیحت سے مسلمانوں کو یہ رہنمائی دینا ہے یہی چیز ان کے حریفوں کے مقابل میں عند اللہ ان کے حق کو مرجح کرنے والی اور حضرت ابراہیمؑ کے اس مقصد کو پورا کرنے والی ہو گی جس کے لیے انھوں نے اس وادئ غیر ذی زرع میں، جیسا کہ آگے اس کا ذکر آرہا ہے، اپنی ذریت کو بسایا تھا۔
(41-35) حضرت ابراہیمؑ کی ان دعاؤں کا حوالہ جو انھوں نے سرزمین مکہ کو اپنا دارالہجرت بنانے کے بعد اس سرزمین کے لیے اور اپنی اولاد کے لیے کیں۔ مقصود ان کے حوالے سے قریش پر یہ واضح کرنا ہے کہ ان کی ساری زندگی حضرت ابراہیمؑ کی دعاؤں اور تمناؤں کے بالکل برعکس ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے مقصد کو اگر پورا کر رہے ہیں تو یہ پیغمبر اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمان لیکن قریش ان کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
(52-42) خاتمۂ سورہ جس میں تمام تر تنبیہ و انذار ہے۔
15 الحجر (The Rocky Tract, Al-Hijr, The Stoneland, The Rock City)
99 verses | مکی
سورہ کا عمود
پچھلی سورہ کے آخر میں کفار کے لیے جو تہدید و وعید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو تسکین و تسلی مجمل الفاظ میں وارد ہوئی ہے وہ اس سورہ میں بالکل سامنے آگئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ یہ قرآن بجائے خود ایک واضح حجت ہے۔ اگر یہ لوگ اس کونہیں مان رہے ہیں، تمہیں خبطی اور دیوانہ کہتے ہیں، مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان پر فرشتے اتارے جائیں تب یہ مانیں گے تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے، ہمیشہ سے رسولوں کے جھٹلانے والوں کی یہی روش رہی ہے، اگر ان کے مطالبہ کے مطابق ان کو معجزے دکھا بھی دیے گئے جب بھی یہ ہٹ سے باز آنے والے نہیں ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، وہ وقت آئے گا جب یہ آرزوئیں کریں گے کہ کاش پیغمبرؐ اور قرآن کی دعوت قبول کر کے مومن و مسلم بنے ہوتے۔
ب۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
(15-1) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین و تسلی کہ یہ قرآن بجائے خود ایک واضح حجت ہے، یہ کسی خارجی نشانی یا کسی معجزے کا محتاج نہیں ہے۔ جو لوگ اس کو آج جھٹلا رہے ہیں وقت آئے گا جب وہ اپنی بدبختی پر ماتم کریں گے۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑو، یہ چند دن اپنی خود فراموشیوں میں مگن رہ لیں۔ اس قوم کی ہلاکت کے لیے خدا کی طرف سے ایک وقت مقرر ہے، جب وہ وقت پورا ہو جائے گا خدا کا عذاب آجائے گا۔ یہ خدا کے فرشتوں کے ظہور کا مطالبہ کر رہے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ فرشتے تو جب آتے ہیں خدا کا فیصلہ لے کر ہی آتے ہیں اس کے بعد کسی قوم کو مہلت نہیں ملا کرتی۔ اگر یہ لوگ اس قرآن کی تکذیب کر رہے ہیں تو اس کی پروا نہ کرو، خدا اس کی حفاظت کا خود سامان کرے گا۔ یہی روش ان سے پہلے کی قوموں نے اختیار کی تو وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچیں۔ وہی حشر ان کا بھی ہونا ہے۔ یہ اطمینان رکھو کہ ان کو کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی قائل کرنے والا نہیں بن سکتا۔ وہ اس کو دیکھ کر بھی کوئی نہ کوئی بات بنا ہی لیں گے۔
(25-16) قرآن کی دعوت کی صداقت کی جو نشانیاں آفاق میں موجود ہیں ان کی یاددہانی۔ آسمان اور اس کے چمکتے ہوئے تارے، زمین اور اس کی نوع بنوع پیداواریں، ہوائیں اور ان کی ابر خیزیاں۔ ان عجائب قدرت کے مشاہدے سے وہ سبق کیوں نہیں حاصل کرتے؟ ان نشانیوں کے ہوتے کسی معجزے کے ظاہر ہونے کی کیا ضرورت باقی رہی؟
(48-26) آدمؑ اور ابلیس کے ابتدائی ماجرے کی یاددہانی جس سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ کفار کی گمراہی کااصل مصدر کیا ہے اور ابلیس کی ذریات نے ان کو جس ضلالت میں پھنسایا ہے بالآخر اس کا انجام کیا ہونا ہے۔ نیز شیطان کے فتنوں سے محفوظ رہنے والے متقین کی فوز و فلاح کی طرف ایک اجمالی اشارہ۔
(77-49) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے فرشتوں کے واقعہ کی یاددہانی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا اپنے بندوں پر بڑا مہربان بھی ہے اور ان پر دردناک عذاب لانے والا بھی۔ وہی فرشتے حضرت ابراہیمؑ کے لیے بیٹے کی بشارت لے کر آئے اور وہی فرشتے قوم لوط کے لیے صاعقۂ عذاب بن کر نمودار ہوئے۔ آخر میں کفار کو توجہ دلائی گئی ہے کہ تم لوط کی بستیوں پر سے آئے دن گزرتے ہو، اگر دیدۂ بینا رکھتے ہو تو ان کے انجام سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ تم پیغمبرؐ سے فرشتوں کے ظہور کے لیے مطالبہ کر رہے ہو۔ فرشتے تو جب مکذبین کے پاس آتے ہیں تو اسی طرح آتے ہیں جس طرح قوم لوط کے پاس آئے کہ ان کے آنے کے بعد ان پر عذاب الٰہی آدھمکا۔
(84-78) قوم شعیبؑ اور قوم ثمود کے انجام کی طرف اجمالی اشارہ۔ قوم لوطؑ کی طرح قوم شعیبؑ اور قوم ثمود کے آثار پر سے بھی قریش کو اپنے تجارتی سفروں میں گزرنے کا موقع ملتا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر دیدۂ بینا ہو تو قدم قدم پر مفسدین کے انجام کے آثار موجود ہیں۔ یہ کیا ضروری ہے کہ جب اپنے ہی اوپر سب کچھ نازل ہو جائے تب ہی آنکھیں کھلیں۔
(99-85) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ک لیے تسکین و تسلی کہ ابھی خوبصورتی کے ساتھ ان لوگوں سے درگزر کرو۔ ان کے کیے کا سارا انجام ان کے سامنے آجائے گا۔ خدا نے قرآن عظیم کی شکل میں جو دولت گرانمایہ تمہیں بخشی ہے وہ تمہارے لیے کافی ہے۔ اس کے ہوتے تمہیں کسی چیز کی احتیاج نہیں۔ ان کے طعنوں کی تم کچھ پروا نہ کرو، خدا کی تسبیح اور نماز میں مشغول رہو۔ صبح یقین طلوع ہوا ہی چاہتی ہے۔
16 النحل (The Honey Bees)
128 verses | مکی
سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق
اس گروپ کی تمام سورتوں کے عمود پر ایک جامع بحث ہم سورۂ یونس کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں۔ رسول کی بعثت سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش شروع ہوتی ہے وہ لازماً رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کی فتح اور اس کے جھٹلانے والوں کی ہزیمت پر ختم ہوتی ہے۔ یہی حقیقت ایک نئے اسلوب سے اس سورہ میں بھی واضح کی گئی ہے۔ اس پہلو سے دیکھیے تو اس کی آیت 30 ’لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ وَلَدَارُالْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَ‘ کو عمود کی حیثیت حاصل ہے۔ یعنی جو لوگ نیکی اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھی فیروز مندی ہے اور آخرت کا گھر تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے ہی اور کیا ہی خوب ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کا گھر۔ یہی بات اس سورہ کی آیات 42-41 میں بھی فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ حق کی راہ میں مخالفین حق کے مظالم سہہ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت اختیار کرتے ہیں ہم ان کو دنیا میں بھی اقتدار و تمکن عطا کرتے ہیں اور آخرت کا صلہ تو اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے ہی۔
سابق سورہ (سورۂ حجر) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس تسلی کے مضمون پر ختم ہوئی تھی کہ آج جو لوگ تمہارے انذار اور تمہاری تنبیہ و تذکیر کا مذاق اڑا رہے ہیں اور تمہاری باتوں کو محض ہوائی باتیں خیال کر رہے ہیں تم ان کے اس استہزاء سے دل شکستہ نہ ہو، تمہاری طرف سے ان متکبروں اور مغروروں سے نپٹنے کے لیے ہم کافی ہیں۔ اس مضمون کے بعد یہ سورہ بغیر کسی تمہید کے ان متکبرین ہی کو خطاب کر کے یوں شروع ہو گئی ہے کہ ’اَآٰی اَمْرُ اللّٰہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ سُبْحٰٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ‘۔ یعنی عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہو چکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ، اور یہ لوگ اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ جن کو خدا کا شریک بنائے بیٹھے ہیں وہ ان کو خدا کی پکڑ سے بچالیں گے۔ اللہ اس سے پاک اور برتر ہے کہ اس کا کوئی شریک و سہیم ہو۔
ب۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
(9-1) کفار قریش کو تنبیہ کہ عذاب الٰہی کو آیا ہی سمجھو۔ اس کو مذاق سمجھ کر اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ اس گھمنڈ میں نہ رہو کہ تم نے خدا کا شریک بنا رکھا ہے وہ تم کو اس سے بچالیں گے۔ خدا کا کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ دنیا کوئی بازیچہ اطفال نہیں ہے کہ لوگ اس میں دھاندلی مچاتے پھریں اور اس کا خالق و مالک ان سے کوئی باز پرس نہ کرے۔ پانی کی ایک بوند سے پیدا ہوئے انسان کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ وہ خدا سے جھگڑا کرے کہ مرنے کے بعد اس کو کون دوبارہ پیدا کر سکتا ہے۔ اس دنیا میں خدا کی ربوبیت اور اس کی پروردگاری کی جو نشانیاں ہر قدم پر موجود ہیں وہ اس بات کی شاہد ہیں کہ اس کا خالق نہایت ہی مہربان و رحیم ہے۔ وہ ایک ایسا دن ضرور لائے گا جس میں تمام معاملات کا فیصلہ کرے گا اور نیکوں اور بدوں دونوں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔ پس لوگوں کے لیے صحیح رویہ یہی ہے کہ وہ اس کی بتائی ہوئی اور اس تک پہنچانے والی سیدھی راہ اختیار کریں اور کج و پیچ کی راہوں میں بھٹکنے سے بچیں۔ اگر خدا چاہتا تو سب کو راہ ہدایت ہی پر کر دیتا لیکن اس معاملے میں اس نے جبر کو نہیں پسند فرمایا بلکہ یہی چاہا کہ لوگ اپنے اختیار و انتخاب سے ہدایت کی راہ اختیار کریں۔
(23-10) توحید کے دلائل اس کائنات کے مختلف اجزاء میں توافق کے پہلو سے۔ یعنی اس کائنات کے مختلف اجزا میں جو باہمی سازگاری ہے وہ اس حقیقت کی نہایت واضح دلیل ہے کہ ایک ہی حکیم و قدیر کا ارادہ اس پوری کائنات میں کارفرما ہے۔ اس میں کسی اور کی شرکت نہیں ہے تو جو لوگ دوسرے معبودوں پر تکیہ کیے بیٹھے اور آخرت سے نچنت ہیں وہ اپنے اس گھمنڈ کی سزا ایک دن ضرور بھگتیں گے۔
(32-24) قرآن اور اس کی تعلیمات سے متعلق متکبرین کی رائے اور ان کے رویے کی طرف اشارہ اور اس حقیقت کی تصریح کہ آج جو لوگ اپنی لیڈری کے زعم میں قرآن سے لوگوں کو برگشتہ کر رہے ہیں، وہ قیامت کے دن اپنی گمراہی کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان لوگوں کے بوجھ میں سے بھی کچھ حصہ ان کو اٹھانا پڑے گا جن کی گمراہی کا وہ ذریعہ بنیں گے۔ ان کے مقابل میں خدا ترسوں کا جو رویہ ہے اس کا حوالہ اور ان کے اچھے انجام کی طرف اشارہ۔
(40-33) مشرکین، قرآن کی مخالفت اور اپنے باطل نظریات کی حمایت میں جو باتیں کہتے تھے ان میں سے بعض کا حوالہ اور ان کی تردید۔
(47-41) جو لوگ کلمۂ حق کی خاطر مشرکین کے ہاتھوں مصائب جھیل رہے تھے ان کی ہمت افزائی اور شرک کے علم برداروں کو ان کی سرکشی پر تہدید و وعید۔
(60-48) توحید کے دلائل اور مشرکین کو تنبیہ کہ سب کچھ اللہ واحد ہی کے اختیار میں ہے۔ اگرا س کی پکڑ میں آگئے تو کوئی دوسرا اس کی پکڑ سے نجات دینے والا نہیں بن سکتا اور وہ جب چاہے اور جس حال میں چاہے لوگوں کو پکڑ سکتا ہے۔
(64-61) مشرکین کو تنبیہ کہ خدا نے اگر تم کو مہلت دے رکھی ہے تو اس لیے دے رکھی ہے کہ اس کے ہاں ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب وہ وقت مقرر آجائے گا تو پھر نہ اس سے پیچھے ہٹ سکو گے نہ آگے بڑھ سکو گے۔ ساتھ ہی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی کہ جو کچھ تمہیں پیش آرہا ہے یہی کچھ تم سے پہلے رسولوں کو بھی پیش آچکا ہے۔ تمہارا کام لوگوں کو مومن و موحد بنا دینا نہیں ہے بلکہ صرف لوگوں پر اللہ کی حجت تمام کر دینا ہے۔
(83-65) اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں بخش رکھی ہیں ان میں سے کچھ کو گنا کر مشرکین کو ملامت کہ ان میں سے کس نعمت کو وہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی کہ جو لوگ جان بوجھ کر انجان بن رہے ہیں ان کو راستہ پر لا کھڑا کرنا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ تمہاری ذمہ داری صرف حق کو پہنچا دینے کی ہے۔
