loading...
Report a Bug

Home » Naqd-o-Nazar » Blasphemy » Punishment for Blasphemy against the Prophet (sws) Part 1

توہین رسالت کی سزا 1

توہین رسالت کی سزا کا جو قانون ریاست پاکستان میں نافذ ہے، اُس کا کوئی ماخذ قرآن و حدیث میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔اِس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قانون کہاں سے اخذ کیا گیا ہے؟ اِس سوال کے جواب میں بعض اہل علم نے فرمایا ہے کہ یہ سورۂ مائدہ (۵) کی آیات ۳۳۔۳۴ سے ماخوذ ہو سکتا ہے۔ اُن کا ارشاد ہے کہ مائدہ کی اِن آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے محاربہ اور فساد فی الارض کی سزا بیان فرمائی ہے اور اُس کے رسول کی توہین و تحقیر بھی محاربہ ہی کی ایک صورت ہے۔ آیات یہ ہیں:

اِنَّمَا جَزآؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ، ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ، اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ، فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ. (۵:۳۳۔۳۴) ’’جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول سے لڑیں گے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کریں گے، اُن کی سزا پھر یہی ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیے جائیں یا سولی پر چڑھا ئے جائیں یا اُن کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں یا اُنھیں علاقہ بدر کر دیا جائے۔ یہ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے ایک بڑا عذاب ہے، مگر اُن کے لیے نہیں جو تمھارے قابو پانے سے پہلے توبہ کر لیں۔ سو (اُن پر زیادتی نہ کرو اور) اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘

اِس قانون کے ماخذ سے متعلق دوسرے نقطہ ہاے نظر کی طرح یہ راے بھی ہمارے نزدیک محل نظر ہے۔ اولاً، اِس لیے کہ آیت میں ’یُحَارِبُوْنَ‘کا لفظ ہے۔ یہ لفظ تقاضا کرتا ہے کہ آیت میں جو سزائیں بیان ہوئی ہیں، وہ اُسی صورت میں دی جائیں جب مجرم سرکشی کے ساتھ توہین پر اصرار کرے؛فساد انگیزی پر اتر آئے؛ دعوت، تبلیغ، تلقین و نصیحت اور بار بار کی تنبیہ کے باوجود باز نہ آئے، بلکہ مقابلے کے لیے کھڑا ہو جائے۔ آدمی الزام سے انکار کرے یا اپنی بات کی وضاحت کر دے اور اُس پر اصرار نہ کرے تو لفظ کے کسی مفہوم میں بھی اِسے محاربہ یا فساد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ثانیاً، اِس لیے کہ اقرار و اصرار کے بعد بھی مجرم قانون کی گرفت میں آنے سے پہلے توبہ اور رجوع کر لے تو قرآن کا ارشاد ہے کہ اُس پر حکم کا اطلاق نہیں ہو گا۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ توبہ کرلینے والوں کو یہ سزائیں نہیں دی جا سکتیں۔ اِس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ کارروائی سے پہلے اُنھیں توبہ و اصلاح کی دعوت دینی چاہیے اور بار بار توجہ دلانی چاہیے کہ وہ خدا و رسول کے ماننے والے ہیں تو اپنی عاقبت برباد نہ کریں اور اُن کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں اور ماننے والے نہیں ہیں تو مسلمانوں کے جذبات کا احترام کریں اور اِس جرم شنیع سے باز آجائیں۔ ثالثاً، اِس لیے کہ آیت کی رو سے یہ ضروری نہیں ہے کہ اُنھیں قتل ہی کیا جائے۔ اُس میں یہ گنجایش رکھی گئی ہے کہ جرم کی نوعیت اور مجرم کے حالات تقاضا کرتے ہوں تو عدالت اُسے کم تر سزا بھی دے سکتی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ اِس طرح کے مجرموں کو علاقہ بدر کر دیا جائے۔ اِس وقت جو قانون نافذ ہے، اِن میں سے کوئی بات بھی اُس میں ملحوظ نہیں رکھی گئی۔ وہ مجردشہادت پر سزا دیتا ہے، اُس میں انکار یا اقرار کو بھی وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کا آیت تقاضا کرتی ہے، سرکشی اور اصرار بھی ضروری نہیں ہے، دعوت و تبلیغ اور اِس کے نتیجے میں توبہ اور اصلاح کی بھی گنجایش نہیں ہے، اُس کی رو سے قتل کے سوا کوئی دوسری سزا بھی نہیں دی جا سکتی۔ علما اگر آیت محاربہ کو قانون کا ماخذ مان کر اُس کے مطابق ترمیم کے لیے راضی ہو جائیں تو اِس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے۔ اِس کے نتیجے میں وہ تمام اعتراضات ختم ہو جائیں گے جو اِس وقت اِس قانون پر کیے جا رہے ہیں۔ قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ موت کی سزا کسی شخص کو دو ہی صورتوں میں دی جا سکتی ہے: ایک یہ کہ وہ کسی کو قتل کر دے، دوسرے یہ کہ ملک میں فساد برپا کرے اور لوگوں کی جان، مال اور آبرو کے لیے خطرہ بن جائے۔ آیت محاربہ کے مطابق ترمیم کر دی جائے تو قرآن کا یہ تقاضا پورا ہو جائے گا۔ پھر یہی نہیں، قانون بڑی حد تک اُس نقطۂ نظر کے قریب بھی ہو جائے گا جو فقہ اسلامی کے جلیل القدر امام ابو حنیفہ اور جلیل ا لقدر محدث امام بخاری نے اختیار فرمایا ہے۔ ہمارے نزدیک یہی نقطۂ نظر اِس معاملے میں قرین صواب ہے۔ ریاست پاکستان میں احناف کی اکثریت ہے، لیکن باعث تعجب ہے کہ قانون سازی کے موقع پر اُن کی راے یکسر نظر انداز کر دی گئی ہے۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ قانون قرآن کے بھی خلاف ہے، حدیث کے بھی خلاف ہے اور فقہاے احناف کی راے کے بھی خلاف ہے۔ اِسے لازماً تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔

حوالہ جات

  • Chapter 005 Verse 033
  • إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ


    5.33

    ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)

    ان لوگوں کی سزا، جو اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرتے ہیں اور ملک میں فساد برپا کرنے میں سرگرم ہیں، بس یہ ہے کہ عبرت ناک طور پر قتل کیے جائیں یا سولی پر لٹکائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹ ڈالے جائیں یا ملک سے باہر نکال دیے جائیں۔ یہ ان کے لیے اس دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے ایک عذاب عظیم ہے۔

    تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)

