The first directive is that since there is no god except God, only He should be worshipped. The essence of this worship (‘ibādah) is humility and modesty. The first manifestation of this essence is serving the Almighty. Since a person also has a practical life in this world, this servitude relates to this practical life as well and in this manner becomes inclusive of obedience. The manifestations in the first case are glorifying Him and singing His praises, praying to him and supplicating before Him, kneeling and prostrating before Him, making vows (to please Him), offering animal sacrifice and doing i‘tikāf.
In the second case, a person, after regarding someone as an independent law giver and ruler, considers that he has the authority to give directives of what is forbidden and what is not and what is allowed and what is not and submits before all his directives. It is the verdict of God Almighty that none of the above mentioned things can be reserved for someone other than Him. The words قَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ declare this verdict. Thus if a person glorifies someone and sings his praises or prays and supplicates before someone, kneels and prostrates before him or presents vows before him or offers animal sacrifice to him or does i‘tikāf for him or regards him to have the authority of prohibiting or allowing things, then this would mean that he has refused to accept this verdict of God. Among the addressees of the Qur’ān those who were guilty of this sin were clearly told of their folly.
Those who prostrated themselves before the sun and the moon were told:
لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ (37:41)
Do not prostrate yourselves before the sun or the moon; rather prostrate yourselves before God, who created them both, if you would truly serve Him. (41:37)
Those who prayed and supplicated before some of their ancestors were told:
وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ لاَ يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ أَمْواتٌ غَيْرُ أَحْيَاء وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ (16: 20-21)
And those whom these call besides God are themselves created, they create nothing: They are dead, not living and don’t even know when they will be raised to life. (16:20-21)
Those who presented as sacrifice and vows, the produce and cattle created by God before other deities were warned thus by the Qur’ān:
وَجَعَلُواْ لِلّهِ مِمِّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُواْ هَـذَا لِلّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـذَا لِشُرَكَآئِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلاَ يَصِلُ إِلَى اللّهِ وَمَا كَانَ لِلّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَآئِهِمْ سَاء مَا يَحْكُمُونَ (136:6)
And they set aside a share of their produce and cattle for God. They then say that in their opinion: “This is for God and this is for those whom we associate with God.” Furthermore, the share of these associates does not reach God but the share of God can reach these associates. What an evil judgement they pass! (6:136)
Those who regarded their jurists and scholars to have the authority to declare something as lawful and something as forbidden were warned thus:
اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُواْ إِلاَّ لِيَعْبُدُواْ إِلَـهًا وَاحِدًا لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ (31:9)
They have made their scholars and their monks their Lord besides God and also Jesus, the son of Mary, even though they had been directed to worship one God only. There is no god but Him. Exalted is He above those they deify besides Him! (9:31)
The Qur’ān has thus regarded this authority to declare something as lawful or unlawful as baseless besides regarding as baseless the prohibitions stipulated by the Arabs for certain animals called bahīrah, sā’ibah, wasīlah and hām.
Bahīrah is the name given to a she camel which has five offspring, the last of which is a male. The ears of such a camel are slit and it is left free.
Sā’ibah is the name given to a camel which is left free once the vow regarding it has been fulfilled.
As for wasīlah, some people would vow that if a goat would give birth to male offspring, they would present it before their idols, and if gives birth to female offspring, they would keep it to themselves; now if she would give birth to male and female offspring simultaneously, they would call it wasīlah and would not present such male offspring to their idols.
Hām is the name of a bull which has given birth to many offspring. It would be left free.
The Qur’ān says:
مَا جَعَلَ اللّهُ مِن بَحِيرَةٍ وَلاَ سَآئِبَةٍ وَلاَ وَصِيلَةٍ وَلاَ حَامٍ وَلَـكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ يَفْتَرُونَ عَلَى اللّهِ الْكَذِبَ وَأَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ (103:5)
God has sanctioned neither a bahīrah, nor a sā’ibah, nor a wasīlah, nor a hām but these disbelievers fabricate falsehoods about God and most of them have no sense. (5:103)
It is this very verdict of the Qur’ān regarding the worship of God on account of which the Prophet (sws) forbade people from making graves places of prostration and said that may God curse the Jews and Christians for they have made the graves of their prophets as mosques.