(90-84) اللہ تعالیٰ نے ہر امت میں حق کی تبلیغ کے لیے اپنے رسول بھیجے ہیں۔ وہ ان سے قیامت کے دن گواہی دلوا دے گا کہ انھوں نے اللہ کا پیغام ان کو پہنچا دیا۔ یہی حیثیت اس امت کے لوگوں کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ نے آپؐ پر یہ کتاب اتاری اور اس کتاب کا جو بنیادی پیغام ہے اس کا اجمالی حوالہ۔
(95-91) یہود سے خطاب اور ان کو ملامت کہ تم اللہ سے عہد باندھ کر محض بربنائے حسد مخالفین حق کی صف میں جا کھڑے ہوئے اور اس بڑھیا کے مانند جو اپنا کاتا بنا خود اپنے ہی ہاتھوں ادھیڑ کر رکھ دے تم اللہ سے باندھے ہوئے عہد کے بخیے ادھیڑ رہے ہو۔ اللہ کے عہد کو متاع دنیا کے عوض نہ بیچو اور اپنی قسموں کو لوگوں کے حق سے برگشتہ کرنے کا ذریعہ نہ بناؤ۔
(105-96) جو لوگ مخالفوں کی مخالفت کے علی الرغم حق پر ثابت قدم رہیں گے ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں بہترین صلہ کا وعدہ۔ قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں کو بدظن کرنے کے لیے مخالفین جو سخن بازیاں کرتے تھے ان میں سے بعض کا جواب۔
(111-106) اعدائے حق کی ستم رانیوں کے ہدف بنے ہوئے مسلمانوں کو صبر و استقامت کی تلقین اور ان لوگوں کو تہدید و وعید جو مخالفین سے مرعوب ہر کر اسلام سے برگشتہ ہو جائیں گے۔ حق کی خاطر ہجرت کی طرف ایک اشارہ اور اس کا اجر و ثواب۔
(117-112) قریش کی تنبیہ کے لیے ایک بستی کی تمثیل کہ اگر انھوں نے اپنی روش نہ بدلی تو ان کا بھی وہی انجام ہو سکتا ہے جو اس بستی والوں کا ہوا۔ نیز ان کو یہ ہدایت کہ اپنے جی سے حرام و حلال نہ ٹھہراؤ۔ اللہ نے جن چیزوں کو حلال ٹھہرایا ہے ان کو کھاؤ، اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت ان کو حرام نہ ٹھہراؤ۔
(124-118) اس امر کی طرف اشارہ کہ یہود پر بھی وہی چیزیں حرام ٹھہرائی گئی تھیں جو اس ملت میں حرام ہیں لیکن انھوں نے اپنی سرکشی کے سبب سے خود اپنے اوپر بعض چیزیں حرام کر لیں اور اب ان کو ملت ابراہیمؑ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ابراہیمؑ کو نہ یہودیت و نصرانیت سے کوئی علاقہ تھا، نہ وہ مشرکین میں سے تھے، ان کی ملت ان سب سے الگ تھی اور وہی ملت ہے جس کی پیروی کی ہدایت تمہیں کی گئی ہے۔ سبت کے احترام کا تعلق بھی یہود سے تھا، ملت ابراہیمؑ سے اس کو کوئی تعلق نہیں۔
(128-125) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسل اور مسلمانوں کو حکمت اور موعظت کے ساتھ دعوت کی ہدایت اور اس راہ میں صبر و استقامت کی تلقین۔ صبر و اسقامت کے حصول کا ذریعہ تعلق باللہ ہے۔ مخالفین کی سازشوں سے دل شکستہ نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ اپنے متقی اور خوب کار بندوں کا ساتھی ہے۔
سورہ کے مطالب کا اجمالی تجزیہ کرنے کے بعد اب ہم اس کی تفصیلی تفسیر شروع کرتے ہیں۔
’وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ‘
17 الاسراء (Isra, The Night Journey, The Children of Israel)
111 verses | مکی
سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق
یہ سورہ، سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ نحل ۔۔۔ کی، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں، توام سورہ ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے، صرف تفصیل و اجمال کا فرق ہے۔ پچھلی سورہ میں جو باتیں اشارات کی شکل میں ہیں وہ اس سورہ میں نہایت واضح صورت میں آگئی ہیں۔ مثلاً۔
پچھلی سورہ میں مشرکین مکہ کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کے لیے دعوت اور انذار دونوں ہے لیکن جہاں تک بنی اسرائیل کا تعلق ہے بات صرف اشارات کی شکل میں ہے۔ اس سورہ میں تفصیل کے ساتھ ان کو مخاطب کر کے، ان کی اپنی تاریخ کی روشنی میں، یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ گر تم اس غرے میں مبتلا ہو کہ تم خدا کے محبوب اور چہیتے ہو تو یہ غرہ محض خود فریبی پر مبنی ہے، تمہاری اپنی تاریخ شاہد ہے کہ جب جب تم نے خدا سے بغاوت کی ہے تم پر مار بھی بڑی ہی سخت پڑی ہے۔ خدا کی رحمت کے مستحق تم اسی صورت میں ہوئے ہو جب تم نے توبہ اور اصلاح کی راہ اختیار کی ہے تو اگر اپنی بہبود چاہتے ہو تو اس پیغمبرؐ کی پیروی کرو جو اسی سیدھی راہ کی دعوت دے رہا ہے جو تورات کے ذریعے سے تم پر کھولی گئی تھی۔ ساتھ ہی معراج کے واقعے کی طرف اشارہ کر کے مشرکین مکہ اور بنی اسرائیل دونوں پر یہ حقیقت بھی واضح فرمائی گئی ہے کہ اب مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ دونوں کی امانت خائنوں سے چھین کر اس نبیؐ امی کے حوالہ کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے تو جس کو اپنی روش بدلنی ہے وہ بدلے ورنہ اپنی ضد اور سرکشی کے تنائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جائے۔
قرآن جس فطری اور سیدھے طریقۂ زندگی کی دعوت دے رہا ہے، پچھلی سورہ میں صرف اس کی اساسات کی طرف اجمالی اشارہ تھا۔ اوامر میں عدل، احسان اور قرابت مندوں کے حقوق کی ادائی کا حوالہ تھا اور منہیات میں فحشاء، منکر اور بغی کا۔ اس سورہ میں اس کی پوری تفصیل آگئی ہے۔ اس تفصیل سے تورات کے احکام عشرہ کے ساتھ اس کی مطابقت واضح ہوتی ہے۔ گویا انسانی فطرت اور قدیم آسمانی تعلیم دونوں ہم آہنگ ہیں اس وجہ سے قریش اگر اس سے بغاوت کرتے ہیں تو ان کی بھی شامت ہے اور اگر بنی اسرائیل اس کے خلاف سازشیں کرتے ہیں تو ان پر بھی خدا کی پھٹکار ہے۔
پچھلی سورہ میں ہجرت کا ذکر بھی ہے لیکن اشارے کی شکل میں ہے۔ اس سورہ میں اس کا ذکر نہایت واضح طور پر ہوا ہے اور اس کے لیے جن تیاریوں کی ضرورت ہے ان کی ہدایت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ کو ایسے انداز میں دی گئی ہے جس سے یہ نمایاں ہو رہا ہے کہ اس کا وقت بہت قریب ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ سورہ ہجرت کے قریب زمانہ میں نازل ہوئی۔
ب۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
(1) واقعہ معراج کی طرف اشارہ جس میں یہ حقیقت مضمر تھی کہ اب مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ دونوں گھروں کی امانت خائنوں اور بدعہدوں سے چھین کرنبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ کی گئی۔ اب یہی ان مقدس گھروں اور ان کے انوار و برکات کے وارث اور محافظ و امین ہوں گے اوران کے قابضین ۔۔۔ مشرکین قریش اور یہود ۔۔۔ عنقریب ان گھروں کی تولیت سے بے دخل کیے جائیں گے۔
(8-2) تاریخ بنی اسرائیل کی روشنی میں ان کے اس زعم کی تردید کہ وہ اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں اس وجہ سے اب دنیا کی مذہبی پیشوائی ان کا اجارہ ہے۔ ان آیات میں ان پر واضح کیا گیا ہے کہ تمہیں خود تمہارے نبیوں کے ذریعہ سے آگاہ کر دیا گیا تھا کہ تم دو مرتبہ خدا سے بغاوت اور زمین میں فساد مچاؤ گے اور دونوں مرتبہ خوب خوب پٹو گے۔ چنانچہ تمہاری تاریخ شاہد ہے کہ تم نے دو مرتبہ خدا سے بغاوت کی اور دونوں ہی مرتبہ خوب پٹے۔ ایک مرتبہ کلدانیوں کے ہاتھوں اور دوسری مرتبہ رومیوں کے ہاتھوں، تمہیں کلدانیوں کے شکنجہ سے نجات اس وقت ملی جب تم نے اپنے حالات کی اصلاح کی۔ اسی طرح اگر آئندہ بھی تم خدا کی رحمت کے مستحق بننا چاہتے ہو تو توبہ اور اپنے حالات کی اصلاح کرو۔ اس نبی امیؐ کی دعوت نے تمہارے لیے توبہ اور اصلاح کی راہ کھول دی ہے۔ اگر سلامتی چاہتے ہو تو اس دعوت کو قبول کرو اور اس کی برکات میں حصہ دار بن جاؤ۔ اگر تم نے حسد میں مبتلا ہو کر اس نبی کی تکذیب کر دی اور ’نَحْنُ اَبْنَاءُ اللّٰہِ وَاَحِبَّاءُ ہٗ‘ کے غرے میں مبتلا رہے تو یاد رکھو ہم کہیں چلے نہیں گئے ہیں، ہم تمہیں پھر اسی طرح پٹوائیں گے جس طرح اس سے پہلے پٹوا چکے ہیں۔
(21-9) مشرکین قریش اور بنی اسرائیل دونوں کو قرآن پر ایمان لانے کی دعوت کہ یہ قرآن فطرت کی اسی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کر رہا ہے جس کی طرف سابق انبیاؑ ء اور پچھلے صحیفوں نے رہنمائی کی ہے۔ ان کے لیے بشارت ہے جو اس کو قبول کر لیں اور ان کی شامت ہے جو اس کو رد کر دیں۔ ان لوگوں کی حالت پر افسوس جو اس دعوت حق کو قبول کرنے کے بجائے حسی معجزات اور عذاب کی نشانیاں مانگتے ہیں اور ان نشانیوں کی طرف توجہ نہیں کرتے جو آفاق میں بھی پھیلی ہوئی ہیں اور جن کی تفصیل اس کتاب میں بھی کر دی گئی ہے۔ یہ اپنے مزعومہ معبودوں پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں حالانکہ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، ہر ایک کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا ہے اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ انذار و تنبیہ کے بغیر عذاب نہیں بھیجتا۔ اب ان کو تنبیہ ہو چکی ہے، اگر انھوں نے اس تنبیہ سے فائدہ نہ اٹھایا تو آگے عذاب ہی کا مرحلہ باقی ہے۔ ساتھ ہی عذاب کے بارے میں سنت الٰہی کی وضاحت کر دی گئی ہے۔
(39-22) قرآن جس طریق اقوم کی دعوت دے رہا ہے (جس کی طرف سورۂ نحل کی آیت 90 میں اشارہ گزر چکا ہے) اس کی تفصیل۔ یہ تفصیل واضح کرتی ہے کہ تورات کے احکام عشرہ اور قرآن حکیم کی ان ہدایات میں پوری مطابقت ہے اور یہ عین انسانی فطرت کے موافق ہیں جن کے بغیر کوئی صالح معاشرہ وجودمیں نہیں آسکتا اس وجہ سے نہ بنی اسرائیل کے لیے ان سے فرار کا کوئی جواز ہے نہ بنی اسمٰعیل کے لیے۔ حضرت ابراہیمؑ سے لے کر حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت مسیحؑ تک سب نے انہی باتوں کی تعلیم دی ہے۔
(52-40) مشرکین قریش کی قرآن سے بیزاری کے اصل سبب کی طرف اشارہ کہ وہ توحید اور آخرت پر ایمان نہیں لانا چاہتے اس وجہ سے جب ان کو قرآن سنایا جاتا ہے تو وہ اس سے بدکتے اور پیغمبرؐ پر طرح طرح کے فقرے چست کرتے ہیں حالانکہ ان دونوں باتوں کے دلائل اس قدر واضح ہیں کہ کوئی عاقل ان کا انکار نہیں کر سکتا۔
(55-53) یہ تین آیتیں اثنائے کلام میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف التفات کی نوعیت کی ہیں۔ آپ کو یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اپنے صحابہؓ کو متنبہ کر دیں کہ دعوت کی اس گرما گرمی کے دور میں، تبلیغ حق کے جوش میں، کوئی ایسی بات زبان سے نہ نکالیں جو مخالفین کے لیے مزید اشتعال کا سبب بن جائے اور شیطان اسے فتنہ کا ذریعہ بنالے۔ ساتھ ہی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہارا فرض صرف تبلیغ حق تک محدود ہے، لوگوں کو مومن و مسلم بنا دینا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے، اللہ ہی جس کو چاہے گا ایمان کی توفیق دے گا اور جس کو چاہے گا اس سے محروم رکھے گا۔ آیت 55 میں یہ حقیقت واضح فرما دی گئی کہ اللہ نے اپنے تمام نبیوں کو کسی نہ کسی پہلو سے فضیلت بخشی ہے اس وجہ سے کسی کے لیے مطلق ترجیح و تفضیل کی بحث نہ چھیڑی جائے کہ وہ وجۂ فتنہ بن جائے۔
(57-56) التفات کی آیات بطور جملہ معترضہ تھیں۔ ان کے ختم ہونے کے بعد توحید کے اس مضمون کی تکمیل کر دی گئی جو اوپر سے چلا آرہا تھا۔ مشرکین، فرشتوں کو خدا کا شریک مانتے تھے۔ ان کی بابت فرمایا کہ خدا کا شریک ہوتا تو الگ رہا وہ تو خود برابر خدا کے قرب اور اس کی رضا کے حصول کی جدوجہد میں سرگرم اور ہر وقت اس کے عذاب کے اندیشے سے لرزاں و ترساں ہیں۔
(60-58) مخالفین کے مطالبۂ نشانئ عذاب کا جواب اور اس باب میں سنت الٰہی کا بیان۔
(65-61) مخالفین کے اعراض و انکار کے اصل سبب کی طرف اشارہ کہ اللہ نے ان کو اپنی نعمتوں سے نوازا تو انھوں نے نعمت کو شکر کے بجائے کفر و استکبار کا سبب بنا لیا۔ اس معاملے میں انھوں نے ٹھیک ٹھیک ابلیس کے نقش قدم کی پیروی کی ہے اور ابلیس نے ان کے باب میں اپنا گمان بالکل سچ کر دکھایا۔
(72-66) نعمت پاکر انسان کے غرور و استکبار کی تمثیل اور آنکھیں کھول کر زندگی بسر کرنے والوں اور آنکھیں بند کر کے بھٹکنے والوں کے انجام کا بیان۔
(77-73) مخالفین کی مخالفت کے علی الرغم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت حق پر جمے رہنے کی تاکید اور اس امر کا اعلان کہ اگر قریش نے تمہیں اس سرزمین سے نکال دیا تو پھر ان کو بھی یہاں زیادہ دیر تک رکنا نصیب نہ ہو گا۔ نبی کی ہجرت کے باب میں سنت الٰہی کی وضاحت۔