    ’محاربہ ‘کا مفہوم: ’یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا‘ اللہ اور رسول سے محاربہ یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ یا جتھہ جرات و جسارت، ڈھٹائی اور بیباکی کے ساتھ اس نظامِ حق و عدل کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرے جو اللہ اور رسول نے قائم فرمایا ہے۔ اس طرح کی کوشش اگر بیرونی دشمنوں کی طرف سے ہو تو اس کے مقابلے کے لیے جنگ و جہاد کے احکام تفصیل کے ساتھ الگ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں بیرونی دشمنوں کے بجائے اسلامی حکومت کے ان اندرونی دشمنوں کی سرکوبی کے لیے تعزیرات کا ضابطہ بیان ہورہا ہے جو اسلامی حکومت کی رعایا ہوتے ہوئے، عام اس سے کہ وہ مسلم ہیں یا غیر مسلم، اس کے قانون اور نظم کو چیلنج کریں۔ قانون کی خلاف ورزی کی ایک شکل تو یہ ہے کہ کسی شخص سے کوئی جرم صادر ہو جائے۔ اس صورت میں اس کے ساتھ شریعت کے عام ضابطہ حدود تعزیرات کے تحت کارروائی کی جائے گی،دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لینے کی کوشش کرے۔ اپنے شروفساد سے علاقے کے امن و نظم کو درہم برہم کر دے، لوگ اس کے ہاتھوں اپنی جان ، مال، عزت ، آبرو کی طرف سے ہر وقت خطرے میں مبتلا رہیں۔ قتل ، ڈکیتی، رہزنی، آتش زنی، اغوا، زنا، تخریب، تہریب اور اس نوع کے سنگین جرائم حکومت کے لیے لا اور آرڈر کا مسئلہ پیدا کر دیں۔ ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے عام ضابطہ حدو د تعزیرات کے بجائے اسلامی حکومت مندرجہ ذیل اقدامات کرنے کی مجاز ہے۔
    محاربین کے لیے ضابطۂ تعزیرات: ’اَنْ یُّقَتَّلُوْا‘ یہ کہ فساد فی الارض کے یہ مجرمین قتل کر دیے جائیں۔ یہاں لفظ ’قتل‘ کے بجائے ’تقتیل‘باب تفعیل سے استعمال ہوا ہے۔با ب تفعیل معنی کی شدت اور کثرت پر دلیل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے تقتیل شر تقتیل کے معنی پر دلیل ہو گا۔ اس سے اشارہ نکلتا ہے کہ ان کو عبرت انگیز اور سبق آموز طریقہ پر قتل کیا جائے جس سے دوسروں کو سبق ملے۔ صرف وہ طریقۂ قتل اس سے مستثنیٰ ہو گا جو شریعت میں ممنوع ہے۔ مثلاً آگ میں جلانا، اس کے ماسوا دوسرے طریقے جو گنڈوں اور بدمعاشوں کو عبرت دلانے، ان کو دہشت زدہ کرنے اور لوگوں کے اندر قانون و نظم کا احترام پیدا کرنے کے لیے ضروری سمجھے جائیں، حکومت ان سب کو اختیار کر سکتی ہے۔ رجم یعنی سنگسار کرنا بھی ہمارے نزدیک ’تقتیل‘ کے تحت داخل ہے۔ اس وجہ سے وہ گنڈے اور بدمعاش جو شریفوں کی عزت و آبرو پر ڈاکے ڈالیں اور کھلم کھلا زنا بالجبر کے مرتکب ہوں ان کے لیے رجم کی سزا اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہے۔ رجم کے باب میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کے درمیان ہماری فقہ میں جوفرق کیا گیا ہے اس پر انشاء اللہ ہم سورۂ نور کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے۔
    ’اَوْ یُصَلَّبُوْٓا‘ یہ کہ ایسے لوگوں کو سولی دے دی جائے۔ سولی دینے کے لیے یہاں ’صلب‘کے بجائے ’تصلیب‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ سولی اور پھانسی کے وہ طریقے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں جو زیادہ دردناک اور زیادہ عبرت انگیز ہیں۔اس زمانے میں بعض طریقے جو ایجاد ہوئے ہیں ہمارے نزدیک وہ بھی اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہیں۔
    ’اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ‘ یہ کہ ان کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں۔ یہ بے ترتیب کاٹنے کی ہدایت بھی عبرت انگیزی اوردرد انگیزی ہی کے نقطہ نظر سے ہے۔ مقصود یہ ہے کہ اگر اس قسم کے کسی شریر کی جان بخشی بھی جائے تو اس طرح کہ اس کی شر انگیزی اور افساد کے تمام اسلحہ بے کار کر دیے جائیں۔
    ’اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ‘ یہ کہ ان کو ملک سے جلا وطن کر دیا جائے۔ ’نفی‘ کا لغوی مفہوم جلا وطن کرنا ہے حبس اور قید اس کا لغوی مفہوم نہیں ہے البتہ اس کے مفہوم میں شامل ضرور ہے، اگر ایسے مجرموں کی جلا وطنی دشوار یا دینی و سیاسی نقطہ نظر سے خلاف مصلحت ہو تو ان کو محبوس یا کسی خاص علاقہ میں پابند اور نظر بند کیا جا سکتا ہے ۔ یہ چیز اس لفظ کے مفہوم کے خلاف نہیں ہو گی۔
    حالات کی نوعیت کے لحاظ سے حکومت کو مناسب اقدام کا اختیار: قرآن کے الفاظ صاف اس بات پر دلیل ہیں کہ حالات کی نوعیت اور بد امنی اور قانون شکنی کے موجود اور متوقع اثرات کے لحاظ سے حکومت ان میں سے جو اقدام بھی مناسب سمجھے، کر سکتی ہے۔ عربی زبان میں ’او‘ کا استعمال اسی مفہوم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس وجہ سے مجھے ان لوگوں کی رائے صائب معلوم ہوتی ہے جو حکومت کو اختیار دیتے ہیں کہ قیام امن و قانون اور استیصال فتنہ کے نقطۂ نظر سے ان میں سے جو سی شکل بھی اس کو مفید و موثر اور مطابق مصلحت نظر آئے اور اس کو اختیار کر سکتی ہے۔ اس طرح کے حالات میں صرف اسی امر کو ملحوظ نہیں رکھنا پڑتا ہے کہ جرم کرنے والے جتھہ نے صرف مال کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر زمانہ، مقام اور جتھہ بندی کرنے والے مجرموں کے عزائم اور ان کے اثرات پر نگاہ رکھنی پڑتی ہے۔ مثلاً زمانہ، جنگ یا بد امنی کا ہو تو اس میں لازماً سخت اقدام کی ضرورت ہو گی، اسی طرح مقام سرحدی یا دشمن کی سازشوں کا آماجگاہ ہو تب بھی موثر کارروائی ضروری ہو گی۔ اگر شرارت کا سرغنہ کوئی بڑا خطرناک آدمی ہو اور اندیشہ ہو کہ اس کو ڈھیل ملی تو بہتوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کو خطرہ پیش آجائے گا، تب بھی حالات کے لحاظ سے موثر قدم اٹھانا پڑے گا۔ غرض اس میں اصلی اہمیت جزوی واقعات کی نہیں بلکہ بغاوت کے مجموعی اثر اور ملک و ملت کے مصالح کی ہے۔
    سزا جماعتی حیثیت سے دی جائے گی: اس طرح کے حالات میں سزا بھی انفرادی حیثیت سے نہیں بلکہ گروہی حیثیت سے دی جائے گی۔ اگر قتل، اغوا، زنا ، آتش زنی، تخریب کے واقعات پیش آئے ہیں تو یہ جستجو نہیں کی جائے گی کہ متعین طور پر ان جرائم کا ارتکاب کن ہاتھوں سے ہوا ہے بلکہ ان کی ذمہ داری میں باغی گروہ کا ہر فرد شریک سمجھا جائے گا اور اسی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا، اس لیے کہ ہر جرم کے ارتکاب میں سب کے مجموعی اثر نے کام کیا ہے۔
    اس قانون کے استعمال کی بعض مثالیں: عُکل اور عرینہ والوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المال کے اونٹوں کو ہنکالے جانے اور ان کے چرواہوں کو قتل کرنے کے جرم میں جو عبرت انگیز سزا دی ، امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو اسی آیت کے تحت لیا ہے۔ بنو نضیر، بنو قریضہ، بنو قینقاع کے ساتھ جو معاملہ حضورؐ نے کیا، ہمارے نزدیک وہ بھی اسی حکم الٰہی کے تحت کیا۔ سیدنا ابوبکرؓ نے مانعین زکوٰۃ کی سرکوبی کی وہ بھی ہمارے نزدیک اسی حکم کے تحت کی ۔ مسیلمہ کذاب کا فتنہ بھی اسی محاربہ اللہ و رسول کے تحت آتا ہے اور اس کی سرکوبی بھی اسی قانون الٰہی کے تحت ہوئی۔ حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں یہود کو عرب سے جو آخری بار نکالا وہ بھی اسی حکم خداوندی کی تعمیل تھی۔
    جرم اور مجرمین کے جدید فلسفہ پر بحث: ’ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا الایۃ‘ (یہ ان کے لیے اس دنیا میں رسوائی ہے)یہ اس شبہے کا ازالہ ہے جو مذکورہ بالا سزاؤں سے متعلق ان لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتایا پیدا ہو سکتا ہے جو اللہ اور رسول کو چیلنج کرنے کے جرم کی سنگینی کا صحیح اندازہ نہیں کر پاتے۔ اس کائنات میں حقیقی عزت اللہ اور رسول کے لیے ہے۔ ’وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ‘ اس وجہ سے جو لوگ خدا اور رسول کے مقابل میں جرات و جسارت کا اظہار اور بغاوت کا اعلان کریں وہ مستحق ہیں کہ اس دنیا میں بھی رسوا ہوں اور آخرت میں بھی وہ دردناک عذاب سے دو چار ہوں۔ دنیا میں ان کی یہ رسوائی دوسروں کے لیے ذریعہ عبرت و بصیرت ہو گی اور اس کے اثر سے ان لوگوں کے اندر بھی قانون کا ڈر اور احترام پیدا ہو گا جو یہ صلاحیت نہیں رکھتے کہ مجرد قانون کی افادیت و عظمت کی بنا پر اس کا احترام کریں۔ موجودہ زمانے میں جرم اور مجرمین کے لیے فلسفہ کے نام سے جو ہمدردانہ اور رحم دلانہ نظریات پیدا ہو گئے ہیں یہ انہی کی برکت ہے کہ انسان بظاہر جتنا ہی ترقی کرتا جاتا ہے دنیا اتنی ہی جہنم بنتی جارہی ہے۔ اسلام اس قسم کے مہمل نظریات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ اس کاقانون ہوائی نظریات پر نہیں بلکہ انسان کی فطرت پر مبنی ہے۔
    مغلوب ہونے سے پہلے اصلاح کر لینے والوں کا حکم: ’اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘۔ یعنی یہ خاص اختیارات صرف ان باغیوں کے خلاف استعمال کیے جائیں گے جو حکومت کے حالات پر قابو پانے سے پہلے تک اپنی بغاوت پر اڑے رہے ہوں، اور حکومت نے اپنی طاقت سے ان کو مغلوب و مقہور کیا ہو۔ جو لوگ حکومت کے ایکشن سے پہلے ہی توبہ کرکے اپنے رویہ کی اصلاح کر چکے ہوں ان کے خلاف ان کے سابق رویہ کی بنا پر اس قسم کا کوئی اقدام جائز نہیں ہو گا بلکہ اب ان کے ساتھ عام قانون کے تحت معاملہ ہو گا۔ اگر ان کے ہاتھوں میں عام شہریوں کے حقوق تلف ہوئے ہیں تو حتی الامکان ان کی تلافی کرا دی جائے گی۔