The fact that this was his last counsel for the Muslims before his death shows its importance.
References in this article
- Chapter 005 Verse 103
مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلا سَائِبَةٍ وَلا وَصِيلَةٍ وَلا حَامٍ وَلَكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَأَكْثَرُهُمْ لا يَعْقِلُونَ
5.103
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اللہ نے تو نہ بحیرہ مشروع کیا، نہ سائبہ، نہ وصیلہ، نہ حام۔ جنھوں نے کفر کیا ہے وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان میں سے اکثر سمجھ سے عاری ہیں۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
غیر مشروع شعائر سے اجتناب کی ہدایت: اوپر آیت 97 میں ان چیزوں کا ذکر ہوا ہے جن کو اللہ نے شعائر کا درجہ دے کر محترم قراردیا ہے۔ اس کے بعد چند مناسب موقع تنبیہات آ گئیں۔اب یہ ان مشرکانہ چیزوں کا ذکر ہو رہا ہے جن کو مشرکین نے شعائر کا درجہ دے کر مذہبی تقدس کا جامہ پہنا رکھا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں میں سے کسی چیز کو بھی مشروع نہیں کیا تھا۔ مشرکین نے محض من گھڑت طور پر ان کو ایجاد کیا، ان کے احترام کی روایت قائم کی اور پھر اپنی ان بدعات کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا کہ اس نے ان کے احترام کا حکم دیا ہے۔ گویا مشروع کے بیان کے بعد اس کے مقابل کی غیر مشروع چیزوں کا بھی ذکر فرما دیا تاکہ مسلمان ان سے اجتناب کریں۔
’ما جعل اللّٰہ‘، ’جعل‘، یہاں مشروع کرنے کے معنی میں سے ہے۔ یعنی اللہ نے یہ چیزیں مشروع نہیں فرمائی ہیں۔
’بَحِیْرَہ‘ اس اونٹنی کو کہتے جس سے پانچ بچے پیداہو چکے ہوتے اور ان میں آخری نر ہوتا۔ ایسی اونٹنی کے کان چیر کر اس کو آزاد چھوڑ دیتے ، نہ اس پر سواری کرتے نہ اس کا دودھ دوہتے۔
’سَاءِبَۃ‘ اس اونٹنی کو کہتے جس کے متعلق اس کا مالک اپنی کسی بیماری میں یہ منت مانتا کہ اگر اس کو شفا ہو گئی تو وہ اس کو آزاد چھوڑ دے گا، نہ اس پر سواری کرے گا نہ اس کا دودھ دوہے گا۔
’وَصِیْلَۃ‘ بکری اگر مادہ جنتی تو اس کو اپنا حصہ سمجھتے، نر جنتی تو اس کو اپنے معبودوں کا حصہ سمجھتے اور اگر نر و مادہ دونوں ایک ساتھ جنتی تو اس کو وصیلہ کہتے اور اسے نر کو بتوں کی نذر کرنے کے قابل نہ سمجھتے۔
’حَام‘ اس سانڈ اونٹ کو کہتے ہیں جس کی صلب سے کئی پشتیں پیدا ہو چکی ہوتیں۔ ایسے سانڈ کو بھی آزاد چھوڑ دیتے۔ نہ اس پر سواری کرتے، نہ بوجھ لادتے۔
یہ سب عرب جاہلیت کی نذریں اور منتیں تھیں۔ اس قسم کے جانور آزاد چھوٹے پھرتے، جس گھاٹ سے چاہتے پانی پیتے اور جس کی چراگاہ میں چاہتے پھرتے۔ نہ ان کو کوئی روک سکتا نہ چھیڑ سکتا۔ ان کو مذہبی تقدس کا ایسا درجہ حاصل تھا کہ ہر شخص ان کے چھیڑنے کے وبال سے لرزہ بر اندام رہتا۔ قرآن نے واضح فرما دیا کہ ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ شرعی حیثیت صرف ہدی اور قلائد کی ہے۔ یہ چیزیں صرف اوہام کی ایجاد ہیں، جن کو شریعت کی طرف منسوب کرنا اللہ اور اس کی شریعت پر صریح اتہام ہے جو لوگ عقل سے عاری ہیں انھوں نے ان احمقانہ چیزوں کو اللہ سے نسبت دے رکھی ہے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