(81-87) حصول صبر و ثبات کے لیے نماز کے اہتمام کی تاکید۔ قرب ہجرت کی طرف اشارہ اور اس کے لیے دعا کی تلقین۔ ظاہری حالات کے علی الرغم غلبۂ حق کی بشارت۔
(89-82) مخالفین کی حرماں نصیبی پر اظہار افسوس کہ وہ قرآن جیسی نعمت عظمیٰ کی ناقدری کر رہے ہیں حالانکہ یہ ان کے لیے شفا اور رحمت ہے اور تمام جن و انس مل کر بھی اگر ایسی کتاب لانا چاہیں تو نہیں لا سکتے۔ ضمناً وحی اور جبریل سے متعلق مخالفین کا ایک معترضانہ سوال اور اس کا حکیمانہ جواب۔
(100-90) کفار کی طرف سے بعض معجزات کا مطالبہ اور ان کا جواب۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی ک یطرف اشارہ۔ قریش کے مستکبرین کو یہ تنبیہ کہ تم خدا کے خزائن نعمت کے ٹھیکے دار نہیں ہو کہ سمجھتے ہو کہ اگر نبوت کسی کو ملنے والی ہوتی تو تمہی میں سے کسی کو ملتی۔ یہ اللہ کا فضل ہے اس نے جس کو چاہا دیا۔
(104-101) حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے نو معجزات کا حوالہ۔ ان معجزات کے دیکھنے کے باوجود فرعون کی سرکشی اور اس کا انجام۔
(111-105) خاتمۂ سورہ ۔۔۔ قرآن یکسر حق ہے۔ رسول کی ذمہ داری صرف انذار و تبشیر ہے۔ قرآن کا بالتدریج اترنا تعلیم کے پہلو سے ہے۔ جو بدبخت اس پر ایمان نہیں لا رہے ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ جن کے اندر علم کی روشنی ہے وہ اس پر ایمان لارہے ہیں۔ اللہ اور رحمن سب خدا ہی کے نام ہیں۔ جو لوگ ان ناموں میں کوئی فرق کرتے اور ان کو بنائے اعتراض بناتے ہیں، ان کے درپے نہ ہو۔ اس دین کی روح میانہ روی ہے اور اس میانہ روی کو اپنی عبادات میں ملحوظ رکھو اور اللہ کی حمد اور اس کی تکبیر میں سرگرم رہو۔
اس تجزیۂ مطالب پر ایک نظر ڈالیے اور دیکھیے کہ ایک معین عمود کے تحت کس طرح اس سورہ کی ہر کڑی دوسری کڑی سے ملی ہوئی ہے ۔۔۔ اب ہم توفیق الٰہی کی دعا کے ساتھ سورہ کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّ وَارْزُقْنَا التِّبَاعَہٗ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَہٗ۔
18 الکھف (The Cave)
110 verses | مکی
سورہ کا زمانۂ نزول، عمود اور سابق سورہ سے تعلق
سابق سورہ یی طرح یہ سورہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی ہے جب حق و باطل کی کش مکش اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ قریش اپنے تمام حربوں کے ساتھ قرآن کی دعوت کو مٹا دینے پر تل گئے تھے اور یہود و نصاریٰ نے بھی، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں، درپردہ قریش کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کر دی تھی کہ انہی کے ہاتھوں یہ دعوت اپنے مرکز ہی میں ختم ہو جائے، اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے خود انھیں میدان مین نہ اترنا پڑے۔
ان حالات کے تقاضے سے اس سورہ میں چند باتیں خاص طور پر نمایاں ہوئی ہیں۔
1۔ قریش کو انذار و تنبیہ کہ وہ اپنی دنیوی کامیابیوں کے غرے میں ایک بدیہی حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش نہ کریں۔ اب عذاب الٰہی ان کے سروں پر منڈلا رہا ہے، اگر وہ اپنی رعونت سے باز نہ آئے تو وہ وقت دور نہیں ہے جب وہ اس عذاب کی زد میں آجائیں گے۔
2۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے مظلوم صحابہؓ کوصبر و عزیمت کی تلقین۔ آنے والے مراحل یعنی ہجرت وغیرہ کی طرف بعض لطیف اشارات، ان مراحل میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھیوں کو جو غیبی فتوحات حاصل ہونے والی ہیں ان کی بشارت۔
3۔ جس طرح سابق سورہ ۔۔۔بنی اسرائیل ۔۔۔ میں یہود کے چہرے سے نقاب الٹ دی گئی ہے اسی طرح اس سورہ اور اس کے بعد کی سورہ ۔۔۔ سورۂ مریم ۔۔۔ میں نصاریٰ کے چہرے سے نقاب الٹ دی گئی ہے اور مقصود اس سے قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ جن کی اپنی کوئی بنیاد نہیں ہے اگر ان کی شہ پر خدا کی اس نعمت کی ناقدری کرو گے جس سے اس نے تم کو سرفراز کرنا چاہا ہے تو یاد رکھو کہ پرائے شگون پر اپنی ناک کٹوا بیٹھو گے۔
ب۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
سورہ کے مطالب کا تجزیہ بالاجمال یہ ہے:
(8-1) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تلقین صبر کہ تمہاری ذمہ داری صرف انذار و تبشیر ہے۔ اگر یہ متمردین، قرآن پر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس کتاب میں کوئی کج پیچ یا تمہاری دعوت و تبلیغ میں کوئی کسر ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ زخارف دنیا کی محبت میں اندھے ہو رہے ہیں تو تم ان کے پیچھے اپنے تئیں ہلکان نہ کرو۔ ایک وقت آنے والا ہے جب اس دنیا کے چہرے کا یہ مصنوعی غازہ اتر جائے گا اور یہ اپنے اصل روپ میں نمایاں ہو جائے گی۔ اس وقت یہ بدبخت لوگ اپنے سر پیٹیں گے۔
(26-9) اصحاب کہف سے متعلق مخالفین کے اٹھائے ہوئے ایک سوال کا جواب جس سے ان کی اصل زندگی، لاطائل تفصیلات سے بالکل پاک ہو کر، اس طرح سامنے آگئی ہے کہ اس کے آئینہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے جاں نثار ساتھیوں کو گویا دکھا دیا گیا ہے کہ تم اس وقت دعوت حق کی راہ میں جس مرحلہ سے گزر رہے ہو یہ مرحلہ اصحاب کہف کو بھی پیش آچکا ہے۔ اگر تم بھی انہی کی طرح خطرات کے علی الرغم، جادۂ حق پر استوار رہے تو اللہ تمہارے لیے بھی اسی طرح مشکلات کو آسان کرے گا جس طرح ان کے لیے آسان کیں۔ اور اسی طرح تمہارے لیے بھی پردۂ غیب سے اسباب و وسائل مہیا کرے گا جس طرح ان کے لیے مہیا فرمائے۔ اللہ اپنی راہ میں ثابت قدم رہنے والوں کو ضائع نہیں کرتا۔
(31-27) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دولت دنیا کے متوالوں سے بے نیاز ہو کر، اپنے ان غریب و نادار ساتھیوں کی طرف متوجہ ہونے کی ہدایت جو اگرچہ دولت دنیا سے محروم تھے لیکن ایمان کی دولت سے مالا مال اور شب و روز اللہ کی یاد اور اس کے دین کی دعوت میں سرگرم تھے۔ اسی ذیل میں آپ کو منکروں کی حالت پر غم کھانے سے روک دیا گیا ہے کہ یہ لوگ اگر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، یہ سنت الٰہی کی زد میں آئے ہوئے ہیں اور سنت الٰہی کو کوئی بدل نہیں سکتا۔
(49-32) ایک تمثیل جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ جو لوگ اسی دنیا کی کامیابیوں کو اصل کامیابی سمجھے بیٹھے ہیں ان پر خدا اور آخرت کی یقین دہانی بڑی شاق گزرتی ہے۔ وہ اپنی انہی کامیابیوں کو اپنے برحق ہونے کی دلیل تصور کرتے ہیں۔ اس وجہ سے اگر کوئی اللہ کا بندہ ان کو خدا اور آخرت سے ڈراتا ہے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ بتاؤ تمہارا حال اچھا ہے یا ہمارا؟ اگر ہمارا حال اچھا ہے اور بالبداہت اچھا ہے تو ہم یہ کیوں نہ باور کریں کہ ہماری ہی زندگی اور ہمارا ہی عقیدہ و عمل بھی صحیح ہے۔ اس ذہن کے لوگ یہ باور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ جو جاہ و اقبال ان کو آج حاصل ہے اس پر کبھی زوال بھی آسکتا ہے۔ وہ قیامت کو ایک بہت بعید از امکان چیز سمجھتے ہیں اور اگر ایک مفروضہ کے درجہ میں اس کو مانتے بھی ہیں تو اپنی زندگی کی موجودہ کامرانیوں کو دلیل بنا کر یہ گمان کر لیتے ہیں کہ اگر ہمیں خدا کے پاس جانا ہی پڑا، جیسا کہ یہ سرپھرے مسلمان ڈراتے ہیں تو وہاں بھی ہمیں اس سے بہتر مرتبہ و مقام حاصل ہو گا۔ اس تمثیل کو پیش کرنے سے مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ واضح کرنا ہے کہ آج بعینہٖ اسی طرح کے مغروروں سے تمہیں سابقہ ہے۔ یہ لوگ تمہاری بات سننے والے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھیں اس وقت کھلیں گی جب برق خرمن سوز ان کے سارے خرمن کو خاکستر کر کے رکھ دے گی۔ سو تم اس دنیا اور اس کی اس زندگی کی، جس پر یہ ریجھے ہوئے ہیں، حقیقت ایک تمثیل سے سمجھا دو کہ یہ دنیا اور اس کی ساری رونقیں اور بہاریں چند روزہ ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز بھی ساتھ جانے والی نہیں ہے۔ ساتھ صرف نیک اعمال جائیں گے تو جن کو جمع کرنا ہو یہ سرمایہ جمع کرنے کی فکر کریں۔
(59-50) آدم اور ابلیس کی سرگزشت کی یاددہانی جس سے مقصود قریش کے مغروروں کو ان کی بدبختی پر متنبہ کرنا ہے کہ انھوں نے اپنی شامت اعمال سے ابلیس اور اس کی ذریات کو اپنا دوست اور کارساز بنا رکھا ہے حالانکہ اولاد آدمؑ کے ساتھ ان کی دشمنی کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے۔ اسی ضمن میں ان کی اس بدبختی پر بھی ملامت کی گئی ہے کہ اللہ نے تو ان پر عظیم فضل فرمایا کہ ان کی ہدایت کے لیے ایک ایسی کتاب اتاری جو ہر حقیقت کو گوناگوں پہلوؤں سے واضح کر دینے والی ہے لیکن یہ اس کو قبول کرنے کے بجائے اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ ان کو وہ عذاب دکھا دیا جائے جس سے قرآن ان کو ڈرا رہا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے، وہ رحمت میں سبقت کرتاہے، عذاب میں جلدی نہیں کرتا لیکن یہ شامت کے مارے لوگ عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں۔
(82-60) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ایک تربیتی سفر کی سرگزشت۔ یہ سفر اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت انھوں نے اس لیے کیا کہ ایک بندۂ خاص کے ذریعے سے وہ اس کائنات کے اس رمز سے اچھی طرح آگاہ ہو جائیں کہ اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ سب ارادۂ الٰہی کے تحت ہوتا ہے اور ارادۂ الٰہی سرتاسر حکمت و برکت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس دنیا میں بظاہر سرکشوں اور نافرمانوں کو ڈھیل ملتی ہے اور اہل حق مختلف قسم کی آزمائشوں اور تکلیفوں میں مبتلا کیے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال بہتوں کے ایمان کو متزلزل کر دیتی ہے اور ان کے لیے جادۂ حق پر ثابت قدم رہنا نہایت ابتلا کا کام بن جاتا ہے۔ اس ابتلا میں ثابت قدم صرف وہی لوگ رہتے ہیں جن پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو کہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے سب ارادۂ الٰہی کے تحت اور اس کی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہو رہا ہے لیکن انسان کا محدود علم اس کی حکمتوں اور مصلحتوں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اس وجہ سے صحیح رویہ یہ ہے کہ راہ حق میں ناموافق و نامساعد جو حالات بھی پیش آئیں آدمی ان سے دل شکستہ و مایوس نہ ہو بلکہ پورے عزم و جزم کے ساتھ موقف حق پر ڈٹا رہے، حکمت الٰہی کے ظہور کا انتظار کرے اور امید رکھے کہ اگر اس دنیا میں نہیں تو آخرت میں اس کا ظہور ہو کے رہے گا۔
یہی حکمت، صبر کی اساس و بنیاد ہے جس پر سارا دین قائم ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ ؑ کو ایک عظیم مہم کے لیے انتخاب فرمایا تو اس صبر کی تربیت کے لیے ان کو اپنے ایک خاص بندے کے پاس بھیجا کہ یہ چیز صرف جاننے کی نہیں بلکہ عملی تربیت کی بھی محتاج تھی۔ بعینہٖ یہاں یہ سرگزشت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے واسطہ سے آپ کے اس دور کے ساتھیوں کو اس مقصد سے سنائی گئی ہے کہ باغیوں اور نافرمانوں کو جو دندناتے دیکھ رہے ہو اور تم حق پر ہوتے ان کے مظالم کے جو ہدف بنے ہوئے ہو اس سے ہراساں اور مرعوب نہ ہونا۔ اس دنیا میں اگر مسکینوں کی کشتی میں چھید کیا جاتا ہے توا س میں بھی حکمت خیر ہوتی ہے اور اگر ظالموں کی کسی بستی میں، کسی گرتی دیوار کو سہارا دیا جاتا ہے تو اس میں بھی خیر ہی مضمر ہوتی ہے لیکن انسان کا محدود علم خدا کے سارے اسرار کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
(101-83) ایک سوال کی تقریب سے ایک سلطان عادل ۔۔۔ ذو القرنین ۔۔۔ کا ذکر جس سے مقصود قریش کے ان متمردین کو عبرت دلانا ہے جو پیغمبرؐ کے انذار کو مذاق اور اپنے اقتدار کو لازوال سمجھتے تھے۔ ان کے سامنے خود انہی کے سوال پر یہ واضح فرمایا کہ ایک بندۂ مومن ذوالقرنین تھے جن کا حال یہ تھا کہ تمام مشرق و مغرب کوفتح کر لینے کے بعد بھی وہ ہر کامیابی کو اللہ کا انعام اور اس کا فضل سمجھتے اور ہر قدم اس کی مرضی کے مطابق اٹھاتے تھے اور ایک تم ہو کہ ذرا سا اقتدار جو مل گیا ہے تو اس کے نشہ میں خدا اور آخرت سب کا مذاق اڑانے لگے ہو۔
