Hadees-o-Sunat
a
Read More ...
Contact Us!

I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. ...
Find out more about Ghamidi ...Like Socrates and Aristotle, Abū Hanīfa and Abū Yūsuf, Ibn-e Taymiyya and Ibn-e Qayyim cannot be separated from each other; in this world, Farāhī and Islāhī are also two names of the same existence: The splendor and beauty of knowledge, the pride in humbleness, the appeal of simplicity... Find out more about Islahi ...
The law for punishing blasphemy against the Prophet (sws) that is invoked in Pakistan has no foundation in the Qur’ān or Hadīth. Therefore, a pertinent question is: What exactly is the justification for this law?
Read More ...The law for punishing blasphemy against the Prophet (sws) that is invoked in Pakistan has no foundation in the Qur’ān or Hadīth. Therefore, a pertinent question is: What exactly is the justification for this law?
Read More ...توہین رسالت کی سزا کا جو قانون ریاست پاکستان میں نافذ ہے، اُس کا کوئی ماخذ قرآن و حدیث میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔اِس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قانون کہاں سے اخذ کیا گیا ہے؟
توہین رسالت کی سزا کے جو واقعات بالعموم نقل کیے جاتے ہیں، اُن کی حقیقت بھی سمجھ لینی چاہیے۔ ابو رافع اُن لوگوں میں سے تھا جو غزوۂ خندق میں قبائل کو مدینہ پر چڑھا لانے کے مجرم تھے۔
توہین رسالت کی سزا کے بارے میں جمہور فقہا کی راے کیا خاص اِس سزا سے متعلق قرآن و حدیث کے کسی حکم پر مبنی ہے؟ اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ مسلمانوں کے لیے اِس کی بنا ارتداد اور ذمیوں کے لیے نقض عہد پر قائم کی گئی ہے۔ فقہا یہ کہتے ہیں کہ مسلمان اگر توہین رسالت کا ارتکاب کرے گا تو مرتد ہو جائے گا اور مرتد کی سزا قتل ہے۔ اِسی طرح غیر مسلم ذمی اِس کا مرتکب ہو گا تو اُس کے لیے عقد ذمہ کی امان ختم ہو جائے گی اور اِس کے نتیجے میں اُسے بھی قتل کر دیا جائے گا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو قرآن دیا ہے۔اِس کے علاوہ جو چیزیں آپ نے دین کی حیثیت سے دنیا کو دی ہیں، وہ بنیادی طور پر تین ہی ہیں:
۱۔ مستقل بالذات احکام و ہدایات جن کی ابتدا قرآن سے نہیں ہوئی۔
۲۔ مستقل بالذات احکام و ہدایات کی شرح و وضاحت، خواہ وہ قرآن میں ہوں یا قرآن سے باہر۔
۳۔ اِن احکام و ہدایات پر عمل کا نمونہ۔
میرے نام کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ والدہ کو ’’جاوید‘‘ پسند تھا۔ پیدایش کے بعد والد اپنے شیخ سے دعا کرانے کے لیے لے کر گئے تو اُنھوں نے فرمایا: اِس کا نام ہم درویشوں کے طریقے پر ہونا چاہیے۔ اِسے ’’کاکو شاہ‘‘ کہا کرو۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ بادشاہ اِس کے پاس نیاز مندانہ حاضر ہوں گے۔