(تمھارے سوال کا جواب یہ ہے کہ) اللہ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے، نہ سائبہ، نہ وصیلہ، نہ حام، مگر یہ منکرین اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اِن میں زیادہ وہ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
اِس جملے میں فعل ’جَعَلَ‘ استعمال ہوا ہے۔ ہم نے اِس کا ترجمہ ’مقرر کرنے‘ کے الفاظ سے کیا ہے۔ اِس سے مراد یہاں مشروع کرنا ہے، یعنی ’بحیرۃ‘، ’سائبۃ‘، ’وصیلۃ‘ اور ’حام‘ کے نام سے بعض جانوروں کے لیے جو ممنوعات مشرکین نے قائم کر رکھے ہیں، اُنھیں اللہ نے مشروع نہیں فرمایا ہے۔
’بحیرۃ‘ اُس اونٹنی کو کہتے تھے جس سے پانچ بچے پیدا ہو چکے ہوتے اور اُن میں آخری نر ہوتا۔ اِس اونٹنی کے کان چیر کر اُسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔
’سائبۃ‘ اُس اونٹنی کو کہتے تھے جسے کسی منت کے پورا ہو جانے کے بعد آزاد چھوڑ دیتے تھے۔
’وصیلۃ‘ بعض لوگ نذر مانتے تھے کہ بکری اگر نر جنے گی تو اُسے بتوں کے حضور پیش کریں گے اور اگر مادہ جنے گی تو اپنے پاس رکھیں گے۔ پھر اگر وہ نر و مادہ، دونوں ایک ساتھ جنتی تو اُس کو وصیلہ کہتے اور ایسے نر کو بتوں کی نذر نہیں کرتے تھے۔
’حام‘ اُس سانڈ کو کہتے تھے جس کی صلب سے کئی پشتیں پیدا ہو چکی ہوتیں، اُسے بھی آزاد چھوڑ دیتے تھے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’یہ سب عرب جاہلیت کی نذریں اور منتیں تھیں۔ اِس قسم کے جانور آزاد چھوٹے پھرتے، جس گھاٹ سے چاہتے، پانی پیتے اور جس کی چراگاہ میں چاہتے، پھرتے۔ نہ اُن کو کوئی روک سکتا نہ چھیڑ سکتا۔ اُن کو مذہبی تقدس کا ایسا درجہ حاصل تھا کہ ہر شخص اُن کے چھیڑنے کے وبال سے لرزہ براندام رہتا۔ قرآن نے واضح فرما دیا کہ اُن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ شرعی حیثیت صرف ہدی اور قلائد کی ہے۔ یہ چیزیں صرف اوہام کی ایجاد ہیں جن کو شریعت کی طرف منسوب کرنا اللہ اور اُس کی شریعت پر صریح اتہام ہے۔ جو لوگ عقل سے عاری ہیں اُنھوں نے اِن احمقانہ چیزوں کو اللہ سے نسبت دے رکھی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۲/ ۶۰۲)
- Chapter 006 Verse 136
وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِھِمْ وَھٰذَا لِشُرَکَآءِنَا ج فَمَا کَانَ لِشُرَکَآءِھِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَی اللّٰہِ ج وَمَا کَانَ لِلّٰہِ فَھُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآءِھِمْ ط سَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ.