(110-102) خاتمۂ سورہ میں اسی تہدید و انذار کے مضمون کا پھر اعادہ ہے جس سے سورہ کا آغاز ہوا ہے گویا آخر میں ایک نئے اسلوب سے اسی حقیقت کی پھر یاددہانی فرما دی جو سورہ کا عمود ہے۔ ساتھ ہی ان لوگوں کا جواب بھی دے دیا جو قرآن کی پرحکمت باتوں کا مذاق اڑاتے اور کسی حسی معجزہ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ فرمایا اگر دیکھنے والی آنکھیں ہوں تو آفاق و انفس میں خدا کی اتنی نشانیاں ہیں کہ اگر سمندر روشنائی بن جائیں جب بھی ان کو قلم بند نہیں کیا جا سکتا۔ آخر میں پیغمبر صلعم کی زبان سے اعلان کرا دیا کہ معجزے اور نشانیاں دکھانا خدا کا کام ہے، میں تو تمہاری ہی طرح خدا کا ایک بندہ ہوں، تمہیں وہی سناتا ہوں جس کی مجھے وحی کی جاتی ہے۔
سورہ کے مطالب کا یہ اجمالی تجزیہ اس کے نظام اور عمود کو واضح کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اب ہم اللہ کا نام لے کر سورہ کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔ وما توفیقی الا باللّٰہ۔
19 مریم (Mary)
98 verses | مکی
سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق
یہ سورہ، سورۂ کہف کی مثنیٰ یا بالفاظ دیگر اس کی توام سورہ ہے۔ ان دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ وہی مضمون جو سورۂ کہف میں بیان ہوا ہے اس میں بھی بیان ہوا ہے۔ لیکن طریق استدلال اور نہج بیان میں فرق ہے۔ اس میں حضرت آدم، نوح اور ابراہیم علیہم السلام کی نسل میں پیدا ہونے والے انبیائے اولوالعزم کے متعلق یہ بات بتائی گئی ہے کہ ان کی دعوت، توحید کی دعوت تھی۔ انھوں نے نماز و زکوٰۃ کا حکم دیا لیکن ان کے پیرو شرک میں مبتلا ہوئے اور نماز و زکوٰۃ ضائع کر کے بدعات و شہوات میں پڑ گئے۔ اور اب جب کہ ان کو ان کے اصل دین کی دعوت دی جا رہی ہے تواس کی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے مقابل میں صبر و استقامت کی تلقین کی گئی ہے اور انجام کار کی کامیابی کی بشارت دی گئی ہے۔ آخر میں مخالفین کی گمراہی کی اصل علت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے مقابل میں اپنی دنیوی کامیابیوں کو اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ان کے برحق ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ خدا کی طرف سے ان کے لیے ڈھیل ہے کہ خدا کی حجت ان پر پوری ہو جائے اور جب وہ پکڑے جائیں توا ن کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔
اس میں حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مریم علیہما السلام کا ذکر خاص طور پر نمایاں ہوکر سامنے آتا ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم پچھلی سورہ میں اشارہ کر چکے ہیں کہ اس دور میں یہود کی طرح نصاریٰ نے بھی درپردہ قریش کی پشت پناہی شروع کر دی تھی۔ اہل کتاب کی اس پشت پناہی سے قریش کو بڑی طاقت حاصل ہو گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب امی ہونے کے سبب سے مذہبی معاملات میں اہل کتاب سے ایک قسم کا حسن ظن رکھتے تھے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ اہل کتاب بھی انہی کے ہم خیال ہیں تواس سے ان کا حوصلہ بہت بڑھ گیا۔ قرآن نے اہل کتاب کے اس اثر کو باطل کرنے کے لیے ان کی حقیقت واضح کی۔ چنانچہ پیچھے سورۂ بنی اسرائیل میں یہود کا بالکل بے بنیاد ہونا واضح کیا ہے۔ اور اس سورہ میں بالکل اسی انداز میں نصاریٰ کی بے ثباتی دکھائی ہے۔ مقصود یہ ہے کہ قریش پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ جن کی اپنی کوئی بنیاد نہیں ہے وہ بھلا حق و باطل کے اس معرکے میں ان کے لیے کیا سہارا بن سکیں گے۔
اس تمہید کے بعد اب ہم سورہ کے مطالب کا تجزیہ بھی کیے دیتے ہیں۔
ب۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
(15-1) سورہ کا آغاز حضرت زکریاؑ کی اس دعاسے ہوتا ہے جو انھوں نے اپنے بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود ایک فرزند کے لیے کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما کر ان کو حضرت یحییٰ ؑ کی ولادت کی خوش خبری دی۔ یہ واقعہ تمہید ہے حضرت مریم کے اس واقعہ کی جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کی خارق عادت ولادت کو ان کی الوہیت کی دلیل بنایا۔ قرآن نے یہاں حضرت عیسیٰ ؑ سے پہلے حضرت یحییٰ ؑ کی ولادت کا ذکر کر کے دکھایا ہے کہ اگر مجرد خارق عادت ولادت ہی کسی کے الٰہ ہونے کی دلیل ہے تو یہ دلیل تو حضرت عیسیٰ ؑ سے پہلے حضرت یحییٰ ؑ کے حق میں موجود ہے۔ ان کی ولادت بھی ایک بوڑھے باپ او رایک بانجھ ماں کے ہاں ہوئی۔ لیکن نہ تو انھوں نے خود الوہیت کا دعویٰ کیا نہ کسی دوسرے نے ان کو الٰہ بنانے کی کوشش کی ۔ علاوہ ازیں یہی حضرت زکریاؑ ہیں جنھوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ حضرت مریمؑ کی تربیت کی اور یہی حضرت یحییٰ ؑ ہیں جنھوں نے حسب روایات نصاریٰ، حضرت مسیحؑ کو مسح کیا تو پھر حضرت مسیحؑ ابن اللہ کس طرح بن گئے!
(36-16) حضرت مریمؑ کی پاکیزہ زندگی اور ان کے زہد و عبادت کا حوالہ۔ حضرت مسیحؑ کی ان کے ہاں جس طرح ولادت ہوئی اس کی تفصیل ۔۔۔ حضرت مسیحؑ نے گہوارے ہی میں جس طرح اپنے بندہ ہونے اور خدا کی طرف سے نماز و زکوٰۃ کی ہدایت پانے کی منادی کی ہے، اس کا تذکرہ اور ان بدبختوں کی حالت پر افسوس جنھوں نے یہ ساری باتیں جانتے بوجھتے اللہ کے ایک فرمانبردار بندے کو الٰہ اور اس کی ایک فرمانبردار بندی کو ابن اللہ کی ماں بنا کر رکھ دیا۔
(40-37) حضرت مسیحؑ کی واضح تعلیمات کے باوجود ان کے باب میں نصاریٰ کے باہمی اختلاف پر ان کو ملامت اور ایک ایسے دن کی آمد کی دھمکی جس دن اس سارے اختلاف کا فیصلہ ہونے والا ہے۔
(50-41) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کو توحید کی جو دعوت دی اور اس کے نتیجہ میں جس طرح انھیں ہجرت کرنی پڑی، اس کا حوالہ۔ پھر اس ہجرت کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑھاپے میں جو اولاد عطا فرمائی اس کا تذکرہ۔
(63-51) حضرت موسیٰ، حضرت ہارون، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس علیہم السلام کے حالات و خصوصیات کا اجمالی حوالہ کہ یہ آدمؑ و نوحؑ اور ابراہیم و اسرائیل کی ذریت میں اولوالعزم انبیاء گزرے ہیں۔ یہ سب خدا کی ہدایت سے سرفراز اور اس کے برگزیدہ بندے تھے۔ ان کا حال یہ تھا کہ جب خدا کی آیات سنتے تو روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے۔پھر انہی کی اولاد میں ایسے ناخلف پیدا ہوئے جنھوں نے نماز و زکوٰۃ سب ضائع کر دی اور اپنی خواہشوں کے پیرو بن گئے۔ یہ لوگ اپنی اس گمراہی کے انجام سے عنقریب دوچار ہوں گے۔ ان کے اندر سے نجات پانے والے وہی بنیں گے جو توبہ اور اصلاح کر لیں گے۔
(65-64) حضرت جبرئیل علیہ السلام کی زبان سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کوصبر و انتظار کی ہدایت اور عجلت سے احتراز کرنے کی تلقین۔
(72-66) قیامت کی تکذیب کرنے والوں کو زجر و تنبیہ اور ان کے انجام کی طرف اشارہ۔
(82-73) مغروروں اور متکبروں کی طرف سے قرآن کے انذار کے جواب کا حوالہ کہ وہ کہتے ہیں کہ جب قرآن کے ماننے والوں کے مقابل میں ہمارا حال بہتر ہے تو لازماً ہمارا ہی عقیدہ و عمل بھی بہتر ہے۔ قیامت اول تو ہے نہیں اور اگر بالفرض ہوئی تو ہم ان فتو فقیروں سے وہاں بھی بہتر حال میں رہیں گے۔ اللہ تعالی کی طرف سے اس باطل ذہنیت کی تردید اور اصل حقیقت سے آگاہی۔
(96-83) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر و انتظار کی تلقین کہ آپ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کے مطالبہ سے پریشان نہ ہوں۔ ان مغروروں کا ایک ایک دن گنا جا رہا ہے۔ یہ جن معبودوں پر تکیہ کیے ہوئے ہیں یہ ان کے ذرابھی کام آنے والے نہیں ہیں۔ قیامت کے دن سرخروئی صرف اہل ایمان کو حاصل ہو گی۔
(98-97) آنحضرت صلعم کو ہدایت کہ قرآن انذار و تبشیر کے لیے بہترین چیز ہے۔ اسی کے ذریعہ سے انذار و تبشیر کیجیے۔ جن کے اندر صلاحیت ہو گی وہ اس پر ایمان لائیں گے۔ جو ایمان نہیں لائیں گے وہ اپنا انجام خود دیکھ لیں گے۔ ان کے پیچھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
مطالب کے اس تجزیہ سے سورہ کا مجموعی نظام بالکل واضح ہے۔ اب ہم اللہ کا نام لے کر سورہ کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔ وبید اللّٰہ التوفیق۔
20 طہ (Ta-Ha)
135 verses | مکی
سورہ کا عمود
اس سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو، مخالفین کے مقابل میں، صبر اور انتظار کی تلقین ہے کہ آپ ان کے پیچھے زیادہ پریشان نہ ہوں، اگر وہ آپ کی بات نہیں سنتے تو بہت جلد یہ اپنا انجام خود دیکھ لیں گے۔ اسی مضمون سے سورہ کا آغاز بھی ہوا ہے اور اسی پر اختتام بھی۔ اس صبر کے حصول اور اس کی تربیت کے لیے نماز اور دعا کے اہتمام کی ہدایت فرمائی گئی ہے اور ساتھ ہی عجلت و بے صبری کے نقصانات واضح فرمائے گئے ہیں۔ سورہ میں خطاب تمام تر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ مخالفین سے اگر کوئی بات کہی بھی گئی ہے تو ان کو خطاب کر کے نہیں بلکہ منہ پھیر کر غائبانہ انداز میں کہی گئی ہے۔
پچھلی سورہ میں متعدد انبیائے عظام کا ذکر آیا ہے۔ اس میں صرف حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ ولادت سے لے کر دعوت و ہجرت تک جتنے اہم موڑ بھی ان کی زندگی میں پیش آئے ہیں سب اس سورہ میں نمایاں کیے گئے ہیں تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، دعوت کے اس مرحلہ میں بھی اور آگے کے مراحل میں بھی، جس رہنمائی کی ضرورت ہے وہ ایک عملی مثال کی صورت میں آپ کے سامنے رکھ دی جائے۔
ب ۔سورہ کے مطالب کا تجزیہ
مطالب کے اعتبار سے یہ سورہ تین حصوں میں تقسیم ہے۔
(8-1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت دل نواز انداز میں یہ ہدایت کہ آپ دوسروں کے ایمان کی فکر میں اپنی زندگی کو ضرورت سے زیادہ نہ کھپائیں۔ آپ کا کام صرف ان لوگوں کو یاددہانی کر دینا ہے جن کے اندر کچھ خشیت ہے۔ جن کے دل خشیت سے خالی ہیں ان کے اندر ایمان اتار دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ قرآن کے سائل کی درخواست نہیں ہے بلکہ خالق ارض و سما اور مالک عرش و کونین کا فرمان ہے اس کو اس کے شایان شان انداز میں پیش کر دیجیے۔ ناقدروں اور مغروروں کی زیادہ ناز برداری کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے رب پر بھروسہ رکھیے۔ وہ آپ کے تمام سر و علانیہ سے اچھی طرح باخبر ہے۔
(98-9) آگے حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت بیان ہوئی ہے جس کے نمایاں پہلو بالاجمال یہ ہیں۔
۔۔۔ حضرت موسیٰ ؑ کا مدین سے واپسی پر وادئ مقدس میں طویٰ میں پہنچنا اور نبوت و رسالت سے سرفراز ہونا۔
۔۔۔ نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کو اولین ہدایت۔
۔۔۔ عصا اور ید بیضا کے معجزات کا عطا کیا جانا۔
۔۔۔ فرعون کے پاس انذار و دعوت کے لیے جانے کا حکم۔ شرح صدر اور حضرت ہارونؑ کے مددگار بنائے جانے کے لیے حضرت موسیٰ ؑ کی دعا اور اس دعا کی فوری قبولیت۔
۔۔۔ حضرت موسیٰ ؑ کی تقویت قلت کے لیے اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس فضل خاص کی یاددہانی جو ان پر بچپن میں ہوا کہ وہ دریا میں ڈالے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ ان کو دریا سے بچا لیا بلکہ ان کے اور اپنے دونوں کے دشمن سے ان کی پرورش کرائی اور دوبارہ ان کو ان کی اس ماں کی آغوش میں پہنچا دیا جس نے فرعون کے ڈر سے، کلیجہ پر پتھر رکھ کر، ان کو دریا کی موجوں کے حوالے کیا تھا۔
۔۔۔حضرت موسیٰ ؑ کے ہاتھوں ایک قبطی کے قتل ہو جانے کے واقعہ کی یاددہانی۔ حضرت موسیٰ ؑ کا مدین جانا۔ وہاں مختلف آزمائشوں اور مراحل سے گزرنے کے بعد پھر خدائی پروگرام کے مطابق بالکل معین وقت پر وادئ مقدس طویٰ میں پہنچنا اور منصب نبوت پر سرفراز ہونا۔
۔۔۔ اس فضل خاص کی یاددہانی کے بعد حضرت موسیٰ ؑ اور ہارونؑ دونوں کی حوصلہ افزائی اور یہ ہدایت کہ وہ بے خوف و خطر فرعون کے پاس انذار و دعوت کے لیے جائیں۔ خدا ان کی حفاظت فرمائے گا۔