    ترجمہ جاوید احمد غامدی

    (اِنھیں بتا دیا جائے کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول سے لڑیں گے اور زمین میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے، اُن کی سزا پھر یہی ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کیے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں یا اُنھیں علاقہ بدر کردیا جائے۔ یہ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے ایک بڑا عذاب ہے۔

    تفسیر جاوید احمد غامدی

    اللہ کا رسول دنیا میں موجود ہو اور لوگ اُس کی حکومت میں اُس کے کسی حکم یا فیصلے کے خلاف سرکشی اختیار کرلیں تو یہ اللہ و رسول سے لڑائی ہے۔ اِسی طرح زمین میں فساد پیدا کرنے کی تعبیر ہے۔ یہ اُس صورت حال کے لیے آتی ہے ، جب کوئی شخص یا گروہ قانون سے بغاوت کر کے لوگوں کی جان و مال، آبرو اور عقل وراے کے خلاف برسر جنگ ہوجائے۔ چنانچہ قتل دہشت گردی، زنا زنا بالجبر اور چوری ڈاکا بن جائے یا لوگ بدکاری کو پیشہ بنالیں یا کھلم کھلا اوباشی پر اتر آئیں یا اپنی آوارہ منشی، بدمعاشی اور جنسی بے راہ روی کی بنا پر شریفوں کی عزت و آبرو کے لیے خطرہ بن جائیں یا نظم ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے اٹھ کھڑے ہوںیا اغوا، تخریب، ترہیب اور اِس طرح کے دوسرے سنگین جرائم سے حکومت کے لیے امن و امان کا مسئلہ پیدا کردیں تو وہ اِسی فساد فی الارض کے مجرم ہوں گے۔
    آیت میں اِس کے لیے ’یَسْعَوْنَ‘ اور ’یُحَارِبُوْنَ‘ وغیرہ کی صورت میں جمع کاا سلوب اختیار کیا گیا ہے۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جرم اگر جتھا بنا کر ہوا ہے تو اُس کی سزا بھی انفرادی حیثیت سے نہیں، بلکہ اُس جتھے کو جتھے ہی کی حیثیت سے دی جائے گی۔ چنانچہ مجرموں کا کوئی گروہ اگر فساد فی الارض کے طریقے پر قتل، اغوا، زنا، تخریب، ترہیب اور اِس طرح کے دوسرے جرائم کا مرتکب ہوا ہے تو اِس کی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے کہ متعین طور پر جرم کا ارتکاب کن ہاتھوں سے ہوا اور کن سے نہیں ہوا ہے، بلکہ جتھے کا ہر فرد اِس میں شریک سمجھا جائے گا اور اُس کے ساتھ معاملہ بھی لازماً اِسی حیثیت سے ہوگا۔
    اصل میں ’اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا‘کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کے معنی یہ ہیں کہ اللہ و رسول سے محاربہ اور فساد فی الارض کے یہ مجرم صرف قتل ہی نہیں، بلکہ عبرت ناک طریقے سے قتل کردیے جائیں۔ اِس کی دلیل یہ ہے کہ ’قتل‘ یہاں ’تقتیل‘ کی صورت میں آیا ہے۔ بنا میں یہ زیادت نفس فعل میں شدت اور مبالغہ کے لیے ہوئی ہے۔ اِس وجہ سے ’تقتیل‘ یہاں ’شر تقتیل‘ کے مفہوم میں ہے۔ چنانچہ حکم کا تقاضا یہ ہوگا کہ اِن مجرموں کو ایسے طریقے سے قتل کیا جائے جو دوسروں کے لیے عبرت انگیز اور سبق آموز ہو۔ رجم، یعنی سنگ ساری بھی اِسی کے تحت داخل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں اوباشی کے بعض مجرموں کو یہ سزا اِسی آیت کے حکم کی پیروی میں دی ہے۔
    یہ سزا ’صلب‘ سے ’تفعیل‘میں بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے: ’اَوْ یُصَلَّبُوْٓا‘، یعنی ایسے لوگوں کو صرف سولی ہی نہ دی جائے، بلکہ عبرت ناک طریقے سے سولی دی جائے۔ یہ سولی وہ چوبی آلہ ہے جس پر مجرم کے ہاتھوں اور پاؤں میں میخیں ٹھونک کر اُسے لٹکا دیتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اُسی پر لٹکا ہوا جان دے دیتا ہے۔ سزا کی یہ صورت کچھ کم عبرت انگیز نہیں ہے، لیکن آیت میں لفظ ’یُصَلَّبُوْٓا‘ کا تقاضا ہے کہ اِس کے لیے بھی وہ طریقے اختیار کیے جائیں جو زیادہ دردناک اور زیادہ عبرت انگیز ہوں۔
    بے ترتیب کاٹ دینے کا یہ حکم بھی عبرت انگیزی ہی کے نقطۂ نظر سے ہے اور اِس کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ اِس طرح کے کسی مجرم کی اگر جان بخشی بھی کی جائے تو اِس طرح کی جائے کہ اُسے عبرت کا ایک نمونہ بنا کر اُس کی شر انگیزی کے تمام اسلحہ بالکل بے کار کردیے جائیں۔
    یہ سب سے کم سزا ہے جو اِن مجرموں کے لیے بیان ہوئی ہے۔ پہلی دو سزائیں مجرم کا خاتمہ کردیتی ہیں۔ تیسری سزا کے نتیجے میں وہ ہاتھ پاؤں سے محروم ایک نمونۂ عبرت کے طور پر زندہ رہتا ہے اور یہ چوتھی اور آخری سزا اُس کے جسم و جان کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر محض اُس کے وطن اور گھردر سے اُسے محروم کرتی ہے۔ قرآن کے الفاظ کا تقاضا ہے کہ عام حالات میں یہ سزا اِسی صورت میں دی جائے، لیکن کسی وجہ سے اگر یہ ممکن نہ ہو تو مجرم کو کسی خاص علاقے میں پابندیا اُس کے گھر میں نظر بند کردینے سے بھی حکم کا منشا یقیناً پورا ہوجائے گا۔
    یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ یہ اور اِس سے پہلے مذکور تمام سزائیں حرف ’اَوْ‘ کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید نے حکومت کو اختیار دیا ہے کہ وہ جرم کی نوعیت، مجرم کے حالات اور جرم کے موجود اور متوقع اثرات کے لحاظ سے اِن میں سے جو سزا مناسب سمجھے، اِس طرح کے مجرموں کو دے سکتی ہے۔ تقتیل اور تصلیب جیسی سزاؤں کے ساتھ اِس میں نفی کی سزا اِس لیے رکھی گئی ہے کہ سزا میں انتہائی سختی کے ساتھ حالات کا تقاضا ہو تو مجرم کے ساتھ نرمی کے لیے بھی گنجایش باقی رکھی جائے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:

    ’’...اِس طرح کے حالات میں صرف اِسی امر کو ملحوظ نہیں رکھنا پڑتا ہے کہ جرم کرنے والے جتھے نے صرف مال کو نقصان پہنچایا ہے، بلکہ اِس سے بڑھ کر زمانہ، مقام اور جتھا بندی کرنے والے مجرموں کے عزائم اور اُن کے اثرات پر نگاہ رکھنی پڑتی ہے۔ مثلاً، زمانہ جنگ یا بد امنی کا ہو تو اُس میں لازماً سخت اقدام کی ضرورت ہوگی۔ اِسی طرح مقام سرحدی یا دشمن کی سازشوں کا آماج گاہ ہو، تب بھی موثر کارروائی ضروری ہوگی۔ اگرشرارت کا سرغنہ کوئی بڑا خطرناک آدمی ہو اور اندیشہ ہو کہ اُس کو ڈھیل ملی تو بہتوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کو خطرہ پیش آجائے گا، تب بھی حالات کے لحاظ سے موثر قدم اٹھانا پڑے گا۔ غرض اِس میں اصلی اہمیت جزوی واقعات کی نہیں، بلکہ بغاوت کے مجموعی اثر اور ملک و ملت کے مصالح کی ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۲/۵۰۶)