6.136
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور خدا نے جو کھیتی اور چوپائے پیدا کیے اس میں انھوں نے اللہ کا ایک حصہ مقرر کیا ہے۔ پس کہتے ہیں یہ حصہ تو اللہ کا ہے، ان کے گمان کے مطابق، اور یہ حصہ ہمارے شرکاء کا ہے۔ تو جو حصہ ان کے شرکاء کا ہوتا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچ سکتا اور جو حصہ اللہ کا ہوتا ہے وہ ان کے شرکاء کو پہنچ سکتا ہے۔ کیا ہی برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
مشرکین کی بدعات کی تفصیل: ا س سلسلہ بحث کا آغاز، جیسا کہ آیات 121-118 سے معلوم ہوا، مشرکین مکہ کی ان بدعات کی تردید سے ہوا تھا جو اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت انھوں نے تحریم و تحلیل کی نوعیت کی ایجاد کی تھیں۔ اس تردید کے جواب میں انھوں نے جو ہنگامۂ بحث و جدال کھڑا کیا اس کے تقاضے سے بیچ میں بعض مناسب حالات ہدایات مسلمانوں کی دی گئیں اور بعض ضروری تنبیہات مشرکین کو سنائی گئیں۔ اب یہ ان بدعات کی تفصیل آرہی ہے تاکہ مسلمان اپنے آپ کو ان نجاستوں سے محفوظ رکھیں۔
’وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِھِمْ وَھٰذَا لِشُرَکَآءِنَا‘۔ یعنی باغ، کھیتی، چوپائے سب پیدا تو کیے خدا نے لیکن ان ظالموں نے ان میں سے خدا کا جو حصہ نکالا تو اس طرح کہ دوسرے شریکوں کے ساتھ ایک حصہ خدا کے لیے بھی الگ کر دیا ’ھٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِھِمْ وَھٰذَا لِشُرَکَآءِنَا‘ یہ اسی تقسیم کی تفصیل ہے کہ اس میں سے اتنا حصہ توا للہ کا ہے اور اتنا حصہ ہمارے شریکوں اور معبودوں کا ہے۔ اس تقسیم کے متعلق فرمایا کہ ’بِزَعْمِھِمْ‘ یہ تمام تر ان کے وہم و گمان پر مبنی ہے لیکن دعویٰ یہ ہے کہ یہ شریعت ابراہیمی کا حکم ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ مشرکین عرب نہ صرف خدا کو مانتے تھے بلکہ ہر چیز کا خالق بھی خدا ہی کو تسلیم کرتے اور اس کے نام کا ایک حصہ اپنی زمینی پیداوار میں سے بھی اور اپنے اگلوں میں سے بھی خیر خیرات اور نذرو نیاز کے لیے الگ کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے ہاں حضرت ابراہیمؑ و حضرت اسمٰعیل ؑ کے زمانے سے چلی آرہی تھی۔ چنانچہ حضرت اسمٰعیل کے متعلق خود قرآن میں ہے
’وَکَانَ ےَاْمُرُ اَھْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ‘ 55 مریم
(اور وہ اپنے اہل و عیال کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا)
بعد میں جب ان کے اندر مشرکانہ بدعات پھیلیں تو جس طرح خدا کے دوسرے حقوق میں ان کے فرضی معبود شریک بن بیٹھے اسی طرح اس کے نام کی زکوٰۃ بھی انھوں نے اس کے فرضی شریکوں میں تقسیم کر دی کہ اس میں سے اتنا حصہ فلاں کا اتنا فلاں کا۔
حماقت در حماقت: ’فَمَا کَانَ لِشُرَکَآءِھِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَی اللّٰہِ ج وَمَا کَانَ لِلّٰہِ فَھُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآءِھِمْ ط سَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ‘ یہ ان کے ستم بالائے ستم یاان کی حماقت در حماقت کا بیان ہے کہ اگر کوئی مجبوری یا مشکل پیش آجائے تو خدا کا حصہ تو ان کے بتوں کی طرف منتقل ہو سکتا تھا لیکن مجال نہیں تھی کہ بتوں کا حصہ کسی حال میں خدا کی طرف منتقل ہو سکے۔ گویا حق مرحّج بتوں اور شریکوں ہی کا تھا۔ قرآن نے دوسری جگہ بیان فرمایا ہے کہ مشرکین اپنے معبودوں اور شریکوں سے خدا کے بالمقابل زیادہ محبت کرتے ہیں۔ یہ چیز کچھ مشرکین مکہ ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ تمام مشرک قوموں کی مشترک خصوصیت بلکہ خود شرک کی فطرت ہے۔ مشرکین جن چیزوں کو خدا کا شریک بناتے ہیں ظاہر ہے کہ اس خیال سے بناتے ہیں کہ ان کی تمام نقد ضروریات انہی سے وابستہ ہیں اور اگر خدا سے کوئی ضرورت وابستہ ہے بھی تو بہرحال وہ بھی انہی کی وساطت سے پوری ہونی ہے۔ یہاں تک کہ اگر خدا نہ بھی پوری کرنی چاہے جب بھی اگر یہ چاہیں تو پوری کرا ہی لیتے ہیں۔ اس خیال کے ہوتے ظاہر ہے کہ خدا کی اہمیت کچھ باقی نہیں رہ جاتی۔ چنانچہ ان مشرکین کے نزدیک بھی خدا کی حیثیت نعوذ باللہ گھر کے ایک بڑے بوڑھے ناکارہ وجود سے زیادہ نہیں رہ گئی تھی۔ چنانچہ وہ اسی حیثیت سے اس کے ساتھ معاملہ بھی کرتے تھے۔ اس کے نام پر روایت کے تحت کچھ نکال تو دیتے لیکن اگر اتفاق سے کسی بت کے نام کی بکری مر گئی یا چوری ہو گئی یااس کے نام کا غلہ چوہے کھا گئے تو اس کی تلافی لازماً خدا کے حصے میں سے کر دی جاتی اور اگر اسی قسم کی کوئی آفت خدا کے نام پر نکالے ہوئے حصہ پر آجاتی تو یہ ممکن نہ تھا کہ اس کی تلافی معبودوں کے حصے کے مال سے کرنے کی جرأت کریں۔ فرمایا کہ ’کتنا برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں! اول تو سب کچھ بخشا ہوا خدا کا اور اس کے حصہ میں یہ من مانا بٹوارہ! پھر فرضی معبودوں کی یہ نازبرداری اور معبود حقیقی سے یہ بے پروائی اور اس کی یہ ناقدری۔‘
ترجمہ جاوید احمد غامدی
(اِن کا ظلم اِس حد کو پہنچ چکا ہے کہ ) اللہ کے لیے اِنھوں نے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور چوپایوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا ہے، بزعم خود، اور یہ ہمارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے۔ پھر جو اِن کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے، وہ تو اللہ کو نہیں پہنچ سکتا اور جو اللہ کا ہے، وہ اِن کے شریکوں کو پہنچ سکتا ہے۔ کیا ہی برے فیصلے ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
اِس کی صورت یہ تھی کہ بتوں کے نام کی بکری مر جائے یا چوری ہو جائے یا اُن کے نام کا غلہ چوہے کھا جائیں یا اور کوئی حادثہ ہو جائے تو اُس کی تلافی لازماً خدا کے حصے میں سے کر دی جائے گی، لیکن اگر اِس طرح کی کوئی آفت خدا کے نام پر نکالے ہوئے حصے پر آجائے تو اُس کی تلافی بتوں کے حصے میں سے نہیں ہو گی۔ گویا مرجح حق اُن کے نزدیک بتوں اور شریکوں ہی کا تھا اور کیوں نہ ہو، دنیا کے تمام مشرکین کی نقد ضروریات اُن کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے وابستہ ہوتی ہیں۔ خدا سے اگر کچھ ملتا بھی ہے تو اُنھی کی وساطت سے ملتا ہے، بلکہ خدا نہ بھی دینا چاہے تو وہ دلوا کر چھوڑتے ہیں۔
- Chapter 009 Verse 031
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لا إِلَهَ إِلا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
9.31
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
انھوں نے اللہ کے سوا اپنے فقیہوں اور راہبوں کو رب بنا ڈالا اور مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ انھیں صرف ایک ہی معبود کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