۔۔۔ فرعون کو حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت اور فرعون کا معارضہ۔
۔۔۔ فرعون کے جمع کردہ ساحروں اور حضرت موسیٰ ؑ میں مقابلہ۔ ساحروں کی شکست اور ان کا حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لانا۔
۔۔۔ فرعون کی طرف سے حضرت موسیٰ ؑ اور ایمان لانے والے ساحروں پر سازش اور بغاوت کا الزام اور ان کو سولی پر چڑھانے کی دھمکی۔
۔۔۔ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر حضرت موسیٰ ؑ کو ہجرت کا حکم۔ فرعون کی طرف سے ان کا تعاقب۔ بالآخر حضرت موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کا بخیریت دریا کے پار ہوجانا اور فرعون اور اس کی فوجوں کی غرقابی۔
۔۔۔ دریا پار کرانے کے بعد بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے جو احسانات فرمائے ان کا حوالہ اور بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ کی چند روزہ غیبت میں، جب کہ وہ کوہ طور پر تورات لینے گئے، سامری کے فتنہ میں مبتلا ہو کر جو بت پرستی کی اس کی تفصیل اور اس کے اسباب و عواقب پر تبصرہ۔
(135-99) حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت سنانے کے بعد یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خطاب اور التفات ہے۔ اور سورہ کی تمہید میں جو مضمون بیان ہوا ہے اس خاتمہ میں اس کی تکمیل کر دی گئی ہے۔ آپؐ کو تسلی دی گئی ہے کہ ماضی کی یہ سرگزشت جو آپ کو سنائی گئی ہے صرف قصۂ ماضی نہیں ہے بلکہ آپ کی اپنی سرگزشت بھی ہے۔ آپ کو جو کتاب عطا ہوئی ہے اس میں ہر پہلو سے لوگوں کو تنبیہ کر دی گئی ہے۔ اگر لوگ نہیں مانیں گے تو ا س کا انجام دنیا اور آخرت دونوں میں خود بھگتیں گے۔ تاریخ میں ان کے لیے کافی سامان عبرت موجود ہے۔ اس وجہ سے آپ ان کے معاملے میں جلدی نہ کریں۔ صبر کے ساتھ خدا کے فیصلہ کا انتظار کریں۔ جلدی شیطان کو دراندازی کے لیے راہ دے دیتی ہے۔ آدمؑ نے جلدی ہی کی وجہ سے شیطان سے دھوکا کھایا تو آپ صبر کے ساتھ خد اکے وعدۂ نصرت کے ظہور کا انتظار کریں اور اس صبر کے حصول کے لیے نماز کا اہتمام کریں۔ امراء و اغنیاء کے ایمان کے لیے بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ ان کے ایمان سے دعوت کو قوت و شوکت حاصل ہو گی۔ آپ کو دعوت اپنا زاد و راحلہ خود اپنے ساتھ رکھتی ہے اور اللہ نے آپ کی کفالت کی ذمہ داری اپنے اوپر لی ہے۔ جو لوگ آپ کو زچ کرنے کے لیے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان سے کہہ دیجیے کہ میرا کام آگاہ کرنا تھا وہ میں نے کر دیا۔ اب اگر تم عذاب ہی کے منتظر ہو تو انتظار کرو۔ میں بھی اسی کا منتظر ہوں۔
21 الانبیاء (The Prophets)
112 verses | مکی
سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق
یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔سورۂ طٰہٰ ۔۔۔کی مثنیٰ ہے۔ جس مضمون پر سورۂ طٰہٰ ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ سابق سورہ کی آخری آیت میں کفار قریش کو یہ تنبیہ ہے کہ اگر تم کوئی نشانئ عذاب ہی دیکھنے پر اڑے ہوئے ہو تو انتظار کرو، اب اس عذاب کے آنے میں زیادہ دیر نہیں ہے۔ اس سورہ کا آغاز، بغیر کسی نئی تمہید کے، بعینہٖ اسی مضمون سے فرمایا کہ ان لوگوں (کفار قریش) کے حساب کی گھڑی بالکل سر پر آچکی ہے لیکن یہ اپنی سرمستیوں میں کھوئے ہیں۔ یہ پیغمبرؐ کی تنبیہات کا مذاق اڑاتے اور اللہ کی آیات کا استہزا کرتے ہیں۔ انھوں نے اس دنیا کو ایک بازیچۂ اطفال سمجھ رکھا ہے جس کو اس کے پیدا کرنے والے نے محض اپنا جی بہلانے کے لیے ایک کھیل تماشا بنایا ہے۔ ان کا سارا اعتماد ان کے خود تراشیدہ معبودوں پر ہے۔ حالانکہ یہ ساری چیزیں محض ان کے وہم کی ایجاد ہیں، انبیاء علیہم السلام کی تعلیم سے اس کو کوئی تعلق نہیں۔ سابق سورہ میں صرف حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت کا حوالہ تھا اس میں دوسرے انبیاء عظام علیہم السلام کا بھی حوالہ ہے اور نہایت واضح الفاظ میں غلبۂ حق اور فتح مکہ کے قرب کی پیشین گوئی کی گئی ہے جو کفار قریش کے لیے ایک آخری تنبیہ اور مسلمانوں کے لیے کشمکش حق و باطل کے اس شدید ترین دور میں ایک عظیم بشارت ہے۔
سورہ کے مطالب پر ایک سرسری نظرڈالنے سے بھی اندازہ ہوتاہے کہ سابق سورہ کی طرح یہ سورہ بھی تین بڑے حصوں میں تقسیم ہے۔ پہلے قریش کو ان کی ان بوالفضولیوں پر نہایت واضح الفاظ میں تنبیہ و وعید ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہایت لاابالیانہ انداز میں وہ کر رہے تھے، پھر حضرات انبیاء علیہم السلام کی سرگزشتوں سے ان تمام حقائق کو مبرہن کیا گیا ہے جن کی قرآن کے ذریعہ سے ان کو دعوت دی جا رہی تھی، آخر میں اسی مضمون کو، جو شروع میں بیان ہوا ہے بعینہٖ اسی تمہید کے ساتھاازسرنو لے لیا ہے اور نہایت فیصلہ کن انداز میں مخالفین کو اس انجام سے آگاہ کیا ہے جس سے وہ دوچار ہونے والے ہیں۔
اگرچہ سورہ کا عمود اور نظام واضح کر دینے کے لیے یہ تمہید بھی کافی ہے لیکن ہم مزید وضاحت کے لیے سورہ کے مطالب کا تجزیہ بھی کیے دیتے ہیں۔
ب ۔سورہ کے مطالب کا تجزیہ
(15-1) قریش کو انذار کہ رسولؐ کی بعثت کے بعد، سنت الٰہی کے مطابق، اب ان کی قسمت میزان میں اور ان کے محاسبہ کا دن ان کے سر پر ہے لیکن یہ اپنی بدمستیوں میں کھوئے ہوئے خطرہ سے آگاہ کرنے والے رسول کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ کوئی ان کو ساحر بناتا ہے کوئی کہن، کوئی اس کی وحی کو خواب پریشان سے تعبیر کرتا ہے، کوئی اس کو مفتری اور شاعر قرار دیتا ہے اور اس سے اگلے انبیاؑ ء کے سے خوارق و عجائب کا مطالبہ کرتا ہے۔ حالانکہ تاریخ اور اہل علم گواہ ہیں کہ انبیاؑ ء ہمیشہ اسی طرح کی وحی کے ساتھ آئے جس طرح کی وحی کے ساتھ ان کا رسول آیا۔ ان پر اتمام حجت کے لیے جس یاددہانی کی ضرورت تھی وہ ان کے پاس آگئی۔ اب اگر یہ اس کو ٹھکراتے ہیں تو ان قوموں کے انجام کو یاد کرلیں جن کے پاس ان کے رسول آئے اور انھوں نے ان کی تکذیب کی۔ انھوں نے بھی اسی تبختر کے ساتھ اپنے اپنے رسولوں کا مذاق اڑایا، پھر جب وہ اس کے نتیجہ میں خدا کی پکڑ میں آگئیں تو کوئی ان کا پناہ دینے والا نہ بنا اور ہم نے ان کو خس و خاشاک کی طرح اڑا دیا۔
(29-16) اس حقیقت کی یاددہانی کہ اس دنیا کے خالق نے اس کو محض اپنا جی بہلانے کے لیے کوئی تھیئٹر نہیں بنایا ہے کہ حق و باطل اور نیکی و بدی دونوں کی حیثیت اس میں یکساں ہو بلکہ اس کا خالق ایک عادل و حکیم ہے اس وجہ سے لازم ہے کہ وہ ایک دن لائے جس میں حق کا بول بالا ہو اور باطل کا وہ کچومر نکال دے۔ اگر کسی نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اس کے مزعومہ شرکاء و شفعاء اس کو خدا کے عدل کی گرفت سے بچا لیں گے تو یہ اس کا محض ایک وہم باطل ہے۔ خدا کی خدائی میں کوئی شریک نہیں جو بھی ہیں سب اس کے آگے سرفگندہ ہیں۔ اگر اس کائنات میں کئی ارادوں اور مشیتوں کی کارفرمائی ہوتی تو یہ درہم برہم ہو کے رہ جاتی۔ خدا کے نبیوں اور رسولوں کی تعلیم میں اس شرک کا کوئی شائبہ نہیں۔ ہرنبی نے توحید ہی کی تعلیم دی ہے۔ اگر کسی نے خدا کے کے لیے بیٹیاں فرض کر کے ان کو خدا کے ہاں اپنا سفارشی سمجھ رکھا ہے تو یہ محض خود فریبی ہے۔ فرشتے خدا کی بیٹیاں نہیں بلکہ اس کے باعزت بندے ہیں۔ وہ خدا کے سا منے اس کے اذن کے بدوں زبان نہیں کھول سکتے، وہ صرف اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور اگر کوئی بھی خدا ئی کا مدعی نکلا تو خدا اس کو جہنم میں جھونک دے گا۔
(33-30) نشانیوں کا مطالبہ کرنے والوں کے جواب میں نظام کائنات کی چند نہایت واضح نشانیوں کی طرف اشارہ کہ اگر ان کو نشانیوں کی طلب ہے تو آخر وہ ان نشانیوں پر کیوں غور نہیں کرتے جو ہر وقت ان کے سامنے موجود اور خدا کی ربوبیت و رحمت، اس کے عدل و حکمت اور توحید و معاد کی گواہی دے رہی ہیں۔ انہی چیزوں کی دعوت ان کو پیغمبر دے رہا ہے توجب اس کی تائید میں یہ سارے شواہد موجود ہیں تو کسی نئی نشانی کی کیا ضرورت باقی رہی۔
(43-34) ان لو گوں کو جواب جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اس بنا پر مذاق اڑا رہے تھے کہ آپؐ نہ تو بشریت سے کوئی مافوق ہستی تھے اور نہ کوئی مال دار آدمی۔ ان کے باب میں فرمایا کہ اگر یہ پیغمبرؐ کا مذاق اڑاتے ہیں تو اڑا لیں لیکن یاد رکھیں جب خدا کی پکڑ میں آجائیں گے تو ان کے یہ دیوی دیوتا ان کی کوئی مدد نہ کر سکیں گے جن کی حمیت و حمایت میں یہ خدا کے رسول کی توہین کر رہے ہیں۔
(47-44) متکبرین کے اصل سبب غرور کی طرف اشارہ اور یہ پیشین گوئی کہ یہ مکہ میں جس دعوت حق کو دبانے کے لیے زور آزمائی کر رہے ہیں وہ دعوت اطراف مکہ سے مکہ کی طرف بڑھ رہی ہے اور بہت جلد یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ یہ دعوت غالب رہتی ہے یا اس کے یہ اعداء۔ ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ اعلان کہ میں تو تمہیں وحی کے ذریعہ سے آگاہ کر رہا ہوں لیکن تمہارے بہرے کان اس کو نہیں سن رہے ہیں، اگر خدا کے تازیانۂ عذاب کی زد میں آگئے تو پھر اپنے سر پیٹو گے۔
(77-48) ایک صعودی ترتیب کے ساتھ جلیل القدر انبیاء میں سے حضرت موسیٰ ؑ ، حضرت ابراہیم (بشمول حضرت لوط، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب) اور حضرت نوح علیہم السلام کی تعلیم و دعوت اوران کے جھٹلانے والوں کے انجام کی طرف اشارہ تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ ان تمام انبیائے عظام کی دعوت وہی رہی ہے جو قرآن پیش کر رہا ہے اور لازماً اس کی مخالفت کرنے والوں کا انجام بھی وہی ہو گا جوا ن انبیاء کی مخالفت کرنے والوں کا ہوا۔
(86-78) ایک صفاتی ترتیب کے ساتھ ان انبیاء کا ذکر جو شکر اور صبر کے نہایت کڑے امتحانوں میں ڈالے گئے اور وہ ان میں سو فی صد کامیاب رہے۔ پہلے زمرہ میں سے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہا السلام کا حوالہ دے کر قریش کو انہی کی طرح خدا کا شکرگزار بندہ بننے کی دعوت دی ہے۔ دوسرے زمرے کے انبیاؑ ء میں سے خاص طور پر حضرت ایوب، حضرت اسماعیل، حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل علیہم السلام کا حوالہ دیا ہے اور مقصود ان کا حوالہ دینے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے مظلوم صحابہؓ کی حوصلہ افزائی ہے کہ جس طرح اللہ نے اپنے ان صابر بندوں کو صبر کے سلسلہ میں اپنی رحمت سے نوازا اسی طرح اگر تم بھی مصائب کے مقابل میں حق پر ثابت قدم رہے تو اللہ تم کو بھی اپنی رحمت سے نوازے گا۔
(91-87) ان انبیاؑ ء کی طرف ایک اجمالی اشارہ جن کے لیے نہایت تاریک اور بظاہر مایوس کن حالات کے اندر خدا کی قدرت و حکمت کی نہایت حیرت انگیز شانیں ظاہر ہوئیں۔ اس زمرہ کے انبیاؑ ء میں سے حضرت یونس، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت مریم و حضرت مسیح علیہم السلام کا حوالہ دیا ہے اور مقصود اس سے اس حقیقت کو ظاہر کرنا ہے کہ خدا جب اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے نوازنا چاہے گا تو کوئی چیز اس کے ارادے میں مزاحم نہ ہو سکے گی۔ حالات واسباب سب اس کے اختیار میں ہیں۔
(112-92) خاتمۂ سورہ جس میں تمہید کے مضمون کو مزید مؤکد کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو اطمینان دلا دیا گیاہے کہ تمام انبیاؑ ء کی دعوت و تعلیم یہی رہی ہے جو تم دے رہے ہو تو تم اپنے کام میں لگے رہو اور جن لوگوں نے اس میں اختلافات پیدا کیے اور پیدا کر رہے ہیں ان کے معاملہ کو ہمارے اوپر چھوڑ دو۔ یہ لوگ خدا کے عذاب کو دیکھ کر ہی ایمان لائیں گے لیکن اس وقت کا ایمان لانا بالکل بے سود ہو گا۔ آخرت کی کامرانی صرف اللہ کے نیک بندوں ہی کے لیے ہے۔ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فیصلہ کن اعلان کہ اب فیصلہ کی گھڑی سر پر ہے، جس کو فائدہ اٹھانا ہے وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھالے پھر یہ فرصت نصیب ہونے والی نہیں ہے ۔ آخری آیت میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ دعا کہ اے رب! اب میرے اور ان اعدائے حق کے درمیان تو فیصلہ فرما دے!