    یہ الفاظ اِس تنبیہ کے لیے آئے ہیں کہ اِس طرح کے مجرموں کو سزا دیتے وقت کسی شخص کے دل میں ہم دردی کے کوئی جذبات پیدا نہ ہوں۔ وہ پروردگار جو اُن کا خالق ہے، اِن جرائم کے بعد اُس کا فیصلہ یہی ہے کہ اُنھیں اِس دنیا میں بالکل رسوا کردیا جائے۔ اِس سزا کا مقصد یہی ہے اور اِسے ہر حال میں پیش نظر رہنا چاہیے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

    ’’...دنیا میں اِن کی یہ رسوائی دوسروں کے لیے ذریعۂ عبرت و بصیرت ہوگی اور اِس کے اثر سے اُن لوگوں کے اندر بھی قانون کا ڈر اور احترام پیدا ہوگا جو یہ صلاحیت نہیں رکھتے کہ مجرد قانون کی افادیت و عظمت کی بنا پر اُس کا احترام کریں۔ موجودہ زمانے میں جرم اور مجرمین کے لیے فلسفہ کے نام سے جو ہم دردانہ اور رحم دلانہ نظریات پیدا ہوگئے ہیں، یہ اُنھی کی برکت ہے کہ انسان بظاہر جتنا ہی ترقی کرتا جاتا ہے، دنیا اتنی ہی جہنم بنتی جارہی ہے۔ اسلام اِس قسم کے مہمل نظریات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ اُس کا قانون ہوائی نظریات پر نہیں، بلکہ انسان کی فطرت پر مبنی ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۲/۵۰۷)

     

  • Chapter 005 Verse 034
  • اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ ج فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.


    5.34

    ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)

    مگر جو لوگ تمھارے قابو پانے سے پہلے ہی توبہ کر لیں تو سمجھ لو کہ اللہ مغفرت فرمانے والا اور مہربان ہے۔

    تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)

    مغلوب ہونے سے پہلے اصلاح کر لینے والوں کا حکم: ’اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘۔ یعنی یہ خاص اختیارات صرف ان باغیوں کے خلاف استعمال کیے جائیں گے جو حکومت کے حالات پر قابو پانے سے پہلے تک اپنی بغاوت پر اڑے رہے ہوں، اور حکومت نے اپنی طاقت سے ان کو مغلوب و مقہور کیا ہو۔ جو لوگ حکومت کے ایکشن سے پہلے ہی توبہ کرکے اپنے رویہ کی اصلاح کر چکے ہوں ان کے خلاف ان کے سابق رویہ کی بنا پر اس قسم کا کوئی اقدام جائز نہیں ہو گا بلکہ اب ان کے ساتھ عام قانون کے تحت معاملہ ہو گا۔ اگر ان کے ہاتھوں میں عام شہریوں کے حقوق تلف ہوئے ہیں تو حتی الامکان ان کی تلافی کرا دی جائے گی۔
    آیت میں ’فَاعْلَمُوْا‘ کے لفظ کے زور کو اگر ذہن میں رکھیے تو یہ بات صاف نکلتی ہے کہ قابو میں آنے سے پہلے ہی توبہ و اصلاح کر لینے والوں کے معاملے میں حکومت کے لیے کوئی انتقامی کارروائی جائز نہیں ہے۔ خدا غفور اور رحیم ہے۔ جب وہ پکڑ سے پہلے تو بہ و اصلاح کرلینے والوں کو معاف کر دیتا ہے تو اس کے بندوں کا رویہ اس سے الگ کیوں ہو؟

    ترجمہ جاوید احمد غامدی

    مگر اُن کے لیے نہیں جو تمھارے قابو پانے سے پہلے توبہ کرلیں۔ سو (اُن پر زیادتی نہ کرو اور) اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔

    تفسیر جاوید احمد غامدی

    یعنی اِس طرح کے مجرم اگر حکومت کے کسی اقدام سے پہلے خود آگے بڑھ کر اپنے آپ کو قانون کے حوالے کردیں تو اُن سے پھر عام مجرموں کا معاملہ کیا جائے گا۔ اِس صورت میں اُنھیں محاربہ یا فساد فی الارض کا مجرم قرار نہیں دیا جائے گا۔ استاذ امام نے لکھا ہے:

    ’’...یہ خاص اختیارات صرف اُن باغیوں کے خلاف استعمال کیے جائیں گے جو حکومت کے حالات پر قابو پانے سے پہلے تک اپنی بغاوت پر اڑے رہے ہوں اور حکومت نے اپنی طاقت سے اُن کو مغلوب و مقہور کیا ہو۔ جو لوگ حکومت کے ایکشن سے پہلے ہی توبہ کر کے اپنے رویے کی اصلاح کر چکے ہوں، اُن کے خلاف اُن کے سابق رویے کی بنا پر اِس قسم کا کوئی اقدام جائز نہیں ہوگا، بلکہ اب اُن کے ساتھ عام قانون کے تحت معاملہ ہوگا۔ اگر اُن کے ہاتھوں عام شہریوں کے حقوق تلف ہوئے ہیں تو حتی الامکان اُن کی تلافی کرادی جائے گی۔ آیت میں ’فَاعْلَمُوْٓا‘ کے لفظ کے زور کو اگر ذہن میں رکھیے تو یہ بات صاف نکلتی ہے کہ قابو میں آنے سے پہلے ہی توبہ و اصلاح کرلینے والوں کے معاملے میں حکومت کے لیے کوئی انتقامی کارروائی جائز نہیں ہے۔ خدا غفور اور رحیم ہے، جب وہ پکڑ سے پہلے توبہ و اصلاح کرلینے والوں کو معاف کردیتا ہے تو اُس کے بندوں کا رویہ اِس سے الگ کیوں ہو؟‘‘ (تدبر قرآن ۲/۵۰۸)

     

حواشی

ماخذ

  • "Muqamaat" (Urdu - Published 2009, Lahore; ISBN 48593948) Author: Javed Ahmad Ghamidi

Punishment for Blasphemy against the Prophet (sws) Part 1

We need your support!


This article has not yet been rendered into English. If you believe you have the ability to translate this page into English and wish to help us by offering yourself as Volunteer. Please use our Contact Form to drop us few words about yourself and how you can help us. We will be keen to answer you without delay. Your contribution can help our visitor better understand the content presented on our www.javedahmadghamidi.com. Jazak Allah!

Content submitted by you is subject to approval and moderation. NO AGREEMENT HEREBY IS BEING MADE.

References in this article

  • Chapter 005 Verse 033
  • إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ


    5.33

    ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)

    ان لوگوں کی سزا، جو اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرتے ہیں اور ملک میں فساد برپا کرنے میں سرگرم ہیں، بس یہ ہے کہ عبرت ناک طور پر قتل کیے جائیں یا سولی پر لٹکائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹ ڈالے جائیں یا ملک سے باہر نکال دیے جائیں۔ یہ ان کے لیے اس دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے ایک عذاب عظیم ہے۔

    تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)