میں نے جس دور میں شعور کی آنکھ کھولی، وہ اسلامی انقلاب کے لیے قائم ہونے والے اداروں اور تنظیموں کا دور تھا۔ انسان اپنے گردوپیش سے متاثر ہوتا ہے۔ چنانچہ کالج کے زمانے میں ہم چند دوستوں نے بھی ’’دائرۃ الفکر‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُن میں یار عزیز ڈاکٹر ساجد علی سب سے نمایاں تھے۔ وہ اِس وقت پنجاب یونیورسٹی میں شعبۂ فلسفہ کے سربراہ ہیں۔ لنک میکلوڈ روڈ پر میرے پاس کرایے کا ایک کمرا تھا۔ ماہنامہ ’’خیال‘‘ کے نام سے میں وہاں سے ایک رسالہ شائع کرنا چاہتا تھا۔ اِس ادارے کی ابتدا اِسی کمرے سے ہوئی۔ اِس کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی انقلاب کے لیے ایک تحریک برپا کی جائے جس میں یہ ادارہ ایک علمی مرکز اور مرکز قیادت کی حیثیت سے کام کرے۔
میرا آبائی وطن اگرچہ ضلع سیالکوٹ کا ایک قصبہ داؤد ہے، لیکن میری پیدایش پاک پتن کے قریب ایک گاؤں میں ہوئی اور میں اِسی شہر اور اِس کے سواد میں اُس عمر کو پہنچا جب دماغ کبھی کبھی سوچنا بند کر دیتا اور دل کبھی کبھی دھڑکنا بھول جاتا ہے اور ہم اِس کے نتیجے میں جو کچھ کرتے ہیں، اُس پر آپ ہی حیران ہوتے ہیں۔
سرما کی آمد میرے لیے ہمیشہ بڑے اہتزاز کا باعث ہوتی ہے۔ تاروں کے ڈوبنے سے پہلے جب میں گیس کی ا نگیٹھی کے سامنے بیٹھ کر لپکتے شعلوں کو دیکھتا اور خیال و خامہ کو باہم رشتہ بپا کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو جمعیت خاطر کا جو سامان اُس وقت میسر ہوتا ہے، اُس کے بعد کسی بے سروسامانی کا غم باقی نہیں رہتا۔
حافظ شیراز نے کہا تھا:
بدہ ساقی می باقی کہ درجنت نخواہی یافت
کنار آب رکنا باد و گلگشت مصلا را
مجھے نہیں معلوم، شیراز کے شاعر کی یہ آرزو برآئی یا نہیں، لیکن میں نے بارہا دیکھا ہے کہ لاہور کے آب رکنا باد کے کنارے ساقی ہر روز صبوحی لنڈھاتا ہے۔
میں اسکول میں پڑھتا تھا، لیکن والد اِس پر مطمئن نہ تھے۔ اُن کی خواہش تھی کہ اِس کے ساتھ عربی، فارسی اور سنسکرت بھی سیکھوں۔ اِس کی کوئی صورت سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ اِسی دوران میں اُنھوں نے پاک پتن کے نواح میں واقع میاں محمد حسین بودلہ کی جاگیر پر ملازمت کرلی۔ دو تین مہینے وہاں کام کرنے کے بعد وہ مطمئن ہوگئے تو والدہ نے بھی اُن کے ساتھ میاں صاحب کے گاؤں نانگپال منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ گاؤں سمہ سٹہ جانے والی ریلوے لائن کے اسٹیشن پکاسدھار سے دو ڈھائی میل کے فاصلے پر تھا۔ مجھے پاک پتن کے ایم۔ سی پرائمری اسکول سے اٹھا کر پکاسدھار کے اسکول میں داخل کر دیا گیا۔
دین کی حقیقت پر غور کیجیے،یہ دو چیزوں کا مجموعہ ہے: ایک قانون، دوسرے حکمت۔ اِس کی یہ تالیف لازمی طور پر تقاضا کرتی ہے کہ ہماری حیات اجتماعی میں یہ صرف نظریہ وعمل ہی کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک تہذیب کی حیثیت سے نمایاں ہو۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ اپنی تاریخ کے اِس دورجدید میں یہ ام القریٰ سے نکل کر جب مدینہ میں اپنی پہلی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوا تو اِس کے صدی، نصف صدی بعد ہی اِس کے اثرات مسلمانوں کے پورے تمدن پر نمایاں ہونا شروع ہو گئے۔
حلقہ گردمن زنید اے پیکران آب و گل
آتشے در سینہ دارم از نیاگان شما
رات کے پچھلے پہر اپنی مطالعہ کی میز پر بیٹھا ہوں۔ آلۛ? تکییف نے کمرے کی ساری گرمی باہر پھینک دی ہے، لیکن سینے کی آتش پر اُس کا زور کیا چلتا، اُس کی انگیٹھی برسوں سے سلگ رہی ہے۔ میں نے بارہا چاہا کہ اُس کی کچھ چنگاریاں ادھر ادھر بجھی ہوئی راکھ میں بھی ڈال دوں تو شاید قرار آ جائے، لیکن اِس سے تپ شعلہ کیا کم ہو جائے گی؟