22 الحج (The Pilgrimage, The Hajj)
78 verses | مدنی
سورہ کا عمود اور زمانۂ نزول
یہ سورہ مکی دور کی ان آخری سورتوں میں سے ہے جب مسلمانوں نے قریش کے ظلم و ستم سے تنگ آکر، دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت شروع کر دی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی ہجرت کا وقت بالکل قریب آچکا تھا۔ اس دور میں قریش کے لیے آخری انذار و تنبیہ کے ساتھ یہ سورہ نازل ہوئی۔ اس میں ان کو خدا کے غضب سے ڈرایا گیا، توحید اور قیامت کی قطعیت نہایت مؤثر دلائل کے ساتھ واضح کی گئی اور حضرت ابراہیمؑ کی دعوت اور بیت اللہ کے مقصد تعمیر کی روشنی میں ان پر یہ حقیقت واضح کی گئی کہ اس گھر کی تولیت کے اصل حق دار مشرکین نہیں بلکہ وہ مسلمان ہیں جن کوا نھوں نے ا سے محروم کر رکھا ہے ساور ان کو یہاں سے نکالنے کے لیے ان پر ہر قسم کے ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں۔ فتح مکہ کی طرف اشارہ تو پچھلی سورہ کی آیت 44 میں بھی گزر چکا ہے، اس سورہ میں اس اشارے نے بالکل قطعی فیصلہ کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اس میں قریش کو غدار اور غاصب قرار دے کر ان کو اس گھر سے بے دخل کیے جانے کی دھمکی اور مسلمانوں کو بشارت دی گئی کہ اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے گا اور قریش کو اس سے بے دخل کر کے سان کو اس کا امین و متولی بنائے گا۔
یہ سورہ مکی ہے: یہ سورہ اپنے مزاج و مطالب کے اعتبار سے مکی ہے۔ اس کی صرف چار آیات (41-38) ہجرت کے بعد کی ہیں جس میں مسلمانوں کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ اگر وہ حج کے لیے جائیں اور کفار قریش ان کو بزور روکنے کی کوشش کریں تو ان کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مدافعت میں تلوار اٹھائیں۔ اللہ ان کی مدد فرمائے گا۔ یہ بات چونکہ اوپر والی بات ہی کی وضاحت کی حیثیت رکھتی ہے اس وجہ سے مصحف کی ترتیب میں ان آیات کو یہاں جگہ ملی تاکہ اس اجازت کی حکمت واضح ہو جائے کہ مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کا یہ حق اس لیے حاصل ہے کہ قریش کا خانہ کعبہ پر تسلط بالکل غاصبانہ ہے۔ اس کی تولیت کے اصلی حق دار مسلمان ہیں نہ کہ قریش۔
انہی چند آیات کی بنا پر ہمارے مفسرین نے، اس سورہ کے مکی یا مدنی ہونے کے باب میں، اختلاف کیا ہے۔ لیکن کسی مکی سورہ میں چند مدنی آیتیں داخل ہوجانے سے، جب کہ ان آیات کی نوعیت بھی محض توضیحی آیات کی ہو، پوری سورہ کو مدنی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ بعض مدنی آیات سورۂ مزمل میں بھی ہیں حالانکہ وہ بالاتفاق مکی ہے۔ ہم آگے ان آیات کی تفسیر میں واضح کریں گے کہ ان کی حیثیت اجمال کے بعد تصریح کی ہے۔ ایک بات جو مکی زندگی کے آخری دور میں فرمائی گئی تھی جب مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں اس کی تفصیل نازل ہوئی تواجمال اور تفصیل دونوں کو ایک ساتھ رکھ دیا گیا۔ صاحب کشاف نے بھی اس سورہ کو، باستثنائے چند آیات، مکی ہی قرار دیا ہے۔
ب ۔سورہ کے مطالب کا تجزیہ
(4-1) مخالفین قرآن کو انذار کہ خدا کی پکڑ اور قیامت کا عذاب بڑی ہی ہولناک چیز ہے۔ بغیر کسی دلیل کے خدا کے شریک و شفیع گمان کر کے، قیامت سے بے پروا ہو بیٹھنا اور شیطان کی پیروی کرنا اپنی شامت کو دعوت دیناہے۔ شیطان کا اصلی کام، جس کے لیے خدا نے اس کو مہلت دی ہے، ہدایت دینا نہیں ہے کہ اس کی پیروی کی جائے بلکہ یہ ہے کہ جو شامت زدہ لوگ اس کی پیروی کریں ان کو وہ سیدھے جہنم میں لے جا اتارے۔
(8-5) انسان کی خلقت اور زمین کے خشک و بے آب و گیاہ ہو جانے کے بعد ازسر نو سرسبز و شاداب ہو جانے سے امکان معاد پر استدلال، یہ واضح کرنے کے لیے کہ جو لوگ قیامت کے باب میں شک میں پڑے ہوئے اور اس سے بے پروا ہیں، نہ خود اپنی خلقت کی نوعیت اور اس کی حکمتوں پر غور کر رہے ہیں اور نہ اس کائنات کے روزمرہ مشاہدات پر، وہ آنکھیں کھولیں اور مشاہدۂ عذاب کے مطالبہ کے بجائے آفاق و انفس کی نشانیوں سے سبق حاصل کریں۔ قیامت کا آنا خدا کی صفات کاایک بدیہی اور لازمی تقاضا ہے۔ وہ لاریب آکے رہے گی۔
(16-9) ان لوگوں کی تردید جو اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کے بل پر آخرت سے نچنت اور شرک کی حمایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بحث و مباحثہ کے لیے ہر وقت آستینیں چڑھائے رہتے۔ اس امر کی وضاحت کہ شرک کے ساتھ خدا کی بندگی کا دعویٰ ایک بالکل لاطائل دعویٰ ہے۔ جو لوگ محض اپنی ظاہری منفعتوں ہی کے حد تک خدا کی بندگی اور اطاعت کرنا چاہتے ہیں، اس راہ میں کوئی امتحان پیش آجائے تو وہیں سے وہ کترا جاتے ہیں اور دوسرے آستانوں پر جبہ سائی شروع کر دیتے ہیں، خدا کے ہاں ایسے دو دلوں اور منافقوں کی کوئی پوچھ نہیں ہے۔ ایسے لوگ خسرا لدنیا والآخرۃ کے مصداق ہیں۔ یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر اپنی منفعتوں کی خاطر جن کی طرف بھاگتے ہیں ان کا ضرر ان کی منفعت سے قریب تر ہے۔ نافع و ضار صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اگر کوئی خدا سے مایوس ہوتا ہے تو وہ آسمان میں تھونی لگا کر اپنی سی کر کے دیکھ لے کہ اس کی کوئی بڑی سے بڑی تدبیر بھی اس مشکل کو حل کرنے والی بنتی ہے!
(24-17) مسلمانوں کو تسلی اور تمام مخالف اسلام فرقوں اور گروہوں کو آگاہی کہ ہر ایک کا رویہ خدا کی نظر میں ہے۔ کسی کا کوئی قول و فعل بھی اس سے مخفی نہیں۔ بالآخر ایک دن سب کا معاملہ خدا کی عدالت میں پیش ہو گا۔ ایک طرف وہ لوگ ہوں گے جو آج خدا کی وحدانیت اور اس کے کلمۂ حق کی دعوت دے رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے اپنی بدعتوں سے خد اکے دین کو بگاڑا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ جو شرک و کفر کے مرتکب ہوئے ہوں گے ان سب کو جہنم میں داخل کرے گا اور جو توحید و ایمان پر قائم رہیں گے وہ جنت کی نعمتوں سے بہرہ مند ہوں گے۔
(37-25) اصل ملت ابراہیمؑ اور بیت اللہ کے مقصد تعمیر کی وضاحت تاکہ مشرکین مکہ اور ان کے حامی اہل کتاب پر یہ حقیقت واضح کر دی جائے کہ آج وہ اپنے آپ کو ملت ابراہیمؑ اور بیت اللہ کا جو وارث و متولی سمجھے بیٹھے ہیں اور اس زعم میں خدا کے رسول اور اس کے ساتھیوں پر انھوں نے اس گھر کے دروازے بند کر رکھے ہیں، یہ محض ان کی برخود غلطی اور دھاندلی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اس گھر کو اس شرک و بت پرستی کے لیے نہیں بنایا تھا جس کا ایک گڑھ بنا کے اس کو رکھ دیا گیا ہے بلکہ انھوں نے اس کو صرف خدائے واحد کی عبادت اور اسی کے حج و طواف کا مرکز بنایا تھا۔ اسی ضمن میں قربانی اور دوسرے شعائر و مناسک کی اصل روح کی طرف توجہ دلائی گئی تاکہ وراثت ابراہیمی کے یہ مدعی اپنا جائزہ لیں کہ حضرت ابراہیمؑ کیا تعلیم دے گئے تھے اور انھوں نے ان کی تعلیم کو کس طرح مسخ کیا ہے اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ آج اللہ کے جو بندے ملت ابراہیمؑ کا احیاء کر رہے ہیں ان کو یہ اس گھر سے نکالنے پر تلے ہوئے ہیں۔
(41-38) یہ چار آیتیں مدنی ہیں۔ مسلمان، مدینہ سے ہجرت کر جانے کے بعد، جب ایک منظم جماعت بن گئے تب یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر وہ حج کے لیے جائیں اور کفار روکیں تو ان کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ یہ سوال اس وجہ سے بڑی اہمیت رکھتا تھا کہ اشہر حُرم اور خاص طور پر حدود حرم میں جنگ زمانۂ جاہلیت میں بھی حرام سمجھی جاتی تھی۔ قریش اشہر حُرم اور حرم کی اس حرمت کو اپنے لیے ایک سپر بنائے ہوئے تھے اور مسلمان بھی اس حرمت کے منافی کوئی اقدام کرنے کی جرأت اس وقت تک نہیں کر سکتے تھے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو اجازت نہ ملے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ اجازت دے دی کہ اگر اس طرح کی کسی جنگ کی نوبت آئے تو تم بھی جنگ کرو۔ یہ جنگ اشہر حُرم یا حرم کی حرمت کے منافی نہیں ہے بلکہ یہ بیت اللہ کی تطہیر کے لیے ایک مقدس جہاد ہے اور اگر تمہیں قوت حاصل ہو تو بیت اللہ کو اس کے غاصب قابضوں سے آزاد کرانا تمہارا فریضہ ہے۔ ساتھ ہی جہاد کی یہ حکمت بھی واضح فرما دی کہ اگر اس طرح کی جنگ بھی تقویٰ کے منافی سمجھی جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ تمام مساجد، جو اللہ واحد کی عبادت کے لیے تعمیر ہوئیں، کفار و شیاطین کے حوالے کر دی جائیں کہ وہ ان کو ڈھا کر رکھ دیں یا بت خانہ بنا ڈالیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو اس جنگ سے نہ ہچکچانا چاہیے، نہ مخالفوں کے طعنوں کی پروا کرنی چاہے۔ اگر اس راہ میں جنگ پیش آئی تو، اان کی قلت تعداد اور بے سروسامانی کے باوجود، خدائے قوی و عزیز ان کی مدد فرمائے گا تاکہ جب ان کو سرزمین حرم میں اقتدار حاصل ہو تو وہ اس کو شرک و کفر کی تمام نجاستوں سے پاک کر کے اس کے ان مقاصد کا احیاء کریں جن کے لیے حضرت ابراہیمؑ نے ان کو آباد کیا تھا۔
تطہیر بیت اللہ کے لیے جہاد کی یہ اجازت چونکہ اسی بات کا ایک لازمی نتیجہ تھی جو اوپر والے پیرے میں بیان ہوئی کہ قریش کا اس گھر پر قبضہ غاصبانہ ہے، انھوں نے اس کے مقاصد برباد کر کے رکھ دیے ہیں، اس وجہ سے جب یہ آیتیں نازل ہوئیں تو گو یہ نازل مدینہ میں ہوئیں لیکن ترتیب میں ان کو جگہ یہاں دی گئی تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ صورت حال کے تقاضے سے یہ اجازت دی گئی۔
(52-42) تاریخ کی شہادت کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان کی قوموں کو جو تہدید فرمائی وہ بالآخر پوری ہو کے رہی۔ کوئی قوم بھی اپنے رسول کی تکذیب کے بعد صفحۂ ارض پر قائم نہ رہ سکی۔ صرف ان کی عظیم عمارتوں کے کھنڈر باقی رہ گئے جو عبرت کے لیے کافی ہیں بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھیں ہوں۔ لیکن جن کے دل اندھے ہو چکے ہوں ان کا علاج کسی طبیب کے پاس بھی نہیں ہے۔ جو لوگ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے تھے ان کو جواب کہ خدا کی تقویم تمہاری تقویم سے مختلف ہے۔ اس کے ہاں کا ایک دن تمہارے ہزار سالوں کی طرح ہے تو جلدی نہ مچاؤ، خدا کی بات پوری ہو کے رہے گی۔ خدا نے جس طرح پچھلی قوموں کو مہلت دی اسی طرح تمہیں بھی مہلت دی ہے لیکن جس طرح ان پر عذاب آکر رہا اسی طرح تم پر بھی، اگر تم اپنی ہٹ سے باز نہ آئے، عذاب آکے رہے گا۔ رسول کا کام انذار و تبشیر ہے۔ عذاب کا فیصلہ خدا کے اختیار میں ہے۔