’اِتَّخَذُوْآ اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ‘۔
’احبار و رہبان‘ کو رب بنانے کا مفہوم: اوپر فرمایا تھا ’وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ‘ اب یہ اس کی دلیل بیان ہورہی ہے کہ انھوں نے اپنے فقیہوں اور راہبوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے۔ ’احبار‘، ’حبر‘ کی جمع ہے جس کا غالب استعمال یہود کے فقہا کے لیے ہوا ہے۔ ’رھبان‘، ’راھب‘ کی جمع ہے۔ یہ نصاریٰ کے مشائخ اور صوفیوں کے لیے معروف ہے۔ ان کو رب بنانے کی حقیقت عدی بن حاتم کی ایک مشہور روایت سے واضح ہوتی ہے۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یہود و نصاریٰ اپنے احبار و رہبان کو رب تو نہیں مانتے۔ حضورؐ نے فرمایا، کیا یہ بات نہیں ہے کہ جو وہ حرام کر دیں اس کو وہ حرام مان لیتے ہیں اور جس چیز کو جائز کر دیں اس کو وہ جائز مان لیتے ہیں؟ بولے یہ بات تو ہے۔ حضورؐ نے فرمایا یہی ان کو رب بنانا اور یہی ان کی عبادت کرنا ہے۔
مسیح ابن مریمؑ کے بارے میں مزعومات: ’وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ‘ اسی سیاق میں فرمایا کہ نصاریٰ نے مسیح ابن مریم کو رب بنا لیا لیکن فی الجملہ امتیاز پیدا کرنے کے لیے ان کا ذکر الگ کر دیا تاکہ ان تمام مزعومات کی طرف اشارہ ہو جائے جو نصاریٰ نے حضرت مسیحؑ سے متعلق ایجاد کیے۔ وہ رب تو بنائے ہی گئے لیکن مزید برآں یہ ہوا کہ ان کو خدا کا بیٹا بلکہ عین خدا بنا دیا گیا۔
’وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰھًا وَّاحِدًا لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ‘۔ یعنی یہ شرک انھوں نے اس کے باوجود اختیار کیا کہ تورات اور انجیل دونوں میں نہایت تاکید اور وضاحت کے ساتھ صرف اللہ واحد کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا۔ اس سے متعلق ضروری حوالے ہم تفسیر سورۂ آل عمران میں نقل کر آئے ہیں۔ ۱ ( ۱ ملاحظہ ہو ’’تدبر قرآن‘‘ جلد دوم: ص 113)
’سُبْحٰنَہٗ‘ کا مفہوم: ’سُبْحٰنَہٗ‘ کا لفظ تنزیہہ کے لیے آتا ہے لیکن اس کے اندر توحید کی نہایت واضح منطقی دلیل بھی ہے۔ وہ یوں کہ کسی چیز کی مسلم اور بنیادی صفات سے بالکل متناقض صفات کااس کے ساتھ جوڑ ملانا بالبداہت خلاف عقل ہے۔ اس اصول کے مطابق خداکا کسی کو شریک ٹھہرانا اس کی شان الوہیت کے منافی ہے کیونکہ اس سے اس کی مسلمہ صفات کی نفی لازم آتی ہے۔ اس مسئلہ پر تفصیلی بحث اپنے مقام میں گزر چکی ہے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
اللہ کے سوا اُنھوں نے اپنے فقیہوں اور راہبوں کو رب بنا ڈالا ہے اور مسیح ابن مریم کو بھی، دراں حالیکہ اُنھیں ایک ہی معبود کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا۔ اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، وہ پاک ہے اُن چیزوں سے جنھیں وہ شریک ٹھیراتے ہیں۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
یعنی وہی حیثیت دے دی ہے جو رب العٰلمین کے لیے ماننی چاہیے۔ چنانچہ اُن کے لیے تحلیل و تحریم کے خدائی اختیارات مان کر اُن کے ہر حکم اور ہر فیصلے کو اُسی طرح واجب الاطاعت سمجھتے ہیں، جس طرح خدا کے احکام اور فیصلوں کو واجب الاطاعت سمجھا جاتا ہے۔ اُن کے مقابلے میں کتاب الٰہی کی کوئی صریح آیت اور پیغمبر کا کوئی واضح ارشاد بھی پیش کر دیا جائے تو اُسے کوئی اہمیت نہیں دیتے۔