    ’محاربہ ‘کا مفہوم: ’یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا‘ اللہ اور رسول سے محاربہ یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ یا جتھہ جرات و جسارت، ڈھٹائی اور بیباکی کے ساتھ اس نظامِ حق و عدل کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرے جو اللہ اور رسول نے قائم فرمایا ہے۔ اس طرح کی کوشش اگر بیرونی دشمنوں کی طرف سے ہو تو اس کے مقابلے کے لیے جنگ و جہاد کے احکام تفصیل کے ساتھ الگ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں بیرونی دشمنوں کے بجائے اسلامی حکومت کے ان اندرونی دشمنوں کی سرکوبی کے لیے تعزیرات کا ضابطہ بیان ہورہا ہے جو اسلامی حکومت کی رعایا ہوتے ہوئے، عام اس سے کہ وہ مسلم ہیں یا غیر مسلم، اس کے قانون اور نظم کو چیلنج کریں۔ قانون کی خلاف ورزی کی ایک شکل تو یہ ہے کہ کسی شخص سے کوئی جرم صادر ہو جائے۔ اس صورت میں اس کے ساتھ شریعت کے عام ضابطہ حدود تعزیرات کے تحت کارروائی کی جائے گی،دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لینے کی کوشش کرے۔ اپنے شروفساد سے علاقے کے امن و نظم کو درہم برہم کر دے، لوگ اس کے ہاتھوں اپنی جان ، مال، عزت ، آبرو کی طرف سے ہر وقت خطرے میں مبتلا رہیں۔ قتل ، ڈکیتی، رہزنی، آتش زنی، اغوا، زنا، تخریب، تہریب اور اس نوع کے سنگین جرائم حکومت کے لیے لا اور آرڈر کا مسئلہ پیدا کر دیں۔ ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے عام ضابطہ حدو د تعزیرات کے بجائے اسلامی حکومت مندرجہ ذیل اقدامات کرنے کی مجاز ہے۔
    محاربین کے لیے ضابطۂ تعزیرات: ’اَنْ یُّقَتَّلُوْا‘ یہ کہ فساد فی الارض کے یہ مجرمین قتل کر دیے جائیں۔ یہاں لفظ ’قتل‘ کے بجائے ’تقتیل‘باب تفعیل سے استعمال ہوا ہے۔با ب تفعیل معنی کی شدت اور کثرت پر دلیل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے تقتیل شر تقتیل کے معنی پر دلیل ہو گا۔ اس سے اشارہ نکلتا ہے کہ ان کو عبرت انگیز اور سبق آموز طریقہ پر قتل کیا جائے جس سے دوسروں کو سبق ملے۔ صرف وہ طریقۂ قتل اس سے مستثنیٰ ہو گا جو شریعت میں ممنوع ہے۔ مثلاً آگ میں جلانا، اس کے ماسوا دوسرے طریقے جو گنڈوں اور بدمعاشوں کو عبرت دلانے، ان کو دہشت زدہ کرنے اور لوگوں کے اندر قانون و نظم کا احترام پیدا کرنے کے لیے ضروری سمجھے جائیں، حکومت ان سب کو اختیار کر سکتی ہے۔ رجم یعنی سنگسار کرنا بھی ہمارے نزدیک ’تقتیل‘ کے تحت داخل ہے۔ اس وجہ سے وہ گنڈے اور بدمعاش جو شریفوں کی عزت و آبرو پر ڈاکے ڈالیں اور کھلم کھلا زنا بالجبر کے مرتکب ہوں ان کے لیے رجم کی سزا اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہے۔ رجم کے باب میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کے درمیان ہماری فقہ میں جوفرق کیا گیا ہے اس پر انشاء اللہ ہم سورۂ نور کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے۔
    ’اَوْ یُصَلَّبُوْٓا‘ یہ کہ ایسے لوگوں کو سولی دے دی جائے۔ سولی دینے کے لیے یہاں ’صلب‘کے بجائے ’تصلیب‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ سولی اور پھانسی کے وہ طریقے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں جو زیادہ دردناک اور زیادہ عبرت انگیز ہیں۔اس زمانے میں بعض طریقے جو ایجاد ہوئے ہیں ہمارے نزدیک وہ بھی اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہیں۔
    ’اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ‘ یہ کہ ان کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں۔ یہ بے ترتیب کاٹنے کی ہدایت بھی عبرت انگیزی اوردرد انگیزی ہی کے نقطہ نظر سے ہے۔ مقصود یہ ہے کہ اگر اس قسم کے کسی شریر کی جان بخشی بھی جائے تو اس طرح کہ اس کی شر انگیزی اور افساد کے تمام اسلحہ بے کار کر دیے جائیں۔
    ’اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ‘ یہ کہ ان کو ملک سے جلا وطن کر دیا جائے۔ ’نفی‘ کا لغوی مفہوم جلا وطن کرنا ہے حبس اور قید اس کا لغوی مفہوم نہیں ہے البتہ اس کے مفہوم میں شامل ضرور ہے، اگر ایسے مجرموں کی جلا وطنی دشوار یا دینی و سیاسی نقطہ نظر سے خلاف مصلحت ہو تو ان کو محبوس یا کسی خاص علاقہ میں پابند اور نظر بند کیا جا سکتا ہے ۔ یہ چیز اس لفظ کے مفہوم کے خلاف نہیں ہو گی۔
    حالات کی نوعیت کے لحاظ سے حکومت کو مناسب اقدام کا اختیار: قرآن کے الفاظ صاف اس بات پر دلیل ہیں کہ حالات کی نوعیت اور بد امنی اور قانون شکنی کے موجود اور متوقع اثرات کے لحاظ سے حکومت ان میں سے جو اقدام بھی مناسب سمجھے، کر سکتی ہے۔ عربی زبان میں ’او‘ کا استعمال اسی مفہوم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس وجہ سے مجھے ان لوگوں کی رائے صائب معلوم ہوتی ہے جو حکومت کو اختیار دیتے ہیں کہ قیام امن و قانون اور استیصال فتنہ کے نقطۂ نظر سے ان میں سے جو سی شکل بھی اس کو مفید و موثر اور مطابق مصلحت نظر آئے اور اس کو اختیار کر سکتی ہے۔ اس طرح کے حالات میں صرف اسی امر کو ملحوظ نہیں رکھنا پڑتا ہے کہ جرم کرنے والے جتھہ نے صرف مال کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر زمانہ، مقام اور جتھہ بندی کرنے والے مجرموں کے عزائم اور ان کے اثرات پر نگاہ رکھنی پڑتی ہے۔ مثلاً زمانہ، جنگ یا بد امنی کا ہو تو اس میں لازماً سخت اقدام کی ضرورت ہو گی، اسی طرح مقام سرحدی یا دشمن کی سازشوں کا آماجگاہ ہو تب بھی موثر کارروائی ضروری ہو گی۔ اگر شرارت کا سرغنہ کوئی بڑا خطرناک آدمی ہو اور اندیشہ ہو کہ اس کو ڈھیل ملی تو بہتوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کو خطرہ پیش آجائے گا، تب بھی حالات کے لحاظ سے موثر قدم اٹھانا پڑے گا۔ غرض اس میں اصلی اہمیت جزوی واقعات کی نہیں بلکہ بغاوت کے مجموعی اثر اور ملک و ملت کے مصالح کی ہے۔
    سزا جماعتی حیثیت سے دی جائے گی: اس طرح کے حالات میں سزا بھی انفرادی حیثیت سے نہیں بلکہ گروہی حیثیت سے دی جائے گی۔ اگر قتل، اغوا، زنا ، آتش زنی، تخریب کے واقعات پیش آئے ہیں تو یہ جستجو نہیں کی جائے گی کہ متعین طور پر ان جرائم کا ارتکاب کن ہاتھوں سے ہوا ہے بلکہ ان کی ذمہ داری میں باغی گروہ کا ہر فرد شریک سمجھا جائے گا اور اسی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا، اس لیے کہ ہر جرم کے ارتکاب میں سب کے مجموعی اثر نے کام کیا ہے۔
    اس قانون کے استعمال کی بعض مثالیں: عُکل اور عرینہ والوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المال کے اونٹوں کو ہنکالے جانے اور ان کے چرواہوں کو قتل کرنے کے جرم میں جو عبرت انگیز سزا دی ، امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو اسی آیت کے تحت لیا ہے۔ بنو نضیر، بنو قریضہ، بنو قینقاع کے ساتھ جو معاملہ حضورؐ نے کیا، ہمارے نزدیک وہ بھی اسی حکم الٰہی کے تحت کیا۔ سیدنا ابوبکرؓ نے مانعین زکوٰۃ کی سرکوبی کی وہ بھی ہمارے نزدیک اسی حکم کے تحت کی ۔ مسیلمہ کذاب کا فتنہ بھی اسی محاربہ اللہ و رسول کے تحت آتا ہے اور اس کی سرکوبی بھی اسی قانون الٰہی کے تحت ہوئی۔ حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں یہود کو عرب سے جو آخری بار نکالا وہ بھی اسی حکم خداوندی کی تعمیل تھی۔
    جرم اور مجرمین کے جدید فلسفہ پر بحث: ’ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا الایۃ‘ (یہ ان کے لیے اس دنیا میں رسوائی ہے)یہ اس شبہے کا ازالہ ہے جو مذکورہ بالا سزاؤں سے متعلق ان لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتایا پیدا ہو سکتا ہے جو اللہ اور رسول کو چیلنج کرنے کے جرم کی سنگینی کا صحیح اندازہ نہیں کر پاتے۔ اس کائنات میں حقیقی عزت اللہ اور رسول کے لیے ہے۔ ’وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ‘ اس وجہ سے جو لوگ خدا اور رسول کے مقابل میں جرات و جسارت کا اظہار اور بغاوت کا اعلان کریں وہ مستحق ہیں کہ اس دنیا میں بھی رسوا ہوں اور آخرت میں بھی وہ دردناک عذاب سے دو چار ہوں۔ دنیا میں ان کی یہ رسوائی دوسروں کے لیے ذریعہ عبرت و بصیرت ہو گی اور اس کے اثر سے ان لوگوں کے اندر بھی قانون کا ڈر اور احترام پیدا ہو گا جو یہ صلاحیت نہیں رکھتے کہ مجرد قانون کی افادیت و عظمت کی بنا پر اس کا احترام کریں۔ موجودہ زمانے میں جرم اور مجرمین کے لیے فلسفہ کے نام سے جو ہمدردانہ اور رحم دلانہ نظریات پیدا ہو گئے ہیں یہ انہی کی برکت ہے کہ انسان بظاہر جتنا ہی ترقی کرتا جاتا ہے دنیا اتنی ہی جہنم بنتی جارہی ہے۔ اسلام اس قسم کے مہمل نظریات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ اس کاقانون ہوائی نظریات پر نہیں بلکہ انسان کی فطرت پر مبنی ہے۔
    مغلوب ہونے سے پہلے اصلاح کر لینے والوں کا حکم: ’اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘۔ یعنی یہ خاص اختیارات صرف ان باغیوں کے خلاف استعمال کیے جائیں گے جو حکومت کے حالات پر قابو پانے سے پہلے تک اپنی بغاوت پر اڑے رہے ہوں، اور حکومت نے اپنی طاقت سے ان کو مغلوب و مقہور کیا ہو۔ جو لوگ حکومت کے ایکشن سے پہلے ہی توبہ کرکے اپنے رویہ کی اصلاح کر چکے ہوں ان کے خلاف ان کے سابق رویہ کی بنا پر اس قسم کا کوئی اقدام جائز نہیں ہو گا بلکہ اب ان کے ساتھ عام قانون کے تحت معاملہ ہو گا۔ اگر ان کے ہاتھوں میں عام شہریوں کے حقوق تلف ہوئے ہیں تو حتی الامکان ان کی تلافی کرا دی جائے گی۔