(57-53) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی کہ تمہارے یہ مخالفین تمہاری دعوت کی مخالفت میں جو جھاڑ کے کانٹے کی طرح تمہارے پیچھے پڑ گئے ہیں، رسولوں کی تاریخ میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر رسول کو اسی طرح کے حالات سے سابقہ پیش آیا ہے۔ جب کبھی کسی رسول یا نبی نے اصلاح احوال کی راہ میں کوئی حوصلہ کیا ہے شیاطین نے اسی طرح اس کے حوصلہ کی راہ مارنے کی کوشش کی ہے اور اس میں اڑنگے ڈالے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ہمیشہ شیاطین کی وسوسہ اندازیوں کو مٹاتا اور اپنی باتوں کو غالب و فتح مند کرتا رہا ہے۔ شیاطین کو اللہ نے وسوسہ اندازی و خاک بازی کی یہ مہلت اس لیے دی ہے کہ یہ چیز حق کے سچے حامیوں اور بوالہوسوں میں وجۂ امتیاز ہو۔ جو لوگ حق کے طالب ہو تے ہیں شیاطین کے پروپیگنڈے سے ان کا ایمان نکھرتا اور ان کا علم پختہ ہوتا ہے اور جو بوالہوس اور منافق ہوتے ہیں ان کی ضلالت پختہ سے پختہ ہو جاتی ہے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ ان کے اور اہل حق کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ جو اہل حق ہوں گے اس امتحان سے گزرنے کے بعد آخرت کی بادشاہی کے وارث ہوں گے اور اہل باطل جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
(64-58) جو لوگ اس دور میں ہجرت کر چکے تھے یااس کے لیے پابرکاب تھے ان کو دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کی بشارت اور خدا کی صفات اور آفاق کی شہادت سے اس بشارت کی تائید کے دلائل۔
(70-65) کفار کی طرف سے مطالبۂ عذاب کے باوجود ان کو جو مہلت ملی ہوئی تھی اس کی حکمت کی طرف اشارہ کہ خدا رحمت کرنے میں جلدی کرتا ہے، قہر کرنے میں وہ بڑا دھیما ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کہ اب تم ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو۔ خدا قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور یہ چیز خدا کے لیے نہایت آسان ہے۔
(76-71) شرک اور شفاعت باطل کے نظریہ پر آخری ضرب تاکہ مشرکین پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ جن شرکاء و شفعاء کے اعتماد پر وہ آخرت سے بے پروا ہیں، وہ خدا کی عدالت میں ذرا بھی ان کے کام آنے والے نہیں ہیں۔
(78-77) خاتمۂ سورہ جس میں مسلمانوں کو بحیثیت جماعت خطاب کرکے خدا کی عبادت اور اس کی راہ میں جہاد کی تاکید فرمائی گئی ہے کہ اب ملت ابراہیمؑ کے وارث تم ہو، خدا نے تم کو مسلم کے لقب سے ممتاز فرمایا اور اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ خدا کے رسول نے جس طرح تم پر حق کی گواہی دی اسی طرح تم خلق پر حق کی گواہی دینے والے بنو۔ نماز و زکوٰۃ کا اہتمام کرو، خدا پر جمے رہو۔ وہی تمہارا مولیٰ ہے اور وہ بہترین مددگار ہے!!
23 المومنون (The Believers)
118 verses | مکی
سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق
یہ سورہ، سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ حج ۔۔۔ کی توام اور مثنیٰ ہے۔ سورۂ حج جس مضمون پر تمام ہوئی ہے اسی مضمون سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ سورۂ حج کے آخر میں مسلمانوں کا فریضۂ منصبی یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رسول نے دین حق کی گواہی جس طرح تم پر دی ہے اسی طرح اب تمہارا فرض ہے کہ یہ گواہی تم خلق پر دو۔ ساتھ ہی اس منصب کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جن باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے مثلاً اہتمام نماز، ادائیگی زکوٰۃ اور توکل علی اللہ، ان کی ہدایت فرمائی ہے۔ اب اس سورہ کو پڑھیے تو بعینہٖ اسی مضمون سے اس طرح شروع ہو گئی ہے گویا اسی کا تکملہ و تتمہ ہے۔ سورۂ حج کی آخری اور سورۂ مومنون کی ابتدائی آیات نے ایک حلقۂ اتصال کی صورت اختیار کرلی ہے۔ مضمون کے اعتبار سے بھی دونوں سورتوں میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ صرف اسلوب بیان اور نہج استدلال کا فرق ہے۔ سورۂ حج میں اہل ایمان کو فوز و فلاح کی اور کفار کو ذلت و نامرادی کی جو خبر دی گئی ہے وہ اس سورہ میں پوری طرح آشکارا ہو گئی ہے۔ خاص طورپر اہل ایمان کے لیے بشارت کا مضمون اس میں بالکل کھل کرسامنے آگیا ہے اور وہ اوصاف بھی وضاحت سے بیان ہو گئے ہیں جن کے ساتھ یہ بشارت مشروط ہے۔ اسی طرح کفار پر بھی یہ حقیقت اچھی طرح واضح کر دی گئی ہے کہ تمہیں جس ذلت کی خبر دی جا رہی ہے وہ لازماً پیش آکے رہے گی، آفاق و انفس اور تاریخ کی شہادت یہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو امتحان کا گھر بنایا ہے اس وجہ سے اس میں اہل ایمان کی آزمائش بھی ہوتی ہے اور اہل کفر کو ڈھیل بھی دی جاتی ہے۔ لیکن یہ عارضی وقفے ہیں۔ بالآخر حق ہی کا بول بالا ہو گا اور اہل باطل نامراد ہوں گے۔
ب ۔سورہ کے مطالب کا تجزیہ
(11-1) اہل ایمان کے لیے فوزو فلاح اور جنت کی وراثت کی بشارت اور یہ بشارت جن شرائط کے ساتھ مشروط ہے ان کا بیان۔
(22-12) انسان کی خلقت میں خدا کی قدرت وحکمت کی نشانیاں ہیں ان سے موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر استدلال اور اس کائنات میں خدا کی پروردگاری کے جو آثار و شواہد ہیں ان سے جزا و سزا کے لازم ہونے پر دلیل۔
(50-23) حضراب انبیاء علیہم السلام کی سرگزشتوں کی طرف ایک اجمالی اشارہ۔ ابتدائی انبیاء میں سے حضرت نوحؑ کا اور آخری انبیاء میں سے حضرت موسیٰ، حضرت ہارون اور حضرت مسیح علیہم السلام کا نام لے کر اور بیچ کے تمام انبیاء کا نام لیے بغیر حوالہ، جس سے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ آج جس انداز سے خدا کے رسول کی تکذیب ہو رہی ہے اسی انداز سے ہمیشہ شریروں اور مفسدوں نے رسولوں کی تکذیب کی ہے لیکن اللہ نے رسولوں کی دعوت کو فروغ دیا اور شریروں کی جڑ کاٹ دی۔ یہی اب بھی ہو گا لیکن یہ دنیا دارالامتحان ہے اس میں اہل حق کی آزمائش لازمی ہے۔ اس آزمائش کے تقاضے سے اہل باطل کو بھی ایک حد خاص تک مہلت دی جاتی ہے کہ وہ بھی جنتا زور لگانا ہے لگا لیں۔ ان کے پاس کوئی عذر نہ باقی رہ جائے۔
(67-51) تمام انبیاء کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ہی دین ملا اور وہ ایک ہی دعوت کے داعی بن کر آئے لیکن ان کی امتوں نے ان کے لائے ہوئے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا اور اب سب اپنے اپنے طریقہ پر مگن ہیں۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تلقین صبر کہ ان کو ان کی سرمستی میں کچھ دن مگن رہ لینے دو۔ یہ اس مغالطہ میں ہیں کہ مال و اولاد کی جو نعمت انھیں ملی ہوئی ہے یہ ان کے خیر میں اضافہ ہے۔ یہ خیر میں اضافہ نہیں بلکہ ان کی تباہی میں اضافہ ہے لیکن ان کو اس کا احساس نہیں ہو رہا ہے۔ خیر میں اضافہ وہ لوگ کر رہے ہیں جن کے اندر ایمان، خشیت، اخلاص اور انفاق کی صفات پائی جاتی ہیں۔ وہ بے شک اپنی نیکیوں کا بھرپور صلہ پائیں گے۔ رہے یہ دنیادار اور دنیا پرست تو یہ اسی طرح اپنی دلچسپیوں میں ڈوبے رہیں گے۔ یہاں تک کہ جب ہم ان کو پکڑیں گے تو یہ اپنے سر پیٹیں گے لیکن اس وقت ان کا سارا چیخنا چلانا بے سود ہو گا۔
(77-68) مکذبین کے بعض شبہات و اعتراضات کا حوالہ اور ان کے بے بنیاد ہونے کی طرف اشارہ۔ نیز ان کے مطالبۂ عذاب کا جواب کہ اگر ان کو عذا ب کا کوئی نمونہ دکھا بھی دیا گیا تو یہ ان کے لیے سود مند نہ ہو گا۔ جس طرح یہ دوسروں پر گزرے ہوئے حوادث سے کوئی سبق نہیں لیتے اسی طرح اگر خود ان پر بھی کوئی آفت آئے تو اس سے چھوٹتے ہی پھر گرد جھاڑ کے اپنی بدمستیوں میں کھو جائیں گے۔
(92-78) معجزے اور نشانیاں مانگنے والوں کو کان، آنکھ اور دل و دماغ سے کام لینے کی دعوت کہ اگر تم خدا کی بخشی ہوئی صلاحیتوں سے کام لو تو تمہیں مرنے کے بعد اٹھنا اور جزاء سزا کا معاملہ ایک بدیہی حقیقت معلوم ہو گا۔ پھر ان کے تضاد فکر کے بعض پہلوؤں کی نشاندہی کہ یہ لوگ خود اپنے مسلمات کے نہایت بدیہی لوازم سے، محض اپنی خواہشوں کی پیروی میں، گریز اختیار کر رہے ہیں۔
(118-93) خاتمۂ سورہ، جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معاندین کے رویہ سے چندے درگزر کرنے اور آنے والے عذاب سے پناہ مانگتے رہنے کی تلقین اور کفار کو وعید کہ وہ وقت قریب ہے جب تم سر پیٹو گے اور آرزوئیں کرو گے کہ کاش تمہیں دنیا میں جا کر کچھ نیکی کرنے کا موقع ملے لیکن اس وقت اس کا موقع گزر چکا ہو گا۔ اس وقت صرف وہ لوگ فلاح پائیں گے جن کے پلڑے بھاری ہوں گے۔ اس وقت فائزالمرام ہمارے وہی بندے ہوں گے جو آج تمہیں خدا کی راہ کی دعوت دے رہے ہیں لیکن تم ان کا مذاق اڑا رہے ہو۔آج تمہیں یہ دنیا کی زندگی بڑی طویل معلوم ہو رہی ہے لیکن اس دن اندازہ ہو گا کہ یہ زندگی چند لمحوں میں گزر گئی۔ تم نے گمان کیا کہ ہم نے تمہیں شتر بے مہار بنا کر اس دنیا میں چھوڑا ہے اور تمہیں ہمارے پاس لوٹنا نہیں ہے لیکن تمہیں ایک ہی خدائے برتر و عظیم کی طرف لوٹنا ہو گا اور تمہارے شرکاء و شفعاء تمہارے کچھ کام نہیں آئیں گے۔
24 النور (The Light)
64 verses | مدنی
سورہ کا محل و مقام، عمود اور سابق سورہ سے تعلق
یہ سورہ اس گروپ کی آخری سورہ ہے ۔۔۔ یہ مدنی ہے۔ اس کی حیثیت سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ مومنون ۔۔۔ کے تکملہ اور تتمہ کی ہے اس وجہ سے اس کے ساتھ اس کی کوئی مثنیٰ سورہ نہیں ہے۔ ہم مقدمہ میں ذکر کر چکے ہیں کہ جو سورتیں اپنی سابق سورہ کے تکمہ و تتمہ کی حیثیت رکھتی ہیں وہ گویا سابق سورہ ہی کا جزو ہوتی ہیں اس وجہ سے ان کے ساتھ ان کے کسی جوڑے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کی مثالیں آگے بھی آئیں گی۔
یہاں سورۂ مومنون کی آیت 11-1 پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے۔ وہاں بیان ہوا ہے کہ خدا کے ہاں فوز و فلاح ان اہل ایمان کے لیے ہے جن کی نمازوں میں خضوع و خشوع ہے، جو لغویات سے احتراز کرنے والے ہیں، جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے اور اپنے شہوانی جذبات پر پورا قابو رکھتے ہیں، ان سے مغلوب ہو کر خدا کے مقرر کردہ حدود و قیود کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور جو اپنی امانتوں اور اپنے قول و قرارکا پاس و لحاظ رکھنے والے ہیں۔
جب تک مسلمان مکہ میں رہے ایمان کے یہ اثرات اور تقاضے ظاہر ہے کہ ان کی انفرادی زندگیوں ہی میں ابھر سکتے تھے اس لیے کہ مکہ میں ان کی کوئی اجتماعی تنظیم نہیں تھی لیکن ہجرت کے بعد جب مسلمان مدینہ میں مجتمع ہو گئے اور ان کی ایک اجتماعی و سیاسی تنظیم بھی وجود میں آگئی تب وقت آیا کہ اس ایمان کے تقاضے معاشرتی و سیاسی زندگی میں بھی نمایاں ہوں۔ چنانچہ جس رفتار سے حالات سازگار ہوتے گئے معاشرہ کی اصلاح و تطہیر کے احکام نازل ہوئے اور ایمان کی اس نورانیت کی جگمگاہٹ، جو اب تک صرف افراد تک محدود تھی، ایک پوری ہیئت اجتماعی پر ضوفگن ہوئی۔