پچھلے چند مہینوں میں مجھے دو مرتبہ اپنا مکان بدلنا پڑا۔ نیو گارڈن ٹاؤن سے اٹھے ہوئے ابھی بہ مشکل پندرہ بیس ہفتے ہوئے تھے کہ اقبال ٹاؤن میں نئے گھر کے مالک نے اُسے بیچنے کا فیصلہ کر لیا۔ گویا وہی معاملہ ہوا کہ:
میں جب سے ماڈل ٹاؤن منتقل ہوا ہوں، فجر کی نماز قرآن اکیڈیمی کی مسجد میں پڑھتا ہوں۔ ای بلاک کی مسجد اگرچہ میرے گھر کے بالکل قریب ہے، لیکن اکیڈیمی کی جامع مسجد کے قاری جس طرح صبح کی دل آویزی میں نواے جبریل کی آمیزش کرتے ہیں، اُس کا اندازہ کچھ وہی لوگ کر سکتے ہیں جنھیں کبھی اِس ’مِزَاجُھَا کَافُوْرًا‘ سے لذت اٹھانے کا موقع ملا ہے۔
میں جس محلہ میں رہتا ہوں، اُس کی جامع مسجد کی پیش گاہ پچھلے کئی مہینوں سے زیر تعمیر ہے۔ پہلے برآمدے میں بس کچھ سادہ در بنے ہوئے تھے جن سے گزر کر مسجد کے دالان میں داخل ہوتے تھے۔ اب اُنھیں محرابوں میں بدل کر سامنے کنگنی اور تاج بنانے کا فیصلہ ہوا تو تین چار ماہ پہلے تعمیر شروع کر دی گئی۔ میں نے دیکھا کہ برآمدے کی دیوار دنوں میں منہدم ہوئی اور ہفتے عشرے ہی میں نئی تعمیر نیو سے چھت تک کھڑی ہو گئی۔
وہ ہستی دنیا سے رخصت ہو گئی جس کا وجود ہمارے لیے رحمت خداوندی کا سایہ تھا۔ ۱۹ ؍جنوری ۸۶ء کی صبح والد محترم وفات پا گئے۔ اُن کی خواہش تھی کہ اپنے پاؤں سے چلتے اِس دنیا کو چھوڑیں۔ اللہ نے اُن کی یہ خواہش پوری کر دی۔ وہ سوئے تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اگلی صبح نہ دیکھیں گے۔ رات کو معمول کے مطابق تہجد کے لیے اٹھے، وضو کیا، معلوم ہوا سانس لینے میں کچھ دشواری محسوس کر رہے ہیں۔ ہم سب اُن کے پاس چلے گئے۔ خیال تھا، ابھی سنبھل جائیں گے، لیکن یہ دم ٹھیرنے کے لیے نہیں اکھڑا تھا۔ بستر کے پاس کھڑے تھے۔ ہم نے دیکھا، وہ شاید لیٹنا چاہتے ہیں۔ میں نے مدد کی، اُنھوں نے تکیے پر سر رکھا اور لمحوں میں ہم سے جدا ہو گئے۔
رومی کا شعر ہے:
دی شیخ با چراغ ہمی گشت گرد شہر
کز دام و دد ملولم و انسانم آرزوست
میں نے بھی اِس شہر میں بارہا دام و دد سے رنجیدہ خاطر ہو کر کسی انسان کی جستجو کی ہے۔ مجھے اعتراف ہے کہ اُس میں زیادہ تر ناکامی ہوئی۔
۳ اور ۴؍ جنوری ۱۹۸۸ء کی درمیانی رات ہمارے ڈاکٹر صاحب بھی کم و بیش ساٹھ سال دنیا میں گزار کر اپنے خالق کے پاس پہنچ گئے۔ رات کو اُنھوں نے حسب معمول نماز عشا کے بعد اپنا کلینک بند کیا، گھر آئے، کھانا کھایا اور لیٹ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد معلوم ہوا کہ سانس اکھڑ رہی ہے۔ اُن کے چھوٹے بیٹے زاہد سلمہ اُنھیں اُسی وقت ہسپتال لے گئے۔ وہاں وہ اپنے پاؤں سے چل کر بستر تک گئے۔ لیکن اِس سے پہلے کہ معالج کا ہاتھ اُن کی نبض تک پہنچتا، روح نے بدن کا ساتھ چھوڑ دیا اور وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
چنار و سرو و صنوبر کھڑے تو ہیں لیکن
مری نگاہ میں کونپل کی نازک اندامی!
ہوا، یہ طفل، یہ بادل، یہ نخل، یہ صرصر
نہیں ہے باغ میں کوئی غریب کا حامی
اِس دنیا میں ہر چیز میسر ہو سکتی ہے، لیکن اِس کے شب و روز کی تلخیوں میں کوئی ہم نفس میسر ہو جائے، یہ حادثہ شاید ہی کبھی ہوتا ہو۔