اصل میں ’سُبْحٰنَہٗ‘کا لفظ آیا ہے۔ یہ تنزیہہ کا کلمہ ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’...اِس کے اندر توحید کی نہایت واضح منطقی دلیل بھی ہے۔ وہ یوں کہ کسی چیز کی مسلم اور بنیادی صفات سے بالکل متناقض صفات کااُس کے ساتھ جوڑ ملانا بالبداہت خلاف عقل ہے۔ اِس اصول کے مطابق خداکا کسی کو شریک ٹھیرانا اُس کی شان الوہیت کے منافی ہے، کیونکہ اِس سے اُس کی مسلمہ صفات کی نفی لازم آتی ہے۔‘‘
(تدبرقرآن۳/ ۵۶۳)
- Chapter 016 Verse 020
وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْءًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ.
16.20
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ پیدا نہیں کر سکتے، وہ تو خود مخلوق ہیں۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
معبودان باطل کی بے حقیقتی: ان دونوں آیتوں میں پہلی آیت تو تمام معبودان باطل سے متعلق عام ہے اور دوسری آیت خاص ان کے ان آباء و اجداد سے متعلق ہے جن کی وہ پرستش کرتے تھے۔ فرمایا کہ اللہ کے سوا جن کو یہ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ یہ ہے کہ ایسوں کو حاجت روائی کے لیے پکارنا محض نادانی ہے۔ پھر ان کے ان آباء و اجداد کی طرف جن کو انھوں نے معبود بنا رکھا تھا، اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ تو مردہ ہیں، ان کو پتہ بھی نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ مطلب یہ کہ مردوں کو پکارنے سے حاصل! ’اموات‘ کے ساتھ ’غَیْرُ اَحْیَاء‘ کی صفت تاکید مزید کے طور پر ہے یعنی مردہ بے حس۔
- Chapter 016 Verse 021
أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ
16.21
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
مردہ غیر زندہ، اور ان کو احساس بھی نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
معبودان باطل کی بے حقیقتی: ان دونوں آیتوں میں پہلی آیت تو تمام معبودان باطل سے متعلق عام ہے اور دوسری آیت خاص ان کے ان آباء و اجداد سے متعلق ہے جن کی وہ پرستش کرتے تھے۔ فرمایا کہ اللہ کے سوا جن کو یہ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ یہ ہے کہ ایسوں کو حاجت روائی کے لیے پکارنا محض نادانی ہے۔ پھر ان کے ان آباء و اجداد کی طرف جن کو انھوں نے معبود بنا رکھا تھا، اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ تو مردہ ہیں، ان کو پتہ بھی نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ مطلب یہ کہ مردوں کو پکارنے سے حاصل! ’اموات‘ کے ساتھ ’غَیْرُ اَحْیَاء‘ کی صفت تاکید مزید کے طور پر ہے یعنی مردہ بے حس۔
- Chapter 041 Verse 037
وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
41.37
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور اسی کی نشانیوں میں سے رات اور دن، سورج اور چاند بھی ہیں۔ نہ سجدہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو، بلکہ سجدہ کرو اس اللہ کو جس نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم اسی کی بندگی کرنے والے ہو۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