سورۂ نور اسی سلسلہ کی ایک سورہ ہے جس میں وقت کے خاص حالات کے مطابق اہل ایمان کو ان احکام و ہدایات سے آگاہ کیا گیا ہے جو ان کے نو تشکیل معاشرے کو ایمان کے تقاضوں سے منور کرنے اور منافئ ایمان مفاسد سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری تھے۔
اب ہم سورہ کے مطالب کا تجزیہ پیش کرتے ہیں تاکہ عمود کے ساتھ اس کے اجزاء کی مطابقت واضح ہو جائے۔
ب ۔سورہ کے مطالب کا تجزیہ
(3-1) جرم زناکی سزا کا بیان اور مسلمان کے لیے کس زانیہ یا مشرکہ سے اور کسی مومنہ کے لیے کسی زانی یا مشرک سے نکاح کی ممانعت۔
(5-4) قذف کی سزا اور اس کے لیے شہادت کا قانون۔
(10-6) اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور اپنے الزام کو ثابت کرنے کے لیے شریعت کی مطلوبہ شہادت پیش نہ کر سکے تواس کا فیصلہ فریقین کی قَسم سے ہو گا۔ اس قَسم کے طریقہ کی وضاحت۔
(26-11) فتنۂ افک کی طرف ایک اجمالی اشارہ ااور اس کے تعلق سے ان رخنوں کا سدباب جو معاشرہ کی تباہی کا سبب ہو سکتے تھے۔ جن منافقین نے یہ فتنہ اٹھایا ان کی پردہ داری اور ان کو وعید۔ جن مسلمانوں نے اس معاملہ میں بے پروائی اور سہل انگاری سے نادانستہ منافقین کے مقصد کو تقویت پہنچائی ان کوتنبیہ کہ وہ آئندہ ان منافقین سے ہوشیار رہیں۔ یہ منافقین مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ کو مجروح کرنے کے درپے ہیں اس وجہ سے مسلمانوں کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ ایک دوسرے کے عزت و ناموس سے متعلق جو بات کوئی ان کے کان میں ڈال دے اس کو لے اڑیں بلکہ انھیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حسن ظن رکھنا چاہیے اور کسی ک باب میں کوئی الزام اس وقت تک قبول نہیں کرنا چاہیے جب تک اس کا ثبوت موجود نہ ہو۔
(31-27) اگر کسی مسلمان کو اپنے کسی دوسرے بھائی کے گھر میں جانے کی ضرورت پیش آئے تو وہ چند معین ضابطوں کی پابندی کرے تاکہ گھروں کے اندر بدنگاہی اور شیطان کو دراندازی کی راہ نہ ملے۔ ان ضابطوں کی وضاحت اور اس صورت میں گھر کی خواتین پرجو پابندیاں شریعت نے عائد کی ہیں ان کی تفصیل۔
(34-32) عقد بیوگان اور لونڈیوں غلاموں کے نکاح کی تاکید تاکہ معاشرہ شیطان کی رخنہ اندازیوں سے محفوظ رہے۔ غلاموں کو آزادوں کی سطح پر لانے اور غلامی کو ختم کرنے کے لیے مکاتبت کی ہدایت اور مکاتبت کے طلبگار غلاموں کی مالی امداد کی تاکید۔ نیز لونڈیوں سے پیشہ کرانے کی شدت سے ممانعت۔
(40-35) ایمان اور کفر کی تمثیل جس میں واضح فرمایا ہے کہ جس دل کے اندر ایمان ہوتا ہے اس کا ظاہر اور باطن دونوں مطلع انوار بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ اس نور ایمان سے محروم ہوتے ہیں ان کے اندر اور باہر گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا یا رہتا ہے۔
(46-41) آفاق کے دلائل کی روشنی میں ایمان کی دعوت کہ اس کائنات میں مصرف حقیقی صرف اللہ وحدہٗ لاشریک ہے۔ ہر چیز صرف اسی کی حمد و تسبیح کرتی ہے اس وجہ سے انسانوں کا بھی فرض ہے کہ اسی خدائے وحدہٗ لاشریک لہٗ پر ایمان لائیں، اس کی عبادت و اطاعت میں کسی اور کو شریک کرکے اپنے آپ کو اس کے غضب کا مستحق نہ بنائیں۔
(54-47) منافقین کو تنبیہ کہ ان کی یہ منقسم وفاداری کی پالیسی چلنے والی نہیں ہے کہ اپنے مفاد کے حد تک تو وہ خدا اور رسول کا کلمہ پڑھیں اور اگر کوئی بات ان کو اپنے مفاد کے خلاف نظر آئے تو خدا اور رسول کو چھوڑ کر اپنی من مانی کریں۔ اگر فوز و فلاح مطلوب ہے تو یکسوئی کے ساتھ رسول کا ساتھ دیں ورنہ جس وادی میں بھٹکنا چاہتے ہیں اس میں بھٹکتے پھریں، خدا کو ان کی کوئی پروا نہیں ہے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ اصل چیز ایمان و اطاعت ہے، جھوٹی قسموں سے رسول کو جُل دینے کی کوشش نہ کریں۔ رسول کا کام اللہ کے دین کوپہنچا دینا تھا، وہ اس نے پہنچا دیا۔ اب لوگوں کی اپنی ذمہ داری ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے انجام کو اچھی طرح سوچ لے۔
(57-55) رسول کے راستباز ساتھیوں کو نہایت واضح الفاظ میں زمین کی خلافت کی بشارت کہ تمہارے مخالفین اور دین کے اعداء تمہارا یا تمہارے دین کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ تم نماز کا اہتمام رکھو، زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور پوری دل جمعی کے ساتھ رسول کی اطاعت پر جمے رہو، جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس خوف کی حالت کو امن و اطمینان سے بدل دے گا۔
(61-58) پیچھے آیات 31-27 میں گھروں کے اندر کے پردے سے متعلق جو ہدایات دی گئی ہیں، بعد میں انہی سے متعلق کچھ سوالات پیدا ہوئے۔ ان آیات میں ان کے جواب دیے گئے ہیں اور ان کے ساتھ یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ یہ آیات لوگوں کے سوالوں کے جواب میں بعد میں نازل ہوئی ہیں۔
(64-62) خاتمۂ سورہ ۔۔۔ توضیحی آیات کے بعد اصل سلسلۂ کلام، اطاعت رسول سے متعلق، جو آیت 57 میں گزرا پھر سامنے آگیا اور اسی اہم مضمون پر یہ عظیم سورہ ختم ہوئی ہے۔ اس خاتمہ میں مسلمانوں کو عموماً اور منافقین کو خصوصاً متنبہ کیا گیاہے کہ اللہ کا رسول جب کسی اجتماعی کام کے لیے تمہیں بلائے تواس کے بلانے کو کسی عام شخص کا بلانا نہ سمجھو کہ جی چاہا گئے، جی چاہا نہ گئے اور گئے بھی توجب جی چاہا اٹھ کے چل دیے۔ بلکہ ضرور جاؤ اور جب تک اجازت نہ ملے اس وقت تک وہاں سے نہ اٹھو۔ اسی اطاعت میں تمہاری دین و دنیا کی فلاح کا راز مضمر ہے۔
25 الفرقان (The Criterion, The Standard)
77 verses | مکی
سورتوں کے چوتھے گروپ پر ایک اجمالی نظر
سورۂ فرقان سے سورتوں کا چوتھا گروپ شروع ہو رہا ہے۔ اس میں آٹھ سورتیں ۔۔۔ فرقان، شعراء، نمل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، سجدہ ۔۔۔ مکی ہیں، آخر میں صرف ایک سورہ ۔۔۔ احزاب ۔۔۔مدنی ہے۔ سورتوں کے جوڑے جوڑے ہونے کا اصول دوسرے گروپوں کی طرح اس میں بھی مَرعی ہے۔ البتہ سورۂ احزاب کی حیثیت خلاصۂ بحث یا سورۂ نور کی طرح تکملہ و تتمہ کی ہے۔ اسلامی دعوت کے تمام ادوار ۔۔۔ دعوت، ہجرت، جہاد ۔۔۔ اور تمام بنیادی مطالب ۔۔۔ توحید، رسالت، معاد ۔۔۔ اس میں بھی زیربحث آئے ہیں البتہ اسلوب، انداز اور مواد استدلال دوسرے گروپوں سے اس میں فی الجملہ مختلف نظر آئے گا۔
اس گروپ کا جامع عمود اثبات رسالت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور قرآن کے وحی الٰہی ہونے کے خلاف قریش اور ان کے حلیفوں نے جتنے اعتراضات و شبہات اٹھائے اس گروپ کی مختلف سورتوں میں، مختلف اسلوبوں سے، ان کے جواب بھی دیے گئے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کااصل مرتبہ و مقام بھی واضح فرمایا گیا ہے۔ اسی کے ضمن میں قرآن پر ایمان لانے والوں کو، مرحلۂ امتحان سے گزرنے کے بعد، دنیا اور آخرت دونوں میں، فوز و فلاح کی بشارت دی گئی ہے اور جو لوگ اس کی تکذیب پر اڑے رہیں گے، اتمام حجت کے بعد، ان کو ان کے انجام سے آگاہ کیا گیا ہے۔
یہ پورے گروپ پر ایک اجمالی نظر ہے۔ اب ہم اللہ کا نام لے کر گروپ کی ایک ایک سورہ کی الگ الگ تفسیر شروع کرتے ہیں۔
ب ۔سورہ کا عمود
اس سورہ کا عمود قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع ہے۔ مخالفین نے جو شبہات و اعتراضات، قرآن اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اٹھائے وہ اس میں نقل کر کے ان کے جواب دیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی مخالفین کے اعتراض و انکار کے اصل محرکات کا بھی پتہ دیا گیا ہے اور قرآن کی جن باتوں سے وہ خاص طور پر متوحش تھے مثلاً دعوت توحید یا انذار عذاب، وہ مزید دلائل سے مبرہن کی گئی ہیں۔
ج ۔سورہ کے مطالب کا تجزیہ
سورہ کے مطالب کا تجزیہ یہ ہے۔
(9-1) قرآن کا نزول سب سے بڑی برکت والی ہستی کی طرف سے سب سے بڑی برکت و رحمت کا نزول ہے لیکن توحید اور قیامت کے منکرین اس کو افتراء اور سازش قرار دے رہے ہیں۔ ان باتوں کا حوالہ جو مخالفین آنحضرت صلعم اور قرآن سے برگشتہ و بدگمان کرنے کے لیے لوگوں میں پھیلاتے تھے۔
(34-10) مخالفین کے اعتراضات و مطاعن کا جواب، اور اس مخالفت کے پس پردہ محرک کی طرف اشارہ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کو صبر و اسقامت کی تلقین اور تکذیب کرنے والوں کے انجام بد کا بیان۔
(44-35) رسولوں اور ان کے مکذبین کی تاریخ کی طرف ایک اجمالی اشارہ جس سے مقصود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ کو صبر و استقامت کی تلقین ہے کہ جو لوگ اس کتاب کی تکذیب کر رہے ہیں یہ نہ خیال کرو کہ یہ سننے سمجھنے والے لوگ ہیں۔ یہ چوپایوں سے بھی زیادہ لایعقل اور اپنی خواہشوں کے غلام ہیں۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ تم ان پر حجت تمام کر دو۔ یہ اسی راہ پر چلیں گے جس پر چل رہے ہیں اور اسی انجام سے دوچار ہوں گے جو ان کے لیے مقدر ہے۔ تم اپنے فرض کی ادائیگی کے ذمہ دار ہو، ان کے رخ موڑ دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔
(60-45) قرآن کی دعوت کے اساسی مسائل ۔۔۔ توحید اور معاد ۔۔۔ کے اثبات میں آفاق کے بعض دلائل کی طرف اشارہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس امر کی تلقین کہ مخالفین کے مطالبۂ معجزات سے بے پروا ہو کر اسی قرآن کے ذریعہ سے ان پر اتمام حجت کرو۔ اس قرآن میں گوناگون اسالیب سے وہ ساری باتیں واضح کر دی گئی ہیں جن کا واضح ہونا اتمام حجت کے نقطۂ نظر سے ضروری ہے۔ اگر لوگ اس کو نہیں مانتے تو تمہارا سکام صرف انذار و تبشیر ہے۔ تم اپنا فرض ادا کر کے ان کو ان کے حال پر چھوڑو، ان بے سروپا اعتراضات کو کوئی اہمیت نہ دو جو انھوں نے محض قرآن کی مخالفت کے لیے بطور بہانہ ایجاد کیے ہیں۔ اللہ پر بھروسہ رکھو۔ وہ ہر چیز سے آگا ہے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ مستحق ہے۔
(77-61) اس دنیا کے روز و شب تذکیر و تنبیہ کے لیے کافی ہیں بشرطیکہ انسان یاددہانی حاصل کرنا اور اپنے رب کا شکرگزار بندہ بننا چاہے۔ جن لوگوں کے اندر انابت اور خشیت ہوتی ہے وہ اس طرح اکڑا نہیں کرتے جس طرح یہ متمردین اکڑ رہے ہیں بلکہ ان کی روش ان سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ خدا کے ذاکر و شاکربندوں کی صفات کا بیان۔ آخر میں متمردین قریش کو تنبیہ کہ تمہیں جو اس درجہ اہمیت دی گئی اور تمہارے لیے تعلیم و دعوت کا یہ اہتمام کیا گیا تو اس لیے نہیں کہ تمہارے بغیر خدا کا کوئی کام بند ہے یا بند ہو جائے گا بلکہ مقصود صرف تمہاری صلاح و فلاح تھی۔ اب اگر تم خدا کی اس نعمت کی قدر نہیں کررہے ہو توو ہ چیز لازماً پیش آکے رہے گی جو اس ناقدری کا لازمی نتیجہ ہے۔