    ترجمہ جاوید احمد غامدی

    (اِنھیں بتا دیا جائے کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول سے لڑیں گے اور زمین میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے، اُن کی سزا پھر یہی ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کیے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں یا اُنھیں علاقہ بدر کردیا جائے۔ یہ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے ایک بڑا عذاب ہے۔

    تفسیر جاوید احمد غامدی

    اللہ کا رسول دنیا میں موجود ہو اور لوگ اُس کی حکومت میں اُس کے کسی حکم یا فیصلے کے خلاف سرکشی اختیار کرلیں تو یہ اللہ و رسول سے لڑائی ہے۔ اِسی طرح زمین میں فساد پیدا کرنے کی تعبیر ہے۔ یہ اُس صورت حال کے لیے آتی ہے ، جب کوئی شخص یا گروہ قانون سے بغاوت کر کے لوگوں کی جان و مال، آبرو اور عقل وراے کے خلاف برسر جنگ ہوجائے۔ چنانچہ قتل دہشت گردی، زنا زنا بالجبر اور چوری ڈاکا بن جائے یا لوگ بدکاری کو پیشہ بنالیں یا کھلم کھلا اوباشی پر اتر آئیں یا اپنی آوارہ منشی، بدمعاشی اور جنسی بے راہ روی کی بنا پر شریفوں کی عزت و آبرو کے لیے خطرہ بن جائیں یا نظم ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے اٹھ کھڑے ہوںیا اغوا، تخریب، ترہیب اور اِس طرح کے دوسرے سنگین جرائم سے حکومت کے لیے امن و امان کا مسئلہ پیدا کردیں تو وہ اِسی فساد فی الارض کے مجرم ہوں گے۔
    آیت میں اِس کے لیے ’یَسْعَوْنَ‘ اور ’یُحَارِبُوْنَ‘ وغیرہ کی صورت میں جمع کاا سلوب اختیار کیا گیا ہے۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جرم اگر جتھا بنا کر ہوا ہے تو اُس کی سزا بھی انفرادی حیثیت سے نہیں، بلکہ اُس جتھے کو جتھے ہی کی حیثیت سے دی جائے گی۔ چنانچہ مجرموں کا کوئی گروہ اگر فساد فی الارض کے طریقے پر قتل، اغوا، زنا، تخریب، ترہیب اور اِس طرح کے دوسرے جرائم کا مرتکب ہوا ہے تو اِس کی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے کہ متعین طور پر جرم کا ارتکاب کن ہاتھوں سے ہوا اور کن سے نہیں ہوا ہے، بلکہ جتھے کا ہر فرد اِس میں شریک سمجھا جائے گا اور اُس کے ساتھ معاملہ بھی لازماً اِسی حیثیت سے ہوگا۔
    اصل میں ’اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا‘کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کے معنی یہ ہیں کہ اللہ و رسول سے محاربہ اور فساد فی الارض کے یہ مجرم صرف قتل ہی نہیں، بلکہ عبرت ناک طریقے سے قتل کردیے جائیں۔ اِس کی دلیل یہ ہے کہ ’قتل‘ یہاں ’تقتیل‘ کی صورت میں آیا ہے۔ بنا میں یہ زیادت نفس فعل میں شدت اور مبالغہ کے لیے ہوئی ہے۔ اِس وجہ سے ’تقتیل‘ یہاں ’شر تقتیل‘ کے مفہوم میں ہے۔ چنانچہ حکم کا تقاضا یہ ہوگا کہ اِن مجرموں کو ایسے طریقے سے قتل کیا جائے جو دوسروں کے لیے عبرت انگیز اور سبق آموز ہو۔ رجم، یعنی سنگ ساری بھی اِسی کے تحت داخل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں اوباشی کے بعض مجرموں کو یہ سزا اِسی آیت کے حکم کی پیروی میں دی ہے۔
    یہ سزا ’صلب‘ سے ’تفعیل‘میں بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے: ’اَوْ یُصَلَّبُوْٓا‘، یعنی ایسے لوگوں کو صرف سولی ہی نہ دی جائے، بلکہ عبرت ناک طریقے سے سولی دی جائے۔ یہ سولی وہ چوبی آلہ ہے جس پر مجرم کے ہاتھوں اور پاؤں میں میخیں ٹھونک کر اُسے لٹکا دیتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اُسی پر لٹکا ہوا جان دے دیتا ہے۔ سزا کی یہ صورت کچھ کم عبرت انگیز نہیں ہے، لیکن آیت میں لفظ ’یُصَلَّبُوْٓا‘ کا تقاضا ہے کہ اِس کے لیے بھی وہ طریقے اختیار کیے جائیں جو زیادہ دردناک اور زیادہ عبرت انگیز ہوں۔
    بے ترتیب کاٹ دینے کا یہ حکم بھی عبرت انگیزی ہی کے نقطۂ نظر سے ہے اور اِس کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ اِس طرح کے کسی مجرم کی اگر جان بخشی بھی کی جائے تو اِس طرح کی جائے کہ اُسے عبرت کا ایک نمونہ بنا کر اُس کی شر انگیزی کے تمام اسلحہ بالکل بے کار کردیے جائیں۔
    یہ سب سے کم سزا ہے جو اِن مجرموں کے لیے بیان ہوئی ہے۔ پہلی دو سزائیں مجرم کا خاتمہ کردیتی ہیں۔ تیسری سزا کے نتیجے میں وہ ہاتھ پاؤں سے محروم ایک نمونۂ عبرت کے طور پر زندہ رہتا ہے اور یہ چوتھی اور آخری سزا اُس کے جسم و جان کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر محض اُس کے وطن اور گھردر سے اُسے محروم کرتی ہے۔ قرآن کے الفاظ کا تقاضا ہے کہ عام حالات میں یہ سزا اِسی صورت میں دی جائے، لیکن کسی وجہ سے اگر یہ ممکن نہ ہو تو مجرم کو کسی خاص علاقے میں پابندیا اُس کے گھر میں نظر بند کردینے سے بھی حکم کا منشا یقیناً پورا ہوجائے گا۔
    یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ یہ اور اِس سے پہلے مذکور تمام سزائیں حرف ’اَوْ‘ کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید نے حکومت کو اختیار دیا ہے کہ وہ جرم کی نوعیت، مجرم کے حالات اور جرم کے موجود اور متوقع اثرات کے لحاظ سے اِن میں سے جو سزا مناسب سمجھے، اِس طرح کے مجرموں کو دے سکتی ہے۔ تقتیل اور تصلیب جیسی سزاؤں کے ساتھ اِس میں نفی کی سزا اِس لیے رکھی گئی ہے کہ سزا میں انتہائی سختی کے ساتھ حالات کا تقاضا ہو تو مجرم کے ساتھ نرمی کے لیے بھی گنجایش باقی رکھی جائے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:

    ’’...اِس طرح کے حالات میں صرف اِسی امر کو ملحوظ نہیں رکھنا پڑتا ہے کہ جرم کرنے والے جتھے نے صرف مال کو نقصان پہنچایا ہے، بلکہ اِس سے بڑھ کر زمانہ، مقام اور جتھا بندی کرنے والے مجرموں کے عزائم اور اُن کے اثرات پر نگاہ رکھنی پڑتی ہے۔ مثلاً، زمانہ جنگ یا بد امنی کا ہو تو اُس میں لازماً سخت اقدام کی ضرورت ہوگی۔ اِسی طرح مقام سرحدی یا دشمن کی سازشوں کا آماج گاہ ہو، تب بھی موثر کارروائی ضروری ہوگی۔ اگرشرارت کا سرغنہ کوئی بڑا خطرناک آدمی ہو اور اندیشہ ہو کہ اُس کو ڈھیل ملی تو بہتوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کو خطرہ پیش آجائے گا، تب بھی حالات کے لحاظ سے موثر قدم اٹھانا پڑے گا۔ غرض اِس میں اصلی اہمیت جزوی واقعات کی نہیں، بلکہ بغاوت کے مجموعی اثر اور ملک و ملت کے مصالح کی ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۲/۵۰۶)

    یہ الفاظ اِس تنبیہ کے لیے آئے ہیں کہ اِس طرح کے مجرموں کو سزا دیتے وقت کسی شخص کے دل میں ہم دردی کے کوئی جذبات پیدا نہ ہوں۔ وہ پروردگار جو اُن کا خالق ہے، اِن جرائم کے بعد اُس کا فیصلہ یہی ہے کہ اُنھیں اِس دنیا میں بالکل رسوا کردیا جائے۔ اِس سزا کا مقصد یہی ہے اور اِسے ہر حال میں پیش نظر رہنا چاہیے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

    ’’...دنیا میں اِن کی یہ رسوائی دوسروں کے لیے ذریعۂ عبرت و بصیرت ہوگی اور اِس کے اثر سے اُن لوگوں کے اندر بھی قانون کا ڈر اور احترام پیدا ہوگا جو یہ صلاحیت نہیں رکھتے کہ مجرد قانون کی افادیت و عظمت کی بنا پر اُس کا احترام کریں۔ موجودہ زمانے میں جرم اور مجرمین کے لیے فلسفہ کے نام سے جو ہم دردانہ اور رحم دلانہ نظریات پیدا ہوگئے ہیں، یہ اُنھی کی برکت ہے کہ انسان بظاہر جتنا ہی ترقی کرتا جاتا ہے، دنیا اتنی ہی جہنم بنتی جارہی ہے۔ اسلام اِس قسم کے مہمل نظریات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ اُس کا قانون ہوائی نظریات پر نہیں، بلکہ انسان کی فطرت پر مبنی ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۲/۵۰۷)

     

  • Chapter 005 Verse 034
  • اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ ج فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.


    5.34

    ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)

    مگر جو لوگ تمھارے قابو پانے سے پہلے ہی توبہ کر لیں تو سمجھ لو کہ اللہ مغفرت فرمانے والا اور مہربان ہے۔

    تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)

    مغلوب ہونے سے پہلے اصلاح کر لینے والوں کا حکم: ’اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘۔ یعنی یہ خاص اختیارات صرف ان باغیوں کے خلاف استعمال کیے جائیں گے جو حکومت کے حالات پر قابو پانے سے پہلے تک اپنی بغاوت پر اڑے رہے ہوں، اور حکومت نے اپنی طاقت سے ان کو مغلوب و مقہور کیا ہو۔ جو لوگ حکومت کے ایکشن سے پہلے ہی توبہ کرکے اپنے رویہ کی اصلاح کر چکے ہوں ان کے خلاف ان کے سابق رویہ کی بنا پر اس قسم کا کوئی اقدام جائز نہیں ہو گا بلکہ اب ان کے ساتھ عام قانون کے تحت معاملہ ہو گا۔ اگر ان کے ہاتھوں میں عام شہریوں کے حقوق تلف ہوئے ہیں تو حتی الامکان ان کی تلافی کرا دی جائے گی۔
    آیت میں ’فَاعْلَمُوْا‘ کے لفظ کے زور کو اگر ذہن میں رکھیے تو یہ بات صاف نکلتی ہے کہ قابو میں آنے سے پہلے ہی توبہ و اصلاح کر لینے والوں کے معاملے میں حکومت کے لیے کوئی انتقامی کارروائی جائز نہیں ہے۔ خدا غفور اور رحیم ہے۔ جب وہ پکڑ سے پہلے تو بہ و اصلاح کرلینے والوں کو معاف کر دیتا ہے تو اس کے بندوں کا رویہ اس سے الگ کیوں ہو؟

    ترجمہ جاوید احمد غامدی

    مگر اُن کے لیے نہیں جو تمھارے قابو پانے سے پہلے توبہ کرلیں۔ سو (اُن پر زیادتی نہ کرو اور) اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔

    تفسیر جاوید احمد غامدی

    یعنی اِس طرح کے مجرم اگر حکومت کے کسی اقدام سے پہلے خود آگے بڑھ کر اپنے آپ کو قانون کے حوالے کردیں تو اُن سے پھر عام مجرموں کا معاملہ کیا جائے گا۔ اِس صورت میں اُنھیں محاربہ یا فساد فی الارض کا مجرم قرار نہیں دیا جائے گا۔ استاذ امام نے لکھا ہے:

    ’’...یہ خاص اختیارات صرف اُن باغیوں کے خلاف استعمال کیے جائیں گے جو حکومت کے حالات پر قابو پانے سے پہلے تک اپنی بغاوت پر اڑے رہے ہوں اور حکومت نے اپنی طاقت سے اُن کو مغلوب و مقہور کیا ہو۔ جو لوگ حکومت کے ایکشن سے پہلے ہی توبہ کر کے اپنے رویے کی اصلاح کر چکے ہوں، اُن کے خلاف اُن کے سابق رویے کی بنا پر اِس قسم کا کوئی اقدام جائز نہیں ہوگا، بلکہ اب اُن کے ساتھ عام قانون کے تحت معاملہ ہوگا۔ اگر اُن کے ہاتھوں عام شہریوں کے حقوق تلف ہوئے ہیں تو حتی الامکان اُن کی تلافی کرادی جائے گی۔ آیت میں ’فَاعْلَمُوْٓا‘ کے لفظ کے زور کو اگر ذہن میں رکھیے تو یہ بات صاف نکلتی ہے کہ قابو میں آنے سے پہلے ہی توبہ و اصلاح کرلینے والوں کے معاملے میں حکومت کے لیے کوئی انتقامی کارروائی جائز نہیں ہے۔ خدا غفور اور رحیم ہے، جب وہ پکڑ سے پہلے توبہ و اصلاح کرلینے والوں کو معاف کردیتا ہے تو اُس کے بندوں کا رویہ اِس سے الگ کیوں ہو؟‘‘ (تدبر قرآن ۲/۵۰۸)

     

Comments/Notes

1.  Please read fully:صلى الله عليه و سلم  (sallá Allāh ‘alayh wa sallama).

Source:

  • "Muqamaat" (Urdu - Published 2009, Lahore; ISBN 48593948) Author: Javed Ahmad Ghamidi

    No results found.

Punishment for Blasphemy against the Prophet (sws) Part 1

Javed Ahmad Ghamidi

The law for punishing blasphemy against the Prophet (sws) that is invoked in Pakistan has no foundation in the Qur’ān or Hadīth. Therefore, a pertinent question is: What exactly is the justification for this law? Some scholars have proffered Q. 5: 33-34 as a possible basis. In their opinion, God, in these verses of Sūrah Mā’idah, has prescribed the punishment for muhārabah (rebellion) and fasād fi al-ard (disorder), and they believe that blasphemy against the Prophet (sws) is also a form of this offence of muhārabah: The text of the verse with its translation is:

إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنْ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (5 :33-34)The punishment of those who fight against God and His Prophet or create disorder in territory is that they be executed in an exemplary manner or be crucified or have their hands and feet cut off from opposite sides or be banished. This disgrace is theirs in the world, and in the Hereafter a severe retribution shall they have, except those who repent before you overpower them. So [do not exceed in severity with them and] know well that Allah is Oft-Forgiving, Ever-Merciful. (5:33-34)