خدا کی نشانیوں کو خدا نہ بناؤ: سورہ کے شروع میں آیات 12-9 تک آسمان و زمین کی خلقت سے توحید و معاد پر جو استدلال کیا ہے، یہ آیت اسی سے متعلق ہے۔ بیچ میں جو مطالب تنبیہ و تذکیر یا تسکین و تسلی کی نوعیت کے آگئے ہیں وہ اسی مدعا کے تحت ہیں اس وجہ سے ان کے سبب سے کوئی بُعد نہیں پیدا ہوا ہے چنانچہ اسی پر عطف کرتے ہوئے فرمایا کہ جو خدا آسمان و زمین کا خالق ہے اسی خدا کی نشانیوں میں سے یہ رات اور دن، سورج اور چاند بھی ہیں۔ یہ خود اپنی گردش، اپنے ایاب و ذہاب، اپنے عروج و زوال سے اپنی تسخیر اور اپنی محکومیت کی شہادت دے رہے ہیں۔ یہ زبان حال سے گواہی د ے رہے ہیں کہ یہ نہ تو خدا ہیں اور نہ کسی پہلو سے خدا کی خدائی میں شریک ہیں بلکہ خالق کائنات نے اس کائنات کی مشین میں ان کو پرزوں کی طرح جوڑا ہے اور وہ اس کے حکم سے اپنی مفوضہ خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کی اس شہادت کے بعد ان کو خدا یا شریک خدا سمجھنا محض جہالت و حماقت ہے۔ ان کی حیثیت خدا یا شریک خدا کی نہیں بلکہ خدا کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت کی نشانیوں کی ہے اور اس طرح کی نشانیاں صرف یہی نہیں ہیں بلکہ ان کے علاوہ اور بھی بے شمار نشانیاں ہیں جن میں سے یہ بھی ہیں۔
’لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَھُنَّ‘۔ یہ اوپر والی بات کا نتیجہ بیان ہوا ہے کہ جب یہ خدا یا شریک خدا نہیں بلکہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے بنایا ہے تو ان کی عبادت اپنے رب کی بھی تحقیر ہے اور اپنی بھی۔ عبادت کا حق دار صرف اللہ تعالیٰ ہے جس نے رات اور دن، سورج اور چاند ہر چیز کو وجود بخشا اور ان کو انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ ’سجدہ‘ یہاں عبادت کے مفہوم میں ہے اس لیے کہ یہ عبادت کے سب سے زیادہ نمایاں مظاہر میں سے ہے۔ سورج اور چاند کی عبادت کی ممانعت خاص طور پر اس وجہ سے فرمائی کہ مشرک قوموں نے ہر دور میں ان دونوں کی عبادت کی ہے۔ ’خَلَقَھُنَّ‘ کی ضمیر جمع ان تمام چیزوں کی طرف لوٹی ہے جو اوپر مذکور ہوئیں۔
’اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی خالص بندگی کا حق صرف اس طرح ادا ہو سکتا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری چیزوں کی جو بندگی کرتے تھے تو اس کے متعلق ان کا دعویٰ یہ تھا کہ یہ صرف اس لیے وہ کرتے ہیں کہ یہ چیزیں خدا کی قربت کا ذریعہ ہیں۔ گویا ان کی بندگی، ان کے زعم میں، خدا ہی کی بندگی تھی۔ اس ٹکڑے میں ان کے اسی زعم کی تردید ہے کہ خدا کی بندگی اس طرح بلاشرکت غیرے ہونی چاہیے کہ اس کی بندگی کی مخصوص علامات میں بھی کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔
Comments/Notes
. This is a mention of their compound foolishness according to which if a goat dedicated to their idol dies, it shall be compensated by the one dedicated to God; however, if some calamity befalls on the share dedicated to God then it shall not be compensated by the share reserved for the idols.
. Muslim, No: 972.
Source:
- "Meezan" (Urdu - Published 2009, Lahore; ISBN 48593948) Author: Javed Ahmad Ghamidi
Comments on this Article
You are not logged in.
To comment on this article you must be a registered member and logged in to the system. If you have an account, please Login Now, or you can Register for a free account.