As other viewpoints on foundations for blasphemy laws, this opinion too needs to be reviewed for the following reasons: Firstly, the word used in the verse is yuhāribūn (they fight/rebel against). This word entails that the sentences of punishment mentioned in the verse be given only if the offender persists in blasphemy defiantly, resorts to disruption or disorder, refuses to desist even after repeated exhortation and admonition and, in contrast to an attitude of consequent submission, actually takes a stance of retaliation. On the other hand, if the accused pleads that he’s not guilty or gives an excuse to explain his attitude and shows no volition for persistence, he cannot, in any sense of the word, be indicted for muhārabah or fasād fi al-ard. Secondly, the Qur’ān says that the sentence will not be applicable to those offenders who, despite their prior proclamation and persistence, submit and repent before the law apprehends them. Therefore, the directive is that those who have repented shall not be given these sentences. This aspect also entails that, before any action is taken against such offenders, they be called to repent and reform and be repeatedly warned that, if they are believers, they should not destroy their own future in the Hereafter by their wrong attitude or notions and, if they do not believe in God or the Prophet (sws), they should show regard for the feelings and sentiments of Muslims and abstain from this grave violation any further. Thirdly, the verse does not make capital punishment obligatory. It gives the court room for a lenient sentence in consideration of the nature of offence and the state of the offender. The recommendation of banishment in the verse is for such offenders as deserve leniency. In the present law, none of the aspects mentioned above has been considered. For sentencing, this law depends solely on testimony. There is no consideration whatsoever for confession or denial, which consideration the verse entails; there is no room for clemency on the repentance and reform shown in response to exhortation and admonition; and, as such, there is no other option except capital punishment. It would indeed be commendable even if the ‘ulamā were to accept muhārabah verse as the foundation for blasphemy punishment and, consequently, show willingness to have amendments made to the existing law. Even that would end all criticisms on the present law. It is obvious from the Qur’ān that capital punishment can only be given in two cases: first, if a person murders another and, second, if he disrupts law and order in a country and, as such, becomes a threat to the life, property and honour of people. If the law is amended in accordance with the requirements of the muhārabah verse, the requirement of confining capital punishment to these two cases will be fulfilled. Furthermore, the law will also be closer to the views of the highly venerated scholar of Islamic law, Imām Abū Hanīfah and to those of the great Hadīth compiler, Imām Bukhārī. In this regard, it is this opinion that seems more advisable. The Hanafīs have a majority in Pakistan, but, incongruously, their viewpoint has been completely ignored in enacting this law. Therefore, it is a fact that the blasphemy law in its present state is against not only the Qur’ān and Hadīth but also the opinion of Hanafī jurists. It should most certainly be changed for it has blemished the name of Islam and Muslims throughout the world. (Translated into English by Asif Iftikhar)

توہین رسالت کی سزا 1

Javed Ahmad Ghamidi

توہین رسالت کی سزا کا جو قانون ریاست پاکستان میں نافذ ہے، اُس کا کوئی ماخذ قرآن و حدیث میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔اِس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قانون کہاں سے اخذ کیا گیا ہے؟ اِس سوال کے جواب میں بعض اہل علم نے فرمایا ہے کہ یہ سورۂ مائدہ (۵) کی آیات ۳۳۔۳۴ سے ماخوذ ہو سکتا ہے۔ اُن کا ارشاد ہے کہ مائدہ کی اِن آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے محاربہ اور فساد فی الارض کی سزا بیان فرمائی ہے اور اُس کے رسول کی توہین و تحقیر بھی محاربہ ہی کی ایک صورت ہے۔ آیات یہ ہیں:

اِنَّمَا جَزآؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ، ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ، اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ، فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ. (۵:۳۳۔۳۴) ’’جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول سے لڑیں گے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کریں گے، اُن کی سزا پھر یہی ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیے جائیں یا سولی پر چڑھا ئے جائیں یا اُن کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں یا اُنھیں علاقہ بدر کر دیا جائے۔ یہ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے ایک بڑا عذاب ہے، مگر اُن کے لیے نہیں جو تمھارے قابو پانے سے پہلے توبہ کر لیں۔ سو (اُن پر زیادتی نہ کرو اور) اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘

اِس قانون کے ماخذ سے متعلق دوسرے نقطہ ہاے نظر کی طرح یہ راے بھی ہمارے نزدیک محل نظر ہے۔ اولاً، اِس لیے کہ آیت میں ’یُحَارِبُوْنَ‘کا لفظ ہے۔ یہ لفظ تقاضا کرتا ہے کہ آیت میں جو سزائیں بیان ہوئی ہیں، وہ اُسی صورت میں دی جائیں جب مجرم سرکشی کے ساتھ توہین پر اصرار کرے؛فساد انگیزی پر اتر آئے؛ دعوت، تبلیغ، تلقین و نصیحت اور بار بار کی تنبیہ کے باوجود باز نہ آئے، بلکہ مقابلے کے لیے کھڑا ہو جائے۔ آدمی الزام سے انکار کرے یا اپنی بات کی وضاحت کر دے اور اُس پر اصرار نہ کرے تو لفظ کے کسی مفہوم میں بھی اِسے محاربہ یا فساد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ثانیاً، اِس لیے کہ اقرار و اصرار کے بعد بھی مجرم قانون کی گرفت میں آنے سے پہلے توبہ اور رجوع کر لے تو قرآن کا ارشاد ہے کہ اُس پر حکم کا اطلاق نہیں ہو گا۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ توبہ کرلینے والوں کو یہ سزائیں نہیں دی جا سکتیں۔ اِس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ کارروائی سے پہلے اُنھیں توبہ و اصلاح کی دعوت دینی چاہیے اور بار بار توجہ دلانی چاہیے کہ وہ خدا و رسول کے ماننے والے ہیں تو اپنی عاقبت برباد نہ کریں اور اُن کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں اور ماننے والے نہیں ہیں تو مسلمانوں کے جذبات کا احترام کریں اور اِس جرم شنیع سے باز آجائیں۔ ثالثاً، اِس لیے کہ آیت کی رو سے یہ ضروری نہیں ہے کہ اُنھیں قتل ہی کیا جائے۔ اُس میں یہ گنجایش رکھی گئی ہے کہ جرم کی نوعیت اور مجرم کے حالات تقاضا کرتے ہوں تو عدالت اُسے کم تر سزا بھی دے سکتی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ اِس طرح کے مجرموں کو علاقہ بدر کر دیا جائے۔ اِس وقت جو قانون نافذ ہے، اِن میں سے کوئی بات بھی اُس میں ملحوظ نہیں رکھی گئی۔ وہ مجردشہادت پر سزا دیتا ہے، اُس میں انکار یا اقرار کو بھی وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کا آیت تقاضا کرتی ہے، سرکشی اور اصرار بھی ضروری نہیں ہے، دعوت و تبلیغ اور اِس کے نتیجے میں توبہ اور اصلاح کی بھی گنجایش نہیں ہے، اُس کی رو سے قتل کے سوا کوئی دوسری سزا بھی نہیں دی جا سکتی۔ علما اگر آیت محاربہ کو قانون کا ماخذ مان کر اُس کے مطابق ترمیم کے لیے راضی ہو جائیں تو اِس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے۔ اِس کے نتیجے میں وہ تمام اعتراضات ختم ہو جائیں گے جو اِس وقت اِس قانون پر کیے جا رہے ہیں۔ قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ موت کی سزا کسی شخص کو دو ہی صورتوں میں دی جا سکتی ہے: ایک یہ کہ وہ کسی کو قتل کر دے، دوسرے یہ کہ ملک میں فساد برپا کرے اور لوگوں کی جان، مال اور آبرو کے لیے خطرہ بن جائے۔ آیت محاربہ کے مطابق ترمیم کر دی جائے تو قرآن کا یہ تقاضا پورا ہو جائے گا۔ پھر یہی نہیں، قانون بڑی حد تک اُس نقطۂ نظر کے قریب بھی ہو جائے گا جو فقہ اسلامی کے جلیل القدر امام ابو حنیفہ اور جلیل ا لقدر محدث امام بخاری نے اختیار فرمایا ہے۔ ہمارے نزدیک یہی نقطۂ نظر اِس معاملے میں قرین صواب ہے۔ ریاست پاکستان میں احناف کی اکثریت ہے، لیکن باعث تعجب ہے کہ قانون سازی کے موقع پر اُن کی راے یکسر نظر انداز کر دی گئی ہے۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ قانون قرآن کے بھی خلاف ہے، حدیث کے بھی خلاف ہے اور فقہاے احناف کی راے کے بھی خلاف ہے۔ اِسے لازماً تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔

Recent Questions & DiscussionsUpdated every 24 hours

Comments & DiscussionsYou need to be registered and logged in to comment.

Comments on this Article


You are not logged in.

To comment on this article you must be a registered member and logged in to the system. If you have an account, please , or you can Register for a free account.



Auto-login on future visits

Show my name in the online users list

Forgot your password?